228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 6

بابا آپ فکر نہ کریں یہ جاب آپ کو ہی ملے گی میں آپ کے لئے دعا کروں گی اور آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ مرحا ہارون کی دعائیں سیدھی اللہ میاں کے پاس جاتی ہیں
آپ کی بیٹی کا دعا سیڈنگ سسٹم اتنا اچھا ہے کہ دعا ڈائریکٹ قبول کرنے والے کے پاس پہنچتی ہے فرشتوں کے پاس نہیں وہ اپنے ڈمپلز دکھاتی مسکرا کر ہارون صاحب کو بیسٹ وشز دے رہی تھی
جو مسکراتے ہوئے اس کی باتیں سن رہے تھے نئی جگہ پر شفٹ ہونے کی وجہ سے وہ اپنی پرانی نوکری کھو چکے تھے
اور ان کا بی پی بھی ہائی رہنے لگا تھا جس کی وجہ سے اسد انہیں نوکری نہیں کرنے دیتا تھا
آپ کراچی میں اسد کی اچھی نوکری لگ گئی تو وہ ان دونوں کو لے کر یہاں آگیا
اب ہارون صاحب کو فارغ بیٹھنے کی عادت نہیں تھی جس کی وجہ سے وہ کوئی اچھی نوکری تلاش کر رہے تھے
اسد کی تنخواہ بہت اچھی تھی لیکن پھر بھی وہ سارا بوجھ اس پر نہیں ڈالنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے جاب کرنے کا فیصلہ کیا جو اسد کو بالکل پسند نہیں آیا تھا لیکن وہ ان کےسامنے کچھ نہیں بول سکتا تھا مگر مرحاکے سامنے اپنی بھڑاس ضرور نکالتا تھا
جو وہ بعد میں لفظ بہ لفظ ہارون صاحب کے کان تک پہنچاتی تھی جسے سن کر وہ مسکرا دیتے
اب ہم اپنی جانو بیٹی کا ایڈمیشن کروائیں گے پھر نوکری لگ گئی تو ان شاءاللہ ہم ہر روز ساتھ ساتھ جایا کریں گے
ان شاءاللہ مرحا نے مسکرا کر کہا
انہیں کام پر بھیج کر وہ نئا گھر دیکھنے لگی انہیں یہاں آئے ابھی دو ہی دن ہوئے تھے گھر اچھا تھا مگر اس کا اپنا گھر اسے زیادہ اچھا اور برا تھا
یہاں تو صرف دو ہی کمرے تھے
وہ بھی چھوٹے چھوٹے جس میں بیڈ رکھی جائے تو اور کچھ رکھنے کی جگہ نہیں بچتی
اگر اسد نے پہلے دن ہی جاب پر نہ جانا ہوتا تو وہ اسے ایک ایک کوناصاف کرواتا لیکن اب یہ سب کچھ اس معصوم جان نے اکیلے کرنا تھا
اسد بھیا اللہ آپ کو پوچھیں اتنی پیاری بہن کو اتنے کام کروا رہے ہیں شام کو میں بھی بغیر آئسکریم کے نہیں ماننے والی وہ اپنا منصوبہ بناتی صفائی کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما احمد گنڈہ ہے وہ سادی کو مالتا ہے (ماما احمد گندہ ہے وہ سعدی کو مارتا ہے )
تو پیر سادی کا فرینٹ احمد کو مالتا ہے (تو پھر سعدی فرینڈ احمد کو مارتا ہے )
وہ سعد کو تیار کر رہی تھی جب کہ وہ اپنی آنی کا لاڈلہ اپنی آنی کی طرح ہی باتونی بولے جا رہا تھا
اچھا پھر تو آپ کا فرینڈ بہت اچھا ہے اس کو تھینک یو بولنا چاہیے
آیت اس کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی
نوماما فرینٹ شپ می نو سولی نو تھینک یو یہ فرینٹشپ (فرینڈشپ ) کا رول ہے سعد منہ کے ڈیزائن بناتا ہوا بتانے لگا
اچھا لیکن اپنے فرینڈ کا نام تو بتاؤ مہراج ابھی نہا کر نکلا اور سعدی کی مزے مزے کی باتیں سن کر مسکرا کر پوچھنے لگا
