Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

شام کا وقت تھا۔ ہر سو دھند چھا رہی تھی۔ سردی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ چاند کی روشنی دھند کے لہروں میں لپٹ چکی تھی۔ ہمیشہ کی طرح عادت سے مجبور ہو کر وہ آج بھی کھانا کھانے کے بعد گارڈن میں چہل قدمی کر رہی تھی۔۔ اپنے گرد اسنے بی جی کی دی ہوئی کالی شال لپیٹی تھی۔۔۔
ہیلو زویا جی! وہ اپنی دھن میں چل رہی تھی جب پیچھے سے آواز آئی۔۔وہ ایک دم ڈر گئی۔ اور پلٹ کر دیکھا۔ سامنے اس حویلی کا ملازم کھڑا تھا۔۔ ۔۔
ارے میں تو آپ کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ پر آپ تو میری ایک آواز پر ہی ڈر گئیں۔ وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔۔
زویا جلدی سے اندر جانے لگی۔۔۔ جب اس لڑکے نے زویا کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت زویا کو طیش آ گیا۔۔ وہ پلٹی اور زور کا تھپر اس لڑکے کے چہرے ہر مارا۔۔۔ اس نے ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔۔
ہاہا واہ رانی تیرے تو ہاتھ کتنے ملائم ہیں۔ اس حویلی میں خون بہا کے نام پر آئی ہے پر عادتیں مہارنیوں جیسی ہیں۔۔۔ وہ پان چباتے ہوۓ ہنسا۔۔۔۔
اپنی حد میں رہو۔۔ آئیندہ اگر تم نے مجھ سے بدتمیزی کرنے کی کوشش بھی کی تو آج تو صرف تھپڑ مارا ہے۔پھر جوتے سے ماروں گئی۔۔ وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی اور وہان سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔
ہمممم بہت اچھے پنار میرے اگلے حکم کا ویٹ کرو۔ جو میں کہتا ہو کرتے جاؤ۔ پیسے کمی نہین ہو گئی۔۔۔ پنار کے کندھے پر تھپکی دیتے ہوۓ شمس بولا۔۔۔۔۔
جی مالک جو اپ کا حکم۔ آپ جیسا بولو۔ گے میں ویسا ہی کروں گا۔۔۔ پنار سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے ہوۓ بولا۔۔۔
ابھی نو دو گیارہ ہو جا۔۔۔ شمس نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ کہا۔پنار اگلے پل ہی رفو چکر ہو گیا۔۔۔۔۔۔ شمس اپنے گرد چادر لپیٹتے اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔


ماجد لالا رُکیں۔ کل رات کا نکلا ماجد اب واپس آ رہا تھا۔ حویلی کین سب کو معلوم ہو گیا تھا۔ کہ ماجد نے عائلہ کو مارا ہے۔ وہ ساری رات اور دن ڈیرے پر رہا۔
بولو کیا ہے؟ بہت تھکا ہوا ہوں۔ سونا ہے جدی بولو۔ وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔۔
لالا آپ تھکے تو بہت ہوں گے۔ آخر کل بھابھی کو مارا جو تھا۔ التمش طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
ہاں مارا تو تم کیا کرو گے۔ وہ اکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
آپ کو زرا برابر شرم محسوس نہیں ہو رہی۔ آپ کو اپنے فعل پر ندامت نہیں ہو رہی کس بے رحمی سے مارا تھا۔ بھابھی بیچاری رات کو مرتے مرتے بچی ہیں۔ وہ اپنا غصہ با مشکل کنٹرول کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
