Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
تم! سلطان نے مُڑ کر آنے والے کو دیکھا۔ تو سکتے کے عالم میں بولے۔
آنے والا اور کوئی نہیں التمش خان تھا۔
ہاں میں سلطان ملک سوری حاشر شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ مڑورتے ہوۓ بولا۔
لیکن تم تم ایسے کیسے صحیح سلامت کیسے تم تو مرنے والے تھے۔ گولیاں لگی تھیں۔ وہ اسے سامنے دیکھ کر شاک میں چلا گیا۔ اور ہکلاتے ہوۓ بولا۔۔۔ کچھ گڑبر کی بو محسوس ہو رہی تھی۔
کیوں تمہیں کیا لگا التمش خان تیرے بیٹے کے ہاتھوں کی گولی کھا کر مر جاۓ گا۔ وہ مسکڑاہٹ چہرے پر سجا کر بولا۔
التمش لگتا ہے بچہ برا پریشان ہو گیا ہے۔ کیوں نا اسے سچائی بتا دی جاۓ۔ جہانگیر خان نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولے۔
جی بالکل دادا دی۔ التمش پر اسرا انداز میں مسکرایا اور دونوں ہاتھ کو اوپر اُٹھا کر تالی بجائی۔ اسکے تالی بجاتے ہی اس سنسان سڑک کے گرد لگے درختوں کی اُوڑ سے پولیس والے اپنے ہاتھوں میں گن لیے ان کے گرد دائرے کی شکل بنا لی۔ التمش کا وہی دوست ایس پی ارحم آگے بڑھا۔ اور سلطان کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دیں۔
یہ سب کیا بکواس ہے کھولو مجھے میں نے کیا کِیا؟ وہ ہاتھوں پر ہتھکڑیاں لگتے دیکھ چِلایا۔ کہی نا کہی وہ محسوس کر چکا تھا۔ کہ وہ کتنی بری مصبیت میں پھنس چکا ہے۔
سلطان تم نے زیادہ کچھ نہیں بس اپنا جرم قبول کیا ہے۔ جو کہ تمہارا سچ بے قراری سے جانے والے انسان نے ہی ویڈیو ریکاڈ کیا ہے۔ اسکے علاوہ پولیس نے بھی اپنے کانوں سے سن لیا ہے۔ اب تمہارا سارا کھیل ختم۔ سالوں سے جو بساط تم بنا رہے تھے۔ سمجھو اسکا آخری پتہ ہم نے ہلا کر تمہاری ساری بساط ہی پلٹ دی۔ تمہاری اس شطرینج کا اہم کھیلاڑی اپنے ہاتھوں میں لے کر تمہارا جرم تمہاری ہی زبان سے قبول کروایا۔ جہانگیر خان آگے بڑھ کر طنزیہ انداز میں بولے۔۔
کون سا کھیلاڑی۔ وہ چونکتے ہوۓ بولے۔
جہانگیر خان ہلکے سے مسکراۓ اور اپنی دائیں طرف دیکھا۔ جہاں دور درخت کی اُڑ سے وہ انسان نکلا۔
زویا! سلطان صاحب شاک کے انداز میں بولے۔ آج انہیں محسوس ہوا سچ میں کسی نے ان کی پیٹھ پیچھے چھوڑا گھونپا ہے۔
ہاں تایا سلطان ملک سوری سوری حاشر شاہ میں۔۔۔ کیا ہوا مجھے دیکھ کر شاک لگا۔ وہ آہستہ سے چلتی ہوئی ان کے قریب آکر بولی۔
تم نے مجھے دھوکہ دیا میری بیٹھ پیچھے اتنا گندہ کھیل کھیلا۔ سلطان غصے سے زویا کی طرف بڑھے۔ ایس پی ارحم نے انہیں کندھے سے پکڑ کر روکا۔
حوصلہ سے سلطان صاحب آپ اب پولیس کسٹڈی میں ہیں تو زیادہ اچھلنے کی ضرورت نہیں ورنہ مجھے بھی اپنے اوتار میں آنا پڑے گا۔ ایس پی ارحم نے طنزیہ انداز میں کہا۔
