Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

اریشہ پلیز چپ یو جاؤ۔۔۔اتنا مت رو۔ فون کے اسپیکر سے سراج کی آواز گھونجی۔ تین بجے کا وقت تھا۔ وہ روۓ جا رہی تھی۔ سراج کو دوپہر میں اس کے بھائی کے انتقال کا پتہ چلا۔۔۔اس نے بہت بار کال کی پر موبایل بند جا رہا تھا۔۔ سب اپنے اپنے کمروں میں تھے۔ ماہ رخ بیڈ پر سوئی ہوئی تھی۔۔ اریشہ واشروم میں جا کر اس سے بات کر رہی تھی۔بات کم رو زیادہ رہی تھی۔۔۔۔

کیسے نا روِں ہم دونوں بچپن سے ایک ساتھ رہے تھے۔ایسے کیسے اچانک وہ چھوڑ کر چلا گیا۔۔۔مجھے ابھی اس کے ساتھ بہت باتیں کرنی تھیں۔۔۔وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

میری جان رونے سے کچھ نہین ہو گا۔۔۔وہ واپس نہیں آ جاۓ گا۔ تم بس نماز پڑ کے اس کی مغفرت کی دعا کرو۔۔۔۔۔سراج اتنی دور بیٹھ کر بس اسے حوصلہ ہی دے سکتا تھا۔۔وہ جانتا تھا اریشہ اپنے بھائی سے بہت اٹیچ تھی۔۔۔

آپ ایسا بول سکتے ہیں کیونکہ آپ کے ساتھ ایسا ہوا نہیں۔۔۔۔۔جب ہو گا تب پتہ چلے گا۔۔۔وہ بنا سوچے سمجھے بولے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔دوسری طرف سراج چپ کر گیا۔۔۔۔

۔بہت کچھ اس کی آنکھوں کے سنے سے گزرا۔۔۔۔درد سے اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔۔

اریشہ چلو اُٹھو وضو کر کے نماز پڑھو اپنے بھائی کے لیے دعا کرو۔۔۔۔۔۔وہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔۔۔

میں تو اب بس ان لوگوں کی موت کی دعا کروں گئی جن کی وجہ سے میرا چاند سا بھائی چلا گیا۔۔۔ اس کی بہن کا جینا حرام کر دوں گئی۔۔ وہ غصے سے بھری ہوئی آواز میں بولی۔۔۔۔

بہن کا کیا مطلب؟ سراج حیرانگی سے بولا۔۔۔۔۔

کچھ نہیں اللہ حافظ۔۔۔۔۔اس نے بنا جواب دیے فون کھٹاک سے رکھ دیا۔۔

یہ کیا بول رہی تھی۔۔۔۔کہی اب بھی اس گاؤں میں ونی۔۔۔۔۔ٹائپ کی چیز موجود ہے۔۔۔۔۔وہ پریشانی سے سوچنے لگا ۔۔۔۔۔۔

********************

تمہیں اس کی بہن نہیں ہونا چاہیے تھا زویا احمد وہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے نیچے ٹھنڈی زمین پر بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔

اب تمہیں اپنے بھائی کے گناہوں کی سزا بھگتنی پڑے گئی۔۔ اگر تمہیں تقلیف ہو گئی۔تو تمہاری بھائی کو بھی ہوگئی۔۔میں تمہیں اتنی تقلیف دوں گا۔۔۔۔تمہیں اس کیبہن ہونے پر پچھتاوا ہو گا۔۔۔اس نے ۔۔سگرٹ جلا کر اپنے منہ سے لگایا اور اس کا دھوا ہوا میں چھوڑتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔

تم تو اس سے محبت کرنے لگے تھے تو اب کیسے اس ہر ظلم ہوتے ہوے دیکھو گے۔۔۔۔۔اندر سے کہی اسے آواز سنائی دی۔۔۔۔۔

بالکل بھی نہیں مجھے اس سے کوئی محبت نہیں تھی۔۔۔۔اس نے بس اپنی نیلی آنکھوں سے مجھے شکار کرنا چاہا تھا۔۔۔وہ اپنے ضمیر کی نفی کرتے ہوۓ بولا۔۔۔

ہاہاہا بہانے بناؤ۔۔۔لیلن تم جانتے ہو وہ تمہاری نس نس میں بس چکی تھی۔تم نے اسے بنا دیکھے محبت کی تھی ۔۔دنیا کی ہر چیز مٹ سکتی ہے۔۔پر ایک دل سے محبت کا وجود نہیں مٹ سکتا۔۔۔۔۔دوبارہ سے آواز آئی۔۔۔۔۔

نہیں۔ نہیں نہیں۔۔۔۔میرا بھائی مر گیا یے۔۔۔۔۔۔اور میں اپنی محبت کی وجہ سے اس کا بدلہ نا لوں ایس نہیں ہو سکتا۔۔۔وہ چلایا۔۔۔ساتھ ہی پانی کا بھرا گلاس سامنے وال پر مار دیا۔۔

