228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 24

دیکھیں سر ہم آپ کو انفارمیشن نہیں دے سکتے یہ ہمارے ہوسپیٹل رولز کے خلاف ہے ۔
ڈاکٹر نے صاف انکار کیا
کیا تمہارے رولز کے خلاف ہے اور کیا نہیں یہ تو میں تمہیں بتاؤں گا ۔لیکن یہاں نہیں کورٹ میں
تم نے ایک 19 سال کی لڑکی کو ایسی میڈیسن دی ہے جو 50 سال کے کم آدمی کو نہیں دی جا سکتی ایک تو تم نے آن لیگل کام کیا ہے اوپر سے تم مجھے ایٹیٹیوڈ دکھا رہے ہو
دیکھو میں آخری بار پوچھ رہا ہوں تم انفارمیشن دو گے یا نہیں
ورنہ بھول جاؤ کہ تم کبھی اس سیٹ پر بیٹھ کر اپنی ڈاکٹری جھاڑپاؤگے ۔
لگتا ہے تم سے نہیں مانو گے اب اگلی ملاقات ہماری کورٹ میں ہو گی سالار کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا ۔
کل تک تمہیں تمہاراڈاکٹر لائسز کینسل ہونے کی خبر مل جائے گی ۔
سالار میں جاتے ہوئے ایک سخت نگاہ اس کے آفس میں ڈالی
ایک منٹ سر پلیز آپ ایسا نہیں کر سکتے سر میں بہت مشکل سے ڈاکٹر بننا ہوں۔
پھر یہ دوائیاں مجھ سے اسدخان لینے آتا تھا اس کی بہن کو کوئی بیماری ہے جس کی وجہ سے وہ رات خوابوں میں بہت زیادہ ڈر جاتی تھی اسد چاہتا تھا کہ وہ اپنی پرانی زندگی بھول جائے اور نئی زندگی کی شروعات کریں سر میں نے کوئی غلط نیت سے وہ دوائی اس لڑکی کو نہیں دی تھی ۔
صرف لڑکی کی حالت بہت زیادہ خراب تھی ۔
وہ پہلے ہی اپنی یاداشت بھولی ہوئی تھی میں نے تو بس وہ دوائی اس لیے اس لڑکی کو دی تھی تاکہ اس کی یاداشت واپس نہ آئے اسد نے بتایا تھا کہ اس کا ماضی بہت بیانک ہے جسے یاد کرتے ہوئے اس لڑکی کی حالت خراب ہو جاتی ہے سر میں نے خود اس لڑکی کی حالت دیکھی تھی ۔
سر چار ماہ پہلے جب وہ لڑکی یہاں آئی تھی تب اس کی حالت اس حد تک خراب تھی کہ اگر میں اسے وہ دوائیاں نہ دیتا تو شاید وہ ڈر کر ہی مر جاتی ۔
چار ماہ لیکن سیرت چھے ماہ سے غائب ہے ۔مطلب سیرت کو وہ میڈیسن لیتے ہوئے چار مہینے ہوئے ہیں سالار نے پوچھا ۔
جی سر اس لڑکی کو وہ دوائی لیتے ہوئے بھی چار مہینے ہوئے ہیں اگر آپ لوگ اسے بچانا چاہتے ہیں اس کی یادداشت واپس لانا چاہتے ہیں تو ابھی آپ کے پاس موقع ہے کیونکہ اگر اسے وہ دوائی لیتے ہوئے چھ مہینے سے اوپر کا ٹائم ہوگیا تو اس کی یاداشت واپس کبھی نہیں آئے گی ۔
سر پلیز مجھے معاف کر دیجیے مجھے وہ میڈیسن نہیں دینی چاہیے تھی لیکن میں مجبور تھا اس لڑکی کی حالت دیکھ کر مجھے یہ قدم اٹھانا پڑا میں جانتا ہوں یہ آن لیگل تھا لیکن میں کیا کرتا ۔ڈاکٹر نے کہا
سالار خاموشی سے باہر آگیا ۔
مزمل اس کا مطلب ہے ان لوگوں کو سیرت ملی 6مہینے نہیں بلکہ چار مہینے ہوئے ہیں اس سے پہلے کہاں تھی ۔
کیا ہوا ہے میری سیرت کے ساتھ جو اس وقت وہ اس حد تک ڈر گئی تھی ۔
کیسے اس نے اکیلے برداشت کیا ہوگا نجانے کیا کیا نہ سہا ہوگا میری سیرت نے ۔
شاہ سائیں سب سے بڑی بات تویہ ہے کہ سیرت بی بی واپس آگئی ہیں اور آپ کے ساتھ ہیں اور اللہ کا شکر ہے کہ وہ صحیح سلامت ہیں ۔
ان دو ماہ میں ان کے ساتھ کیا ہوا وہ کہاں تھی یہ سب کچھ ہم پتہ لگائیں گے ۔