میں نے آپ کو دھوکہ دیا۔ یا آپ نے میرے بچپنے میری معصومیت کو یوز کر کے میرے انداز اتنا زہر گھول دیا۔ مجھے انتقام کی آگ میں اس قدر جھلسا دیا مجھے پتہ ہی نا چلا میں ٹھیک جا رہی ہو یا غلط ۔ بولیں کیوں کِیا ایسا سالوں پہلے میرے سر سے ماں باپ کا سایہ اُٹھاتے ہوۓ آپ کا دل ذرا سے بھی نہیں کانپا آپ کو زرا احساس نہیں ہوا اپنے سگھے بھائی کو مارا۔ آپ کا ضمیر نہیں کانپا۔ ایسا کون سا بدلہ لے رہے تھے۔ جو مجھے سالوں سے اس قدر بے حس بنا دیا۔ صرف جہانگیر خان سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے مجھے یوز کیا۔ وہ زور سے چِلائی۔ جہانگیر خان اور التمش ایک طرف کھڑے تھے۔
چپ (گالی) ہاں لیا بدلہ۔ مارا تیرے ماں باپ کو، تیری ماں میں بری اکڑ تھی۔ ساری یونی کے سامنے مجھے پر حاشر شاہ پر ہاتھ اُٹھایا تھا۔ تجھے کیا لگتا ہے میں اسے چھوڑ دیتا۔ میں نے وجو کِیا بہت کم تھا۔ میں تو بس اسے ایک دفعہ چھونا چاہتا تھا۔ شادی کے بعد بھی میں نے اسے بہت سنمجھایا احمد سے طلاق لے لے۔ مگر وہ حد درجہ کی ضدی تھی۔ اسی لیے میں نے ایکسیڈینٹ کروایا مجھے لگا تم سب مر جاؤ گے اور وہ بچ جاۓ گئی۔پر وہ (گالی) مر گئی اور تم بچ گئی۔ کیونکہ تم اس گاڑی میں نہیں تھی اسی لیے میں نے تمہیں تیار کِیا جہانگیر خان کو سڑک پر لانے کے لیے۔ جہانگیر خان جو اپنی عزت غیرت کے جھنڈے اُٹھاۓ پھڑتا ہے۔ اس کی عزت کی دھجیاں اُڑانے کے لیے یہ سب کِیا۔ اسی لیے ارسلان کو مروا۔۔۔۔۔ سلطان غصے میں آۓ جو منہ میں آیا بولے جا رہے تھے۔
کیا بکواس کی ارسلان کو مروا۔۔۔۔ التمش اسکے منہ سے سنتے ہی چونکتے ہوۓ بولا۔۔ اور آگے بڑھ کر اسکا کالر پکڑ لیا۔
جہاں اتنا کچھ کھل چکا ہے وہاں یہ بھی سہی ہاں التمش خان غور سے سن تیرے چھوٹے بھائی ارسلان خان کو میں نے مروایا تھا۔ میں پہلے سے ہی تم لوگوں کے گاؤں کی رسمیں جانتا تھا۔ یہ لڑکی پچھلے ایک سال سے تجھے پٹا کر تیری حویلی میں نا جا پائی اور میرے ایک وار سے اگلے ہی دن وہ حویلی پہنچ گئی۔ مجھے اپنا بدل جلدی لینا تھا۔ہاہاہاہا سلطان خان اونچی اونچی آواز میں ہنستے ہوۓ بولا۔۔ وہاں پر کھڑے ہر انسان کو اسکا یہ روپ اندر تک ہلا گیا۔ کیسے کوئی اپنے بے مقصد بدلے کے لیے کسی معصوم کی جان لے سکتا ہے۔
زویا نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ سامنے کھڑے سلطان کو دیکھا۔ یہ انسان جسے وہ کبھی اپنے باپ کی جگہ رکھتی تھی۔ وہ انسان جس کی وہ ہر بات مانتی تھی۔ وہ انسان جس پر وہ اندھا اعتماد کرتی تھی۔ آج اپنے سامنے اسکی اتنی گھٹیا سچائی دیکھ کر وہ اندر تک کانپ گئی۔ اسے اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا۔
التمش اسکے منہ سے یہ سب سنتے ہی پاگل ہو گیا وہ اسے مارے جا رہا تھا۔ بری طرح سے پیٹ رہا تھا۔ اور سلطان ہنسے جا رہا تھا۔
التمش سھنمنالو خود کو اسے چھوڑو بہت دیر ہو چکی ہے۔ ہمیں حوالات لے کر جانا پڑے گا۔ارحم آگے بڑھ کر بولا۔ اور التمش کو دور کِیا۔
ہاہاہا جہانگیر خان آج چاہیے میں ہار گیا۔ پر تیری روح کو جو اپنے پوتے کا دکھ لگا ہے اس کے آگے میری یہ ہار کچھ بھی نہیں۔ میں اسے بھی اپنی جیت سمجھوں گا۔ وہ پاگلوں کی طرح ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