****************

وہ ایسا کیسے کر سکتی ہے۔۔۔اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔وہ چلاتے ہوۓ سلطان صاحب کے کمرے مین داخل ہوا۔۔۔

کیا ہو گیا کیوں اتنا شور مچا رہے ہو۔۔۔۔۔حمیدہ بیگم جو کہ سونے کی تیاری میں تھیں۔یوں حازم کا چیخنا ایک پل کے لیے وہ ڈر گئیں۔۔۔۔

ماما اس نے مجھے دھوکہ دیا۔۔۔یہ دیکھیں یہ پڑھیں اسے۔۔۔۔۔وہ بے ربت الفاظ بول رہا تھا۔۔۔۔۔حمیدی بیگم نے اس کے ہاتھ سے صفحہ پکڑا۔۔۔اور پڑھنے لگیں۔۔جیسے جیسے وہ پڑھ رہیں تھیں۔۔ان کی آنکھیں پٹھی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔

کیا ہوا ہے۔؟ سلطان صاحب اپنا منہ ٹاول سے پھونچتے ہوۓ واشروم سے باہر نکلے۔۔۔۔۔

آپ کی بھتجی کے کارنامے دیکھیں۔۔۔۔وہ پیپر حمیدہ بیگم کے ہاتھ سے لے کر سلطان صاحب کو پکڑایا۔۔۔۔۔۔

چلو میرے ساتھ۔۔۔۔۔سلطان صاحب اسے پکڑ کر سٹدی روم میں لاۓ۔۔۔۔۔۔

حازم کا بس نہین چل رہا تھا۔۔سب کچھ تباہ کر دے۔۔۔۔۔۔

کیا ہو گیا ہے۔۔۔ہمارا پلین بھی یہی تھا۔۔۔تو اب تم اتنا برا ایشو کیوں بنا رہے ہو۔۔۔۔۔سلطان صاحب غصے سے بولے

نہیں پاپا ہمارے پلین میں اتنا آگے جانا نہیں تھا۔۔۔ جو اس نے کیا ہے۔۔۔۔۔ حازم پیپر پھارتے ہوۓ بولا۔۔۔۔

حازم اس نے جو کیا وہ حالات کو دیکھتے ہوے کیا۔۔۔مجھے اس مین کچھ غلط نہیں لگا۔۔۔۔جلد ہی وہ اپان مقصد پا لے گئی۔۔ اب ہمارے پلین کا دوسرا حصہ شروع ہوتا ہے۔۔۔جو کہ تم کرو گے۔۔۔۔ تمہارے پاس دو دن ہیں ان دو دنوں کے اندر اندر تمہیں وہاں کسی بھی طریقے جانا ہو گا۔۔۔۔ سلطان صاحب نے اسے سمجھنا چاہا اگر وہ گڑبر کرتا تو سارا پلین فیل ہو جاتا۔۔۔۔۔

پاپا وہ میری منگیتر تھی۔۔۔ تو وہ پھر اتن برا قدم کیسے اُٹھا سکتی ہے۔۔۔یہ سوچ کر ہی میرا دل پھٹ رہا ہے ۔۔کہ اب وہ کسی قور کے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے سینے پر ہاتھ مار کر بولا۔۔۔۔تو آنکھوں میں سرخ ڈوڑے اترے۔۔۔۔۔۔

یہ تمہارے پاپا کا وعدہ ہے جب سب ختم ہو جاے گا۔۔۔میں خود تمہاری اس سے شادی کرواؤں گا۔۔۔۔ہر اس سے پہلے تمہیں ہم دونوں کا ساتھ دینا ہڑے گا۔۔۔میرے بیٹے تم جانتے ہو سب کتنا ضروری ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد صرف یہی ہے۔۔۔۔۔۔۔سلطان صاحب اپنے گبڑو جوان بیٹے کو سمجھاتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔۔

ہاہ ہممم۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔پر یاد رکھیے گا۔۔۔جو بھی ہمارے درمیان آیا۔۔۔وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اوپر والے کو پیارا ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔۔حاصم کہتا ہوا سٹیدی روم۔سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمممممم ۔۔۔۔سلطان صاحب لمبا سانس لے کر روم سے باہر نکلے۔۔۔۔۔۔

****************************************

بدتمیز بے حیا تو صائمہ بیگم کے حکم کو انکار کرے گئی۔۔۔میرے ساتھ زبان چلاۓ گئی۔ تمہاری اوقات ہی کیا ہے۔ جو تم مجھ سے اس انداز میں بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔ڈائینگ حال میں گرجدار آواز گھونج رہی تھیِ۔۔۔اس آواز کو سن کر اس حویلی کا درودیوار کانپ جاتا تھا۔اور آج اس اعتکاب کا نشانہ وہی بنی ہوئی تھی۔۔۔

