Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 15
No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
مقصد کو حاصل کرنے کی پہلی خوشی مبارک ہو۔ سب کا ناشتہ بنانے کے بعد وہ کمرے میں آئی۔ تو الماری سے ہلکی سے آواز آئی۔ جیسے کسی موبائل پر میسج کی بیپ ہو۔اپنے آپ کو لعنت ملامت کرتی کمرے کا دروازہ بند کر کے جلدی سے موبائل نکلا۔ سامنے لکھے الفاظوں نے اسے اُلجہا دیا۔
او تو تم نے اپنا کام کر دیا۔ وہ مسکراتے ہوۓ چمکتی سکرین کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
زویا باجی اس سے پہلے کہ وہ موبائل الماری میں رکھتی دروازہ کھول کر اندر آتی نجمہ بولی۔۔۔۔
جھٹ سے موبائل کو اپنے ڈوپٹے کے نیچے چھپا کر ہاتھ قمر پر باندھ نجمہ کی طرف مڑی۔۔
باجی جلدی چلیں۔ آج تو بری مالکن بری غصے میں ہیں۔وہ بول رہی ہیں۔ زویا کو بولو ان کے کمرے کی اچھے سے صفائی کرے۔ اور ساتھ میں ان کے کپڑے استری کرے۔ نجمہ جلدی جلدی صائمہ بیگم کا پیغام سنانے لگی۔۔۔۔
ہمم تم چلو میں آتی ہوں۔ زویا اپنے آپ کو سھنمبال چکی تھی۔۔ نجمہ اپنا پراندھا ہلاتے ہوۓ پلٹ گئی۔۔۔۔۔
شکر ہے بچ گئی۔وہ لمبا سانس لیتے ہوۓ خود سے بولی اور پلٹ کر موبائل کو آف کیا اسے چھپا کر جلدی جلدی باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔
وہ چلتی ہوئی صائمہ بیگم کے کمرے میں آئی۔ پر وہ وہاں نہیں تھیں۔ تبھی دوبارہ سے نجمہ آئی ۔۔۔اسے اریشہ کے کمرے کی طرف جانے کا بولا۔۔۔ وہ چپ کر کے اوپر اریشہ کی طرف بڑھی۔۔۔۔
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی اسکی نظر سامنے بیڈ پر بہت سارے کپڑوں پر پڑی۔ ۔ وہی دوسری طرف صائمہ بیگم ساتھ ہی الماری سے اور کپڑے نکال رہیں تھیں۔۔وہ ایک پل کو رکیں اور پلٹ کر زویا کو دیکھا۔
جو گھسے اُڑے رنگ والے کپڑوں میں بھی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ اور اسکی یہی خوبصورتی اب صایمہ بیگم کے دل کے اندر ڈر بیٹھا گئی تھی۔۔۔۔
یہ میری بیٹی اریشہ کے کپڑے ہیں۔ وہ ابھی فل حال یہاں نہیں ہے۔ وہ محلوں میں پلنے والی لڑکی ہے۔ تم ان سب کپڑوں کو استری کرو۔ آج رات تک مجھے اسکے ہاسٹل میں سب پہنچانا ہے۔۔۔ استری کر کے یہ جوتے کپڑے جیولری شالیں سب بریف کیس میں پیک کر دینا۔ وہ ساتھ ساتھ اسے ہدایت دے رہی تھی اور ساتھ ہی چیزین بھی نکال رہیں تھیں۔۔۔زویا چپ کر کے بیڈکی طرف بڑھی اور کپڑوں کو ساتھ پڑی ٹوکری میں ڈالنے لگی۔۔۔
لڑکی میں نے دیکھا ہے جب سے تم آئی ہو۔ بی جی کی بیٹی کے کپڑوں میں پھر رہی ہو۔ یہ اریشہ کے کچھ کپڑے تم لے لو۔ ویسے بھی میری بیٹی کو یہ رنگ پسند نہیں۔ وہ مجھے بول کر گئی تھی کسی غریب کو دے دینا۔۔ اب اس حویلی مین تم سے زیادہ غریب اور بے مول کون ہو سکتا ہے۔۔ یہ لو۔۔ صایمہ بیگم نے طنز سے بھرے لہجے میں کہا۔ اور ساتھ ہی تین سوٹ اسکی طرف اچھالے۔۔زویا نے شاک سے انداز میں اپنے چہرے پر پڑنے والے کپڑوں کو ہٹایا۔۔
