Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 24

واہ چاچا آپ کو بری میرے باپ کی فکر ہو گئی۔ کل سے ہسپتال میں پاؤں تو رکھا نہیں برے آۓ۔ اور دادا جی جتنی بے عزتی ان دو دنوں میں ہو چکی ہے اس حساب سے میں تو کہتا ہوں۔ اگر گاؤں میں واپس اپنا مقام بنانا چاہتے ہو تو ان دونوں کو سارے گاؤں والوں کے سامنے سزا دو۔ تا کہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی کوشش نا کرے۔ ماجد رفاقت صاحب کو دو ٹوک سنا کر رخ جہانگیر صاحب کی طرف موڑ گیا۔ صائمہ بیگم نے حیرانگی سے ماجد کی باتیں سنی۔ چاہے اریشہ نے جو بھی کیا تھا پر وہ ان کی بیٹی تھی۔۔
ماجد لالا اس حساب سے تو آپ کو پہلے سارے گاؤں کیا سارے شہر کے سامنے پھانسی پر لٹکانا چاہیے۔ کیونکہ آپ نے ایک ناجائز رشتہ رکھا اور اوپر سے اس لڑکی کا بے رحمی سے قتل بھی کیا۔ کمرے کے دروازے پر کھڑا التمش ماجد کی ساری بات سننے کے بعد بولتا ہوا اندر داخل ہوا۔ اسکے پیچھے ہی زویا بھی داخل ہوئی۔ جسے دیکھ کر کئی چہروں پر نفرت بکھری۔۔
تمہاری اس بکواس کا مطلب؟ مجھ پر طنز کرنے سے پہلے یاد کرو۔ جس دن تم اریشہ کو شہر بھیجنے کے لیے بحث کر رہے تھے اس دن ہم سب نے تمہیں بہت رُکا پر تم تو کسی کے کہنے پر اس حویلی کی عورتوں کے مسیحا بن کر سامنے آ رہے تھے۔ سارا بھروسہ ختم ہو گیا۔ برے آۓ بہن کے بھائی۔ ۔۔ ماجد بھرپور طنزیہ انداز میں جواباً بولا۔ التمش نے اسکے سخت جملے سن کر اپنے ہاتھ کی مُٹھیاں بھیچ لیں۔ اور اپنا رخ باقی سب کی طرف کیا۔
میں جو کہنے والا ہوں ہو سکتا ہے آپ سب کو پسند نا آۓ پر میری بات سمجھنے کی کوشش کیے گا۔ اس نے اپنی بات شروع کرنے سے پہلے سب کی طرف دیکھ کر کہا۔۔
زویا جاؤ اریشہ کو لے کر آؤ۔ التمش نے خود پر ضبط کر کے زویا کی طرف دیکھ کر کہا۔ زویا نے ناسمجھی سے اسکی طرف دیکھا جیسے وہ اسکے ارادے سمجھنا چاہتی ہو۔ پر سامنے والے کے چہرے اور آنکھوں میں صرف سنحیدگی ہی دیکھائی دی۔وہ ہاں میں سر ہلا کر وہاں سے نکل گئی۔ تھوڑی دیر بعد اریشہ اور ماہ رخ زویا کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئیں۔ سب نے نفرت سے اریشہ کی طرف دیکھا۔ کل اس واقع کے بعد وہ اب سب کے سامنے آ رہی تھی۔
کانپتی ٹانگوں کے ساتھ وہ چلتی ہوئی ایک طرف کھڑی ہو گئی۔ آنکھیں اُٹھا کر سب کی طرف دیکھا سب کے چہروں پر اپنے لیے نفرت دیکھ کر وہ نظریں واپس جھکا گئی۔
پہلی بات مجھے اس بات پر کوئی افسوس نہیں کہ میں نے اریشہ اور ماہ رخ کو کالج میں ایڈمیشن دلوایا یا انہیں وہاں ہاسٹل میں رہنے دیا۔ میری ابھی بھی وہی سوچ ہے لڑکیوں کو پڑھنے کا حق ہے۔ اور یہ حق ان سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ یہ میرا فرض تھا۔ ہاں میری سوچ کا رخ اسطرف میری بیوی زویا نے ہی کروایا تھا۔ مجھے اس بات کی خوشی ہے میں نے اپنا فرض پورا کیا۔ کل کو میں اپنے ضمیر کو اتنا تو بول سکتا ہوں۔ التمش خان تم نے اپنا فرض پورا کیا۔ اب چاہیے حق دار اس لائق نہیں تھا۔ حق دار نے چاہیے تمہارے بھروسے کا سرِعام جنازہ نکالا۔ وہ سنجیدہ انداز میں بات کر رہا تھا۔ آخر میں آتے اسکی آواز لڑکھڑائی۔ کمرے میں دو پل کے لیے خاموشی چھائی۔