صائمہ بیگم یہاں پر شائد کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی جو آپ کو انکار کرے پر اب آپ اپنے ان کانوں کو نا سننے کی عادت ڈال لیجیے۔۔۔کیونکہ اگر آپ صائمہ بیگم ہیں تو میں بھی زویا احمد ہوں۔ وہ مظبوط لہجے میں ان کی طرف انگلی اُٹھا کر بولی۔۔۔۔صائمہ بیگم غصے سے بھری آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔

ٹھاہ اس سے پہلے کے صائمہ بیگم کچھ بولتیں التمش نے زویا کو بازو سے پکڑ کر اپنی طرف گھومایا اور اس کے چہرے پر کھینچ کر تھپڑ مارا۔۔۔۔زویا اس افتار پر بالکل بھی تیار نہیں تھی وہ ایک دم لڑکھرائی۔

خبردار خبردار جو تم نے میری اماں سے اس انداز میں بات کی۔۔اور یہ مت بھولو تم اس حویلی میں ونی میں آئی ہو۔تمہاری اس کمینے بھائی کی وجہ سے آج تم اس جگہ گھڑی ہو۔۔۔۔ورنہ تم جیسے دو کوڑی کے غریبوں کو ہم اس حویلی میں آنے کی اجازت بھی نا دیں۔۔التمش نے اسے بالوں سے پکڑ کر جھٹکتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

میرے بھائی نے کچھ نہیں کیا وہ بےقصور ہے۔۔ زویا درد ضبط کرتے ہوۓ بولی۔جو اسے التمش کے زور سے بال پکڑنے پر ہو رہا تھا۔سب برے آرام سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔

چپ ایک دم چپ، خبردار جو تم نے اپنے بھائی کی طرفداری کی، اور تم بول کس کے لیے رہی ہو۔ارے جس کمینے کی وجہ سے میرا بھائی مر گیا۔ التمش دوسرے ہاتھ سے اس کے جبڑے کو زور سے پکڑتے ہوۓ چلایا۔۔۔۔۔۔۔۔اس کی آواز سے زویا ایک پل کے لیے ڈر گئی۔۔۔۔۔۔۔

آہ چھوڑو۔چھوڑو زویار نے اپنا پورا زور لگا التمش کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹایا

مجھے کمزور مت سمجھنا، میں تم سب کا ظلم نہیں سہنے والی، وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔اور وہ مسلسل اس کا ہاتھ اپنے بالوں سے ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ۔۔وہاں پر کھڑا ہر انسان ایک معمولی لڑکی کی اتنی ہمت دیکھ کر دھنگ رہ گیا۔۔۔۔التمش خان کے سامنے اس کی ماں تک سوچ کر بولتی تھی۔۔۔پورا گاؤں التمش کے غصے سے ڈرتا تھا۔اس کے انداز دیکھ کر التمش غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔۔

تم جیسی لڑکیاں میرے جوتے کی نوک پر ہوتی ہیں۔اور ظلم تو ابھی تم پر ہوا ہی نہیں پر آج تمہیں اس کا احساس ضرور ہو گا۔۔التمش تمسخرانہ انداز میں بولا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ زویار کچھ سمجھ پاتی۔۔التمش اسے تقریباً گھسیٹتے ہوۓ حال سے لے گیا۔۔۔۔۔۔۔

چلو تم سب اپنے کام پر لگو تماشا ختم ہو گیا ۔۔۔۔ صائمہ بیگم اونچی اواز میں بولیں دو منٹ کے اندر سب بھاگ گے۔۔۔۔۔۔

التمش زویا کو گھسیتتے ہوۓ ایک چھوٹے سے سٹور روم میں لایا۔۔۔۔۔۔جہاں فل اندھیرا تھا۔۔یہاں ہر طرف گندگی اور عجیب سی بدبو آ رہی تھی۔۔۔۔

مرو ادھر تمہیں ظلم کا تھوڑا سا احساس ہو گا۔۔۔التمش نے اسے فرش ہر دھکہ دیا۔۔۔زویا فرش پر گڑ گئی اس کا ماتھا زمین سے بہت زور سے لگا۔التمش نے کمرے کا دروازہ بند کر بند کر دیا۔۔۔۔۔۔

آہ ابھی کل کی چوٹیں ٹھیک نہیں ہوئیں تھیں۔ آج دوبارہ سے اسی جگہ پر چوٹ لگ گئی۔۔اپنا ماتھا سہلاتے ہوۓ وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔

آس پاس سے بہت ساری بدبو آ رہی تھی۔۔۔۔۔ادھر اُدھر دیکھنا چاہا پر ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔ اپنے ہاتھ کا سہارا لے کر وہ اُٹھی۔۔۔۔ابھی دو قدم ہی چلے تھے کہ ایک لکڑی کی چیز ٹانگوں سے ٹکرائی۔۔۔۔اہستہ آہستہ چلتی وہ دروازے کے پاس آئی۔۔۔۔اور وہی بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔

***********************************

ماجد آپ مجھ سے نکاح کب کریں گے۔۔۔۔۔۔ماجد اس وقت شہر میں بنے اپنے چھوٹے سے فیلٹ میں روبینہ کی گود میں سر رکھے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔

جلد ہی کروں گا۔۔۔۔ابھی کل ہی تو میرے بھائی کی موت ہوئی ہے۔۔۔۔سب اسی صومے میں ہیں۔اوپر سے میں یہ صدمہ تو نہیں دے سکتا۔ وہ آنکھیں بند کیے بولا۔۔۔۔

آپ کی تو شادی ہو چکی ہے اور دو بچے بھی ہیں۔۔۔۔۔۔اس کے باوجود آپ میرے ساتھ اس رشتے می کیوں ہیں۔۔۔۔وہ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

کیونکہ جانِ من میں تم سے محبت کرتا ہوں۔۔جب پہلی بار تمہیں یونی کے باہر دیکھا تبھی تمہاری ان زلفوں کا اسیر ہو گیا تھا۔۔۔ اب تو بس یہی بس جانا چاہتا ہوں۔۔۔۔ماجد اپنے لہجے میں محبت سموتے ہوۓ ہوۓ بولا۔۔۔۔۔زوبیہ کو اپنے آپ پر غرور ہوا۔۔

ماجد بس ہمیں جلد ہی اپنا نام دے دیں میں اس رشتے کو ساری دنیا کے سامنے لانا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔وہ دبارہ سے نکاح پر اسرار کرنے لگی۔۔۔۔

میں یہاں اپنی ٹینشن دور کرنے آیا ہوں اور تم نکاح کی رٹ لگاۓ بیٹھی ہو۔۔۔۔تمہیں میرا یہاں آنا پسند نہیں تو چلا جاتا ہوں۔۔ وہ چڑتے ہوۓ اُٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔

معاف کر دیں ماجد سوری بس آپ کے دور جانے سے ڈر لگتا ہے مین آپ کو کھونا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔ روبینہ اس کے گلے لگتے ہوے بولی۔۔۔۔

اب پھر تمہارے منہ سے کوئی بات نا نکلے۔۔۔۔۔۔ماجد کہتا ہوا اس پر جھکا۔۔۔۔۔۔

روبینہ شہر کی ایک ماڈرن لڑکی تھی۔۔ وہ یہاں یونی میں پڑھنے آئی تھی ہاسٹل میں رہتی تھی۔ باپ مر چکا تھا۔۔ماں فالج کی مریض تھی۔۔ ایک بہن سکول میں پڑھتی تھی۔۔ اور اس سے چھوتا بھائی جواۓکا عادی ہو چکا تھا۔۔۔وہ اپنے آپ کو امیروں کے طور طریقوں میں ڈھالنا شروع کر چکی تھی۔۔ ۔۔۔ماجد نے اسے پہلی بار سڑک پر کھڑے دیکھا تھا۔

اس کے بعد اس نے اپنے ذریعے سے اس کے متعلق سب پتہ کروایا۔

دوسری بار وہ دونوں ایک پارٹی میں ملے ماجد نے اس سے باتیں کی اور ساتھ ہی فون نمبر مانگ لیا۔۔ دونوں کی گھنٹوں باتیں ہونے لگیں۔۔۔۔ ماجد کو لڑکیوں کو شیشے میں اتارنا بہت اچھے سے آتا تھا۔۔۔۔زونیہ کو اپنے پیار میں پاگل کر دیا۔۔۔۔ وہ جائز ناجائز کی تمیز بھول گئی۔۔جب بھی ماجد شہر آتا وہ اسے اپنے فلیٹ مین بلا لیتا۔۔۔۔۔اس کی ہر ضرورت ماجد پوری کرتا۔۔۔۔۔روبینہ کچھ پیسے گھر بھیج دیتی۔۔۔یہی کہتی کہ وہ سہر میں ہڑھائی کے ساتھ ساتھ نوکری کر رہی ہے۔۔۔۔۔اب ماں کیا جانتی وہ کونسی نوکری کر رہی ہے ۔۔دونوں کے رشتے جو دو سال ہو چکے تھے۔۔۔اب روبینہ چاہتی تھی کہ وہ نکاح کر لے۔۔۔۔پر ماجد ایسا بالکل نہین چاہتا تھا۔۔۔۔وہ بس ایسے ہی رشتہ رکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔

*******************

دوپہر دو بجے کے قریب اریشہ نے جا کر سٹور روم کا دروازہ کھولا۔۔۔۔۔سامنے زویا برے آرام سے زمین ہر سو رہی تھی۔۔۔۔

اریشہ کو دیکھ کر بہت غصہ آیا۔۔۔۔۔وہ کیچن مین گئی۔۔اور ٹھنڈا پانی کا جگ لے کر سٹور روم میں آیا۔۔۔۔پانی کو زویا پر انڈھیل دیا۔۔۔۔

آہ۔۔۔وہ ایک دم سے خود پر پڑنے والے ٹھنڈے پانی سے چیخ کر اُٹھ بیٹھی۔۔۔ اندھیرے میں بیٹھے بیٹھے وہ ناجانے کب سو گئی تھی۔۔۔

