Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

قسط 1

ازقلم فاطمہ طارق

مغرب کے وقت آسمان پر کالے بادل چھاۓ ہوۓ تھے۔ مدھم مدھم سی ہوا چل رہی تھی۔جو جاتی گرمیوں کو مزید نکھار رہی تھا۔

ہاہاہا یہ لو میں نے پکڑ لی۔ اس چھوٹے سے گھر میں کسی کی کھلکھلاہٹ سنائی دی۔

دھیان سے پکڑنا کہی اُڑ نا جاۓ۔۔مدھم سی آواز گھونجی۔۔۔

کتنی پیاری ہے۔ اس کے رنگ دیکھووہ تتلی کو پکڑ کر بولی۔۔۔۔

اس کو چھوڑنا مت اسے جاڑ میں ڈال لو۔آمنہ مشورہ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔

بالکل نہیں میں اسے قید نہیں کروں گئی۔۔یہ تو اُڑے گئی بہت اونچی اس نے تتلی کو چھوڑ دیا۔ وہ خود کو آزاد محسوس کر کے اب ہواؤں میں اُڑ رہی تھی۔۔۔

اف زویا کی بچی کیوں چھوڑا۔۔ اتنی پیاری تھی۔ آمنہ غصے سے بولی۔ اور منہ بنا کر صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔۔

تمہیں پتہ ہے نا میں اسے قید کر کے نہیں رکھ پاتی۔ جب اللہ نے اسے پر دیے ہیں تو بھلا میں کیوں اس کے پر کاٹ کر قید کرتی۔ زویا مسکراتے ہوۓ آسمان پر اُڑتی ہوئی تتلی کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

جانتی ہوں تم بہت دیالو ہو۔۔آمنہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔۔

ہاہا نہیں دیالو نہیں تم جانتی ہو مجھے نا آسمان پر اُڑتے سارے پرندے بہت اچھے لگتے ہیں۔ تم اگر دھیان سے دیکھو تو وہ بنا کسی کے ڈر خوف کے اُڑ رہے ہوتے ہیں۔ انہیں یہ ڈر نہیں ہوتا کوئی ان کا راستہ روکے گا۔۔یا کوئی ان کی منزل کی رُکاوٹ بنے گا، وہ پرسکون ہوتے ہیں۔۔۔۔زویا اوپر اسمان کی طرف دیکھتے ہوے بولی۔۔۔

زویا میڈم تمہاری ساری باتیں میرے سر کے اوپر سے گزر رہی ہیں۔ آمنہ اسے کہنی مارتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

تم نہیں سمجھ سکتی پر میری ایک بات یاد رکھنا ایک دن میں زویا احمد بالکل ان پرندوں کی طرف اس گاؤں سے باہر شہر کی کھولی فضا میں سانس لوں گئی۔ اپنا خواب پورا کروں گئی۔۔بالکل اس تتلی کی طرح میں آزاد ہو جاؤ گئی۔۔۔۔وہ پر ازم لہجے میں بولی۔۔۔

اتنے برے برے خواب مت دیکھو جو تم پورے نا کر پاؤ تم جانتی ہو۔۔ان پانچ گاؤں کی لڑکیاں کہی نہیں جا سکتیں۔۔جہانگیر خان نے پچھلے پچیس سالوں سے آج تک ان پانچ گاؤں کی ایک بھی لڑکی کو آزادی نہیں دی۔۔۔۔ اور تم کہ رہی ہو شہر جاؤ گئی۔۔۔وہ بھی اکیلے۔۔۔۔ آمنہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔۔

جانتی ہوں۔۔آمنہ میں اس روایت کو ہی تو توڑنا چاہتی ہوں۔ تم جانتی ہو میں پڑھنا چاہتی ہوں۔میں میں کچھ بننا چاہتی ہوں۔ آج کل دس پڑھنا بہت نہین ہوتا۔۔۔ مجھے آگے پڑھنا ہے۔۔اور میں پڑھوں گئی۔۔۔۔چاہیے مجھے اس سب کے لیے اس خان سے بھی کیوں نا لڑنا پڑے مین لڑوں گئی۔۔۔ دیکھنا ایک دن میں پڑھی لکھی کسی اچھی پوزیشن پر بیٹھی ہوں گئی۔۔زویا کی انکھیں اپنا مستقبل سوچ کر چمک اُٹھیں۔۔۔

