No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
ارسلان کی موت کی خبر پورے گاؤں میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی۔ روحان ابھی تک گھر واپس نہیں آیا تھا۔وہ ناجانے کہاں چھپ گیا تھا۔۔۔۔زلیخہ بیگم کا رو رو کر برا حال تھا زویا انہیں سھنمبالنے میں ہلکان ہو رہی تھیں۔۔۔ جبران روحان کو ڈھونڈے نکلا ہوا تھا۔۔۔
وہی دوسری طرف خان حویلی میں موت کا سما تھا۔۔۔
۔حویلی کا سب سے ہنس مکھ لڑکا ،ہر کسی کے چہرے پر مسکان لانے والا آج آنکھیں موندھے سب کی آنکھوں میں آنسوں دے کر ہمیشہ کے لیے دکھ دے کر چلا گیا تھا۔۔۔۔رات تک ارسلان کی میت حویلی آ چکی تھی۔۔آج سالوں بعد حویلی میں وہی خوف ناک ماحول تھا۔ موت کا شور ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔۔۔
صائمہ بیگم اپنے لاڈلے بیٹے کو یوں دیکھ کر بار بار غش کھا رہیں تھیں۔۔ اریشہ بامشکل ہی انہیں سھنمبال پا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔کوئی کیسے یقین کر سکتا ہے کہ آج صبح جو انسان ٹھیک ٹھاک گھوم پھر رہا تھا۔۔ہنستے کھیلتے گھر سے نکلا تھا۔ رات کویوں سفید چادرمیں لپٹا واپس آۓ گا۔ِ۔۔۔۔
سہری تین بجے تدفین کی گئی۔۔۔۔۔تدفین کر کے سب شکستہ قدموں سے واپس حویلی میں داخل ہوۓ۔۔۔۔
اس کا تو کوئی قصور بھی نہیں تھا۔۔۔۔۔لڑائی تو میں نے شروع کی تھی۔۔۔مجھے بچاتے بچاتے وہ خود جان سے ہاتھ دھو بھیٹا۔۔۔۔۔شمس گارڈن میں کھڑے ہوتے ہوۓ بول رہا تھا۔۔۔۔۔
کاش ہم دونوں لڑائی کو اتنا نا بڑھاتے تو ابھی وہ ہمارے ساتھ ہوتا۔۔۔۔سعد اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔
میں اس روحان کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑوں گا۔۔۔۔شمس غصے سے زمین ہر پاؤں مارتے ہوۓ بولا۔۔۔
پلیز لالا بس کریں اتنا برا نقصان ہو چکا ہے اب خدا کے لیے اس لڑائی کو مزید مت کھینچں سعد ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔اور وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
وہ اپنے کمرے کے ساتھ بنی بالکنی میں بیٹھا ہوا تھا۔۔سامنے کچھ تصویریں پڑی ہوئیں تھیں وہ ہر تصویر پر ہاتھ پھیر رہا تھا۔۔۔ساتھ میں اس کی آنکھوں سے آنسوں روانہ ہو رہے تھے۔۔۔۔
لالا پلیز مان جائیں وہ میرا جگری دوست ہے۔۔آگر وہ ناراض ہو گیا۔۔۔تو میں بھی ناراض ہو جاؤ گا۔۔۔
کیوں ؟ کیونکہ وہ ایک غریب کی شادی ہے یہی وجہ ہے نا۔۔
آپ یہ سوچ کر نہیں بھیج رہے۔۔کہ کہی وہ مجھے مار نا دے۔۔۔۔۔یا مجھ پر حملہ نا کر دے۔۔۔۔لالا آپ شائد بھول رہے ہیں۔۔۔انسان کی جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہیں ہے۔۔۔میں اس ڈر سے وہاں نا جاؤ۔۔۔ایسا ممکن نہیں۔۔۔۔
