228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 11

سعد کے پاس اب بہت باتیں بھی وہ کسی کو بھی پکڑ کر اپنی معصومانہ باتیں بتانے لگتا
ماما آپ کو پتہ ہے میرے فرینڈ کے بابا ہیرو ہیں اس نے آیت کو بتایا تو وہ مسکرانے لگی
اچھا یہ بات آپ کو کس نے بتائی۔۔۔؟ وہ سعدکو گرم کپڑے پہناتے ہوئے پوچھنے لگی
اس نے خود بتائی مجھے میں نے بول دیا میرے بابا بھی ہیرو ہیں
اچھا آپ کے بابا ہیرو ہیں آیت نے شرارت سے پوچھا جس پر سعد نے زورزور سے ہاں میں گردن ہلائی
اور آپ کو کیسے پتہ چلا کہ آپ کے بابا ہیرو ہیں آیت نے بھرپور مزہ لیتے ہوئے پوچھا
سیرت صنی نے بتایا تھا مجھے مہراج بھائی ہیرو ہیں سعد نے معصومیت سے اس کے سوال کا جواب دیا
آپ کو سیرت آنی یاد ہیں آیت نے محبت سے پوچھا تو سعد نے ایک بار پھر سے گردن ہاں میں ہلائی
سالار چاچو کہتے ہیں کہ آنی ہم سے ناراض ہیں اگر ہم روز روز اللہ میاں سے دعا مانگیں گے تو وہ جلدی واپس آجائیں گی میں روز روز دعا مانگتاہوں کے آنی جلدی سے واپس آجائیں اور سنی بھی دعا مانگتا ہے سعد نے سنان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
آپ چاچو کی بات مانا کرو ہو سکتا ہے آپ سب کی دعائیں سیرت کو واپس لے آئے آیت نے اپنی آنکھ سے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
سالار اگر فری ہو تو ہم بات کر سکتے ہیں سارا بیگم نے کمرے میں قدم رکھتے ہوئے کہا
آپ کے لئے ہمیشہ فری ہوں بتائیں کیا کہنا چاہتی ہیں وہ بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا
کب تک ایسے ہی رہنے کا ارادہ ہے ۔۔۔۔۔؟سارا بیگم نے بات شروع کی
کیا مطلب ہے آپ کا۔ ۔۔۔۔؟سالار نے پوچھا
سالار تم میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو
ایک منٹ آپ بھی مہراج والی بات کرنا چاہتی ہیں تو میں آپ کو پہلے ہی بتا رہا ہوں میں دوسری شادی نہیں کروں گا میری سیرت زندہ ہے آپ لوگ کیوں مجھے باربار پر فورس کر رہے ہیں شادی کے لیے اس کے لہجے کے ساری نرمی سختی نے بدل چکی تھی
سالار کب قبول کرو گے کب تک اس کی یادوں میں اس طرح سے اپنے آپ کو تباہ کرتے رہو گے آگے بھرو سالار تمہارے آگے پوری زندگی پڑی ہے میرے بچے
سالار تم اکیلے نہیں ہو تمہارے ساتھ اور بھی زندگیاں جُڑی ہوئی ہے ہم سب کو تمہاری فکر ہے کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہم سب کی زندگی ۔۔۔۔۔۔
ایک منٹ میں نے کسی کو نہیں کہا کہ میرے لیے اپنی زندگی کو ڈسٹرب کریں میں اکیلے سیرت کو ڈھونڈ رہا ہوں میں نے کسی کو نہیں کہا کہ میری مدد کرے اور نہ ہی مجھے کسی کی مدد کی ضرورت ہے میری وجہ سے کسی کی زندگی پر برا اثر نہ پڑے اس لیے میں نے اپنی زندگی سب سے الگ کر لی ہے سالار نے جھنجھلا کر کہا
سالار تم ہمارے لئے عزیز ہو ہم تمہیں اس طرح سے نہیں دیکھ سکتے سارا بیگم نے سمجھانے کی کوشش کی جبکہ وہ بنا ان کی بات سنے گھر سے باہر نکل چکا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
