Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 23
No Download Link
Rate this Novel
Episode 23
تم بتاؤ۔ میرا کیا قصور تھا؟ اپنی بہن پر یقین کرنا میرا قصور تھا؟ یا سب کے سامنے اسکے حق کے لیے لڑنا میرا قصور تھا؟ میرے جیسا بے وقوف بھی کوئی نہیں ہو گا۔ سب آنکھوں کے سامنے تھا پھر بھی میں نے اس پر یقین کیا۔ اسکے پیچھے اسکے کردار کی گواہی میں دے رہا تھا۔ کتنا برا گدھا لگ رہا ہوں گا۔ وہ خود پر ہنستے ہوۓ بولا۔
آپ غلط نہیں ہیں۔ اسکو آپ کے بھروسے کی قدر نہیں۔ زویا کو سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا التمش کو کیا بولے۔
تم نے اس نکاح نامے پر تاریخ دیکھی۔ ایک سال زویا وہ ایک سال پہلے نکاح کر کے آئی تھی۔ پچھلے ایک سال سے وہ ہم سب کو دھوکہ دے رہی تھی۔ اور وہ تصوریریں دیکھیں۔ میں نے جو اسکو ہمیشہ پردے میں رکھا۔ کبھی کسی کی نظر نہیں پڑنے دی۔ وہ اس ریسٹورینٹ میں کس انداز میں بیٹھی ہوئی تھی۔ اور اور ارے دو دن پہلے ہی تو اسے خود فون دے کر آیا تھا۔ یہ تو مجھے پتہ ہی نہیں تھا۔ اسکے پاس تو پہلے سے ہی فون تھا۔ کبھی اس پر نظر نہیں رکھی۔ کیا کر رہی ہے۔ ہمیشہ سب سے لڑ کر اپنی بہن کو سپوٹ کیا۔ وہ جیسے ایک ایک بات یاد کر کے درد بھرے انداز مین دھرا رہا تھا۔
آپ ایسی باتیں مت کریں۔ طبعیت خراب ہو جاۓ گئی۔ اُٹھیں سونے کی کوشش کریں۔ زویا کو اسکی باتیں سن کر اپنے کیے ہوے عمل دیکھ رہے تھے۔ وہ شائد اسکو چپ کروانا چاہتی تھی۔ تا کہ اسکا ضمیر چپ ہو جاے۔
سوجاؤ۔ ہاہا ۔۔۔ ابھی تو سالوں کی نیند سے جاگا ہون۔ ابھی کہاں نیند آۓ گئی۔۔ وہ ہنستے ہوۓ انداز میں بولا۔۔اور ایک دم چپ ہو گیا۔۔۔۔
ایک بات پوچھو۔۔۔ جب وہ کافی دیر تک نا بولا۔ تو زویا نے سوالیہ انداز میں کہا۔ اسنے اسکی طرف دیکھا۔ جیسے اجازت دی ہو پوچھو کیا پوچھنا چاہتی ہو۔۔
اب آپ کیا کریں گے۔ میرا مطلب ہے۔ اریشہ کے ساتھ کیا سلوک ہو گا۔ کیا اسکو سزا کے طور پر مارا۔۔۔۔۔ زویا آخر میں آ کر چپ ہو گئی۔۔
صبح اسکا فیصلہ ہو گا۔ اور اب تم دوبارہ کبھی بھی اسکا نام میرے سامنے مت لینا۔ وہ سخت لہجے میں بولا۔۔ اسکی آواز کی سختی کو محسوس کر کے زویا کو ڈر لگا۔۔۔۔وہ اُٹھا اور صوفے پر جا کر لیٹ گیا۔
آپ بیڈ پر سو جائیں۔ وہ اُٹھی اور اسکے قریب آ کر بولی۔
جا کر سو جاؤ۔ اپنی آنکھوں پر بازو رکھ کر وہ بولا۔ جیسے یہ اشارہ ہو کہ اب مزید بات نہیں ہو گئی۔۔
زویا پلٹی اور الماری میں سے اپنا سوٹ نکالا۔ جو کہ کڑھائی کے بغیر تھا۔ اور وہی اپنا موبائل نکال کر کپڑوں مین چھپا کر واشروم میں گھس گئی۔
واشروم کا دروازہ بند کیا۔ اور دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گئی۔
موبائل کل کا آن ہی تھا۔بس سائیلنٹ پر لگا ہوا تھا۔اسنے حازم کے نمبر پر کال ملائی۔
ہیلو! جانے من بتاؤ وہاں کی نیوز۔ کتنا مزہ آیا یوں ان کی عزت کو نیلام ہوتے دیکھ۔ میں نے بولا تھا نا ایسا وار کروں گا۔ ترپ اُٹھیں گے۔ اگے سے کال اُٹھاتے ہی حازم ہشاش بشاش لہجے میں بولا۔۔۔
حازم۔۔۔۔ زویا اسکا نام لے کر رونے لگا گئی۔ روتے ہوۓ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا تا کہ آواز باہر نا جاۓ۔
زویا کیا ہوا؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ کہی ہم پکڑے تو نہیں گے؟ حازم فوراً بولا۔۔ وہ اسکی آواز سن کر کافی پریشان ہو گیا۔
نہیں سب پلین کے مطابق ہوا۔ پر مجھے خود سے بہت شرم آ رہی ہے۔ میں اتنا کیسے گِڑ سکتی ہوں۔ اریشہ نے جو بھی کیا مجھے اسکی عزت ایسے نہیں اچھالنی چاہیے تھی۔ وہ روتے ہوۓ اہستہ آواز میں بولی۔۔۔