ہم۔نے سوچا تمہاری اندر اندھیرے سے جان نکل رہی ہو گئی پر یہاں تو مہارانی بہت مزے سے سو رہی ہے۔۔۔ اریشہ غصے سے چلائی۔۔۔۔۔

ہاہ ہاہ ٹھینک یو سو مچ بہت مزے کی نیند آئی۔۔۔۔زویا انگڑائی لیتے ہوئی اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔۔اریشہ کا منہ کھولا کا کھولا رہ گیا۔۔۔۔

نجو نجو۔۔۔۔۔اریشہ زور سے چلائی۔۔۔۔تو نجو (نوکرانی) بھاگ کر آئی۔۔۔

جی بی بی جی۔۔۔۔۔

اس کو پکڑو میرے ساتھ۔۔۔۔اریشہ نے کہا۔۔۔۔اس سے پہلے کہ زویا کو کچھ سمجھ آتی وہ اس کے بالوں کو ہاتھ میں پکڑ مٹھی بنا کر باہر کی طرف دکھیلا۔۔۔۔وہ اس کے لیے تیاو نہیں تھی۔۔۔نجو نے بھی اس کے دونوں ہاتھ زور سے پکڑ لیے۔۔۔۔۔زویا کو بہت درد ہوا۔۔۔۔۔اس نے بہت کوشش کی۔ اپنا آپ چھڑوانے کی پر نقام رہی۔۔۔۔۔

اریشہ اسے گھسیٹتے ہوۓ کیچن میں لائی ۔۔۔۔صائمہ بیگم تو اپنے کمرے میں سر باندھ کر لیٹی ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔

اریشہ نے اس کیچن میں لا کر چھوڑا۔۔۔۔

چاۓ بناؤ میرے لیے۔۔۔۔وہ اسے چھوڑتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

خود بنا لو ہاتھ ٹوٹے نہیں ہیں تمہارے۔۔۔۔۔زویا اپنے بال ٹھیک کرتے ہوۓ بولی

نجو چاۓ بناؤ۔۔۔۔اس نے حکم دیا۔۔

نجو جلدی سے حکم کی تقمیل کرنے لگی۔۔۔۔۔۔

اریشہ غصے سے زویا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔زویا بھی ڈھیٹو کی طرح اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔۔

نجو نے جلدی سے چاۓ بنا کر اریشہ کو پکڑائی۔۔۔۔اریشہ چاۓ کا گرم گرم کپ پکڑکر مسکرائی۔۔۔۔اور دوسرے ہی پل وہی چاۓ زویا کے اوپر پھینک دی۔۔۔۔

آہ آہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔زویا چلائی۔۔۔ چاۓ سیدھی اس کے چہرے پر گڑنے تھی۔۔اگر وہ جلدی سے دونوں بازو چہرے کے سامنے نا کرتی۔ اس سے ساری چاۓ اس کے دونوں بازوں پر گڑی تھی اور کچھ کپڑوں پر چاۓ کا کپ اس کے پاؤں پر گڑا۔۔۔۔۔۔اس کی چیخیں حویلی میں گھونجیں۔۔۔۔

ہاہہہہہہ مزہ آ گیا نا آئیندہ میرے حکم کاو انکار کیا نا تو اس سے بھی بری سزا دوں گئی۔۔۔۔اریشہ انگلی اُٹھا کر بولی۔۔۔۔۔۔

ٹھاہ۔۔۔۔۔۔زویا نے اپنے زخموں کی پرواہ کیے بنا اریشہ کے چہرے پر تھپر مارا۔۔۔

تم پاگل ہو۔۔۔۔۔خبردار آئیدہ میرے ساتھ ایسی حرکت کی ورنہ یہ ساس پان تمہاری ار می۔ مار دوں گئی۔۔۔۔۔۔ زویا زور سے چلائی۔۔۔۔پہلے اتنے ٹھندے پانی سے نہلا دیا۔۔ا۔وپر سے اتنی گرم چاۓ اس پر پھینک دی۔۔۔۔زویا کو وہ پاگل ہی لگی۔۔۔۔۔۔۔۔

تم نے مجھے مارا تمہاری اتنی ہمت ۔۔۔۔۔۔اریشہ زور سے چلائی۔۔۔ اور اسے مارنے کے لیے آگے بڑھی تبھی اسے عائلہ بھابھی نے آ جر روک لیا۔۔۔۔۔۔

نجمہ اسے لے کر جاؤ یہاں سے میں اریشہ کو سھنمبالتی ہوں۔۔۔۔۔ عائلہ نے کہا۔۔۔۔نجمہ اسے لے کر اس کے کمرے مین آ گئی۔۔۔۔۔زویا کمرے میں آتے ہی اس بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔اور اپنا سر ہاتھ پر گِڑا لیا۔۔۔۔۔۔

