Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 23
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 23
ویسے مجھے نہیں پتا تم مجھ سے ملنے کے لئے اس طرح کے بہانے بناؤ گی ۔لیکن مجھ سے ملنے کے لیے تمہیں بہانے بنانے کی کیا ضرورت تھی ۔
تمہارا جب دل چاہے تو مجھ سے ملنے آ سکتی ہو ۔اس طرح سے بہانے بنانے کی ہرگز بھی کوئی ضرورت نہیں ہے جانم اس میں تو تمہارا ہی ہوں ۔
سالار مسکراتے ہوئے ایک اس کی ایکسپریشنز دیکھ رہا تھا
میں آپ سے ملنے کے لئے یہاں نہیں آئی اور نہ ہی آپ کو دیکھنے کے لئے مجھے بہانے بنانے کی ضرورت ہے مرحا نے چڑ کر کہا جو کب سے اسے کسی نہ کسی بات پر تنگ کیے جا رہا تھا آج تک کسی نے اس طرح سے زبردستی سے ناشتہ نہیں کروایا تھا ۔
اسی لیے مرحا نے اس کی خوش فہمی دور کرنا ضروری سمجھی جس پر سالار مسکرایا یہ انداز تو اس کی سیرت کا تھا
جی ہاں تو مجھ سے ملنے آئی ہو بہانہ جو مرضی بنالومیں جانتا ہوں کہ تمہیں میرا دیدار کرنے کا بہانہ چاہیے تھا اور تمہارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی بہانہ نہیں تھا
خیر جانم ہم تو ویسے بھی دو بجے ملنے ہی والے تھے لیکن تمہاری بیتابی ہائے تم تو مجھ سے بھی زیادہ بے صبری ہو خیر کوئی بات نہیں محبت میں کنٹرول ہوتا ہے عشق میں کیسا کنٹرول ہزار بارآو
سالار بے شرموں کی طرح بولے جا رہا تھا جبکہ وہ منہ کھولے اس کی بے باک گفتگو سن رہی تھی
یا اللہ اس بندے کا دماغ ہی خراب ہے آخرمرحا نتیجے پر پہنچی
اس کے اس طرح سے بولنے کی وجہ سے مرحاسے کچھ کھایا بھی نہیں جا رہا تھا وہ کھانا چھوڑنے لگی تو سالار نے پھر سے کہا
سیرت ٹھیک سے ناشتہ کرو ورنہ میں زبردستی کروں گا جو تمہیں ہرگز پسند نہیں آئے گی
آپ جس طرح سے بولے جارہے ہیں میں کچھ نہیں کھا سکتی آپ تھوڑی دیر اپنا منہ بند رکھیں گے تو ہو سکتا ہے میں ناشتہ کرلوں مرحا نے ایک قسم کی شرط رکھی
مطلب میرے بولنے کی وجہ سے تم شرما رہی ہو سالار پھر سے بولا تو مرحا کا دل چاہا کہ اس کا گلا دبا دے
اچھا سوری سوری اتنا ناراض کیوں ہو رہی ہو میں آپ کچھ نہیں بولوں گا تم ناشتہ کرو صرف تمہیں یہاں سے بیٹھ کر دیکھوں گا اب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں ہے نہ ۔۔۔۔؟
اس سے پہلے کے مرحا کوئی جواب دیتی سالار پھر سے بولنے لگا
اگر پابندی ہے بھی توسالار شاہ کو فرق نہیں پڑتا
شاید اسے پتہ تھا کہ کیا جواب دینے والی ہے لیکن مرحا یہ بات سمجھ چکی تھی کہ جب تک وہ ٹھیک سے ناشتہ نہیں کرے گی یہ آد می اس کی جان نہیں چھوڑے گا
ہوگیا ناشتا اب میں جا رہی ہوں وہ جلدی سے جھاڑتی اٹھی
ایسے کیسے جا رہی ہو چلو میں تمہیں فلیٹ چھوڑ دیتا ہوں ۔سالار نے آفر کی یا شاید آرڈر
نہیں مجھے فلیٹ نہیں جانا مجھے اپنے کالج جانا ہے
جانم یہ پونے گیارہ بجے کون سا کالج شروع ہوتا ہے سالار خریت سے پوچھا
آپ کی وجہ سے لیٹ ہوئی ہوں میں خیر میں خود ہینڈل ڈر کر لونگی وہ جلدی سے باہر جاتی بولی
