Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

آپ سب لوگ دوبارہ سے میرے بلانے پر آۓ اس کا بہت بہت شکریہ۔ جسے کے آپ سب کو آج کی تقریب کا مقصد پتہ ہی ہے۔ وہ سلسلہ شروع کرنے سے پہلے میں آپ سب سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ جہانگیر خان اپنی کرسی سے اُٹھ کر کھڑے ہوۓ۔ سامنے ایک طرف حویلی کے سب مرد تو دوسری طرف گاؤں اور خاندان کے مرد بیٹھے جہانگیر خان کو سن رہے تھے۔

اللہ پاک جب ایک انسان کو دنیا میں بھیجتا ہے۔ تو وہ اسے ہر اس چیز سے آزماتا ہے جو انسان کے دل کے بہت قریب ہوتی ہے۔

میں ایسے خاندازن میں پیدا ہوا جہاں دولت شہرت عزت ہر چیز بھرپور ملی تھی۔ میرے دادا نے جب مجھے سرپنچ کی کرسی پر بیٹھایا تو مجھے لگا میں بادشاہ ہوں اور گاؤں والے سب میرے غلام ہیں۔ جو میں بولوں گا وہی ہو گا۔ میں جسے چاہوں گا ان سب کو چلاؤں گا۔ میں نے کسی غریب پر آج تک ایک پیسے کا رحم نہیں کھایا۔ ہمیشہ ان سے تھوڑے کی بجاۓ زیادہ لیا۔ آگے میرے بیٹے ہوۓ میں نے انہیں بھی یہی سیکھایا۔ اپنی بیوی بہو بیٹی کبھی کسی کو عزت نہیں دی سب کو جوتی کی نوک پر رکھا۔ کسی لڑکی کو پڑھنے کا حق نہیں دیا۔ صرف ایک لڑکی کو آجازت دی۔ اپنی بیٹی مہوش کو۔ اسکو آجازت تو دے دی پر کبھی اس پر اعتبار نہیں کیا۔ اسی لیے جب کسی نے تھوڑا سا کھیل کھیلا میرا بھروسہ ڈگمگا گیا۔ نکال دیا۔ اس حویلی سے، پر اپنی بیٹی کو دلوں دماغ سے نہیں نکال پایا۔ وہ خود پر ہنستے ہوۓ بولے۔ سارے گارڈن میں خاموش تھا۔ بس جہانگیر خان کی آواز گھونج رہی تھی۔

جب سچائی پتہ چلی کہ وہ بے قصور تھی۔ قسم سے دل کیا ابھی مر جاؤں۔ اس کا سامنا۔ کرنا مشکل ہو گیا۔ جب اسکی موت ہوئی نا اس دن کے بعد آج تک میرا ضمیر ملامت کرتا ہے۔ مجھے ایسے لگتا ہے اسکی موت کا زمے دار میں ہوں۔ لیکن میں بدلہ نہیں میں نے وہی کیا جو ہمشہ کرتا تھا۔ آج سالوں بعد پھر وہی ہوا۔۔ سالوں بعد جب میں نے اپنی ہی نواسی کو اسی چالوں میں پھنستے ہوۓ دیکھا نا تب مجھے احساس ہوا۔ میں نے ساری زندگی کیا کِیا؟ اگر میں غرور،تکبر، روایات، ذات،بھید بھاؤ ان سب سے ہٹ کر ایک عام آدمی بن کر سرپنج بنتا گاؤں اور اپنی حویلی کو چلاتا۔ تو نا میرے بیٹے برباد ہوتے، نا میری بیٹی ذلت بھری زندگی جیتی۔ وہ اپنی آنکھوں سے نکلے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولے۔۔

التمش کھڑا ہو کر ان کے برابر آیا۔ اور انہیں چپ کروانے لگا۔

اللہ انسان کو ہر چیز دے کر آزماتی ہے۔ چاہے وہ مال ہو یا اولاد۔ خدا نے مجھے دونوں میں آزمایا اور میں دونوں میں فیل ہو گیا۔ میں ہاتھ جوڑ کر آپ سب سے معافی مانگتا ہوں۔ میں نے آج تک جو بھی کسی کے ساتھ غلط کیا ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجیے گا۔ وہ ہاتھ جورتے ہوۓ معافی مانگے رونے لگے۔سامنے بیٹھے ہر انسان کی آنکھوں میں آنسوں تھے۔

