Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Part 1

واہ تم تینوں مجھے لینے آۓ ہو۔۔ویسے میں تو ہوں ہی وی آئی پی تین تین لوگ لینے آۓ ہیں۔ دعا چہچہاتے ہوۓ بولی۔
اتنی تم سپیشل نہیں ہو۔ میں اکیلا ہی آنے والا تھا۔ پر ان دونوں نے چھپ کر میری اور اریشہ کی باتیں سن لیں۔ تو مجبوری میں مجھے لے کر آنا پڑا۔ سِراج اسکی غلط فہمی دور کرتے ہوۓ بولا۔۔
بھائی جان کیا ہمیں حق نہیں کہ ہم اپنی ہونے والی بھابھی کو دیکھ سکیں۔۔ اتنا ظلم تو مت کریں۔ سیرت ڈرامائی انداز میں بولی۔۔۔
بہت حق ہے۔۔ اب چپ کرو۔ دعا آپی جلدی سے گاڑی میں بیٹھو دیر ہو رہی ہے۔ منت نے دعا کو کھینچ کر گاڑی میں بیٹھایا۔۔سراج نے گاڑی آگے بڑھائی۔۔
بھائی ویسے مجھے لگتا ہے ہماری ہونے والی بھائی ایوئی سی ہو گئی۔ کیا پتہ بھینگی ہو۔ سیرت سوچتے ہوۓ بولی۔
جی نہیں بہت خوبصورت ہے۔۔ ایک دفع دیکھو گئی تو سمجھ جاؤ گئی۔ پہلی دفع دیکھنے پر ہی وہ میرے دل میں اتر گئی تھی۔ سِراج کھوۓ ہوۓ لہجے میں بولا۔۔۔۔آنکھ کے پردے پر اریشہ کا چہرہ لہرایا۔۔۔
اوے ہوۓ۔۔۔۔۔تینوں نے ہوٹنک کی۔۔۔
اب تو اس لڑکی کو مل کر پوچھنا ہی پڑے گا بھائی ایسا کیا جادو کر دیا۔ جو ہمارا اتنا سونا منڈا تم پر دلِ و جان سے مر بیٹھا۔۔۔ دعا ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔
آپی سونا منڈا یہ کیسی لینگوج یوز کر رہی ہیں۔ منت حیرانگی سے بولی۔۔۔۔
وہ میری ایک دوست ہے جو پنجابی بولتی ہے تو اسے سے سیکھا۔ سراج اریشہ سے ملنے کے بعد مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔ دعا سنجیدہ انداز میں بولی۔۔ادھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ سب ریسٹورینٹ پہبچ گے ۔۔۔۔۔۔
اریشہ مجھے تمہاری سمجھ نہیں آ رہی۔ہم پچھلے دس منٹ سے یہاں بیٹھے کس کا انتظار کر رہے ہیں۔ ماہ رخ جو اریشہ کی ایموشنل بلیک میلنگ میں آ کر اس وقت یہاں ریسٹورینٹ میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اب کافی چڑ چکی تھی۔ اریشہ اسے کچھ بھی نہیں بتا رہی تھی۔۔ بس بار بار داخلی دروازے کو ہی تکے جا رہی تھی۔۔
چپ کر بس دو منٹ پھر چلتے ہیں۔ اریشہ جو پچھلے دس منٹ سے یہی بار بار بول رہی تھی۔ابھی بھی وہی دھرایا۔۔۔
ڈوپٹہ تو سر پر لو برقع بھی پہن کر نہیں آئی۔ یہاں پر اگر لالا کے کسی جانے والے نے دیکھ لیا تو آج ہی گھر کی ٹکٹ کٹ جاۓ گئی۔ ماہ رخ اس کا ڈوپٹہ سر پر دیتے ہوۓ بولی۔۔۔خود کو برقع میں تھی اریشہ ہلکا سا میک کپ کیے اور فراق پہنے ہوۓ تھی۔۔ دونوں آپس مین باتیں کر رہیں تھی۔ جب دروازے سے سراج اور باقی سب داخل ہوۓ۔۔۔۔اریشہ اپنی کرسی سے اُٹھ کر کھڑی ہو گئی۔۔سراج پہلے ہی ان کو دیکھ چکا تھا وہ مسکراتا ہوا ان تک آیا۔۔۔