سالار بھی اس کے پیچھے آیا چلو تمہیں کالج چھوڑ دیتاہوں۔
اس بار مرحس بنا بحث کیے اس کے ساتھ گاڑی میں آ بیٹھی کیونکہ وہ پہلے ہی بڑی مشکل سے یہاں تک پہنچی تھی اب اکیلے واپس جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اسے یہاں آتے آتے کتنا ڈر لگاتے یہ صرف وہی جانتی تھی
•••••••••••••••••••••
تھینک یو اب میں آگے خود چلی جاؤں گی آپ چلے جائیں مرحا گاڑی سے اتر کر بولی
تم اس تھرڈ کلاس کالج میں پڑھتی ہو سالار نے کالج کی پرانی سی بلڈنگ دیکھ کر کہا
مسٹر سالار شاہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے کوئی بھی جگہ تھرڈ کلاس نہیں ہوتی لوگ تو زمین پر بیٹھ کر بھی پڑھتے ہیں مرحا کو اس کے انداز پر غصہ آیا
میرا وہ مطلب نہیں تھا لیکن مجھے یہ کالج پسند نہیں ہے تو یہاں نہیں پڑھوگی وہ اس کے ساتھ گاڑی سے اترتے ہوئے بولا
تم جاؤ اپنی کلاس میں تمہاری پرنسپل سے بات کرتا ہوں تمہیں لیٹ آنے پر کوئی بھی ٹیچر کچھ نہیں کہے گا
اس نے مرحا سے کہا تو وہ اسے دیکھنے لگی
چلو اب جو بھی تھا ڈانٹ کھانے سے وہ بچ سکتی تھی
وہ اس کی طرف دیکھے بغیر ہی اپنی کلاس میں چلی گئی
••••••••••••••••••
کلاس میں کوئی ٹیچر نہیں تھا تقریبا دو تین کلاسیز تو مس ہوچکی تھی وہ اپنی سیٹ پر آکر بیٹھی تو لڑکیاں اس سے لیٹ آنے کی وجہ پوچھنے لگی
وہ بہانے بناتے انہیں مطمئن کرنے لگی جبکہ کسی بھی ٹیچر نے اس سے لیٹ آنے پر کوئی سوال نہ کیا تھا
وہ شکر مناتی اپنی کلاس اٹینڈ کرنے لگی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد اپنی سہیلی کے ساتھ کلاس سے باہر آئی
سالار واپس گیا تھا یا نہیں وہ نہیں جانتی تھی
لیکن تھوڑی دیرکہ بعد پرنسپل آفس میں اس کا بلاوا آیا تھا وہ پریشانی سے پرنسپل آفس آئی
آئے مرحا بیٹا آپ کی کلاس ختم ہونے کا انتظار کر رہا تھا
پھر آپ نے کبھی بتایا نہیں کیا آپ سالار شاہ کو جانتی ہیں میرا مطلب ہے انہوں نے ابھی بتایا ہے کہ وہ آپ کے بھائی کا فرینڈ ہیں
پرنسپل نے بتایا تو مرحا کو اپنا بھائی اسد یاد آیا اسد بھائی اور سالار شاہ فرینڈز مرحا کو سوچ کے ہی ہنسی آرہی تھی اگر ان دونوں کو ایک کمرے میں بند کر دیا جائے تو پتا نہیں آئی وہ دونوں ایک دوسرے کا کیا حال کرتے اور یہاں وہ پرنسپل کو بتا کر گیا تھا کہ وہ اسد کا فرینڈ ہے
خیر یہ سالار شاہ کا فون یہی رہ گیا ہے شاید وہ لے جانا بھول گئ
ے آپ پلیز انہیں یہ فون واپس کر دیجیئے گا اور ہماری طرف سے شکریہ ادا کر دیجئے گا
پرنسپل سر نے کہا تو مرحا انہیں دیکھنے لگی
کس بات کا شکریہ مرحا نے پوچھا
بیٹا انہوں نے کالج کی عمارت ٹھیک کروانے کے لیے ہمیں 20لاکھ کی اماؤنٹ دی ہے ۔
اورانہوں نے کہا ہے کہ وہ آگے بھی ہمارے تعلیمی ادارہ کے لیے مدد کرنا چاہتے ہیں آج کے دور میں ایسے لوگ ہوتے ہی کہاں ہیں ۔اللہ انہیں اجر دے