التمش کی سرپنچ کی ساری رسمیں ہوئیں۔ اس نے کاغذات پر سائن کرتے وقت خود سے وعدہ کیا زندگی کے آخری لمے تک وہ صرف سچائی اور اچھائی کی راہ پر چلے گا۔ چاہیے راستہ کتنا ہی مشکل کیوں نا ہو۔

شام کے وقت ساری محفل برخاست ہوئی۔ جہانگیر خان سب سے بات کر کے اپنے آپ کو کافی ہلکا محسوس کر رہے تھے۔ سب رات کا کھانا کھا کر حال میں بیٹھے قہوہ پی رہے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ آج پہلی دفع حویلی میں سب کی ہنسی خوشی بولنے کی آوازیں گھونج رہی تھیں۔ ورنہ تو ہر شام کسی نا کسی کمرے سے سسکیوں کی آوازیں آتی تھیں۔

**********************************

رات کے دس بجے وہ اپنے کمرے میں آئی تو سامنے بیڈ پر فائل کھولے التمش کام کر رہا تھا۔ اب اتنی بری زمہ داری اسکے کندھوں پر تھی۔ وہ سب کچھ بدل دینا چاہتا تھا۔

وہ آہستہ سے چلتی اسکے سامنے بیڈ پر بیٹھی۔ وہ اپنے کام میں مصروف رہا۔

التمش مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ وہ ہمت کر کے بولی۔۔

بولو! وہ مصروف سے انداز میں بولا۔۔۔

ایم سوری میں نے آپ کو ہرٹ کیا۔ مجھے ایسا بالکل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو مڑورتے ہوۓ بولی۔

ایٹس اوکے! یہ کوئی اتنی بری بات نہیں تھی۔۔ دیکھو مجھے نا باتوں کو کھینچنا بالکل پسند نہیں دوٹرک بات کرتا ہوں۔ تم نے جو کیا جیسے کیا جس وجہ سے کیا مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ زویا احمد تم میرے دل و دماغ سے اُتر چکی ہو۔ اچھا ہو گا تم اس کمرے سے بھی نکل جاؤں۔ میں اب مزید تمہیں اپنی زندگی اپنے آس پاس بالکل نہیں دیکھنا چاہتا۔ وہ اکتاۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔

ایم سوری میری وجہ سے آپ کا قیمتی وقت برباد ہوا۔ وہ اُٹھی اور مُڑ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔

ٹھاہ التمش نے غصے میں آ کر گلاس پکڑکر زمین پر دے مارا کانچ زمین پر پھیل گیا۔ بالکل اسکے ٹوٹے ہوۓ دل کی طرح۔

************************************

حازم کو ایک ہفتے بعد ہسپتال سے چھٹی مل گئی تھی۔ وہ گھر آ چکا تھا۔ اس حادثے کو گزرے ایک مہینہ ہو چکا تھا۔ وہ پہلے سے کافی بہتر تھا پر وہ بالکل خاموش سا ہو گیا تھا۔ سب سے مختصر بات کرتا۔ دعا ہو روز ان کے گھر آتی۔ وہ روز اسکے پاس گھنٹوں بیٹھی رہتی اور بولتی رہتی جیسا کہ اسکی ہوبی تھی۔ پر وہ بہت کم جواب دیتا۔

اریشہ گھر میں ایڈجسٹ کر چکی تھی۔ سیرت اور منت کے ساتھ وہ ان کے کالج میں جانا شروع کر چکی تھی۔ سارا بزنس سِراج نے سھنمبال رکھا تھا۔ یوں سمجھو جیسے زندگی اپنے راستے پر آ تو چکی تھی پر سب ایک دوسرے سے نظریں چُراتے تھے کوئی بھی سلطان کے بارے میں بات نہیں کرتا تھا۔ کچھ دنوں پہلے سب کو معلوم ہو چکا تھا۔ کہ عدالت نے سلطان کو دو سال کی قید اور پھانسی کی سزا سنائی ہے۔ ناظم شاہ اور اسکے والد کا یہاں آنا جانا تھا۔ انہوں نے سیرت کے لیے ناظم کا رشتہ بھیجا تھا۔ جو کہ انکے منہ پر ہی سِراج اور حازم نے منع کر دیا تھا۔

آج کالج صرف سیرت آئی تھی۔ اریشہ کی طبعیت ٹھیک نہیں تھی۔ اور منت کو اپنی دوست کے گھر جانا تھا سیرت کا اہم ٹیسٹ تھا جسے دینے وہ کالج آئی تھی۔