معاف کیجیے گا۔صایمہ بیگم صاحبہ! پر آپ جیسے امیروں سے یہ چار ٹکرے لینے سے اچھا ہے میں کسی غریب سے بھیگ میں کپڑے لے لوں۔ زویا نے نحوست سے کہتے ہاتھ میں پکڑے کپڑوں کو زمین پر پھینکا۔۔۔۔
تم خود کو سمجھتی کیا ہو؟ دو ٹکے معمولی سی لڑکی۔ مجھے جواب دو گئی۔ تمہاری اتنی اوقات نہین جو تم صائمہ بیگم کو انکار کر سکو۔وہ زویا کے بال اپنے ہاتھ کی موٹھی میں بھیچ کر بولیں۔۔۔۔۔
ہنہ میری کیا اوقات ہے مین بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ ہر آپ شائد کسی خم میں ہیں۔ اس حویلی کی چاہے آپ بری بیگم کیوں نا ہوں۔ پر اپنے شوہر کے سامنے تو آپ کی اوقات زرہ برابر نہیں۔۔۔ہاہا بولیں۔ زویا تمسخرانہ انداز میں بولی۔۔۔ صائمہ بیگم کے ہاتھ ایک پل کو تھرتھراۓ۔۔۔۔
میں تو اپنے شوہر کے ساتھ رہتی ہون۔ اس حویلی کی بری بیگم ہوں۔ دو بیٹوں کی ماں ہوں۔ جب بھی گاؤں میں جاؤ سب عزت سے نگاہیں جھکا لیتے ہیں۔
اور تم تم کیا ہو۔ خون بہا میں آئی ہوئی غریب لڑکی۔ جس کی ساری زندگی اسی طرح حویلی کی کم تر نوکرانی بن کر گزر جاۓ گئی۔ نا کبھی شوہر کی بیوی بن پاؤں گئی نا ماں۔۔۔۔ اس سے برا روگ کیا لگے گا۔۔ مجھے شوہر چاہے جیسا بھی ملا ہو۔کمرے میں نا سہی باہر تو عزت دیتا ہے نا۔۔وہ بھی طنز کا جواب طنز سے بھرپورا انداز میں دیتے ہوۓ بولیں۔ ابھی بھی زویا کے بال ان کی مُٹھی میں تھے۔۔زویا نے اتنے کڑواے الفاظ سنے تو اپنے آنکھیں بند کیں۔ آنسوں کا گولا اندر ہی اتارا۔ اور جب آنکھیں کھولیں تولال دوڑیاں تیر رہیں تھیں۔۔وہ صایمہ بیگم کی انکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔۔۔
آپ کس دنیا میں رہ رہی ہیں۔ کبھی اپنے بیٹے التمش کی انکھوں میں جھانک کر دیکھا ہے۔اسکی آنکھوں میں بے پناہ محبت نظر آتی ہے۔ ایک اشارہ کروں نا تو کل ہی وہ مجھے بیوی بنا لے۔ اور کبھی غور سے اسے دیکھا یے جب سب کے سامنے وہ میرے دفاع میں کھڑا ہوتا ہے۔ اسکی آواز میں میرے لیے فکر تحفظ عزت سب محسوس ہوتا ہے۔۔۔ کبھی آپ کے شوہر نے یوں دفاع کیا ہے۔۔۔ وہ طنزیہ انداز مین بولی۔۔۔۔۔۔
چپ تم کسی خوشفہمی میں مت رہنا۔ وہ میرا بیٹا ہے صائمہ بیگم کا بیٹا ہے۔ تجھ جیسی لڑکی کو بیوی بنانے سے پہلے اپنی ماں کی میت دیکھے گا۔ میں یہ موقع آنے ہی نہیں دوں گئی۔۔ بہت جلدی اسکی شادی کر دوں گئی۔۔۔اپنے برابر والوں میں تجھ سے ہزار درجہ خوبصورت لڑکی سے اپنے بیٹے کی شادی کروں گئی۔۔۔تیری ساری غلط فمہی دھل جاۓ گئی۔۔۔ صائمہ بیگم بولیں اور آخر میں اسے جھٹکا دے کر زمین پر گِڑایا۔ زویا کا سر فرش سے جا لگا۔