دیکھا تم نے سیرت کوئی مجھے نہیں سمجھ رہا وہ حاشر کہتا ہے کہ تم نہیں رہی وہ کیسے کہہ سکتا ہے ایسا وہ مہراج اس سے میں اب بات کرنا ہی چھوڑ دونگا آیت وہ بھی ان سب کی طرح باتیں کرتی ہے اسی لیے میں نے اس سے ملنا چھوڑ دیا
صرف پری ہے جو بنا کچھ کہے میری بات مان لیتی ہے اسے یقین ہے کہ تم زندہ ہو اور تم دیکھنا سیرت میں یہ بات ثابت کروں گا
میں تمہیں واپس لے کے آؤں گا میں جانتا ہوں سیرت میرا یقین غلط نہیں ہو سکتا تمہیں واپس آنا ہوگا سیرت وہ اس کی تصویر کو نظروں کے حصار میں لیے بولا میں تمہاری ہر بات مانوں گا کبھی تمیہں گھر جانے سے منع نہیں کروں گا کبھی غصہ نہیں کروں گا تم ہمیشہ اپنی پسند کے کپڑے خریدنا بھی تمہیں اپنی پسند پہننے پر فورس نہیں کروں گا کبھی تمہیں کسی بات سے منع نہیں کروں گا بس ایک بار میری زندگی میں واپس آ جاؤ
میں تمہارے بن ادھورا ہوں سیرت میں کچھ نہیں ہوں تمہارے بغیر دیکھو مجھے تمہارے بغیر میری کیا حالت ہو گئی ہے تمہاری جدائی نے مجھے کیا بنا دیا ہے دیکھو مجھے میں کیا ہوتا جا رہا ہوں تمہارا سالار مر رہا ہے سیرت تمہارا سالار ڈوب رہا ہے آکر بچا لو اپنے سالار کو
پلیز سیرت اب تو ترس کھاؤ اپنے سالار پر تمہاری جدائی مجھے کتنا کمزور بناتی جا رہی ہے اپنے آنسو صاف کرتے اس نے سیرت کی تصویر کو اپنے ہونٹوں سے چوما
♧♧——————————–♧————————–♧♧
آگ بچاؤ مجھے آگ لگی ہے کوئی بچاؤ
میرا بچا کیا ہوا ہے تمہیں۔۔۔؟
آگ لگی ہے
بیٹا آنکھیں کھولو میری بچی کیا ہوا ہے مرہاہ۔ ۔۔اسد اور ہارون دونوں اسے اٹھا رہے تھے
جبکہ بہت چلائے جارہہ تھی بظاہر وہ سو رہی تھی لیکن شاید کسی بہت برے خواب کے زہر اثر تھی
جب اسد نے اسے کندھے سے ہلا کر جگایا وہ جاگی تو انجان نظروں سے ان دونوں کو دیکھنے لگی
کون ہیں آپ لوگ ۔۔۔؟ مرہاہ نے سہمے ہوئے لہجے میں پوچھا بیٹا میں تمہارا باپ ہوں اور یہ اسد ہے تمہارا بھائی ہارون صاحب نے نورمل انداز میں بتایا جیسے انہیں ان سب باتوں کے عادت ہو
جب سے وہ حادثہ ہوا تھا ان سب کے لئے یہ سب کچھ بہت نورمل تھا
میں کون ہوں۔۔۔۔؟ وہ ابھی بھی انجان نظروں سے انہیں دیکھ رہی تھی
تم میری بیٹی ہو میری شہزادی ہو میری مرہاہ ہو انہوں نے اپنے سینے سے لگایا
چھے ماہ پہلے اس کا جو ایکسیڈنٹ ہوا تھا اس کی وجہ سے وہ دو ماہ تک وہ کومہ میں رہی پھر چار ماہ پہلے اسے ہوش آیا تو وہ اپنی یاداشت بھول چکی تھی وہ کسی کو بھی نہیں پہچان رہی تھی اسد اور ہارون صاحب نے بہت کوشش کی کہ اسے کچھ یاد آجائے لیکن اسے کچھ بھی یاد نہیں آیا
وہ اکثر خواب میں ڈر جاتی تھی تو ڈاکٹر نے اسے میڈیسن دی کہ جب بھی وہ خواب کے زیر اثر ہو تو میڈیسن اسے دے دی جائے
اس میڈیسن کی وجہ سے نہ صرف وہ خواب بھول جاتی تھی بلکہ اپنی پرانی زندگی بھی بھولتی جا رہی تھی اس میڈیسن کا سب سے بڑا نقصان یہی تھا کہ اسے اپنی پرانی زندگی میں کچھ بھی یاد نہ تھا
