Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341

Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 Last updated: 10 November 2025

228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ik Lafz Ishq Season 2

By Areej Shah

کل جس حویلی سے وہ اس گھر میں گئی تھی آج اس حویلی کو کسی دلہن کی طرح سجایا گیا تھا ۔ سیرت کو اسی کمرے میں لایا گیا جہاں وہ پہلے برتھ ڈے والے دن آئی تھی آج کا دن اس کے لئے نیا نہ تھا وہ یہ سب کچھ پہلے بھی محسوس کر چکی تھی ۔ لیکن نہ جانے کیوں سالار کے بارے میں سوچ سوچ کر اسے خوف آرہا تھا ۔ جو بے انتہا خوش تھا اب وہ سالار شاہ سے دور نہیں رہنا چاہتی تھی کیونکہ وہ پہلا نکاح مانے یا نہ مانے لیکن آج سب رسم و رواج کے بعد اس کا نکاح ہوا تھا جسے وہ دل سے مانتی تھی ‏آیت اور مہراج ان کے ساتھ ہی یہاں آئے تھے آیت نے بہن کے فرض نبھاتے ہوئے نجانے کتنی ہی رسمیں نبھائی ۔ جسے سیرت بہت انجوائے کررہی تھی لیکن اب جب سالار کے کمرے میں آنے کا وقت قریب آرہا تھا اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ••••••••••••••• سالارنے جلدی کمرے میں جانے کی بہت کوشش کی لیکن آگے بھی مہراج بیٹھا تھا جس نے تو قسم کھارکھی تھی کہ آج وہ اسے تڑپا کے ہی دم لے گا ۔ مہراج دیکھ میں تجھے بہت پیٹوں کا بعد میں مجھے اندر جانے دے بالکل بھی نہیں۔۔۔ نہیں جانے دوں گا تجھے پیٹنا ہے نہ ابھی پیٹ لے لیکن آج رات ہم دونوں پارٹی کریں گے انجوائے کریں گے سیرت واپس آگئی ہے تیری شادی ہو گئی ہے میں بہت خوش ہوں اور تیرے ساتھ پارٹی کرنا چاہتا ہوں مہراج نے اسے تنگ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا اور وہ اس میں کامیاب بھی ہو رہا تھا جبکہ سالار کا دل چاہ رہا تھا کہ کوئی بھاری چیز اٹھا کر اس کے سر پر دے مارے دیکھ ہم کل پارٹی کریں گے ۔اور بہت انجوائے کریں گے اور خوب خوشیاں منائیں گے لیکن کل ابھی مجھے جانے دے ۔ اور اگر تو نے مجھے ابھی نہیں جانے دیا تو میں آیت کو ایک مہینے کے لئے یہاں لے آؤں گا واپس نہیں جانے دوں گا سالار نے آخری حربہ آزمایا تو مہراج نے فورا اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔ چل کیا یاد رکھے گا دوست دوست کا احساس نہیں کرے گا تو پھر کس کا کرے گا مہراج نے احسان جتایا ۔ تو سالار اسے گھورتا ہوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ لیکن اس گھر کے لوگوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ اسے سکون سے نہیں رہنے دیں گے اس وقت بھی آیت اور حنا اس کے دروازے پر کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی ۔ سالار نے فورا اپنی جیب سے چیک بک نکالی۔ اور ان تک پہنچنے سے پہلے سائن کی ۔دونوں کو چیک پکڑائے جب تک وہ چیک کو دیکھ رہی تھی تب تک سالار کمرے کے اندر جا کے کمرہ کو بند بھی کر چکا تھا یہ کیا بات ہوئی ہم تو ذرا سا تنگ بھی نہیں گیا آیت کو افسوس ہوا ۔ ہاں یار ذرا مزہ نہیں آیا حنا آیت کے ساتھ منہ بنا کر مہراج کے پاس آ بیٹھی ••••••••••••••••• دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز پر سیرت کا دل بری طرح سے دھڑک رہا تھا ۔ سالارآہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آ بیٹھا وہ اس کے اتنے قریب آ کر بیٹھا تھا کہ اس کے دل کی آواز بھی باآسانی سن سکتا تھا ۔ سالار نے آہستہ سے اس کا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا ۔ آج پوچھو ذرا اس دنیا سے کسی نے میری دلہن سے زیادہ خوبصورت کوئی دوسرا دیکھا ہے وہ گنھبیر آواز میں بولا سیرت کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو وہ باآسانی محسوس کر سکتا تھا ۔ اس نے آہستہ سے سیرت کے وجود کو اپنے سینے میں چھپایا ۔ ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔وہ اسے اپنے سینے سے لگاتے ہوئے پوچھ رہا تھا ۔ سیرت کچھ نہیں بولی ۔۔۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے میں جانتا ہوں سیرت تمہیں فی الحال یہ سب کو سمجھنے کے لئے وقت کی ضرورت ہے ۔ لیکن میں تم سے دور نہیں رہ سکتا میں چاہتا ہوں تم ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہو ۔ میں جب چاہے تمہیں دیکھوں جب چاہے تمہیں محسوس کروں جب چاہیں تمہیں پیار کروں ۔ میں تم سے شادی تمہیں اپنی نظروں کے سامنے رکھنے کے لئے کرنا چاہتا تھا ۔ میں جانتا ہوں یہ رشتہ پرانا ہونے کے باوجود بھی تمہارے لئے نیا ہے جب تک تم نہیں چاہوگی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔ میں تو ویسے بھی کبھی تمہاری مرضی کے خلاف تمہیں نہیں چھوتا ۔میں بس اس انجانے پن کے احساس کو ختم کرنا چاہتا تھا۔بس تمہیں بتانا چاہتا تھا کہ میں تمہارا شوہر ہوں تم پہ حق رکھتا ہوں بس اسی لئے تھوڑی مستی اگر دی ۔ لیکن جب تک تم نہیں چاہو گی میں تمہارے قریب نہیں آؤں گا ۔لیکن تمہں رہنا میرے پاس ہی ہوگا میری نظروں کے سامنے ۔آٹھو چینج کرو کرو کیونکہ تم اس طرح سے سجے سنوارےدیکھ کر میرا ایمان ڈگمگا رہا ہے ۔وہ شرارت سے کہتا اس کے قریب سے اٹھا جب اسے اپنے ہاتھ پر ایک نرم لمس محسوس ہوا ۔ اس نے فورا پلٹ کر اپنا ہاتھ دیکھا اس کے ہاتھ میں چوڑیوں سے بھرا سیرت کے ہاتھ میں تھا ۔ اسد بھائی مجھے سب بتا گئے ہیں ۔اور آج ہمارا نکاح ہوا ہے اور میں اس نکاح کو قبول بھی کرتی ہوں میں مانتی ہوں مجھے پرانی چیزیں یاد نہیں ہیں لیکن یہ یاد ہے کہ آج ہمارا نکاح ہوا ہے ۔ اور میں نےخود اپنی مرضی سے یہ نکاح قبول کیا ہے اور آپ کے ساتھ یہ رشتہ نبھانا چاہتی ہوں ۔ اس رشتے کو نبھانے کے لیے مجھے پرانی یادوں کی ضرورت نہیں ہے سالار آپ میرے شوہر ہیں یہ حقیقت ہے ۔اور ہمارا نکاح پرانی یادوں کا محتاج نہیں ہے کہ وہ سب مجھے یاد آئے گا تب بھی ہم اپنا رشتے کا آغاز کریں گے ۔ آپ میرے قریب آئے یہ آپ کا حق ہے جونا میں آپ سے چھیننے کا حق رکھتی ہوں اور نہ ہی چھنوں گی ۔۔سیرت نظریں جھکائے آہستہ آہستہ بول رہی تھی سالار بے یقینی سے سنتا واپس بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ مطلب تمہیں میرے قریب آنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے وہ اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے پوچھ رہا تھا ۔ جب سیرت نء آہستہ سے پلکے اٹھا کر اس کی طرف دیکھا ۔ لیکن اس کے سوال کا جواب دینے کی ہمت کہاں سے لاتی سالاربے اختیار اس کے لبوں پر جھکتا دیوانہ وار اس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتارنے لگا ۔ مجھے لگا تھا کہ مجھے پھر سے تمہارے لیے تڑپنا پڑے گا ترسنا پڑے گا انتظار کرنا پڑے گا ایک ایک لمحہ لیکن تم نے تو اتنی آسانی سے مجھے قبول کر لیا ۔ اسے میں اپنی محبت کی شدت سمجھوں یا انتظار کا پھل ۔وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے محبت سے پوچھنے لگا ۔ مجھے نہیں پتہ ۔۔سیرت نے شرماتے ہوئے اس کے سینے میں اپنا چہرہ چھپایا ۔ سالارکا دلفریب قہقہ کمرے میں گھونجا۔ اور محبت کی اس حسین رات میں سالار گزرتے ہر لمحے کے ساتھ سیرت کو خودمیں سمیٹتا چلا گیا

Complete novel available  in DOWNLOAD LINK

https://novelistan.pk/2025/02/09/ek-lafz-ishq-by-areej-shah-season-01/