لیکن پھر ایک بات ہے یہ اسد اور ہارون بُرے لوگ نہیں ہیں ورنہ وہ سیرت بی بی کے ساتھ کیا نہیں کر سکتے تھے ۔
یہاں تو وہ انہیں اتنے پیار سے رکھے ہوئے ہیں ۔
اور میں نے مرحاکے بارے میں بھی پتہ کروایا ہے ۔
مرحانام کی لڑکی ہارون صاحب کی بیٹی ہے لیکن مرحا کی آڈینٹی سیرت بی بی کو کیوں دی گئی یہ سمجھ نہیں آرہا مطلب مرحا کا وجود ہے لیکن سیرت کو اس کی پہچان کیوں دی گئی ہے پتہ لگاؤ مزمل مجھے اس وقت سیرت ملنا ہے سالار نے بے چینی سے کہا
شاہ سائیں میں سمجھ سکتا ہوں لیکن ۔
لیکن ویکن کچھ نہیں مزمل میں نے کہا مجھے سیرت سے ملنا ہے تو بس ملنا ہے ۔
وہ غصے سے بولا تو مزمل نے ہاں میں گردن ہلائی ہمیں واپس جاتے ہوئے دو گھنٹے لگ جائیں گے
واپسی پر پہلے سیرت کے کالج سےمیرا فون بھی لینا ہے ۔
پھرحاشر سے ملنا ہے اور پھر وہاں چلیں گے سالار نے کہا
••••••••••••••••••••••
میں نے تم سے کہا تھا کہ وہ لڑکی سالار سے نہیں ملنی چاہیے لیکن آج صبح کیوں وہ لڑکی اس کے ساتھ نہ صرف اس کے گھر پہ تھی بلکہ اس کالج میں بھی کہاں مرے ہوئے تھے تم
میں نہیں جانتا کہ وہ سالار کے ہاں کیسے پہنچی لیکن آپ فکر نہ کریں میں اس سے ضرور پوچھوں گا ۔
نہیں اس بات کو نہیں پوچھو گے اس بار اس سے میری ریوالور پہنچے گی میں نے کہا تھا نہ تم سے کہ اب وہ لڑکی اگر سالار شاہ سے ملی تو نہیں بچے گی ۔
پلیز پلیز ایسا مت کریں میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ وہ واپس سالارشاہ سے نہیں ملے گی مجھے بس ایک اور موقع دیں ۔
ہم آج ہی یہاں سے چلے جائیں گے ہم کراچی چھوڑ دیں گے ۔
پلیز مجھے آخری موقہ دیں
ٹھیک ہے ۔یہ تمہارا آخری موقع ہے اس لڑکی کو لے کر اتنی دور چلے جاؤ کہ کبھی سالار شاہ اسے ڈھونڈنا پائے
•••••••••••••••••••••
مرحا۔۔۔مرحا ۔۔۔۔۔مرحا ۔۔۔۔اسد غصے سے چلا تا گھر میں داخل ہوا مرحا جو کچن میں کام کر رہی تھی فورا باہر آئی
لیکن جتنی تیزی سے وہ باہر آئی تھی اتنی ہی تیزی سے اسد کا ہاتھ اس پراٹھا تھا ۔
منع کیا تھا میں نے تمہیں منع کیا تھا نا کے سالار شاہ سے نہیں ملنا اس گھر کے کسی آدمی سے کوئی تعلق نہیں رکھنا کیوں گئی تھی وہاں ۔
اگلے ہی لمحے اس نے ایک بار پھر سے مرحا کے خوبصورت گال پر اپنا ہاتھ جھاڑا
میں پوچھ رہا ہوں کس سے پوچھ کر گئی تھی اور کیوں گئی تھی اس کے گھر ۔
مرحا نے روتے ہوئے دو قدم پیچھے بڑھائے تو اسد وہی قدم چلتا اس کے مزید قریب آیا
بھائی۔۔۔۔۔
خبردار جو ایک لفظ بھی اپنی زبان سے بولا میں پوچھتا ہوں کیسے پوچھ کر گئی تھی وہ تھی وہاں
اسد کا ہاتھ دوبارہ اٹھا ہارون صاحب نجانے کب اس کے قریب پہنچے اوع اسد کو پیچھے کی طرف دکھیلا
اور روتی ہوئی مرحا کو اپنے سینے سے لگایا ۔
کیوں ہاتھ اٹھایا تم نے اس پر ہمت کیسے ہوئی تمہاری ہارون صاحب غصے سے بولے
ارے پہلے اس سے پوچھے کہ کس کی اجازے سے گئی تھی ان لوگوں سے ملنے کے لیے ۔کیا لگتا ہے پاگل ہوں میں پتہ نہیں چلے گا مجھے بیوقوف سمجھ رکھا ہے مجھے اس ایک پل سے اس کے طرف بڑھا ۔