ارے او زویا کمروں میں جھاڑو لگا دے۔۔۔۔ تبھی اندر سے زلیخہ بی کی آواز آئی۔۔۔۔۔

لو کر لو اپنے خواب پورے ۔جاؤ جھاڑو لگاؤ۔۔۔آمنہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔

آمنہ کی بچی دفع ہو جا مجھ سے بات مت کرنا زویا اسے دھکہ دیتے ہوۓ بولی اور اُٹھ کر جھاڑو پکڑ کر اندر جانے لگی۔۔۔۔

زویا خوابوں کی دنیا سے باہر آ جا۔۔اور جھاڑو لگا کر میرے گھر آ جانا آج مجھے اس مائدہ چھپکلی کو سٹاپو میں ہرا کر شرط جیتنی ہے۔۔۔ آمنہ اسے یاد دلانے لگی۔۔۔۔

آجاؤ گئی۔۔۔۔۔زویا بول کر اندر کمرے میں گھس گئی۔ آمنہ مسکراتے ہوۓ اپنے گھر کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔

*******************************

لالا لالا جان جلدی سے باہر آ جائیں۔ ماجد لالا کب سے آپ کا بیٹکھ میں انتظار کر رہے ہیں۔ اریشہ کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ زور زور سے بولی۔۔۔۔۔۔۔(اونچی آواز میں وہ بس اس کمرے میں بات کر سکتی تھی۔ورنہ اس حویلی میں لڑکیوں کا اونچی آواز میں بات کرنے کا مطلب اپنی موت کو خود دعوت دینا تھا)

آ گیا چھوٹی کیوں اتنا شور مچایا ہوا ہے۔ تبھی واشروم کا دروازہ کھول کر گیلے بالوں کو تولیے سے رگڑتے ہوۓ وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔کالی شلوار قمیض میں اس کی سفید رنگت اور بھی واضع ہو رہی تھی۔وہ متوازن چال چلتا شیشے کے سامنے آ کر کھڑا ہوا۔اپنے گیلے بالوں کو برش کرنے لگا۔چہرے پر داڑھی بڑھی ہوئی تھی۔۔جو اس کے تیکھے نقوش کو اور بھی زیادہ رعب دار بناتی تھی۔کسرتی جسم اس کی خوبصورتی کو۔ چار چاند لگا رہا تھا۔وہ مردانہ وجاہت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔اس کی وجاہت کو اس کی کالی گہری آنکھیں اور نکھارتیں تھیں۔وہ التمش خان تھا۔ اس حویلی کا چہیتا،اپنی بہنوں کا پیارا۔۔۔ خان بابا کی بات کو اگر کوئی نا کر سکتا تھا تو وہ صرف اور صرف وہی تھا۔۔۔۔

لالا جلدی کریں۔ لالا پلیز آپ نا آج ہی موقع دیکھ کر دادا جان اور ابا سے بات کر لیجیے گا۔۔آپ جانتے ہیں نا مجھے کالج جانا ہی جانا ہے۔۔۔اریشہ وہی بات دہرا رہی تھی جس کے لیے وہ پچھلے دو دن سے التمش کے پیچھے لگی تھی۔۔۔

کر لوں گا۔لیکن تم یہ بھی اپنے ذہین میں رکھو دادا جان کو منانا اتنا آسان نہیں ہے۔۔۔۔پھر بھی میں کوشش کروں گا۔۔۔فلحال مجھے لالا کی بات سننی ہے وہ اپنے پاؤں میں پشوری چپل پہنتے ہوۓ بولا۔۔

اگر آپ نے بات نا کی تو میں ناراض ہو جاؤ گئی۔۔۔اریشہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

لالا کی جان میں بات کر لوں گا۔۔۔ابھی جاؤں۔۔وہ ہلکا سا مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔اریشہ کھل کر مسکرا دی اور سر ہاں میں ہلا دیا۔۔دونوں کمرے سے باہر نکلے۔۔۔۔۔۔۔

اریشہ بی بی آپ کو مالکن بلا رہی ہیں۔ وہ دونوں راہداری سے گزر رہے تھے جب نوری نظریں جھکاۓ ان دونوں کے پاس آ کر بولی۔۔۔۔