زویا جی۔۔۔۔آپ ان لوگوں سے پنگے مت لو۔ اریشہ بی بی نے جو آج کیا وہ بہت برا ہے۔۔ہر آگر آپ نے کسی اور کو اتنا کچھ بولا۔۔تو وہ اس سے بھی برا حال کریں گے۔۔۔۔۔ یہاں کسی کے دل میں رحم نہیں آۓ گا۔۔ نجمہ اسے پانی پلاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔اس کے دونوں بازو کپڑے سے صاف کرنے لگی۔۔۔۔

نجمہ تم مجھے نہیں جانتی میں ان سب ظالموں کے سامنے چپ نہیں رہوں گئی۔ زویا نا مین سر ہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

زویا جی آپ کل آئی تھیں اور دیکھیں آپ کا کیا حال ہو گیا ہے۔۔سارے جسم ہر زخم بن گے ہیں۔ اس حویلی اور گاؤں کے سارے مرد پہلے ہی ظالم ہیں۔۔۔آج تک کسی نے اپنی بیوی بہن کو پیار سے نہیں بلایا۔۔۔جو اپنی بیوی بہن کو مارتے ہوں وہ بھلا ایک ونی مین آئی لڑکی پر کیسے رحم کریں گے ۔صائمہ بی بی جی بہت اچھی ہیں۔۔۔وہ بس انہیں ابھی اپنے بیٹے کا غم تازہ ہے۔ اسی لیے وہ یہ سب کر رہی ہیں۔۔۔نجمہ بولے جا رہی تھی زویا بے دھیانی میں سن رہی تھی۔۔۔

لیکن زویا جی۔ ہمیں بس اس حویلی کے ایک مرد حقیقت میں مرد لگتا ہے۔نجمہ ایک دم بولی۔۔۔

کون؟ زویا نے پوچھا

التمش سائیں جن سے آپ کا نکاح ہوا ہے۔۔۔ وہ نا اپنی ماں بہن بالکہ ہر عورت کی عزت کرتے ہیں۔۔۔وہ الگ ہی ہیں۔۔۔۔ چاہے وہ زیادہ غصہ کرتے ہیں مگر بہت اچھے ہیں۔۔نجمہ مسکراتے ہوۓ التمش کی ذات کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی۔۔۔۔

ہاہ کل سے میں بہت اچھے سے ان اج رویہ دیکھ رہی ہوں۔۔۔کتنے کو اچھے ہیں مجھے پتہ ہے۔۔۔۔زویا طنزیہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔

زویا جی نا کرو۔ کچھ دن گزر لینے دو آپ خود دیکھو گے ۔۔۔۔۔ وہ کتنے اچھے ہیں۔۔نجمہ اس کے جلے ہوۓ ہاتھوں پر ٹیوب سے مرہم لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

نجمہ تمہاری عمر کتنی ہے؟

میری عمر جی بیس سال ہے۔ یاں پر ساس نے بھیج دیا ہے۔۔۔۔پچھلے دو سال سے یہی کام کر رہی ہوں۔۔۔نجمہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

کیا تمہاری شادی ہو چکی ہے۔۔۔کب ہوئی؟زویا حیرانگی سے بولی۔۔

جی میری شادی جب میں پندرہ کی تھی تب ہوئی اب تو میرے دو بچے بھی ہیں۔۔۔وہ مسکراتے ہوے بولی۔۔۔۔زویا حیرانگی سے اتنی چھوٹی سے لڑکی کی باتیں سن رہی تھی۔۔

نجمہ کو باہر سے آوازیں آنے لگیں وہ اُٹھ کر چلی گئی۔۔۔۔۔

ٹارگٹ مل گیا ۔۔۔بس اب بہت جلد اس حویلی کی قسمت بدلے گئی۔۔۔۔اللہ میاں آپ تو جانتے ہو۔ میں کیا کر رہی ہوں۔۔تو پلیز میری مدد کرنا ۔۔۔۔وہ دعا کے انداز میں اللہ سے باتیں کرنے لگی۔۔۔۔۔

اُٹھ کر اپنے کپڑے بدلے۔۔جو صبح ہی بی جی نے لا کر دیے تھے۔۔۔۔

**************************

اف اس گاڑی کو بھی ابھی خراب ہونا تھا۔۔۔۔۔۔ماجد رات کے بارہ بجے حویلی واپس آنے لگا تھا۔۔۔جب راستے میں اچانک گاڑی رک گئی۔۔۔وہ جب بھی شہر روبینہ سے ملنے جاتا تو اکیلا ہی جاتا۔۔۔۔۔۔کسی گارڈ کو ساتھ نا لے کر جاتا۔۔

گاڑی سے باہر نکل کر بونٹ کھول کر وہ چیک کرنے لگا۔۔۔۔۔سڑک پر کافی گاڑیاں آ جا رہین تھیں ۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا کوئی مسلہ ہے گاڑی خراب ہو گئی۔۔۔۔۔اسے اپنے قریب سے آواز آئی۔۔۔۔پلٹ کر دیکھا تو سامنے حازم کھڑا تھا۔۔۔۔۔

