Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25

صبح کا سورج چڑھا تو رات کی بارش کی کھنک کم ہوئی۔ سرد موسم میں تھوڑی سی گرمائش پیدا ہوئی۔ حویلی میں آج حازم کی فیملی نے آنا تھا۔ پچھلے دو دنوں سے حویلی میں ان کہی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔
صائمہ بھابھی کیا ہوا؟ آپ ایسے رو کیوں رہی ہیں؟ آئمہ بیگم چاۓ کا کپ لے کر صائمہ بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تو سامنے صائمہ بیگم بیڈ پر بیٹھی روتی ہوئی دیکھائی دیں۔ وہ گھبڑا کر آگے بڑھیں۔
آئمہ یہ جو بھی میرے بچوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔اس وجہ سے میں بہت پریشان ہوں۔ پتہ نہیں کس کی بری نظر لگ گئی ہے۔ پہلے ارسلان کا یوں چلے جانا۔ پھر التمش کا نکاح، ماجد کا یوں کسی لڑکی کا قتل کرنا، اور اب اریشہ کا ہماری عزت کو اچھالنا۔ وہ روتے ہوۓ بولیں۔
اور کس کی اسی زویا کی نظر لگی ہے۔ جب سے اس حویلی میں آئی ہے منحوسیت ہی پھیلا کر رکھی ہے۔ کوئی نا کوئی بات آۓ دن چھری ہوتی ہے۔ آئمہ بیگم نحوست سے بولی۔
نہیں آئمہ ایسا نہیں ہے۔ یہ سب اسکی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ مجھے ایسے لگتا ہے۔ میری تربعیت میں ہی کمی رہ گئی تھی جو یوں آج میرے ہی بچے ایک دوسرے کا منہ بھی دیکھنا پسند نہیں کر رہے۔ برا بھائی پیسے کے لالچ میں چھوٹے بھائی کو گھر سے نکال رہا ہے۔۔ صائمہ بیگم ان کی نفی کرتے ہوۓ بولیں۔
بھابھی وہ لڑکی قصور ہے۔ اگر التمش اسکی بات مان کر اریشہ کو کالج نا بھیجتا تو آج یہ سب نا ہو رہا ہوتا۔ آئمہ بیگم کسی طور زویا کو الزامات سے بری نہیں کرنا چاہتی تھی۔
آئمہ ایسا مت بولو۔ پہلے ہی اس بیچاری کے ساتھ ہم سب نے بہت غلط کیا ہے۔ اسکے بھائی کی سزا اسکو ملی۔ یہاں حویلی میں ہر دن اس پر تنگ کر دیا۔ اور ہم دونوں نے ہی تو اس پر گندے گندے الزام لگاۓ تھے۔ اللہ کو شائد وہی پسند نہیں آیا۔ جو جھوٹا الزام ہم نے اس پر لگایا تھا دیکھو نا آج وہ ایک سچ بن کر میری بیٹی کے روپ مین میرے سامنے کھڑا ہے۔ صائمہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔ آئمہ بیگم حیرانگی سے ان کی باتیں باتیں سن رہی تھیں۔
جو بھی کہیں بھابھی مجھے تو وہی قصور وار لگتی ہے۔ اسی کی منحوس نظر لگی ہے۔آپ یہ چاۓ پی لین میں ناشتہ بنا لوں۔ آئمہ بیگم بول کر کمرے سے نکل گئیں۔
یہ بھابھی کو پتہ نہیں کیا ہوا گیا ہے۔ ویسے کہا تو ٹھیک ہے۔ ان سے اپنے بچوں کی تربعیت ٹھیک نہیں ہوئی۔ اسی لیے آج کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں۔ مجھ پر بڑا روب ڈالتی تھیں۔ ہنہ۔۔۔ شکر خدا کا میرے بچے تو ان سے کئی حصے بہتر ہیں۔ اریشہ جیسی لڑکی بہو بنا کر ساری زندگی اسکی ہی چلتی۔ اپنے بیٹے کے لیے تو چاند سی دلہن لے کر آؤ گئی۔ وہ خود سے باتیں کرتیں کیچن میں چلی گئیں۔ جہاں عائلہ ناشتہ بنا رہی تھی۔