لالا شادی سے آکر رات کو بیڈ منٹن کھیلں گے۔۔ آج بھی ہارنے کے لیے تیار رہو۔۔۔۔۔۔
صبح ہوئی باتیں اس کے اردگرد شور کر رہیں تھیں۔۔۔۔
کاش میں نے تجھے وہاں جانے کی آجازت نا دی ہوتی۔ وہ نم آنکھوں سے تصویر کو دیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
کبھی کبھی یوں آچانک سے ہماری زندگی میں ایسے موڑ آ جاتے ہیں جن کے بارے میں ہم نے کبھی سوچا نہیں ہوتا۔۔ہم اپنی زندگی میں بہت خوش اور مطمئن ہوتے ہیں۔پھر اچانک ہوا کے جھونکے کی طرح ساری خوشیاں اُڑ جاتی ہیں۔۔اور پیچھے صرف غم رہ جاتے ہیں۔۔۔۔صرف غم۔۔۔۔۔۔۔پر ان غموں سے خود کو نکالنا ہی سب سے بری جنگ ہوتی ہے۔۔۔
میرے بھائی میرا التمش خان کا وعدہ ہے۔ اس انسان کو کتے کی موت دوں گا۔۔جس کی وجہ سے تم آج ہم سے جدا ہو گے ہو۔ میری زندگی کا مقصد اس انسان کو ترپتے دیکھنا ہے۔۔ وہ لال انگارے بھری آنکھوں سے سامنے دیکھتے ہوۓ خود سے عہد کر رہا تھا۔۔
خوبصورت دن کا اختطام بہت ہی بھیانک انداز میں ہوا تھا۔
روحان رات کے تین بجے گھر آیا تھا۔۔۔۔دو منٹ زویا سے بات کر کے وہ گھر سے چلا گیا۔۔۔۔۔اس نے زویا کو بتایا کہ وہ شہر جا رہا ہے۔۔۔۔۔۔صبح سے جبران پنچائت میں گیا ہو تھا۔
زویا اور زلیخہ بی دعائیں کری جا رہیں تھیں۔۔
آپ سب لوگوں کو پتہ ہے۔ اس لڑکے کی وجہ سے ہمارا سب سے چھوٹا پوتا مارا گیا۔۔۔ اس گاؤں کا سرپنچ ہونے کے ناطے میں یہ فیصلہ لیتا ہوں۔کہ اس لڑکے کو الٹا لٹکا کر سو کُوڑے مارے جائیں۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔جہانگیر خان ایک پل کو رُکا۔۔۔۔۔اور سب کی طرف دیکھا۔۔۔
جبران کا دل زور سے ڈھڑکا۔۔اسے لگا شائد کُوڑے مارنے تک ہی سزا ہو اور جو وہ سوچ رہا تھا۔۔۔وہ بالکل نا ہو۔۔۔۔۔۔۔لیکن ہونے کو کون ٹال سکتا ہے۔۔۔
اور کیا سائیں ۔۔۔وہی سے ایک بزرگ بولا۔۔۔۔۔۔
اور یہ کہ ہم خون کا بدلہ خون نہیں لیں گے۔۔۔۔باکہ ہم خون بہا میں ان کے گھر کی لڑکی لیں گے۔۔۔۔۔ آج اور اسی وقت ہم ان کی لڑکی کا نکاح اپنے پوتے التمش کے ساتھ کریں گے۔ جہانگیر خان کا فیصلہ سب کے قدموں تلے زمین لے گیا۔۔۔سبھی جانتے تھے خون بہا میں آنے والی لڑکی کا کیا حال ہوتا ہے۔۔۔۔نوکروں سے بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔ نا وہ زندوں میں ہوتی ہے نا مردوں میں۔
