Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 29 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29 Part 1
زویا التمش سے بات کر کے کمرے سے باہر نکل آئی۔ وہ باہر لان میں چلی آئی۔ اور واک کرنے لگی۔
میں یہاں جس مقصد کے لیے آئی تھی۔ اس کو پورا کرنے کے چکر میں نا جانے کیا کیا کر دیا۔ مجھے لگا آپ بھی ویسے ہی ہوں گے جیسے حویلی کے باقی سارے مرد ہیں۔ پر جس دن سب کے سامنے میرے لیے سٹینڈ لیا اس دن احساس ہوا۔ ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا۔ اگر دنیا میں جہانگیر خان جیسا جابر مرد ہے تو التمش خان جیسا پیارا اور مخلص مرد بھی ہے۔ جو حق کے لیے آواز اُٹھانے کی ہمت رکھتا ہے میں نہیں جانتی مجھے آپ سے محبت ہے کہ نہیں پر آپ کے لیے میرے دل میں ہمیشہ احترام رہے گا۔کچھ دنوں میں یہاں سے چلی جاؤں گئی۔ میں چاہتی ہوں۔ آپ مجھ سے جتنی شدید محبت کرتے ہیں۔اس سے بھی شدید نفرت کریں۔ وہ چلتے چلتے دل ہی دل مین نا جانے کیا کیا سوچ رہی تھی۔
یا اللہ مجھے کیوں اس آزمائش میں ڈالا کیوں مجھے اتنا برا محسوس ہو رہا ہے؟ کیوں میں نے اس سارے معاملے میں التمش کو ڈالا؟ کیوں اسے میرے ساتھ اتنا اچھا رکھا؟ کیوں اسکے دل میں میرے لیے اتنی محبت ڈالی ؟ توُ تو جانتا ہے میں نے کس بھاری دل سے ان کی محبت کی نفی کی ہے۔ وہ خود سے بات کر رہی تھے۔جبھی نا جانے کیوں رو دی۔ وہی کھڑی اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا لیا۔۔۔
زویا تم رو کیوں رہی ہو؟ التمش جو اسے ڈھونڈتا باہر آیا تھا اسے یوں روتا دیکھ چلتا ہوا اسکے پاس آکر بولا۔
پتہ نہیں کیوں رونا آ رہا ہے۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔
کچھ دن رک جاؤمیں خود تمہیں زلیخہ بی کے پاس چھوڑ آؤں گا۔ پھر چاہے جتنے دن مرضعی رہنا اوکے التمش اسے چپ کرواتے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔زویا کو مزید شرمندگی ہوئی۔
مجھے نیند آ رہی ہے میں سونے جا رہی ہوں۔وہ اس سے نظریں چُڑاتے ہوۓ بولی۔ اور پلٹ کراندر کی طرف بڑھی۔ اسکے یوں برتاؤ پر التمش پریشان ہو گیا۔
صائمہ بیگم نے کسی نا کسی طریقے خود کو سھنمبالا۔
کیونکہ خالد صاحب کی طبعیت تو پہلے سے ہی خراب تھی۔ وہ چلنے پھرنے سے عاری تھے۔ سعد ماہ رخ کو لے شہر چلا گیا۔ ۔ وہ نہیں چاہتا تھا۔ کہ ماہ رخ کی پڑھائی رُکے۔ اس بات پر کسی نے رکا۔ اب ماہ رخ اس کی زمداری تھی۔ اور وہ جو چاہے کر سکتا تھا۔
ابا جی بتائیں پھر کس دن ماجد کو سرپنچ کی کرسی پر بیٹھانے کا اعلان کرنا ہے۔ سہیل صاحب جو کہ اس وقت جہانگیر خان ک کمرے میں بیٹھے تھے۔ بولے۔
بس ایک ضروری کام ہے وہ ہو جاے تو کرتے ہیں۔ سوچ رہا ہوں اس جمعہ کا دن مقرر کر دوں۔ بس قریبی قریبی لوگوں کو بلوانا ہے۔ تم انتطامات کروا لو۔ وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولے۔