ایان احمد خان سعدی نے ایک ہی سانس میں اس کا نام لے کر لمبی سانس لی جیسے یہ نام بتا کر کوئی محاز فتح کیا ہو
پھر تو میں بھی آج آپ کے فرینڈ سے ملوں گا مہراج نے اس کے ابھی بنائے گئے بال بگاڑے
مامابابانے نے سادی کے پالےپالے بال حراب کر دیے اس نے منہ بنا کر آیت کو پکارا
جبکہ مہراج آیت کو پلٹا دیکھ کر فورا اپنا سوٹ اٹھاکر تیارہونے چلا گیا
وہ ہمیشہ اسے تنگ کرنے کے لیے ایسا ہی کرتا تھا ایک تو اس کے لاڈلے کو اپنی مرضی کا ہیر سٹائل بنوانا ہوتا ہے جو کہ آیت کو بنانا نہیں آتا مگر ایک آدھے گھنٹے کے بعد قدرتی طور پر وہ بن جاتا ہے تو آیت کو سکون ملتا ہے
لیکن اب اس نے اس کا سکون غرق کر کے رکھ دیا
اور جانے سے پہلے اس نے سنان کو جارحانہ پیار کرکے اس کا باجہ بجا دیا
آیت نے بھی بڑی مشکل سے سعدی کا ہیراسٹائل بنایا اور پھر باہر گاڑی کی طرف بھیجا کمرے میں جاکر سنان کو سنبھالنے لگی
مہراج آپ کیوں میرے معصوم بچوں پر ظلم کرتے ہیں اس نے ایک نظر سنان کی طرف دیکھا
اس کے دونوں گال سرخ تھے یقینا اس کے باپ نے کیے تھے ایک یہ وجہ تھی کہ سنان کو اپنا باپ بالکل بھی پسند نہیں تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا سوچ رہے ہیں حاشر وہ ابھی ابھی پری کو سولا کر بےبی کاٹ میں رکھ کر آئی تھی جب حاشر کو کچھ سوچتے ہوئے دیکھا وہ کافی دیر سے ایک ہی پوزیشن میں بیٹھا تھا
کچھ نہیں بس سالار کا سوچ رہا ہوں میں نجانے وہ حقیقت کو کب قبول کرے گا چھ مہینے گزر چکے ہیں لیکن وہ ابھی تک سیرت کی موت کو قبول نہیں کر پا رہا
چھ مہینے بہت ہوتے ہیں کسی بھی حقیقت کو قبول کرنے کے لئے مجھے سالار کی حالت دیکھ کر ڈر لگنے لگا ہے وہ لاکٹ صرف اور صرف سیرت کے پاس تھا اگر ہم اس لاکٹ کو اگنوکر بھی دیں تو سیرت کا بریسلیٹ جو اس دن وہ ہمارے سامنے پہن کر گئی تھی حاشر بہت آہستہ آہستہ بول رہا تھا
منت نے اس کے سینے پر سر رکھا
منت تمہیں نہیں لگتا کہ اب سالار کو حقیقت قبول کر لینی چاہیے
حاشرکیا آپ کو سیرت کے واپس آنے کی خوشے نہیں ہوگی منت نے پوچھا
کیوں نہیں ہوگی وہ میری بیٹی ہے منت وہ میری بچی ہے مجھ سے زیادہ اور کون خوش ہوگا حاشر نے کہا
تو پھر سالار بھائی کو ڈھونڈنے دیں نا ہوسکتا ان کا یقین سیرت کو واپس لے آئے منت نے امید سے کہا
کون سا یقین جو اس سے کہتا ہے کہ سیرت زندہ ہے
فرض کرو وہ یقین ٹوٹ گیا تو پھر کیا ہوگا منت
پھر سالار ٹوٹے گا نہیں بلکہ سالار مرجائے گا اور میں بس یہی چاہتا ہوں کہ وہ یقین ٹوٹنے سے پہلے سالار سنبھل جائے
میں چاہتا ہوں وہ اپنی زندگی میں آگے بڑھ جائے میں چاہتا ہوں کہ وہ دوسری شادی کرلے اس سے آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا
سیرت کو بھلانے کے لیے سیرت کی جگہ کسی اور کو دینی ہوگی سالار کی زندگی میں کسی اور کو لانا ہوگا جو سیرت کی جگہ لے لے
