228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 15

پاٹنر سب کے سامنے میں نے یہ کہہ دیا کہ میں سیرت کو کسی اور طریقے سے واپس لاؤں گا لیکن میں کیا کروں گا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تم ہی کچھ بتاؤ وہ پری کو اپنے ساتھ والی سیٹ پر بٹھائے ڈرائیونگ کر رہا تھا
جبکہ پری بہت غور سے اس کی ساری باتیں سن رہی تھی
سچ کہوں دل تو کر رہا ہے کہ سارا لحاظ ایک طرف رکھ کر اسے اپنے ساتھ لے آؤں
آخر میری بیوی ہے میرے پاس ثبوت ہے جب چاہے اسے اپنی بیوی ثابت کرکے اسے اپنے ساتھ لے کے آ سکتا ہوں لیکن اس طرح سے تو وہ خوش نہیں ہوگی نہ
پری میں چاہتا ہوں کہ وہ اسی طرح میرے پاس آئے جس طرح سے وہ گئی تھی
بہت خوش ہر ٹینشن سے دور اور اب تو وہ تو مجھے پہچان تک نہیں رہی میں کیسے بتاؤں کہ میں اس کا شوہر ہوں اس کا سالار ہوں اسے بے انتہا محبت کرتا ہوں
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا پری یار تمہیں کوئی آئیڈیا دو وہ پری کو امید بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا
جو بہت غور سے اس کی باتیں سن رہی تھی جیسے اس کی ہر بات کو بہت اچھے سے سمجھ رہی ہو
ویسے پری اگر سیرت خود اپنی برتھ ڈے کا کیک کاٹے تو میرا مطلب ہے کیوں نہ اسے اسی کی برتھ ڈے پر انوائٹ کروں ہو سکتا ہے اس سے اسے کچھ یاد آجائے
اور اگر نہیں بھی آیا توتم اپنے چاچو پلس ماموں پلس پھوپھا کو جانتی ہی ہو
سالار نے شرارتی نظروں سے اس کی طرف دیکھا جو اسے دیکھ کر کھلکھلا کر ہنسی
مطلب صاف تھا پری کو بھی سالار کا آئیڈیا بہت اچھا لگا ہے
یار پارٹنر اسی لئے تو تمہیں اپنے ساتھ لے کے آتا ہوں اتنے اچھے آئیڈیاز دیتی ہو تم کہاں سے لایا ہے تم نے یہ دماغ وہ اس کا گال چوم کر واپس گاڑی سٹارٹ کر چکا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧
سالار پری کو لے کر واپس آیا اور آتے ہی اعلان کر دیا کہ وہ سیرت کا برتھ ڈے بہت دھوم دھام سے سیلیبریٹ کرے گا
اور اس کی اس برتھ ڈے پر سیرت آئے گی وہ سیرت کو انوائٹ کرے گا
تاکہ سیرت کو خود ہی کچھ نہ کچھ یاد آجائے اپنی تصویریں اور اپنے سارے اپنوں کو دیکھ کر ہوسکتا ہے سیرت کی یادداشت واپس آجائے
سالار کا آئیڈیا سب کو پسند آیا تھا ۔
اور سب ہی نے سیرت کا یہ برتھ ڈے نہ صرف دھوم دھام سے سیلیبریٹ کرنے کے لیے بلکہ سیرت سے ملنے کے لیے بھی بے چین تھے ۔
اور اس کے ساتھ ہی سالار نے یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ اسد اور ہاورن جھوٹ کیوں بول رہے ہیں مرہاہ کون ہے جس کی پہچان انہوں نے اس کی سیرت کو دی ہے
وہ کوئی ہے بھی یا نہیں
اگر مرہاہ کوئی ہے ہی نہیں تو یہ کردار کیوں بنایا گیا اگر کوئی ہے تو اس کی پہچان سیرت کو کیوں دی گئی سالار کے ذہن میں سیرت کو واپس حاصل کرنے کے علاوہ بھی بہت سارے سوال تھے جن کا جواب وہ جلد سے جلد چاہتا تھا
♧♧——————————–♧————————–♧
حاشر آپ کو کیا لگتا ہے یہ سب کچھ کرنے سے سیرت کی یاداشت واپس آجائے گی منت نے اس سے پوچھا
میں یہ تو نہیں جانتا منت کے وہ سیرت ہے بھی یا نہیں کیونکہ میں نے ابھی تک اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا لیکن اگر وہ سیرت ہے
