Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Part 2

ماجد جب شہروالے گھر پہنچا۔ تو روبینہ پہلے ہی وہاں آ گئی تھی۔ وہ بایر گارڈن میں چکر لگا رہی تھی۔ جب گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔وہ پلٹ کر اسکی طرف بھاگی۔۔۔ماجد نے گاڑی کو گھر کے اندر لا کر روکا اور اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔۔۔۔
شکر ہے ماجد اپ آ گے۔ میں بہت زیادہ پریشان ہوں۔ اب پتہ نہیں کیا ہو گا۔۔۔ اگر کسی کو پتہ چل گیا؟ وہ اسکے سینے سے لگے روتے ہوے بولی۔۔۔۔
دور ہٹو۔ تم ایک نمبر کی بے وقوف ہو۔ دو مہینے کا بچہ ہے اور تمہیں کیسے پتہ ہی نہیں چلا۔ کہی جان بوجھ کر تو نہیں چھپایا۔ ماجد نے اسے خود سے علحیدہ کرتے ہوۓ غصے سے کہا۔۔۔
کافی دنوں سے میری طبعیت خراب تھی۔ آج جب حد سے زیادہ خراب ہوئی تو مین ڈاکٹر کے پاس گئی۔ تب مجھے پتہ چلا۔ میں جھوٹ نہیں بول رہی ۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
اچھا مین کیسے اس بات پر یقین کر لوں۔ کیا پتہ جان بوجھ کر نا بتایا ہو۔ تا کہ مجھے اس بچے کے لیے بلیک میل کر کے شادی کر سکو۔ ماجد سوچتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ماجد آپ نے مجھے بولا تھا ہم نکاح کریں گے۔ تو میں کیوں ایسا کروں گئی۔ کیا آپ اب بھی مجھ سے نکاح نہیں کریں گے؟ وہ لڑکھڑتے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔۔
ہنہ نکاح۔۔۔۔۔ تم جیسی لڑکیوں سے کون نکاح کرتا تو جو پیسوں کے لیے کبھی ایک کے پاس تو کبھی دوسرے کے پاس ہوتی ہو۔ اور ویسے بھی میں کیسے مان لوں یہ بچہ میرا ہے۔ ماجد طنزیہ لہجے میں بولا۔۔۔۔
آپ مجھے اتنا گڑا ہوا سمجھتے ہیں؟ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ اور آپ نے ہی بولا تھا ہم بہت جلدی نکاح کریں گے۔ اگر آپ نے نکاح نا کیا تو میں کہاں جاؤ گئی۔ اس بچے کا کیا ہو گا۔۔۔ ماجد پلیز اللہ کا واسطہ ہے مجھ سے نکاح کر لیں مجھے اپنا نام دے دیں۔ اس بچے کو اپنا نام دے دیں۔ وہ ہاتھ جوڑ کر گڑگراتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
چپ ایک دم چپ نا تو میں تم سے نکاح کروں گا اور نا یہ بچہ اس دنیا مین آۓ گا۔۔ تم ابھی کے ابھی میرے ساتھ ہسپتال چلو۔ میں ایک ڈاکٹر کو جانتا ہون وہ اپاوشن کر دے گئی۔ ماجد اسکو بازو سے پکڑ کر بولا۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں ماجد میں اپنے بچے کو نہیں ماروں گئی۔ مین کیسے ایک جان کا قتل کر سکتی ہوں۔ بالکل نہیں۔۔ وہ نا میں سر ہلاتی ہوئی بولی ۔۔۔۔
یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟ وہ سوالیہ انداز میں بولا۔۔۔