میرے پوتوں بیٹی داماد کو قتل کرنے کی ایسی سزا دلواں گا تیری روح کانپ جاۓ گئی۔ جہانگیر خان ٹھنڈے لہجے میں بولے۔
ہنہ دیکھ لو گا۔ اگلے دو گھنٹوں میں جیل سے رہا ہو جاؤں گا۔ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔
التمش مجھے سارے ثبوت دے دو۔ ارحم پاس کھڑے التمش کے پاس جا کر بولا۔۔۔
التمش نے زویا کی طرف دیکھا۔ جس نے اپنا موبائل اسکی طرف بڑھایا۔
اس میں تائی جی کی ریکارڈنگ بھی ہے۔ اور ان کی ویڈیو بھی ہے۔ زویا بولی۔۔۔
چلو میں چلتا ہوں۔ ارحم ،التمش سے گلے مل کر اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔ سلطان کو پولیس وین میں بیٹھایا۔ اور باقی سارے پولیس والے دوسری وین میں بیٹھے۔ اور اگلے ہی پل سائرن بجا کر وہ سب وہاں سے نکل گے۔
التمش نے ان کے جاتے ہی پلٹ کر دیکھا تو سامنے زویا زور زور سے رو رہی تھی۔
میری بچی رونے کی کیا بات ہے۔ یہ تو اچھی بات ہے نا اسکی سچائی سامنے آ گئی۔ جہانگیر خان نے اسے چپ کروانے کے لیے کہا۔
میں بہت بری ہوں۔ میں نے پتہ نہیں کیا کیا نہیں کِیا۔ بہت بری ہوں ۔ دنیا کی سب سے بری بے وقوف ہوں۔ آپ سب کو غلط سمجھ بیٹھی اور نا جانے کیا کچھ نہیں بولا۔ وہ روتے ہوۓ اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔
کوئی بات نہیں تمہیں غلط راستے پر چلا گیا تھا۔ اچھی بات یہ ہے تم سچائی جان چکی ہو۔ اور اب مزید نہیں بھٹکو گئی۔ جہانگیر خان نے اسے سینے سے لگاتے ہوۓ کہا۔ زویا ان کا اتنا شفقت بھرا لہجے سن کر مزید بکھری۔۔۔
شکریہ نانا جان وہ روتے ہوۓ بولی۔۔ جہانگیر خان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھری۔
التمش چلو حویلی چلتے ہیں۔ آج پہلی بار ہماری زویا ہماری نواسی کے حق سے حویلی میں جاۓ گئی کیوں زویا؟ جہانگیر خان نے مسکرا کرکہا۔۔
زویا نے اپنے چہرے سے آنسوں صاف کیے۔ اور ہاں میں سر ہلا دیا۔
دادا جان میں رات کو آ جاؤں گا ابھی میرے پاس وقت نہیں ہے اہم کام نپٹانے ہیں۔ آپ اپنی نواسی کو کے کر جائیں میں آجاؤں گا۔ ۔ التمش سرد لہجے میں بولا۔ اس نے ایک بار بھی زویا کی طرف نہیں دیکھا۔ زویا کو اسکے لہجے میں واضع ناراضغی محسوس ہوئی۔ وہ پہلے بھی جانتی تھی۔ التمش اس سے بے حد ناراض ہے۔۔
ہمم ٹھیک ہے۔ جاؤ۔ چلو زویا بچے۔ جہانگیر خان اسے بول کر زویا کی طرف پلٹے اور اسے لیے گاڑی میں بیٹھے۔
زویا نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر شیشے کو نیچے کیا اسکی نظر التمش پر تھی۔ جو اپنی آنکھوں پر کالے گلاسس لگاۓ موبائل پر کسی سے بات کر رہا تھا۔ اور چلتا ہوا اپنی گاڑی کا دروازہ کھولا اپنے اوپر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کی۔ تو گردن موڑکر دیکھا تو زویا کو اپنی طرف تکتے ہوۓ دیکھا۔ التمش نے اگلے ہی پل رخ موڑا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی چلا دی۔ زویا اسےد ور جاتے ہوۓ دیکھتی رہی تبھی ان کی بھی گاڑی چلا دی گئی۔