تو سالاراسے واپس ضرور لائے گا مجھے سالار پر پورا یقین ہے ۔
سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا
اگر سالار کا یقین سیرت کو واپس لا سکتا ہے تو سالار کا عشق اسے سیرت ثابت بھی کر سکتا ہے
تم فکر مت کرو ان شاء اللہ اس کی اس برتھ ڈے پر ہم سب اس سے ملیں گے
حاشر نے اظہار تو نہ کیا تھا لیکن سیرت سے ملنے کے لیے وہ بھی بہت شدت سے انتظار کر رہا تھا 6 ماہ بعد وہ اپنی بہن کو دیکھنے جا رہا تھا
آنے والے ہر لمحے میں اسے اپنی بہن سے ملنے کی خواہش شدت سے جاگی تھی
♧♧——————————–♧————————–♧
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں زاویہ کیا آپ سچ بول رہے ہیں حنا کو ابھی تک سیرت کی واپسی کا یقین نہ آیا تھا وہ بار بار زاویار سے یہی سوال پوچھ رہی تھی
جبکہ زاو یار بہت محبت ہے اس کی ہر بات کا جواب دے رہا تھا اسے خود بھی یقین نہ تھا کہ کوئی بچھڑا ہوا انسان اس طرح سے واپس آسکتا ہے
حنا مجھے خود یقین نہیں آرہا اگر مہراج مجھے نہیں بتاتا تو شاید میں یہ بات تم سے شیئر بھی نہ کرتا
لیکن ان سب کو یقین ہے کہ وہ سیرت ہی ہے
اسی لیے تمہیں بتایا ہے زاویار نے اس کے چہرے کی خوشی دیکھتے ہوئے کہا
دیکھا میں نے آپ سے کہا تھا نہ کہ سیرت ہے میں جانتی تھی سیرت زندہ ہوگئی اور بالکل ٹھیک ہوگی مجھے ابھی سیرت سے بات کرنی ہے نہ نے ایکٹسائٹ میں کہا
نہیں تم ابھی اس سے بات نہیں کر سکتی زاویار اس کی بیچینی سمجھ سکتا تھا لیکن پھر بھی فی الحال وہ اس سے بات نہیں کر سکتی تھی کیونکہ مہراج نے اسے بتایا تھا کہ سیرت کو اپنی پرانی زندگی کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں ہے
اور یہی بات جب زاویار نے حنا کو بتائیںخ توحنا نے نہ جانے کتنے ہی آئیڈیاز ڈالے اس کی یادداشت واپس لانے کے لئے
وہ سے بچپن اسےسے جانتی تھی سیرت کی ہر پسند ناپسند سے واقف تھی۔
سالار جانتا تھا کہ حنا اس کی اس سلسلے میں بہت مدد کر سکتی ہے ۔
اور حنا نے ایسا ہی کیا بہت ساری باتیں جو سالار بھی نہیں جانتا تھا ۔۔جس میں زیادہ تر بچکانہ خواہشیں تھی۔
سیرت بچپن سے اپنا برتھ ڈے کس طرح سے سیلیبریٹ کرنا چاہتی تھی حنا اسے سب کچھ بتایا ۔
اور سالار نے وہی سب کچھ کیا ۔۔اب اس سے بس اس بات کی فکر تھی کہ وہ اس کی پارٹی میں آئے گی یا نہیں
♧♧——————————–♧————————–♧
حنا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا وہ تو ابھی سے زاویار ضد کر رہی تھی کہ اسے پاکستان جانا ہے
لیکن فی الحال زاویار اسے پاکستان نہیں لے کے آ سکتا تھا
اچھا نہ زاؤ یار آپ نہ چلے میرے ساتھ صرف مجھے بھیج دیں وہ اس کی منتیں کرنے پر اتر آئی
نہیں حنا پلیز سمجھنے کی کوشش کرو تم جانتی ہو میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا اور بچوں کے بغیر کیسے رہوں گا میں زاعیار نے اس سے اپنی بے بسی شیئر کی تو اسکا منہ پھر سے بن گیا
جب دروازہ بجا
اس وقت ان کے گھر میں کوئی نہیں آسکتا تھا
آپ دنیا کے سب سے بُرے ہزبنڈ ہیں میں آپ سے بالکل پیار نہیں کرتی
حنا کہتے ہوئے اٹھی ۔جبکہ اس کی بات سننے کے بعد وہ مسکرایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ حنا اس کی بات سمجھ چکی ہے اب وہ ضد کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی
دروازہ کھول کر دیکھا تو سامنے دریا اور بابا کھڑے تھے
دریا کو دیکھ کر اسے اپنی زندگی کی سب سے تلخ حقیقت یاد آئی
لیکن اب وہ اس سے شکوہ نہیں کر سکتی تھی دریا کی حالت ایسی تھی ہی نہیں کہ اس سے کوئی شکوہ کیا جاسکتا
تین مہینے پاگل خانے میں رہنے کے دوران دریا نے چار بار خودکشی کرنے کی کوشش کی
اور پھر انہیں پاگلوں کے درمیان میں رہنے کی وجہ سے اپنا ذینی توازن بلکل ہی بھول بیٹھی
اسے تو اب یاد بھی نہ تھا کہ وہ کون ہے اگر پتہ تھا تو بس اتنا زاویار اس کا بھائی ہے ۔
اور یہ بوڑھا آدمی اس کا باپ اور جو تیسرااسے شخص یاد تھا وہ سالار شاہ تھا ۔
جس سے وہ آج بھی بے انتہا محبت کرتی تھی ۔
دریا نے بول چال بالکل ہی بند کر دی تھی اب وہ کسی سے بات نہ کرتی تھی ۔
اسے جہاں بٹھا دیا جاتا سارا سارا دن وہی بیٹھی رہتی بابا اس کی حالت دیکھ کر دن رات روتے تھے ۔
زاویار کو تووہ بچپن سے ہی بہت عزیز تھی لیکن اسی حالت میں وہ جانتا تھا اسے اپنے فیملی کی ضرورت ہے ۔
اسی لئے جب اس نے حنا سے کہا کہ وہ دریا کو معاف کردے تو حنا نے بھی اپنا دل بڑا کر لیا ۔
اور اسے واپس گھر لے آئے
بابا اکثر ترکی آتے رہتے تھے بزنس کے سلسلے میں لکین اسے نہیں پتا تھا کہ اس بار وہ دریا کو بھی اپنے ساتھ لائیں گے
وہ بیٹا دراصل دریا کو اکیلے گھر پر نہیں چھوڑ سکتا تھا جو ملازمہ میں نے اس کے لئے رکھی تھی وہ اپنے گاؤں گئی ہوئی ہے اور تم تو جانتی ہو کہ اس کے علاوہ اسے کوئی نہیں سنبھال سکتا بابا نے کہا تو حنا مسکرا کرانہیں اندر بلانے لگی ۔
جبکہ دریا انجان نظروں سے اس گھر کو دیکھ رہی تھی
♧♧——————————–♧————————–♧
ابوجی آپ نے تو کہا تھا کہ آپ اب آفس نہیں جائیں گے۔
وہ کافی سارا سامان رات میں ہی پیک کر چکی تھی ۔
اور اب انہیں تیار ہوتا دیکھ کر پوچھنے لگی
بیٹا جب تک وہ لوگ مجھے نوکری سے نہیں نکالتے میں اس طرح سے گھر تو نہیں بیٹھ سکتا نہ
ان کے کنٹریکٹ کے مطابق مجھے ان لوگوں کو 50لاکھ روپے دینے پڑئے گے اور میرے پاس اتنا پیسہ کہاں ہے
اس لیے جب تک وہ خود مجھے اس نوکری سے برخاست نہ کرے تب تک میں نوکری نہیں چھوڑ سکتا
لیکن مجھے یقین ہے کہ آج وہ لوگ مجھے اس نوکری سے نکال دیں گے
خیر تم اپنا سارا سامان پیک کرکے رکھنا ہو سکتا ہے ہمیں آج ہی گھر چھوڑنا پڑ جائے
ابو جی نے کہا تو مرہاہ خاموش رہی ۔ آج وہ کالج نہیں گئی تھی
ابو جی اور اسد کے جانے کے بعد ایک بار پھر سے سامان چیک کرنے لگی
اسد نے دوبارفون کرکے اسے کہا تھا کہ اپنی میڈیسن ضرور لینا
صبح اس کا ناشتہ کرنے کا بالکل دل نہیں کر رہا تھا جس کی وجہ سے صبح کی میڈیسن نہیں لے پائی تھی
اور اب اسد کو میڈیسن نہ لینے کی وجہ سے ٹینشن ہو رہی تھی
مرہاہ نے اسے یقین دلایا کہ وہ کھانا کھانے کے بعد ضرور دوائی لے لے گی
اور پھر اس نے ایسا ہی کیا
سارا کام ختم کر کے اس نے سب سے پہلے کچھ کھایا تاکہ وہ میڈیسن لے سکے
اسد بالکل ٹھیک کہتا تھا جس رات کو میڈیسن نہیں لیتی تھی اکثر اسے ڈراؤنے خواب آتے ۔
جس کی وجہ سے اب وہ با قاعدگی سے میڈیسن ضرور لیتی تھی ۔
کھانا کھانے کے بعد اس نے اپنی میڈیسن لی رات کافی دیر جاگنے کی وجہ سے ابھی سے سخت نیند آ رہی تھی