اسے اپنی زندگی کے یہ چار ماہ تو یاد تھے لیکن اس سے پہلے اس کی زندگی میں کیا ہوا اسے کچھ بھی علم نہ تھا
اور ڈاکٹر نے کہا تھا کہ جو دوائیاں اسے دی جارہی ہیں اس سے اس کی پرانی زندگی یاد آنے کی کوئی چانسز نہیں ہیں
شاہ سائیں کہاں ہیں۔۔۔۔؟ مرہاہ اب بھی پریشان نظروں سے انہیں دیکھنے لگی
اسف اور ہارون نے اسے حیرت سے دیکھا
بیٹا کس کی بات کر رہی ہو ہارون نے حیرانگی سے پوچھا میرے شاہ سائیں کہاں ہیں مرہاہ نے پھر سے پوچھا
گڑیا کس کے بارے میں بات کر رہی ہو کون ہیں شاہ سائیں اسد نے حیرت سے پوچھا ۔۔۔
میرے شاہ سائیں مرہاہ نے اپنے سر پہ ہاتھ رکھ کر کچھ یاد کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا سر درد سے پھٹا جا رہا تھا
اسد نے زبردستی اسے میڈیسن دی
اسد مجھے لگتا ہے ہمیں اسے ڈاکٹر کے پاس لے کے جانا چاہیے ابو جی نے کہا
نہیں ابو جی مرہاہ ہماری جان بن چکی ہے اسے کچھ بھی یاد نہ آئے تو اچھا ہے میں پھر سے اپنی بہن کو کھو نہیں سکتا ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اسے کچھ بھی یاد نہ آئے
میں کل ڈاکٹر سے بات کرکے اس کی دوائی کا ڈوز بھراتا ہوں اسد نے کچھ سوچتے ہوئے کہا اور کمرے سے باہر نکل گیا
اسد ٹھیک کہتا تھا مرہاہ ان دونوں کی جان تھی وہ دونوں ہی اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے
ہارون صاحب نے یہی سوچا کہ کل وہ ڈاکٹر کے پاس جائیں گے تاکہ اسے اس کا ماضی یاد نہ آئے یہ جانے بغیر کے بہت جلد اس کا ماضی اس کے سامنے آنے والا ہے
♧♧——————————–♧————————–♧♧
سالار صبح ناشتے کے میز پر آیا تو سارا بیگم کو دیکھ کر بھی نہ ناشتہ کئے جانے لگا
میں ایسی کوئی بات نہیں کروں گی جو تمہیں تکلیف دے لیکن اس طرح سے بھوکے جاکر مجھے تکلیف مت دو
سارہ بیگم نے بے بسی سے کہا تو ان کے سامنے والی چیئر پر بیٹھ گیا
ایم سوری کل رات میں نے آپ سے بدتمیزی کی اسنےناشتہ شروع کرتے ہوئے کہا
کوئی بات نہیں میں سمجھ سکتی ہوں سالار تم پولیس اسٹیشن جاؤگے نا سارا بیگم نے پوچھا
جی ہو سکتا ہے اس بسر سیرت کا کچھ پتا چل جائے سالار نےامید سے کہا
انشاءاللہ اللہ کرے تمہاری بات سچ ثابت ہوجائے سارہ نے سچے دل سے دعا دیںخ تو سالار مسکرایا
امین وہ نرمی سے بولا
وہ جانتا تھا کہ سارا کو سیرت کی موت پر یقین ہے لیکن پھر بھی وہ اس کے لیے اسے دلاسہ دے رہی تھی سالار کو اچھا لگا اس طرح سے کہنا
وہ ناشتہ کر کے آفس سے پہلے پولیس اسٹیشن جانے والا تھا وہ اپنی گاڑی کی طرف بھر گیا ہر ہفتے کی طرح اس بار بھی وہ پورے یقین سے گیا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
گڑیا اداس کیوں ہو آج ناشتہ بنانے کا دل نہیں کر رہا تو میں بنا دوں اسدنء اس کی اداسی دیکھ کر کہا
نہیں بھائی میں بنا رہی ہوں بن گیا ابھی میز پر لگاتی ہوں مرہاہ نے مسکرا کر کہا
مجھے بھی نہیں بتاؤ گی اس نے اس کا معصوم چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا وہ جانتا تھا کہ وہ کل رات کی وجہ سے پریشان ہیں
