Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6 Part 1

چونکہ سردیوں کی شرواعت تھی۔ آج ناجانے کیوں بارش کا موسم بنا ہوا تھا۔ جہانگیر خان کو تیخے جواب دینے کے بعد اس کے بدلے میں صائمہ بیگم سے کافی باتیں سننے کے بعد رات نو بجے وہ اپنے کمرے میں واپس آئی۔ وہ بہت تھک چکی تھی۔۔سارا دن صائمہ بیگم نے اس سے کام کرواۓ تھے۔۔۔۔۔اور زویا نے ہر کام میں اپنا کار نامہ دیکھایا۔۔۔ وہ سب کو بہت جچ کر رہا تھا۔۔۔اور وہ یہی تو چلاہتی تھی۔۔
کمرے میں آئی تو پورا کمرہ خالی تھا۔۔
یہ بی جان کہاں چلی گئیں؟ شائد کسی کام سے گئی ہوں گی۔۔ وہ سوچتے ہوۓ ساتھ بنے واشروم۔میں چلی گئی۔منہ دھو کر جیسے ہی وہ باہر نکلی سامنے التمش کو دیکھ کر وہ گھبڑا گئی۔۔۔۔۔وہ سامنے ہاتھ باندھے سخت نظروں سے اسے گھوڑ رہا تھا۔۔
بری بات ہے ۔ آپ جیسا امیر مغرور خان آج اس غریب، خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی کے کمرے میں کیا کر رہا ہے؟ وہ اپنا ڈوپٹہ سر پر لے کر اپنی گھبڑاہٹ پر قابو پاتے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔
تم جیسی بد دماغ اور بدتمیز لڑکی کو اس کی اوقات یاد کروانے آیا ہوں۔جو تم نے آج دادا جان سے بدتمیزی کی ہے اس کا حساب لینے آیا ہوں۔ صرف تمہاری وجہ دادا جان کا بی پی شوٹ کر گیا ہے۔ وہ اس کے طنز کو بامشکل ہضم کرتے ہوۓ غصے سے بولا۔۔۔
او گاڈ ایم سوری میری وجہ سے ان کا بی پی شوٹ کر گیا۔۔پر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں جائیں اور جا کر انہیں ہسپتال لے کر جائیں یہ نا ہوا بے چارے اللہ کو پیارے ہو جائیں۔ بڈھے ہو چکے ہیں۔۔۔اس عمر میں زرا سی بھی ٹینشن اوپر پہنچا سکتی ہے۔۔۔۔وہ ڈرامائی انداز میں افسوس ظاہر کرتے ہوۓ بولی۔
ہمممم وہ بچارے تو اللہ کو پیارے نہیں ہوں گے۔پر تم آج ضرور اللہ کو پیاری ہو جاؤ گئی۔۔۔ وہ لمبا سانس کھینچ کر بولا۔۔اور آگے بڑھ کر زویا کی کلائی ہاتھ میں لے کر اسے اپنے ساتھ کھینچتے ہوۓ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔۔۔
زویا اس اچانک افتار کے لیے بالکل تیار نا تھی۔۔۔۔اس نے اپنی کلائی چھڑانی چاہی پر مخالف کی پکڑ بہت مظبوط تھی۔ ساری حویلی میں سناٹا سا تھا۔ وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹا ہوا سیڑیوں کی طرف بڑھا۔۔۔۔
چھوڑ مجھے کیا بدتمیزی ہے ؟ اپنی دوسرے ہاتھ کے ناخن اس کے بازو میں گھسا دیے۔۔۔۔پر سامنے والا بھی شائد بلا کی ہمت رکھتا تھا۔۔
اوپر چھت پر لا کر اس نے زویا کو سامنے کی طرف دکھیلا وہ گڑتے گڑتے بچی۔۔۔۔۔
تو مس زویا آج کی پوری رات تم یہی چھت پر گزارو گئی۔۔ تم بہادر اور نڈر ہو نا تو یہ ٹھنڈی ہوا یا رات کو ہونے والی بارش تمہیں کچھ نہیں کرے گئی۔۔۔۔وہ بولا تو زویا کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔۔۔آسمان پر بادل گرج رہے تھے۔۔ہوائیں بہت تیز تھیں۔۔۔۔۔کبھی بھی بارش ہو سکتی تھی۔۔۔
کیا ہوا؟ ہوش اُڑ گے۔ مس زویا آل دی بیسٹ باۓ وہ مسکرا کر اسے چڑاتے ہوۓ پلٹا۔۔۔۔
آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔۔میں بہادر ہوں۔ اور آپ کو کیا لگتا ہے اس ٹھنڈ سے میں مر جاؤں گئی۔ بالکل نہیں مسٹر التمش! میرے اندر جو لاوا پل رہا ہے۔ ۔۔۔وہ تو اس حویلی کے ہر مرد کو ترپتے ہوۓ دیکھ کر ہی ٹھنڈا ہو گا۔۔۔آپ سب جو کرنا چاہتے ہیں کریں۔ پر میں ہمت نہیں ہاروں گئی۔۔۔ ۔۔وہ اونچی آواز میں بولی۔۔۔۔۔التمش ایک پل کو رُکا پھر چل دیا۔۔۔۔۔چھت کا دروازہ بند کر کے وہ نیچے چلا گیا۔۔۔۔۔
یا اللہ یہ کیا ہو رہا ہے اب کیا کروں۔۔اتنی سردی ہے۔۔۔ وہ اپنی دونوں ہتھیلوں کو مسلتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔تبھی بجلی کڑکی ہوا کا زور تیز ہوا۔۔۔۔۔ایک دم سے بارش ہونا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔وہ بنا چپل کے کھڑی تھی۔۔۔۔ادھر اُدھر دیکھا تو برے سے چھت پر ایک طرف چھوتا سا کمرہ دیکھا۔۔۔جس کے سامنے چھوٹی سی شیڈ تھی۔۔۔۔وہ بھاگتی ہوئی اس شیڈکے نیچے آ گئی وہ فل بھیگ چکی تھی۔۔کمرے کے دروازے پر پڑے برے سے تالے نے اس کا منہ چڑایا۔۔۔۔۔۔
بارش نے زور پکڑا۔۔۔وہ وہی بیٹھ گئی۔۔۔
یا اللہ مدد کر گیلے ڈوپٹے کو دونوں ہاتھ سے نیچوڑا۔۔۔۔ بھیگ جانے کی وجہ سے اسے بہت سردی لگ رہی تھی۔۔۔وہ ہلکے ہلکے کانپ رہی تھی۔ پرسوں سے لگے ہر جوٹ ابھی تک مندمل نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔اور بازوں پر بنے چھالے اسے مزید تقلیف دے رہے تھے۔۔۔۔
اہ امی۔۔۔۔۔۔پلیز آ جائیں۔۔۔۔۔وہ اب ٹوٹی تھی۔۔۔۔۔۔اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر وہ رو دی۔۔۔۔اتنا روئی کہ ہچکیاں بند گئیں۔۔۔۔۔ وہ رونا بالکل نہیں چاہتی تھی پر آج ہمت توٹ گئی تھی۔۔۔۔چاہے عزم جتنا بھی برا ہو پر کسی پوائینٹ پر ہم ویک پر جاتے ہیں۔۔۔۔وہی زویا کے ساتھ وہ کبھی نا روتی ہر آج وہ خود کو ہر طرف سے بے بس محسوس کر رہی تھی۔۔۔

اسے چھت پر بند کر کے وہ خود جہانگیر خان کے کمرے میں آیا۔۔ڈاکٹر انہین دوائی دے کر چلا گیا تھا۔۔۔اب ان کا بی پی کنٹرول میں تھا۔۔۔۔بستر پر وہ آرام کر رہے تھے۔۔۔۔وہ وہی سے پلٹا۔
وہ سیڑیوں کی طرف جا رہا تھا۔۔۔جب ایک کمرے سے رونے کی آواز آئی۔۔وہ اس کمرے کی طرف بڑھا۔۔ارسلان کا کمرہ تھا۔۔۔۔اندر جھانکا تو سامنے بیڈپر بیٹھی صائمہ بیگم رو رہیں تھیں۔۔۔۔
اماں وہ چلتا ہوا ان کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھ گیا۔صائمہ بیگم تصویر کو گلے سے لگاۓ رو رہی تھیں۔۔۔۔التمش نے انہیں سینے سے لگا لیا۔۔۔وہ اور بلک کر رو دیں۔۔۔۔۔
اماں چپ کر جائیں طبعیت خراب ہو جاۓ گئی۔التمش نے انہیں چپ کروانے کی کوشش کی پر ناکام رہا۔۔۔۔
رو لینے دے التمش پتر اب تو زندگی بھر کا روگ ہے۔ اپنفا جوان بیٹا کھویا ہے میں نے۔ ارے اس کی جگہ اللہ مجھے لے جاتا۔۔۔۔وہ ٹوٹ کر روتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔۔۔التمش کی آنکھوں سے بھی آنسوں نکلنا شروع ہو گے ۔۔۔۔
اماں رونے سے وہ واپس تو نہین آ جاۓ گا۔ رونے کی بجاۓ اس کی مغفرت کی دعا کریں۔۔۔ اور سوچین اگر وہ آپ کو یوں روتا ہوا دیکھتا ہواتو اسے اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔التمش خود کو سھنمبالتے ہوۓ بولا ۔۔۔۔نقصان بہت برا تھا۔ پر اب کسی کو تو ہمت کرنی پڑے گئی۔۔۔۔۔صائمہ بیگم کو سھنمبالنا مشکل تھا۔پر یہ فریضہ بھی التمش کو انجام دینا تھا۔۔۔
انہیں زبردستی دوائی کھلائی۔ نیند کی بھی گولی تھی۔۔۔۔۔وہ روتے روتے سو چکیں تھیں۔۔۔