لالا میں نے یہ سب اس لیے کیا۔ کیونکہ آپ سب نے بچپن میں ہی میری منگنی اس شمس سے کر دی تھی۔ مجھے وہ زرا برابر پسند نہیں۔ مجھے پورا یقین تھا اگر میں کسی سے بھی اپنی پسند کا اظہار کروں گئی کوئی نہیں مانے گا۔ اسی لیے نکاح کا فیصلہ کر لیا۔اریشہ چہرہ جھکاۓ بولی۔ماہ رخ نے اسکا ہاتھ کھینچ کر اسے چپ کروانے کی کوشش کی۔
تمہارا تو میں آج ابھی گلا دبا دیتا ہوں۔ بے شرم سب کے سامنے کیسے اپنے عشق کے چڑچے کر رہی ہو۔ ماجد غصے سے کھولتا ہوا آگے بڑھا۔
لالا دور رہیں۔ میری پوری بات سن لیں پھر چاہیے جو مرضعی آۓ کیجیے گا۔ التمش نے اسے رُکتے ہوۓ کہا۔ ماجد اپنا غصہ کنٹرول کرتا ایک طرف ہو کر کھڑا ہو گیا۔
لالا ایک بات کا جواب مجھے بھی دیں؟ اریشہ اتنی ساری باتیں سن کر التمش کے مقابل آ کر کھڑی ہو کر بولی۔
کیا محبت کرنا غلط ہے؟ آپ بھی تو زویا سے محبت کرتے ہو نا۔ اس کے لیے آپ نے کیا کچھ نہیں کِیا۔ تو میں نے کیا غلط کیا میں نے بھی اپنی محبت کو اپنا بنانے کے لیے یہ قدم اُٹھایا۔ مجھے نہیں لگتا یہ غلط ہے۔ وہ نِڈر انداز میں بولی۔ سب نے حیرانگی سے اپنے سامنے کھڑی اٹھارہ سال کی اریشہ کو دیکھا۔ جو اپنی عمر سے بری باتیں کر رہی تھی۔
محبت غلط نہیں ہے پرمحبت کے نام پر تم نے جو کیا وہ غلط ہے۔ اس کا طریقہ غلط ہے۔ وہ لڑکا تمہیں چاہتا تھا نا ہمت کرتا حویلی آتا رشتہ مانگتا۔ عزت سے لے کر جاتا۔ نا کے بذدلون کی طرح چھپ کر نکاح کرتا۔۔
شہر جا کر پڑھنے کی ضد کرنے کے لیے مجھے منانے کی بجاۓ مجھے آکر یہ کہتی لالا مجھے یہ لڑکا پسند ہے وہ حویلی رشتہ لانا چاہتا ہے۔ خدا کی قسم ! تمہاری اس سے شادی میں سب سے لڑ کر بھی کرواتا۔ کیونکہ تم میری بہن تھی۔ تمہاری خوشی پوری ضرور کرتا جیسے آج تک پوری کی۔ پر تم نے کیا کِیا؟ ہنہ بولو مجھے استمال کر کے مجھے ذریعہ بنا کر شہر گئی۔ کیوں؟ تا کہ تم بلا جھجک اس سے مل سکو۔ التمش اپنے ضبط کی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ بہت مشکل سے اپنے آپ کو کنٹرول کر کے وہ جہانگیر خان کی طرف مُڑا۔
دادا جان میرے خیال میں اس مسلے کا ایک ہی حل ہے۔ اسی لڑکے سے اسکی شادی کر دیں۔ ویسے بھی پورے گاؤں میں باتیں پھیل چکی ہیں۔ سب کے منہ بند کرنے کے لیے اس سے بہتر کچھ نہیں۔ آپ چھوٹا سا فنگشن رکھیں اور اس کو وِداع کریں۔ ویسے بھی اب مزید ذلت سہنے کی ہمت نہیں ہے۔ التمش اس سے بات کر کے اپنے غصے کو کنٹرول کرتا جہانگیر خان سے مخاطب ہوا۔ اریشہ حیرانگی سے التمش کی باتیں سن رہی تھی۔
ٹھیک ہے تم جیسا کہو گے ویسا ہی ہو گا۔ پر میری دو شرطیں ہیں۔ ابھی جہانگیر خان جواب دیتے کہ پیچھے سے ماجد کی آواز آئی۔ جو کہ کب سے ان کی باتیں سن کر بور ہو رہا تھا۔
بولو!