وہ کالج کے باہر کھڑی ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی تھوری ہی دیر میں ڈرائیور آ گیا۔ وہ گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔

تھوڑی ہی دور گاڑی گئی کہ ان کے سامنے ایک بری سے گاڑی آ کر رُکی۔۔

انکل گاڑی کیوں رُک دی۔ سیرت نے حیرانگی سے پوچھا۔اور سامنے دیکھا ناظم شاہ کو دیکھ کر اسکے چہرے کی رنگت پیلی پر گئی۔۔

بیٹے آپ اندر بیٹھو میں دیکھتا ہوں کون ہے وہ گاڑی سے اترے اور باہر ناظم شاہ کے پاس آ کر رُکے۔۔

ہاں جی کیا مسلہ ہے گاڑی کیوں رُکی؟

ابے بوڈھے پیچھے ہٹ ناظم نے انہیں دھکہ دیا وہ زمین پر گڑ گے وہ چلتاہوا سیرت کے پاس آیا اور دروازہ کھول کر اسے باہر نکالا۔ اسکا بیگ فون سب گاڑ میں گڑ گے۔۔

چھوڑ مجھے۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ پر ناظم اسے گھسیٹے ہوۓ اپنی گاڑی کی طرف لے جا رہا تھا۔

سیرت نے اسکے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑھے۔ تا کہ ہاتھ چھوٹ جاۓ اور وہ بھاگنے میں کامیاب ہو جاۓ ۔

آہ (گالی) ٹھاہ ناظم نے کھنچ کر اسکے چہرے پر تھپر مارا۔ اور اسے فرنٹ سیٹ پر دھکہ دیا۔

ابے او بدھے جا کر اپنے ان دو کوڑی کے مالکوں کو بتا دینا ناظم شاہ کا رشتہ منع کیا تھا نا اب دیکھنا ان کی بہن کا کیا حال کرتا ہوں۔ وہ بولتا ہوا گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی کو بھگا لے گیا۔

فرید جو کافی بری طرح زمین ہر گِڑا تھا اسکے ماتھے سے خون بھی نکل رہا تھا اسی لیے وہ جلدی سے کھڑا نا ہو پایا۔ ہمت کر کے وی گاڑی کی طرف بڑھے اور موبائل نکال کر حازم کو فون ملانے لگا۔۔۔

**********************************

یا اللہ میری بچی کی حفاظت کرنا نا جانے کہاں لے گیا ہے۔ حمیدہ بیگم روتے ہوۓ بولیں جب سے ان کو پتہ چلا تھا وہ روئی جا رہی تھیں۔

ایک دفع میرے ہاتھ لگ جاۓ ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔ حازم سٹک کے سہارے سے کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔۔

سراج نے پولیس کو فون کیا تھا وہ سب ڈھونڈرہے تھے۔ حازم اور وہ سراج اب پولیس کی بتاۓ ہوئی جگہ پر جارہے تھے۔۔

************************************

لالا جن ڈاکٹروں کو اپائنٹ کرنا ہے۔ وہ سیلری بھی زیادہ مانگ رہے ہیں تو کیسے ہو گا؟ شمس ڈرئیونگ سیٹ پر بیٹھا التمش سے بات کر رہا تھا جو کہ موبائل پر میسج کر رہا تھا۔

ہو جاۓ گا۔ ویسے بھی سعد اور اسکے ساتھ تین میل ڈاکٹر اور ایک فی میل ڈاکٹر بہت ہے۔ تین مہینوں کے اندر اندر سب تیار ہو جاۓ گا۔ جتنے بھی پیسے بولتے ہیں دو پر اچھے ڈاکٹر ہونے چاہیے۔ وہ مصروف انداز میں بولا۔۔

ہممم شمس سر ہلا کر گاڑی چلانے لگا۔ وہ دونوں صبح سے شہر کسی کام سے آۓ ہوۓ تھے۔ دو بج رہے تھے۔ واپسی کی راہ لی تھی۔۔

یہ کون ہے؟ وہ گاڑی چلاتے ہوۓ ایک طرف دیکھ کر بولا۔ اسکے ساتھ سے گاڑی بہت سپیڈ سے آگے بڑھی۔۔