التمش ٹھیک بول رہا ہے۔ ماجد تم نے جو کیا وہ سراسر غلط تھا۔۔ اگر کوئی اونچ نیچ ہو جاتی تو پھر ہم کیا کرتے۔ خالد صاحب کی آواذ آئی۔۔۔جو کہ پیچھے کھڑے تھے۔۔
وہ میری بیوی ہے۔ میں جو چاہے کر سکتا ہوں۔ آپ سب کوئی نہیں ہوتے مجھے رُکنے والے یا میرے سے سوال جواب کرنے والے۔ ماجد غصے سے سب کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
لالا کچھ تو خدا کا خوف کرو۔ وہ اپ کی بیوی ہے زرد خرید غلام نہیں۔۔ التمش زور سے چِلایا۔۔۔
التمش تمہیں میں آخری دفع بول رہا ہوں میرے معملات سے جتنا ہو سکتا ہے دور رہو۔ چھوٹے ہو چھوٹے بن کر رہو۔۔ اور ابا آپ کہ رہے ہیں میں نے غلط کیا۔ تو اس حساب سے تو آپ نے ساری زندگی ہی غلط کیا۔ آپ بھی تو اماں کو مارتے تھے۔ جب آپ کے لیے یہ سب غلط نہین تھا تو میرے لیے کیوں؟ ماجد طنزیہ انداز میں خالد صاحب کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
خالد صاحب نے شرم سے نظریں نیچیں کر لیں۔۔۔۔
آپ کا کچھ نہیں ہو سکتا۔ التمش نفی مین سر ہلاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے مین نے ایسے ہی اس پر ہاتھ اُٹھا۔ اس(گالی) نے میرے منہ پر تھوکا تھا۔ ماجد غصے سے بولا۔۔۔ جیسے ابھی اگر عائلہ اسکے سامنے ہوتی تو ایک دفع پھر وہ اسے مارتا۔۔۔۔۔
ہاں تھوکا۔ اور مجھے اس بات پر کوئی شرمندگی نہیں۔ اگر ایک قاتل اور بے وفا شوہر میرے سامنے آ کر مجھے ہی نا خوش ہونے کے طعنے دے گا۔ تو مین اسیے بندے پر تھوکوں گئی۔۔۔۔ عائلہ جو کہ کیچن میں بیٹھی ہوئی سب سن رہی تھی۔ آخر میں جب برداشت ختم ہو گئی۔۔ تو زویا کا سہارا لے کر وہ باہر حال میں آگئی۔۔۔۔
میں آپ کی بیوی ہوں نا۔ پھر بھی میرے ہوتے ہوۓ آپ نے کسی غیر لڑکی سے عشق معشوقی کے چکر چلاۓ۔ میں نے وہ سب برداشت کر لیا۔ جس دن آپ کو پتہ چلا وہ ماں بنے والی ہے۔ میں نے اس دن بھی آپ کو بولا۔ اس لڑکی سے نکاح کر لیں۔ لیکن آپ نے کیا کِیا اس کا قتل ہی کر دیا۔۔۔ ایک جیتی جاگتی لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ارے دل نہیں کانپا۔۔ اسے مرتے دیکھ کر دل میں زرا خوف نا آیا۔ عائلہ زویا سے اپنا ہاتھ چھڑوا کر آگے بڑھتے ہوۓ ماجد کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔۔اور نم آواز سے گویا ہوئی۔ باقی سب خاموشی سے انہیں دیکھ رہی تھے۔۔۔۔
ہاں نہیں آئی شرم نا اس لڑکی کو مارتے وقت اور نا ہی تمہیں مارتے وقت۔ بول اب کیا کرے گئی۔۔ وہ اکڑتے ہوے بولا۔۔۔
کیا تماشا لگا رکھا ہے تم دونوں نے۔ عائلہ اندر چل۔ شرم کر تیرا شوہر ہے۔۔ آئمہ بیگم نے آگے بڑھ کر بات کو بڑھنے سے رُکا۔۔ اور عائلہ کا بازو پکڑ کر بولیں۔۔۔۔