ہممم روبینہ نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے۔ آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق نہیں۔ تم جیو یا مرو اسکا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔ آج کے بعد اس گھر میں اور میری زندگی میں آنے کی کوشش بھی مت کرنا۔ چلو نکلو یہاں سے اور خبردار جو دوبارہ مجھے اپنا چہرہ دیکھایا۔۔۔وہ روبینہ کو بازو سے پکڑ کر داخلی دروازے کی طرف بڑھا۔
ماجد آپ کیا کہ رہے ہیں۔ اللہ کا واسطہ ہے۔ ایسا مت بولیں۔ نکاح کر لیں۔ بے شک پوری زندگی میری شکل نا دیکھیے گا۔۔بس اس بچے کو عزت کی زندگی دے دیجیے۔ ماجد۔۔۔۔۔۔وہ روتے ہوۓ اسکے فریاد کر رہی تھی۔پر وہ کہان سننے والا تھا۔
ایک منٹ اگر مین تمہیں اپنی زندگی سے نکال بھی دوں تو کیا گڑنٹی ہے کہ تم دوبارہ میری زندگی میں دخل اندازی نہین کرو گئی۔۔۔ کیا پتہ کل کو تم حویلی پہنچ جاؤ۔ وہاں سب کو سچ بتا دو۔۔میری تو بینڈ بچ جاے گئی۔۔وہ ایک دم پلٹ کر بولا۔۔۔روبینہ حیرانگی سے اسکی بات سن رہی تھی۔۔۔۔
ہمممم تو کیا کریں۔ سوچنا پڑے گا۔۔۔ارے ہاں ایک حل ہے اگر میں تمہیں ابھی کے ابھی مار دوں۔ ہاہاہا پھر تو سارا مسلہ ہی حل ہو جاۓ گا۔۔۔ وہ ہنستے ہوے بولا۔۔ روبینہ دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسکی باتیں سن کر اسکا سانس رکنے لگا۔۔۔۔
آپپپ پاگللل ہو چکے ہیںںں کیا بولا رہے ہیں۔ وہ لڑکھڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہمممم شائد پر نہیں مین تمہیں نہین ماروں گا۔۔۔ایسے اگر تم میرے ہی گھر مین ماری گئی تو سب مجھ پر آ جاۓ گا۔کہ میں قاتل ہوں۔ تمہارے پاس ایک منٹ ہے۔۔یہاں سے دفع ہو جاؤ۔ ورنہ مین سچ میں مار دوں گا۔۔۔وہ اسے ڈراتے ہوۓ بولا۔۔۔
میری بددعا ہے آپ کبھی خوش نہین رہیں گے۔ ایک دم آپ کی یہی برائی آپ کو لے ڈوبے گئی۔۔۔ایسی کھائی مین گڑیں گے۔۔ جہاں کوئی بچانے والا نہیں ہو گا۔ تب اپ کو احساس ہو گا آپ کتنے غلیز جھوٹے اور مکار آدمی ہیں۔ بلکہ ایک مرد کے نام ہر دھبہ ہیں۔۔۔ وہ روتے ہوۓ بولی اور اپنا بیگ لے کر دروازے سے باہر نکل گئی۔۔۔
ماجد جھٹ سے اپنی گاڑی مین بیٹھا۔اورگاڑی روڈ پر ڈالا۔۔۔سامنے ہی روبینہ روتےہوۓ چل کر بس سٹینڈ کی طرف جا رہی تھی۔
آج اسے خود پر شرم آ رہی تھی۔ پیار کے چکر مین آ کر اس نے ماجد پر یقین کیا۔ جائز ناجائز کی تمیز بھول گئی۔۔اور آج اسی پیار نے اسے اکیلا چھوڑ دیا۔اب وہ دنیا کو کیا بتاۓ گئی۔۔۔۔ یہی سوچ سوچ کر وہ پاگل ہو رہی تھی۔ بنا آگے پیچھے دیکھے وہ چل رہی تھی۔۔۔۔۔ تبھی گولی چلی۔۔۔ اور سیدھی اسکے پیٹ مین لگی اسے ہلے کہ وہ کچھ سمجھتی ایک گولی اور چلی اور اسکے سینے میں لگی۔۔اور وہی وہ گڑ گئی۔ اور آخری سانس لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر کام ہو گیا۔ ماجد جو کہ آہستہ رفتار میں گاڑی چلا رہا تھا۔ اسے میسج ملا۔۔۔۔۔۔۔یہ سب اسی کا پلین تھا۔ کہ اگر وہ اباوشن کے لیے نہیں مانتی تو اپنے آدمی سے بول کر اس کا قتل کروا دیا جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت اچھے روبینہ تم ایک اچھی لڑکی تھی اگر میرا ساتھ دیتی تو ساید آج زندہ ہوتی ۔۔۔۔ جو میرے خلاف جاۓ گا۔ اسکا یہی حال وہ گا۔ اب وہ چایے میرے دل کے کتنا ہی قریب ہی کیوں نا ہو۔۔۔۔ اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھاتے ہوۓ خود سے کہا۔۔۔۔