نانا جان یہ التمش کو تو گولیاں لگیں تھیں تو وہ صحیح کیسے؟ کب سے اپنے دماغ میں گھومتا ہوا سوال پوچھ لیا۔
یہ پلین کا حصہ تھا۔ جو اس نےہم دونوں سے چھپ کر بنایا تھا۔ اس نے کوئی جیکٹ پہنی تھی۔ جہاں گولی تو لگتی اور خون بھی نکلتا پر وہ نکلی خون تھا۔ تا کہ سب کو لگے کہ وہ واقعی زخمی ہے۔ میں نے حویلی میں صبح سب کو بتا دیا تھا۔ ورنہ سب پریشان بہت ہو گے تھے۔ جہانگیر خان نے بتایا۔
ہممم ٹھیک ہے۔ زویا نے ہاں میں سر ہلایا اور شیشے سے باہر دیکھنے لگی۔ اسکی آنکھوں کے پردے پر آج سے کچھ دن پہلے کا منظر لہرایا۔۔
کچھ دن پہلے:۔
ہاں گل خان بولو۔ التمش اس وقت بالکنی میں کھڑا تھا جب گل خان کا فون آیا۔ آگے سے گل خان بول رہا تھا۔اور التمش چپ کر کے سن رہا تھا۔
ہممم ٹھیک ہے۔ تم کچھ دیر مین یہاں آکر سب دے جاؤ۔ مین دیکھتا ہوں کیا کرنا ہے۔ وہ بول کر موبائل کو آف کر گیا۔ بہت دیر تک وہ ایک جگہ سے ہلا نہیں۔ جب ہوش میں آیا تو پلٹ کر کمرے مین آیا۔۔
وہ چلتا ہوا نیچے آیا تو سامنے زویا صوفے پر بیٹھی ٹیوی دیکھ رہی تھی۔وہ چلتا ہوا اس کے پاس آ کر بیٹھا۔۔ وہ بہت خاموش سا بیٹھا ہوا تھا۔ زویا نے مُڑ کر اسے دیکھا۔ اسے لگا کل کی باتیں اسے زیادہ ہی ہرٹ کر گئیں۔
آج پہلی دفع وہ اسکے ساتھ ایک گھنٹہ بیٹھا رہا پر منہ سے ایک لفظ بھی نا بولا۔ زویا کو پریشانی ہونے لگی۔ وہ اس سے مخاطب ہونے ہی لگی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ التمش اُٹھا اور باہر آ گیا۔ داخلی دروازے سے ایک گاڑی اندر آئی۔ التمش نے دیکھا اس میں سے گل خان باہر نکلا۔ اور اسکے ساتھ نکلنے والی شخصیت کو دیکھ کر التمش ایہ پل کے لیے حیران ہوا۔ وہ اور کوئی نہیں جہانگیر خان تھے۔
دادا جی آپ؟ وہ آگے بڑھ کر بولا۔۔
زویا کہاں ہے؟ وہ بس اتنا بولے۔ وہ کافی کمزور لگ رہے تھے۔
اندر ہے۔ وہ ٹھنڈے لہجے میں بولا۔۔
التمشنے گل خان سے چیزیں لیں اور جہانگیر کو لیے اندرداخل ہوا۔
زویا نے پلٹ کر دیکھا تو اپنے سامنے جہانگیر خان کو دیکھ کر اسکی نس نس میں خون کی گردش تیز ہو گئی۔ بہت مشکل سے اس نے کنٹرول کیا۔
وہ دونوں چلتے ہوۓ سامنے صوفے پر بیٹھے۔
بیٹھو! جہانگیر خان نے کہا۔
ویسے تمہیں زویا بلاؤ یا زویا احمد یا حازم کی منگیتر یا اپنی منکوحہ بلاؤ بتا کیا بلاؤ۔ التمش نے اسے دیکھتے ہوۓ سرد لہجے میں کہا۔
زویا کا چہرہ ایک پل میں زرد پر گیا۔ پورا جسم کپکپا گیا۔ اسکی سچائی اس طریقے سے کھلے گئی وہ نہیں جانتی تھی اور اس سب کے لیے وہ تیار بھی نہیں تھی۔
اہمم۔ کیا مطلب میں وہ گلا کھنگال کر بولی۔
ہنہ واہ زویا احمد ویسے ماننا پڑے گا اداکار کمال کی ہو ۔ دیکھیں نا دادا جی کتنا عرصہ ہو گیا۔ ایک بار شک نہیں ہوا۔ ہماری آستین میں سانپ بیٹھا ہے۔اور وہ ہی آہستہ آہستہ ہمیں ڈھس رہا ہے۔ وہ بھر پور طنزیہ انداز میں بولا۔۔
مسٹر خان آپ مجھے زویا احمد ہی پکاریں زویا نے گردن اُٹھائی اور ہمت کر کے کہا۔ اب جب سب سچائی کھلنے والی تھی تو کیوں نا ہمت سے مقابلہ کیا جاۓ۔
التمش چپ مجھے بات کرنے دو۔ وہ کچھ بولتا کہ جہانگیر خان بولے۔