یہ سب کام ختم کرو۔ وہ بول کر اسکے پاؤں پر اپنا پاؤں رکھتے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔
ماما یہ حویلی والے کتنے بے حس ہیں۔ وہ اپنا پاؤں پکڑ کر اسے سہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔اسےپہلے لگا تھا صایمہ بیگم اچھی خاتون ہیں۔ پر شائد وہ غلط تھی۔۔۔۔اپنے آپ کو سھنمبال کر وہ کھڑی ہوئی اورکپڑے ٹوکڑی میں ڈال کر استری والے ایریا کی طرف بڑھی۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے چھوڑو میرے پوتے کو جہانگیر خان کی آواز حویلی میں گھونجی۔۔۔سب کے سب ہال میں اکھٹا ہو گے۔۔۔۔
دیکھے خان صاحب یہ اریسٹ وارنٹ ہے۔ آپ کے پوتے کو اپنی گرل فرینڈ کو حاملہ کرنے کے بعد قتل کرنے کے الظام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔۔ ایس پی بولا۔۔۔۔
کیا بکواس ہے۔ دادا جی مین نے ایسا کچھ نہیں کیا میرے اوپر الظام لگایا جا رہا ہے۔۔ماجد چیخا۔اسکے چہرے کے رنگ اُڑے ہوۓ تھے۔۔۔ زویا اتنا شور سن کر نیچے آئی تو سامنے یہ سب ہو رہا تھا۔۔۔
یہ سراسر چھوٹا الظام ہے میرا پوتا ایس اہو ہی نہیں سکتا ضرور کسی نے جان بوجھ کر یہ سب کروایا ہے۔۔ جہانگیر خان آگے بڑھے۔
خان صاحب یہ سب باتیں تو اب تحانے میں جا کر ہی ہوں گئی۔ ہمیں آڈر ہے مسٹر ماجد کو فوراً گرفتار کیا جاۓ۔ اور ہم یہ سب بے بنیاد نہیں بول رہی ہمارے پاس سارے ایویڈینس ہیں جو کہ مرحومہ کی چھوٹی بہن اوربھائی نے آج صبح ہی جمع کرواۓ ہیں۔ اور ساتھ میں ریپوٹ درج کروائی۔ ایس پی ہتھ کھڑی ماجد کے ہاتھوں پر پہناتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہم نہین مانتے جب تک اپنی انکھوں سے سب سچ نا دیکھ لیں۔ اپ ایویڈینس یہی منگوائیں۔ میرا بھائی تحانے نہیں جاۓ گا۔۔۔ التمش اتنا شور سن کر کمرے سے نکل کر نیچے ایا تبھی ایس پی کے الفاظ کانوں میں پڑھے وہ ایس پی تک اتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
دیکھوں التمش تم میرے دوست ہو پر ابھی فل حال مجھے اپنی ڈیوٹی کرنے دو۔ میرے ساتھ تحانے مین چلو اپنی انکھوں سے سب دیکھ لینا۔ ایس پی ارحم بولا۔۔ بنا کسی کی سنے وہ ماجد کو حویلی سے باہر لے گیا۔ اگلے کچھ منٹ تک ماجد مجرم بن کر پولیس وین میں بیٹھ چکا تھا۔ پیچھے التمش جہانگیر خالد سہیل رفاقت سب گاڑی میں بیٹھے تحانے کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔ جہاں جہاں سے وین گزر رہی تھی۔ سارے گاؤں والے حیرانگی سے یہ سب دیکھ رہی تھی۔ ہزاروں طرح کی چہ مگوئیاں ہو رہیں تھیں۔