میرا وعدہ ہے اماں اپنے بھائی کے قاتل کو تنکا تنکا کر کے ماروں گا۔۔۔۔اس سے جُڑے ہر بندے کو تڑپاؤں گا۔۔۔۔صائمہ بیگم کے ہاتھ کو عقیدت سے چومتے ہوۓ وہ بولا۔۔۔اور اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔
ہاں منصور پکڑا اسے۔۔۔۔اچھی بات ہے۔۔۔وہی پر بند کر دو میں کل ملتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔اپنے فون پر منصور سے بات کر کے وہ اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔زویا کو وہ یکسر فراموش کر چکا تھا۔۔۔۔۔سونے کے لیے بیڈ پر لیٹا اور کچھ ہی پل میں نیند کی آغوش میں چلا گیا۔۔

اللہ جانے یہ لڑکی کہاں چلی گئی کے پوری حویلی چھان ماری کہی نہین ملی۔۔بی جان کمرے میں پریشان سی ٹھل رہی تھیں۔۔وہ پچھلے دو گھنٹوں سے زویا کو ڈھونڈ رہیں تھی ۔۔
اگر اس وقت کسی نے اسے باہر دیکھ لیا تو قیامت آ جاۓ گئی۔۔اللہ اسے اپنی حفاظت میں رکھنا۔۔۔۔۔انہوں نے دل سے دعا کی۔۔۔۔۔۔اور وضو کرنے چلی گئیں۔۔۔۔۔۔وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں۔۔۔۔۔۔


اسے سوۓ ہوۓ ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوۓ تھے جب اچانک گھبڑاہٹ کی وجہ سے آنکھ کھل گئی۔۔۔۔ بیڈ پر اُٹھ کر بیٹھا اور پانی پینے لگا۔۔۔۔
ااتنی گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔وہ اُٹھ کر بالکنی کا دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔۔۔۔کھلی فضا میں سانس لی۔۔۔۔۔تو تھوری راحت ہوئی تو نظر سامنے زور شور سے سے ہوتی ہوئی بارش پر گئی۔۔۔۔ٹھنڈ کا احساس ہوا تو وہ پلٹ کر دروازہ بند کرتا اندر کمرے میں واپس آیا۔۔۔۔۔لائیٹ آن کی تو سامنے نظر کلاک پر گئی۔۔۔جہاں ہر سوئی پونے ایک پر تھی۔۔۔
او شیٹ اتنے گھنٹے ہو گے۔۔۔وہ وہ تو اوپر بند ہے اور بارش۔۔۔۔۔او شیٹ وہ جلدی سے باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔۔جلدی سے اوپر چھت پر آیا۔۔۔۔
دوازہ کھول کر ادھر اُدھر دیکھا تو سامنے شیڈ کے نیچے بے یوش وجود ہر نظر پڑی۔۔۔۔وہ بھاگتا ہوا اس تک آیا۔۔۔اور جلدی سے اس کا سر اپنی گود میں لیا۔۔۔۔
زویا زویا۔۔۔۔۔اُٹھو۔۔۔۔وہ اس کے چہرے پر ہلکا سا ہاتھ مارتے ہوے بولا۔۔۔ وہ ہلکا سا کسمسائی۔۔۔۔۔۔۔
التمش نے اسے بازوں میں بڑھا اور نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔دونوں فل بھیگ چکے تھے۔۔۔۔۔وہ سے لیتے ہوۓ سیدھا اس کے کمرے میں آیا۔۔۔۔شد شکر حویلی میں کوئی نہیں جگا تھا۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولا تھا۔۔۔ اس نے جلدی سے اسے بیڈ ہر لٹایا۔۔۔بی جان جن کی ابھی ابھی آنکھ لگی تھی کمرے میں شور کی وجہ سے اُٹھ گئیں۔۔۔۔۔
چھوٹے سائیں۔ اپ اور یہ زویا بٹیا کو کیا ہوا۔۔۔اچانک ان دونوں کو اسطرح دیکھ کر بے جا سوالات ان کے ذہین میں ابھرے۔۔۔۔
بی جی آپ جلدی سے زویا کے کپڑے بدلیں۔ میں آتا ہوں۔ وہ کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔اپنے کمرے میں آیا جلدی سے کپرے تبدیل کیےاور ہاتھ میں چھوٹا سا ہیٹر اور ایک کمبل لیے وہ ان کے کمرے میں آیا۔۔۔۔۔
سامنے بی جان نے اس کے کپڑے تبدیل کر کے اس پر پتلا سا کمبل دے دیا تھا۔۔۔۔۔۔
التمش نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا کمبل اس پر اُڑایا۔۔۔اور ہیٹر ایک طرف لگایا۔۔