اماں ایسا مت کریں آپ جو اتنا بخار یے چلیں جلدی سے کچھ کھا لیں۔ پھر میں آپ کو دوائی کھلا دو۔ التمش اس وقت صایمہ بیگم کے کمرے مین تھا۔ انہین کل رات سے تیز بخار تھا۔ نا تو وہ کھانا کھا رہین تھی۔ اور نا ہی دوائی۔ اور اب التمش ان کے کمرے مین بیٹھا انہیں کھانا کھلانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
نہیں پتر دل نہین کر رہا۔ ارسلان بہت زیادہ یاد آ رہا ہے۔ وہ روتے ہوۓ بولیں۔ تبھی زویا چاۓ اور رس لے کر آئی۔ جو کہ کچھ دیر پہلے ہی التمش نے منگواۓ تھے۔ اس نے سوچا روٹی نہین تو کوئی نرم چیز ہی کھا لیں گئی۔۔۔
اماں کیوں روتی ہیں۔ وہ تو بہترین جگہ پر ہے۔ اللہ پاک کے پاس اور کیا پتہ وہ وہاں زیادہ خوش ہو۔ التمش انہیں بیٹھاتے ہوۓ بولا۔۔۔زویا نے آگے بڑھ کر ٹرے اسے تھمائی۔۔۔صائمہ بیگم نے نحوست سے اسے دیکھا۔ وہ پلٹ کر کمرے سے باہر نکلنے لگی۔۔۔۔
زویا پانی کا گلاس بھی لا دو اماں کو دوا کھلانی ہے۔ التمش کی اواز پر وہ رکی۔ اور بنا مُڑے سن کر آگے بڑھ گئی۔۔۔۔
التمش میں اپنی زندگی میں تیری کوئی بھی غلطی معاف کروں گئی۔ پر اگر تو نے اس لڑکی کو ونی سے ہٹا کر اپنی بیوی بنانے کی کوشش بھی کی تو جدا کی قسم دوبارہ تیری شکل نہین دیکھوں گئی۔۔۔صایمہ بیگم نے چاے کو پرے کرتے ہوۓ کہا۔۔جو کہ التمش انہین پلانے کر کوشش کر رہا تھا۔۔
اماں آپ ایسے کیوں بول رہی ہیں؟ التمش کے ہاتھ کپکپاۓ۔۔۔۔۔
تو میرا پتر ہے تجھے میں نہین تو اور کون جانے گا۔مین پہلے کبھی نہین بولی مجھے کیا کچھ دیکھتا نہیں تم جو ہر دفع اسکی سائد لیتے ہو۔ مجھے زرا بابر نہیں پسند اگر کل کو تم نے یہ کہا کہ مین اسے اپنی بیوی بنانا چاہتا ہوں۔ تو دوبارہ مجھے اپنی شکل مت دیکھانا۔ صایمہ بیگم غصےبسے بولیں۔۔۔۔
وہ میرے بھائی کے قاتل کی بہن ہے۔ اگر میں کچھ کرنا بھی چاہوں تو یہ رشتہ میرے پاؤں جوڑ دیتے ہیں۔ اماں میں اسکو کبھی اپنی بیوی نہین بناؤ گا۔ قتل اسکے بھائی نے کیا تھا۔ سزا بھی اسے ہی۔ ملے گئی۔قتل کی سزا قاتل کو ملتی ہے۔۔۔۔نا کہ ایک معصوم لڑکی کو۔ کاش یہ سب مجھے پہلے سمجھ آ جاتا تو اسکے ساتھ وہ سب نا ہوتا جو اب ہو رہا ہے۔۔اب اگر میں اسکے لیے لڑ رہا ہوں۔ تو پلیز لڑنے دیں۔ ۔۔ اس کی ساری زندگی ضائع بھی نہیں ہونے دوں گا۔۔ اگر زندگی رہی تو میں اسے اس جہنم بھری زندگی سے تو نکال کر رہوں گا۔۔ اب آپ چاۓ پییں دوائی کھا کر سوجائیں۔ التمش نے چاۓ ان کے حوالے کی۔۔۔۔ اور اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔زویا جو کہ ابھی تحوڑی ہی دیر پہلے پانی کا گلاس لے کر آئی تھی۔ اس نے التمش کے آخری لفظ سن لیے تھے۔۔۔۔