نہیں آج نہیں میں نے بہت برداشت کرلیا اب اور نہیں۔ عائلہ نے اپنا بازو چھڑوایا اور دوبارہ ماجد سے مخاطب ہوئی۔۔۔۔
ماجد خان تو تُو تھوکنے کے بھی لائق نہیں ہے۔ انتہا کا نیچ اور گھٹیا انسان ہے۔ میں تو اس وقت کو لے کر پچھتا رہی ہوں۔جب تم جیسے انسان کے ساتھ میری شادی ہوئی۔۔۔ اپنی زندگی کے کتنے سال تم جیسے انسان کے ساتھ گزار دیے یہی سوچ کر ایک دن تم بولوں گے ۔۔ پر نہیں کتے کی دم اور ماجد خان کبھی سیدھا نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔ عائلہ بکھرے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔۔ بولتے بولتے وہ رو دی۔۔۔۔
سالی تیری اتنی ہمت تو نے ماجد خان کو گالی دی۔ ماجد جو کب سے اسکی باتیں سن رہا تھا۔ آخر میں غصے سے اسکی رگیں پھول گئیں اس نے عائلہ کے چہرے پر تھپڑ مار دیا۔۔۔یہ سب اتنی اچانک یوا کہ کسی کو سمجھ نا آیا۔۔۔۔۔
تھپر اتنا شدید تھا۔ وہ زمین پر گڑ گئی۔۔۔۔۔
بھابھی! التمش چِلایا ۔۔ لالا پاگل ہو گیا ہے۔۔۔وہ آگے بڑھا اور ماجد کو رُکنے کی کوشش کی جو کہ دوبارہ سے عایلہ ہی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
التمش چھوڑ مجھے آج اس کا قتل کر کے رہوں گا۔ اسکی اتنی ہمت میرے ساتھ اسطریقے سے بات کرے۔۔۔ ماجد التمش سے اپنا آپ چھڑوا کر عائلہ کی طرف بڑھا۔۔۔ زویا پہلے ہی عائلہ کے پاس آ کر اسے اُٹھانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
غزیب ماں باپ کی اولاد یہان پر تجھے عیاشی کروائی اج تو مجھے ہی برا بھلا بول رہی ہے۔۔۔ ماجد اگے بڑھا۔ اور اپنے پاؤں سے جوتا اتار کر عائلہ کی طرف پھینکا۔۔۔۔۔۔التمش نے اسے بہت رُکنے کی کوشش کی پر وہ طیش میں تھا۔ التمش سے سحنمبالا نہیں جا رہا تھا۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔۔۔ وہ چلائی۔۔جوتا سیدھا زویا کے ماتھے پر لگا تھا۔۔۔ ہلکا سا خون بھی بہ نکلا۔۔۔۔۔۔۔
لالا ہوش میں آ کیا کر رہا ہے۔۔۔ التمش نے اسے پیچھے کی طرف دکھیلا۔۔۔۔۔ سعد بھی اتنا شور سن کر اپنے کمرے سے باہر کی طرف بھاگا۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر وہ بھونچا گیا۔ بھاگ کر اس نے ماجد کو پکڑا۔۔۔۔۔۔
ماما میری ماما۔۔۔۔مت مارو میری ماما کو۔۔۔۔۔انہیں درد ہو گا۔۔۔۔ماما۔۔۔ حیدر جو کہ نیچے صایمہ بیگم کے کمرے میں سویا ہوا تھا۔ کمرہ چونکہ پاس تھا۔ تو اتنا شور سن کر وہ اُٹھ گیا۔۔۔باہر جب اپنی ماں کو زمین پر روتے دیکھا۔ اور پاس ہی ماجد جو کہ اسے مارنے کے لیے دوبارہ اگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔ یہ سب دیکھ کر وہ بھاگ کر عائلہ کے گلے لگا اور زور زور سے بولنے لگا۔۔۔۔۔
مت مارنا میری ماما کو۔۔۔۔۔۔وہ روتی ہیں۔۔انہین درد ہو گا۔۔۔۔ میری ماما مر جاۓ گئی۔۔۔ نہیں ماما ماما ماما۔۔۔۔۔۔۔وہ روتے ہوۓ بول رہا تھا۔۔۔۔