چلیں لالا اللہ حافظ ۔ اریشہ مسکرا کر التمش کو الوداع کر کے نوری کے ساتھ چل دی۔۔۔۔

التمش مردان خانہ کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔وہ پردہ ہٹا کر اندر داخل ہوا۔۔۔۔

جہاں سامنے برے سے صوفے پر جہانگیر خان عُرف خان بابا برجمان تھے۔۔ ایک ہاتھ میں سگار لیے وہ سلگھا رہے تھے۔۔ ایک طرف پڑے صوفے پر رفاقت صاحب،اور خالد صاحب بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔۔تو دوسری طرف پڑے صوفے پر بری شان کے ساتھ ماجد برجمان تھا۔۔ اور زمین پر پندرہ بیس گاؤں والے لوگ بیٹھے ہوۓ تھے۔۔

(جہانگیر خان گاؤں کے سرپنچ تھے۔ہر چھوٹا ،برا مسلہ وہی حل کرتے۔۔۔اور آج بھی وہی ہو رہا تھا۔۔کسی بات پر بحث ہو رہی تھی۔۔)

اس کے اندر آنے پر سب نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا۔۔وہ متوازن چال چلتا سلام کر کے ماجد کے پاس آکر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

جب اس گاؤں کے سارے فیصلے میں کرتا ہوں۔تو تم نے کس سے پوچھ کر اپنی بیٹی کو شہر پڑھنے کے لیے بھیجا۔ کمرے میں جہانگیر خان کی برہم آواز گھونجی وہاں پر بیٹھا ہر انسان جہانگیر خان کے غصے سے ڈرتا تھا۔۔۔۔۔

سائیں میری بچی پڑھنے میں بہت اچھی ہے۔اسی لیے اس کی ضد کے آگے میں ہار گیا ۔۔۔پچاس سالہ آدمی ہاتھ جوڑ کر گردن جھاکے ہوۓ بولا۔۔۔۔

واہ پھر تو ساری لڑکیوں کو شہر پڑھنے کی اجازت دے دینی چاہی۔ تاکہ کل کو وہ منہ کالا کر کے آجائیں۔۔۔۔وہ برھم انداز میں بولے۔۔۔۔اس آدمی کی گردن شرمندگی کے مارے مزید جھک گئی۔۔التمش کو ان کی بات سن کر ایک دم اریشہ کی ضد یاد آئی۔۔۔۔۔

اس مسلے کا ایک ہی حل ہے۔۔تم اپنی بیٹی کو آج ہی شہر سے بلواؤ۔ اور اسی ہفتے اس کی شادی کرو۔۔۔۔اگر ایسا نا ہوا تو تم ساری زندگی اپنی بیٹی کی شادی نہیں کر پاؤ گے۔ تمہاری بیٹی ساری عمر کواری رہے گئی۔۔۔اور تم سب جانتے ہو۔ جو بھی میرے فیصلے کے خلاف گیا ہے۔۔وہ پچھتایا ہی ہے۔۔۔۔۔۔ یہ پنچائیت اب ختم ہوتی ہے جہانگیر خان نے فیصلہ سنا دیا۔۔۔ سارے گاؤں والے ایک ایک کر کے کھڑے ہوۓ اور جہانگیر کے پاس آ کر ان کا ہاتھ چوم کر باہر کی طرف جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔

لالا آپ نے کیا بات کرنی تھی۔۔۔۔التمش ماجد کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔۔۔

ہاں وہ تم آج ڈیرے کی طرف چکر لگا آؤ۔۔۔۔مجھے اور چچا کو شہر جانا ہے۔ ارسلان کی یونیورسٹی سے فون آیا تھا۔۔۔۔ ماجد بتا رہا تھا۔۔۔

چلیں میں چلتا ہوں التمش اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

روکو تبھی خان بابا کی آواز گھونجی۔۔۔۔۔

یہ اپنے پاس رکھا کرو۔۔۔ویسے بھی ہمارے بہت دشمن ہیں۔۔خان بابا نے چھوٹی کالے رنگ کی پستول التمش کی طرف اچھالی۔۔۔۔