التمش نے اگے بڑھ کر گلاس لیا۔۔۔ صائمہ بہگم۔نے چاۓ پی تو اس نے دوائی کھلائی انہیں لٹا کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔زویا نے جلدی سے برتن اُٹھاۓ اور کمرے اے باہر نکل گئی۔۔۔۔
مسٹر خان رکیں۔ اس نے التمش کو پیچھے سے اواز لگائی۔۔وہ پلٹا۔۔۔۔
ہمممم
آپ نے ابھی کچھ دیر پہلے بولا کہ قتل کی سزا قاتل کو ملتی ہے؟ اسکا کیا مطلب تھا۔ وہ پریشان تھی۔۔۔۔
اس مین مشکل کیا ہے قتل کرنے کی سزا قاتل کو ہی ملے گئی۔ وہ کندھے اچکاتے ہوۓ بولا۔۔۔
التمش آپپپ کیا سچ میں اب روحان سے بدلہ لیں گے۔ اسے سزا دیں گے۔۔۔اسکی آنکھوں مین پانی بھر آیا ۔۔۔۔وہ چاہے اسکا سگا بھائی نا تھا۔ ہر وہ پچھلے ایک سال سے ان سب کے ساتھ رہ رہی تھی اور کافی اٹیج ہو گیی تھی۔۔۔دونون نے اسے بہن سے بھر کر پیار دیا تھا۔۔۔۔
ہاں دوں گا۔۔۔۔دوں گا کیا بلکہ دے رہا ہوں۔ ابھی وہ میرے ہی قبضے میں ہے۔۔ابھی سے نہیں اب تو شائد مہینہ ہونے والا ہے۔ وہ آگے بڑھ کر اسکے مقابل آ کر بولا۔۔۔۔
میں اپ کو کتنا اچھا سمجھنے لگی تھی۔ مجھے لگا آپ باقیوں سے مختلف ہیں پر آپ بھی ویسے ہی ہیں۔ وہ رونے لگ گئی۔۔۔
زویا ایک بات اپنے ذہن میں بیٹھا لو۔ روحان میرے بھائی کا قاتل ہے۔ تم خون بہا میں آئی ہو۔ مین تمہین تو اس جہنم سے نکالنے کی کوشش کروں گا ۔ پر اسکا مطلب یہ نہیں اصلی مجرم کو سزا نہیں ملے گئی۔ اسنے آگے بڑھ کر کہا۔۔۔۔۔
روحان نے آپ کے بھائی کا قتل نہیں کیا۔ بنا سچ جانے کسی معصوم پر اتنا ظلم مت کیجیے گا۔ اس کی تقلیف پلٹ کر آپ کر آجاۓ ۔۔۔۔ زویا آنسوں صاف کرتے ہوۓ ۔۔۔
ہنہہہ پلیز دوبارہ سے اپنی یہ بکواس شروع مت کرنا۔۔۔۔التمش طنزیہ انداز میں بولا
پر میری بات تو۔۔۔۔۔۔۔زویا کچھ بتانےوالی تھی کہ وہ بنا سنے نکل گیا۔۔۔۔۔
مروحان قاتل نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔ اور پلٹ کر کیچن مین چلی گئی۔۔۔۔۔


حازم آج پھر سے گاؤں آیا ہوا تھا۔فیکٹری کا
کام ہو رہا تھا۔ اسی کو دیکھنے کے بہانے وہ یہاں آیا ہوا تھا۔آج وہ اکیلا تھا۔۔ ماجد کل رات کو ہی حویلی ا گیا تھا۔ اور ابھی وہ حازم کے ساتھ فیکٹری والے ایرایا میں تھا۔۔۔
التمش زویا سے بحث کرنے کے بعد اپنے فام ہاؤس مین آ گیا۔۔روحان کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی تھی۔۔۔۔وہ پہلے سے کافی کمزور ہو گیا تھا۔۔اگر گھر میں سے کوئی اسے دیکھتا تو شائد اسے پہنچا ہی نا پاتا۔۔۔وہی دوسری طرف زلیخہ بیگم روز اپنے بیٹے کے واپس آنے کی دعائیں کرتیں۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