پہلی شرط اگر تم چاہتے ہو اس کی رخصتی اسی لڑکے سے ہو تو میں دوبارہ اس حویلی میں اسکا چہرہ دیکھنا بھی پسند نہیں کروں گا۔ مطلب پھر چاہے کوئی مرے یا جیے یہ لڑکی دوبارہ اس حویلی میں داخل نہیں ہو گئی۔ ماجد نفرت سے اریشہ کی طرف دیکھ کر بولا۔
ٹھیک ہے دوسری شرط بولو۔ التمش کی آواز آئی۔ اریشہ نے چونک کر اسکی طرف دیکھا۔ جو بھائی اسکی جھلک دیکھے بنا کام پر نہیں جاتا تھا۔ آج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بائی کاٹ کرنے پر آرام سے ہاں بول رہا تھا۔
دوسری شرط نہیں تمہارے ہی کہے الفاظ ہیں اگر تمہیں یاد ہوں۔ تم نے ہی بولا تھا کل کو اگر یہ لڑکی کچھ غلط کرتی ہے۔ تو تم اس حویلی کو چھوڑ کر چلے جاؤ گے۔ مطلب اس حویلی اور حویلی کی جائیداد کو چھوڑ دو گے۔ ماجد نے طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر اسے کچھ یاد کروایا۔ سب کے سب ماجد کے کہے گے الفاظ پر ساکن رہ گے۔ چاہے التمش اب کوئی کام نہیں سھنبمالتا تھا۔ پر وہ اس حویلی کا بیٹا اور جہانگیر خان کا چہیتا پوتا تھا۔۔ صائمہ بیگم نے ایک دم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہچکی کو رُکا۔ آج کیسے ان کے بچے آمنے سامنے کھڑے ہو کر لڑ رہے ہیں۔ اور کیسے برا بھائی پراپڑٹی کے لیے دوسرے بھائی کو اسکے کہے گے لفظوں میں پھسا رہا ہے۔۔
ہنہ ہو تو آپ خالد صاحب کے بیٹے ہی نا۔ گھاٹے کا سودا تو نہیں کریں گے چاہیے پھر سامنے سگھا بھائی ہی کیوں نا ہو۔ ماننا پڑے گا۔ ماجد خان ہو تو آپ منجھے ہوۓ کھیلاڑی۔ ایک ہی تیر سے دو دو شکار واہ! وہ اسکے پاس جھک کر آہستہ آواز میں طنز سے بھرپور لہجے میں بولا۔ ماجد اسکی بات پر مسکرا دیا۔
خان ہوں! اپنی کہی ہوئی بات سے پلٹنا میرے خون میں نہیں۔ مجھے دوسری شرط بھی منظور ہے۔۔ رخصتی کے فوراً بعد میں یہاں سے چلا جاؤ گا۔ التمش بول کر کمرے سے باہر نکل گیا۔ جیسے اب اسکا کام پورا ہو گیا ہو۔زویا کو بھی اب وہاں رکنا صحیح نا لگا وہ بھی کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔
ماجد لڑکے والوں کو بولو۔ کل یہاں آجائیں پھر رخصتی کی تاریخ رکھ لیں گے۔ سعد کو بھی بلوا لو۔ میں چاہتا ہو ماہ رخ کی بھی رخصتی ساتھ ہی ہو جاۓ۔ جہانگیر خان نے فیصلہ سنایا۔
دادا جی گاؤں والوں کی زبانیں کیسے بند کریں۔ ماجد نے کہا۔ ماہ رخ اریشہ کو لے کر وہاں سے نکل گئی۔
سب کے منہ پر تھوڑے سے پیسے پھینوں سب ایک دم ٹھیک ہو جائیں گے۔ رفاقت صاحب نے کہا۔
جہانگیر خان اپنی کرسی پر بیٹھے گہری سوچ میں گم ہو گے۔