پرنسپل نے سالار کی تعریف کرتے ہوئے کہا تم مرحا کو تھوڑی دیر پہلے والے سالار کے الفاظ یاد آئے
اور فون لیکر باہر آگئی
پرنسپل نے تجھے کیوں بلایا تھا ۔۔۔؟
اس کی دوست نے پوچھا
اتنا مہنگا فون تمہارا تو نہیں ہو سکتا ۔۔۔اب تو نزہت کا دھیان اس کے ہاتھ میں رکھیں فون پر تھا
سالار شاہ کا ہے اس نے منہ بنا کر کہا
سالار شاہ کون وہ بزنس ٹائیکون نزہت نے اپنے دونوں کانوں پر ہاتھ رکھ کر چیخ مار کر اس کا نام لیا
جس پر مرحا نے اسے گھور کر دیکھا
لیکن اس کا فون تمہارے پاس کیا کر رہا ہے
ڈانس کر رہا ہے میرے ساتھ بولا نہ سر نے دیا ہے وہ کھا جانے والے انداز میں بولی
اور یہ سر کے پاس کیسے آیا وہ اس کے انداز کی پروا کیے بغیر بولی کیونکہ وہ اسے غصہ کرتے ہوئے بہت کیوٹ لگ رھی تھی
یار وہ صبح آیا تھا میرے ساتھ مرحا اسے بتانے لگی تو نزہت نے جیسے اس کی بات ہی پکڑ لی
وہ تمہارے ساتھ کیوں آیا تھا نزہت اسے آنکھ پھاڑے اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
دیکھو نزہت اگر اب تم نے اس آدمی کے بارے میں مجھ سے ایک بھی سوال پوچھا تو میں تم سے دوستی ختم کر لوں گی وہ غصے سے کہتی مین گیٹ کے ساتھ بنی ہوئی جگہ پر بیٹھ کر اسد کا انتظار کرنے لگی
جبکہ سالار پر اسے بہت غصہ آرہا تھا
•••••••••••••••••••••
تھوڑی ہی دیر کے بعد سالار کا فون بجنے لگا جس پر سالہ صاحب جگمگا رہا تھا اس کے ذہن میں پہلی تصویر حاشر کی آئی
نجانے کیوں وہ شخص اسے بہت خاص لگاتا تھا اس نے کچھ بھی سوچے سمجھے بنا فون اٹھا لیا
اسلام علیکم اس کی آواز سنتے ہی حاشر نےایک بار پھر سے فون کان سے الگ کرکے دیکھا اس کی آواز تو وہ کروڑوں میں پہچان سکتا تھا
وعلیکم السلام سالار کا فون تمہارے پاس ہے تم دونوں ساتھ ہو کیا حاشر کو خوشگوار حیرت ہوئی
لیکن اس کی آواز سنتے ہی نہ جانے کیوں مرحا کی آنکھوں میں نمی اتر آئی
بالکل بھی اچھے نہیں ہیں وہ ہر وقت مجھے تنگ کرتے رہتے ہیں آپ انہیں سمجھاتے کیوں نہیں ہیں وہ بنا سوچے سمجھے سے بولنے لگی
آپ کو پتا ہے آج انہوں نے مجھے کتنا تنگ کیا میں اپنے ابو جی کا پتا کرنے ان کے گھر گئی تھی تو کہتے ہیں تمہارے ابو جی کسی لڑکی کے ساتھ بھاگ گئے ۔
اور پھر کہتے ہیں میں ان سے ملنے کے اور انہیں دیکھنے کے بہانے ڈھونڈتی ہوں
وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ اس شخص سے سالار کی شکایتیں کیوں کرنے لگی ہےجبکہ اس کے انداز پر حاشر کھل کر مسکرایا
اور آپ کو پتہ ہے مجھے زبردستی اتنا سارا کھانا کھلا دیا اور وہ زبردستی مجھے کالج چھوڑنے آئے پہلے میرے کالج کو برا بھلا کہا اور پھر پرنسپل کو پیسے دے کر ان کی نظروں میں اچھے بن گئے
اور پھر جان بوجھ کر ہاں جان بوجھ کر اپنا فون یہاں چھوڑ کر گئے ۔بالکل بھی اچھے نہیں ہیں وہ حاشر بھائی ۔۔۔۔وہ خاموشی سے اسے سنے جا رہا تھا اس کے حاشر بھائی کہنے پر یہاں حاشر کے لبوں پر مسکراہٹ آئی
لیکن اگلے ہی پل اپنے الفاظ سمجھتے ہوئے مرحا نے کال کاٹ دی