التمش زویا کو تیار ہونے کا بول کر خود ڈیرے کی طرف نکل گیا۔ زویا کپڑے تبدیل کر کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آ کر کھڑی ہوئی۔ بالوں کو جُوڑے کی شکل دے کر وہ ہاتھ میں پکڑے سکارف کو چہرے کے گرد لپیٹنے لگی۔ آنکھوں میں کاجل ڈالا۔ وہ جلدی جلدی میں یہ سب کر رہی تھی۔ کیونکہ التمش آنے والا تھا۔۔ وہ آخری دفع زلیخہ بیگم اور باقی گھر والوں سے ملنا چاہتی تھی۔
وہ سکارف سے نقاب کرنے والی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلا اور التمش سفید کُرتا شلوار پہنے کمرے میں داخل ہوا۔ وہ جلدی سے صوفے کی جانب بڑھا جہاں پر اسکی کالی چادر پڑی ہوئی تھی۔ التمش چادر کو اپنے کندھوں کے گرد لپیٹی۔ زویا جو کہ نقاب کرنے والی تھی۔اسکی نگاہ آئینے سے جھلکتے ہوۓ التمش کے عکس پر پڑی۔ کچھ پل کے لیے اسکی نگاہ ٹھر گئی۔
گھڑی! وہ اپنی خالی کلائی کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ اور پلٹا۔ پلٹتے ہی اسکی نگاہ زویا پر پڑی۔ جو کہ پہلے ہی اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی نگاہیں ملیں۔ زویا نے جھجک کر نظریں جھکا لیں۔ زویا کے یوں نظریں چُڑانے پر التمش نے اپنے چہرے پر اُمنڈ آنے والی مسکراہٹ کو دبایا۔ اور چلتا ہوا اسکے قریب آیا۔ ہاتھ باندھ کر وہ مسلسل اسے دیکھنے لگا۔ زویا اسکے یوں دیکھنے پر کنفیوز ہونے لگی۔
کیا ہوا؟ ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟ اسکے یوں دیکھنے پر وہ چڑتے ہوۓ بولی۔۔ یا یوں کہو کہ اسکا دھیان دوسری طرف کرنا چاہا۔۔
کچھ نہیں بس کچھ یاد آگیا تھا۔ وہ مسکرا کر بولا۔
یاد! کیا یاد آ گیا تھا؟ وہ اسکی طرف پلٹ کر بولی۔
وہ آگے بڑھا اور اسکے سکارف کے بچے ہوۓ کپڑے کو کونے سے پکڑ کر اسکے چہرے کو ڈھانپ دیا۔
اب صرف اسکی آنکھیں نظر آ رہیں تھیں۔ میں نے پہلی دفعہ تمہیں اس طرح دیکھا تھا جب میں تمہاری ان نیلی آنکھوں کے حصار میں ڈوب گیا تھا۔ وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ جذب کے عالم۔میں بولا۔
التمش کی آنکھوں میں اپنے لیے اتنی محبت دے کر زویا کے دل کی دھڑکنیں بڑھیں۔ اسی بے چینی کے عالم میں اس نے نظریں چرا کر جھٹ سے اپنا رکھ آئینے کی طرف کر دیا۔
زویا اپنے اوپر التمش کی نظروں کی تپش کو محسوس کر رہی تھی۔ اسی لیے وہ پلٹ کر بیڈ پر پڑی چادر کو اُٹھا کر اپنے کندھوں کے گرد لپیٹنے لگی۔۔
چلیں میں تیار ہوں۔ وہ مڑ کر بولی۔
ہمم چلو میں گھڑی لے کر آتا ہوں۔ التمش مسکرا کر بولا۔ زویا کو اب اسکی مسکراہٹ تپا رہی تھی۔ وہ بنا کچھ بولے کمرے سے باہر نکل گئی۔
پا لیا آپ کو اِقرارِ محبت نہ کریں