بی جان اس وقت میں ڈاکٹر نہیں بلا سکتا۔۔۔۔آپ بتائیں اسے اس حالت میں کیا دین جس سے طبعیت سھنمبلے۔۔۔۔۔التمش اس کے پیلے پڑے چہرے کو دیکھتے ہوے بولا۔۔۔۔
سائیں زویا بٹیا بارش میں بھیگیں ہیں۔۔۔انہیں سردی لگ گئی ہے۔۔۔۔ابھی تومجں صرف ایک قہوہ بنا سکتی ہوں۔۔۔ باقی اگر ڈاکٹر آجاتا تو زیادہ بہتر تھا۔۔۔۔بی جی زویا کے ماتھے پر ہاتھ بھیرتے ہوۓ بولیں جو آگ کی طرف جل رہا تھا۔۔۔۔۔
آپ جلدی سے قہوہ بنائیں۔۔۔ساتھ میں کچھ کھانے کے لیے اور بخار کی گولیاں لائیں۔۔۔۔التمش جلدی سے بولا۔۔بی جی جلدی سے کمرے سے نکلیں جاتے وقت کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔اگر اس وقت التمش کو کوئی یہاں دیکھ لیتا تو حویلی میں طوفان مچ جاتا۔۔۔۔
میں کتنا برا سٹوپیڈ ہوں۔۔۔یوں بارش میں چھوڑ آیا۔۔۔۔یہ بھی نہیں سوچا اسے کچھ ہو سکتا تھا اگر میں تھوری دیر اور نا جاتا تو؟؟؟؟۔۔۔۔وہ زویا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ بولا۔ جو آگ کی طرح دھک رہا تھااس کی نظر زویا کے جلے ہوے بازون پر پڑی۔۔۔جہاں اب چھالے بن چکے تھے۔۔۔ وہ جلدی سے اُٹھا اور بید پر آ کر اس کے پاس بیٹھا اور اس کا دوسرا بازو دیکھنے لگا۔۔۔۔جہاں سمیم سچویشن تھی۔۔۔۔ اس کے ماتھے پر بھی دو جگہ پر زخم بنے تھے۔۔۔جہاں سے سنی پلس اتر چکا تھا اس نے نظریں چرا لیں۔۔۔۔جیسے خود پر ہی شرم آ رہی تھی۔ ۔ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی تو سب کو برباد کرنے کا وعدہ کر کے آیا تھا۔۔اب یوں اس ی تقلیف پر خود بھی بے چین ہو گیا تھا۔۔۔سائیڈ ٹیبل سے زخموں پر لگانے ولی مرہم نکال رکر اس کے دونوں بازوں ہر لگائی۔۔۔۔
تبھی زویا کی رونے کی آواز آئی۔۔۔وہ شائد نیند بخاد اور جسم میں ہونے والے درد کی وجہ سے رو رہی تھی۔۔۔التمش کچھ کرتا اس سے پہلے بی جی ٹرے لے کر اندر آ گئیں۔۔
۔انہوں نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور زویا کو اُٹھانے لگیں۔۔۔جس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔۔۔۔پر بخار کی شدت کی وجہ سے دوبارہ بند کر لیں۔۔۔۔
زویا چلو اُٹھو قہوہ پیو۔۔۔التمش نے اسے کندھوں سے پکڑکر اُٹھایا۔۔۔۔زویا اپنے حواہس میں نہیں تھی۔۔وہ التمش کے سینے سے لگی بیٹھی تھی۔التمش نے اسے کندھے پر بازو پھیلا کر سیدھا بیٹھایا تھا۔۔۔۔اور اسے زبردستی قہوہ پلانے لگا۔۔۔اس کے بعد دوائی کھلائ۔۔۔۔۔
امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھا۔۔۔۔۔۔۔ِئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔وہ بے ربت الفاظ بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ التمش کو کچھ نا سمجھ آیا کہ وہ کیا بول رہی تھی۔۔۔اس نے اسے بیڈپر لٹایا اور کمبل برابر کیا۔۔۔۔۔
بی جی آپ بحی سو جائیں میں یہی ہوں۔۔وہ بول کر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔بی جی اپنی جگہ پر جا کر سو گئیں۔۔۔۔التمش وہی بیٹھا اسے دیکھاتا رہا اور بار بار بخار چیک کرنے لگا۔۔۔چار کا وقت تھا۔ اب یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔۔۔التمش اُٹھ کر اس تک آیا دوبارہ سے بخار چیک کیا جو کہ اب بہت کم۔رہ گیا تھا۔۔۔۔اس نے سانس خارج کی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