کیا دادا جان ابھی تک اس دنیا میں کوئی ایسا انسان پیدا نہیں ہوا جو التمش خان کو ہاتھ بھی لگا سکے۔۔۔۔ اور مجھے اپنی حفاظت کرنے کے لیے اس پستول کی ضرورت نہیں۔۔۔میرے بازوں میں اتنی طاقت ہے۔۔کہ اگلے بندے کو مار۔ سکوں۔۔وہ مغرور انداز میں بولا۔۔۔۔

پتر جب مخالف ہی پستول کی گولیوں سے وار کرے تو یہ جوش اور طاقت کسی کام نہیں آتی۔۔۔تب یہی جسے تم چھوٹی سی چیز بول رہے ہو۔۔۔۔یہی تمہارا ساتھ دیتی ہے۔۔۔تو اسے اپنے پاس رکھو۔۔خان بابا چلتے ہوۓ اس تک آۓ اور اس کے کندھے کو تھپتھپاتے ہوۓ بولے۔۔اور مسکرا کر کمرے سے باہر نکل گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چلیں چچا جان دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ماجد کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔

التمش پستول کو قمیض کی جیب میں ڈال کر باہر کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔

**************************************★*

دیکھ زویا میری بات سمجھ ہمیں واپس چلے جانا چاہیے۔۔اس چھپکلی کو سبق ہم بعد میں سیکھائیں گے۔۔۔ آمنہ زویا کا بازو پکڑکر بولی۔۔۔۔

آمنہ اگر تم میرے ساتھ چلنا چاہتی ہو تو چلو ورنہ دفع ہو جاؤ۔۔۔ زویا غصے سے بولی۔۔۔اور آگے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔

اچھا میری ماں چل آمنہ اپنی چادر سھنمبال کر بولی۔۔۔۔اور اس کے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔۔

دس منٹ کے پیدل سفر کے بعد وہ دونوں بالآخر مائدہ کے گھر پہنچ گئیں۔۔۔۔

السلام علیکم ! چاچی وہ دونوں گھر میں داخل ہوتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔

وعلیکم السلام ! تم دونوں اتنی دوپہر میں یہاں؟ وہ حیرانگی سے بولیں۔۔

چاچی ہمیں بس مائدہ سے بات کرنی ہےوہ کہاں ہے۔ زویا ایک ہاتھ سے اپنی چادر کو سھنمبالتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

وہ تو ڈیرے سے پالک لینے گئی ہے۔۔۔۔چاچی بولیں۔۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔زویا سنتے ہی پلٹ گئی۔۔آمنہ اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔۔

زویا تو پاگل ہے۔۔۔اگر ہم لوگ ڈیرے پر گے کسی نے دیکھ لیا تو پتہ ہے کیا ہو گا۔۔۔۔تو جانتی ہے اس گاؤں میں لڑکیوں کو باہر نکلنے کی آجازت نہیں مرے گئی۔۔۔چل وپس چلتے ہیں۔۔۔۔آمنہ اس کا بازو پکڑکر روکتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

آمنہ میں جاؤں گئی اور رہی بات کسی کے دیکھنے کی تو میں نقاب کر لیتی ہوں۔ زویا چادر کے ایک کونے کو چہرے کے گرد لپیٹتے ہوۓ بولی۔۔۔۔ اب اس کے چہرے میں صرف آنکھیں ہی نظر آ رہیں تھیں۔۔۔۔۔

زویا جانتی تھی۔۔۔اب وہ ضد پر آ چکی ہے اور اب بحث کرنا بے فضول ہے۔۔ وہ خود بھی اپنا منہ ڈھکتی اس کے پیچھے بھاگی۔۔

وہ دونوں پندرہ منٹ میں ڈیرے پر پہنچ گئیں۔۔۔۔

مائدہ زویا اونچی اواز میں بولی۔۔۔۔پالک کو ٹوکری مین ڈالتی مائدہ رک گئی اور پلٹ کر زویا کی طرف دیکھا۔۔