بن گئی بات مری آپ کے شرمانے سے
(نصیر الدین شاہ نصیر)
التمش اسکے یوں جانے پر مسکرا کر بولا۔اور اپنی گھڑی لے کر اسکے پیچھے چل دیا۔
التمش اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔۔ زویا فرنٹ پر بیٹھ گئی۔ اس نے دل میں شکر ادا کیا کسی نے آتے ہوۓ روکا نہیں تھا۔ التمش نے جیپ سڑک پر ڈالی۔
ویسے میری قسمت بہت پیاری ہے۔ جب پہلی دفع تم اس جیپ مین بیٹھی تھی۔ تب دل نے دعا کی تھی تم میرے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھو۔ اور دیکھو آج تم پورے حق سے میرے بگل میں بیٹھی ہو۔ التمش اسے چھڑتے ہوۓ بولا۔۔ اور وہ چھڑ بھی گئی۔
مسٹر خان آج آپ کو پہلی ملاقاتیں کیون یاد آ رہی ہیں؟ اور بائی دا ویے آپ زیادہ شوخے مت ہوں۔ ابھی تک میں نے روحان والی بات پر آپ کو معاف نہیں کیا۔ وہ اسکا دھیان بٹانے کے لیے بولی۔
تم لگ ہی اتنی پیاری رہی ہو۔ بے وجہ پرانی باتیں یاد آ رہی ہیں۔۔ التمش مسکراہٹ دبا کر بولا۔
مسٹر خان پلیز مجھ سے ایسی باتیں مت کریں۔ زویا غصے سے بولی۔۔
اُو۔۔۔۔ مسٹر خان! ہممم مطلب میری شریکِ حیات کو غصہ بھی آتا ہے۔ کوئی نا تمہاری ساری شیکاتیں ناراضگیاں دور کر دوں گا۔ وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
دیکھیں گے۔ کیا دور ہوتا ہے۔ ناراضگیاں یا میں! وہ غصے میں بولی۔۔
تمہیں تو میں اپنی زندگی میں کبھی خود سے دور نہیں جانے دوں گا۔ ہاں میرے مرنے کے بعد چلی جانا۔ وہ زویا کی بات سن کر ایک دم سنجیدہ انداز میں بولا۔۔
اور اگر میں چلی گئی۔ وہ بے خودی میں بولی۔۔
تو وہ دن التمش خان کی زندگی کا آخری دن ہو گا۔ وہ براہ۔راست اسکی آنکھوں مین دیکھتے ہوۓ بولا۔ زویا کو اپنی سانسیں رُکتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ اس نے جلدی سے نظریں چُڑا لیں۔ التمش بھی خاموشی سے جیپ چلانے لگا۔
اگلے پانچ منٹ میں گاڑی زویا کے گھر کے سامنے رُکی۔ زویا جیپ سے باہر نکلی۔ دونوں گھر کے دروازے کے سامنے رُکے۔ زویا نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ بجایا۔ کچھ ہی پل میں جبران نے دروازہ کھول دیا۔
چھوٹے سائیں! آپ اندر آئیں اندر آئیں۔ وہ یوں التمش کو سامنے کھڑے دیکھ کر فوراً بولا۔ دونوں اندر داخل ہوۓ۔ جبران نے زویا کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔ زویا اندر کی طرف بڑھ گئی۔ سامنے کمرے سے زلیخہ بیگم اُٹھ کر باہر آ رہی تھی۔ زویا بھاگ کر ان سے ملی۔۔اور رو دی۔
جبران بھائی آپ پلیز مجھے سائیں مت بلایا کریں۔ آپ برے ہیں التمش کہ کر پکارا کریں یہ مجھے اچھا لگے گا۔ التمش آگے بڑھ کر بولا۔۔۔
جی چھوٹے معاف کیجیے گا جی التمش ۔۔۔ چلیں اندر چلیں۔ جبران مسکر اکر بولا۔ وہ التمش کو لے کر روحان کے کمرے میں داخل ہوا۔