کیا ہوا؟ التمش نے پوچھا۔۔

لالا ایک گاڑی میں مجھے اسکا گمان ہوا۔ وہ کنفیوز سے انداز میں بولا۔۔

کس کا ؟

بتاتا ہوں۔ وہ بولتا ہوا گاڑی کی سپیڈ حد سے زیادہ تیز کر دی اور اس گاڑی کے پیچھے لگا دی۔۔۔

وہ اسے کٹ کرتا ہوا گاڑی کے آگے بریک لگانے لگا۔۔ اپنے سامنے یوں گاڑی کے آجانے سے سامنے والے نے بھی گاڑی رکی ۔

شمس نے سامنے جس انسان کو دیکھا اسے دیکھ کر وہ ایک پل کو ساکت ہوا۔ اگلے ہی پل وہ باہر نکلا اور ناظم کے دروازے کی طرف بڑھا۔ اسے نکال کر باہر دھکہ مارا۔۔ التمش بھی تب تک نکل چکا تھا۔ سیرت کو باہر نکلا۔ وہ روۓ جا رہی تھی۔۔

شمس ناظم کا مارے جا رہا تھا۔ التمش نے پولیس کو فون ملایا۔ ناظم اور شمس آپس میں بہت بری طریقے سے لڑ رہے تھے۔۔

تھوڑی دیر میں پولیس آجاۓ گئی تم پریشان مت ہو یہ پانی پیو۔

سیرت کانپ رہی تھی۔ التمش نے اسے اپنی گاڑی میں بیٹھاتےہوۓ کہا۔۔

سیرت نے کانپتے ہوۓ ہاتھوں سے پانی پیا۔۔

شمس چھوڑ اسے التمش نے آ کر چھڑوایا۔ وہ بہت برے طریقے سے اسے مار رہا تھا۔۔

لالا اس کی ہمت کیسے ہوئی۔ اسے کیڈنیپ کرنے کی۔ اسکو تو اسی دن مار دینا چاہیے تھا۔ جس دن ہسپتال میں سیرت سے بدتمیزی کی تھی۔ شمس اسکے پیٹ میں لات مارتے ہوۓ بولا۔۔ سیرت گاڑی میں بیٹھی سب سن رہی تھی۔۔

اچھا چھوڑ پولیس آ گئی ہے۔ التمس نے اسے ہٹایا سامنے سے پولیس کی وین آ رہی تھی۔۔ التمش نے سب معاملہ سھنمبال لیا۔ لڑکی کا نام نہیں آنے دیا۔۔ وہ اسے پکڑوا کر گاڑی میں آ کر بیٹھے۔۔۔

تمہارے بھائیوں کو کوئی فکر نہیں جوان بہن کو یوں اکیلے نکلنے دیا۔ شمس غصے سے سیرت کو دیکھ کر بولا۔۔ سیرت نے سر نیچے کر لیا اور رونے لگی۔۔

شمس بکواس بند کرو اب مزید کچھ نہیں بولنا۔ اسکے گھر چلو۔ وہ اسے ڈانتے ہوۓ بولا۔۔۔

شمس چپ کر کے گاڑی چلانے لگا۔ شیشے سے بہت بار وہ روتی ہوئی سیرت کو دیکھ لیتا۔

اریشہ کے شادی والے دن سے چھوٹی معصوم، شرارتی سی سیرت اسکو بہت اچھی لگنے لگ تھی۔ دوسری دفع اس نے ہسپتال میں ناظم سے لرتے دیکھا تھا۔ یہی سوچ سوچ کر اسکا دماغ خراب ہو رہا تھا۔ شمس کے پاس حازم کا نمبر تھا اسے فون کر کے بتا دیا تھا۔ وہ بھی واپس گھر ہی جا رہے تھے۔ آدھے گھنٹے کے سفر کے بعد گاڑی ملک ہاؤس کے باہر رُکی۔۔

شکریہ۔ سیرت دروازہ کھولتے ہوے بولی۔۔۔ تبھی سامنے سے ایک گاڑی آ کر ان کے سامنے رکی۔ حازم اور سراج باہر نکلے۔

بھیو۔۔۔۔ سیرت روتی کؤی سِراج کے گلے لگ گئی۔ سِراج اسے چپ کروانے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔۔۔ شمس گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔

بہت بہت شکریہ۔ حازم سٹک کے سہارے چلتا شمس کے پاس آ کر بولا۔۔۔

حازم صاحب لوگوں کے گھروں کی عزتوں کو اچھالنا آپ کو ضرور سیکھایا گیا یے ہمیں تو عزت کو سھمبالنا ہی سیکھایا گیا ہے۔ التمش گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوۓ بولا۔۔۔