کیا تم مجھے بتاؤ گئی۔ تم یہ سب کیوں کر رہی ہو۔ جہانگیر خان کو پتہ تو تھا پر وہ اسکے منہ سے سننا چاہتے تھے۔
جب آپ سب تشفیش کر کے آۓ ہیں تو مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔
میں جانتا تو ہوں پر تمارے منہ سے سننا چاہتا ہوں جہانگیر خان اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔
زویا نے نفرت سے چہرہ موڑ لیا۔ جہانگیر خان اور التمش اسے ہی دیکھ رہے تھے۔ جس انداز سے اس نے چہرہ موڑا تھا۔ دونوں کو بہت برا لگا۔
میری ساری پراپڑتی چاہیے دوبارہ سے جہانگیر خان کی آواز گھونجی۔زویا نے پلٹ کر ان کی طرف دیکھا۔
تم میری بیٹی کی بیٹی ہو ٹھیک ہے سب کچھ لے لو۔ جہانگیر خان بولے۔
ہنہ۔ یہ ناٹک کسی اور کے سامنے کیجیے گا۔ میں نے پہلے ہی آپ کی ساری پراپڑٹی کسی کے نام کروا لی ہے۔ اور آپ کا انگھوٹھا بھی لگا ہوا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔
ویسے جس انداز سے تم نے ابھی تک ہماری سب کی آنکھوں میں دھول جھونکا ہے۔ مجھے لگتا تو نہیں تھا تم اتنی بری بے وقوف نکلو گئی۔ ایک دفع پیپرز بھی چیک نہیں کیے اور جشن منانے لگی۔ جہانگیر خان طنزیہ انداز میں بولے۔۔۔
کیا مطلب ؟ زویا ایک دم صوفے سے کھڑی ہو گئی۔ اور بنا جواب سنے اپنے کمرے کی طرف بھاگی اور پیپرز نکالے۔ ان کو کھول کر دیکھا۔ تو وہ کسی زمین کے پیپرز تھے۔ جسے پڑھتے ہی اسے ایسا لگا جیسے کسی نے زمین اسکے نیچے سے کھینچ لی ہے۔ وہ غصے سے بھرے انداز میں نیچے آئی۔
یہ سب کیا ہے؟ اس نے پیپرز جہانگیر خان کے منہ پر مارے ۔۔۔۔
زویا! التمش چلایا۔۔
مسٹر خان آپ چپ رہیں۔ وہ انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔اور جہانگیر خان کی طرف مُڑی جو مسکرا کر اسے دیکھ رہے تھے
التمش میری نواسی سے ایسے بات مت کرو۔ وہ یہ سب گمراہی میں کر گئی۔ اسے علم نہیں ہے۔ کیا سچ ہے۔ وہ التمش کو جھڑکتے ہوۓ بولے۔
مجھے بار بار اپنی نواسی مت بولیں۔ میں آپ سب کی کچھ نہیں لگتی۔مجھے آپ سب سے نفرت ہے۔ آپ نے مجھے سے میرے ماں باپ بھائی کو چھینا ان کا قتل کیا ہے۔ وہ چِلائی۔
جہانگیر خان اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑے ہوۓ۔ اور آگے بڑھے۔
تمہیں جس نے بھی یہ سب بتایا ہے۔ جھوٹ ہے۔ ادھر بیٹھو ایک دفعہ میری ساری بات سن لو۔ پھر چاہیے جو مرضعی کرنا۔ وہ زویا کو لیے صوفے پر بیٹھے۔۔
دیکھو زویا تمہاری ماں میری اکلوتی بیٹی تھی۔ وہ میرا مان غرور تھی۔ اپنے بھائی کو منا کر وہ پڑھنے شہر تو چلی گئی۔۔۔۔ جہانگیر خان نے ساری کہانی زویا کو بتائی۔۔ جسے سن کر وہ دھنگ رہ گئی۔
نہیں ایسا ممکن نہیں تایا نے ایسا نہیں کِیا وہ کسی کو کیسے مار سکتے ہیں۔ وہ سب سن کر حیرانگی سے بولی۔