حید میرے بیٹے میں ٹھیک ہوں۔۔۔عائلہ اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گئی۔۔۔ وہ روتے ہوۓ ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔۔۔
لالا خدا کے لیے بہت تماشا لگا لیا۔۔اور کسی کے لیے نا سہی اپنی اولاد کے لیے چپ کر جاؤ۔۔ التمش نے اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا۔۔۔۔
التمش سعد۔۔۔۔ حیددددد حیدددد کو دیکھو میرے بچے کو دیکھو کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ عائلہ حیدر کی بند ہوتی آنکھوں کو اور پیلے پرتے چہرے کو دیکھتے ہوۓ زور سے چلائی۔۔۔۔
کیا ہوا؟ چیمپ کیا ہوا؟ التمش بھاگ کر حیدر کا چہرہ اپنی طرف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔جو سچ میں زرد پر گیا تھا۔۔ اور ہلکے ہلکے کانپ تھا۔۔
لالا اسے جلدی ہسپتال لے کر جانا ہو گا۔۔۔۔ سعد اسکی بگھرتی ہوئی حالت کو دیکھ کر بولا ۔۔ سب کے سب پریشان ہو گے۔۔۔۔
جلدی گاڑی نکال۔۔۔ التمش نے حیدر کو گود میں اُٹھایا۔۔ اور باہر کی طرف بھاگ۔۔ ماجد بھی پیچھے جانے لگا۔۔ جب صائمہ بیگم نے اس کا چہرہ اپنی طرف کر کے کھینچ کر تھہڑ مارا۔۔۔۔۔۔
کاش میں نے یہ تھپر تمہں تمہاری پہلی غلطی پر مارا ہوتا تو تم آج بے حس جانور نا بنےہوتے۔۔۔۔ماجد تم نے جتنا تماشا لگانا تھا لگا۔ لیا۔۔ میں بدقسمت ماں ہوں۔ تمہیں نہیں بچا سکی تم بھی اپنے باپ کی طرح بن گے۔ خود کو دیکھو جانور بن گے ہو۔۔۔ اللہ میرے پوتے کو اپنی حفاظت میں رکھے۔۔۔ تم ابھی کے ابھی اپنی شکل گم کر لو۔۔۔ مین تمہیں حیدر اور عائلہ کے آس پاس بھی نا دیکھو۔۔۔ صایمہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔۔ اور عائلہ کی۔طرف بڑھیں۔۔۔۔ ماجد غصے سے حویلی سے نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔
عائلہ میری بچی اُٹھ۔ حیدر کو کچھ نہین ہو گا۔۔ اوپر والے سے دعا کر۔۔چل اُٹھ صایمہ بیگم نے اسے اُٹھایا اور صوفے پر لا کر بیٹھایا۔۔۔وہ چپ چاپ بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
پانی لاؤ۔ صائمہ بیگم۔نے زویا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔جو اگلے پل ہی کیچن کی طرف بڑھی۔۔۔
خالد صاحب یہ سب دیکھ کر اپنے کمرے کی طرف مُڑ گے۔۔ان کی آنکھوں کے سامنے سالوں پہلے کا منظر تھا۔ جب وہ یہی سب کرتے تھے۔۔۔۔۔۔۔


ڈاکٹر صاحب حیدر ٹھیک تو ہے نا۔ التمش ڈاکٹر کی طرف بڑھا۔ سامنے بیڈ پر حیدر لیٹا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ پر ڈرپ لگی ہوئی تھی۔ چہرہ کافی مُر جھایا یوا تھا۔۔۔۔
