Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 8
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 8
ابوجی آپ کو جاب مل گئی میں نے کہا تھا نہ میری دعا سیدھی اللہ کے پاس جاتی ہے راستے میں رکتی نہیں مرحا خوشی سے سارے گھرمیں اڑتی پھر رہی تھی
ہاں بیٹا یہی تو میں کہہ رہا ہوں لیکن مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کنٹریکٹ میں کیا ہوگا جو سائن کرنے کے لیے وہ لوگ مجھے کہہ رہے ہیں ہارون صاحب نے سوچتے ہوئے کہا
کیا ہوگا وہی ہوگا چھوٹی نہیں کرنی وغیرہ وغیرہ مرحا نے لاپروائی سے کہا
نہیں ابو جی ایسا سوچیئے گا بھی مت یہ کوئی چھوٹا موٹا شہر نہیں ہے کراچی ہے اور جس کمپنی میں آپ کل انٹرویو دے کے آئے ہیں وہ پاکستان کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے
ان کو کوئی عام لوگ مت سمجھیے گا ابوجی بڑی کمپنیوں کے لوگ بھی بہت تیز ہوتے ہیں پلیز سوچ سمجھ کے کریے گا اسد نے پریشانی سے کہا ہارون صاحب مسکرائے
بیٹا جی مجھے ابھی نوکری چھوڑے ہوئے ایک ہی مہینہ ہوا ہے میں کوئی نہ سمجھ بچا تو نہیں ہوں انہوں نے اس کی فکر کو دیکھ کر کہا
جانتا ہوں ابو جی بھولیں مت اس انجان شہر میں ہم بھی بہت کچھ گنوا چکے ہیں
اس نے اداسی سے کہا تو مرحا اس کے کندھے پر سر رکھ گئی
بھائی آپ فکر نہ کریں ہمہیں اللہ سے اچھے کی امید رکھنی چاہیے مرحا بھی اداس ہو گئی
اور اسد کو اس کے چہرے پر یہ اداسی بالکل بھی اچھی نہ لگتی تھی
بس بس میری ڈرامہ کویین چل تجھے آئسکریم کھلاتا ہوں سمندر دیکھنے جائیں گے مرحا نے خوشی سے کہا
لیکن اب رات ہو رہی ہے اور سردی بھی کافی ہے وہاں کسی اور دن چلیں گے اس نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی فورا نقاب کرنے چلی گئی
وہ خود بھی نقاب کی پابند تھی لیکن اسد بھی اس معاملے میں بہت سخت تھا وہ عورتوں کو آزادی دینے کے حق میں تھا لیکن پردے سے بے نیاز عورتیں اسے ہرگز پسند نہ تھی
اس کا ماننا تھا کہ جو عورت اپنے پردے کا خیال نہیں رکھ سکتی وہ کسی اور ذمہ داری کے قابل ہی نہیں ہے
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آئس کریم کھاؤ گی مہراج جو کب سے اس کی سرخ آنکھیں دیکھ رہا تھا اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے کہنے لگا وہ خود بھی اس موسم میں آئس کریم وغیرہ کھانے کے خلاف تھا لیکن آیت کا موڈ خوشگوار کرنے کے لیے کہنے لگا
نہیں مہراج گھر چلتے ہیں اور ویسے بھی بچے بھی سو گئے ہیں آیت نے ایک نظر اپنے شہزادے کو دیکھا جبکہ سنان کے لیے فی الحال صرف دودھ ہی کافی تھا
دیکھو بھئی کون انکار کر رہا ہے۔۔۔۔ آیت مہراج شاہ آئس کریم کو انکار کر رہی ہے یہ تو معجزہ ہو گیا بلکہ آج کی تاریخ تو سنہری لفظوں میں رقم کرنی چاہیے مہراج اس کے لبوں پر مسکراہٹ لانے میں کامیاب ہوگیا
آیت کی مسکراہٹ بھی تو اس کی زندگی کی ہر خوشی تھی جس کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا
لیکن اس وقت آیت بالکل بھی آئس کریم کھانے کے موڈ میں نہ تھی تو وہ بھی سیدھے گھر ہی جانے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار تم اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو ابھی تمہیں آئے ہوئے تین ہفتے ہی تو ہوئے ہیں
تم توایک مہینے کے لئے آئے تھے نا زاو یار کو اس نے ابھی بتایا تھا کہ وہ واپس پاکستان جا رہا ہے
وہ زاویار سے ملنے اس کے گھر صرف ایک دن آیا تھا اور آج جانے سے پہلے آیا تھا جبکہ زاو یار اور اس کی ملاقات روز ہی اس کے آفس میں ہو جاتی تھی
زاویار میرا یہاں رہنے کا کوئی مطلب نہیں ہے اب مجھے واپس جانا ہے اور ویسے بھی پاکستان میں بہت کام ہے