سامنے روحان ہوش میں تھا۔ پر لیٹا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی گل خان ایک طرف کھڑا تھا۔ وہ کل سے مسلسل ان کے ساتھ تھا۔
روحان کی طبعیت پہلے سے بہتر تھی۔ ہسپتال کا سارا انتظام یہی ہوا تھا۔ التمش کے اشارے پر گل خان واڈبواۓ کو لے کر کمرے سے نکل گیا۔
زویا زلیخہ بیگم کے ساتھ دوسرے کمرے میں تھی۔
اماں مجھے آپ سے ایک بات کہنی تھی۔ زویا ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا۔
بولو بیٹی کیا بات ہے کچھ پریشان لگ رہی ہو۔ وہاں حویلی مین زیادہ تو ظلم نہیں کرتے؟ زلیخہ بیگم۔فکر مندی سے بولیں۔
نہیں اماں اب وہاں سب ٹھیک ہے۔ التمش نے سب ٹھیک کر دیا ہے۔ مجھے آپ کو یہ کہنا تھا۔ کہ آپ نے پچھلے ایک سال سے میرا بہت دھیان رکھا۔ یہاں کے لوگوں سے جھوٹ بھی بہت بولے۔ مجھے اپنی بیٹی بنایا۔ میری ماں تو نہیں ہے پر آپ مین مجھے اپنی ماں نظر آتی ہے۔ آپ نے ہمیشہ مجھے بیٹی سمجھ کر میرا خیال رکھا۔ پر اب میرا کام پورا ہونے والا ہے۔ میں ایک ڈیڈھ ہفتے میں یہاں سے جانے والی ہوں۔ کبھی نا واپس آنے کے لیے۔ بس آپ سے آخری ملاقات ہے۔ زویا بولتے بولتے رو دی۔۔
میری بچی۔۔میں نے تو تیری ماں کا احسان اتاڑنے کی حقیر سی کوشش کی ہے۔ بہت نیک خاتوں تھی۔ میری بہت مدد کی۔ تم مجھے میری بیٹی ہی لگتی ہو۔ پریشان مت ہونا سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ زلیخہ بیگم نے اسکے ماتھے کو چومتے ہوۓ کہا۔
آپ روحان، جبران بھائی کا بہت خیال رکھنا زندگی مین کبھی بھی میری مدد کی ضرورت پڑے تو فون کیجیے گا۔ وہ ان کے گلے لگ کر بولی۔۔
زویا ایک بات کہوں۔ میری بیٹی زندگی میں کبھی بھی ان رشتوں کو مت کھونا جو تمہارے لیے اچھا سوچتے ہوں۔ جو تمہاری بھلائی کے بارے میں تم سے زیادہ فکر مند ہوں۔ جنہیں تمہاری خوشی اپنی خوشی سے زیادہ اہم ہو۔ وہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولیں۔
آپ کس کی بات کر رہی ہیں۔ زویا سوالیہ نظروں سے بولی۔۔
کبھی کبھی ہمیں وہ ٹھیک لگتا ہے جو ہم کر رہے ہوں۔ چاہے اس چکر میں سامنے والے کے دل کو ٹھیس ہی کیوں نا لگ جاۓ۔ میری باتیں تمہیں ایک دن ضرور سمجھ آئیں گئی۔ چلو اب روحان کے پاس چلتے ہیں۔ زلیخہ بیگم اسے اُٹھاتے ہوۓ بولیں۔
آپ یہ سب التمش کے لیے بول رہی ہیں؟ اماں آپ کیسے بھول سکتی ہیں روحان کا یہ حال انہوں نے ہی کیا ہے۔ زویا نا جانے کیا سننا چاہتی تھی۔
اس نے جو کیا اسکی معافی بھی مانگی۔ اگر اپنی ماں کی بات مانوں تو جو کر رہی ہو سب بند کر دو۔ اور التمش کے ساتھ زندگی ہنسی خوشی گزارو۔ اس جیسا انسان تمہیں ساری زندگی نہیں ملے گا۔ آج وہ جو کچھ ہمارے لیے کر رہا ہے۔ اس سے یہ بات تو طے ہے۔ وہ انسان دل کا بہت صاف ہے۔ آگے تمہاری اپنی مرضعی چلو۔۔۔ زلیخہ بیگم بول کر کمرے سے نکل گئیں۔۔