ورنہ سالار اندر ہی اندر ختم ہوتا جائے گا منت نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا جو آنکھیں بند کیے اپنی لاڈلی بہن کی جگہ کسی اور کو دینے کی بات کر رہا تھا
آج چھ مہینے بعد وہ بھائی نہیں بلکہ دوست بن کے سوچ رہا تھا منت سے کچھ بھی وہ نہ بولا گیا وہ بس خاموشی سے سن رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سامنے میز کے اس طرف تین کرسیوں پر تین ینگ لوگ بیٹھے تھے باہر سب ینگ لڑکے تھے جو یہ جاب حاصل کرنا چاہتے تھے ہارون صاحب صبح ساڑھے آٹھ بجے کے یہاں بیٹھے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے جوکے سوا دو بجے آئی
وہ کمرے میں آئیں اور سامنے تین لوگوں کو بیٹھا دیکھا جن میں دائیں طرف فیصل بائیں طرف مہراج کا سیکرٹری ایاض اور درمیان میں مہراج بیٹھا تھا آئیں جناب مہراج نے اس بڑی عمر کے آدمی کو دیکھ کر کہا
جن کی عمر شاید احمد صاحب جتنی ہی تھی انہوں نے مہراج کے سامنے ٹیبل پر اپنی سی وی رکھی
سالار کو ایسے ہی آدمی کی تلاش تھی جو ایکسپیرینس ہو اور کام کو بھی اچھے سے سمجھ سکے
مہراج نے ان کی پوری سی وی چیک کی جو کہ اسے کافی پسند آئی
سر ہمیں آپ کا کام کافی حد تک پسند ہے آپ اپنا کانٹیکٹ نمبر باہر دے کے جائیے گا اگر ہمیں ضرورت ہوئی تو
ان شاءاللہ آپ سے رابطہ ضرور کریں گے
مہراج نے مسکرا کر کہا اگر وہ چاہتا تو انہیں ابھی جاب پر رکھ سکتا تھا لیکن ابھی باہر بہت لمبی لائن تھی جو لوگ آج چار دن سے مسلسل انٹرویوز کے لئے آرہے تھے اور ان میں سے کافی لوگ انہیں پسند آئے تھے مہراج اپنا سارا کام ایک طرف رکھے سالار کے لئے ایڈٹر ڈھونڈنے میں مصروف تھا
جبکہ سالار ترکی میں سارے انتظامات سنبھال رہا تھا جو ضرورت سے زیادہ بھگڑ چکے تھے
ہارون صاحب اچھی امید کے ساتھ گئے تھے جبکہ مہراج نے انہیں جاب دینے کے بارے سوچ لیا تھا ۔
لیکن پھر بھی وہ ایک بار سب کو چیک کرنا چاہتا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کے ساتھ بھی کوئی ناانصافی ہو جائے
سر یہ باقی سب سے بہتر ہیں اب بس سالار سر بھی ان کے لیے ہاں کر دیں
یہ بالکل ویسے ہی ہیں جیسے سالار سر کو چاہیے فیصل نے کہا
ہاں سالار کو ایسے ہی آدمی کی تلاش ہے اور مجھے بھی یہ کافی اچھے لگ رہے ہیں بس سالار کو بھی پسند آجائے تو ایک ہفتے کے بعد انہیں بُلا کر کنٹریکٹ وغیرہ سائن کروا دیں گے
تم سارا پیپرورک دیکھ لینا 6 مہینے کا کنٹریکٹ ہوگا چھ مہینے تک وہ یہ جاب نہیں چھوڑ سکتے لیکن کسی وجہ سے جاب چھوڑنی پڑے تو انہیں ہماری کمپنی کو 50لاکھ روپے ادا کرنے ہوں گے
اور اگر ہم انہیں نکالیں گے تو یہی رول ہمارے کمپنی پر لاگ ہوگا
مہراج نے اسے تفصیل سے بتایا
حاشر نے آج اسے اور آیت کوڈنر پر بلایا تھا سارا بیگم بھی ان سے وہی ملنے والی تھی حاشر نے آج ان سے کوئی بہت ضروری بات کرنی تھی
۔۔۔۔۔۔۔💕۔۔۔۔۔۔۔۔