تم۔کون؟ ماجد نے رُکھے انداز مین پوچھا

جی میرا نام حازم ملک ہے۔۔ میں بس یہاں گھر جا رہا تھا تو اپ کو دیکھا۔۔۔تو سوچا پوچھ لوں کسی مدد کی ضرورت تو نہیں۔۔۔۔حازم مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔

تم کیا مکینک ہو جو یوں منہ اُٹھا کر چلے آۓ۔۔۔۔ماجد جو پہلے ہی اریٹیٹ تھا۔۔غصے سے بولا۔۔

ہٹیے میں دیکھتا ہوں۔۔۔حازم نے اسے ہٹایا اور خود گاڑی کو چیک کرنے لگا۔۔۔۔

آپ اب چلا کر دیکھیں ۔۔۔۔اسنے کہا تو ماجد گاڑی کو سٹاٹ کرنے لگا۔۔۔۔اور گاڑی سچ میں سٹاٹ ہو گئی۔۔۔وہ بند کر کے باہر آیا۔۔۔۔

شکریہ۔۔۔ میں غصے میں تھا تو بس چلا دیا۔۔۔۔وہ معزرت زہ انداز میں بولا

ارے کوئی نا یہ تو میرا فرض تھا۔۔۔۔۔ ویسے آپ یہاں کسی کام سے آۓ تھے۔۔۔حازم بولا۔۔۔

ہان وہ بس کسی سے ملنے آیا تھا۔۔۔تم اسی شہر کے ہو۔۔۔ماجد اب اس سے کھل کر بات کرنے لگا۔۔۔۔

ہاں میں یہی رہتا ہوں۔۔۔ابھی میٹنگ سے فارغ ہوا تو گھر کو چل دیا۔۔۔۔۔دونوں آپس مین کافی دیر باتیں کرتے رہے۔۔۔۔آخر میں ایک دوسرے کا نمبر ایکسچینج کیا ۔۔۔۔۔ماجد گاؤں کے راستے پر گاڑی کو لے گیا۔۔۔۔۔وہی پیچھے حازم نے گاڑی اپنے گھر کی طرف موڑ لی۔۔۔۔اس کے چہرے پر ایک عجیب سے مسکراہٹ تھی۔۔۔۔۔۔۔

************************

اگلی صبح وہ اُٹھی نماز پڑھی۔ تو باہر سے بلاوا آ گیا۔۔۔۔۔اپنے سر کے گرد ڈوپٹہ لپیٹے وہ باہر کی جانب بڑھی۔۔۔۔۔۔

بولیں کیوں بلوایا ہے؟ وہ سیدھی صائمہ بیگم کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔

جاؤ سب کے لیے ناشتہ بناؤ۔۔۔یہ ساری لسٹ ہے۔۔۔ اکیلی بناؤ گئی کوئی مدد نہیں کرے گا۔ وہ تسبیح پڑھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

سوری میں نہین بناؤ گئی۔۔۔۔آپ کے بھی ہاتھ پاؤں سلامت ہیں خود بنا لیں۔۔۔وہ پرچی کو زمین پر پھینکتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

نا بنانے کا انجام تم نہین تمہارے گھر واکے بھگتیں گے۔۔۔آج سے اگر ایک بھی کام سے منع کیا تو تمہں کچھ نہیں بولوں گے تمہارے گھروالوں کے لیے جینا حرام جر دیں گے۔۔۔۔۔آئمہ بیگم کی آواز آئی۔۔

ہممممم اچھا داؤ کھیلا ہے۔۔۔چلیں ٹھیک یے۔۔بناتی ہو ناشتہ۔۔۔وہ پرچی پکڑتے ہوۓ کیچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔

دیکھا بھابھی میرا آئیڈیا کام کر گیا۔۔۔اب اس چھوکری کو اسی کی زبان میں سمجھانا پڑے گا۔۔۔آئمہ بیگم اپنی کامیابی پر مسکرائیں

وہ کیچن میں آئی۔۔۔ اور سب مردوں کے لیے ناشتہ بنانے لگی۔۔۔۔۔پراٹھے، چکن کڑاہی، اور بھی ناجانے کیا کیا۔۔۔۔۔

ایسا کھانا کھلاؤ گئی۔۔۔سب کے ہوش اُڑ جائیں گے۔۔ اپنے جلے ہوے بازوں کی پرواہ کیے بنا وہ ناشتہ بنانے لگی۔۔۔ناشتہ بنا کر ٹیبل پر لگایا۔۔۔اور خود کیچن میں آ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔سب مرد کرسیوں پر آکر بیٹھ گے۔۔۔۔

تھو یہ کیا ہے؟ جہانگیر خان کی آواز ڈائینگ ٹیبل پر گھونجھی۔۔۔

کیا ہوا ابا جی آئمہ بیگم جلدی سے جلدی سے بھاگ کر ان کے پاس پہنچی۔۔۔۔۔

یہ ناشتہ کس کم بخت نے بنایا ہے۔۔وہ گرجے

جی وہ اس چھوکری نے بنایا ہے۔۔جو ونی میں آئی ہے۔۔۔۔ وہ ہکلاتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔۔

اس بدبخت کو بلاؤ۔۔۔۔وہ اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوۓ بولے۔۔۔۔

نجمہ نے کیچن میں آکر زویا کو باہر جانے کا بولا۔۔۔۔۔اپنے چہرے پر آئی مسکراہٹ کو سمیٹھ کر وہ باہر کی طرف بڑھی۔۔۔۔

کیا ہوا برے سائیں کیا کھانا پسند نہیں آیا۔۔۔۔وہ بے چارگی والا منہ بنا کر ان سب کے سامنے آ کر بولی۔۔۔۔

یہ کھانا ہے اسے تم کھانا کہتی ہو۔۔۔۔ہر چیز میں مرچیں حد سے زیادہ ڈالی ہوئی ہیں۔کسی مین نمک کا پورا ڈبہ ڈال دیا ہے۔۔۔۔۔کیا ہے یہ سب۔۔۔اوہ گرجدار آواز میں بولے اور سامنے پڑا چکن کا باؤل زمین پر دے مارا۔۔۔۔زویا ایک دم سے پیچھے ہوئی۔۔۔ورنہ دوبارہ سے اس کا پاؤ جل جاتا۔۔۔

چچچچ چچچچ بہت بری بات ہے برے سائیں کھانے کی بے حرمتی نہیں کرتے۔۔آگر آپ ایسا کرین گے تو گاؤں والے کیا سوچیں گے۔۔۔۔ہمارا سرپنچ ایسا ہے جیسے رزق کی بھی قدر نہیں وہ معصوم منہ بنا کر بولی۔۔۔۔

تیری اتنی ہمت تو نے جہانگیر خان سے زبان لڑائی۔۔۔وہ اُٹھے اور زویا کی طرف بڑھے۔۔۔۔وہ ایک پل کے لیے گھبڑا گئی۔۔۔

آپ نے غلط کیا دیکھیں کھانا زمین پر پھینک دیا۔۔۔اگر نہین کھانا تھا تو کسی غریب کو دے دیتے۔۔۔ہر ہاں آپ تو خود غریبوں کے پیسے کھا جاتے ہیں تو کیا کسی غریب کو دیں گے۔۔۔۔وہ ہمت پکڑتے ہوۓ بولی۔۔۔

ٹھاہ ۔۔۔۔۔۔جہانگیر خان نے اپنا بھاری ہاتھ زویا کے چہرے پر مارا تو وہ زمین پر گڑ گئی۔۔۔ التمش کب سے وہی بیٹھا سب سن رہا تھا۔۔۔اپنے سامنے اسے تھپڑ پڑا تو اس کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا۔۔۔۔۔

ارے آپ تو یہی کر سکتے ہیں۔۔۔صرف عورتوں پر اپنا ہاتھ چلا سکتے ہیں۔۔مین نے سنا ہے آپ کی بچاری بیوی بھی آپ سے مار کھا کھا کر مر گئی تھی۔۔۔۔وہ دوبارہ سے کھڑی ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔جہانگیر خان کو چھوٹی سی لڑکی سے اتنی باتوں کی امید نہیں تھی۔۔۔۔ایک بار پھر ان کا ہاتھ اُٹھا۔۔۔۔پر اس دفع ہوا میں ہی لہرا گیا۔۔۔۔

دادا جان کیوں بے فضول باتوں پر اپنا خون جلا رہے ہیں چلیے۔۔۔ورنہ بی پی ہائی ہو جاۓ گا۔۔۔۔۔التمش نے ان کو زبردستی اندر کمرے کی طرف لے جانا بہتر سمجھا۔۔۔۔زویا بہت زیادہ بول رہی تھی۔۔ اور اس کا انجام بہت برا ہونے والا تھا۔۔۔اسی لیے التمش درمیان میں آ گیا۔۔۔۔۔

التمش خان لے جاؤ انہیں اکیلے کمرے میں بند کر دو۔۔اندھیرا کرنا میں نے سنا ہے۔۔۔اندھیرے میں انسان کو اپنے گناہ بہت اچھے سے نظر آتے ہیں۔۔۔شائد ان کو بھی نظر آ جائیں۔۔۔وہ بلند آواز میں بولی۔۔۔۔التمش اس کی بات پر ایک پل کے لیے پلٹا۔۔۔دونوں کی آنکھیں ملیں۔۔۔۔اسے ان آنکھوں میں ہلکی سے نمی اور درد دیکھا۔۔۔۔وہ دادا جان کو سھنمبالتے ہوۓ کمرے میں لے آیا۔۔۔اور ان کا غصہ کنٹرول کرنے لگا۔۔۔۔۔۔

دوسری طرف زویا کو صائمہ بیگم نے بہت ڈانٹا۔۔۔اسے ایک بار پھر گھر کی دھمکی دی۔۔۔۔ان سب باتوں کو بہت ارام سے سن رہی تھی۔۔ذہین ہی کہی اور اٹکا تھا۔۔۔۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