زویا کتنے ہی پل زلیخہ بیگم کی باتیں سچی رہی۔ وہ یہ سب خود بھی جانتی تھی۔ اور مانتی بھی تھی۔ پر اپنا بدلہ اسے سب سے زیادہ اہم تھا۔ شائد التمش سے بھی زیادہ۔۔۔۔۔اپنا سر جھٹک کر وہ روحان کے کمرے میں داخل ہوئی ۔
جہاں روحان آہستہ آہستہ التمش سے بات کر رہا تھا۔ التمش کئی دفع اس سے معافی مانگ چکا تھا۔ زلیخہ بیگم ایک طرف بیٹھی سورت پڑکر روحان پر پھونک مار رہی تھی۔۔ وہ چپ کر کے روحان کے بیڈکے پاس پڑی دوسری کرسی پر بیٹھ گئی۔۔ التمش روحان سے باتیں کرنے میں مصروف تھا۔ جبران نے دو گلاس جوس ان دنوں کی طرف بڑھایا۔ التمش نے مسکرا کر لے لیا۔۔
جبران بھائی دیکھیے گا۔ کچھ ہی دنوں میں یہ بالکل فٹ ہو جاۓ گا۔ پھر میرا وعدہ ہے۔ اسے اپنے ساتھ کام پر لگاؤ گا۔۔ التمش مسکراتے ہوۓ جبران سے مخاطب ہوا۔
ارے بالکل کیوں نہیں۔ جب چاہیے لے جائیے گا۔ کام پر لگائیں۔ ویسے یہ ہے تو نکمہ۔۔ جبران نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔ التمش بھی ہنس دیا۔۔ زویا سب جو یوں ہنستے مسکراتے دیکھ کر تھوڑا سا حیران ہوئی۔ التمش یوں باتیں کر رہا تھا جیسے وہ ان کا بہت کلوز فرینڈ ہو۔ زویا روحان سے باتیں کرنے لگی۔۔۔۔۔
زویا اور التمش تین گھنٹے وہاں بیٹھے رہے۔
زویا کافی دیر ہو گئی۔ چلیں۔ التمش نے اسکی طرف جھک کر کہا۔
ہمم زویا نے گردن ہلائی۔ وہ کرسی سے کھڑی ہو گئی۔۔
اماں اب ہم چلتے ہیں ۔انشااللہ جلد ملاقات ہو گئی۔ وہ زلیخہ بیگم کے گلے لگ کر بولی۔۔
اللہ تمہیں اپنی حفاظت میں رکھے۔ میری بچی۔ زلیخہ بیگم نے اسکا ماتھا چوم کر کہا۔ زویا نے اپنے آنسوں رُکے اور سب سے مل کر باہر آئی۔ جہاں التمش جبران کے ساتح بات کر رہا تھا۔ اسے دیکھ کر وہ جبران کو خدا حافظ کہنے لگا۔۔
دونوں باہر کھڑی جیپ میں آ کر بیٹھے۔ زویا نے اب آنے والے آنسوں کو نہیں رُکا۔ التمش نے جیپ چلا دی۔۔۔ زویا جانتی تحی وہ ان سب سے آخری دفع مل رہی ہے۔ اسی لیے وہ رو دی۔ پچھلے ایک سال سے وہ یہاں رہ رہی تھی۔ سب سے بہت کلوز ہو چکی تھی۔ روحان اور جبران دونوں اسے چھوٹی بہن کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔
میں تمہیں اس لیے نہیں لے کر آیا تھا۔ کہ تم یوں رونا شروع کر دو۔ جب وہ کافی دیر تک چپ نا کی تو التمش اسکا موڈ فریش کرنے کے لیے بولا۔۔
کیا کروں ایموشنل ہو گئی۔ وہ آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولی۔
چلو تمہیں وہ جگہ دیکھتا ہوں جہاں کالج بننا شروع ہوا ہے۔ التمش اسکا دھیان بٹانے کے لیے بولا۔۔
کیا شروع بھی کر دیا کیسے آپ کے پاس تو پیسے بھی نہیں ہیں۔ اور حویلی میں بھی کسی نے نہیں دینے۔ زویا حیرانگی سے بولی۔۔۔
بیگم پیسے کی فکر چھوڑو۔ یہ کالج فنڈز پر بن رہا ہے۔ میرا اس میں کوئی پیسہ نہیں لگا التمش جیپ کو کالج والی زمین کے سامنے رُک کر بولا۔۔