واہ بھی واہ جیتے رہو۔ دل خوش کر دیا۔ زویا بھاگتے ہوۓ اپنے کمرے میں آئی اور گھوم گھوم کر ڈانس کرنے لگی۔۔۔۔جلدی سے موبائل نکال کر حازم کو میسج کیا۔۔۔۔اور دوبارہ سے گول گول گھومنیں لگی۔۔۔گھومتے گھومتے جب وہ تھک گئی۔ تو وہی پلنگ پر لیٹ گئی۔۔۔۔
ہاہاہا ہاہاہا جہانگیر خان خالد خان آج بھری دنیا کے سامنے تم سب کی عزت کا جنازہ نکلا ہے۔ ہاہا فکر مت کرو یہ تو ابھی شرواعت ہے۔ زویا احمد کا بدلہ اتنی جلدی مکمل نہیں ہو گا۔۔ اب تو ہر دوسرے دن تمہاری عزت کے جنازے اُٹھیں گے۔۔ جن میں بین نہیں ہوں گے۔ بلکہ تمہارے غرور کی خاک ہو گئی۔۔بہت جلد تم سب کو اپنے قدموں میں جھاؤں گئی۔۔ جیسے تم سب نے انہیں جھکایا تھا۔ انہوں نے بھی تو بھیک مانگی تھی۔۔پر کسی نے نہیں سنا تو زویا احمد بھی نہیں سنے گئی۔۔ ہاہاہا وہ کبھی ہنستے ہوۓ خود سے بول رہی تھی۔۔۔ ساتھ ہی آنکھوں کے کنارے سے آنسوں نکل کر بہہ رہے تھے۔۔۔۔
اگر اس وقت اسے کوئی دیکھ لیتا تو اسے پاگل ہی تصور کرتا۔ ایک ایسا پاگل جو پچھلے چودہ سالوں سے ہزاروں دفع اس دن کا تصور کیا کرتی تھی۔ ۔۔۔ ناجانے ایسے کون سے زخم تھے جو آہستہ آہستہ مندمل ہونے کی بجاۓ زہر کی طرح پورے بدن پر پھیل رہے تھے۔
ایس پی ارحم نے سب کو ایک ویڈیو دیکھائی۔ جس میں ماجد کی گاڑی ایک طرف کھڑی تھی۔ اور سامنے اسکے اشارہ کرنے پر چلتی ہوئی روبینہ پر گولی چلی تھی۔۔۔۔۔ یہ ویڈیو دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہ سکتا تھا کہ ماجد بے گناہ ہے۔۔۔۔۔
ارحم یہ ویڈیو ایڈیٹ بھی تو ہو سکتی ہے۔۔۔۔ التمش ویدیو دیکھ کر فوراً بولا۔۔۔
ہو سکتی ہے۔۔۔بالکل ایڈیٹ ہو سکتی ہے۔اسی شک کی بیس پر ہم نے مرحومہ کا موبائل چیک کیا۔۔ جس میں آخری کام انہیں کے نام کی تھی۔۔ اور کال ریکاڈ کے مطابق آپ کے بھائی کا اس لڑکی سے بہت گہرا اور پرانا تعلق ہے۔۔ بیت جلدی ان دونوں کی باتوں کی ریکارڈنگ میں ہمارے یاتھ میں ہوں گئی۔۔۔
ہمیں ان کے موبائل میں دونوں کے میسجز بھی ملے ہیں یہ دیکھیں۔ ارحم نے موبائل التمش کی طرف بڑھایا۔۔۔ وہ آہستہ آہستہ سارے میسجز پڑھنے لگا۔۔۔
جہانگیر خان نے غصے سے بھری آنکھوں سے ماجد کو دیکھا۔ جو اب مجروں کی طرح نظریں جھکاۓ کھڑا تھا۔۔۔۔۔
ارحم ماجد خان اگر مجرم ہے تو اسکی اسے سزا ملنی چاہیے۔ تمہیں پوری اجازت ہے ایک معصوم کے قتل کی سزا دلوا کر رہو۔۔ التمش خان موبائل ٹیبل پر رکھتے ہوۓ اُٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
باقی کسی نے کچھ نا بولا اب بولنے کے لیے کچھ رہتا ہی نہیں تھا۔۔ سب اُٹھ کر بنا ماجد کی طرف دیکھے باہر نکلنے لگے۔۔۔جب خالد صاحب ماجد کے قریب گے۔۔۔
اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر تم ریہا ہو جاؤ گے۔۔۔فکر مت کرنا ۔۔۔۔ وہ بول کر باہر کی طرف بڑھے۔۔