بھائی پتا نہیں کب مجھے سب کچھ یاد آئے گا میں نارمل ہوں گی وہ اداسی سے بولی تو اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے میری گڑیا تم بالکل نورمل ہو تمہیں کوئی بیماری نہیں ہے بس تھوڑی سی پاگل ہو لیکن ہم گزارا کر لیں گے اسد نے شرارت سے کہا تو مرہاہ نے اسے گھور کر دیکھا
جی نہیں میں پاگل نہیں ہوں جی وہ منہ بنا کر بولی
اچھا بابا سوری تم ناشتہ لگاؤ میں ابو جی کو بلا کے لاتا ہوں وہ مسکراتے ہوئے باہر نکلا جہاں ٹیبل پر مرہاہ کی اسکیچ بک پڑی تھی اس دیکھ کر اسد نے شرارت سے پیپر ابوجی کے فائل میں رکھ دئیے
تاکہ اس کا دھیان تھوڑا سا بھٹ جائے اور وہ رات والے خواب زیادہ نہ سوچے
ابھی وہ ابوجی کے کمرے کی طرف بڑھ ہی رہا تھا کہ اس کا فون بجنے لگا اس نے فون اٹھایا اس کے باس کا فون تھا اور فون اٹینڈ کرتا باہر نکل گیا
ابو جی ناشتہ تو کر لیں مرہاہ نے انہیں ٹیبل سے فائل اٹھاتے ہوئے دیکھ کر کہا
بیٹا آج ایک بہت ضروری میٹنگ ہے اور ویسے بھی تو آج لنچ اور ڈنر تمہارے ساتھ ہی کرنا ہے وہ مسکرا کر اسے دیکھتے ہوئے بولے اور باہر نکل گے
ارے گڑیا ابو جی کہاں گئے اسد نے کچن میں ابو جی کو نہ دیکھ کر پوچھا
ان کی کوئی ضروری میٹنگ تھی وہ چلے گئے مرہاہ نے اسکیچ بک ڈھونڈتے ہوئے بتایا
میں نے تمہارے ساتھ مستی کرنے کے لیے تمہارے اسکیچ ابوجی کی فائل میں رکھ دئیے
اسد نے بتایا
آپ بہت گندے ہیں میں ابو جی سے آپ کی شکایت کروں گی وہ پیر پٹکتی واپس ناشتہ کرنے لگی
شولی ۔۔۔اس کے منہ پھلا کر بیٹھنے پر اسد نے معصوم سی شکل بنا کر سوری بولا تو وہ مسکرائی اور اس کے ساتھ اس کے ڈمپلز بھی روشن ہوئے جنہیں دیکھ کر اسد مسکرایا جلدی سے ناشتہ کرو تمہیں کالج چھوڑوں گا اور پھر ایک بجے لینے آوں گا اس کے بعد ابو جی کے آفس چلیں گے اور پھر پارٹی اسد نے اپنا بنایا ہوا پلین دوہرایا
واو میں پورا کراچی گھوموگی کتنا مزا آئے گا
باتوں میں وہ اپنے رات والی بیانک خواب کو بھلا چکی تھی وہ صبح سے ہی بہت ایکسائٹڈ دی تھی آج اس کا دن بہت اچھا گزرنے والا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
یہاں کیوں آئے ہو مہراج کو اپنے آفس میں دیکھ کر وہ غصے سے بولا
سالار ہم تمہارے دشمن نہیں ہیں مہراج نے کہا
سیرت کو مرا ہوا کہنے والا میرا دوست بھی نہیں ہے یاد رکھنا اب جاؤ یہاں سے وہ بے مروتی سے بولا
سالار میں تمہارا بھلا چاہتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ تم خوش رہو مہراج نے سمجھانا چاہا
میری میٹنگ ہے مہراج اگر روکنا چاہو تو رک جاؤ لیکن میں جلدی فارغ نہیں ہوں گا سالار کہہ کر باہر جانے لگا
ہاتھ پکڑ کر باہر نہ نکا لنے کے لیے شکریہ مہراج نے غصے سے کہا جاتا ہے
جبکہ وہ اس کی بات پر مسکراتا ہوا باہر نکل گیا
♧♧——————————–♧————————–♧♧