سائیں میری ایک ہی بہن ہے یہ ظلم مت کریں۔۔۔وہ بہت چھوٹی ہے۔۔۔۔یہ ظلم۔مت کریں میں آپ کے پیر پکڑتا ہوں۔۔یہ سب میری غلطی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔آپ مجھے موت کی سزا سنا دیں لیکن میری بہن کو۔۔۔۔۔۔روحان جس کے ہاتھ بندھے ہوۓ تھے وہ یہ اب سن کر بھاگتا ہوا جہانگیر خان کے قدموں میں بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
غلطی صرف غلطی،ہنم تمہاری اس غلطی کی وجہ سے میرا بیٹا چلا گیا۔۔۔خبیث انسان خالد صاحب نے اس کے پیٹ میں اپنا پاؤں مارا تو وہ دور جا گِڑا
دادا حضور میں یہ سب ماننے سے۔ نکار کرتا ہوں۔۔۔میں کسی سے نکاح نہیں کروں گا۔۔۔۔اس روحان کی بہن کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔التمش کی آواز پنچائیت میں گھونجی۔۔۔۔
وہ روحان کو دیکھ کر جان چکا تھا۔اسی لڑکی کی بات ہو رہی ہے۔۔جسے وہ دل ہء دل میں بہت اونچے مقام پر بیٹھا چکا تھا۔۔۔لکن ابھی محبت کی جڑیں اتنی مظبوط نہیں ہوئیں تھی کہ اپنے بھائی کی موت بھولی جا سکے اسے روحان اور اس سے جُڑے ہر انسان سے نفرت سی ہونے لگی
برخردار ہم اسے تمہاری بیوی نہیں بنانے لگے۔۔بس نکاح کرنے لگے ہیں۔اس لڑکی کا نکاح تو آج ہی ہو گا۔۔۔چاہے مجھے پھر سعد سے کیوں نا کروانا پڑۓ۔۔۔۔۔جہانگیر خان سخت لہجے میں بولے۔۔۔۔۔
التمش کڑوا گھونٹ ہی کر رہ گیا۔۔۔۔وہ جانتا تھا۔اب نکاح کرنا ہی پڑے گا۔۔۔کیونکہ سعد کا تو پہلے ہی ماہ رخ سے نکاح ہو چکا تھا۔۔۔شمس کے لیے اریشہ کی بات چل رہی تھی۔۔۔اور باقی سب شادی شدہ تھے۔۔۔بچتا صرف التمش تھا۔ اگر وہ انکار کرتا تو کسی سے بھی نکاح ہو سکتا تھا۔۔۔۔
جاؤ میاں اپنی بہن کو لے کر آؤ۔ جہانگیر خان نے جبران سے کہا۔۔۔۔جو اپنے آنسوں کا صاف کرتا روحان کی طرف دیکھتا گھر کی اُور چل دیا۔۔۔۔
الٹا لٹکاؤ اسے التمش ہاتھ میں ہنٹر لیے اس کی طرف مُڑا۔۔۔۔روحان کو الٹا لٹکایا جا چکا تھا۔۔۔۔
التمش کسی نوکر کو بولو وہ مارے گا۔۔تم۔کیوں اپنے ہاتھ گندے کر رہے ہو۔۔۔ رفاقت صاحب بولے۔۔۔۔۔
نہیں چاچو اپنے بھائی کے قاتل کو میں خود سزا دینا چاہتا ہوں۔۔۔وہ بول کر آگے بڑھا اور ہنٹر کو روحان کی برہنہ قمر پر مارا۔۔۔۔۔روحان کی چیخ فضا میں ابھری۔۔۔۔۔وہ الٹا لٹکایا گیا تھا۔۔۔ہاتھ اس کے بندہ تھے۔۔۔۔۔۔التمش غصے میں ماری جا رہا تھا۔۔۔اور روحان بس چیلا رہا تھا۔۔۔۔
کیا ہوا لالا پنچائت کا کیا فیصلہ ہوا۔۔۔۔زویا بھاگ کر جبران کے پاس آئی۔۔
انہوں نے روحان کو پکڑ لیا ہے۔۔۔۔۔۔
یا اللہ میرا بچہ زلیخہ بی دل پر ہاتھ رکھ کر چلائیں۔۔۔۔۔۔
اماں حوصلہ رکھیں زویا جلدی سے آگے بڑھی۔۔۔۔۔۔
انہوں نے بولا ہے کہ خون بہا میں بہن کو لاؤ جبران بول کر چارپائی پر بیٹھ کر رونے لگ گیا۔۔