دیکھیں چھوٹے سائیں۔ بچہ کسی چیز کو کھو دینے کے ڈر سے بے ہوش ہو گیا ہے۔ کچھ بچے بہت حساس ہوتے ہیں۔ اپنے سامنے ہوئی لڑائیوں کو وہ بہت سر پر سوار کر لیتے ہیں۔ کیا پتہ آپ کے گھر میں کچھ ایسا ہوا ہو۔ جو بچے کے ذہین میں مفید ہو گیا ہو۔ یا کسی انسان سے وہ بہت اٹیج ہو۔اور اسے چوٹ پہنچنے پر وہ ڈر گیا ہو۔۔۔۔۔۔ابحی فل حال گھبڑانے کی بات نہیں۔ حساس بچہ ہے۔آپ بس اس کا دھیان رکھا کریں۔ کسی ایکٹیویٹی میں لگائیں۔ تا کہ اسکا دھیان بھٹے۔۔اسے خوش رکھیں۔۔ ابھی تو وہ بس بے ہوش ہوا یے۔۔۔کل کو برا مسلہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ ڈاکٹر سنجیدہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔
جی ہم خیال رکھیں گے۔۔ سعد بولا۔۔۔۔۔ ڈاکٹر باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
پتہ نہیں لالا کیا کرنا چاہتا ہے۔۔۔ دیکھو اسکا چہرہ کتنا معصوم ہے۔۔۔ نا جانے کیا سوچتا رہتا ہے۔رات کو بھی بول رہا تھا۔ لالا اسکی ماما کو مارتا ہے۔۔شائد اس نے مارتے ہوۓ دیکھ لیا ہو۔۔ تبھی اتنا ڈر گیا ہے۔۔۔التمش حیدر کے بالوں میں ہاتھ چلاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہمارا چیمپ بہت بہادر ہے۔۔ سعد حیدر کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
سعد نے حویلی فون کر کے بتا دیا تھا۔کہ حیدر کو ہوش آگیا ہے۔۔۔دو گھنٹے کی ڈرپ ختم ہوئی تو دونوں حیدر سمت گاڑی میں بیٹھے۔۔۔۔سعد ڈرائیو کر رہا تھا۔
ہاں تو چیمپ چاچو سے ہارنے کے لیے تیار ہو۔ التمش نے حیدر کا چہرہ اپنی طرف کیا۔۔۔۔
چاچو حیدر خان کبھی نہیں ہارتا۔ وہ اپنی چھوٹی چھوٹی آنکھوں کو اور چھوٹا کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہااہا۔ سعد حیدر خان کی باتیں سن رہے ہو۔ تو چیمپ دیکھتے ہیں آج کی گیم کو جیتتا ہے۔۔۔التمش نے موبائل نکال کر اس میں ٹیمپل رن گیم لگا دی۔۔۔حیدر اگلے پل ہی ایکٹو ہو کر کھلینے لگا۔۔
التمش کی باری آئی تو وہ ہار گیا۔۔۔
ہاہاا چاچو ہار گے۔۔۔وہ کھلکھلا کر ہنسا۔۔۔۔ التمش اور سعد مسکرد دیے۔۔۔۔ اس چھوٹے سے بچے میں سب کی جان بستی تھی۔۔۔
گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی۔ حیدر کو گود مین لیے التمش عائلہ کے کمرے مین داخل ہوا۔۔۔۔
ماما وہ بھاگ کر عائلہ کے گلے لگ گیا۔۔۔۔۔۔
میرا بچہ۔۔۔۔۔ عائلہ نے اسکے گال چومے اور سورتیں پڑ کے اس پر پھونک ماری ۔۔۔۔آئمہ بیگم اور صائمہ بیگم دونوں ہی وہی بیٹھی ہوئیں تھیں۔
ایک طرف زویا سائرہ کو چپ کروانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
بھابھی یہ دوائی کھلانی یے۔۔ اور جلدی سلانا ہے۔۔ چیمپ کل دوبارہ سے ویڈیو گیم کا چیلنج ہو گا۔۔۔ اس نے دوائیاں ٹیبل پر رکھیں۔ اور حیدر کی ناک دبا کر بولا
اوکے چاچو ہارنے کے لیے تیار رہنا۔۔۔۔ حیدر مسکرا کر بولا۔۔۔
اچھا جی مجھے ہراؤ گے۔۔۔ التمش نے اسے پیٹ میں گدگُدی کی جس سے وہ کھلکھلا کر ہنسا۔۔۔باقی سب بھی مسکرا دیے۔۔زویا دور کھڑی مسکرا کر ان دونوں کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔
آج تو وہ بھی کہ سکتی تھی۔ التمش اس حویلی کے باقی مردوں سے مختلف ہے۔۔۔
اے لڑکی۔۔۔ اسے مجھے دے۔۔اور جا کر چاۓ بنا کر لا۔۔۔ کام چور۔۔۔۔صایمہ بیگم نے جب اسے مسکرا مسکرا کر التمش کو دیکھتے ہوۓ دیکھا۔۔ ان کی بھوڑیں تن گئیں۔۔۔۔۔وہ سخت لہجے مین بولیں۔۔۔۔
زویا ان کی طرف بڑھی اور سائرہ انہیں دے کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔۔۔التمش بس اپنی ماں کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔۔وہ اب کویی بدمزگی نہین چاہتا تھا۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد زویا چاۓ کی ٹرے تھامے کمرے میں داخل ہوئی۔ سب کو چاۓ دے کر آخر مین وہ التمس کی طرف بڑھی۔۔۔۔
التمش نے اسکی طرف دیکھا۔ تو نظر سیدھی اسکے ماتھے پر بنے زخم پر گئی۔۔۔۔اس کے ارد گرد خون تو اب سوکھ چکا تھا۔ اسکی بے توجگی پر اسے غصہ آیا۔۔۔التمش نے چاے کا کپ پکڑا۔۔زویا اگلے پل ہی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔


رات کے دس بج گے تھے۔ وہ تھکی ہوئی کمرے میں آئی۔۔۔آج بی جی حویلی میں نہین تھین وہ اپنی جانے والی کے پاس گئیں تھیں۔۔۔۔۔
وہ چاہ رہی تھی کہ حازم سے کال پر بات کر لے۔۔ وہ سیدھی الماری کی طرف بڑھی۔موبائل نکالنے ہی لگی تھی کہ کسی کے قدموں کی اواز آئی۔۔۔ الماری کو جھٹ سے بند کر کے وہ پلٹی۔۔۔۔
سامنے التمش ہاتھ میں فسٹ ایڈ کیٹ لیے کھڑا تھا۔۔۔۔
یہاں آؤ۔۔ دروازہ بند کر کے وہ پلنگ پر بیٹھا اور اسے آنے کا بولا۔۔۔۔جھجک کر وہ اسکے پاس ا کر بیٹھ گئی۔۔۔
تمہیں کسی نے یہ نہیں سمجھایا۔ کبھی خود کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ جب بھی دیکھو تم لاپرواہی کا مظاہرہ کرتی ہو۔۔چاہیے وہ جوتا پہنے میں ہو یا جرسی پہنے میں۔ یا یہ زخم ۔۔۔وہ تھوڑا غصے سے بولا۔۔۔اسے اسکی لا پرواہی پر غصہ آ رہا تھا۔۔
مسٹر خان یہ مت بھولیں۔اس حویلی میں مجھے دلہن بنا کر نہیں لایا گیا۔۔۔پچھلے ڈیڈ مہینے سے میں نے وہی دو چار کپرے پہنے ہیں جو بی جی نے دیے ہیں۔ اور جہاں تک رہی بات جرسی کی تو وہ میرے پاس نہیں یے۔ یہ زجم کوئی پہلا نہیں۔۔۔اب درد نہیں ہوتا۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔۔
او۔۔۔۔۔ سوری مجھے نہیں معلوم تھا میری منکوحہ کے پاس کوئی جرسی نہیں۔ ایک دفع بولتی۔ ایک کی جگہ ہزار لا دیتا۔ تمہین درد نہین ہوتا پر تمہین لگے ہر زخم کا درد مجھے محسوس ہوتا ہے۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ اسکے زخم پر مرہم لگاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
زیادہ فرینک ہونے کی ضرورت نہیں۔ زویا اسے آنکھیں دیکھاتے ہوے بولی۔۔۔۔۔
فرینک میں کہاں فرینک ہو رہا ہو۔۔ اپنی منکوحہ سے بات کرنا غلط بات ہے؟ وہ معصوم سا چہرہ بناتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