ابا جی آپ آجکل بہت پریشان رہتے ہین کیا بات ہے؟ سہیل صاحب جو کئی دنوں سے جہانگیر خان کی پریشانی نوٹ کر رہے تھے آج موقع ملا تو پوچھ بیٹھے۔
سہیل زندگی بہت بے رحم ہے۔ کبھی کبھی پیروں میں ایسی زنجیر ڈالتی ہے۔ انسان چاہ کر بھی چل نہیں سکتا۔ اسے وہی رک کر اس زنجیر کے کھلنے کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔۔ کہ کب وہ کھلے اور کب وہ چل پاۓ وہ گہری چپی کے بعد کھوے ہوۓ لہجے میں بولے۔۔سہیل صاحب کو ان کی بات بالکل بھی سمجھ مین نا آئی۔
ابا آپ زیادہ ٹینشن مت لیں اور آرام کریں۔ مین سب سھنمبال لوں گا۔ وہ انہیں بیڈ پر لٹاتے ہوۓ بولے۔
سہیل اب تو لگتا ہے آرام ہی کرنا پڑے گا۔ ایسے لگ رہا ہے زندگی ہاتھوں سے پھسل رہی ہے۔ آجکل دل برا بے چین رہتا ہے۔ با اتنا چاہتا ہوں۔ وہ سب کام کر جاؤ ان سب کو جواب دےجاؤ جو میری بیٹھ پیچھے وار کر رہے ہیں۔۔ وہ بیڈ پر لیٹتے ہوۓ بولے۔۔
ابا اللہ آپ کو لمبی زندگی دے آپ کا سایہ ہم سب پر سلامت رہے۔ زیادہ مت سوچا کریں۔ سب ٹھیک ہو گا۔ وہ عقدیت سے جہانگیر صاحب کے ہاتھ چوم کر کمرے کی لائیٹ آف کرتے باہر نکل گے۔
سہیل خان میں بس اتنی دعا کر رہا ہون۔اللہ مجھے میرے کرموں کی جو چاہے سزا دے پر وہ نا دے جو میں سوچ رہا ہوں۔ اگر ایسا ہوا تو جہانگیر خان تو کھڑا کھڑا مر جاۓ گا۔ وہ اندھیر میں بولے۔ اور چپکے سے آنکھیں موندھ لیں۔۔۔۔
صائمہ ادھر آؤ۔ خالد صاحب جو کہ کمرے ویل چیر پر بیٹھے کب سے کام کر رہی صائمہ بیگم کو دیکھ رہے تھے۔ ناجا نے ان کے دل میں کیا آیا انہوں نے آواز دی۔
صائمہ بیگم جو کہ ان کے کپڑے نکال رہیں تھیں۔ خالد صاحب کی آواز پر پلٹی۔ ان کی پکار میں آج حکم نہیں تھا۔ نا جانے کیا تھا پر تحمکانہ انداز نا تھا۔
کیا ہوا جی آپ کو کچھ چاہیے۔ وہ چلتے ہوۓ ان کے قریب آئیں۔ اور زمین پر ان کے پاس بیٹھ کر پوچھا۔
ہوں تو میں بہت گناہ گار پر نا جانے اللہ پاک کو میرا ایسا کون سا عمل پسند آ گیا جو اس نے تمہیں میرے مقدر میں دیا۔ وہ ان کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں مین لیتے ہوۓ بولے۔صائمہ بیگم آج زندگی میں پہلی بار خالد صاحب کے منہ سے اپنے لیے ایسے الفاظ سن کر حیران رہ گئیں۔
میں نے ساری زندگی تمہارے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا۔ اسکے لیے تو شائد معافی بھی نہیں مل سکتی۔ اور اسی کی سزا اللہ نے مجھے زندگی میں ہی دے دی۔ ایک بیٹا جو کسی لڑکی کا قتل کر کے آیا،اور بیٹی جو چھپ کے نکاح کر رہی ہے۔ اور ایک بیٹا حویلی چھوڑکر چلا گیا۔اور ایک دنیا سے ہی چلا گیا۔ اور مین خود یوں معزور ہو گیا۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میرے غرور و تکبر کا انجام اسی دنیا میں ہو گیا۔ میں اپنے بچوں پر توجہ ہی نا دے پایا۔ جو خود کرتا وہی بچوں نے سیکھ لیا۔ میں ان سب کو کیسے برا بول دوں میں خود سب سے برا گناہگار ہوں۔
