Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episosde 12
No Download Link
Rate this Novel
Episosde 12
زویا چاۓ لے کر سیدھی نائلہ کے کمرے کی طرف گئی جو کہ اوپری منزل پر تھا۔ وہ ٹرے لیے کمرے کے اندر داخل ہوئی۔۔
یہ چاۓ وہ اندرداخل ہوتے ہی بولی۔۔۔دعا جو کہ صوفے پر بیٹھی نائلہ سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔ زویا کی آواز پر پلٹی۔ زویا نے آگے بڑھ کر چاۓ کی ٹرے میز پر رکھی اور ایک کپ پکڑ کر دعا کی طرف بڑھایا۔۔۔جو اسنے خاموشی سے پکڑ لیا۔وہی دوسرا کپ اسنے عائلہ کی طرف بڑھایا۔۔
آہ۔۔۔۔۔ زویا زور سے چلائی اور کپ ہاتھ سے چھوڑ دیا۔
آہ۔۔۔۔۔ عائلہ کی چیخ نکل گئی۔۔گرم چاۓ کا کپ اس پر گر گیا تھا۔
مجھے معاف کیجیے گا۔ میں پکڑانے لگئی تھی۔ پر میرے ہاتھ پر چاۓ گڑ گئی جس کی وجہ سے میں نے کل چھوڑ دیا۔ اور سارا آپ پر گڑ گیا۔۔۔۔زویا روتا ہوا منہ بنا کر بولی۔۔۔
کوئی بات نہیں زویا بیٹے میں ٹھیک ہوں۔ میں کپڑے تبدیل کر کے آتی ہوں۔۔۔ عائلہ اُٹھ کر الماری کی طرف بڑھی اور کپڑے نکال کر واشروم میں گھس گئی۔۔۔
دعا آپی کیسی ہیں؟ زویا صوفے پر بیٹھے ہے دعا کے گلے لگتے ہوۓ آہستہ اواز میں بولی۔۔۔
میں ٹھیک ہوں پر زویا تم اس حالت میں یہاں کیا کر رہی ہو۔۔ مجھے تو حویلی آتے ہوۓ حازم نے میسج پر بتایا کہ تم وہاں پر ہو گئی تو تمہیں نا پہنچانوں۔ پر یہ سب میرے سر سے گزر رہا ہے۔۔ دعا پریشان سا چہرہ بنا کر بولی۔۔۔۔
آپ زیادہ مت سوچوں حازم سے پوچھ لیجیے گا وہ خود بتا دیں گے۔آپ مجھے بتاؤ تایا ابو،تائی ماں سراج، سیرت منت اور میری مانو سب کیسے ہیں۔۔ زویا پوچھتے پوچھتے افسردہ ہو گئی۔۔۔۔
سب ٹھیک ہیں پر تم مجھے ایک بات بتاؤ۔ سراج نے تو بولا تھا۔ تم پچھلے ایک سال سے لندن میں ہو ڈاکٹری پڑھ رہی ہو تو یہ سب کیا ہے؟ دعا ابھی بھی اسی کنفیوین میں اٹکی ہوئی تھی۔۔۔۔
آپی یہاں کچھ مت بولو کوئی سن لے گا۔۔ نائلہ آپی اندر ہی ہیں۔ آپ حازم سے پوچھ لیجیے گا۔وہ بتا دیں گے۔۔۔ زویا اسے چپ کرواتے ہوۓ بولی۔۔دعا نے سر ہان میں ہلا دیا۔۔۔
مانو تو بری ہو گئی ہو گی۔ وہ روتی تو نہیں۔ ویسے سال ہو گیا ہے بھول ہی گئی ہو گی۔۔۔وہ سوچتے ہوۓ بولی۔۔اور آخر میں افسردہ ہو گئی۔۔۔
ارے ایسی بات تو نہیں ہے۔ یہ دیکھو میں اس دن سراج کے ساتھ گھر گئی تھی۔ تو تمہارے کمرے میں تمہارے بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔ وہ روز وہی سوتی ہے۔ آخر تمہارے ساتھ پانچ سال رہی ہے۔ دعا اپنے موبائل سے ایک تصویر نکال کر دیکھاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
ارے میری مانو زویا تصویر دیکھ کر ایموشنل ہو گئی۔ مانو اسکی بلی تھی۔ جو پانچ سال سے اسکے ساتھ تھی۔۔۔۔
ایک بریکنگ نیوز بھی ہے۔ تمہیں پتہ سراج کو محبت ہو گئی ہے۔۔اور جس لڑکی سے ہوئی ہے۔ کل اسے ملوانے والا ہے۔۔۔ دعا اکسائیڈ ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
