228.5K
37

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Ik Lafz Ishq) Episode 28

سالار نے تو جیسے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ سیرت کی کسی بات کا برا نہیں منائے گا اسے ہرٹ نہیں ہونے دیگا ۔
وہ تو اس کا ہر حکم ایسے مان رہا تھا جیسی اس کا کوئی غلام ہو
سیرت کو اپنی ہی قسمت پر رشک آرہا تھا یہ سوچ کے کہ نہ جانے سیرت کون ہے جس سے یہ شخص اتنی محبت کرتا ہے
سیرت یار تمہیں پتا ہے نہ کے جب تک مجھے کوئی پلیٹ میں سرو نہیں کرتا تب تک میں کھاتا نہیں
پرانی عادت ہے یار للسب نوکروں کو تمہاری خوشی میں چھٹی دے دی پلیز تمہیں سروکر دو سالار نے منت بھرے لہجے میں کہا شاید اسے بہت بھوک لگ رہی تھی
میں آپ کو کھانا کیوں دوں آپ خود لے لیں میں کوئی نوکر نہیں لگی ہو آپ کی سیرت نے بدتمیزی سے منہ بنا کر کہا وہ بس سالار سے اپنی جان چھڑانا چاہتی تھی جو نہ تو اسے کمرے میں گھس کر بیٹھنے دے رہا تھا اور نہ ہی اکیلا چھوڑ رہا تھا
کھانا تو مجھے تمہیں دوگی جانو کیونکہ حکومت کی طرف سے آرڈر پاس ہے کہ قیدیوں کو کھانا حکومت دیتی ہے تم نے تو نہ جانے کب سے مجھے اپنی محبت میں قید کر رکھا ہے اب جلدی سے اس کے قیدی کو کھانا دو ورنہ یہ قیدی تمہیں کھا جائے گا ۔سالارزو معنی انداز میں کہتا ہو اسے محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا
سیرت نے است گھورتے ہوئے اس کے لیے کھانا نکالا فی الحال وہ اس کے ساتھ کوئی مستی تو نہیں کر رہا تھا لیکن اپنی باتوں اور نظروں سے زچ ضرور کر چکا تھا
سیرت اسے جو بھی کہتی وہ خاموشی سے برداشت کرتا ۔
•••••••••••••••
سیرت کو اپنے ناخنوں کا دکھ کھائےجا رہا تھا جہیں اس نج بڑی مشکل سے لسن لگا لگا کر لمبے کیے تھے ۔
اور سالار نے ایک ہی سیکنڈ میں کاٹ دیے ۔
وہ ٹی وی دیکھتے ہوئے اسی بات کا سوگ منا رہی تھی جبکہ سالار اس کے سامنے صوفے پر بیٹھا صرف اسی کو نہاررہا تھا ۔
نکمے ہیں کیا کام پر نہیں جائیں گے شاید وہ اس کی صورت دیکھ دیکھ کر تھک چکی تھی ۔
نہیں جاؤں گا آج کا سارا دن تمہارے نام تم جو چاہو گی وہ ہوگا ۔
بلکہ کل ہمارا نکاح تو شاپنگ پر چلتے ہیں سالار نے آفر کی ۔
نہیں جانا مجھے وہ غصے سے منہ پھیر گئی
کوئی بات نہیں ڈریس کے لئے آرڈر کر دیتے ہیں ۔سالار نے کہا
مجھے کوئی ڈریس نہیں لینی خدا کے لئے میری جان چھوڑدیں آخرآپ چاہتے کیا ہیں آپ نے میرے بھائی اور ابو جی تک کو جیل بھجوا دیا میں آپ سے نکاح کے لئے تیار ہو چکی ہوں اب خدا کے لئے تھوڑی دیر میری جان چھوڑ دیں ۔
اس بار سیرت اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر اکتائے ہوئے لہجے میں بولی
سالار کو دکھ ہوا ۔
وہ تو بس اسے اپنی محبت کا احساس دلا رہا تھا وہ کہاں جانتا تھا کہ سیرت کو اس کے ساتھ بیتایا ہوا کوئی لمحہ یاد ہی نہیں ہے ۔