زویا کا سر گھوم گیا۔۔۔وہ اتنی بھی بچی نہیں تھی جو خون بہا میں گئی لڑکی کا مطلب نا سمجھ پاۓ۔۔۔۔اس گاؤں میں شروع سے ہی ایسا ہوتا آیا تھا۔۔۔۔۔
پر جبران تو جاتنا ہے ایسا نہیں ہو سکتا ہم ایسا نہیں کر سکتے۔۔۔وہ روتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔۔زویا کا سکتہ ٹوٹا
اماں اُٹھو میری بات سنو۔۔۔زویا انہیں لیے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔دس منٹ بعد وہ واپس آئی۔۔۔کالی چادر میں اپنا آپ ڈھانپے وہ جبران کے سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔
چلیں لالا میں تیار ہوں۔۔۔وہ مظبوط لہجے میں بولی۔۔۔
جبران اپنے دونوں ہاتھ جوڑ کر رو دیا۔۔۔
مجھے شرمندہ مت کریں۔۔۔زویا نے اسکے ہاتھ نیچے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔
زلیخہ بی سے مل کر وہ جبران کے ساتھ اس گھر کی دہلیز پار کر گئی۔۔۔۔جانے اب زندگی میں دوبارہ ایسا موقع ملے یا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنے چہرے کو چادر سے ڈھانپ کر وہ جبران کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔۔۔۔۔
پانچ منٹ کے اندر وہ لوگ اس جگہ پہنچ گے جہاں پر برے سے درخت کے نیچے پنچائت لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
روحان لالا زویا کی نظر سامنے درخت سے ساتھ لٹکے روحان پر پڑی۔ جس کی قمر سے اب خون نکل رہا تھا۔۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی وہاں پہنچی۔۔۔۔۔
بس بہت ہوا۔۔۔۔التمش جو کہ اسے مارے جا رہا تھا۔۔۔۔اپنے سامنے کھڑی لڑکی پر نظر پڑی جو کہ ہنٹر کا اگلا حصہ اپنے ہاتح میں پکڑے کھڑی تھی۔۔۔اور دوسرے ہاتھ سے چادر سھنمبالی ہوئی تھی۔۔۔۔
آج بھی اپنے سامنے انہی دو نیلی آنکھوں کو دیکھ کر وہ ایک پل کے لیے گھویا تھا۔۔پر دوسرے ہی پل انہیں آنکھوں میں لالی ابھری تھی۔۔۔۔۔
چھوڑ وہ دھاڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔سب کے سب ایک دم چپ کر گے۔۔۔۔۔
میں نے تو سنا تھا آپ لوگوں کو انصاف دیتے ہیں۔۔۔تو یہ کہاں کا انصاف ہے۔۔۔ایک طرف آپ خون بہا مانگ رہے ہیں اور دوسری طرف یوں میرے بھائی کو مار رہے ہیں۔۔۔۔زویا ہنٹر چھوتے ہوۓ جہانگیر خان کی طرف مُڑی۔۔۔۔۔
سب کے سب ایک دھان پان سی لڑکی کی اتنی ہمت پر دھنگ رہ گے۔۔۔آج تک گاؤں کی کسی عورت میں اتنی ہمت نا تھی کہ وہ یوں خان کے کسی بھی مرد کے سامنے بول سکے۔۔۔اور زویا بنا کسی خوف کے بول کیا سوال کر رہی تھی۔۔
یہ میرا گاؤں ہے یہاں میری مرضعی چلے گئی۔۔جو جرم تمہارے بھائی نے کیا ہے اس کی سزا اسے اور اس کے گھر والوں کو ملے گئی۔۔۔۔جہانگیر خان سخت لیجے میں بولے۔۔۔۔