کیا ہے تم دونوں یہاں کیا کر رہی ہو؟ وہ دونوں کی طرف پلٹ کر بولی۔۔۔۔

تو نے سارے گاؤں میں کیا مشہور کیا ہوا ہے۔۔۔۔کہ میں بچوں کو بہت برا پڑھاتی ہوں۔۔۔۔اور جب میری امی تم لوگوں کے گھر تمہارے دونوں بھائیوں کی فیس لینے آئیں تو پیسے دینے سے منا کیوں کیا۔۔۔۔زویا غصے سے بولی۔۔۔۔۔

ہاں بولا۔ اور بولوں گئی۔۔۔اور بھول جا کوئی فیس نہیں ملے گئی۔ خود کو پڑھنا آتا نہیں بری آئی دوسروں کو پڑھانے والی۔۔مائدہ تمسخرانہ انداز میں بولی۔۔۔۔

خبردار جو آج کے بعد تو نے گاؤں میں کسی سے بھی میرے متعلق بات کی۔اور جہاں تک رہی پیسے کی بات وہ تو میں لے کر رہوں گئی۔۔۔۔۔

زویا چھوڑ نا پانچ سو کے پیچھے کیوں لڑ رہی ہے ۔۔چل واپس چلتے ہیں۔۔۔۔ابا ادھر ہی کام کرتے ہیں اگر انہیں نے دیکھ لیا تو ۔۔۔۔آمنہ کو اپنے ابا کی ٹینشن لگی ہوئی تھی۔زویا نے اسے گھورا وہ چپ ہو گئی۔۔

جاؤ جاؤ گھر جا کر چلہا چوکی کرو۔۔۔بری آئی ۔۔۔۔۔مائدہ ہنستے ہوے بولی۔۔۔۔

میں اپنے پیسے نہیں چھوڑو گئی۔۔۔اپنی اماں کو بول دینا اگر کل تک پیسے نا پہنچے تو پھر۔۔۔۔۔۔۔

کیا تو پھر کیا کرو گئی۔۔۔۔۔ہاں بولو۔۔۔لڑو گئی۔۔ابھی بتا دیتی ہوں نہین دوں گئی بولو کیا کرو گئی۔۔۔۔مائدہ اس کے پاس آکر ہلکے سے اسے دھکہ دیتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

دیکھ مائدہ میں اپنا حق نہیں چھوڑوں گئی۔۔اور مجھ سے دور رہ کر بات کر زویا اپنا نقاب پکڑتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

لے پھر لے لے اپنا حق مائدہ نے ہنستے ہوۓ کہا اس سے پہلے کہ زویا یا آمنہ کچھ سمجھتیں مائدہ نے زویا کو دھکہ دے دیا۔۔جس سے وہ پیچھے ایک سائڈ کی زمین پر گِڑی۔۔۔۔مائدہ زور زور سے ہنسے لگی۔۔۔۔۔۔آمنہ جلدی سے زویا کی طرف بڑھی۔۔۔۔

یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔۔تبھی پیچھے سے مردانہ آواز آئی۔۔۔

۔مائدہ کی ہنسی کو بریک لگی۔ ایک دم اس نے نظریں نیچیں کر لیں۔۔۔۔آمنہ نے زویا کو اُٹھنے میں مدد کی۔۔۔۔دونوں نے اپنا چہرہ چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔۔۔

تمم لڑکیاں یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔ایک بار پھر آواز گھونجی۔۔۔۔

(التمش ڈیرے پر کام دیکھنے آیا ہوا تھ۔ا وہ ان تینوں سے دور فصلوں کے درمیان کھڑا نوکروں کو حکم دے رہا تھا جب اس کی نظر تینوں لڑکیوں پر پڑی جو جگھڑا کر رہیں تھیں۔ اس کے ماتھے پر بل پڑے گے۔۔ وہ ان تک آیا۔۔پر تب تک مائدہ نے زویا کو دھکہ دے کر گِرا دیا تھا۔۔۔)

وہ وہ میں میں پالک لینے آئی تھی ۔۔۔مائدہ حقلاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔اور جھک کر پالک کی ٹوکری اُٹھا لی۔۔۔۔۔

کیوں تمہارے گھر کے مرد مر گے تھے جو تمہیں یہاں بھیج دیا۔۔۔تم سب کو معلوم نہیں اس گاؤں میں کیا قانون ہے۔ التمش غصے سے بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔

نہیں پتہ ہمیں، نہیں مانتے ہم۔آپ جیسے حاکموں کا حکم ۔۔۔اور یہ زمین ہم سب کی ہے۔۔۔جہاں دل کرے گا وہاں جائیں گے۔۔۔۔زویا ایک دم مُڑکر غصے سے بولی۔۔۔۔۔

التمش حیرانگی سے اپنے سامنے کھڑی لڑکی کی بہادری دیکھ رہا تھا۔ ایک پل کے لیے وہ اس کی چادر سے نظر آتیں گہری بلو آنکھوں میں کھو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جسے دیکھو حکم چلانے آ جاتا ہے۔ برے آۓ جگیردار، حکم بس عورتوں پر چل سکتا ہے۔۔۔۔۔ اور تم اپنی اماں سے پیسے لے کر دے کر جانا۔۔۔تم جانتی ہو میں اپنا حق لے کر رہوں گئی۔۔۔وہ پلٹ کر مائدہ کو بولتی آمنہ کا ہاتھ پکڑکر بنا التمش کے چہرے کو دیکھے چل دی۔۔۔۔مائدہ بھی ان کے پیچھے بھاگی۔۔۔۔۔۔

التمش ہوش میں آیا۔۔۔۔

اس کی ہمت کیسے ہوئی مجھ سے ایسے بات کرنے کی۔۔۔اور میں نے کچھ بولا کیوں نہیں۔۔۔ التمش حیرانگی سے خود سے بولا۔۔۔۔اور پلٹ کر دیکھا جہاں سے وہ جا رہی تھی۔

سائیں وہاں پر ایک آدمی کام میں نخرے دیکھا رہا ہے۔۔۔ تبھی اس کا خاص آدمی آ کر بولا۔۔۔۔التمش اپنا سر جھٹکتا اس کے ساتھ چلا گیا۔۔

*******************

تجھے پتہ تو نے کس کو باتیں سنائیں۔۔۔۔وہ دونوں اس وقت زویا کے کمرے مین بیٹھیں ہوئیں تھیں۔۔۔۔۔

شائد کوئی خان بابا کی حویلی کا تھا۔۔۔وہ شانے اچکاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

پاگل وہ اور کوئی نہیں خان بابا کا پوتا تھا۔۔۔۔اور تو نے اتنی باتیں سنا دیں اب پتہ نہین وہ کیا کرے گا۔۔تیرے ابا تو وہاں منچھی ہیں اگر انہیں بتا دیا۔۔۔تو تو جانتی ہے کیا ہو گا۔۔۔۔آمنہ پریشان سی بولی۔۔۔

پاگل اپنا دماغ کھول انہیں کیا پتہ ہم کون ہین ہم۔نے تو منہ پرچادر کی ہوئی تھی۔ زویا اس کے سر پر تھپر مارتے ہوۓ بولی۔۔۔

ان باتوں کو چھوڑ چل لُڈو لا کھیلتے ہیں زویا مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔۔

اچھا آمنہ منہ بنا کر بولی۔۔۔۔

************

آپ نے اتنی دیر لگا دی۔ میں کب سے آپ کا انتظار کر رہی تھی۔۔۔۔ماجد رات کے بارہ بجے کمرے میں داخل ہوا تو اس کی بیوی عائلہ بولی۔۔۔۔

تمہیں کتنی دفع بولا ہے۔جب بھی میں حویلی واپس آؤ۔۔۔یہ بے تکے سوال مت پوچھا کرو۔۔۔۔پر تمہاری موٹی عقل میں یہ سب کہاں سے بیٹھے گا۔چلو یہ جوتے اتاروں وہ بیڈ پر بیٹھ کر حکم دیتے ہوۓ بولا۔۔۔

عائلہ سر کو جھکا کر اس کی طرف آئی۔۔۔اور زمین پر بیٹھ کر اس کے جوتے اتارنے لگی۔۔۔۔۔۔

منحوس ہر کام میں سست ہے۔۔۔چل جا کھانا لے رک آ۔۔۔۔ماجد نے اسے پاؤں سے دھکہ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔

جی وہ اپنا ڈوپٹہ سھنمبالتی ہوئی کھڑی ہوئی۔۔۔اور باہر کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔

اماں نے بھی نا جانے کس منحوس کے ساتھ باندھ دیا ہے۔۔۔۔ ماجد اس کے جاتے ہی خود سے بولا۔۔۔