سالار بنا کچھ بولے اٹھ کر جانے لگا ۔تو سیر ت کو اپنے لہجے کا احساس ہوا وہ اتنی بدتمیز تو کبھی نہیں تھی
اس کے قریب سے گزرتے اس نے سالار کا ہاتھ تھام لیا ۔
ایم سوری مجھے بدتمیزی نہیں کرنی چاہیے سیرت نے نظریں جھکا کر معصومیت سے کہا ۔
اور پھر سالار اسکی اس ادا پر ساری ناراضگی بلا کر پھر اس کے قریب بیٹھ گیا ۔
کوئی بات نہیں میری جان ۔میں جانتا ہوں کہ اس وقت تم ٹینشن میں ہو
ٹرسٹ می سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا پہلی جیسا خوبصورت وہ اس کے گال پر نرمی سے چٹکی کاٹتا اٹھ کر اندر جانے لگا
تمہیں تھوڑی دیر کیلئے اکیلا چھوڑ رہا ہوں اپنا مائنڈ اچھے سے تیار کرلو ۔
•••••••••••••••••
جتنی دیر سے اس کے قریب تھی سیرت کو یہ احساس ہو چکا تھا کہ سالار اس سے بے پناہ محبت کرتا ہے ۔
لیکن یہ ساری محبت اس کے لئے تو نہیں تھی وہ سب کچھ تو سیرت کے لئے تھا ۔
سالار اس کے ساتھ زبردستی شرط کی بنا پر نکاح کر رہا تھا وہ اس کے لیے اپنے دل میں نرم جذبات کیسے رکھ سکتی تھہ یہ سے سمجھ نہیں آرہا تھا
صبح کیوں اس کے زخم دیکھ کر سیرت کو تکلیف ہوئی کیوں اس کا خون دیکھ کر اسے رونا آ رہا تھا ۔
اس کی چوٹ اتنی بھی گہری نہیں تھی کیوں یہ گھر اسے اپنا لگتا تھا کیوں سالار کا اداس چہرہ وہ دیکھ نہیں پاتی تھی ۔
اگر وہ سیرت تھی تو اسے کچھ یاد کیوں نہیں آرہا تھا ۔
اس دن سا لار اور اسد کی لڑائی کے بیچ میں اس نے کیوں سالار کو اپنا شوہر کہا تھا ۔
سوچتے سوچتے اس کے سر میں بھی درد ہونے لگا تھا لیکن اسے یاد کچھ نہیں آیا
اسے سالار سے نفرت کرنی چاہیے اس سے دور ہونا چاہیے کہ کیوں اس سے نفرت نہیں کرپارہی سالار کی وجہ سے اس کا بھائی اور اس کے ابو جیل میں تھے جس کی شرط اس نے نکاح رکھی تھی تو کیوں اس کے دل میں سالار کے لیے جذبات پیدا ہورہے تھے
کیوں اس سے نفرت نہیں کر پا رہی تھی
جیسے کہیں دبی محبت کی چنگاری پھر سے جل اُٹھی ہو
••••••••••••••••••
انسپکٹر بولو تم نے مجھے یہاں کی بھولیا حاشر ابھی پولیس اسٹیشن آیا تھا یہاں سے اس کا سیدھا سیرت سے ملنےکیلئے جانے کا ارادہ تھا جب کہ منت اور پری مہراج اور آیت کے ساتھ نکل چکے تھے
سر یہ جو آدمی ہے اسد خان اس کا کہنا ہے کہ سالارشاہ کی بیوی کی جان خطرے میں ہے ۔
کوئی ہے جو اسے مارنا چاہتا ہے ۔
اب میں سمجھ نہیں پا رہا یہ سب بہانے ہیں یا واقع ہی کوئی ایسا ہے لیکن پھر میں یہ سوچتا ہوں کے سالار شاہ سے پنگا لینے کی ہمت کون کرے گا ۔
نہیں سالارکا توایسا کوئی دشمن نہیں ہے شاید یہ یہاں سے نکلنے کے بہانے ہوں کیونکہ ابھی تک سیرت کی یادداشت واپس نہیں آئی ہے کہ وہ خود کچھ بتا سکے ۔
لیکن پلیز تم بات کی تہہ تک جاؤ ہو سکتا ہے ایسا کوئی انسان ہو لیکن سالار کو اس بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے وہ اس معاملے میں بہت جذباتی ہے ۔یہ نہ ہو کہ وہ کچھ الٹا سیدھا کر دے