ٹھیک ہے تو آپ سزا دینا چاہتے ہیں تو میرے بھائی کو چھوڑ دیں ورنہ میں کسی سے نکاح نہیں کروں گئی۔۔۔۔وہ مظبوط لہجے میں بولی۔۔۔۔۔
تمہارے تو اچھے بھی کریں گے۔۔۔۔۔التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
یہ تو وقت ہی بتاۓ گا مسٹر التمش خان۔ وہ انگارے بھرتی نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔اور التمش کا ہاتھ اپنے بازو سے جھٹکا۔۔۔۔
مولوی نکاح شروع کرو۔۔التمش ہنٹر روحان کو مارتے ہوۓ بولا۔۔۔۔اس سے پہلے روحان کو لگتا زویا درمیان میں آ گئی۔۔۔۔۔
مولوی نے نکاح پڑھانا شروع کیا۔۔۔۔ التمش نے زویا کی طرف دیکھتے ہوۓ قبول ہےکہا۔۔۔۔۔۔جب زویا کی باری آئی تو وہ خاموش رہی۔۔۔۔۔۔
اب بلواں میرے منہ سے نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔التمش کا دل کیا اس کے چہرے پر تھپڑ رسید کر دے پر گاؤں والوں کے سامنے وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔
قبول ہے بولو ورنہ ابھی کے ابھی تمارے بھائی کو اوپر پہنچا دوں گا۔۔۔ التمش جیب سے پسٹل نکالتے ہوۓ بولا۔۔۔
۔سب کے سب حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
ماریں۔۔۔۔۔پھر تو قصہ ہی ختم ہو جاۓ گا۔۔۔ حساب جو برابر ہو جاۓ گا۔۔۔۔ میرے بھائی کے ہاتھوں آپ کے بھائی کی جان گئی۔۔۔تو میں ونی میں آپ کی حویلی میں جاؤ گئی۔۔۔اسی طرح آپ کے ہاتھوں میرے بھائی کی اگر جان جاۓ گی تو آپ کی بہن۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ امصاف تو یہی کہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بولی تو سب کے سب چپ ہو گے۔۔۔۔۔التمش کے ہاتھ لرزے۔۔۔۔۔۔۔
بس بہت ہوا۔۔۔۔۔اس لڑکے کو نیچے اتارو۔۔۔۔۔جہانگیر خان کی آواز گھونجی۔۔۔۔نوکروں نے جلدی سے اسے نیچے اتارا۔۔۔
۔جبران نے جلدی سے روحان کو پکڑا جس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔۔۔۔۔
چلین مولوی صاحب اب نکاح پڑھوائیں۔۔یہ اواز زویا کی تھی۔۔۔۔۔التمش نے کڑوے گھونٹ بھرتے نکاح کیا۔۔۔۔۔۔نکاح پورا ہوا۔۔۔تو پنچائیت بھی برخاست کر دی گئی۔۔۔۔
لالا پریشان مت ہونا میں جلدی ہی واپس آؤں گئی۔۔۔۔وہ روحان اور جبران کے گلے لگتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
التمش نے اس کا بازو پکڑکر ان سے جدا کیا اور اپنی جیب کی طرف لے گیا۔۔۔۔۔ جبران اور روحان نم آنکھوں سے زویا کو جاتے ہوۓ دیکھتے رہے ۔۔۔۔۔