کام تو وہ سارا کر چکی تھی اسی لئے سوچا کیوں نہ تھوڑی دیر آرام ہی کر لے
دروازہ اچھے سے لاک کر کے وہ اپنے بیڈروم میں آگئی ۔
شاید اس کمرے میں یہ اس کی آخری نیند تھی مسکرا کر سوچتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی اور تھوڑی ہی دیر میں نیند کی دیوی سب پر مہربان ہوگئی
♧♧——————————–♧————————–♧
سالار نے خوشگوار موڈ میں ناشتہ کیا اور پھر اپنے آفس آیا آفس آتے ہی سب سے پہلے اس نے ہارون صاحب کو اپنے کیبن میں بلایا تھا وہ تو کب سے اس کے بلاوے کا انتظار کر رہے تھے فوراً ہی اس کے کیبن میں آگئے
دیکھے ہارون صاحب اس دن جو غلطی آپ نے کی ہے وہ اتنی بڑی تو ضرور تھی کہ آپ کو اس نوکری سے نکال دیا جائے لیکن آپ ایک بہت ہی قابل انسان ہے میں آپ کو ایک اور موقع دینا چاہتا ہوں
یہ مت سوچیے گا کہ آپ کی بیٹی کی وجہ سے میں یہ سب کچھ کر رہا ہوں آئی ایم ریلی سوری میں غلط فہمی کا شکار تھا
مجھے لگا کہ وہ سیرت ہے آپ یقین نہیں کریں گے میری بیوی کی شکل بلکل کی بیٹی کی طرح تھی
اسی لئے اس دن میں بہت جذباتی ہو گیا میں آپ کے بیٹے سے بھی بہت شرمندہ ہوں اور آپ کی بیٹی سے بھی میں نے آپ کے بیٹے کے ساتھ بہت بد تمیزی کی اور جس طرح سے آپ کی بیٹی مجھ سے خوفزدہ تھی
میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں ہارون صاحب ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجیے
وہ معذرت ہوہ انداز میں بولا ۔
مجھے یقین ہے میری بیوی زندہ ہے اور جہاں بھی ہوگی ان شاء اللہ بلکل ٹھیک ہوگی میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں اس دن کے لیے ۔میں آپ کے بچوں سے خود پرسنلی مل کر معافی مانگنا چاہتا ہوں اگر آپ کو ٹھیک لگے تو
کچھ دنوں کے بعد میری بیوی کی سالگرہ ہے ۔پلیز آپ اپنے بچوں کے ساتھ وہاں آئے تاکہ میں اپنی غلطی کی معافی مانگ سکوں
جس طریقے سے میں نے آپ کے بیٹے کے سامنے بدتمیزی کی اور آپ کی بیٹی کے سامنے اسے اپنی بیوی کہا نجانے وہ میرے بارے میں کیا سوچ رہی ہوگی
پلیز ہارون صاحب پلیز آپ لوگ پارٹی میں ضرور آئے گا ۔
آپ لوگوں کے آنے سے میری محفل کو چار چاند لگ جائیں گے ۔سالار نے وہ ساری تقریر جو کل رات اس نے ایک پیپر پر لکھ کر رٹی تھی جلدی جلدی بول دی
سالار کا انداز ایسا تھا کہ ہارون صاحب چاہ کر بھی انکار نہ کر سکے
میں کوشش کروں گا آنے کی ۔ہارون صاحب نے کہا تو سالار مسکرا دیا
تھینک یو سو مچ ۔۔
یہ فائل لے جائے اور یہ ڈیزائن کمپلیٹ کریں ان شاءاللہ اگلا کانٹیکٹ ہمیں ہی ملے گا ۔
اور اگر ایسا ہوا تو یقین جانے ہماری کمپنی کو بہت فائدہ ہوگا وہ فی الحال سیرت سے ہٹ کر ان سے بزنس کے بارے میں بات کرنے لگا
تاکہ ہارون صاحب کو شک نہ ہو
ہارون صاحب بھی غور سے اس کی باقی باتیں سننے لگے ۔
اور پھر انہیں کام سمجھانے کے بعد اس نے مہراج کو آفس میں بلایا
آپ اس کا ارادہ اپنی سیرت کو دیکھنے کے لئے جانے کا تھا
جبکہ مہراج نے یہی کہا تھا کہ اس کی لائیو سیٹ کرتے کرتے وہ اپنے بزنس سے ہاتھ دھو بیٹھے گا
جس پر سالار نے قہقہہ لگاتے ہوئے فون بند کر دیا
♧♧——————————–♧————————–♧
سب سے پہلے اس نے فلیٹ کی ڈوبلیکٹ کی نکلوائی تھی
پھر اسد کے بارے میں معلوم کیا وہ اپنے آفس جا چکا تھا