مجھے اسد اور ہارون صاحب سے ملنا ہے ہے حاشر نے کہا جی سر اس طرف پولیس والے نے اندر کی طرف اشارہ کیا تو حاشر آگے چل دیا
••••••••••••••••
حاشر اچھا ہوا تم آگے میں تم سے بات کرنا چاہتا ہوں دیکھو حاشر مانتا ہوں میں نے غلطی کی ہے مجھے سیرت کو میڈیسن نہیں دینی چاہیے تھی وہ تم لوگوں کی بہن ہی ہے وہ سیرت ہی ہے
لیکن کیا تم یہ نہیں جانا چاہو گے کہ میں نے یہ سب کچھ کیوں کیا اسد زخمی حالت میں اس کے سامنے بیٹھا پوچھ رہا تھا
دیکھو اسد تمہارا یہ احسان ہمارے لئے بہت ہے کہ تمہاری وجہ سے آج سیرت صحیح سلامت ہے اور میں تم لوگوں کو رہاہ کراوں گا یہاں سے لیکن اس کے بعد تم لوگ یہاں نہیں رہو گے بلکہ یہاں سے بہت دور چلے جاؤ کی سیرت اور سالار کی زندگی سے اتنے دور کہ سیرت کبھی یاد بھی نہ کر پائے
ٹھیک ہے ہم چلے جائیں گے حاشر لیکن پہلے میری بات سن لو یہ سب کچھ میں نے کسی لالچ میں نہیں کیا سیرت کو جھوٹی آڈینٹی میں نے اس کی جان بچانے کے لئے دی تھی ۔
اگر میں ایسا نہیں کرتا تو وہ لوگ سیرت کو مار ڈالتے ۔
نام بتاؤں حاشر نے کہا وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اسد بہانے بنارہا ہے یا سچ میں سیرت کی جان خطرے میں ہے
مجھے نام نہیں پتہ حاشر بس مجھے ایک فون آتا ہے دو الگ الگ آدمیوں کا ۔
جس میں ایک آدمی کہتا ہے کہ سیرت کبھی بھی سالار سے نہیں ملنی چاہیے تو دوسرا کہتا ہے کہ وہ سالار کو تباہ کردے گا ۔
میں نے بہت جاننے کی کوشش کی ان لوگوں سے ملنے کی کوشش کی لیکن نہ تو وہ لوگ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ مجھے اپنا نام بتاتے ہیں
یہاں تک کہ ایک بار میرے پاس پیسے نہیں تھے سیرت کے میڈیسن کے لئے ان لوگوں نے مجھے پیسے بھی سینڈ کیے تھے ۔
وہ لوگ مجھے دھمکیاں دیتے تھے کہ اگر میں نے کبھی بھی سیرت کو سالار سے ملنے دیا تو وہ لوگ اسے مار دیں گے ۔
مرحا کون ہے
شاید نہیں یقینا حاشر کو اس کی کسی بات پر کوئی یقین نہ تھا اسی لئے اس کی بات کاٹتے ہوئے اگلا سوال کیا
مرحا میری بہن ہے حاشر ۔میرے دشمنوں نے آگ لگا کر مار ڈالا میرے سامنے جل کر مر گئی میری بہن اور میں کچھ نہیں کر سکا میں دوسری بار اپنی بہن کو نہیں کھونا چاہتا حاشر خدا کے لئے اسے بچا لو کہتے ہوئے اسد کی آنکھوں سے آنسوؤںگرنے لگےے
۔کیونکہ وہ سمجھ چکا تھا کہ اس کی بات پر یقین نہیں کر رہا شاید اس کے آنسو پر یقین کر لے
تم لوگوں کو پرسوں یہاں سے آزاد کردیا جائے گا کل سیرت اور سالار کا دوبارہ نکاح ہے کیونکہ سیرت کو کچھ بھی یاد نہیں آرہا اس کے بعد تم لوگ اس سے دور چلے جاؤ گے ۔
تم لوگوں کو آزادی مل جائے گی اسی لیے یہ بہانے بنانے کی ضرورت نہیں ہے ۔
اگر سیرت کی جان خطرے میں ہے تو ہم سب اس کے محافظ ہیں یہاں ہمیں تم لوگوں کی ضرورت نہیں ہے