اس نے جاتے جاتے بھی مجھ ہر احسان کر دیا۔۔۔۔۔روحان روتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔جبران اسے لیے ہسپتال کی طرف چلا گیا۔۔۔۔سارے گاؤں والے اپنے اپنے گھروں کی طرف چلے گے۔۔۔۔۔حویلی کے سب مرد اپنی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر حویلی کی طرف گامزن ہو گے۔۔۔۔۔
زویا جیپ میں بیٹھنے لگی۔۔۔۔۔تبھی التمش نے اسے بازو سے پکڑ کر کھینچا۔اس کا رخ اپنی طرف کیا۔ وہ اس سب کے لیے بالکل تیار نہیں تھی۔۔۔چادر چہرے سے ہٹ گئی۔۔۔وہ ایک ٹک اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔جس چہرے کو دیکھنے کے لیے وہ بےتاب تھا۔۔اج اس کا چہرہ اپنے سامنے دیکھ تو لیا پر سارے احساسات مر چکے تھے۔۔۔۔اپنا سر جھٹک کر اس نے پیچھے پڑی ہوئی رسی کو لیا اور زویا کے دونوں ہاتھوں کو باندھ دیا۔۔۔۔وہ حیرانگی سے اس کی کاروائی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
تم میری بیوی نہیں ہو جو یوں حق سے اپنے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھاؤ۔ ۔بری ہمت والی ہو نا تو چلو آج تماری ہمت چیک کرتا ہوں۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بول کر ڈرائیونگ سیٹ پر آ کر بیٹھا۔۔۔۔۔رسی کا باقی حصہ اس نے سیت کے ساتھ باندھ دیا تھا۔۔۔۔۔زویا کو جب سمجھ آئی وہ کیا کرنے والا ہے۔۔وہ اندر تک کانپ گئی۔۔۔۔
التمش نے جیپ چلا دی۔۔۔۔۔حویلی یہاں سے دو کلو میٹر دور تھی۔۔۔۔ناچارہ زویا کو چلنا پڑا۔۔۔۔۔۔
وہ کبھی آہستہ جیپ چلاتا۔۔۔۔۔اور کبھی اس کی سپیڈ بڑھا دیتا۔۔۔۔وہ ہانپتی کانپتی کبھی چلتی تو کبھی دوڑتی۔۔۔۔ وہ پسینے سے شرابور ہو چکی تھی۔۔۔۔چادر بھی سر سے اُتر چکی تھی۔۔۔۔
راستے میں آتے جاتے لوگ حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔زویا کو اس وقت ایسا محسوس ہوا۔۔۔جیسے وہ کوئی جانور ہے جسے یوں گاڑی سے باندھ کر لے جایا جا رہا ہے۔۔۔۔۔
راستے میں ایک پتھر آیا۔۔وہ سھنمبل نا پائی اور گڑ گئی۔۔۔۔التمش شیشے سے سب دیکھ رہا تھا۔۔۔
اُٹھو۔۔۔۔۔وہ دھاڑا۔۔۔۔۔۔۔زویا جلدی سے اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔ایک بار پھر سے جیپ سٹاٹ ہوئی۔۔۔۔۔آدھے گھنٹے بعد وہ لوگ حویلی کے اندر داخل ہوۓ۔جیپ کے رکتے ہی وہ ایک دم سے زمین پر گِڑ گئی۔۔۔۔
دو کلو میٹر چل کر آنا ہوتا تو وہ کر لیتی ۔۔۔پر یوں کبھی دوڑنا کبھی چلنے سے وہ بہت زیادہ تھک چکی تھی۔۔۔لمبے لمبے سانس لے کر وہ خود کو نارمل رک رہی تھی۔۔۔۔
التمش نے اسے کھڑے کرتے ہوۓ ہاتھوں سے رسی کھولی۔۔۔۔۔
ہار گئی نا ۔۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔۔اور آگے بڑا۔۔۔جب پیچھے سے آواز آئی۔۔۔۔