مرحا بیٹا اندر جاؤ ہارون صاحب نے کہا ۔
مرحا آنکھیں صاف کرتی بھاگتے ہوئے اندر چلی گئی ۔
•••••••••••••••••••
دماغ خراب ہو گیا ہے اسد کیوں جاہلوں کی طرح بہن کو پیٹے جا رہے ہو ۔
جانتے بھی ہو نا کہ اس نازک سی لڑکی پر کتنا برا اثر پڑے گا ان سب کا ہارون صاحب نے سمجھانا چاہا لیکن اسد کا غصہ کم نہ ہوا تھا
ابو جی میں نے تو صرف ہاتھ اٹھایا ہے وہ اسے مار دیں گے یہ سمجھتی کیوں نہیں ہے سالار شاہ سے ملے گی تو ماری جائے گی
اسد نے بے بسی سے کہا
ابو جی میں ایک بار اپنی بہن کو کھو چکا ہوں اب نہیں کھول سکتا
وہ مجھے دن رات دھمکیاں دیتے ہیں کہ وہ ہماری بہن کو مار دیں گے یہ لڑکی سمجھ ہی نہیں ہے اسد کی آنکھوں آنسو چھلک پڑے
اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے سالار شوہر ہے اس کا محبت کرتی ہے وہ ان سب لوگوں سے وہ فیملی ہے اس کی ۔
ہم چاہے انہیں کتنا ہی الگ کیوں نہ کرلے لیکن حقیقت نہیں بدلے گی ہارون صاحب نے سمجھاتے ہوئے کہا
مجھے کچھ نہیں پتہ ابوجی میں نے ان لوگوں کا اعتبار میں لیا ہے کہ ہم کراچی چھوڑ رہے ہیں بس نہ ہم یہاں رہیں گے اور نہ ہی ہو سالار ہماری مرحا کے پاس آئے گا
اسد نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا
ہارون صاحب نے ہاں میں گردن ہلائی
ٹھیک ہے ہم ان لوگوں کا بتائیں بغیرہی یہاں سے نکل جائیں گے سب سے بڑی غلطی تو مجھ سے یہ ہوئی کہ مجھے سالار کی کمپنی میں جاب نہیں کرنی چاہیے تھی ۔اور جب تک چھے مہینے پورے نہیں ہوتے میں وہ نوکری نہیں چھوڑ سکتا لیکن ہم لوگوں کو بتائے بغیر ہی _ یہ شہر چھوڑ دیں گے ہارون صاحب نے فیصلہ کرتے ہوئے کہا اور مرحا سے سامان پیک کرنے کے لیے بھی کہہ دیا ۔
•••••••••••••••••••
اچھا ہی ہے اس سالار شاہ سے میری جان چھوٹ جائے گی ۔
ان کی وجہ سے بھیانےمجھ پر ہاتھ اٹھایا بالکل بھی اچھا نہیں ہے وہ کبھی بات نہیں کروں گی اس سے ۔
مرحا پنا سامان پیک کرتے ہوئے مسلسل رو رہی تھی جب نظر سالار کے فون پر پر
اس فون کے بارے میں وہ گھر پر بھی کسی کو کچھ بھی بتا نہیں پائی تھی ۔
اس نے فون اٹھایا تو اسے حاشر یاد آگیا نجانے وہ اس سے کیا کیا بول رہی تھی ۔
اس نے آخری نمبر پر کال کی رونے کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھی ۔
سالار کا نمبر دیکھتے ہی حاشر نے فون اٹھا لیا ۔
اپنے دوست سے کہیں کہ کل میں فون کالج میں چھوڑ جاؤ گی ہم جا رہے ہیں یہاں سے سوں سوں کے ساتھ سیرت کی آواز آئی شاید نہیں یقینا وہ رو رہی تھی
گڑیا تم رو کیوں رہی ہو حاشر نے بے چینی سے پوچھا ۔
تھپپر کھا کے سب روتے ہیں ۔آپ چھوڑیں یہ ساری باتیں بس صبح اپنے دوست کا فون لے جائے گا میرے کالج سے ۔فون بند ہو چکا تھا جبکہ حاشر کے کانوں میں بس ایک ہی جملہ گونج رہا تھا
تھپڑ کھا کے سب روتے ہیں ۔
حاشر کو یقین نہیں آرہا کہ اس کی سیرت پر کوئی ہاتھ اٹھا سکتا ہے
ہمت ہوئی کہ اس کی سیرت پر ہاتھ اٹھایا اس نے خود کبھی سیرت کواونچی آواز بھی نہیں ڈانٹا تھا ۔