واؤ بری بات ہے۔۔نام کیا ہے۔۔۔زویا واشروم کا دروازہ دیکھتے ہوۓ بولی۔۔
مجھے یاد تھا۔ آمنہ، نہیں آرزو، ارے نہیں اری۔۔۔۔۔۔۔ابھی دعا بولتی اس سے پہلے واشروم کے دروازے کے کھلنے کی آواز آئی۔زویا جھٹ سے ٹرے میں کپ رکھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔اور باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔دعا دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔پر نائلہ کو واشروم سے نہا کر نکلتے ہوۓ دیکھ کر سمجھ گئی۔۔۔۔
تم اوپر کیا کر رہی تھی۔ زویا چلتی ہوئی نیچے جا رہی تھی۔ جب سیڑیوں سے چڑھ کر آتے ہوۓ ماجد نے پوچھا۔۔۔
جی وہ مہمانوں کے لیے چاۓ لے آئی تھی۔ زویا نظریں نیچے رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
تو کیا اپنے ہاتھوں سے مہانوں کو چاۓ پلانے لگ گئی تھی۔ چلو نیچے دوبارہ چاۓ بناؤ۔ اور ٹیوی لونج میں کپ لے کر آؤ۔ خود آنا۔۔۔۔۔ماجد خود پر زور دے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
میرا تو دل کرتا ہے۔ ان کا چہرہ بگاڑ دوں۔زرا برابر بھی پسند نہیں۔ جاہل۔۔۔۔وہ غصے میں خود سے باتیں کرتی نیچے کیچن کی طرف بڑھی اور چاۓ بنانے لگی۔۔۔
التمش حویلی واپس آنا تو نہیں چاہتا تھا۔ پر اپنی ماں کا سوچ کر وہ حویلی واپس آ گیا۔ وہ جانتا تھا سب صائمہ بیگم کے سامنے ہی اسکی برائیاں جر رہے ہوں گے۔ جس سے انہیں بہت دکھ پہنچ رہا ہو گا۔۔۔
جیسے ہی وہ داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔۔کانوں میں سب کے قہقہوں کی آوازیں پڑیں۔ سب حازم کی کسی بات پر ہنس رہے تھے۔وہ اس وقت کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اور نا اپنی ماں کو چہرے کے زخم دیکھانا چاہتا تھا
ہمممم ہوا میں سانس خارج کرتے ہوۓ وہ سیدھا سیڑیوں کی طرف بڑھا۔
شکر ہے تم خود ہی واپس آ گے۔ ویسے مجھے لگا تھا ایک دو ہفتہ تو تم اپنی شکل نہیں دیکھاؤ گے۔ ماجد طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
التمش مزید کسی غیر کے سامنے اپنے خاندان کی بے عزتی نہیں کروانا چاہتا تھا بنا جواب دیے اگے بڑھا۔۔۔
لیکن پھر سوچا ہو گا۔ کہی دادا جان جائیدادا سے عاق ہی نا کر دیں۔ برے بھائی کو نا سب مل جاۓ تو چلو واپس چلتا ہوں۔ سب کو منا لو گا۔۔ ماجد طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔التمش کے پاؤں وہی پر تھم گے۔۔۔۔۔۔
رک کیوں گئی چاۓ لے کر یہاں آؤ۔ ما جد بولا۔۔۔چاۓ کی بری سے ٹرے پکڑے زویا چلتی ہوئی آ رہی تھی۔۔ کہ التمش کو دیکھ کر وہی رک گی۔۔وہ پچھلی دو دفع کی وارنگ بھولی نہیں تھی۔۔۔
التمش جو کہ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کے لیے بالوں میں ہاتھ پھیر رہا رھا تھا۔ ماجد کی آواز سن کر اس نے گردن گھوما کر دیکھا تو زویا اُڑی رنگت کے ساتھ اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔التمش کی آنکھوں سے انگاڑے برسنے لگے۔۔ زویا پلٹنے لگی۔۔