اگر تمہاری بات میں کوئی سچائی ہوتی اسدتوتم یہ بات ہمیں آکر بتاتے سیرت کے ولی وارث کو نہ کہ خود ہینڈل کرتے
حاشر اس سے کہتا وہاں سے نکل چکا تھا ۔
جب کہ اسد کے کسی بات پر اس نے کوئی یقین نہ کیا تھا سوائے اس کے کہ اس کی اپنی بہن آگ کی لپیٹ میں مر چکی ہے
••••••••••••••••••••
گڑیا یہ ڈریس دیکھو تم پر سوٹ کرے گا ۔
ارے نہیں یہ والا نہیں یہ سیرت یہ پہنے گی منت اور آیت ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے سیرت کے نکاح کا ڈریس سلیکٹ کر رہی تھی
جبکہ ان دونوں کی لڑائیاں دیکھ کر نہ جانے کیوں سیرت کو مزا آ رہا تھا ۔
سیرت تم بتاؤ دونوں میں سے کونسا زیادہ اچھا ہے سالار نے ایک سے بڑھ کر ایک ڈتیس آڑڈرکر دیےتھء جو سب ہی بہت خوبصورت تھے لیکن نہ جانے کیوں سیرت کی نظر باربار اس ڈریس کی طرف جا رہی تھی جو سالار الگ کرکے گیا تھا
لیکن اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ سالار کی کوئی بات نہیں مانے گی چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔
بولو سیرت یہ والا اچھا ہے یہ والا آیت نے پھر سے پوچھا ۔
جب منت نے اس کی نظروں کا زاویہ دیکھتے ہوئے بیڈ پر پری ڈریس کی طرف دیکھا جو ان سب سے زیادہ خوبصورت تھی
اوہو تو میڈم کی اس ڈریس میں نظر ہے ۔ٹھیک ہے گڑیاتم سالار بھائی کی پسند ہی پہن لینا ہم تو بس ایسے ہی دیکھ رہے تھے منت اس کی پسند جان چکی تھی
ارے نہیں مجھے نہیں پسند وہ والا ڈریس میں تو یہ والا پہنوں گی اس نے منت کے ہاتھ سے لیا
بلکل نہیں تم وہ ڈریس پہنو گی جو تمہیں پسند ہے منت نے اس کے ہاتھ سے ڈریس لے کر دور پھینک دیا ۔
ویسے مجھے پسند نہیں ہے لیکن آپ کہہ رہی ہیں تو وہیں پہن لوں گی سیرت کے دل میں اس ڈفیس کو لے کر گدگدی ہو رہی تھی لیکن وہ کہہ نہیں سکتی تھی
••••••••••••••••
کیا مطلب ہے اس بکواس کا سالار ان سب کے سامنے بیٹھا انہیں گھورتے ہوئے بولا
اس میں بکواس کیا ہے یار لڑکی ہمیشہ رخصت اپنے گھر سے ہوتی ہے اور سیرت اپنے گھر سے ہو گی اور ویسے بھی جب تم دونوں کی پہلے شادی ہوئی اس میں تو ہم میں سے کوئی شامل ہی نہیں تھا سوائے اس کمینہ کے حاشر فور مہراج کی طرف اشارہ کیا
ہاں یہ کمینہ شامل تھا اس نے کمینہ پن بھی دکھایا تھا سالار کو اپنے نکاح والے دن یاد آیا ۔
جب اچانک ہی مہراج اس کے ماں باپ کو لے کر حویلی آگیا تھا ۔
وہ سب سیرت کو پرانی باتیں یاد دلانے کی کوشش کر رہے تھے
خیر جوبھی ہے دیرت کہیں نہیں جائے گی وہ میرے پاس ن رہے گی اور کل یہی نکاح ہوگا وہ یہی سے میرے روم میں جائے گی سالار نے فیصلہ کیا
ارے گڑیا جلدی سے تیاری کرلو ہم جا رہے ہیں حاشر نے اس کی بات کو اہمیت دیے بغیر کہا ۔
شاید اس وقت وہ حاشر کی بات نہ مانتی اگر اسے سالار سے جانن چھڑوانی ہوتی وہ تو کب سے اسے نظروں کے حصار میں لیے کبھی گھورتا تو کبھی آنکھ دباتا ۔
