Ik Lafz Ishq Season 2 By Areej Shah Readelle50341 (Ik Lafz Ishq) Episode 20
Rate this Novel
(Ik Lafz Ishq) Episode 20
کپڑے اسی کے ماپ کے تھے جیسے اسی کے لیے بنائے گئے ہوں وہ جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکلنا چاہتی تھی اس لئے چینج کیا اور باہر آئی
جب اپنا مطلب ہے تب کتنے جلدی تیار ہو گئی اور مجھے کتنا انتظار کرواتی تھی وہ مسکرا کر شکایت کرنے لگا
آپ نے کہا تھا کپڑے چینج کرو میں نے آپ کی بات مان کر کپڑے چینج کرلیے۔ آپ پلیز دروازہ کھلیں مرہاہ نے کہا
جانم کیک کون کاٹے گا ۔۔۔۔؟
سالار نے ٹیبل کی طرف بھی اشارہ کیا
آج تمہارا برتھڈے ہیں آخر سالار کی زندگی سے بھرپور مسکراہٹ قائم تھی
آپ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں اس سب کا کوئی فائدہ نہیں ہے میں سیرت نہیں ہوں آپ کی سیرت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس سے آگے کچھ نہ بولی کیونکہ وہ سمجھ چکی تھی اس آدمی کے سامنے کچھ بھی کہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے
اس کے بعد آپ مجھے نہیں رکوئیں گے اور یہ دروازہ کھولیں گے اس نے ہار مانتے ہوئے کہا تو سالار مسکرایا
جو حکم میری جان سالار سر کو خم دیتا ٹیبل کی طرف بھرا
اور نائف اس کے ہاتھ میں پکڑائی جو ناصرف مرہاہ نے فورا تھام لی بلکہ کیک بھی کاٹنے لگی
لیکن کیک کی طرف جاتا اس کا ہاتھ اچانک اس کی طرف مڑا جو سالار نے بروقت تھام لیا
میری جان مجھے پتا ہے تم یہ کر سکتی ہو تم پہلے بھی کر چکی ہو سالار کو وہ دن یاد آیا جب اس نے گاؤں میں سالار کے کندھے پر وار کر کے بھاگنے کی کوشش کی تھی
مرہاہ نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑوایا اور شرمندہ سی ہوکر پیچھے ہوئی
پلیز اب یہ شرمندہ ہونے والے ڈرامے کرنا بند کرو جلدی سے کیک کاٹو سالار نے اس کی شرمندگی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تو وہ غصے سے گھورتی کیک کاٹنے لگی
کٹ گیا آپ کا کیک مرہاہ نے چھڑی پھینکتے ہوئے کہا
اتنی دیر میں سالار نے اپنی جیب سے خوبصورت نازک سا پینڈیٹ نکالا
مرہاہ نے اسے گھور کر دیکھا گویا اب وہ اسے یہ بھی پہنانے والا تھا ۔
دیکھو ڈارلنگ تمہارے پاس باہر جانے کا بس یہی ایک راستہ ہے سالار نے اپنے ہاتھ موجود لاکٹ کی طرف اشارہ کیا ۔
۔ سالار نے مسکراتے ہوۓ اس کے بال کندھے سے ہٹائے بالوں کی لینتھ بہت چھوٹی ہوچکی تھی ۔
تم نے بال کیوں کاٹے تم جانتی ہو تمہارے بال دیکھ کر ہی تو مجھے تم سے محبت ہوئی تھی ۔
وہ شکایت کرتا ہوا لاکٹ اس کے گلے میں پہنا چکا تھا ۔
دیکھیں آپ اپنا وعدہ پور کریں مرہاہ نے اس کی طرف گھور کر کہا ۔
تو سالار نے اپنی جیب سے چابی نکال کر اس کے حوالے کردی اب اسے مزید نہیں تنگ کرنا چاہتا تھا ۔
چابی مرہاہ نے اس کے ہاتھ سے چھینے والی انداز میں لی اور دروازہ باہر کی طرف چلی گئی
••••••••••••••••••••••••••••
مرہاہ یہ کپڑے تمہاری تو نہیں ہیں بیٹا ہارون صاحب کا پہلا دھیان ہی اس کے کپڑوں گیا تھا