ارحم ایک مجرم کو سزا دلوانے کےلیے اگر میری کسی مدد کی ضرورت پڑے تو ایک کال کرنا۔ التمش نے مظبوط لہجے میں بولا اور ماجد کی طرف دیکھا۔ جو خوخار نظروں سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ دل میں اسکے لیے نفرت ہزار گنا اور بڑھی۔۔۔۔التمش مڑا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالوں کی عزت کو کچڑے میں ڈال دیا۔ پہلے تمہارا یہ بیٹا میرے خلاف گیا۔ گاؤں والوں کے دل سے خوف ختم کروانا چاہا۔ اور اب وہ ماجد ننے گل کھلا آیا۔ جہانگیر خان صوفے پر ڈھے سے گے۔۔۔۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آتا ماجد کو اس لڑکی کا قتل کروانے کی کیا ضرورت تھی۔۔ پیسے منہ پر مارتا تو کام ختم ہو جاتا۔ خالد صاحب غصے سے بولے۔۔۔۔
کچھ بھی کہو۔خالد تمہارے لڑکے اب تمہارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اور ساتھ ہی اس حویلی کی عزت کا کچڑا کر چکے ہیں۔۔۔۔جہانگیر خان بولے۔۔۔۔
کچھ بھی ہو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر مجھے ماجد کو جیل سے نکالنا ہے۔ خالد صاحب عظم سے بولے۔۔۔۔۔
واہ ابا واہ کیا کہنے ہیں۔ آپ ابھی بھی لالا کو نکالنا چاہتے ہیں۔ ہوش کریں ابا وہ ایک قاتل ہے۔ ایک لڑکی کو قتل کیا ہے۔۔ انہیں سزا ملنی چاہیے۔ التمش خالد صاحب کی باتیں سن کر غصے سے بولا۔۔۔۔
ہنہ قتل۔۔۔۔۔اسے سزا دلوانے سے زیادہ اہم اس خاندان کی برسوں کی کمائی ہوئی عزت ہے۔۔ ابھی تو یہ بات گاؤں میں پھیلی ہے۔ اگر چار اور گاؤں میں پھیل گئی۔ تو کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہین رہیں گے۔۔ اورشرم کرو سگا بھائی ہے تمہارا۔۔ خالد صاحب بھی چلاۓ۔۔۔۔
کاش آپ نے انہیں غرور تکبر، سیکھانے سے زیادہ عورت کی عزت کرنا سیکھایا ہوتا تو آج وہ بھابھی کے ہوتے ہوۓ یوں کسی غیر لڑکی کو بنا نکاح کے ماں نہین بناتے۔ اور نا اسکا قتل کرتے۔۔ کیا یہ بات گھٹیا نہیں۔ وہ بھی ترکی با ترکی بولا۔۔۔دو کھڑی عائلہ اپنی انکھوں کو پونچھ رہی تھی۔۔۔
چپ کرو تم دونوں جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب بس اس مسلے کا حل نکالو۔۔۔۔۔ جہانگیر خان غصے سے چلاۓ۔۔۔۔
جہانگیر خان صاحب حل نکل گیا ہے۔ بس آپ سنے کی ہمت رکھیے گا۔۔۔ تبھی پیچھے سے زویا کی آواز آئی۔ جو کہ ڈوپٹہ سر پر جماۓ مسکرا کر ہاتھ میں بری سی پرات لیے چل کر ان سب کی طرف آ رہی تھی۔۔۔
یہ لیجیے حل۔ پرات پر سے وائٹ کپڑا ہٹایا۔ تو سامنے لال رنگ کا ڈوپٹہ تھا۔ سب نے حیرانگی سے اسکی کی طرف دیکھا۔۔۔
اس سب کا کیا مطلب ہے۔ اور تم ہوتی کون کو ہمارے معملات میں ٹانگ اڑانے والی سہیل صاحب بولے۔۔۔۔