حازم نے شرمندگی سے سر نیچے جھکا دیا۔۔ تبھی دروازہ کھول کر حمیدہ بیگم ، منت، اور اریشہ باہر آئیں۔

لالا! اریشہ جیسے ہی باہر نکلی سامنے گاڑی میں بیٹھے التمس پر نظر پری تو منہ سے نکلا۔۔ التمش نے سر دائیں طرف گھومایا۔ تو سامنے اریشہ پر نظر پڑی۔۔ اس نے فوراً چہرہ موڑ دیا۔۔ اور ہارن پر ہاتھ رکھ کر بجانے لگا۔۔ شمس جو کہ سراج اور حازم کو سب بتا رہا تھا ہارن پر پلٹ کر دیکھا۔۔

شمس چلو فالتو وقت نہیں ہے مجھے بہت کام ہیں۔ وہ بہت غصے سے بولا۔۔ شمس خداحافظ کہتا گاڑی میں آ کر بیٹھا۔ اور گاڑی چلا دی۔۔۔۔ اریشہ دور کھڑی گاڑی کو جاتا دیکھتی رہ گئی۔۔ڈیڈھ مہینے بعد اپنے بھائی کو سامنے دیکھا تو اپنا سارا کِیا سامنے آ گیا۔۔۔۔ وہ بامشکل آنسوں کو کنٹرول کرتی سب کے ساتھ گھر کے اندر گئی۔ سِراج آگے بڑھا۔ اور اسکے کندھے کے گرد اپنا بازو پھیلا کر اسکے ساتھ چلنے لگا۔۔ اریشہ کو اسکا سہارا ملا تو وہ کتنی دیر سے کنٹرول کیے آنسوں کو رُوک نا پائی اور رو دی۔۔ سِراج نے بہت مشکل سے اسے چپ کروایا۔۔

***************************************

وہ دونوں شام کے وقت حویلی پہنچے۔ اریشہ کو دیکھ کر اسکا موڈ بہت خراب ہو چکا تھا۔ حویلی میں داخل ہوتے ہی اسکی نظر ڈائینگ ٹیبل پر پلیٹس لگاتی زویا پرپڑی اسکا موڈ اور خراب ہو گیا۔ وہ بنا کسی کو کچھ بولے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔

شمس اسکے پیچھے ہی آ رہا تھا۔

شمس بھائی انہیں کیا ہوا؟ اتنے غصے میں کیوں ہیں؟ وہ التمش کو یوں جاتے ہوۓ دیکھ کر پریشان ہوتی شمس کے پاس آ کر بولی۔۔

شمس نے سب بتا دیا۔ جسے سن کر زویا بہت پریشان ہو گئی۔

سیرت ٹھیک تو ہے نا؟

ہمم ٹھیک ہے۔ ایم سوری بھابھی۔ شمس اپنی نظریں نیچی کرتے ہوۓ بولا۔۔

سوری کس لیے؟ وہ حیرانگی سے بولی۔

پنار والی بات اور بھی بہت دفع بدتمیزی کی میں نے ان سب کے لیے ایم سوری ۔ وہ شرمندگی سے بھرپور لہجے سے بولا۔۔

کوئی بات نہیں۔ جب آپ میری اتنی بری غلطیاں معاف کر سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں وہ مسکرا کر بولی۔۔ شمس مسکر اکر آگے بڑھ گیا۔۔۔

زویا اس سے بات کر کے سیڑیوں کی طرف بڑھی۔ پچھلے ایک مہینے سے وہ ماہ رخ اور اریشہ والے کمرے میں شیفٹ کو گئی تھی۔ اس ایک مہینے میں ایک بارے بھی التمس نے اسے نہیں بلایا۔ وہ جہاں ہوتی وہ وہاں سے اُٹھ کر چلا جاتا اگر وہ کچھ بات کرتی تو اسکا جواب نا دیتا۔ وہ اپنے کاموں میں بے حد مصروف ہو گیا تھا۔ زویا کا زیادہ تر وقت جہانگیر خان کے ساتھ گزرتا۔

وہ ہمت کرتی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی۔ سامنے التمش صوفے پر بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا۔وہ کمرے میں داخل ہوئی۔