اب وہ بالکل بے فکر ہوکر اس کے فلیٹ کی طرف آیا تھا
یہاں آس پاس اور بھی بہت سارے فلیٹ تھے جو سب کے سب اسی کی کمپنی کی فیملی کو دیے گئے تھے
اپنا ہوڈ پہنتا سب سے چھپ چھپا کر سیدھا اس فلیٹ کی طرف آیا اور ڈوبلیکیٹ کی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
پورا فلیٹ بالکل خالی سامنے کاٹن پڑے تھے یقینا وہ لوگ یہ گھر چھوڑ نے کی تیاری کرچکے تھے
تم مجھ سے دور کبھی نہیں جاسکتی سیرت
جب تم میری کچھ نہیں تھی تب میں تمہیں ہزاروں کی بھیڑ سے اٹھا کر لے آیا تھا تو اب تو تم میری بیوی ہو
تمہیں خود سے دور کیسے جانے دے سکتا ہوں
سالار نے تمام کمروں کا جائزہ لیا ۔
اور پھر آخری کمرے کی طرف آیا
سالار نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا اس کی نظر سامنے سوئے ہوئے وجود پر پڑی
وہ گہری نیند میں سو رہی تھی سالار آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا اس کے قریب آیا
کوئی اسد کوئی ہارون اسے مرہاہ ثابت نہیں کرسکتا تھا وہ اس کے سیرت تھی جسے اللہ کے سوا کوئی اس سے جدا نہیں کر سکتا تھا
اس نے سیرت کو کبھی دن میں سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا وہ پریشانی سے اس کے قریب آیا اور اس کا ماتھا چھونے لگا کہ کہیں اسے بخار تو نہیں ہے لیکن شاید وہ گہری نیند میں تھی اس لئے اس کے چھونے سے بھی نہ جاگی
وہ بالکل ٹھیک تھی لیکن پھر بھی اتنی گہری نیند میں سو رہی تھی
سالار نے جھک کر اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور اس کی خوشبو کو اپنے سانسوں میں اتارنے لگا پھر نہ جانے کتنی دیر اسے وہیں بیٹھا دیکھتا رہا ۔
تمہیں پتا ہے سیرت تم میری ہو میں تو تمہیں کسی کو دیکھنے بھی نہ دوں اور وہ لوگ تمہیں مجھ سے چھیننا چاہتے ہیں ۔
میری ہو تم تمہارے سر کے بال سے لیکر پیر کے ناخن تک سالار شاہ کا حق ہے ۔وہ لوگ مجھے میری سیرت سے دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔اور ان کو یہ لگتا ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوجائیں گے ۔وہ ہارون صاحب اگر میں چاہوں نا تو ساری زندگی چیٹنگ کے الزام میں جیل بھیج سکتا ہوں اسے ۔ اور وہ اسد اس کا تو کوئی حل نکالنا ہی پڑے گا پھر تم مجھ سے شکایت مت کرنا ۔
تم فکر مت کرو بس کچھ ہی دنوں میں میں تمہیں یہاں سے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے جاؤں گا کیوں کہ سالار شاہ کو روکنے کی ہمت کسی کے باپ میں نہیں ہے ۔
وہ اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھوتا آہستہ آہستہ اس سے باتیں کر رہا تھا جبکہ اس سے انجان وہ گہری نیند میں سو رہی تھی ۔
بہت مس کیا ہے میں نے تمہیں اتنے دن لیکن کچھ دن کے بعد تمہارا برتھ ڈے ہے اس دن میں تمہیں بتاؤں گا کہ میں نے تمہیں کتنا مس کیا باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے بہت سارا شرمانے کے لئے تیار ہو جاؤ مسز سیرت سالار شاہ ۔کیونکہ کچھ دنوں بعد میں تم سے اپنی چھ مہینوں کی بے چینیوں کا حساب لوں گا وہ بھی بنا رعایت کے ۔
سالار نے اس کے کان کے بے حد نزدیک اپنی گیبھیر آواز میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کے کان کی لو کوچوما۔