التمش حویلی سے نکل کر بے مقصد سڑک پر چل رہا تھا۔ شام کا وقت تھا۔ پر بے وقت بادلوں نے آسمان پر گھیرا ڈالا ہوا تھا۔ مغرب کی طرف سے کالی گھٹائیں چھائیں ہوئیں تھیں۔ جو ماحول کو خوف ذدہ کر رہیں تھیں۔ التمش چلتا ہوا ٹیوب ویل کے پاس آیا جو کہ ابھی بند تھا۔ وہ وہی پر بیٹھ گیا۔ اسے اپنا اندر بہت خالی خالی محسوس ہوا۔
آنکھیں بند کر کے اسنے ایک لمبی سانس لی۔ وہ اپنے آپ کو پُر سکون کرنا چاہتا تھا۔ اسے اپنا آپ بہت خالی خالی محسوس ہو رہا تھا۔ ان دنوں جو کچھ اسکے ساتھ ہو رہا تھا۔۔ اس سب کو اسکا دماغ ابھی صحیح سے ایکسیپٹ نہیں کر پا رہا تھا۔
اپنے سر کو جھٹک کر اس نے گل خان کو کال ملائی۔ اور اس سے روحان کی خیریت پوچھنے لگا۔
چھوٹے سائیں۔ روحان صاحب تو گھر واپس جانے کی ضد کر رہے ہیں۔ ریحان صاحب اور ان کی والدہ نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی پر وہ واپس جانے پر بعضد ہیں۔ گل خان نے مسلہ بتایا۔
ہممم میں ڈاکٹر سے بات کرتا ہوں۔ اگر وہ مانتے ہیں تو تم انہیں لے کر آ جاؤ۔ سارا بندو بست ان کے گھر پر کروا دو۔ التمش نے سامنے دیکھتے ہوۓ کہا۔ اور فون بند کر دیا۔ ڈاکٹر سے بات کی تو اس نے آجاذت دے دی۔۔۔
موبائل کو آف کرنے لگا تو سامنے وال پیپر پر نقاب مین چھپی دو نیلی آنکھیں دیکھیں۔ انہی نیلی آنکھوں کے حسار میں وہ آیا تھا۔ ایک پل کے لیے اسکا چہرہ سامنے آیا۔
چلو تم تو خوش ہو جاؤ گئی۔ تمہارا بھائی گھر واپس آ رہا ہے۔ اب بنا کسی روک ٹوک کے تم سب سے مل پاؤ گئی۔ وہ اس کی آنکھوں کو دیکھ کر مخاطب ہوا۔ وہاں پر بیٹھے اسے کافی دیر ہو چکی تھی۔ کالے بادل اب پورے آسمان پر چھا چکے تھے۔ بالکل اسکی زندگی کی طرح ہر طرف گہرہ اندھیرا ہو رہا تھا۔۔ ہلکی ہلکی ہوا اب تیز آندھی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ ساتھ میں بارش شروع ہو گئی۔ اس ٹھنڈ کے موسم میں بارش ہونا اور ساتھ میں ہواؤں کا چلنا ایک عجیب سا سرد احساس پیدا کر رہا تھا۔
وہ اُٹھا اور واپس حویلی کی طرف بڑھا۔۔ چونکہ وہ چل کے آیا تھا۔ تو جاتے وقت وہ مکمل طور پر بھیگ چکا تھا۔ اس بارش میں بھی اسے سکون مل رہا تھا۔ جیسے خدا خود اسکے اندر کے دکھ تکلیف کو باہر نکلانا چاہتا ہو۔ وہ جیسے ہی حویلی مین داخل ہوا۔ سامنے ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھے سب مرد حضرات رات کا کھانا کھا رہے تھے۔۔
التمش پتر آ کھانا کھا لے۔ جہانگیر خان نے بہت اپنائیت سے کہا۔۔
نہیں دادا جی بھوک نہیں ہے۔ میں کپڑے بدل لوں۔ وہ سہولت سے انکار کر کے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔جہانگیر خان کا منہ کو جاتا نوالہ پلٹ میں ہی رہ گیا۔