تم تم یہاں کیا کر رہی ہو؟ وہ اسے دیکھتے ہی آپے سے باہر ہو گیا۔ زویا اسکی اتنی اونچی آواز سن کر کانپ کر رہ گئی۔

وہ مجھے آپ سے بات۔۔۔۔ وہ ہمت کر کے بولی۔۔

بات کیا بات کیا بات کرنی ہے بولو۔۔۔ وہ کھڑا ہوتے ہوۓ بولا۔۔ اسکی آنکھیں غصے کی وجہ سے حد سے زیادہ لال ہو چکی تھیں۔

آپ کی طبعیت ٹھیک نہیں لگ نہیں لگ رہی۔ وہ اگے بڑھ کر بولی۔

خبردار زویا احمد اگر میرے قریب آنے کی کوشش کی۔۔ وہ وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔

آپ ایسا کیوں بول رہے ہیں پچھلے ایک مہینے سے آپ مجھے کتنا اگنور کر رہے ہیں کم از کم میری بات تو سنیں۔ وہ آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی۔

چھوڑو۔ التمش نے جھٹ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا۔۔

مس زویا احمد جب تمہاری یہ دھوکہ باز شکل دیکھتا ہو نا تو اس سگڑیٹ کے جلنے سے بھی زیادہ تقلیف ہوتی ہے۔۔ سمجھی۔۔۔ التمش نے سگڑیٹ اپنے ہاتھ کی اگلی ہتھیلی پر لگاتے ہوۓ بولا۔

زویا نفی میں سر ہلاتی دونوں ہاتھ چہرے پر رکھے اپنی آواز کو دبانے کی کوشس کرتی پیچھے ہٹتی چلی گئی۔

تم جیسی خودغرض لڑکی کے ساتھ رہنے کی بجاۓ اچھا ہے اس سگڑیٹ کو پورے جسم پر لگاتا رہوں۔ وہ نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔۔

اتنی نفرت کرتے ہیں؟ وہ بھاری آواز میں بولی۔۔

نفرت ہنہ۔۔۔۔ نفرت تو شائد کچھ بھی نہیں۔ میرا دل کرتا ہے تمہیں اس حویلی اپنی زندگی سب سے نکال کر باہر ہھینک دوں۔ جب جب تمہاری شکل دیکھتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے تم مجھ پر ہنس رہی ہو کہ لو التمش خان محبت کرتے تھے نا لو محبت کے نام پر ایک تماچا۔

خیر اس سب کو اتنا بڑھانے سے بہتر ہے اس بے مقصد اور جھوٹے رشتے کو یہی ختم کریں۔ وہ بالوں میں ہاتھ ڈالتے ہوۓ بولا۔

کیا مطلب؟ زویا کو اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

اتنی بھولی مت بنو۔ تم جیسی شاطر لڑکی کو یہ سمجھنا مشکل نہیں۔ تو مس زویا احمد دھیان سے سننا۔ میں التمش خان اپنے پورے ہوش و حواس میں زویا احمد تمہیں طلا۔۔۔۔۔ وہ اس سے آگے مزید کچھ بولتا زویا اگے بھرے اور اپنا ہاتھ اسکے منہ پر رکھ دیا۔۔ اسکے آواز وہی بند ہو گئی۔۔

نہیں التمش آپ کو اللہ کا واسطہ۔ مجھ سے کی گئی محبت کو واسطہ خدارا مجھے طلاق مت دیں۔ آپ کو میری شکل پسند نہیں نفرت ہوتی ہے نا میں میں میں وعدہ کرتی ہوں دوبارہ کبھی اپ کو اپنی شکل نہیں دیکھاؤں گئی۔کبھی نہیں دیکھاؤں گئی۔ میں میں یہاں سے ابھی چلی جاؤں گئی۔ اللہ قسم میری مری ماں باپ بھائی سب کی قسم

چلی جاؤں گی۔ پر مجھے طلاق مت دیں۔ میرے نام کے ساتھ اپنا نام رہنے دیں مت ہٹایے گا۔ میری زندگی میں اب صرف آپ ہی اہم ہو۔۔اگر آپ کا نام میرے ساتھ نا رہا تو تو زویا مر جاۓ گئی۔ میں بہت بری ہوں۔ بہت بری ہوں ۔ پلیز ایسامت کیجیے گا۔ میں بھیگ مانگتی ہوں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔ التمش اسکے الفاظوں سے وہی کا وہی خاموش کھڑا رہا۔۔