جہانگیر خان صاحب کچھ وقت پہلے میرے بھائی کے ہاتھوں آپ کا پوتا مرا تھا۔ تو آپ نے اس گاؤں کے سربراہ ہونے کی حثیت سے خون بہا کا علان کیا تھا۔۔۔۔ آج سیم آپ کے پوتے نے ایک قتل کیا ہے۔ تو اصول کے مطابق اب باری آپ کی ہے۔۔ اپنی پوتی کو خون بہا میں دیں اور معاملا ختم کریں۔ زویا سنحیدہ انداز میں بولی۔۔۔۔۔چہرے پر پتھریلے تاثرات تھے۔۔۔۔۔
تمہاری اتنی ہمت میری پوتی کے بارے میں ایسا بولا۔۔۔ جہانگیر خان گرجتے ہوۓ صوفے سے کھڑے ہو گے۔۔۔۔ان کا ہاتھ ہوا مین لہرایا۔۔۔اسے پہلے کے زویا کے چہرے پر تھپر پڑتا۔۔۔التمش نے اسے بازو سے کھیچ کر ایک طرف کیا۔۔۔۔زویا کے ہاتھ سے تھال گڑ گیا۔۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔ وہ دانت پیستے ہوۓ بولا۔۔۔۔
وہی جو سچ ہے۔ اگر ایک غریب کی لڑکی خون بہا میں دی جا سکتی ہے تو حویلی والوں کی کیوں نہیں۔ کیا عزت صرف امیر کی ہوتی ہے۔روایات بنائی ہیں نا تو برابر کی بنائیں۔۔ وہ بھی اپنا بازو چھڑواتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
اس لڑکی کو میری نظروں کے سامنے سے ہٹاؤ۔ ورنہ بہت برا ہو جاۓ گا۔۔۔ جہانگیر خان چلاۓ۔۔۔۔۔
جہانگیر خان صاحب اپنی پوتی پربات آئی تو دل پھٹا نا۔ تو سوچوں کسی کی بیٹی پر جب ایسا وقت آتا ہو گا۔ تو اس ماں باپ کا دل کیسے پھٹا ہو گا۔۔۔ انہوں نے کیسے سہا ہو گا۔۔۔ برے آۓ وڈیرے۔ مجھے آج تم سب پر بہت ترس آ رہا ہے۔ عزت کا علان کرنے والے آج پوری دنیا کے سامنے بے عزت ہو گے۔۔ تھو ہے تم سب پر۔۔۔ وہ طنزیہ انداز میں بول کر وہاں سے نکل گئی۔۔۔ پیچھے جہانگیر خان اپنا سر پکڑ کر صوفے پر ڈھے گے۔۔۔۔ اور کچھ ہی پلوں میں بے ہوش ہو گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانگیر خان کا بی پی بہت زیادہ بڑھ گیا تھا۔ اگر وقت پر دوا نا ملتی تو انہین ہاٹ اتیک بھی ہو سکتا تھا۔
التمش ابھی ابھی انہیں سُلا کر گارڈن میں آیا تھا۔۔ دھند نے آسمان کو دھک لیا تھا۔۔ آج کا اتنا تھکا دینے والا دن گزر چکا تھا۔۔۔
وہ آہستہ اہستہ گھاس پر چل رہا تھا۔ اپنے آس پاس زویا کے کہے گے الفاظ گھونج رہے تھے۔۔۔ چاہے اسکے الفاظ سخت پر سچ تھے۔ وہ چلتا ہوا سامنے لگے وائٹ جھولے پر آ بیٹھا۔۔۔۔اپنا سر پیچھے کی طرف گِڑا دیا۔۔ ان دنوں جو بھی اسکے ساتھ ہو چکا تھا۔ وہ اچھے بھلے انسان کو ہلا کر رکھ دیتا۔ اور وہ بھی ذہنی طور پر کافی متاثر ہوا تھا۔۔
زویا روز سب کے سو جانے کے بعد باہر واک کرنے جاتی تھی۔ اور یہ عادت اسکی بچپن سے تھی۔۔وہ رات کو ایک گھنٹہ ضرور واک کرتی ۔ ابھی بھی اپنے گرد دوپٹہ پھیلاۓ وہ گارڈن میں آئی تھی۔۔۔۔
سرد ہوا ایک پل کو تھرتھڑاہٹ پیدا کر گئی۔۔۔پر وہ اگنور کرتی دوپٹے کو زور سے لپٹتے أہستہ آہستہ چلنے لگی۔۔۔