وہ غصے سے گھر سے باہر نکلنے لگا تب ہی سالار کی گاڑی آکر رکی
کیا ہوا حاشر کہاں جا رہے ہو ۔
جان لینے جا رہا ہوں ان دونوں کمینوں کی جس نے میری بہن پہ ہاتھ اٹھایا ہے حاشر غصے سے بولا اور سالار کو پیچھے دکھلتا آگے چلا گیا ۔
کس نے ہاتھ بڑھایا ہے صرف پر سالار اس کے پیچھے آیا ۔
ہارون اور اسد نے کب کچھ کرو گے تم سالار کب آئے گی ہماری سیرت واپس آج مجھے کچھ بھی کرنا پڑا میں اپنی سیرت کو واپس لے کے آؤں گا ان درندوں کے بیچ میں نہیں چھوڑوں گا نہ جانے کتنی بار مار چکے ہوں گے حاشر کا غصے سے برا حال تھا
چلو میں بھی ساتھ چلتا ہوں اسے مزمل نےکو اشارہ کیا
ہم جو سب کچھ ایک ہفتے کے بعد کرنے والے تھے آج ہی کریں گے سیرت آج ہی واپس آئے گی ۔
جو حکم شاہ صاحب ۔
••••••••••••••••••••••
حاشر اور سالار اسد کے گھر داخل ہوئے جو کہ سامان پیک کر رہے تھے واپس جانے کے لئے
کہاں جانے کی تیاری ہے ہاورن صاحب آپ کو کیا لگتا ہے میں اس طرح سے آپ کو جانے دوں گا میری سیرت کو ساتھ لے کر وہ ان کے سامنے آ کر کھڑا ہوا
ایک پل کے لئے ہارون صاحب گھبرائے پھر بولے
ارے سالار سر آئیں نہ مرحا بیٹا سالار سرائے ہے ان کے لئے چائے بناؤ ہارون صاحب نے کہا
پہلے میری بہن پر ہاتھ اٹھاتے ہو پھر اس پر حکم چلاتے ہو حاشر نے غصے سے دھارا تھا
جب کہ ہارون صاحب یہ سوچ رہے تھے کہ یہ بات ان لوگوں تک کیسے پہنچی ۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں کچھ سمجھا نہیں ہارون نے بات سنبھالنے کی کوشش کی
تمیں تو سمجھاتا ہوں حاشر نے فورا اس عمر رسیدہ شخص کا کالر پکڑا ۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے میرے ابو جی سے اس طرح سے بات کرنے کی اسد کمرے سے نکل کر تیزی سے ان کی طرف آیا
کب سالار نے اس کی طرف بڑھتے ہوئے زور دارمکا اس کے منہ پر جاڑا۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری سیرت پر ہاتھ اٹھانے کی ۔
سالار نے ایک کے بعد ایک اسد کو مارنا شروع کر دیا ۔اسد بھی اپنا بچاؤ بھرپور طریقے سے کر رہا تھا
تبھی مرحا کمرے سے باہر نکلی ۔
ان دونوں کو اس طرح سے لڑتا دیکھ کر وہ بہت پریشان ہو چکی تھی ۔یہاں کیا ہو رہا تھا وہ خود سمجھ نہیں پا رہی تھی بھوکلاہٹ کی وجہ سے ہارون صاحب کی طرف جانے کی بجائے وہ حاشر کے سینے سے آ لگی ۔
بھائی روکےنہ یہ کیا کر رہے ہیں کیوں لڑرہے ہیں یہ دونوں وہ اونچی آواز میں کہتی حاشر کو ان دونوں کو روکنے کے لیے فورس کر رہی تھی
جبکہ حاشر کا سارا دھیان اس کے گال پر انگلیوں کے نشان پر تھا
تبھی اسد نے سالار کو دھکا دیا اور وہ شیشے کے میز سے جاٹکرایا ۔
سیرت دوڑ کر اس کے پاس آئی۔
سالار آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔کیوں مار رہے ہو ا نہیں ۔۔کیا دشمنی ہے تمہاری میری شوہر کے ساتھ ۔۔کون ہو تم
ہرحا اسد کو پیچھے کی طرف دھوکہ دیتی زور زور سے چلا رہی تھی ۔
اس کا سر بری طرح سے گھوم رہا تھا اگلے ہی لمحے اس کی آنکھیں بند ہونے لگی اس سے پہلے کہ وہ زمین پر گرتی سالار نے اپنی باہوں کا سہارا دیتے ہوئے اسے تھام لیا