السلام علیکم! بھابھی۔۔۔سوری اریشہ آپی سیرت جلدی میں بھابھی بول گئی۔ اریشہ آگے ہو کر سب سے ملی۔۔ ماہ رخ نے جلدی سے نقاب ٹھیک کیا۔۔۔۔۔۔
سب کیا کھاؤ گے۔ سِراج سب کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔
بھائی پیزا، فرائیز، بٹاٹا، سموکی وینگز اور ہاں ساتھ میں کوک سیرت جھٹ سے بولی۔۔۔۔
پیٹو بھٹ جاۓ گئی۔۔اریشہ آپی آپ کیا کھائیں گئی۔ منت نے اسے چپ کروایا اور اریشہ سے مخاطب ہوئی۔۔۔
جو آپ سب کھاؤ گے۔ میں بھی کھا لوں گئی۔ اریشہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔اور ماہ رج کی طرف دیکھا۔ جو کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اریشہ نے اگنور کر دیا۔۔۔سراج نے آڈر دیا۔۔۔۔۔
تو اریشہ آپ کیا پڑھ رہی ہو؟ دعا نے سوال کیا۔۔۔۔
میں ایف ایس ای کی سٹوڈینٹ ہوں۔ ابھی دو ہفتے پہلے ہی جوائین کیا ہے۔ اس نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔۔۔
واٹ آپ اتنی چھوٹی ہو۔ سیرت حیرانگی سے بولی۔۔۔
نہیں اصل میں بچپن میں بیماری ہو گئی تھی۔ سکول لیٹ شروع کیا تھا ابھی میری عمر 20 سال ہے۔
اوکے۔۔۔۔۔۔ ویسے ہونے والی بھابھی آپ شادی کب کرو گے۔ سیرت ایک دفع پھر بولی۔۔ سراج نے اسے گھورا۔۔۔۔تبھی ویٹر بھی کھانا لے کر آ گیا۔۔۔۔۔سیرت تو کھانے میں جُت گئی۔ باقی سب باتیں کرتے ہوۓ کھا رہی تھی۔ سب نے اریشہ سے خوب سوال کیے۔۔۔ماہ رخ چپ کیے بیٹھی رہی۔۔ سب نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی جس کا جواب ہاں نا میں آیا۔۔۔۔کافی دیر ریسٹورینٹ میں بیتانے کے بعد سب باہر آ گے۔۔۔
آپ سب سے مل کر بہت اچھا لگا۔ ہوسٹل کی واڈرن اینٹر نہیں ہونے دے گئی۔ آئی تھینک ہمیں جانا چاہیے۔ ماہ رخ کھڑی دیکھ کر بولی۔
اس وقت اکیلا جانا ٹھیک نہیں میں آپ دونوں کو چھوڑ دیتا ہوں سراج نے دونوں کو گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔نا چاہتے ہوۓ بھی ماہ رخ کو گاڑی میں بیٹھانا پڑا۔دعا اور باقی سب بھی بیٹھے۔۔رستے میں بھی سب اریشہ سے باتیں کرتے رہے۔۔۔ایک دوسرے کے نمبر ایکسچنج کیے۔۔۔سراج مسکراتے ہوۓ ساتھ بیٹھی اریشہ کو دیکھ لیتا۔ جو سب کے ساتھ دو گھنٹے میں ہی دوست بن چکی تھی۔۔۔۔اسی چکر میں ہوسٹل بھی آ گیا۔۔۔