مجھے تویقین ہی نہیں آ رہا یہاں سچ میں کالج بن رہا ہے۔ زویا جیپ سے اتر کر خوشی سے بولی۔۔
میڈیم یقین کر لو ۔ تمہارا یہ شوہر اب کالج کو پورا کر کے ہی دم لے گا۔ وہ جھک کر بولا۔۔ زویا مسکرا دی۔ اور آس پاد دیکھنے لگی جہاں پر واقع کام شروع ہو چکا تھا۔ کل ہی التمش نے کام شروع کروایا تھا۔
بہت اچھا ہوا کالج بن گیا۔ میں نا اس گاؤں کو بہت خوبصورت دیکھنا چاہتی ہوں۔ زویا سوچتے ہوۓ بولی۔۔۔
خوبصورت مطلب؟ ابھی کیا خوبصورت نہیں ہے۔ التمش ناسمجھی سے بولا۔۔
ہے پر اتنا نہیں۔ نا تو سڑکیں صحیح ہیں۔ اور نا ہی چھوٹا سا پارک ہے۔ اور نا ہی کوئی بیکری اگر بیکری ہوتی نا تو سب سے پہلے میں نے گلاب جامن کھانے تھے۔ کتنے مہینے یو گے۔ کبھی گلاب جامن نہیں کھاۓ۔ وہ سوچتے ہوۓ بولی۔ من میں گلاب جامن کی تصویر لے آئی۔
ہاہا بولو تو آج ہی گلاب جامن منگوا دوں۔ التمش اسکی باتین سن کر ہنس دیا۔
پلیز میرے گلاب جامن پر کوئی مزاق نہیں۔ وہ منہ بسور کر بولی۔۔
اوکے زویا گلاب جامن والی۔۔ وہ نقاب کے اوپر سے ہی اسکا ناک دبا کر بولا۔۔ اور پلٹ کر جیپ میں بیٹھا۔ زویا بھی چلتی ہوئی جیپ میں بیٹھی۔۔۔
اچھا اب سیریس مجھے نا یہاں لوگوں کے چہروں پر پھیلی افسردگی غریبی اچھی نہیں۔ لگتی۔ہیں۔ کاش میرے پاس اتنے پیسے ہوتے سب کے دکھ ختم کر دیتی۔ جتنا وہ سب محنت کرتے ہیں۔ اتنے پیسے نہیں ملتے۔ ہمارے ساتھ والے گھر میں ایک بزرگ ہیں۔ وہ اس عمر میں بھی گھنٹوں فصلوں میں کام کرتے ہیں پھر بھی ان کے گھر کبھی کبھی رات کا کھانا نہیں بنتا۔ یہاں اس معاشرے میں محنت غریب کرتا ہے۔اور اسکا معاوضہ امیر لے جاتا ہے۔ اور غریب کو تھوڑے سے پیسے ملتے ہیں۔ جس میں وہ بے چارہ کچھ بول ہی نہیں پاتا۔ کیونکہ یہاں کا امیر اسکو دھماکا دیتا ہے۔وہ افسردہ لیجے میں ہوئی۔ التمش بری غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔
تم بہت حساس ہو۔ اتنا مت سوچا کرو۔ جتنا کم سوچو گئی خوش رہو گئی۔ زیادہ سوچو گئی تو خود کو ہی تقلیف ہو گئی۔ وہ اسکو سمجھاتے ہوۓ۔ زویا نے ہاں میں سر ہلایا۔ التمش نے جیپ چلا دی۔ زویا نے مسکرا کر اپنا سر بیک سیٹ پر لگا دیا۔ التمشکے سنگ یہ چند گھنٹے اسے بہت پُر سکون لگے۔۔
کچھ ہی دیر میں وہ دونوں حویلی پہنچ گے۔ زویا جیپ سے باہر نکلی۔۔التمش کی نظر ایک طرف کھڑی دو گاڑیوں کی طرف گئی۔ وہ زویا کے ساتھ حویلی کے داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔
حال میں سے باتیں کرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔ وہ دونوں چلتے ہوۓ آگے بڑھے۔
سامنے صوفے پر حمیدہ بیگم ،منت سیرت اور نائلہ بیٹھے تھے۔ وہی دوسرے صوفے پر حازم اور سِراج اور ماجد بیٹھے تھے۔ ایک صوفے پر جہانگیر خان ، رفاقت صاحب اور سہیل صاحب بیٹھے ہوۓ تھے۔