اوۓ ایک دفع سنائی نہیں دیا چاۓ لاؤ۔ ماجد دوبارہ سے چلایا۔۔۔۔حازم نے غصے سے مٹھیاں بند کر لیں۔
التمش نے سرخ انکھوں سے ایک دفع ماجد کو دیکھا۔سامنے سے وہ طنزیہ انداز میں ہنس رہا تھا۔ وہ وہی پر پلٹ کر زویا کی طرف گیا۔۔۔
اپنے کمرے میں جاؤ فوراً التمش نے چاۓ کی ٹرے اسکے ہاتھوں سے پکڑے۔ اور سخت لہجے میں بولا۔۔۔ زویا کی نظر اس کے چہرے پر لگے زخموں پر پڑی۔ نظریں ہٹاتے وہ پلٹی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔التمش پلٹ کر ان سب کی طرف آیا۔ جو کہ یہ سب اسیے غور سے دیکھ رہے تھے جیسے سامنے فلم لگی ہو۔۔۔۔
التمش چلتا ہوا ان سب کے پاس آیا۔ اور ہاتھوں میں پکڑے ٹرے کو سامنے شیشے کے ٹیبل پر زور سے رکھا۔۔ جس سے ماحول میں ارتعاش پیدا ہوا۔ اور کپوں میں سے چاۓ جھلک کر ہلکی سے باہر گڑی۔۔۔۔
آئندہ زویا سے تمیز سے بات کرنا ورنہ میں بھول جاؤ گا کہ آپ میرے کیا لگے ہو۔۔۔انگلی اُٹھا کر سخت لہجے میں ماجد کو وارنگ دی۔۔۔۔
تم ہوتے کون ہو مجھے دھمکی دینے والے۔۔۔۔۔ماجد بھی اپنی جگہ سے کھڑا ہو کر اسکے مقابل آ گیا۔۔۔۔
بس ماجد۔۔۔۔۔۔التمش اپنے کمرے میں جاؤ۔خالد صاحب کی آواز گھونجی۔۔۔۔التمش ایک پل ماجد کو گھور کر واپس پلٹ گیا۔۔۔۔اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔ماجد اپنے غصےکو کنٹرول کر کے بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
حازم بھی کچھ دیر بیٹھ کر دعا کے ساتھ حویلی سے نکل گیا۔ ماجد نے اسے ڈنر کے لیے روکنے کی کوشش کی پر وہ معزرت کر کے آ گیا۔۔۔۔۔۔
حازم سر مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی یہ سب کیا ہو رہا تھا۔ دعا جو کب سے چپ تھی۔ اب مزید اسے چپ نا رہا گیا۔۔۔
کچھ نہیں تم اپنے چھوٹے سے دماغ کو مت چلاؤ۔ ڈرائیور گاڑی تیز چلاؤ۔ مجھے آفس میں کچھ کام ہے۔ ۔حازم گھڑی دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی۔ وہاں زویا بول رہی تھی۔ آپ سے پوچھ لوں اور یہاں آپ کچھ بتا ہی نہیں رہے۔۔ وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔۔
تم ان سب میں نا پڑو۔ جب ضرورت ہو گئی میں خود بتا دوں گا۔۔ حازم بول کر موبائل میں میلز چیک کرنے لگ گیا۔ دعا جانتی تھی اب پوچھنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں تو خاموش ہو کر باہر کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
زویا ڈنر لگانے کے لیے کمرے سے باہر نکلی تھی۔ ڈنر کے بعد اسنے سارے برتن صاف کیے۔۔ نا چاہتے ہوۓ بھی اسے یہ سب کام کرنے پڑ رہے تھے۔۔ لڑنے کو تو وہ لڑ سکتی تھی۔ پر وہ اپنا سارا دھیان اب اپنے اصل مقصد کی طرف لگانا چاہتی تھی۔
سب نے ڈنر کر لیا تھا سواۓ التمش کے زویا کیچن کی لائٹ آف کر کے کمرے مین آ گئی۔۔سامنے بی جی سو رہیں تھیں۔ وہ چلتی ہوئی الماری کی طرف آئی۔ اور اپنا موبائل نکالا کر واشروم میں آ گئی۔۔۔