اور کیا پتا اس بار سیرت کا ہی کچھ پتہ چل جائے میرا جانا بہت ضروری ہے سوچا جانے سے پہلے تم سے مل لوں وہ اسے گلے لگانے لگا
اللہ تمہیں صبر دے سالار زاویاریہ الفاظ دل میں کہنا چاہتا تھا لیکن نہ جانے کیسے زبان پر آگٙئے سالار نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے الگ کیا
زاویار نے نہ چاہتے ہوئے بھی اسے ہرٹ کیا تھا وہ حنا سے بھی نہیں ملا اور چلا گیا
جبکہ حنا کو زاویار پر بہت غصہ آیا لیکن وہ کچھ کہہ نہیں پائی کیونکہ آپنی دوست کے غم میں وہ شخص کے سینے سے لگ کر روتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار میں آپ کے لیے چائے بنا کر لاؤں
سیرت کو ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی آیت کا فون آیا تھا جس نے اسے بتایا کہ وہ آج حاشر سے ملنے کے لیے جا رہی ہے اور رات بھی وہیں رکنے کا ارادہ رکھتی ہے
تب سےسیرت بہت خدمت گزار بیوی بن کر سالار کے آگے پیچھے گھوم رہی تھی
جبکہ وہ پہلے ہی اندازہ لگا چکا تھا کہ آیت کا فون آیا ہے اس کا مطلب ہے کہ آج سیرت کا موڈ اچھا ہی ہوگا
تب تک اچھا جب تک وہ سالار کا موڈ خراب نہ کر دے
ہاں جانم بناؤ لیکن چائے نہیں کافی سالار نے پیار سے اس کا گال کھینچ کر کہا
کیسے پی لیتے ہیں آپ یہ کڑوی سڑی ہوئی کافی کبھی آپ نے سوچا ہے چائے کتنی پیاری ہوتی ہے کتنی میٹھی ہوتی ہے کتنی اچھی ہوتی ہے وہ ایک بار پھر سے اس کے سامنے چائے میڈم کے گُن گانے لگی
ہاں مجھے پتا ہے تمہاری چائے بہت اچھی اور بہت میٹھی ہوتی ہے بالکل تمہاری طرح لیکن اس وقت مجھے کافی کی طلب ہے
سالار نے پیار سے کہا تو سیرت بھی مسکرا کر اٹھی میں ابھی آپ کے لئے کافی بنا کے لاتی ہوں
وہ فورا ہی گئی اور اس کے لیے کافی بنانے لگی جبکہ سالار کو یقین ہو گیا تھا کہ آج شام تک ان دونوں کی لڑائی پکی ہونی ہے
کیونکہ آیت نے حاشر کے گھر رات رکنا تھا اور سالار سیرت کو رات کے لیے کہیں جانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا کیوں کہ اس کی غیر موجودگی میں سالار ساری رات بے چین رہتا
تھوڑی دیر میں سیرت ہاتھ میں ایک ٹرے لیے اس کے پاس آئی
دیکھیں سالار میں آپ کے لیے کیا بنا کے لائی ہوں
آپ کافی پیتے ہیں میں چائے پیتی ہوں
اسی لیے میں نے آپ کے لیے ایک اسپیشل ریسپی تیار کی ہے چوفی
سیرت نے اس کے سامنے کپ پر رکھا جس میں اس کی اسسپیشل ریسیپی “چوفی” بڑی شان بے نیازی سے لہرا رہی تھی
سالار نے ایک نظر غور سے اس کپ کو دیکھا
اور پھر اپنی ڈمپل کوئین کو جو مسکراتے ہوئے مزید ان کی نمائش کررہی تھی
سالار چاہ کے بھی انکار نہیں کرسکتا تھا لیکن اس کو پینا بھی اس کے بس سے باہر تھا
خیر اس کے لئے تو وہ زہر بھی پی سکتا تھا یہ تو پھر چائے اور کافی کا مکسچر تھا
سالار نے کپ اٹھا کے بڑی مشکل سے ایک سیپ لیا
جبکہ سیرت اس کے پاس کھڑی اس کے فیس ایکسپریشن دیکھ رہی تھی جو سالار نے بڑی مشکل سے نارمل کیے
تم نہیں پیو گی اپنی اسپیشل کوفی چائے کامکسچر
نہیں سالارآپ کو تو پتہ ہے مجھے کافی نہیں پسند کڑوی سڑی ہوئی مجھے تو بس میری اپنی چائے پسند ہے
اس نے اپنی چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے اسے دکھایا
مطلب یہ اسپیشل “چوفی” صرف سالار کے لئے تھی
جیسےسالار نے بڑی مشکل سے اپنے حلق سے اتارا
اچھی ہے نہ سیرت نے مسکرا کر پوچھا
وہ چاہ کر بھی اسے برا نہیں کہہ سکتا تھا
بہت زبردست
سالار نے اسے مزید خوش کیا
سچی آپ فکر نہ کریں میں روزآپ کے لئے بنایا کروں گی بس آج سے آپ کی اس کافی سے جان چھڑوا دی میں نے
سیرت نے خوشی سے چہکتے ہوئے کہاجیسے کافی کی جگہ چوفی دے کر اس نے بہت برا محاذ سر کیا ہو