السلام علیکم! التمش وہاں جانا تو نہیں چاہتا تھا۔ ہر صائمہ بیگم کے اِشارے کو دیکھ کر وہ آگے بڑھا۔
وعلیکم السلام! حازم نے جواب دیا۔ جس کی آواز میں انجانی سی خوشی تھی۔ پر جیسے ہی اسکی نظر التمش کے ہاتھ پڑی۔ اسکا چہرہ سنجیدہ ہو گیا۔ زویا کا ہاتھ التمش کے ہاتھ میں تھا۔ زویا کو اپنی جان جاتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔ وہ نقاب تو اتار چکی تھی۔ پر سیرت اور منت کو پہلے ہی حازم نے منع کر دیا تھا۔
التمش یہاں بیٹھو۔ جہانگیر خان نے اسے ساتھ پڑے خالی صوفے کی طرف بیٹھنے کا اشارہ کر رہے تھے۔ وہ بیٹھنا تو نہیں چاہ رہا تھا۔ پر اب مجبوری تھی۔
التمش آپ بیٹھیں مین سب کے لیے چاۓ کا بندوبست کر لوں۔ زویا نے اسکے بازو پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا تا کہ وہ اسکا ہاتھ چھوڑ دے۔ کیونکہ وہ حازم کی وارنگ دیتی نظروں کو دیکھ چکی تھی۔ التمش نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا۔ اگلے ہی پل وہ وہاں سے بھاگی اور کیچن میں جا کر سانس لیا۔۔
دیکھیں جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں۔ ہم یہاں کس مقصد کے لیے اکھٹے ہوۓ ہیں۔ بچوں نے جو غلطی کی ہے۔ اسکا اب ڈھنڈوڑا پیٹنے اور معاشرے میں بے عزتی کروانے سے بہتر ہے۔ ہم سب یہی پر معاملہ ختم کر دیں۔ نکاح تو ہو چکا ہے۔ تو بس اب رخصتی کی تاریخ رکھ لیں۔ جہانگیر خان نے بات شروع کی۔
جی بالکل۔ غلطی ان دونوں کی ہے۔ پر اسکے اوپر اگر ہم اپنا فیصلہ مسلت کرنے کی کوشش کریں گے۔ تو معاملہ بگڑ جاۓ گا۔ اصل میں میرے ڈیڈ ابھی شہر میں نہیں ہیں۔ پر وہ شادی پر پہنچ جائیں گے۔ آپ بتائیں کونسی تاریخ مناسب ہے۔ ہم فائینل کر دیں گے۔ حازم بولا۔
زویا نجو کے ساتھ چاۓ کے لوزمات لے کر آئی۔۔
زویا یہاں آ کر بیٹھو۔ نجمہ چاۓ سرو کر دے گئی۔التمش نے زویا کو کہا جو کہ چاۓ کپ میں ڈالنے لگی تھی۔ التمش کی بات سن کر وہ ہچکچاتے ہوۓ التمش کے پاس صوفے پر آکر بیٹھی۔ بیٹھتے ہی اسکی نظر حازم پر پڑی۔ جو کہ لال انگاروں سے بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ زویا نے نظریں پھیر لیں۔
اصل میں ہم۔چاہتے ہیں یہ فرض جلدی سے ادا ہو تو ہفتے کا دن ٹھیک ہے۔ جہانگیر خان نے سب کی طرف دیکھ کر بولا۔۔
ہفتہ وہ تو دو دن میں ہے۔ حمیدہ بیگم نے حیرانگی سے کہا۔۔
جی ٹھیک ہے۔ جیسا آپ کو مناسب لگے۔ ہم بھی چاہتے ہین۔ سب معاملے جلد ہی ختم ہو جائیں۔ سب کو سکون کی نیند آۓ۔ حازم نے کہتے ہوۓ زویا کو دیکھا زویا اسکا مطلب خوب سمجھتی تھی۔
التمش میری طبعیت ٹھیک نہیں میں کمرے میں جا رہی ہوں۔ زویا وہاں سے اُٹھ کر جانا چاہتی تھی۔ تبھی التمش کو آہستہ آواز میں بولی۔۔