مسٹر خان پٹی ہو گئی نا اب جائین یہاں سے کوئی دیکھ لے گا تو بلاوجہ کا مسلہ ہو جاے گا۔۔ زویا اسے بیڈ سے زبردستی کھڑا کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
ارے دیکھتا ہے تو دیکھے مین بھی بول دوں گا۔ اپنی زخمی مرحوکہ کی مرحم پٹی کرنے آیا ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔۔
مسٹر خان پلیز ان راہوں پر مت چلیں جس کی کوئی منزل نہیں۔۔ زویا اسکی آنکھوں مین دیکھ کر سنجیدہ انداز مین بولی۔۔۔۔۔
منزل تو ہر رستے کی ہوتی ہے۔ بس اس تک پہنچنے کے لیے ساتھ دینے والے سچے ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوے بولا۔۔۔۔
جب منزل کے راستے پر اپنوں کے کھو جانے یا درد دینے کا خدشہ ہو۔ تو ایسے راستے پر نہین چلنا چاہیے ۔۔۔ پھر سب حاصل کر کے بھی کسی کے چھوٹ جانے کا دکھ لگا رہتا ہے۔۔۔ زویا اپنے ہاتھوں کو چھڑواتے ہوے بولی۔۔۔۔۔۔
تم کس کی بات کر رہی ہو؟ التمش حیرانگی سے بولی۔۔۔
آپ کی امی کی انہیں میں بالکل پسند نہیں۔انفیکٹ اس دن آپ نے بھی تو ان سے کہا تھا۔ آپ مجھے یہاں سے اس قید سے نکالین گے۔پر کبھی اپنی بیوی نہین بناۓ گے۔کیوں کہ میں قاتل کی بہن ہوں۔۔ زویا نے اسے ان دن کی باتیں یاد کروائیں۔۔۔۔
اوہ وہ سب۔۔۔۔۔ زویا التمش خان تم یہ سمجھو تمہارا شوہر تھوڑا بے وقوف ہے۔ جو بنا سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتا ہے۔۔۔ تم وہ سب بھول جاؤ۔ بس اتنا یاد رکھو۔ اب چاہے بری سے بری روکاٹ ہمارے منزل کے درمیان آۓ۔ پر میں کسی حالت میں تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ تم میری زویا ہو۔ مجھے اب کوئی فرق نہیں پڑتا تم کس کی بہن ہو۔۔۔ وہ اسکے چہرے پر آئے بالوں کر کان کے پیچھے کرتے ہوۓ جزب سے بولا۔زویا یک ٹک اسکا چہرہ دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔۔۔اسکا ہر لفظ اسکے سچے جذبے کا اظہار کر رہا تھا۔۔۔۔
ہم تفصیل سے یہ سب باتیں کرین گے۔۔ابھی مین یہ بتانے آیا تھا۔ کہ میں کچھ دیر مین سعد کے ساتھ شہر جانے کے لیے نکل رہا ہوں۔ پرسوں تک ا جاؤں گا ۔ ۔ تم اپنا دھیان رکھنا۔ باۓ وہ بول کر آگے بڑھا۔اور اسکے ماتھے کو چھوا۔۔۔ زویا کو اس سب کی بالکل توقع نہیں تھی۔۔
التمش اس کا چہرہ دیکھ کر مسکرایا۔۔اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔
پیچھے زویا جیسے ٹرانس سے باہر آئی۔۔۔۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔۔ اپنی بڑھتی دھرکنوں کو کنٹرول کیا۔۔ اور واش روم میں گھس گئی۔
یہ سب ٹھیک نہیں ہو رہا۔ مجھے جلد سے جلد اپنا کام پورا کرنا ہو گا۔۔۔اگر حازم کو یہ سب پتہ چل گیا تو بہت برا ہو گا۔۔ اپنی آنکھوں میں آیا انسوں صاف کر کے وہ واشروم سے نکلی اور الماری سے موبائل نکالا۔۔دروازہ لاک کر کے حازم کو فون ملایا۔۔۔۔۔