ہیلو حازم کیسے ہو؟ زویا آہستہ آواز میں بولی۔۔۔۔
ٹھیک نہیں ہوں۔ آج بھی دو گھڑی تم سے بات نہیں کر پایا۔۔۔۔
حازم تمہیں ہو کیا گیا ہے تم یہ سب کیا کر رہے ہو۔ مجھے صاف صاف بتاؤ۔ یہ گاؤں میں فیکٹری لگانا تو ہمارے پلین میں شامل نہیں تھا۔۔ زویا غصے سے بولی۔۔۔۔
ہاں نہیں تھا پر میں نے اور ڈیڈ نے شامل کیا ہے۔ تا کہ میں وہاں تمہارے آس پاس رہوں اگر کوئی مسلہ ہو تو میں پاس ہی رہوں۔ حازم بولا۔۔۔۔
واہ بہت اچھے اور تمہیں کیا لگتا ہے۔ اگر تم بلاوجہ بار بار اس حویلی میں آؤ گے تو کسی کو شک نہیں پڑے گا۔ زویا طنزیہ انداز مین بولی۔۔۔
اسی لیے تو ماجد کو اپنا دوست بنایا تا کہ با آسانی وہاں پر ا جا سکوں تمہاری ایک جھلک دیکھ پاؤ۔ وقت وقت پر میں ماجد کے دل میں التمش کے خلاف زہر بھی ڈالوں گا۔ حازم مسکرا کر بولا۔۔۔
واٹ حازم ہمارا ٹاگٹ جہانگیر خان اور خالد خان ہے نا کہ التمش اور ماجد مجھے ان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جنہوں نے جرم کیا ہے انہی کو سزا دینی ہے۔ اور التمش تو اچھا انسان ۔۔۔۔
شٹ اپ زویا خبردار جو التمش کو اچھا بولا۔ اور ٹاگٹ کی بات تم کر رہی ہو۔ تو یہ مت بھولو سب سے پہلے تم ہی التمش کو پھسانے کا کام کر رہی تھی۔۔ وہ ملاقاتیں اتفاق نہیں تھیں۔ تم نے خود کرئیٹ کی تھی۔ تا کہ اپنے حسن سے اسے اپنی محبت کے جال میں پھسا سکو۔۔تاکہ حویلی میں آنا جانا آسان ہو سکے۔۔ اور میڈیم یہ آئیڈیا میرا نہیں تمہارا ہی تھا۔۔۔ بس اس میں شادی شامل نہیں تھی۔ بری آئی مجھے سمجھانے والی۔۔۔۔ وہ طنزیہ انداز میں زویا کو آئینہ دیکھا رہا تھا۔
حازم ملک یہ سب مین مقصد کو پورا کرنے کے لیے کی کر رہی تھی۔
اچھا کسی کو جھوٹی محبت میں پھسانا کوئی جرم نہیں۔ اور میں جو دونوں میں درار ڈال رہا ہوں وہ غلط ہے۔۔۔واہ زویا واہ ۔۔۔۔۔
فائن میں نے ایسا کیا پر تم یہ سب کیوں کر رہے ہو۔۔۔زویا چڑ گئی۔۔۔
کیوں کہ اسنے میری زویا پر نظر ڈالی ہے۔ اور مجھے یہ سب برداشت نہیں۔ تم ا بھی بھی اسی کے بارے میں سوچ رہی ہوکبھی میرے بارے میں سوچاہے۔۔۔۔اپنی منگیتر اور محبت کو کسی اور کے نام سے جڑرے دیکھ کر کتنی تقلیف ہوتی ہے۔۔۔ دل پر چھڑیاں چلتی ہیں۔ جب سوچتا ہوں تمہارے نام کے آگے اس کا نام جُڑا ہے۔ حازم چلاتے ہوۓ بولا۔۔۔
فائن جو کرنا ہے کرو۔ بھاڑ میں جاؤ۔۔۔ زویا نے غصے سے کال کاٹ دی۔۔اور موبائل اف کر کے واشروم سے باہر نکل آئی۔۔۔
آج جو باتیں حازم نے کی تھی۔ اسے سوچ کر زویا کو اپنا اپ بہت چھوٹا لگنے لگا۔۔۔ جب کمرح میں گھٹن سے محسوس ہونے لگی تو اپنے گرد ڈوپتہ لے کر وہ کمرے سے باہر نکل آئی۔۔وہ چلتی ہوئی گارڈن ایریا کی طرف آئی۔۔۔پاؤں سے چپل نکال کر وہ رات کے اس پہر گیلے گھاس پر چلنے لگی۔۔۔۔۔