میٹنگ شروع ہوچکی تھی سالار جو ہارون صاحب کے ڈیزائن کو اپنی نگرانی میں بنوایا چکا تھا اسے یقین تھا آج سب کچھ بہترین ہوگا اسی لئے وہ کافی پرسکون تھا دوسری پارٹی بھی بہت پاورفل تھی لیکن سالار کو یقین تھا یہ پروجیکٹ اسی کی کمپنی کو ملے گا لیکن فائل کھولتے ہی سالار نے غصیلی نگاہوں سے ہارون صاحب کو دیکھا اورفائل ان کے سامنے پٹک دی
ہارون صاحب نے بے یقینی سے فائل کو دیکھا جب سالار کے دہاڑنے کی آواز سنی
آؤٹ ۔۔۔۔۔آئی سیڈ آؤٹ ناؤ ۔۔وہ غصے سے بنا کسی کی پرواہ کیے چلایا
ہارون صاحب حیرانگی سے فائل کو دیکھ رہے تھے سب کے سامنے اپنی اس بےعزتی پر شرمندہ ہو گئے
سر میری بات انہوں نے کچھ کہنا چاہا
آئی سیڈ آوٹ اس بار وہ اتنی زور سے دہاڑہ کہ ہارون صاحب نظر تک نہ ملا پائے اور شرمندگی سے اٹھ کر باہر نکل آئے
باہر نکل کر انہوں نے ور کرز کی طرف دیکھا جو باہر تک سالار کی آوازیں سن رہے تھے وہ سر پکڑ کر اپنی کرسی پر بیٹھ گئے
آج تک کسی نے ان کی اتنی انسلٹ نہیں کی تھی اور آج ان سے آدھی عمر کے آدمی نے ان کو دو کوڑی کا کر دیا تھا
ان کا سر بہت بری طرح سے دکھنے لگا تھا کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ ان کا بی پی بہت ہائی ہو چکا ہے
جب ان کی لاڈلی ابو جی ابوجی کرتی آفس میں داخل ہوئی اور کسی نے اسے ہارون صاحب کی جگہ بتائی
انہیں اس طرح سے سر پکڑے بیٹھے دیکھ کر وہ پریشانی سے آگے بھری اور جلدی سے اپنا نقاب اوپر کرکے انہیں دیکھنے لگی ابو جی کیا ہوا ہے آپ کو وہ پریشانی سے انکا سر دبانے لگی
کچھ نہیں میرا بچہ میں ٹھیک ہوں باس نے ان کی بہت انسلٹ کی ہے انہیں میٹنگ سے بھی آؤٹ کردیا باہر تک آوازیں آ رہی تھیں ایک لڑکی اس کے قریب کھڑی بتا رہی تھی
ہوتا کون ہے تمہارا باس میرے بابا کی انسلٹ کرنے والا ایسے کیسے میٹنگ سے آؤٹ کر دیا بابا نے اتنی محنت کی تھی کہاں ہے وہ گھٹیا آدمی میں خود بات کرتی ہوں اس سے مرہاہ آگ بھگولا ہوتی سامنے کھڑی لڑکی سے پوچھ رہی تھی جس نے سامنے کے دروازے کی طرف اشارہ کیا جہاں میٹنگ اب بھی جاری تھی
بیٹا میری بات سنو ہارون صاحب کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن مرہاہ اپنا سامان وہیں پھینکتی کمرے کی طرف جا چکی تھی پیچھے سالار کی نیو سیکرٹری میڈم میڈم کرتی رہے گی
♧♧——————————–♧————————–♧♧
وہ آندھی طوفان کی طرح روم میں داخل ہوئی اور سامنے بیٹھے مین چیئر کی طرف بھری
سامنے بیٹھا آدمی سے دیکھ کر کھڑا ہو چکا تھا اور بے یقینی سے اسے دیکھ رہا تھا
تم ہوتے کون ہو میرے ابو جی کو کچھ کہنے والے مالک ہو تو کیا کسی کی بھی انسلٹ کرنے کا حق رکھتے ہو
وہ اس کا گربان پکڑ کر بے خوفی سے بولی جبکہ سامنے کھڑا شخص بے یقینی کی کیفیت میں سے دیکھ رہا تھا
سیر۔ ۔۔۔سالار نے کچھ بولنا چاہا
شٹ اپ اب تمہارے منہ سے ایک لفظ ہی نکلے گا اور وہ ہوگا سوری جو تم ابھی اور اسی وقت میرے ابو جی سے بولو گے نہیں تو میں تمہارے اوپر ہراس کا کیس کروں گی وہ غصے سے بولی
جب کہ سامنے کھڑے شخص نے بنا کسی کی پرواہ کیے بےاختیار اسے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا