Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

ماما! وہاں زویا ہو گئی۔ تو پلیز اسے نا پہچانیے گا۔ حازم اپنے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی حمیدہ بیگم کو مخاطب کر کے بولا۔
کیوں؟ حمیدہ بیگم نے ٹھنڈے لہجے میں پوچھا۔
ایم سوری ماما یہ سب میں نے پہلے نہیں بتایا۔ ڈیڈ نے منع کیا تھا۔ پھر حازم نے سب بتایا۔
مجھے سب پتہ ہے۔ حمیدہ بیگم نے سامنے دیکھتے ہوۓ کہا۔
واٹ آپ کو سب پتہ ہے کیسے؟ حازم نے ایک دم سے بریک پر پاؤں رکھا۔ گاڑی چڑڑ کی آواز پیدا کرتے ایک دم سے رُکی۔
تم سب کو کیا لگتا ہے۔ میں اتنی بے خبر ہوں۔ میرے ہی گھر میں میرا شوہر اور بیٹا کیا چکر چلا رہے ہیں مجھے پتہ ہی نہیں ہو گا۔۔ گاڑی چلاؤ۔ حمیدہ بیگم سنجیدہ انداز میں بولیں۔
حازم نے لمبا سانس خارج کر کے خود کو پر سکون کیا اور گاڑی چلا دی۔۔۔
حازم تم میری پہلی اولاد ہو۔ میں نہیں چاہتی تم اپنی زندگی کسی پچھتاوے میں گزاروں۔ یہ سب ادھر ہی بند کر دو۔
کیا مطلب ماما۔ اور ویسے بھی ہم سب وہی کر رہے ہیں جو ٹھیک ہے۔ ان سب کو سزا ملنی چاہیے۔ اور اب تو بس کچھ دن کی ہی بات ہے۔ حازم گاڑی چلاتے ہوۓ بولا۔۔۔
بدلہ لینا اللہ کو پسند نہیں۔ اگر انہوں نے کچھ غلط بھی کیا ہے تو اسکی سزا اللہ دے دے گا۔۔ تم دور رہو۔ ماں ہونے کے ناطےمیں صرف یہی بولوں گئی۔ آگے تمہاری اپنی مرضعی۔۔۔ حمیدہ بیگم کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوۓ بولیں۔۔ باہر ہلکا ہلکا سا اندھیرا ہو رہا تھا۔ اسی اندھیرے میں انہیں بہت سے چہرے نظر آۓ۔ بہت سی پرانی باتوں نے یادوں کے پردے پر دستک دی۔ نامعلوم سا آنسوں ایک آنکھ کے کنارے سے بہ کر ڈوپٹے مین جذب ہو گیا۔۔۔۔دوسری طرف حازم بالکل خاموش ہو گیا۔ اور گاڑی چلانے لگا۔۔۔۔


شہ سارے کا سارا معملا خراب ہو گیا۔ اب کچھ ہاتھ نہیں آۓ گا۔ آپ جانتے ہیں ابا جی آجکل التمش نے اپنے ذمے کے سارے کاموں سے انکار کر دیا ہے۔ آدھے سے زیادہ کام اسنے سھنمبالے ہوۓ تھے۔۔نا جانے کہاں گم رہتا ہے۔ خالد صاحب اس وقت مردان خانے میں بیٹھے جہانگیر خان سے مخاطب ہوۓ۔
اس موہے کالج کو بنانے کی جو اسنے زبان دی تھی اسی کو پورا کرنے کے لیے لگا رہتا ہے۔ سہیل صاحب بولے۔۔۔
اوپر سے ماجد والا اتنا برا مسلہ ہو گیا ہے۔ اب وہ بھی نا جانے کہاں گم ہے۔ خالد صاحب پھر بولے۔۔۔
ابا جی اگر اپ کی آجازت ہو تو شمش کو کام سونپ دین۔ لالا کے بیٹے تو اس قابل نہیں رہے جو انہی پر بھروسہ کر پاۓ۔ رفاقت صاحب طنزیہ انداز میں بولے۔۔۔
چاچا حوصلے سے کام لیں۔ ماجد خان ابھی زندہ ہے مرا نہیں۔ حویلی کے اصولوں کے مطابق برا پوتا ہی سربراہ ہو گا۔ سب میرا ہی حکم مانے گے۔ ماجد اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے مردان خانے مین داخل ہوا۔ سب نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
ہنہہ قاتل کیا حویلی چلاۓ گا۔۔ رفاقت صاحب نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔
اگر ماجد ساری جائیداد کو سھنمبالے گا تو پھر ہم سب کو ہمارا حصہ دے دیں۔ رفاقت صاحب دوبارہ بولے۔۔۔۔
رفاقت کیا بول رہے کچھ عقل تو ہے۔ تم بٹوارے کی بات کر رہے ہو آج تک اس حویلی میں کبھی بٹوارے کی بات نہیں ہوئی۔ خالد صاحب غصے سے بولے۔۔۔۔
چپ سب چپ کر جاؤ۔ کسی کی آواز نا آۓ۔ جہانگیر خان چلاۓ۔ مردان خانے میں خاموشی چھا گئی۔۔۔
میں زندہ ہو مرا نہیں۔ اور رفاقت دوبارہ اپنے منہ سے بٹوارے کی بات مت لانا۔ تم شمش کو سب کچھ سونپنے کی بات کر رہے ہو ایک کام تو اس سے ڈھنگ کا نہیں ہوا۔ اگر اچھے طریقے سے کام کیا ہوتا تو آج وہ لڑکی یوں حویلی میں بہو کا درجہ نا پاتی۔
مجھے یہ کہنے میں بالکل شرم محسوس نہیں ہو رہی۔ ماجد اور التمش دونوں نے ساری ذمہ داریاں نِبھائی ہین۔ التمش پر پابندیاں لگانت کے لیے ہمیں اسکے مخالف رویے نے ہمیں مجبور کیا۔ ورنہ مین اسے ہی اپنی کرسی پر بیٹھانے کا فیصلہ کر چکا تھا۔ سعد تو ویسے ہی ڈاکٹر بن رہا ہے۔ آج تم سب نے بات نکالی تو میرا فیصلہ سن لو۔۔۔۔ جہانگیر خان بولے تو سب ہونوں کی طرح انہیں سن رہے تھے۔
بہت جلد ماجد کو اپنی کرسی دوں گا۔ گاؤں کا اگلا سرپنچ ماجد ہو گا۔ اگلے مہینے کے آخر میں ایک چھوٹی سی دعوت ہو گئی۔ جس میں یہ علان کر دوں گا۔ جہانگیر خان نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔۔ جسے سن کر خالد صاحب اور ماجد تو بہت خوش ہوۓ۔ وہی رفاقت صاحب کا منہ بن گیا۔۔۔۔
دادا جان بہت شکریہ اب آپ کو میری وجہ سے کبھی پریشانی نہیں ہو گئی۔ اور مجھے پرانی غلطیوں کے لیے معاف کر دیں۔ ماجد جہانگیر خان کے قدموں میں جا بیٹھا۔۔۔
ماجد مین نے سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ لیا ہے۔ اب مجھے اپنے فیصلے پر شرمندہ مت کرنا۔ ابھی سے سارے کام سھنمالو۔ بہت زیادہ نقصان ہو چکا یے۔۔۔۔ جہانگیر خان نے اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔۔۔


ہسپتال کے سامنے گاڑی رُکی۔ وہ جیسے اپنی سوچوں کے جال سے واپس نکلی۔
ہسپتال۔۔یہاں کون ہے۔ وہ سامنے ہسہتال کو دیکھ کر بولی۔۔۔
نقاب کر لو۔ التمش اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ زویا نے جلدی سے نقاب کیا۔ اور گاڑی سے باہر نکلی۔
یہاں کون؟ وہ ابھی تک نہیں سمجھی تھی۔۔
زویا یہ مشکل ہو گا پر پلیز ہمت سے کام لینا۔ التمش اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔ وہ نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔ التمش اسکا ہاتھ پکڑے ہسپتال کے اندر کی طرف بڑھا۔
وہ روحان کے کمرے کے پاس آ کر رُکا۔ دروازے پر گل خان کھڑا تھا۔ جس نے ان دونوں کو دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔ اور ایک طرف ہو گیا۔۔
التمش نے دروازے کو ہلکا سا پش کیا تو وہ کھکتا ہی گیا۔ وہ زویا کو لیے کمرے مین داخل ہوا۔۔ زویا کا ہاتھ نقاب سے لڑکھڑایا۔۔ سامنے پڑے وجود کو دیکھ کر وہ امدر تک کانپ گئی۔۔
روو۔و۔۔حا۔حا۔۔حا۔۔ن۔۔۔ لڑکھڑاتے ہوۓاسکے منہ سے الفاظ نکلے۔ التمش کے ہاتھ سے اس نے اپنا ہاتھ نکلا۔ اور روحان کے بیڈ کی طرف بھاگی۔۔۔ التمش کو ایسا لگا جیسے زویا نے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نہیں بلکہ زندگی چھینی ہو۔۔۔
یا اللہ روحان بھائی۔۔ روحان۔۔۔۔ یہ کیا حالت کی یے۔۔ وہ شاک سی اسکی حالت دیکھ رہی تھی۔
زویا کچھ دن تک بالکل ٹھیک ہو جاۓ گا میری ڈاکٹر سے بات ہوئی ہے۔۔ التمش ہمت کر کے بولا۔۔۔
اپ کتنے ظالم ہیں مجھے یقین نہیں آ رہا ۔۔آپ نے کیاحالت کی ہے۔ دیکھیں زرا غور سے دیکھیں ایسا تھا میرا بھائی۔۔۔۔ دیکھیں یہ حلقے۔۔ یہ پیلا پن۔۔۔یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ کیا ایسا تھا میرا بھایی۔ بولیں۔۔وہ زور سے چلائی۔۔۔۔۔۔
وہ۔۔۔۔۔ التمش سے کوئی جواب نا بن کیا۔۔۔
ہنہہ آپ کیا ہی بولیں گے۔ آپ کا ظلم تو اسکی حالت دیکھ کر ہی پتہ چل رہا ہے۔ زویا اپنے انسوں پونچھتے ہوۓ بولیں۔۔
زویا ایم سوری وہ مجھے التمش بولنے کی کوشش کرنے لگا۔
مسٹر خان بس کریں۔ اس دن بولا تھا نا میرے بھائی کو چھوڑ دیں پر آپ نہیں مانے۔۔ اور دیکھں کیا حالت کر دی ہے۔۔۔ یا اللہ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔۔اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں پر گِڑا دیا۔۔
التمش آگے بڑھنے لگا پھر رُک گیا اور کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔
یا اللہ ان سب لوگوں کے ظلم کیوں ختم نہیں ہوتے۔ یہ سب اتنے بے حس کیوں ہیں۔ کیوں انہیں احساس نہین ہوتا۔ زندہ انسان کو جیتے جی مار کیون دیتے ہیں۔۔۔۔وہ روتے ہوۓ خود سے ہی بولے جا رہی تھی۔۔۔۔۔
التمش باہر آ کر سامنے بنے بینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔
چھوٹے سائیں! آپ ٹھیک ہیں۔ گل خان اسکے پاس آ کر پریشان سے لہنے میں بولا۔۔۔
گل خان ایک کام کروروحان کے گھر جاؤ۔ اسکی ماں اور بھائی کو یہاں کے کر آؤ۔ التمش نے اپنی جیب سے چابی نکال کر دی۔۔گل خان اگلے ہی لمہے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
التمش اُٹھا اور ڈاکٹر کے کمرے میں چلا گیا۔ ان سے تفصیل سے بات کرنے کے لیے۔۔


اریشہ بھابھی اب بس کچھ دن بعد آپ ہماری افیشل بھابھی بن جائیں گئی۔۔۔ سیرت پیزہ کا سلائیس لیتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
کیا مطلب؟ اریشہ حیرانگی سے بولی۔۔۔
مطلب یہ کہ بھابھی جی آج ماما اور حازم بھائی آپ کے گھر رشتہ لے کر گے ہیں۔ منت مسکرا کر بولی۔۔۔۔
کیا؟ اریشہ کے سر پر تو یہ بات بم کی طرح گِڑھی۔۔
اریشہ کیا ہو گیا ہے۔ ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہی ہو۔ ہان سوری اصل مین سرپرائیز دینا چایتا تھا۔ بس اسی لیے نہیں بتایا۔ سراج اسکے پریشان چہرے کو دیکھ کر سنجیدہ ہوا۔
سراج یہ کیا کر دیا۔۔ یا اللہ دادا جان میری جان نکال دیں گے۔ ایک دفع مجھ سے تو پوچھ لیتے۔۔۔ وہ اپنا سر ہاتھوں مین گرا کر بولی۔۔
بھائی آپ دونون باتیں کرو۔ مجحے واشروم جانا ہے۔ سیرت چلو میرے ساتھ۔ منت معاملے جو سمجھ گئی۔ تو دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا تا کہ وہ کھل کے بات کر سکیں۔
اریشہ ریلکس یار میں تو بس چاہتا تھا جلدی شادی ہو جاۓ۔۔۔ سراج پریشان ہو گیا تھا۔
آپ نہین جانتے اگر ان میں سے کسی کو بھی پتہ چل گیا کہ ہم دونوں کی محبت کی شادی ہے۔ تو سب مجھے سولی ہر لٹکانے میں ایک منٹ نہیں لگائیں گے۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔
کیسی باتین کر رہی ہو۔ میرے ہوتے ہوۓ ایسا نہین ہو سکتا۔۔۔ مین تمہارے ساتھ ہوں۔ وہ اسکے دونون ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر بولا۔۔۔
سِراج اگر انہیں وہ والی بات پتہ چل گئی تو؟ وہ کچھ سوچ کر بولی۔
۔
وہ ہم دونوں کے علاوہ کسی کو نہیں پتہ۔۔ تو ان کو کیسے پتہ ہو گئی۔ چلو اب چپ کرو۔وہ اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
مین تمہیں کسی قیمت پر نہین چھوڑون گا۔ چاہے کچھ بھی یو جاۓ۔ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ ہوں گا۔ وہ اسکی طرف مسکرا کر بولا۔۔۔۔
اللہ کرے سب ٹھیک ہو جاۓ۔ اریشہ نے لمبا سانس لے کر کہا۔۔۔سیرت اور منت واپس آ گئیں۔۔۔ماحول تھوڑا سا ٹھیک ہوا۔ تو سب نے پیزہ کھایا۔۔۔۔
“””
وہ ڈاکٹر سے مل کر نکلا۔ تو روحان کے دروازے کے سامنے زلیخہ بیگم اورجبران کھڑے تھے۔وہ چلتا ہوا ان دونوں تک آیا۔۔۔
سلام چھوٹے سائیں! جبران نے اسے دیکھ تک فوراً بولا۔۔۔ وعلیکم السلام ! اندر چلیں۔ التمش نے دروازہ کھولا تو سب اندر چلے گے۔۔
روحان۔۔۔۔۔۔ زلیخہ بیگم اپنے سامنے اتنے دنوں بعد روحان کو دیکھ کر آگے بڑھیں۔۔۔۔
اللہ تیرا شکر ہے میرا بیٹا مل گیا۔۔۔
زویا میری بچی تو بھی یہی ہے۔۔۔ زلیخہ بیگم نے روتے ہوۓ زویا کی طرف دیکھا۔ جو خود بھی رو رہی تھی۔ وہ جھٹ سے ان کے گلے لگی۔ اور خوب ٹوٹ کر رو دی۔۔۔
بس میرے بچے بس۔۔۔ اللہ پاک سب ٹھیک کر دے گا۔۔ وہ اسے چپ کرواتے ہوۓ بولیں۔۔۔جبران بھی ان کے پاس آ گیا۔۔
ڈاکٹر نے بولا ہے۔ ایک ہفتے تک روحان بہتر ہو جاۓ گا پھر آپ گھر کے جا سکتی ہیں۔۔ التمش نے سب کی طرف دیکھ کر کہا۔
چھوٹے سائیں! آپ کو روحان کہاں سے ملا۔ وہ تو کب کا لا پتہ تھا۔ جبران نے حیرانگی سے پوچھا
ان کو کیا پوچھ رہے ہیں۔ یہ حالت انہوں نے ہی تو کی ہے۔ پچھلے ڈیڈھ مہنے سے روحان انہی کی قید میں تھا۔ اور یہ اپنے بھائی کے قتل کا بدلہ لے رہے تھے۔ہنہ۔۔۔وہ طنزیہ انداز مین بولی۔۔التمش کا سر مزید جھک گیا۔۔۔
یہ سب کچھ ایک غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا۔ مجھے آج صبح ہی معلوم ہوا روحان کا ارسلان کے قتل مین کوئی ہاتھ نہین تھا۔ باکہ یہ کسی اور کی ہی شازش تھی۔ میں جانتا ہوں۔ اب شائد آپ سب کو میرے الفاظ بہت کھوکھلے لگیں۔۔
لیکن پھر بھی میں آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ مجھے معاف کر دیں۔ ہم نے بنا تصدیق کیے ارسلان کے قتل کا الظام روحان پر ڈال دیا۔ اس سب مین زویا بھی پسی۔ ہو سکے تو معاف کر دیں۔ التمش نم آنکھوں سے جبران کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا۔۔۔
ارے نہیں نہیں چھوٹے سائیں ایسا مت کریں۔ جو ہوا اگر وہ غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا۔تو اس مین آپ کا کیا قصور۔ جبران نے جلدی سے اسکے جُوڑے ہاتھ کھول دیے۔۔۔۔
قصور تو ہے۔ کہتے ہیں نا غصہ عقل پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ میری عقل ہر بھی غصے اور بدلے کی آگ نے پردہ ڈال دیا تھا۔ جو مین ایک معصوم پر ظلم ڈھا بیٹھا۔ اسی پردے کی وجہ سے مجھے اس معصوم کی آنکھوں میں سچ نا دِکھا۔ ماں جی کیا آپ مجھے معاف کر سکتی ہیں۔ وہ زلیخہ بیگم کے پاس آیا۔ جو کہ روحان کے بیڈ کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھی یوئیں تھیں۔ وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
میرا بیٹا ٹھیک ہو جاۓ تو میں معاف کر دوں گئی۔زلیخہ بیگم سنجیدہ انداز مین بولیں۔ التمش کھڑا ہو گیا۔۔۔۔تھی تو وہ ایک ماں اور پچھلے ڈیڈھ مہینے کو وہ کیسے بھول سکتیں تھیں۔۔۔۔
التمش نے اپنی آنکھ کے کنارے صاف کیے۔۔اور زویا کی طرف دیکھا۔ اس نے منہ پھیر لیا۔۔۔۔وہ سب کی طرف دیکھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
زلیخہ بیگم سورتیں پڑھ کر پھونک مار رہیں تھیں۔۔۔۔۔


شام سات بج چکے تھے۔ حازم کی گاڑی حویلی مین داخل ہوئی۔ سامنے ہی ماجد ان کے استقبال کے لیے کھڑا تھا۔
ویلکم جی ویلکم۔۔۔ ماجد ہنستا ہوا حازم کے گلے لگا۔
سلام آنٹی! چلیں اندر وہ دنوں کو لے حال مین ا گیا۔۔۔
اماں یہ حازم کی امی ہیں۔ وہ صائمہ بیگم کی جانب بڑھا۔۔
ارے السلام علیکم! آئیے بیٹھیے۔ صائمہ بیگم میزابانہ انداز میں بولین۔ اور انہین لے کر صوفے کی طرف بڑھیں۔۔۔
یہ التمش نظر نہین آ رہا۔ حازم نے ادھر اُدھر دیکھ کر ماجد سے پوچھا۔
ہو گا کہی۔ اس چھوکری کے ساتھ۔۔۔۔ ماجد نفرت بھرے انداز میں بولا۔
کس لڑکی کے ساتھ؟ حازم فوراٍ الرٹ ہوا۔
اسے چھوڑو۔ تم جو کام کرنے آۓ ہو وہ کرو۔ رُکو میں دادااور سب کو بلا رک لاتا ہوں۔ ماجد نے بات گھومائی اور اُٹھ کر مردان خانہ کی طرف بڑھا۔۔۔۔
اسکے بغیر تو یہ بم پھوڑنے مین بھی مزہ نہیں آۓ گا۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں سب باقی سب بھی حال میں جمع ہو گے۔۔۔ سب اپس میں باتیں کرنے لگے۔

وہ کافی دیر سے باہر بیٹھا ہوا تھا۔ موبایل پر وقت دیکھا تو نو نج رہے تھے۔۔۔
واپس جانا چاہیے حالت ٹھیک نہین یوں زویا کو ساتھ لے کر لیٹ حویلی جانا ٹھیک نہیں۔ التمش اُٹھا اور روحان کے کمرے میں داخل ہوا۔
ماں جی اب اپ لوگ روحان کے پاس ہیں تو ہمین چلنا چاہیے۔۔ آجازت دیں۔ وہ آگے بڑھ کر بولا۔۔۔
مجھے کہی نہین جانا۔ آپ جائیں۔ زویا منہ پھیر گئی۔۔۔
زویا زلیخہ بیگم کو سب بتا چکی تھی۔ جو جو اسکے ساتھ ہوا اور آج کا بھی سب بتا چکی تھی۔۔۔
زویا بیٹے چلو اُٹھو اپنے شوہر کے ساتھ جاؤ۔ جبران آگے بڑھا۔۔۔
مجھے ان جیسا شوہر نہیں چاہیے۔ اور ویسے بھی اب ثابت ہو چکا ہے میرا بھایی بے قصور ہےتو یہ نکاح وغیرہ بھی ختم ۔۔۔۔زویا غصے سے بولی۔۔۔التمش نے اسکی باتیں بامشکل ہضم کین۔۔۔
جبران ہمیں اجازت دیں۔ میں کل پھر سے چکرلگاؤ گا۔ التمش نے زویا کا بازو پکڑ کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔ اور پاس کھڑے جبران سے مخاطب ہوا۔۔
چادر ٹھیک سے لو۔ التمش نے اسکا رویا رویا اور غصے والا چہرہ دیکھ کر نرمی سے کہا۔ زویا نے چادر سے ہلکا سا نقاب کیا اور زلیخہ بیگم کی طرف مُڑی۔
اماں اپنا خیال رکھیے گا۔انکا ماتھا چوم کر وہ جبران کی طرف مُڑی۔۔۔
چھوٹے سائیں اب اگر میری بہن کے سر پر چادر ڈالی ہے تو اسکی حفاظت کریے گا۔۔ جبران نے زویا کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔۔۔التمش نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔ اور زویا کو لیے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔
گل خان کو وہ پہلے ہی بول چکا تھا کہ وہ آج کی رات یہی رُکے۔۔۔دونوں چلتے ہوۓ گاڑی تک آۓ۔۔ اگلے دو منٹ میں گاڑی سڑک پر دوڑی۔۔۔
اپ بہت ضدی ہیں۔ کیا ہو جاتا اگر میں ایک رات وہاں رک جاتی۔۔۔۔ وہ رُوٹھے ہوے لہجے مین بولی۔۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے۔ آج جو میں نے باتیں کیں۔ وہ اتنی آسانی سے پوری ہو جائیں گئی۔ تمہین میرے دادا کا نہیں پتہ وہ اپنی بات کو رد کیے جانا کا ہر طریقے سے بدلہ لیں گے۔ وہ نہین دیکھیں گے آگے ان کا اپنا پوتا ہے۔ مجھے آج ہی پتہ چلا روحان نے ارسلان کا قتل نہیں کیا۔ پر میں چاہ کر بھی یہ ثابت نہیں کر پاؤں گا۔ کہ تم اور تمہارا بھائی بے قصور ہے۔ کسی ثبوت پر وہ سب یقین نہیں کریں گے۔میں جو بھی دیکھا دوں۔ سب پر جھوٹ کا تھپہ لگائیں گے۔ مجھے تو یہ بھی نہین پتہ میرے بھائی کا قاتل کون ہے۔۔ اگر وہ ایک کو مار سکتا ہے تو ضرور اسکا نشانہ میرا پورا خاندان ہے۔۔ اور اگلا فرد کون ہے؟ یہ مین نہیں جانتا۔ اور تم بول رہی ہو۔ تمہیں اکیلا ہسپتال چھوڑ آتا۔۔۔ وہ تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔۔
زویا کو وہ بہت پریشان سا دیکھائی دیا۔
او شیٹ میں کیسے بھول گئی۔ اب تک تو حازم بھی پہنچ گیا ہو گا۔۔ زویا کو آچانک حازم کا خیال ایا۔۔۔
اسکا مطلب ہے اپ نے وہ سب جو بیوی وغیرہ والی باتیں کیں۔ وہ سب آج سچ معلوم ہونے کے بعد اذالے کے طور پر کیں۔ واہ۔۔۔ پر مسٹر خان مجھے یہ بھیک کی عزت نہیں چاہیے۔۔۔ زویا تیخے لہجے میں بولی۔۔۔۔
تمیں کیا لگتا ہے میں ایسا ہوں؟ جو اذلے کے طور پر اتنا برا بول بولے۔ التمش نے اسکی بات سن کر آخر میں اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔
زویا نے پلٹ کر اسکی آنکھوں میں دیکھا۔ جہاں اسے صرف اپنا عکس اور محبت کا جہاں آباد دیکھائی دیا۔ اس نے اگلے ہی پل نظریں پھیر لیں۔ التمش نے مسکرا کر اپنا رخ سامنے کیا۔۔۔
اس سفر میں بہت مشکلیں ہو گئی۔ اب تو بس مر کر ہی تمہارا ساتھ چھوڑوں گا۔ تم بس چپ کر کے میرے قدم سے قدم ملاتی رہنا۔ تمہارا ایک قدم بھی لڑکھرایا تو التمش خان بکھر جاۓ گا۔۔ وہ سنجیدہ لہجے میں بولا۔۔۔
زویا کو اپنا سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا۔۔ وہ کس راہ پر جا رہی تھی۔۔ نا جانے وہ کیسے آگے ہینڈل کر پاۓ گئی۔۔ اسنے اپنی طرف کا شیشہ کھول دیا۔۔باہر کی ٹھنڈی ہوا اسکے چہرے پر پڑی۔ تو کچھ سکون ملا۔۔۔التمش بھی چپ کر کے گاڑی چلانے لگا۔۔ کچھ ہی دیر میں وہ حویلی پہنچ گے۔۔۔
وہ دونوں ہمقدم چلتے ہال میں داخل ہوۓ۔۔
دیکھیں بھائی صاحب! ہم یہاں ایک اہم مقصد کے لیے آۓ ہیں۔ اصل میں ہم آپ کی بیٹی اریشہ کو رشتہ اپنے چھوٹے بیٹے سراج کے لیے لاۓ ہیں۔ حمیدہ بیگم حازم کا اشارہ ملتے ہی خالد صاحب کی طرف مخاطب ہوئی۔۔۔ وہاں پر بیٹھے سب کو سانپ سونگ گے۔ پیچھے کھرے التمش نے بھی سب سنا۔۔۔۔
بہت خوشی ہوئی آپ یہاں تشریف لائیں۔ پر معاف کیجیے گا یہ رشتہ نہیں سکتا۔ کیونکہ اصل میں اریشہ بٹیا کا رشتہ ہم پچپن میں ہی اپنے پوتے شمش کے ساتھ کر چکے ہیں۔ تو یہ ناممکن یے۔۔۔۔ جہانگیر خان نے عام سے لہجے مین انکار کیا۔۔۔۔
اگر ایسی بات تھی تو دونوں نے محبت کیسے کی۔ معاگ کیجیے گا۔ پر آپ کو شائد پتہ نہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے پچھلے دو سالوں سے محبت کرتے ہین۔ اور یہاں بھی سراج نے مجھے بھیجا یے۔ دونوں ایکدوسرے سے بے انتہا محبت کرتے ہیں۔انفیکٹ کافی دفع تو میں نے خود دونون کو ملتے ہوۓ دیکھا یے۔ کبھی ریسٹورینٹ مین تو کبھی پارک میں۔۔۔۔۔۔ حازم بہت آرام سے لفظوں کے بم ان سب پر گڑا رہا تھا۔ حمیدہ بیگم نے حیرانگی سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
سالے تیری ہمت کیسے ہوئی۔ میرے گھر میں کھڑا ہو کر میری ہی بہن کے اووپر کیچڑ اُچھال رہا ہے۔۔۔ التمش سے مزید برداشت نا ہوا۔ تو وہ غصے سے اسکی طرف بڑھا۔۔۔ اور اسے کالر سے پکڑ کراپنے سامنے کھڑا کیا۔۔۔ اور یہی تو حازم چاہتا تھا۔۔۔زویا ڈر کر ان دونوں کے پاس آئی۔۔۔
ریلکس مسٹر۔۔۔۔ یہ سب سچ ہے۔ اور مین کیوں کسی کی بہن پر کیچڑ اچھالوں گا۔ میں بول رہا ہوں نا دونون محبت کرتے ہیں۔اور ویسے بھی محبت کرنا کونسی غلط بات ہے۔ اور ملنا مُلنا تو شہر مین عام سے بات ہے۔ حازم مسکرا کر بولا۔۔۔ اسکی یہی مسکراہٹ التمش کو تیش دلا گئی۔۔۔۔
چپ سالے خبردار جو میری بہن پر ایک بھی گندہ الزام لگایا۔ تیرے منہ سے زبان کھینچ لوں لگا۔۔ وہ نہایت غصے سے چیخا۔۔۔
التمس حد مین رہو۔ چھوڑو۔۔ اسے ماجد نے اگے بڑھ کر التمش کو پیچھے دکھیلا جس سے حازم کا کالر چھوٹ گیا۔۔۔
مجھے لگا آپ سب کو پتہ ہو گا۔ ویسے ابھی بھی وہ دونوں ساتھ ہی ہیں۔ اگر اجاذت ہو تو بات کروا دوں۔ حازم تپا دینے والے انداز میں بولا۔۔۔ حمیدہ بیگم حیرانگی دے یہ سب دیکھ رہین تحیں۔انہیں بالکل بھی معلوم نہین تھا۔ حازم یہ سب کچھ کرنے والا تھا۔۔۔۔
ویسے دونوں دو سال سے آپس مین فون اور خطوں پر باتین کرتے تھے۔ ہو سکتا ہے اریشہ کے کمرے میں خطوط وغیرہ پڑے ہوں۔۔ اور موبائل تو خود سراج نے لے کر دیا تھا۔ حازم سب کی طرف دیکھ کر بولا۔ خالد صاحب صوفے پر ڈھے سے گے۔۔ صائمہ بیگم نے شرم سے سر جھکا دیا۔۔ جس اعتماد سے حازم یہ سب بول رہا تھا۔۔۔ایک دم سچ لگ ریا تھا۔۔۔۔
تم۔ یہ سب بکواس کر رہے ہو۔ اور تمیں کیا لگتا ہے۔ مین مان جاؤ گا۔ تم باہر والے ہو۔۔ اریشہ میری بہن ہے۔میری آنکھوں کے سامنے پلی بھری ہے۔ کل کے آۓ انسان پر مین بھروسہ کر لو گا۔۔کبھی بھی نہیں یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ دو منٹ کے اندر اندر یہان سے دفع ہو جاؤ۔ نکلو۔۔ التمش سے مزید برداشت نا ہوا۔ تو اسے دھکہ مار کر بولا۔۔۔
تم کب سے بدتمیزی کر رہے ہو۔مین کچھ نہین بول رہا۔ اپنی حد میں رہو۔ عزت سے رشتہ لے کر آئیں ہیں۔ پر تم جیسے لوگ عزت ڈیزو نہین کرتے۔ چلین ماما۔۔۔۔ حازم تیخے لہجے میں بولا۔۔ حمیدہ بیگم اُٹھ کر چل دیں۔۔۔۔۔
التمش ادھر اُدھر چکر لگا کر خود کو نارمل کرنے کی کوشس کرنے لگا۔۔۔ زویا حازم کی طرف ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جب وہ ایک برے سے گلدان کے ہاس جا کر رُکا۔ کوٹ کے اندرونی حصے سے کچھ نکال کر اس گلدان کے ایک طرف چھپا کر رکھ دیا۔رکھا بھی یون وہ مکمل طور پر چھپ گیا۔۔ زویا اسکی ہی طرف دیکھ رہی تھی۔ حازم نے یہ سب کچھ سکینڈ کے اندر کیا تھا۔۔۔ حازم نے زویا کو اشارہ کیا اور پلٹ کر حمیدہ بیگم۔کے ساتھ باہر نکل گیا۔۔
کیا بولا تھا میں نے مت بھیجو پڑھانے۔۔۔۔نیۓ چن چڑا دیے۔۔ بولو التمش خان اب تم کیا کہو گے۔۔۔ جہانگیر خان اُٹھ کر التمش کے مدمقابل آ کر کھڑے ہوۓ۔۔
آپ ایک غیر لڑکے کی بات پر کیسے یقین کر سکتے ہین۔ دادا جان مجھے ابھی بھی میری بہن کی ذات پر اسکے کردار پر پورا پورا بھروسہ ہے وہ کبھی بھی اپنے لالا کا مان نہیں توڑ سکتی۔ التمش انکی طرف مڑ کر ہورے اعتماد کے ساتھ بولا۔۔جیسے ان سب باتوں نے اسکو ایک پرسنٹ بھی نا ہلایا ہو۔۔۔
تو ٹھیک ہے۔ کل ہی اریشہ حویلی واپس آۓ گئی۔ اسکی موجودگی میں اسکے کمرے کو چیک کیا جاۓ گا۔ اور باقی سوالوں کے جوابات بھی اسی سے لیے جائین گے۔۔ کیونکہ اتنا کچھ کویی بھی کسی کی بہن بیٹی کے بارے میں یوں ہی نہین بول سکتا۔۔۔ جہانگیر خان نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔۔
ٹھیک ہے دادا جان جیسا اپ چاہتے ہین ویسا ہی ہو گا۔۔ پر مجھے یقین ہے آپ سب غلط ثابت ہوں گے۔۔۔ التمش مظبوط لہجے میں بولا۔اور زویا کا ہاتھ پکڑ کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگا۔۔۔
اگر تم غلط ثابت ہوے تو پھر وہی ہو گا جو میں کہوں گا۔۔ یاد ہے نا ان کو شہر داخل کرواتے کیا بولا تھا۔۔۔ پیچھے سے جہانگیر خان کی آواز آئی۔۔۔
آپ کا ہی پوتا ہون۔ بھول کیسے سکتا ہوں۔ پر غلط آپ ہی ثابت ہوں گے۔۔ وہ بول کر زویا کو ساتھ لیے اوپر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔۔زویا اسکا اعتماد دیکھ کر ڈر گئی۔۔کہ جب اسے سچ کا پتہ چلے گا تب کیا ہو گا؟؟؟
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