اسے وہ سب یاد آنے لگا۔ جب اس کی ملاقات التمش سے ہوئی تھی۔۔۔وہ سب اس کا پلین تھا۔وہ پچھلے ایک سال سے زلیخہ بی کے گھر رہ رہی تھی۔ زلیخہ بی کو سلطان ملک نے پیسے دیے تھے۔ انہوں نے گاؤں میں یہ بتایا کہ روحان اور زویا دونوں جرواں تھے۔ پر انہوں نے اپنی بہن کے کہنے پر اسے زویا دے دی کیونکہ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اب ان کی بہن کا انتقال ہو گیا تو وہ زویا کو واپس لے آئیں۔۔ اس کے بعد زویا ان کے پاس رہنے لگی۔۔۔آمنہ سے اسکی دوستی یوہنی ہو گئی۔ اس نے گاؤں میں رہ کر حویلی والوں کے ہر بندے کے متعلق ساری انفارمیشن اکھٹی کی۔ اسے التمش کے بارے میں ہر چیز پتہ تھی۔۔وہ کب ڈیرے پر جاتا ہے۔ اس کی پسندیدہ نا پسندیدہ ہر چیز اسے معلوم تھی۔ اس حویلی میں کسی گاؤں والے کو آنے کی آجازت نہین تھی۔
التمش کو اپنی محبت کے جال میں پھسانے کا پلین زویا کا تھا۔ وہ جانتی تھی وہ اتنی خوبصورت ہے کہ التمش کو اپنا دیوانہ بنا سکتی ہے۔ اور اگر اس کے دل میں جگہ بنانی ہے تو کطھ الگ کرنا ہو گا۔۔۔جا سے وہ اسکی نظر میں آۓ۔ اور وہی اس نے کیا۔ اسنے اس سے بحث کرنا شروع کی اسے لگا اسی طریقے سے التمش اسکے بارے میں سوچے گا۔ اور زیادہ ملاقاتیں ہوں گئی تو شائد جو وہ سوچ رہی ہے وہ پورا ہو جاۓ ان سب میں نکاح کہی بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔ جب روحان والا معملا ہوا تب زویا بے زلیجہ بھی کو کمرے میں لے جا کر سمجھایا۔ کہ وہ یہ نکاح کرے گئی۔ اور ایک خط لکھ کر انہیں تھما دیا۔۔۔جو انہوں نے بعد میں سلطان صاحب کے پتے پر پارسل کر دیا۔۔۔۔
میں جانتی ہوں۔ وہ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔ پر جو میں نے کیا کیا وہ ٹھیک تھا؟ وہ چلتے ہوۓ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔
افکورس سہی تھا۔ تم نے بس اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایک کوشش کی تھی وہ کونسا پوری ہوئی ہے۔۔۔۔التمش سے نکاح تو بائی چانس ہوا ہے۔ اسے اندر سے آواز آئی۔۔۔۔
بالکل ٹھیک یہ حازم پاگل ہو چکا ہے۔ بلاوجہ التمش پر وقت ضائع کر رہا ہے۔۔۔۔۔اس نے اپنے اپ کو تصلی دی۔۔ کہ اسنے جو کیا وہ ٹھیک تھی۔۔۔
تم اتنی ٹھنڈ میں بنا چپل اور چادر کے یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔وہ چل رہی تھی جب اچانک اپنے پیچھے التمش کی آواز آئی۔۔۔۔
کچھ نہیں بس یونہی اندر گھٹن سے ہو رہی تھی تو سوچا باہر آجاؤ۔۔ زویا پلٹ کر بولی۔۔۔۔
جانتا ہوں یہ سب بہت مشکل ہے پر مشکلوں سے لڑنے کی بجاۓ اگر خود کو نقصان پہچاؤ گئی۔ تو ہار جاؤ گئی۔ تمہاری زندگی اچانک یوں بدل گئی تو پریشان تو ہو گئی۔ اپنے آپ کو تقلیف دینے سے زندگی میں کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ الٹا انسان خود پہلے سے زیادہ ٹوٹ جاتا ہے۔۔ التمش آگے بڑھا اور اس کے کندھے پر گڑا ڈوپٹہ اُٹھا کر اچھے سے سر پر دیا۔اور ساتھ ہی اپنے کندھوں پر پڑے اجڑک کی چادر اس کے کندھوں پر اُڑائی۔۔۔زویا یک ٹک اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔وہ انسان اسکے لیے فکر مند تھا جسے وہ کچھ دن پہلے وہ یوز کر رہی تھی۔۔۔۔