سیرت اور منت کل رات کے واقع سے کافی ڈسٹرب تھیں۔ کالج سے واپس آ کر وہ دونوں حمیدہ بیگم کے ساتھ کیچن میں لگیں ہوئیں تھیں۔ حمیدہ بیگم کا موڈ بہت خراب تھا۔ حازم تو صبح ہی آفس نکل گیا تھا۔ سِراج رات کا گھر سے نکلا ابھی بھی واپس نا پلٹا تھا۔
سیرت نے فون کر کے پتہ کیا تو آگے سے سراج نے دوست کے گھر پر ہونے کا بتایا۔ جسے سن کر وہ دونوں مطمین ہو گئیں۔
سیرت آٹا گھوندو۔ حمیدہ بیگم کی آواز آئی۔
واٹ ماما؟ وہ آنکھیں پھیلاتے ہوۓ بولی۔۔
آٹا گھوندو ایک دفع سنائی نہیں دیتا۔ حمیدہ بیگم نے آنکھیں دیکھا کر کہا۔
سنائی تو دیتا ہے۔ پر ماما جانی یو نو نا مجھے آٹا گھوندنا نہیں آتا تو۔۔۔ وہ ہلکا سا منمنائی۔پر حمیدہ بیگم کی غصے سے بھری آنکھیں دیکھ کر وہ فوراً آٹے کو نکال کر گھوندے لگی۔۔
ہی ہی ہی۔۔۔منت کی ہنسنے کی آواز آئی۔ حمیدہ بیگم نے مڑ کر دیکھا تو سیرت آٹا گھوند کم اور اس سے کھیل زیادہ رہی تھی۔ بازو ماتھے، کپڑوں پر اور شلف کے آس پاس آٹا ہی آٹا بکھرا ہوا تھا۔ اور آگے بڑھ کر اگر آٹے کی شکل دیکھنی ہو تو وہ آٹا کم اور پانی زیادہ لگ رہا تھا۔
غضب خدا کا نکمی یہ کیا کر رہی ہو سارا کیچن گندھا کر دیا۔ حمیدہ بیگم نے غصے سے کہا۔ اور اسے پیچھے کیا۔۔
کیا ماما ایک تو خود ہی بولا آٹا گوندھو اور اب ڈانٹ رہی ہیں۔۔ وہ منہ بسور کر موٹے موٹے آنسوں نکالتے ہوۓ بولی۔
اللہ ساری نکمی اور نافرمان اولاد مجھے ہی دینی تھی۔ کوئی ایک بھی ڈھنگ کا نہیں۔ جسے دیکھ بدتمیز اور ہاتھ سے نکلا ہوا ہے۔ جسے نا ماں باپ کی عزت کا خیال ہے نا کسی اور کی ۔۔۔۔ حمیدہ بیگم رات والا غصہ اب ان پر نکال رہیں تھیں۔ سِراج ابھی ابھی گھر داخل ہوا تھا۔ حمیدہ بیگم کے غصے سے چلانے پر وہ کیچن کی طرف بڑھا۔
لوگ بالکل ٹھیک کرتے ہیں۔ اولاد کو سر پر چڑھانے ، اس کی ہر ضروت پوری کرنے کی بجاۓ ان پر روک ٹوک کرو۔ پھر ہی کنٹرول میں رہتے ہیں۔ ورنہ منہ کالا کرنے میں ایک پل نہیں لگاتے۔ حمیدہ بیگم نے کیچن کے دروازے میں کھڑے سِراج کو دیکھ کر طنزیہ لہجے میں کہا۔
بھیو۔۔۔ اچھا ہوا آپ آ گے۔ پتہ ہے میں کتنی پریشان تھی۔ سیرت اپنا رونا دھونا بھول کر سِراج کو دیکھتے خوشی سے بولی۔
منت ان دونوں کو بولو یہاں سے دفع ہو جائیں۔ اور تم یہ کیچن صاف کرو۔ حمیدہ بیگم غصے سے چلا کر بولیں۔ سِراج اپنی ماں کا غصہ دیکھ کر وہی سے پلٹ گیا۔ سیرت کی تو جیسے جان چھوٹ گئی۔ وہ ہاتھ دھو کر کیچن سے ایسے بھاگی جیسے جیل سے مجرم بھاگا ہو۔
سِراج کل رات سے بہت پریشان تھا وہ ایک پل کو نہین سو پایا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی آگے کیا ہونے والا ہے۔اریشہ چونکہ رات بھر جاگنے کی وجہ سے وہ بہت تھک گیا تھا۔ تو اپنے کمرے میں جا کر وہ سونے کی کوشش کرنے لگا۔