تمہیں کبھی زندگی میں بیوی ہونے کا حق نہیں دیا۔ ہمیشہ تمہیں اپنی ملکیت سمجھ کر تم پر حکم چلایا۔ ہر موقع پر تمہاری عزتِ نفس کو کچلا۔ آج جب اللہ نے مجھ سے میرے پیر چھین لیے مجھے بستر کا محتاج بنا دیا۔ تب جا کہ احساس ہوا ہم جو گردن اکڑا کر چلتے ہیں۔ اس کا بس چلے تو اگلے ہی پل زمین پیروں تلے سے کھینچ لے۔ اور ہم کچھ کر بھی نا پائیں۔ پتہ نہیں کتنے لوگوں کی بددعائیں لگی ہیں۔ آج تک بے شمار لوگوں کے ساتھ برا کر چکا ہوں۔اور سب سے برا مجرم تمہارا ہوں۔ صائمہ مجھے معاف کر دو۔ جانتا ہوں تمہارا ضرف اتنا برا ہے کہ تم مجھے معاف کر پاؤ گئی۔ وہ آخر میں روتے ہوۓ ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولے۔
کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ آپ میرے شوہر ہیں ایسے ہاتھ مت جوڑیں۔ اگر آپ کئی جگہوں پر غلط تھے تو میں بھی بہت جگہوں پر غلط تھی۔ بچوں کی تربعیت کی بات آۓ تو ایک ماں کا بہت برا ہاتھ ہوتا ہے۔۔ شائد مجھ سے ہی بھول چُوک ہوئی ہو۔ اور دوسری بات مجھے آپ سے کوئی گِلا نہیں۔ آپ نے آج تک میرے ساتھ جو بھی کیا میرے دل میں کوئی رنج غم نہیں ہے۔ اب آپ سارہ باتیں بھولیں۔ اور چلیں نہا لیں۔ پھر میں دوپہر کا کھانا لاتی ہوں۔ صائمہ بیگم نے خالد صاحب کے جُڑے ہوۓ باتھ نیچے کیے۔ اور اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولیں۔خالد صاحب نے ہاں میں سر ہلایا۔
صائمہ بیگم کافی دنوں سے خالد صاحب میں بدلاؤ دیکھ رہیں تھیں۔آج اسکی وجہ بھی معلوم ہو گئی۔ وہ بہت خوش تھیں۔۔۔
حازم اپنے آفس میں بیٹھا کام کر رہا تھا۔ جب دعا نوک کر کے آفس میں داخل ہوئی۔
سر! مسٹر ماجد آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔ کیا میں ان کو اندر بھیج دوں۔ وہ ریڈ کلر کی فائل کو پکڑے چلتی ہوئی اسکے قریب آئی۔
ماجد اس وقت کیوں آیا ہے؟ہمم چلو بھیجو دیکھتا ہوں۔ وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔۔
جی پر اس سے پہلے اس فائل پر سائن کر دیں۔ وہ فائل کو کھول کر حازم کے سامنے رکھتے ہوئے بولی۔
کیا ہوا آج کم بول رہی ہو۔ یہ سورج کہاں سے نکلا ہے۔ حازم اسکی بے جا خاموشی نوٹ کرتے ہوۓ بولا۔
کچھ نہیں بس زندگی کبھی کبھی ایسی چوٹیں دے دیتی ہے جا کے زخم دل پر چھپ جاتے ہیں۔ اور میرے جیسے زیادہ بولنے والوں کی زبان چھین جاتی ہے۔ وہ فائل کو پکڑتے ہوۓ بولی۔۔
کیا ہوا؟ دعا آج ایسی باتیں کیوں کر رہی ہو؟ وہ دعا جیسی لڑکی کے منہ سے اتنی سیریس باتیں سن کر پریشان ہوا۔چاہے وہ دعا سے زیادہ بات نا کرتا ہو۔ پر وہ ان کے قریبی انکل کی بیٹی تھی۔
چھوڑیں وہ مجھے آپ سے اہم بات کرنی تھی۔ میں نوکری چھوڑنا چاہتی ہوں۔ وہ بولی۔۔
کیوں؟ آگے سے بس اتنا ہی سوال ہوا۔
بس اب مزید کام کرنے کا دل نہیں کر رہا۔ میں پراسس پورا کروا دوں گئی۔ آپ کوئی نئی سیکٹری ڈھونڈ لیں وہ بول کر رُکی نہیں اور باہر نکل گئی۔حازم کافی دیر تک اسکے رویے پر غور کرتا رہا پھر سر جھٹک کر اپنا کام کرنے لگا کچھ دیر بعد ماجد آفس میں داخل ہوا۔