زیادہ مت سوچو۔ سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ بہت جلد میں تمہیں اس ان چاہے رشتے اور ونی کے ٹیگ سے آزاد کروا دوں گا۔۔۔ پر اسکے لیے تھوڑا وقت لگے گا۔ چلو شاباش اپنے کمرے میں جا کر سو جاؤ۔ وہ اسکے جھکے ہوۓ سر کو دیکھ کر بولا۔۔۔۔زویا اگلے ہی پل چپل پہن کر اپنے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔
کمرے میں آ کر اسنے لمبے لمبے سانس لیے۔۔۔۔
نہیں زویا تمہیں مظبوط رہنا ہو گا۔۔تم نے جو کیا وہ سب ٹھیک تھا اور اگے بھی جو کرو گئی وہ ٹھیک ہو گا۔ وہ اپنے آپ سے بولی۔۔۔
ہاں بولو کیا مسلہ ہے کیوں بار بار فون کر رہی ہو۔ ماجد کھڑی کے پاس کھڑا ہو کر فون پر بات کر رہا تھا
وہی جو آپ سن رہے ہیں۔ میں ماں بنے والی ہوں۔ اور بچہ دو مہنے کا ہے۔ آگے سے روبینہ کی آواز آئی۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ ابھی کے ابھی جاؤ ہسپتال میں اباوشن کروا کر آؤ۔ماجد غصے سے بولا۔۔۔
کیا اباوشن ماجد آپ کیا بول رہے ہیں یہ ہمارے پیار کی نشانی یے۔۔۔میں ایسا کیسے کر سکتی ہوں ۔۔۔بالکل نہیں میں اپنے بچے کو بالکل بھی نہیں ماروں گئی۔۔روبینہ روتے ہوۓ بولی۔
تمہارا دماغ خراب ہو چکا ہے۔۔تم دنیا کی نظر میں کنواری لڑکی ہو۔۔اب بچہ پیدا کروں گئی۔۔۔۔ ماجد کو بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی اس نئی مصیبت سے کیسے نکلے۔۔۔۔
ماجد۔۔۔۔ اپ مجھ سے نکاح کر لیں پلیز۔۔۔۔۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
اف۔۔۔۔۔ میں دو گھنٹے میں شہر پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔ تم فلیٹ پر آؤ۔۔۔۔ماجد نے بول کر کال کاٹ دی۔۔اور پلٹا۔۔۔۔
سامنے عائلہ سائرہ کو گود میں لیے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ ماجد اگنور کر کے آگے بڑھا۔۔
اس سے نکاح کر لیں۔۔ بچے کو مارنے کا جرم مت کیجیے گا۔۔۔۔ نائلہ نے کیسے بول یہ وہی جانتی تھی۔۔۔۔
میرے معملات سے دور رہو۔ اور خبردار اگر کسی کو پتہ چلا۔۔۔ایک منٹ نہیں لگاؤ گا چوٹی پکڑکر اس حویلی سے باہر نکال دوں گا۔۔۔۔۔ ماجد غصے سے بول کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔پیچھے بھیگی آنکھوں سے نائلہ اسے جاتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔۔۔تبھی سائرہ کے رونے کی آواز آئی۔۔۔۔تو وہ اپنی آنکھیں صاف کر کے اسے چپ کروانے لگی۔۔۔۔
کبھی کبھی زندگی وہ امتحان لیتی ہے۔ جس کی تیاری ہم نے بالکل نہیں کی ہوتی۔۔ اور اگر وہ امتحان محبت کا ہو اور ہو بھی یک طرفہ تو امتحان دیتے ہوۓ حل کرتے دل پھٹتا ہے۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