التمش کو کسی کے ہونے کا احساس ہوا تو سامنے کی طرف دیکھا ۔وہ چل کر آ رہی تھی۔۔۔ زویا بھی یوں بے وقت اسے وہاں دیکھ کر رک گئی التمش خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔پھر سانس کھیچ کر دوبارہ سر پیچھے گڑا دیا۔۔۔۔
زویا نا چاہتے ہوۓ بھی اسکی طرف بڑھی۔۔ اور چپ کر کے اسکے برابر بیٹھ گئی۔ التمش نے اپنے ساتھ اسے بیٹھے محسوس کیا تو اسی انداز سے چہرہ اسکی طرف موڑا۔
ایم سوری مجھے وہ سب آپ کی بہن کے بارے میں نہیں کہنا چاہیے تھا۔ چاہے جو بھی ہو۔ وہ بھی میری طرح لڑکی ہے۔۔ مجھے ایسا نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔ زویا اپنے ہاتھ مسلتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
تم نے کچھ غلط نہیں کہا۔۔ بالکل سچ بولا۔۔۔وہ بس اتنا بولا۔ اور سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
میں نے کہی پڑھا تھا۔ کسی معصوم کی آہ نہیں لینی چاہیے۔ مجھے آج ایسا محسوس ہو رہا ہے۔۔ اس حویلی کو تمہاری اہ لگ گئی ہے۔ تمہیں دیے گے ہر زخم کا بدلہ خدا اب لے رہا ہے۔ تمہاری آنکھوں سے نکلے انسوں اب سب پڑ گڑ رہے ہیں۔ وہ سامنے دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔زویا حق دق اسے سن رہی تھی۔
تمہیں پتہ ہے میں چاہیے کتنا برا ہوں۔ پر میں نے خود سے وعدہ کیا تھا۔ کبھی زندگی میں اپنے دادا ابا بھائی جیسا نہیں بنوں گا۔۔ پر زویا میں بن گیا۔۔ میں نے تم پر ہاتھ اُٹھایا۔۔ وہ نم انکھوں سے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
نہیں مسٹر خان آپ برے انسان نہیں۔۔۔۔۔۔زویا اسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔
آج جب تم نے بولا نا اپنی بہن کو خون بہا میں دو۔ خدا کی قسم زویا! دل سچ میں پھٹ گیا تھا۔ یہ سوچ ہی جان لیوا تھی۔ سوچا جب اسکا کوئی قصور ہی نہیں تو کیوں اسے خون بہا میں دیا جاے۔۔ وہ تو معصوم ہے۔۔قصور تو لالا کا ہے۔۔تو انہیں سزا ملنی چاہیے۔۔۔پھر جھٹ سے تمہارا خیال آیا کہ تمہارا کیا قصور تھا۔ تمہیں کیوں خون بہا میں لیا گیا۔۔۔ایک ایسی ذلت بھری زندگی کیوں دی گئی؟ یہ سب سوچ کر خود پر شرم آئی۔اگر اس پر یہ ظلم نہیں ہو سکتا تو تم پر کیوں ہوا؟ وہ ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔۔۔
اپ زیادہ مت سوچیں باہر بہت سردی ہے اندر جائیں۔ جو ہو گیا اسکے بارے میں سوچ کر خود کو پریشان مت کریں۔ اور خود کو قصور وار ٹھرانا چھوڑ دیں۔ زویا اسکا درد اپنے اندر محسوس کر رہی تھی۔۔اور جس ٹوٹے ہوۓ لہجے میں وہ بول رہا تھا۔۔زویا کو اپنے اندر کچھ ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔وہ اپنی حالت سے گھبڑا کر جانے کے لیے کھڑی ہو گئی۔ابھی وہ دو قدم ہی چلی تھی جب اسکی کلائی التمش کے ہاتھ میں تھی۔۔ وہ کھڑا ہوا۔۔۔۔