سیرت فور اٹھی سیڑھیاں چڑھ گئی
پھر اچانک مڑی
سنیں سالار شاہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے
سالار کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا وہ اسے اکیلے میں بلا رہی تھی ۔
حکم میرے آقا ۔سالار بنا کسی کی پرواہ کیے اٹھ کر اس کے پیچھے چل دیا جبکہ اس کے اس طرح سے کہنے پر سیرت سب کے سامنے شرمندہ ہو کر رہ گئی
•••••••••••••
اس کے پیچھے کمرے میں آتے ہی سالار نے دروازہ بند کیا اور اسے کھینچ کر اپنے قریب کر لیا
یہ کیا کر رہے ہیں آپ سیرت نے اسے خود سے پرے دھکیلنے کی ناکام کوشش کی
جانم اب تم نے اتنے پیار سے مجھے اپنے پاس بلایا ہے تو پھر پاس بھی آنے دو وہ خمارآلود آواز میں بولتا اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپانے لگا
اس کے بالوں کک لینتھ اب اتنی لمبی نہیں تھی جتنی کے پہلے لیکن پھر بھی سالار کے ہوش اڑانے کے لئے کافی تھی
میں نے اس سب کے لئے نہیں بلایا مجھے بات کرنی ہے آپ سے سیرت اس کی باہوں میں قید کچھ کروانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی
جس بات کے لئے بھی بلایا ہے ٹیکسٹ تو لگے گا نا ۔وہ اس کے رخسار پر اپنے لب مس کرتے ہوئے بولا
مجھے کچھ نہیں کہنا چھوڑیں آپ مجھے سیرت سرخ ہو چکی تھی ۔
اب غصے سے یا شرم سے یہ فیصلہ کرنا سالار کے لئے مشکل تھا
بہت ظالم ہو تم یار ہو اس کے بالوں سے منہ نکالتا ہوا بدمزہ ہوکر پیچھے ہٹا
جلدی بولو ۔۔۔گویا اس نے سیرت کی ذات پر احسان کر کے پوچھا تھا
میں چاہتی ہوں میرے نکاح پے میرے ابو اور بھائی بھی شامل ہوں وہ یہ بات اسے بہت حکم دینے والے انداز میں کہنا چاہتی تھی لیکن اس کے سامنے ضد کرتے ہوئے نہ جانے کے اس کے لہجے میں معصومیت اور لاڈ بھر ایا
سالار کو ٹوٹ کر اس پر پیار آیا
جو میری جان کا حکم آجائیں گے وہ دونوں کمینے سالار چاہ کر بھی ان دونوں کے لیے نرمی اپنے لہجے میں نہیں لا پایا تھا
سچی سیرت خوشی سے اچھلتی یہ بھی بھول چکی تھی کہ اس کے بھائی اور باپ کو اس نے کن لفظوں میں مخاطب کیا تھا اور اچھلتی ایک قدم اس کے قریب آئیںخ
ہاں سچ لیکن خدا کے لئے مجھے اتنا پیار مت دکھاؤ میں بے لگام ہو جاتا ہوں پھر تمہیں ہی شکایت ہوگی وہ اسے اپنے اس قدر قریب دیکھ کر شرارت سے بولا
سیرت جھٹکے سے اس سے ایک دور قدم نہیں بلکہ دس بارہ قدم دور ہٹی
سالار اس کے اس طرح سے دور رہٹنے پر مسکرانا
ہائے کل کہاں جاؤ گی جانم وہ اسےدیکھتا کمرے سے باہر نکل گیا
بد تمیز ۔بےشرم ۔ڈھیٹ۔ بےلگام آدمی ۔وہ اس سے خطابات سے نوازتی باہر آئی جبکہ ان کے اس طرح سے باہر آنے پر
حال میں کھڑے آیت اور مہراج نے سیٹیاں بجا کر ان کا ویلکم کیا
سالار مسکراتے ہوئے باہر آیا جبکہ آیت کی نظروں نے سیرت کو اچھا خاصہ شرمندہ کردیا