کیسے ہو۔ وہ اندر داخل ہوتے ہوۓ بولا۔
ٹھیک ہوں تم یوں آچانک کوئی کام ہے۔ وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلاتے ہوۓ بولا۔
ہاں وہ اصل میں میں معافی مانگنا چاہتا تھا۔ التمش نے اس دن جو بھی کیا اسکی وجہ سے بہت شرمندگی ہوئی۔ پر اسکی سزا اسے مل چکی ہے۔ حویلی سے نکال دیا گیا ہے۔ اور جائداد سے بھی اس جمعہ کو عاق کر دیا جاۓ گا۔ وہ کرسی پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔
کیوں جمعے کو کیا ہے جس سے وہ عاق ہو جاۓ گا۔ حازم کوریدتے ہوۓ بولا۔
وہ دادا جان مجھے گدی پر بیٹھانا چاہتے ہین اسکے لیے انہیں سب کچھ میرے نام کرنا پڑے گا۔ اور میں پہلے ہی التمش کو حویلی سے نکلوا چکا ہوں۔ اب اسکا حویلی پر کوئی حق نہیں جمے کو بس کاغذی کاروائی ہو گئی۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ اپنا کارنامہ بتا رہا تھا۔
تو تم یہاں کیا کرنے آۓ ہو۔ حازم نے سوالیہ انداز میں کہا
میں چاہتا ہوں جمے کو تم وہاں آؤ۔ اور میں تمہارے بزنس میں انویسٹ کرنا چاہتا ہوں۔ وہ اپنا پرپوزل رکھتے ہوۓ بولا۔۔
ٹھیک ہے میں آؤں گا۔ ویسے بھی مجھے فیکٹری کا کام دیکھنا ہے۔ وہ کافی دنوں سے بند پڑا ہے۔ اسکے بعد تمہارے فنگشن میں آؤں گا۔ وہی ہم پیپرز سائن کر لین گے جس سے تم ہماری کمپنی میں انویسٹ کر کے فاٹی پرسنٹ کے حصے دار بن جاؤ گے۔ حازم مسکرا کر بولا۔۔
ٹھیک ہے۔ بہت شکریہ مجھے لگا تم نہیں مانو گے۔ ماجد سے اپنی خوشی چھپائی ہی نا گئی۔
کیا یار ہم تو کتنے عرصے سے دوست ہین اور اب تو رشتے دار بھی ہو گے ہیں۔ بھلا میں کیوں منہ بناتا۔ وہ اس دن تو تمہارے بھائی نے ہی حد پار کر دی۔ حازم نفرت بھرے انداز میں بولا۔۔
چلو لنچ کرنے چلتے ہیں۔ حازم موبائل پکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔دونوں افس سے باہر نکلے۔۔
دعا انہیں جاتے ہوۓ دیکھ رہی تھی۔ اسکی انکھوں مین نمی سی آئی۔
رخصتی والے دن کے بعد دعا اگلے دن حازم کے گھر گئی۔ سِراج سے بات ہوئی۔ سِراج اسکی فیلکنگ جانتا تھا۔ اس نے حازم کی زویا کے ساتھ ہوئی منگنی کے بارے میں دعا کو بتا دیا۔ اور یہ بھی کہ حازم زویا سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔جسے سن کر دعا شاک میں آ گئی۔ اس رات وہ خوب روئی۔اسکے بعد اس نے نوکری چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔۔
حویلی کے گارڈن میں چھوٹے سے فنگشن کی تیاری ہو رہی تھی۔ کل دوپہر کو تقریب ہونی تھی۔
ہاں گل خان بولو۔ التمش اس وقت بالکنی میں کھڑا تھا جب گل خان کا فون آیا۔ آگے سے گل خان بول رہا تھا۔اور التمش چپ کر کے سن رہا تھا۔
ہممم ٹھیک ہے۔ تم کچھ دیر مین یہاں آکر سب دے جاؤ۔ مین دیکھتا ہوں کیا کرنا ہے۔ وہ بول کر موبائل کو آف کر گیا۔ بہت دیر تک وہ ایک جگہ سے ہلا نہیں۔ جب ہوش میں آیا تو پلٹ کر کمرے مین آیا۔
جاری ہے