ماجد کو اپنا راستہ اب صاف لگ رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھا اپنی جیت کا جشن منا رہا تھا۔۔ اریشہ کی سِراج سے شادی کی وجہ سے اب وہ حازم کے ساتھ آرام سے بزنس کر سکتا تھا۔ التمش راستے سے خود با خود ہٹ گیا۔۔


التمش فریش ہو کر کمرے کی کھڑکی کے سامنے کھڑا باہر برستی بارش میں نا جانے کیا ڈھونڈ رہا تھا۔۔
التمش آپ نے کھانا نہیں کھایا نا۔ چلیں میں لے آئی ہوں۔ جلدی سے کھانا کھا لیں زویا کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔ کھانے کی ٹرے کو سامنے پڑے شیشے کے ٹیبل پر رکھا۔ آگے سے کوئی جواب نہیں آیا۔ وہ جیسے وہاں پر موجود ہی نہیں تھا۔ باہر برستی بارش میں نا جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔
التمش! کہاں کھوۓ ہیں۔ وہ جواب نا پا کراسکی طرف مُڑی۔ وہ پھر بھی کچھ نا بولا۔
کیا ہوا؟ زویا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ مخاطب ہوئی۔ التمش کا بے شمار سوچوں کی لہر ٹوٹی۔ وہ بے توجیگی سے زویا کی طرف دیکھنے لگا۔
آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے ؟ وہ اسکے ایسے دیکھنے پر پریشان ہوئی۔
ہاں ٹھیک ہوں۔ تم کیا بول رہی تھی؟ وہ اپنا سر جھٹک کر پریشان کھڑی زویا کی طرف پوری توجہ سے مخاطب ہوا۔
کھانا لائی ہوں کھا لیں۔ زویا نے ٹیبل پر پڑی ٹرے کی طرف اِشارہ کیا۔
بھوک نہیں ہے۔ تم کھا لو۔ التمش نے ٹیبل پر پڑے کھانے کو دیکھ کر کہا۔
ایسے کیسے بھوک نہیں چلیں کھانا کھائیں۔ وہ اسکا بازو پکڑکر صوفے پر بیٹھاتے ہوۓ بولی۔
روحان گھر آ چکا ہے۔ کل صبح تیار رہنا ملنے چلیں گے۔ التمش نے نا چاہتے ہوۓ بھی روٹی کا لقمہ لیا۔
پر اسکی تو طبعیت بہت خراب تھی۔ ڈاکٹر نے اتنی آسانی سے کیسے آنے دیا۔ گھر میں مزید خراب ہو جاۓ گئی۔ وہ سنتے ہی پریشان ہو گئی۔
میں نے تمہیں اسلیے نہیں بتایا کہ تم یوں پریشان ہو جاؤ۔ وہ ضد کر رہا تھا۔ میں نے خود ڈاکٹر سے بات کی ہے۔ سارا ارینجمنٹ گھر پر ہو جاۓ گا۔ فکر مت کرو۔ صبح ہوتے ہی ملنے چلیں گے۔ وہ اسکو یوں پریشان دیکھ کر بولا۔
التمش آپ کو کیا لگتا ہے۔
التمش آپ کو کیا لگتا ہے۔ آپ کے دادا جان مجھے میرے گھر ملنے جانے دیں گے۔ زویا نے سوالیہ انداز میں کہا۔ التمش نے پانی پی کر زویا کو دیکھا۔
تمہیں اپنی بیوی سب کے سامنے مانا ہے۔ اپنی بیوی کو اسکا شوہر آجازت دے رہا ہے۔ وہ جس سے چاہے مل سکتی ہے۔ تم اب میری عزت ہو۔ تمہارے وقار اور مقام کے لیے پہلے بھی لڑا تھا۔ آخری سانس تک لڑوں گا۔ اور جہاں تک رہی دادا جان کی بات وہ یہ معاملا اتنی آسانی سے حل نہیں ہو گے۔ ان کو اپنے اصولوں روایتوں سے حد سے زیادہ پیار ہے۔ لیکن اب میں پیچھے نہیں ہٹوں گا۔ تم صبح اپنے میکے جانے کے لیے تیار رہنا۔ التمش نے آخر پر مسکرا کر کہا۔ زویا یک ٹک اسے دیکھ اور سن رہی تھی۔ اپنے اندر کے ضمیر نے اسے نظریں جھکانے پر مجبور کر دیا۔