میں میں ابھی آپ کے کمرے سے چلی جاتی ہوں۔ وہ اسکے منہ سے ہاتھ ہٹاتے اگلے ہی پل کمرے سے باہر کی طرف بھاگی۔کہی اگر ایک سیکنٹ لیٹ ہو گیا تو کہی وہ دوبارہ سے وہی الفاظ نا بول دے۔۔۔

اسکے نکلتے ہی التمش وہی بیڈ پر بیٹھتا چلا گیا۔ ابھی کچھ دیر پہلے غصے میں کہے جانے والے الفاط اب اسکے دماغ میں گھونجنے لگی۔۔ وہ وہی بیڈ پر لیٹ گیا۔

**************************************

نہیں میں یہاں نہیں رہوں گئی۔ اگر انہوں نے کل کو طلاق دے دی تو۔۔۔ نہیں میں چلی جاؤں گئی۔ وہ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔ اوت جلدی جلدی ایک بیگ میں کپڑے رکھنے لگی۔ کانپتے ہاتھوں سے بیگ بند کرتی وہ موبائل پکڑ کر نیچے جہانگیر خان کے کمرے میں آئی۔۔

جہانگیر خان اسے یوں روتے ہوۓ دیکھتے فوراً اُٹھ کھڑے ہوۓ۔

زویا کیا ہوا؟ وہ روتی ہوئی زویا کو دیکھ کر بولے۔۔

نانو آپ کو میری قسم آپ مجھ سے کچھ نہیں پوچھیں گے۔ میں لندن جا رہی ہوں۔ اپ مجھے نہیں رُوکیں گے۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔

پر زویا جہانگیر خان بولے۔

نانو آئی ویل مس یو۔ پلیز جانے دیں اگر یہاں رہی تو مر جاؤں گئی۔ التمش کو مت بتاۓ گا میں لندن میں ہوں۔ پلیز وہ ہاتھ جورتے ہوۓ بولی۔ ۔ جہانگیر خان نے اسے سینے سے لگا لیا وہ دل کھول کر رو دی۔ جہانگیر خان کی آنکھوں سے بھی آنسوں نکل پرے۔

اگلے آدھے گھنٹے میں زویا سعد کے ساتھ حویلی سے نکل گئی۔۔ وہ سارا رستہ روتی رہی سعد نے بہت بار پوچھنے کی کوشش کی پر وہ چپ رہی۔ صبح کے پانچ بجے وہ ایر پوٹ پہنچے۔ سامنے سِراج ہاتھ میں ٹیکٹ اور اسکا پاسپورٹ پکڑے پریشان کھڑا تھا۔۔

تھینک یو سِراج اپنا اور باقی سب کا خیال رکھنا ۔ وہ اس سے پاسپورٹ پکڑتے ہوۓ بولی۔ اور بنا ان دونوں کے کسی بھی سوال کا جواب دیے وہ ایئرپورٹ کے اندر چلی گئی۔۔۔

کچھ ہی گھنٹوں میں وہ لندن پہنچ گئی وہ جہاز میں سارا رستہ روتی رہی۔ التمش کے الفاظ اسکے کانوں میں گھونجتے رہے۔ لندن میں سلطان ملک کا ایک فلیٹ تھا۔ آتے وقت سِراج نے اسکی بھی چابی دے دی۔ وہ وہاں پہنچ گئی تھی۔۔

وہ یہاں کیا کرنے والی تھی کیسے رہنے والی تھی۔ کچھ بھی نہیں جانتی تھی۔ وہ بس اپنے نام کے ساتھ لگا التمش کا نام بچانا چاہتی تھی۔ اسکے لیے وہ ساری زندگی بھی یہاں رہتی تو اسے کوئی غم نہیں تھا۔

زندگی کبھی کبھی کچھ پل میں کیسے بدل جاتی ہے یہ کوئی اس وقت زویا سے پوچھتا۔ حویلی میں رہتے اسے لگا ایک فیملی مل گئی یے۔ لیکن اب وہ واپس سے اکیلی ہو چکی تھی۔۔۔

*************************************

اگلی صبح التمش کی آنکھ کھولی تو سر بھاری سا محسوس ہوا اسے بہت تیز بخار تھا۔ سیدھا ہو کر بیٹھا۔ سائیڈ سے پانی کا گلاس پکڑ کر پیا۔ آہستہ آہستہ دماغ کی نسیں کھولیں۔ اور رات کا سارا منظر سامنے آ گیا۔۔