التمش خان یہ مت سمجھنا۔ میں یہاں تم سب کے ظلم سہنے آئی ہوں۔ وہ اپنے بازوں کو صاف کرتے ہوۓ بولی ۔۔جس پر مٹی لگ گئی تھی۔۔۔۔
ہننہ ظلم! تم جانتی ہو ظلم کیا ہے؟ جو تمہاری اس خبیث بھائی نے کیا ہے وہ ظلم ہے۔۔۔۔میں نے ابھی ٹریلڑ دیکھا ہے۔۔۔۔پوری فلم تمہیں گھر والے دیکھائیں گے۔۔۔۔۔ ہمت پکڑ لو روز یہی حال ہونے والا ہے۔۔ چلو وہ اسے کھینچتے ہوۓ اندر حویلی میں لایا۔۔۔۔
اماں۔۔۔۔۔وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ اونچی اواز میں بولا۔۔۔۔سامنے سے صائمہ بیگم اور باقی سب عورتیں نکلتی ہوئیں نظر آئیں۔۔۔۔۔
یہ لیں اپنے بیٹے کے قاتل کی بہن اس کے ساتھ آپ سب جیسا سلوک کرنا چاہتے ہیں کریں۔۔۔۔۔۔۔التمش نے اس آگے کی طرف دکھیلا۔۔۔۔دھکہ اتنا تیز تھا کہ زویا سھنمبل نا پائی اور اس کا سر سامنے رکھے لکڑی کے ٹیبل سے جا لگا۔۔۔۔
آہ۔۔۔وہ کھڑائی اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا۔جہاں چوٹ آئی تھی۔۔۔۔۔انگلیوں ہر خون دیکھ کر اس نے چہرہ موڑا۔۔۔ التمش نے نظریں پھیر لیں۔۔۔۔۔۔
اس کلموہی کو کیوں لے کر آۓ۔۔۔ میرے سینے ہر مونگ دھڑنے کے لیے لاۓ ہو۔۔۔۔صائمہ بیگم اونچی اونچی بولیں۔۔۔۔اور زویا کی طرف بڑھیں۔۔۔۔۔۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتی اسے چوٹی سے پکڑ کر اپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔۔۔ اور ایک تھپڑ اس کے چہرے پر رسید دیا۔۔۔۔
چھوڑو مجھے سب پاگل ہو گے ہو۔۔۔ وہ زور سے چلائی۔۔۔۔
تمہارے بھائی کی وجہ سے میرا جوان بھائی مر گیا۔۔۔۔ اور تم کہتی یو ہم پاگل ہو گے ہیں۔۔۔اریشہ اپے سے باہر ہو کر اس کی طرف لپکی۔۔۔۔۔۔التمش وہی سے مڑکر جا چکا تھا۔۔۔۔۔۔
صائمہ بیگم اریشہ، آئمہ بیگم تینوں اسے بری طرح مار رہیں تھیں ۔۔۔۔ایسے جیسے وہی ان کے بیٹے کی قاتل ہو۔۔۔۔۔زویا اپنا بچاؤ کروانے کی پوری کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔۔پر کہاں تک وہ ایک اکیلی لڑکی لڑ سکتی تھی ۔۔۔جانے کہاں کہاں لاتیں گھوسے تھپڑ پر رہے تھے۔ اسے اس سب کی بالکل امید نہیں تھی۔۔۔۔۔
عائلہ یہ سب دیکھ کر اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔اسے بالکل امید نہیں تھی یوں جانوروں کی طرح اس بچی کو ماریں گے
ماہ رخ ایک طرف کھڑی کانپ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمت جواب دے گئی اور وہی وہ بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔۔۔
تینوں تھک ہار کر ایک طرف بیٹھ کر رونے لگیں۔۔۔۔۔
اس کی آنکھ کھلی۔۔۔۔چھوٹے سے کمرے میں اندھیرا تھا۔۔۔۔۔