اللہ حافظ۔ انشااللہ دوباہ ملاقات ہو گئی۔ اریشہ سب سے مل کر نیچے اتری۔ ماہ تو پہلے ہی اتر چکی تھی۔۔۔سراج نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا۔۔
اریشہ اس نے اسکا ہاتھ پکڑکر روکا۔
ہمم وہ ساتھ ہی پلٹ گئی۔۔
شکریہ میری بات مان کر تم سب سے ملنے ریسٹورینٹ میں آگئی۔ اور۔۔۔ سراج مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔۔ماہ رخ تھوڑا آگے چل رہی تھی۔ اپنے پیچھے اریشہ کو نا آتے دیکھ کر وہ بھی رک گئی۔ اور پلٹی۔سامنے اریشہ سراج کے ہاتھوں مین ہاتھ دیے کھڑی تھی۔۔۔
اور کیا؟ اریشہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولی۔۔۔
اور۔۔۔۔ تم آج بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ سراج پیاری بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
مسٹر سراج یہ ہوسٹل ہے۔ یہاں یہ سب نا ہی کریں تو بہتر ہے۔۔ محبت چار دیواری میں اچھی لگتی ہے۔ یوں سرِ عام تو صرف بدنامی ہی ملتی ہے۔ آپ لڑکے ہیں آپ کا کچھ نہیں جاۓ گا۔ بد نام لڑکی ہو جاۓ گی۔۔ ماہ رخ سے جب مزید یہ سب برداشت نا ہوا تو وہ آگے بڑھی اور اریشہ کا ہاتھ سراج کے ہاتھوں سے نکال کر بولی۔۔۔سراج شرمندہ ہو گیا۔ اریشہ کا غصے سے برا حال تھا۔۔ ماہ رخ بنا اسکی بات سنے اسے لیے ہوسٹل میں داخل ہو گئی۔ شکر کہ واڈرن نے انہیں داخل ہونے دیا۔۔۔سِراج بھی واپس پلٹا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو آگے بڑھا۔۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے۔ یہ کوئی طریقہ ہے۔ تم سراج سے کس انداز میں بات کر کے آئی ہو۔ دونوں کمرے میں داخل ہوئی تو اریشہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ ماہ رخ پر چلائی۔۔
دماغ میرا نہیں تمہارا خراب ہو گیا ہے۔ تم کیا کر رہی ہو کوئی اندازہ بھی ہے۔ ماہ رخ بھی اہان نقاب اتارتے ہوۓ جواباً چلائی۔۔۔
کیا کر رہی ہوں؟ ہم دونوں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں اس میں غلط کیا ہے؟ اریشہ دونوں بازو باندھتے ہوۓ سوالیہ انداز میں بولی۔۔۔۔
پیار کرتے ہیں۔ ہنہ۔۔۔ یہ پیار ہے اسے تم پیار کہتی ہو۔ تم ایک نا محرم سے ملتی ہو۔۔اسکے ہاتھوں میں ہاتھ دیتی ہو۔ اور تمہیں یہ محبت لگتی ہے۔ کیا تم اپنے حواس میں ہو ماہ رخ چلائی۔۔۔
ہم ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور بہت جلدی شادی کرنے والے ہیں اس میں کچھ غلط نہیں ہے۔ وہ اترا کر بولی۔۔۔
ہممم پہلے یہ بتاؤ یہ سب کب سے چل رہا ہے؟
ایک سال ہو گیا۔ گاؤں میں ہی ملاقات ہوئی تھی۔ اریشہ نے بتایا۔۔