کیا ہوا؟ اگر زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس لے چلو۔ وہ فوراً پریشان ہو گیا۔۔
نہیں بس تھک گئی ہوں۔ سونا چاہتی ہوں۔ زویا نفی میں سر ہلا کر بولی۔۔
چلو ٹھیک ہے چلی جاؤ۔ التمش نے اسکے چہرے پر بے چینی دیکھ کر کہا۔ زویا اگلے ہی پل وہاں سے اُٹھ کر چلی گئی۔۔۔
تاریخ طے ہو گئی۔ حویلی مین کھانے کا بھرپور انتظام کیا گیا تھا۔ سب کھانا کھانے کے لیے اُٹھے۔
سِراج جہانگیر خان کی طرف بڑھا۔
میں جانتا ہوں میں جو بھی بولوں گا آپ کو سب بکواس لگے گا۔ بے مقصد لگے گا۔ پر میں صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں۔ میں اریشہ سے بے پناہ محبت کرتا ہوں۔ اسی چکر میں ہم سے یہ سب ہوا۔ جانتا ہوں یوں چھپ کر نکاح نہین کرنا چاہیے تھا۔ پر سب چھن جانے کے عالم مین ہوا۔ مین اسے کھونا نہیں چاہتا تھا۔ آپ مجھے اس غلطی پر معاف کر دیں۔وہ ان کے پاس آ کر ہاتھ جوڑکر بولا۔۔
سِراج ملک ہم خان خاندان سے ہیں۔ اور خانوں میں کسی لڑکی کی طرف اگر آنکھ بھی اُٹھا کر دیکھ لو تو یہاں قتل و غارت شروع ہو جاتی یے۔ اور تم نے تو ہمارے ہوتی سے سیدھا نکاح کیا یے۔ وہ بھی چھپ کے۔ہم اگر تمہیں اسے رخصت کر کے کے جانے کی آجازت دے رہے ہیں۔ تو اسکے پیچھے صرف اپنی بچی کچی غزت کا مزید جنازہ نا نکلے اس لیے کر رہے ہیں۔ دوسرے بات اسے اگر خوش رکھو گے تو معافی خود با خود ہی مل جاۓ گئی۔ جہانگیر خان اپنے مخصوص روب درانہ انداز میں بولے۔۔۔ سِراج تو پہلے ہی ان کی شخصیت کے زِیرِ اصر تھا۔ اب انکا یوں کہنا اسے مزید ڈرا گیا۔
التمش اب مزید ڈرامہ نہیں کر سکتا تھا۔ تو وہ اُٹھا اور کمرے مین چلا گیا۔
کمرے مین داخل ہوا تو زویا کو کھڑکی کے سامنے کھڑے دیکھا۔
طبعیت کچھ ٹھیک ہوئی کہ نہیں التمش اسکے قریب آکر بولا۔
وہ سب چلے گے۔ زویا نے جلدی سے پوچھا۔
کیا ہوا تم اسطرح کیوں بی ہیو کر رہی ہو۔۔ وہ ابھی یہی ہیں کھانا کھا رہے ہیں۔ میں مزید ڈرامہ نہیں کر پایا تو اوپر آ گیا۔ وہ بول کر صوفے پر بیٹھا اور جوتے اتارنے لگا۔۔
زویا دوبارہ کھڑی سے باہر دیکھنے لگی۔۔۔
دو دن بعد کی ڈیٹ فیکس ہوئی ہے۔ تیار کر لو۔ رخصتی کے بعد ہم لوگ یہاں سے جانے والے ہیں۔ وہ اپنے جوتے سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولا۔۔
ویسے ہم کہاں جائیں گے۔ آپ کے پاس تو پیسے بھی نہیں۔۔ زویا نے کچھ سوچ کر پوچھا۔
تمہارا شوہر ابھی اتن کنگال نہیں ہوا جو رہنے کے لیے جگہ نا ہو۔ میرا ایک گھر ہے۔ جسے دیکھ کر تم خود بھی دھنگ رہ جاؤ گی۔ ہاں پا اس بات کی گرنٹی نہیں ماجد لالا اسے چھین نا لیں۔ وہ آخر میں ہنس کر بولا اور اُٹھ کر واشروم کی طرف بڑھا۔۔۔۔
زویا کو اسکی ہنسی میں بھی درد محسوس ہوا۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