شکر ہے تم نے اپنا موبائل آن کیا۔۔۔ میرے پاس تمہارے لیے بہت اچھی نیوز ہے۔۔۔ حویلی والوں کو دوسری چوٹ دینے کا وقت آ گیا ہے۔۔۔ حازم کافی خوش لگ رہا تھا۔۔۔۔۔
ہممم کیا پلین ہے۔۔۔وہ لمبا سانس لیتے ہوۓ بولی۔۔۔
حازم اسے اپنا پلین بتانے لگا۔۔۔۔۔۔۔
حازم یہ سب کرنا ضروری ہے۔۔۔مطلب کیوں کسی لرکی کی عزت اُچھالیں۔۔ وہ سب سن کر بولی۔۔۔۔۔
زویا یہ سب کرنا ضروری ہے۔۔۔۔ مین کل گاؤں آؤں گا۔۔۔ تم اس لڑکی کےبکمرے مین جاؤ۔ کچھ ایسا ملے جو سراج سے ریلیٹڈ ہو اسے اسطرح سے ایڈجیسٹ کرو اندر آتے کہ جب التمش اندر جاۓ تو اسے آسانی سے مل جاۓ۔۔۔۔۔ میں کل صبح ڈیڈ سے بات کرون گا۔۔۔پھر پرسوں ہم سب وہاں رشتہ لینے آئیں گے۔۔۔۔۔ وہ شیطانی مسکراہت چہرے پر سجا کر بولا۔۔۔۔۔
ہممم۔ کر دوں گیی۔۔۔اچھا حازم مین بہت تھکی ہویی ہوں اللہ حافظ۔۔ زویا نے کہ کر فون بند کیا اور الماری میں رکھ دیا۔ دروزے کا لاک کھول کر وہ بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔۔۔
یہ سب کرنا ٹھیک ہو گا۔۔۔ مسٹر خان تو بہت ٹوٹ جائیں گے۔۔۔ زویا حد ہے اپنے کام پر فوکس کرو۔ پر مین دل کیوں نہیں مان رہا۔۔۔۔۔۔
زویا مت بھولو۔۔ تم۔یہاں التمس کے لیے نہیں ہو۔۔۔وہ اپنے آپ سے لڑتے جھگڑتے سو گیی۔۔۔۔۔
ابھی سوۓ کچھ ہی دیر ہوئی۔۔۔نیند مین ڈوبے اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی اسکے پاس بیٹھا ہے۔۔۔۔ اسے چھونے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس نے ڈر کر آنکھیں کھول دیں۔۔۔ سامنے وہی پنار بیٹھا ہوا تھا۔۔۔۔
اگلے ہی پل وہ اُٹھی۔ اور اپنا ڈوپٹہ اپنے گرد لپیٹا۔ بیڈ سے نیچے چھلانگ لگایی۔۔۔۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے کمرے مین آنے کی۔۔۔وہ غصے سے چلائی ۔۔۔
ویسے سچ ہی سنا تھا۔ بلا کی خوبصورت ہو۔۔ اس سینے میں تم بس گئی ہو۔۔۔وہ آگے بڑھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
جبردار جو آگے آیا۔۔۔چِلا چِلا کر سب کو اکھٹا کر لوں گئی۔۔۔۔۔۔زویا اسے وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔ا ندر سے وہ بہت ڈر گئی تھی۔۔۔
اوۓ چھوڑی چلاۓ گئی تو سب آ جائین گے۔۔مین تو بول دوں گا خود بلایا ہے۔۔ چِلا پھر دیکھتے ہین کیا ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔
زویا بہت ڈر گئی۔۔اسکے ہاتھ پاؤں کانپے۔۔۔۔ پھر بھی وہ ہمت کر کے بولی۔۔۔۔۔
خدا کی قسم تیرا قتل کر دون گئی۔۔یہان سے نکل جا۔۔۔ سائیڈ پر پڑے ڈنڈے کو اُٹھایا
جا رہا ہوں۔ پر مجھے بھولنا مت بہت جلد واپس آؤں گا۔۔۔وہ مسکراتا ہوا۔ باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔زویا نے جلدی سے دروازہ بند کیا۔۔۔اور وہی نیچے بیٹھ کر رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔


جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