آہ اس نے اُٹھینں کی کوشش کی۔۔۔ پر زخموں نے اُٹھنے نا دیا۔۔۔۔
شکر ہے تمہیں ہوش آ گیا۔۔۔اپنے پاس سے کسی خاتوں کی اواز آئی۔۔۔انہوں نے اُٹھ کر لائیٹ آن کی۔
انکھون میں روشنی پڑی تو دماغ بحی کھلنے لگا۔۔۔۔پچھلے کچھ گھنٹوں میں ہوۓ واقعہ سب سوچ کے پردے ہر لہرایا۔۔۔۔تو سمجھ میں آیا کہاں ہوں۔۔۔۔
خاتون نے اسے سہارا دے کر بیٹھایا۔
یہ پانی پیو۔۔۔۔انہوں نے پانی پلایا۔۔۔۔پانی پی کر اسے تھوڑی راحت سی ملی
بچی تمہارے ساتھ جو بھی ہوا سب بہت غلط ہے۔۔۔لیکن تم جانتی ہو۔۔ونی میں آئی لڑکی کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔۔۔یہ دوائی کھا لو۔۔۔تمہیں طاقت کی ضرورت ہے۔۔۔ ابھی تمہارے بہت سارے امتحان ہونے ہیں انہوں نے شفقت بھرے انداز میں زویا کو دوائی پکڑائی۔۔۔۔جو اس نے پانی کے ساتھ نگل لی۔۔۔۔
یہ ان سب لوگوں کی غلط فہمی ہے میں سب چپ کرنہیں سہوں گئی۔۔۔اگر وہ سب جانور ہیں تو میں شیکاری ہوں۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ گلاس کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
نا بچی اگر چپ رہو گئی۔۔۔تو شائد ان کے دل میں رحم آ جاۓ اور سزا کم ملے۔۔۔۔۔ اگر بولو گئی تو تم شکاری بن کر بھی ان جانوروں سے جیت نہیں پاؤ گئی۔۔۔۔وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔
آپ کا نام کیا ہے۔۔۔۔۔زویا نے الجھن بھری نظروں سے دیکھا۔۔۔
مجھے تم بی جان بلا سکتی ہو۔۔۔۔میرا نام خالدہ بی ہے۔۔۔۔میں یہاں کی بہت پرانی ملازمہ ہوں۔۔۔۔وہ مسکرا کر بولیں۔۔۔۔۔۔ زویا مسکرا دی۔۔۔۔وہ اُٹھی اور آہستہ آہستہ چلتی ساتھ بنے چھوٹے سے واشروم میں آئی۔۔۔۔
انہیں زویا بہت پیاری لگی۔۔۔اور کیوں نا لگتی وہ تھی ہی اتنی خوبصورت اور معصوم۔۔۔۔زویا تھی تواٹھارہ سال کی پر وہ بہت مطبوط اعصاب کی مالک تھی۔۔۔۔۔۔
اپنے چہرے کو دھو کر بازوں کو صاف کیا۔۔۔۔
حویلی والو تیار ہو جاؤ۔ اس دفع تمہارے سامنے کوئی ڈری سہمی کمزور لڑکی نہیں ہے۔۔ ایک مظبوط اور ہمت والی لڑکی کھڑی ہے۔۔اس حویلی کی ساکھ نا بدل کر رکھ دی تو میرا نام زویا احمد نہیں۔ ہر اس زخم کا بدلہ لوں گئی۔۔۔جو میرے جسم پر لگے ہیں۔۔۔۔وہ سوچتے ہوے بولی۔۔۔۔۔چہرہ اپنی چادر سے صاف کر کے باہر آئی۔۔۔۔۔
کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ چکے تھے۔۔۔۔وہ کمرے میں داخل ہوئی تو جالدہ بی ہاتھ میں ایک سوٹ پکڑے کھڑیں تھیں۔۔۔۔۔
یہ میری بیٹی کا ہے پہن لو انہوں نے ہاتھ میں پکڑا کالے رنگ کا سوٹ زویا کی طرف بڑھایا۔۔۔جسے تھام کو وہ چینج کرنے چلی گئی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