ایک سال اتنے عرصے سے تم سب کو دھوکہ دے رہی ہو۔ سب کی ناک کے نیچے تم یہ سب کر رہی تھی۔ یا اللہ اریشہ اسکا مطلب تم نے جو یہاں پر پڑھنے کا اتنا ڈنڈھوڑا پیٹا ہوا تھا وہ سب اس لڑکے سے ملنے کے لیے تھا۔ تا کہ تم بنا روک ٹوک اسکے ساتھ ملتی رہو۔ ماہ رخ حیرانگی سے بولی۔۔۔
نہیں مجھے پڑھنا بھی تھا۔ اریشہ نظریں چراتی ہوئی بولی۔۔۔۔
پڑھنا تھا۔ دل تو کر رہا ہے ایک تھپڑ لگاؤ۔ تم نے لالا کو یوز کیا التمش لالا پیچارے تمہاری خاطر حویلی میں سب سے لڑے اتنے مان سے انہوں نے سب کے سامنے بولا میری بہن وہاں جا کر کچھ غلط نہیں کرے گئی۔ اور بہن کو دیکھو ہنہ ماہ رخ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔
تم لالا کو درمیان مین کیوں لا رہی ہو۔ میں اسکے ساتھ بھا گ نہین رہی۔ بس مل رہی ہوں۔ ہم دنوں ایم دوسرے سے محبت کرتے ہیں میری پڑھائی کے بعد وہ رشتہ بھیج دے گا۔ اریشہ بالوں کا کیچر میں لپیٹتے ہوۓ بولی۔۔
اگر۔ اتنی ہی محبت تھی تو بولتی اسے اسی وقت رشتہ بھیجے اور کر لیتی نکاح پھر جہاں مرضی جاتی۔ اریشہ نے غصے سے کہا۔۔۔۔
اینف از اینف ماہ رخ بولا نا پڑھائی کے بعد رشتہ بھینے گا۔ اور اتنی بھولی مت بنو تمہیں باخوبی پتہ ہے میرے سر پر شمش نامی تلوار گھوم رہی ہے۔۔اگر سراج رشتہ بھجتے تو کیا قبول ہو جانا تھا۔۔ بولو۔
ہاں میں نے لالا سے بولا مجھے شہر جا کر پڑھانا ہے۔ انہوں نے لڑ کر بھیج بھی دیا۔۔۔ پر تمہیں پتہ ہے مین وہاں سے کیوں نکلنا چاہتی تھی۔ میرا نا وہاں دم گھٹتا تھا۔ مجھے حویلی سونے کا پنچرہ لگتی تھی ایسا لگتا تھا جیسے کسی نے میرے سارے پر کاٹ کر کسی سونے کی غفا میں ڈال دیا ہے۔ جہاں پر سب کچھ ملتا ہے۔ سب کچھ اگر کچھ نہیں ملتا تو سکون کا سانس نہین ملتا باہر کی فضا نہیں ملتی۔ ملتا تو بس ابا کے طعنے دادا کی ڈانٹ ۔ یہ مت کرو وہاں مت جاؤ یہ مت پہنو سر پر ڈوپٹہ لو۔ ارے اتنے لڑکے ہیں چلو منہ ڈھکو۔۔ مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوتا دم کھٹتا تھا۔ میں جینا چاہتی ہوں۔ خوش رہنا چاہتی ہوں۔ سراج کے ساتھ۔ بس۔۔۔۔۔اریشہ بولتے بولتے رو دی۔۔
تم ان سب باتوں سے اب کے کیے جانے والے فعل کو جھٹلا نہیں سکتی۔ تمہیں یہ برا لگتا تھا۔ کہ سب تمہیں حویلی جے اندر رہنے کو بولتے تھے۔ سر پر ڈوپٹہ لینا تمہیں برا لگ رہا تھا۔ نقاب کرنے پر غصہ آتا تھا۔ واہ واہ اریشہ تمہاری سوچ کتنی چھوٹی ہے۔۔۔