کیی وہ چلی تو نہیں گئی وہ بیڈ سے اُٹھا اور زمین پر پاؤں رکھے ایک دم چکر آیا۔ بخار بہت تھا۔ وہ سھمبالتا ہوا نیچے آیا۔ ساری حویلی میں ڈھونڈ لیا مگروہ کہی نظر نا آئی۔ دل ایک دم ڈوبا۔

برخردار کسے ڈھونڈ رہے ہو۔ جہانگیر خان کی آواز گھونجی۔۔

کسی کو نہیں وہ خود کو سھنمبالتا ہوا بولا۔۔

وہ چلی گئی یے۔ کبھی نا واپس آنے کے لیے۔ جہانگیر خان بولے تو التمش کو لگا بم اسکے سر پر گِڑا۔

میں نہیں جانتا کل رات کیا ہوا وہ بس روتے ہوۓ آئی اور مجھ سے جانے کی آجاذت مانگنے لگی۔ جہانگیر خان اسکے قریب آ کر بولے۔۔

کہاں گئی؟ وہ بس اتنا بولا۔۔

میں نہیں بتاؤں گا وہ کہاں گئی۔ مجھ سے وعدہ لے کر گئی ہے۔ تم خوش ہو جاؤ وہ چلی گئی۔ اب جگہ جگہ سے اُٹھ کر نہیں جانا پرے گا۔ نا ہی اس سے بات نا کرنے کے بہانے ڈھنڈنے پڑیں گے۔ خوش رہوں۔ وہ اسکے سر پر یاتھ پھیرتے یوۓ بولے اور پلٹ گے۔ وہ وہی گھاس بیٹھتا چلا گیا۔۔۔۔

تم سچ میں چلی گئی۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولا۔ ایک آنکھ سے آنسوں نکلا۔۔وہ وہی گھاس پر لیٹ گیا۔۔۔اتنے تیز بخار میں ٹھنڈی گھاس مزید سردی پیدا کر رہی تھی۔ پر وہاں کس کو فرق پرتا تھا۔

*********************************

پانچ سال بعد:

سِراج تیار ہو جائیں۔ جانا ہے لیٹ ہو رہی ہے۔ دیکھیں اپنے بیٹے کو دو دفع تیار کر چکی ہوں۔ پھر سے گندہ ہو گیا۔ اریشہ اونچی اونچی چلا رہی تھی۔

بیگم ناراض کیوں ہو رہی ہو۔ اپنے موٹو کو ابھی تیار کر دیتا ہوں۔ سِراج اسکے گال کھینچ کر اپنے بیٹے کی طرف بڑھا جس نے اپنے سارے کپڑوں پر چاکلیٹ لگا لی تھی۔۔

آپ چھوڑیں میں تیاد کرتی ہوںآپ خود جا رک تیار ہو جائیں۔ بارات کسی بھی وقت آتی ہو گئی۔ اریشہ نے اسے واشروم میں دھکہ دیتے ہوۓ کہا۔

آج سیرت کی شادی تھی۔ اور حازم کا ولیمہ تھا۔ حازم دعا کی محبت کے اگے ہار گیا اور کل اس نے اپنے نکاح میں لے لیا۔ اج ان دونوں کا ولیمہ تھا۔ سیرت کی شادی شمس سے ہو رہی تھی۔ یہ رشتہ تھوڑی مشکل سے ہوا تھا۔ سب کو منانا کافی مشکل کام تھا۔ پر شمس نے وہ کر دیکھایا تھا۔ آج وہ بارات لے کر آ رہے تھے۔

ابھی بھی اریشہ اور التمش کے درمیان سرد دیوار تھی۔ باقی سب نے اسے معاف کر دیا تھا۔ اسے بھی اپنے کیے پر بہت پشیمان تھا۔

بارات آ چکی تھی۔ اسکا استقبال بہت بھرپور انداز میں کِیا گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں نکاح کی رسم پوری ہوئی۔۔

السلام علیکم! سِراج اسکے پاس آ کر بولا۔

وعلیکم السلام! وہ جوس پیتے ہوۓ بولا۔۔

اہممممم وہ کیا میں آپ سے کچھ دیر بات کر سکتا ہوں۔ وہ اپنا گلا کھنگال کر بولا۔۔۔

بولو! وہ اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولا۔ انداز بہت لیا دیا تھا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