ویسے ایک بات تو بتاؤ؟ التمش نے اسکے یوں نظریں جھکانے پر مسکرا کر کہا۔
زویا نے پلکیں کی بار اُٹھا کر اسے دیکھا۔ جو اپنی آنکھوں میں بے پناہ محبت لیے اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔
تم پہلے تو مسٹر خان ہی کہ کر مخاطب ہوتی تھی۔ پر آجکل میں اپنا نام تمہارے منہ سے سن رہا ہوں۔ چکر کیا ہے۔ وہ شرارت بھرے اندز میں بولا۔۔
مسٹر خان تو غصے میں کہتی تھی۔ اور التمش تو۔۔۔۔۔۔ زویا بول رہی تھی تبھی التمش نے ٹوک دیا۔۔۔
پیار میں بولتی ہو۔ وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔ اسے تنگ کرنے میں مزہ آ رہا تھا۔
کیا؟ نو مجھے نا بہت نیند آ رہی ہے۔ میں سونے جا رہی ہوں۔ وہ جلدی سے کھڑی ہوئی اور بھاگ کر بیڈ پر لیٹ گئی۔ اور کمبل اپنے چہرے پر لے لیا۔۔اسکو اپنی دل کی دھرکن بہت تیز ہوتی محسوس ہوئی۔ تبھی اسکے کانوں میں التمش کا قہقہ پڑا۔۔ جو اسکی یوں ری ایکٹ کرنے پر اپنے آنے والا قہقہ روک نا پایا اور کافی دنوں بعد کھل کر ہنس دیا۔
زویا نے چہرے سے چادر ہٹائی اور صوفے پر بیٹھے التمش کو دیکھا۔ جو کہ ابھی بھی ہنس رہا تھا۔
ہنستے ہوۓ کتنے پیارے لگتے ہیں۔ زویا نے اسے دیکھتے ہوۓ دل میں کہا۔ اگلے ہی پل اپنے چہرے پر کمبل ڈال لیا۔
التمش ہنستے ہنستے ایک دم چپ کر گیا۔ اپنی آنکھوں کے کنارے سے نکلا پانی صاف کیا۔ سامنے پڑے کھانے کو ڈھکا۔ اور صوفے پر سونے کے لیے لیٹ گیا۔ وہ ابھی فل حال ساری پریشانیوں کر بھول کر سونا چاہتا تھا۔


ڈیڈ کچھ دیر پہلے ماجد کا فون آیا تھا۔ وہ لوگ چاہتے ہیں ہم کل دوپہر کے وقت ان کی حویلی جائیں۔ سراج اور اریشہ کی رخصتی کے لیے وہ مان گے ہیں۔ حازم ابھی کچھ دیر پہلے ہوئی اپنی اور ماجد کی باتیں بتا رہا تھا۔ ڈائینگ ٹیبل ہر بیٹھے سب نے حازم کی طرف دیکھا۔
سِراج کو تو یقین ہی نا آیا۔ اس نے ڈرتے ہوۓ حمیدہ بیگم کی طرف دیکھا۔ جو بالکل سپاٹ چہرہ لیے کھانا کھا رہیں تھیں۔
تو ٹھیک ہے۔ تم سب چلے جاؤ۔ مجھے تو کل دبئی والے کلائینٹ سے ملنا ہے۔ سلطان صاحب نے چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوۓ کہا۔
ماما آپ جائیں گئی نا؟ حازم نے حمیدہ بیگم کی طرف دیکھ کر کہا۔
وہ لڑکی کسی گھر کی عزت ہے۔ اسے یوں نکاح پر بیٹھا کر اب منہ نہیں موڑ سکتے۔ جاؤ گئی۔ حمیدہ بیگم نے سنجیدہ انداز میں کہا۔
سراج نے شرم سے سر مزید جھکا دیا۔ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے سب خاموش ہو گے۔۔


جاری ہے