موبائل نکال کر وہ کسی سے میسج پر بات کرنے لگا۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد کال ملا لی۔۔

ڈارلنگ بس تھوڑے دن کا انتظار کر لو پھر میں آجاؤ گا۔۔۔ وہ مسکرا مسکرا کر کسی سے بات کر رہا تھا۔۔۔۔وہ بات کر رہا تھا جب عائلہ ٹرے لے کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔۔

چلو میں تھوڑی دیر مین بات کرتا ہوں۔۔۔ماجد نے کال بند کر دی۔۔اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔

عائلہ نے ٹرے سامنے رکھی۔۔۔اور سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔

وہ مجھے اپ سے بات کرنی تھی۔۔۔حیدر چار سال کا ہو چکا ہے اسے سکول مین داخل کروا دیں۔۔۔۔عائلہ انگلیاں مڑورتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

تمہیں کیا لگتا ہے مجھے اس کی فکر نہیں ۔۔جانتا ہوں اسے سکول داخل کروانا ہے۔ وہ روٹی کا نوالہ بناتے ہوۓ بولا ۔۔

تھو ماجد نے منہ میں ڈالا نوالہ باہر پھینک دیا۔۔۔۔

کیا ہوا جی۔۔۔۔۔عائلہ پریشان سی ہو گئی۔۔۔۔

ٹھاہ۔۔۔۔۔۔ماجد کا ہاتھ اُٹھا اور عائلہ کے چہرے ہر نشان چھوڑ گیا۔۔۔۔

پاگل جاہل عورت کھانا بنانا بھی نہیں آتا۔۔۔۔اتنا نمک کون ڈالتا ہے۔۔۔۔دفع ہو جا میری نظروں سے۔۔۔۔۔۔ماجد غصے سے چلایا۔۔۔

عائلہ ٹرے کو اُٹھا کر کمرے سے باہر نکلی۔۔۔۔

تھوڑی دیر بعد جب وہ کمرے میں واپس آئی۔۔دروازہ بند کر کے وہ بستر پر لیٹ گئی۔۔۔۔بالکنی سے کسی کے ہنسنے کی اواز آ رہی تھی۔۔ عائلہ نے گردن گھما کر دیکھا۔ وہ ماجد تھا۔۔۔

ایک آنسوں اس کے چہرے کو بھگو گیا۔۔۔۔۔۔۔یہ تو روز کا معمول تھا۔۔۔وہ روز اسے اسی طرح چھوٹی چھوٹی بات پر مارتا تھا اور روز رات کو بالکنی میں بیٹھ کر وہ اپنی معشوقہ سے باتیں کرتا۔ تھا۔۔۔عائلہ سب کچھ جاننے کے باوجود خاموش تھی۔وہ جانتی تھی۔ وہ کچھ نہین کر سکتی۔۔۔۔اس حویلی میں عورت کی بس اتنی ہی عزت تھی۔۔۔کہ وہ یہاں کے مردوں کی بیوی تھی۔۔

گردن گھما کر اس نے اپنی چھے ماہ کی بیٹی سائرہ کو دیکھا جو کہ نیند سے جاگ گئی تھی۔۔۔اس نے سر جھٹ کر اسے گود میں اور دوبارہ سے سلانے کی کوشش کرنے لگی۔

************★★★★★******★***********★**

بھائی بھائی آپ آگے ۔۔۔میرے کلرز لاۓ۔۔۔۔۔وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا سامنے سے اس کی بہن دوڑتے ہوۓ اس کے پاس آئی۔۔۔۔۔۔

لایا ہوں پر پہلے اپنے بھائی سے نہیں ملو گئی۔۔۔ وہ لاڈ سے بولا۔۔۔۔

افکورس وہ ہنستے ہوۓ اس کے گلے سے لگ گئی۔۔۔۔

دس از فاؤل آپ دونوں پمیشہ مجھے اگنور کرتے ہو۔۔۔۔تبھی سامنے سے اس کی دوسری بہن منہ بنا کر بولی۔۔۔

ہاہا تم دونوں میری جان ہو ادھر آؤ۔۔۔۔وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔تو سیرت بھاگ کر ان دونوں کے پاس آئی اور گلے لگ گئی۔۔۔۔۔