اس نے اپنے اوپر جو پاک دامنی کا چولا پہنا ہوا ہو۔ میں اسے کافی سال پہلے ہی اتار چکا تھا۔ جب مہوش کا نکاح کر کے اسے رخصت کیا۔۔ تب ہم سب اس نے نفرت کرمے لگ گے تھے۔ پھر ایک دن میں ڈیرے پر بیٹھا ہوا تھا۔ تبھی مجھے ملازم نے ایک خط لا کر دیا۔وہاں میرے ساتھ التمش تھا۔ میں نے اسے پڑھنے کے لیے کہا۔ وہ خط مہوش کا تھا۔ جس میں اس نے سلطان کی دھمکیاں لکھی ہوئی تھیں جو وہ اسے دے رہا تھا۔ احمد کو مارنے ہی بچوں کو مارنے کی اور بھی بہت کچھ اس خط میں مہوش نے مدد مانگی تھی۔۔ یہ رہا وہ خط۔ جہانگیر خان نے وہ خط دیکھایا۔زویا نے کپکپاتے ہاتھوں سے خط پکڑا۔
اور پڑھنے لگی۔۔
اسکے بعد میں اور التمش شہر آۓ سب سے چھپ کر۔اور مہوش کے گھر پہنچے۔ اس وقت احمد گھر نہیں تھا۔ تب میں نے مہوش کو گاؤں آ جانے کا بولا۔ اور بولا کہ میں خود سلطان کو دیکھ لوں گا۔ اس دن ہم واپس آ گے۔
اس سے اگلی صبح احمد اور مہوش اپنے تمہارے بھائی کو لے کر ڈاکٹر کے پاس جا رہے تھے۔ اسے بخار تھا۔ تم اکیلی گھر پر ملازمہ کے ساتھ تھی۔ اسی دن سلطان نے ایکسیڈینٹ کروا دیا۔ اس کے بعد میں نے کئی بار کوشش کی تمہیں حویلی لے آؤں پر سلطان نے تمہیں اپنے گھر رکھ لیا۔ میں نے کئی دفع لیگل نوٹس بھیجا۔ پر اس نے مجھے دھمکیاں دینے شروع کر دیں۔ وہ موبائل پر دھمکی بھری گالز کرواتا تھا۔ کہ تمہیں مروا دے گا۔ یہ رہے ریکارڈ انہوں نے التمش کو کہا تو اس نے ایک موبائل کو پکڑکر آن کیا اور ریکارڈنگ سنانے لگا۔ زویا کے پیروں تلے سے زمین گھس گئی۔ کیوں کہ اس میں ایک آواز سلطان صاحب کی تھی۔
اسکے بعد میں چپ ہو گیا۔ میں نے تمہیں سالوں پہلے ایک دفع ہی دیکھا تھا۔ ایک سال پہلے پتہ چلا کہ تم باہر کے ملک چلی گئی ہو۔ جسے سن کر میں سکون میں آگیا۔ پر اس دن جب تم نے حازم سے نظریں ملائی اور بعد میں پیپرز اُٹھاۓ اس دن میں نے تمہارے پکڑنے سے پہلے ہی پیپرز پکڑلیے اور اپنے ایک آدمی سے پڑھواۓ۔ جس نے بتایا۔ اگر میں اس پر ؒئ لگا دوں تو ساری پراپرٹی سلطان کی ہو جاۓ گئی۔ تب مجھے شک پڑا۔ میں نے پیپر بدلوا دیے۔ اس کے بعد جس رات تم نے میرا انگھوٹھا لگوایا۔ اور میرے کان کے قریب آ کر نانا جی بولا۔ تب مجھے پتہ چلا تم وہی میری مہوش کی بیٹی ہو۔ تبھی دل کیا تمہیں سب بتا دوں۔ پر میں سلطان کا سارا کھیل دیکھنا چاہتا تھا۔ حازم نے جو کیا وہ سب بھی کھیل تھا۔ میری عزت اچھلانے کے لیے۔ مجھے بس افسوس اس سب میں میری نواسی پیادے کی طرح استعمال ہو رہی ہے۔۔تمیں اگر ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تو میں بتا دوں کچھ سال پہلے مین نے اس آدمی کو پکڑا جس کی وجہ سے مہوش کا ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ جہانگیر خان بولے۔ اور التمش کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے اسی موبائل میں ایک ویڈیو پلے کی جس میں وہ آدمی سب قبول کر رہا تھا۔
زویا یہ سب دیکھ کر سکتے میں چلی گئی۔
مجھے سمجھ نہیں آ رہی کس پر یقین کروں۔ اپنی پرانی زندگی پر یا ان سب پر اپنے تایا پر یا آپ پر وہ اپنا ست پکڑ کر بیٹھ گئی۔
بیٹے میں سمجھتا ہوا بہت مشکل ہے۔ پر ہمیں ایک موقع دو ساری سچائی تمارے سامنے سلطان خود قبول کرے گا۔ بس اتنا بتاؤ تم لوگوں کا آخری وار کیا ہے۔۔ جہانگیر خان اسے سمجھاتے ہوۓ بولے۔