مین مانتی ہوں حویلی مین ہم پر بے جا پابندھیاں تھیں۔۔۔ ہمیں باہر جانے نہین دیا جاتا تھا۔ پر ہمین سکول تو جانے دیتے تھے۔ نا اگر لالا نے بولا کہ ڈوپٹہ لو تو اس میں کیا غلط ہے۔ اگر کوئی اپنی ماں بہن بیٹی کو کسی بری نظر سے بچانا چاہتا ہے تو اس میں برا کیا ہے۔۔۔ تم اسکو لے کر یہ سوچ سکتی تھی۔ کہ ہمیں اللہ نے ایسے محرم مرد عطا کیے ہیں جو ہماری ہی بھلائی کے لیے یہ سب کر رہیں ہیں۔ پر نہیں تم تو الگ ہی دنیا مین ہو۔ ۔
آج سر سے ڈوپٹہ اترا تھا نا سوچو کس کس کا یقین ٹوٹا ہے۔ تم نے آج اپنے بھائی کا مان توڑا ہے۔ اس نے برے مان سے تمہیں یہاں بھیجا تھا۔ آج جب تم بنا سر ڈھکے ایک نا محرم سے ملنے گئی تھی۔ نا سوچو اگر لالا وہاں پر تمہیں ایسے دیکھ لیتے تا ان پر کیا بیتی۔۔۔۔۔۔ماہ رخ بول رہی تھی۔۔۔۔۔
بس کرو بہت ہو گیا۔ یہ سب محرم نا محرم مان ٹورا۔۔۔۔۔ ایکسٹرا۔ یہ سب میں نے کیا نا تم سات پردوں میں چھپتی رہو۔ اور اپنے اعمال کرو۔۔یہ سب غلط ہے نا مین اسکا انجام دیکھ لوں گئی۔۔۔اب مجھے دوباری سے اتنا لمبا لیکچر مت دینا۔ فل حال مجھے نیند آ رہی ہے سونا ہے ہٹو ۔۔اریشہ اسے پھیچے ہٹا کر خود سونے کے لیے لیٹ گئی۔۔۔۔۔ماہ رخ نے بس نا میں سر ہلایا۔۔۔۔۔۔


سراج یہ زویا گاؤں کی حویلی میں کیا کر رہی ہے۔۔تم نے تو بولا تھا وہ لندن گئی ہے۔ سراج سیرت اور منت کو گھر چھوڑا کر اب دعا کو چھوڑنے جا رہا تھا۔۔۔
وہ لندن میں ہی ہے۔۔۔سراج نے نظریں چراتے ہوۓ کہا۔۔۔
جھوٹ تو مت بولو میں کل اسے ملی تھی۔ حازم جہاں پر فیکٹری لگوا رہے ہیں۔ وہی ایک جگیردار اسکی حویلی میں زویا تھی۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی تو پوچھا پر زویا اور حازم نے کچھ نہیں بتایا۔ اب تم سچ بتاؤ گے۔۔۔ دعا نے اسکا جھوٹ پکڑ کر کہا۔ ۔
ہاں وہ وہی ہے۔ انفیکٹ پچھلے ایک سال سے وہی اسی گاؤں میں ہے۔ وہ وہاں کیون ہے اسکا مجھے نہین پتہ بھائی اور ڈیڈ کو پتہ ہے وہ بتاتے نہیں ماما کو بھی علم نہیں۔ یا شائد وہ ہمیں نہیں بتاتیں۔ ہمیں بس اتنا بولا گیا کہ کوئی بھی پوچھے تو کہنا کہ لندن پڑھنے لگی ہے۔۔۔ سراج کو جتنا پتہ تھا اس نے بتا دیا۔۔۔
ویری سٹرینج ایسا کیوں کر رہے ہیں۔۔ دعا حیرانگی سے بولی۔۔۔
مین تو یہی بولوں گا ان سب میں مت پڑو۔ حازم بھائی سے بار بار مت پوچھنا وہ نہین بتائیں گے۔۔۔۔ دور ہی رہو تو بہتر ہے۔ سراج نے اسے سمجھایا۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ وہ ہاں میں سر ہلا کر باہر کی طرف دیکھنے لگی۔۔


جاری یے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