مجھے معاف کر دو زویا۔ ایم سوری فار ایوری تھینگ التمش اسکی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
زویا نے پلٹ کر اسے دیکھا۔ التمش نے اسے ہلکا سا اپنی طرف کھینچا وہ سیدھی اسکے سینے سے جا لگی۔۔۔
ایم سوری زویا ایم ریلی سوری۔ التمش بولا۔۔۔زویا ہونکوں کی طرح کھڑی تھی۔۔ اسے بالکل سمجھ نا آیا۔
ایم سوری۔۔۔۔۔۔۔ وہ ایک بار پھر بولا۔۔ زویا کو اپنے کندھے گیلا پن محسوس ہوا۔۔۔ وہ بے اواز رو رہا تھا۔ وہ ہٹا کٹا انسان اسکے سامنے رو رہا تھا۔۔ زویا کا دل ڈوب کر ابھرا۔ اسنے بے ساختہ اسکے گرد اپنے بازو پھیلا دیے۔۔۔۔۔۔
ناجانے کہاں سے اسکی آنکھوں سے بھی چپکے سے آنسوں نکلے۔ کافی سما خاموشی سے گزر گیا۔ التمش کو اپنی بے ساختہ حرکت پر حیرانگی ہوئی۔ وہ الگ ہوا۔ چٹھنک کر کے خوبصورت لمحہ ٹوٹا۔۔
زویا اپنے چہرے سے آنسوں صاف کرنے لگی۔ اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔۔۔
التمس نے اپنے چہرے اور بالوں میں ہاتھ پھیرے۔۔۔۔
میں چلتی ہوں۔۔وہ بول کر اندر کی طرف بھاگی۔۔۔۔
اپنے یوں اچانک عمل پر التمش نے خود کو جھڑکا۔ اور اندر کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔بہت کچھ وہ اپنے دماغ میں طے کر چکا تھا۔ اب جانے وہ پورا کر پاۓ گا۔ کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتاۓ گا۔۔۔۔۔۔
زویا اپنے کمرے میں آئی تو سامنے بی جی کھڑاٹے بھر رہیں تھی۔۔وہ سیدھی واش روم میں چلی گئی۔۔۔اپنے چہرے پر خوب پانی مارا۔ اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔۔
یہ سب کیا تھا۔۔ یہ کیسا احساس تھا۔ اسکے رونے سے میری انکھوں سے کیون آنسوں جھلکے۔۔۔ کیوں اسکا ٹوتا ہوا لہجہ مجھے چھبا۔
میں تو اس حویلی جے ہر نرد سے نفرت کرتی تھی۔۔
زویا کیا اس نفرت میں ایک دن بھی تم نے التمش سے نفرت کی۔ اسکے اندر سے آواز آئی۔۔۔۔
نہیں بے ساختہ الفاظ ادا ہوۓ۔۔
کیوں حازم کو اگے تم اسکی طرفداری کرتی ہو۔ کیوں اسکی انکھوں میں آۓ آنسوں تمہیں تقلیف دیتے ہیں۔۔۔ حالنکہ یہ سب تو تمہارا ہی پلین تھا۔ تم اب تم کیوں کمزور پر رہی ہو۔۔۔۔ اندر سے آوازیں انی شروع ہو گئیں۔۔۔۔
نہیں نہیں بالکل نہیں۔ یہ سب بکواس ہے۔ میں حازم کی منگیتر ہوں۔ وہ اپنے آپ کو سمجھانے لگی۔۔۔۔
او بی بی اسکی منگیتر تھی۔ اب التمش خان کے نکاح میں ہو۔ ایک دفع پھر سے دلیل آئی۔۔۔
بکواس! ایسا نکاح جس کے کوئی معانی نہیں وہ دوبارہ اپنے چہرے پر پانی مار کر کمرے میں آئی۔۔۔۔۔
اور پلنگ پر لیٹ گئی۔۔ ایک دفع پھر اپنے آس پاس التمس کے الفاظوں کی بازگشت ہونے لگی۔۔۔
اپنے سر کو جھٹک کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
جاری ہے۔