میں آپ پر کیوں یقین کروں کیا پتہ یہ سب ٹریپ ہو۔ زویا ایک دم بولی۔۔
اور تمہیں کیا لگتا ہے۔ تک نے ابھی تک جو کیا یے۔اسکے لیے ہم تمہیں اتنی آسانی سے جانے دیں گے اگر سچ نہیں بتایا نا ابھی کے ابھی۔۔۔۔ التمش اسے دیکھتے غصےسے بولا۔
رک کیوں گے بولیں ابھی کے ابھی کیا۔۔۔۔زویا بھی اسکی طرف دیکھ کر مخاطب ہوئی۔
رہنے دو تم جیسی جھوٹی اور دھوکے باز سے مجھے کوئی بات نہیں کرنی۔۔وہ نفرت بھرے انداز میں بولا۔۔اسکے لیے یہ سب ہضم کرنا بہت مشکل تھا۔ پہلے اریشہ والا معاملا۔اور اب اسکے دل کےسب سے قریبی انسان کی سچائی جس طریقے سے کھلی اسے وہ نہایت بری لگ رہی تھی۔
زویا نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا۔
بتاتی ہوں۔ پر اگر یہ سب جھوٹ نکلا تو مجھے سے بلکل توقع مت کیجیے گا۔۔۔وہ بولی۔ اور سارا پلین بتانے لگی۔۔۔
اسکا پلین بی سن کر تو جہانگیر خان ہل کر رہ گے۔۔
کتنا گھٹیا شخص ہے۔ پہلے تین قتل کر کے وہ اب مزید قتل کرنا چاہتا ہے۔ جہانگیر خان نفرت سے بولے۔
پہلا پلین تو فیل ہو گا ہی۔ اسکے بعد ان کے پلین کے مطابق تم پسٹل نکالو گئی۔ پر اسکے اندر نکلی گولیاں ہوں گئی۔ جو تم میرے بازو میں مارو گئی۔ پھر دادا جان کی گرفتاری ہو گئی۔ سلطان کو ایسا لگے گا وہ کھیل کا یک حصہ تو جیت گیا ہے۔ پر دادا جان کی اگلے دو گھنٹوں کے اندر اندر بیل ہو جاۓ گئی۔ اس ہار کو وہ سہ نہیں پاۓ گا۔ اور پھر وہ یقینً دادا کو ملنے کے لیے بلاۓ گا۔۔ تم انہی کے ساتھ چلی جاؤگئی۔ اور پھر میرے میسج کے بعد تم وہاں پہنچوں گئی۔اور پھر اپنی آنکھوں سے سچائی دیکھ اور سن لینا۔ پولیس تمارے پیارے تایا جان کو لے جاۓ گئی۔ پھر جہاں چاہے چلی جانا۔ وہ آخر میں طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
زویا نے اسکا طنزیہ لہجہ بھرپور نوٹ کیا پر اس وقت اس نے اگنور کیا۔۔۔التمش غصے میں وہاں سے نکل گیا۔۔۔
بیٹے اور کسی پر نہیں تو اپنی ماں کے خط پر ہی یقین کر کے ساتھ دے دینا جہانگیر خان اُٹھتے ہوۓ بولے۔ اور وہاں سے نکل گے ۔۔
زویا اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئی۔
اگلی صبح التمش بنا اس سے بات کیے گھر سے نکل گیا۔۔
زویا ہمت کرتی جہانگیر خان اور التمش کے پلین پر چلتی گئی۔ وہاں پہنچ کر جو باتیں ہوئین۔ان میں التمش کو ماجد والی، اور خود کے ساتھ کھیلے جانے والے کھیل کا پتہ چلا۔۔ اور اسے نہیں پتہ تھا زویا ایسی ڈریسنگ کر کے آۓ گئی۔ لیکن سلطان کے پلین میں یہ شامل تھا۔ جو وہ التمش کو بتانا بھول گئی۔ جب التمش مے اسکے گرد چادر دی تب زویا کو لگا وہ اب کبھی اسکے سامنے سر نہیں اُٹھا پاۓ گئی۔