اس نے تو سوچا بھی نہیں تھا کہ باہر آتے ہی ہارون صاحب اس سے یہ سوال پوچھ لیں گے
جب کہ وہ تو اپنے گلے میں پہنا ہوا لاکٹ سب سے چھپانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
وہ ۔۔۔۔ابوجی ۔۔۔میں۔ ۔۔۔یہ۔ ۔۔۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے جب بھی کمرے سے نکلنے سے پہلے اس کا ارادہ سب کو سالار کے بارے میں بتانے کا تھا لیکن جانے وہ کیوں نہیں بتا رہی تھی ۔
وہ اس کے کپڑوں پر جوس گر گیا تو میں نے اسے دوسرے کپڑے دیے آیت نے کچن سے نکلتے ہوئے بتایا ۔
اور اس کے پیچھے ہی مہراج نکلا تھا جیسے سالار نے میسج کرکے یہ بتایا تھا کہ آیت کو کوئی بھی بہانہ بنانے کے لئے بول دینا ۔
اور اس کے کہنے کے مطابق تازہ ترین بہانہ آیت کی طرف سے حاضر تھا ۔
چلو سالار اب کیک کاٹو مہراج نے اس سے کہا تو وہ فورا ہی اٹھ گیا ۔پر کیک کاٹنے لگا ۔
وہ لوگ جتنی دیر وہاں رہے سالار کا دھیان مسلسل سیرت پر تھا جبکہ وہ اس سے بھی بہت گھبرائی ہوئی تھی اور سالار اس کی گھبراہٹ کو انجوائے کر رہا تھا
ان کے جانے کے بعد سالار بہت خوش تھا ۔اس کی خوشی کا سب نے ہی اندازہ لگا لیا تھا ۔
اس کے ساتھ ساتھ باقی سب کو بھی یقین آگیا تھا کہ وہ ان کی سیرت ہی ہے اور وہ بہت جلدی سے اپنے پاس واپس لے آئیں گے وہ اس میں وہ سب سالار کا ساتھ دینے کے لئے دل و جان سے تیار تھے ۔
•••••••••••••••••••••••••••
پھر ہاں جب سے گھر آئے تھے پریشان تھی اس کی پریشانی کو ہارون صاحب لوٹا گیا تھا ۔
وجہ پوچھنے پر اس نے یہی بتایا کہ پڑھائی کی وجہ سے وہ ٹینشن میں ہے بہت جلد اس کے کالج مجھے اسٹارٹ ہونے والے ہے ۔اس کے بہانے پر ہارون صاحب بے ریلیکس ہو گئے
اس نے سوچا تھا کہ وہ اسد کو سالار کے بارے میں سب کچھ بتا دے گی لیکن بہت چاہنے کے باوجود بھی وہ اسے کچھ نہ بتا پائی وہ کافی دیر اس کے پاس بیٹھی رہی جب اسد نے اسے چائے بنانے کے لئے کہا ۔
وہ چائے بنا کر لائی پھر یہ سوچ کہ اسد جانے اس بات پر کس طرح سے ریایکٹ کریگا وہ اسے کچھ بھی بتائے بغیر اپنے کمرے میں جانے لگی
گڑیا میڈیسن ضرور کھالے نا اسد نے سے جاتے دیکھ کر کہا ۔
نہیں بھائی ابھی نہیں کھاؤں گی ابھی تھوڑی دیر میں پڑھوں گی جس پارٹی میں جانے کی وجہ سے میں بالکل بھی نہیں پڑھ پائی
جیسی تمہاری مرضی گڑیا لیکن میڈیسن ضرورلیںنااسد نے کہا تو وہ مسکراتے ہوئے ہاں میں سر ہلاتی اندرچلی گئی
•••••••••••••••••••••••••••••
اسد مرہاہ سو گئی کیا ابوجی اس کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگے
نہیں ابوجی وہ بھی پڑھ رہی ہے اس کےٹیسٹ ہونے والے ہیں کہہ رہی تھی کہ آج دن میں بھی نہیں پڑھ سکی اس لیے اب پڑھ رہی ہے اسد نےمصروف انداز میں جواب دیا
ویسے اسد تمہیں کیا لگتا ہے سر سالار ان کی فیملی کے بارے میں میرا مطلب ہے ان کے گھر میں مرہاہ کی تصویریں ۔۔۔۔۔۔۔؟
ابوجی وہ مرہاہ کی تصویریں نہیں بلکہ ان کی سیرت کی تصویریں ہیں جو کہ مر چکی ہے سالار کو بس ایسا لگتا ہے کہ وہ زندہ ہے اور اسے شک ہے اس کا کہ مرہاہ ان کی سیرت ہو سکتی ہے اور ہم اسے غلط ثابت کریں گے اور میرے خیال سے سالار کو اب بھی یہی لگتا ہے کہ مرہاہ ہی اس کی بیوی ہے اس لیے اس نے ہمیں اپنے گھر بلایا تھا
مجھے تو بس ایک ٹینشن ہے ابو جی کے ان لوگوں کے پاس یہ ثبوت ہے کہ مرہاہ سیرت کی طرح دیکھتی ہے سیرت کی یادیں اس کی تصویریں لیکن ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں ہے ہم کبھی ثابت نہیں کر پائیں گے کہ وہ مرہاہ ہے سیرت نہیں ہمارے پاس اس کی ایک بھی پرانی فوٹو نہیں ہے
اسی لئے ہمیں کسی بھی طرح مرہاہ کو سالار اس کی فیملی سے دور رکھنا ہو گا ہمہیں مرہاہ کو سمجھانا ہوگا کہ وہ لوگ اتنے اچھے نہیں ہیں جتنے بن رہے ہیں
یہ سب ایک چال ہے ابو جی یہ لوگ بہت تیز ہیں وہ اتنے زیادہ امیر ہے کہ ہماری مرہاہ کو سیرت ثابت کرسکتے ہیں اور پولیس اور قانون بھی ہماری کوئی مدد نہیں کرے گا ابوجی ہمیں ہماری مرہاہ کو ان لوگوں سے دور رکھنا ہوگا ورنہ وہ لوگ ہماری مرہاہ کو ہم سے دور کر دیں گے وہ لوگ ہم سے ہماری بیٹی ہماری بہن چھین لیں گے بہت چالاک لوگ ہیں وہ اسد نے پریشانی سے کہا
لیکن ابو جی کوئی اس کی پریشانی بےمعنی لگ رہی تھی کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ سالار نے ان سے معافی مانگنے کے لیے ہی انہیں اس محفل میں بلایا ہے
وہ ان سے شرمندہ ہے اور اپنے کیے کی اور اس دن کے رویے کی معافی مانگنا چاہتا ہے لیکن اسد پریشانی دیکھ کر وہ اسے سمجھانا چاہتے تھے لیکن وہ جانتے تھے چاہے وہ اسے کتنا بھی کیوں نہ سمجھالیں وہ کبھی ان کی بات کو نہیں سمجھے گا وہ پہلے بھی اپنی بہن کو چکا ہے ۔اب دوبارہ مرہاہ کو کبھی مجھ سے دور نہیں جانے دے گا
••••••••••••••••••
میں نے تم سے کیا کہا تھا وہ لڑکی سالار شاہ کے پاس نہیں پہنچی چاہیے وہ لڑکی سالار شاہ کی محفل میں کیا کر رہی تھی۔
سالار اس سے معافی مانگنا چاہتا تھا اس لیے
اوجسٹ شٹ اپ۔ایک بات کان کھول کر سن لو تم اگر وہ لڑکی دوبارہ سالار شاہ سے ملی تو اسی وقت ماری جائے گی ۔اٹس یور لاسٹ وارینگ
نہیں نہیں پلیز آپ ایسا نہ کریں اب وہ سالار شاہ سے کبھی نہیں ملے گی ۔میں اسے سالار سے نہیں ملنے دوں گا اسد نے گھبراتے ہوئے جواب دیا ہوئے جواب دیا
•••••••••••••••
فون کروں یا نہ کروں بات کرنے کا دل تو بہت کر رہا ہے آج پہلے ہی وہ میری وجہ سے بہت غصہ ہے تو کیا ہوا میری بیوی ہے میں جب چاہے سے بات کر سکتا ہوں
وہ سوچتے ہوئے فون اٹھا چکا تھا اس نے فون ملا تو آگے سے کسی نے فون نہیں اٹھایا اس نے گھور کر فون کو دیکھا جیسے سیرت کو گھور رہا ہو۔لیکن بہت محبت سے
اس نے ڈھیٹوں کی طرح بار بار فون کرنا شروع کر دیا لیکن سیرت بھی اپنے نام کے ایک تھی اس نے فون نہیں اٹھایا ڈارلنگ یہ تم نے دوسری بار بہت بڑی غلطی کر دی اب تو میں آؤنگا ملنے
سالار نے اتنی زور سے اپنے سے کمبل ہٹایا کہ وہ زمین بوس ہوگیا تھا