چلو بھائی اب میرے کلرز نکالوں۔۔۔منت الگ ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

لو جی آتے ہی شروع ہو گئیں۔۔ارے بچارے میرے بچے کو سانس تو لینے دو۔۔۔۔۔۔کیچن سے نکلتی حمیدہ بیگم بولیں۔۔۔۔۔

ماما سراج ملک اگے بڑھ کر اپنی ماں کے گلے لگا۔۔۔۔۔وہ ایک مہینے بعد اسلام آباد کے بزنس ٹرپ سے واپس آیا تھا۔۔۔۔۔

میرا بچہ پتہ میں نے کتنا یاد کیا۔۔۔حمیدہ بیگم اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔۔

جانتا ہوں۔۔۔چلیں آۓ میں آپ سب کے لیے جو گفٹس لایا ہوں وہ دیکھاتا ہوں۔۔سراج مسکراتے ہوۓ تینوں کو لے کے لاونج میں رکھے صوفے پر بیٹھا۔۔۔

اور ایک ایک کر کے چیزیں دیکھانے لگا۔۔۔۔سیرت اور منت تو چیزیں دیکھ کر خوشی سے پاگل ہی ہو گئی۔۔۔۔۔سراج ان دونوں کے لیے بہت ساری چیزیں لایا تھا۔۔۔۔

ماما یہ بابا نظر نہین آ رہے کہاں ہیں۔۔۔سراج ادھر اُدھر نظر دھرا کر بولا۔

تمہارے بابا ابھی تک آفس مین ہیں کہ رہے تھے آج دیر ہو جاۓ گئی۔۔۔حمیدہ بیگم مسکراتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔۔

چلیں میں فریش ہو کر آتا ہوں آپ پلیز اچھا سا کھانا بناۓ مجھے بہت بھوک لگی ہوئی ہے ۔۔۔ سِراج اپنا کوٹ پکڑتے ہوۓ کھڑا ہوا۔ اوراپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔

حمیدہ بیگم کیچن کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔

یہ والا فراق میرا منت سیرت کا فراق پکڑکر بھاگتے ہوۓ بولی۔۔۔۔

نو ماما سیرت اونچی آواز مین بولی۔۔۔اور منت کے پیچھے بھاگی۔۔۔۔۔

***★**★************★***************

رنگ برنگے سپنوں جیسی انکھیں تیری

شام کی پہلی کرنوں جیسی آنکھیں تیری

صبح کی بھیگی خوشبو رنگت چہرہ تیرا

دیوالی کی راتوں جیسی آنکھیں تیری

مہکاتی ہیں جنگنو بن کر منظر سارا

میرے دل کے سجدوں جیسی آنکھیں تیری

حسن تبسم تیری نظروں کی ہر دھڑکن

برانداون کی شاموں جیسی آنکھیں تیری

نغمہ بن کر چھا جاتی ہیں دل پر

وصل کی روشن لمحوں جیسی آنکھیں تیری

وہ کب سے یہ غزل سن رہا تھا جو اس کے ٹیوی پر چل رہی تھی۔۔۔۔اس نے لمبا سانس لیا اور اپنی آنکھیں موندھ لیں۔۔آنکھوں کے پردوں پر جھیل سی نیلی آنکھیں۔ لہرائیں۔نقاب سے جھانکتی غصے سے لالا وہ دل کو موہ لینے والی نیلی آنکھیں اسے مسکرانے پر مجبور کر گئیں۔۔۔۔ایک دم اس نے آنکھیں کھول لیں۔۔۔۔

یہ مجھے کیا ہو گیا ہے۔۔۔میں کیسے یہ سب سوچ سکتا ہوں۔۔۔التمش خود کو ڈپٹ کر بولا۔۔۔

لیکن اب اسے اس کے جملے سنائی دینے لگے۔۔۔اپنے آس پاس اسے اس کی خوبصورت آواز سنائی دینے لگی۔۔۔۔۔وہ کھل کر ہنس دیا۔۔۔

وہ ساتھ ساتھ غزل کو کنگنا رہا تھا۔۔۔۔۔۔

تیری آنکھیں وہ نیلی آنکھیں۔۔۔۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوۓ کنگنا رہا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