پھر پلین کے مطابق سب چلتا گیا۔ حازم اور سلطان کے پلین بی کے مطابق اسے جہانگیر خان کو گولی مارنی تھی۔ وہی التمش کے پلین کے مطابق کب وہ گولی چلانے لگے گئی تو تو سامنے آ جاۓ گا۔ اس نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔ نکلی خون نکلے لگا۔ زویا کو لگا اس نے کندھے پر کچھ باندھا ہو گا۔ وہ ویسے بھی نشانے کی کافی پکی تھی۔ اور یہ اسے سلطان نے ہی سیکھایا تھا۔ پر وہاں جو چیز مختلف ہوئی وہ تھی۔ حازم کا گولی چلانا۔ جو کہ سیدھی سینے پر لگی۔ اور خون نکلا۔ زویا کو اس وقت سب اصلی لگا۔ پر یہ سب التمش نے سوچ سمجھ کر کیا تھا۔وہ جانتا تھا۔ ہو سکتا ہے کوئی اور بھی گولیاں چلاۓ اس لیے اس نے سیفٹی جیکٹ منگوالی تھی۔ اور پھر ماحول ایسا ہو گا۔ جس سے سلطان کے گھر میں بھی خوف پھیلا۔ اس نے ڈاکٹر کو بولا کہ باہر جا کر بولے حالت سیریس ہے۔ تا کہ یہ سب اصلی لگے۔
زویا نے حمیدہ بیگم کی ساری باتیں ریکارڈ کر لیں تھیں۔ اور پھر میسج ملتے ہی لوکیش پر وہاں پہنچ گئی۔ اور چھپ گئی۔۔ کب اس نے اپنے کانوں نے سب سنا تو اسے سب کچھ گھومتا ہوا محسوس ہوا۔۔
وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی۔ وہ اپنی سوچوں سے واپس آئی۔ اور اتر کر جہانگیر خان کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔
وہ بہت ڈر رہی تھی۔ سب کیسے ری ایکٹ کریں گے۔ وہ نہیں جانتی تھی۔
جہانگیر خان کے ساتھ وہ اندر داخل ہوئی۔ وہ دونوں سیدھے حال میں پہنچے اور سب کو بلاوایا۔
سب کے سب حیرانگی اور نفرت بھری نظروں سے دیکھنے لگے۔ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔
سب بیٹھ کر میری بات سنو۔۔جہانگیر خان نے سب کو بیٹھنے کا کہا۔۔
اور انہیں شروع سے لے کر آخر تک سب بتایا۔۔ سب حیرانگی سے سب سن رہے تھے۔زویا نے گردن نیچے ہی جھکا لی تھی۔
ابا آپ کیا کہ رہے ہیں کیا واقعی یہ مہوش کی بیٹی ہے۔ خالد صاحب نے کپکپاتے ہوۓ کہا۔
ہاں یہ زویا احمد ہے میری مہوش کی بیٹی اور میری نواسی۔ انہوں نے زویا کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ اور زویا کا ضبط وہی ٹوٹ گیا۔ وہ چہرہ ہاتھوں میں گِڑاۓ ٹوٹ کر رو دی۔۔۔۔۔
ایم سوری میں نے پتہ نہیں کیا کیا کر دیا۔ وہ روتے ہوۓ بس یہی بول رہی تھی۔ اور ہاتھ جوڑ رہی تھی۔۔
میری بچی چپ جو ہونا تھا ہو گیا۔۔ اچھی بات ہے تمہیں سب سچ معلوم پڑ گیا۔ صائمہ بیگم اُٹھ کر اسکے قریب آ کر بولیں۔ اور اسے سینے سے لگا لیا۔۔
ایم سوری مامی میں بہت بری ہوں بہت زیادہ معافی کے قابل بھی نہیں ہوں۔ وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
نہیں میری بچی۔۔۔ چپ انہوں نے اسے چپ کروتے ہوۓ کہا۔
ماہ رخ پانی لے کر آئی۔ جسے زویا نے پیا۔۔ سب کافی دیر تک اس سے باتیں کرتے رہے کسی نے اسے احساس نہیں ہونے دیا کہ اس نے کتنا برا کیا تھا۔ زویا کو اپنی سوچ پر غصہ آیا۔ وہ جتنی ان سب کے لیے نفرت لیے بیٹھی تھی۔ سب ویسے نہیں تھے۔ حالنکہ جتنا برا وہ کر چکی تھی۔ سب کو اسے معاف نہیں کرنا چاہیے تھا پر سب نے کر دیا۔ کیونکہ سب جانتے تھے جیسے سالوں پہلے وہ کسی جھوٹی چال میں پھنسے تھے ویسے ہی زویا پھنسی تھی۔ اور شکر وہ جلد ہی سچائی کو جان گئی۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