واٹ! زویا کیا تم پاگل ہو چکی ہو۔ یہ سب کیا سوچ رہی ہو۔ تم نے کچھ غلط نہین کیا۔ وہی ہوا جو بعد میں بھی کھل ہی جانا تھا۔ اگر آج اریشہ کی بات نا کھلتی تو کبھی تو کھلنی ہی تھی۔ تو اس میں۔ تمہاری کیا غلطی ہے۔ ریلکس ہو جاؤ۔ حازم اسے سمجھانے لگا۔۔۔
نہیں حازم میں نے غلط کیا۔ وہ دوبارہ روتے ہوۓ بولی
زویا پہلے تو چپ کر کے میری بات سنو اور سمجھو ہم نے جو بھی کیا اس جہانگیر خان کو سبق سیکھانے کے لیے کیا۔ اور اب تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔ اسکی عزت کا جنازہ تو نکل ہی چکا ہے۔ اسکا غرور تو مٹ ہی چکا ہو گا۔ اب تو بس اسکے ہاتھ سے پراپڑٹی لے کر اسے بے بس کرنا ہے۔ ہمارے آخری وار پر وہ پورا ٹوٹ جاۓ گا۔ اور سالوں سے ہم انہی دنوں کا انتظار کر رہے تھے۔حازم اسے دوبارہ سے اپنی جیت کی بات سنانے لگا تا کہ وہ ٹھیک ہو۔۔
حازم وہ سب تو ٹھیک ہے پر اس سب میں بلاوجہ التمش گھسیٹے جا رہے ہیں۔ آج جہانگیر خان تو پتہ نہیں پر التمش کا اپنی بہن پر مان اور غرور کا قتل ضرور ہوا ہے۔ اور یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے۔ تمہین پتہ آج جب وہ میرے سامنے ٹوٹے نا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا۔ جیسے میرا کوئی گلا دبا رہا ہے۔ مجھے محسوس ہوا۔ جیسے سانس نہیں آ رہا ہو۔ وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔ کال کی دوسری طرف حازم کا دماغ چکرا کر رہ گیا۔۔
زویا اس مین ایسا کیا دیکھ گیا جو تمہیں اسکے لیے اتنا درد ہو رہا ہے۔ تم سالون کی محنت کے بعد ملنے والے پھل کی مٹھاس کو محسوس ہی نہیں کر پا رہی۔۔ حازم ٹھنڈے لہجے میں بولا۔۔
وہ اچھے انسان ہیں۔ مجھے لگتا تھا حویلی کے سارے مرد ایک جیسے ہیں پر وہ ویسے نہیں ہین۔ وہ مختلف ہیں۔ وہ بہت مخلص ہیں۔ انہوں نے کبھی اس حویلی میں مجھے اکیلا نہیں ہونے دیا۔ ہمیشہ میرے لیے لڑے۔ میں بہت بری ہوں میں نے خود ہی اپنے شوہر کو بیچ محفل مین رسوا کر دیا۔ وہ روتے روتے روانگی میں نا جانے کیا کیا بول گیی۔۔۔چپ تو اسے تک لگی جب فون میں حازم کے چیخنے کی آواز آئی۔۔
زویا چپ ایک دم چپ۔۔۔۔۔ تمہیں کوئی حق نہیں بنتا۔ اپنے منہ سے میرے علاوہ کسی اور کے لیے ایسے الفاظ نکالو۔ حازم شوہر کا لفظ سن کر چلایا۔۔۔۔
زویا ایک دم سے ہوش مین آئی۔۔۔
میں نے ایسا کیا بولا۔۔اسے اندازہ ہی نا ہوا روانگی میں وہ کیا بولا گئی۔۔
شوہر تم نے اسے شوہر کیسے مان لیا بولو۔۔۔۔ تم میری منگیتر ہو۔ تم ایسا کیسے کر سکتی ہو۔ تمہارے دلوں دماغ مین صرف حازم ہونا چاہیے۔ وہ چلایا اور فون سے کانچ کے ٹوٹنے کی آواز آئی۔۔۔ زویا آج پہلی بار حازم کے لہجے میں اپنے لیے اتنی جنونیت کو صاف طور پر محسوس رہی تھی۔۔
اتنا چِلا کیوں رہے ہو؟ وہ اپنے آنسوں صاف کر کے بولی۔
تم نا بس اب تیاری کرو۔ بہت جلد مین اس ناٹک کا پردہ گِڑانے والا ہوں۔ اب مزید میں تمہیں وہاں رہنے کی آجازت نہین دوں گا۔تم میری ڈھیل کا ناجائز فائدہ اُٹھا رہی ہو مین نے کئی دفع بولا تھا اس (گالی ) سے دور رہو۔ پر میڈم جی نے اسے شوہر بھی مان کیا۔ زویا احمد ایک بات جان لو۔ میری چیز پر اگر کوئی حق جماۓ گا تو اسکو رستے سے ہٹانے مین مجھے دو منٹ نہیں لگیں گے۔ تم میری ہو اور میری ہی رہو گئی۔ وہ غصے سے بولا اور آخر مین کال بند کر دی۔ زویا اسکے لفظوں کو سن کر شاک ہو گئی۔۔۔۔
اپنے آپ کو سھنمبال کر وہ چینج کر کے کمرے مین آئی۔ تو التمش ویسے ہی لیٹا ہوا تھا۔ زویا بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔ اسے کسی طور سکون نہیں مل رہا تھا۔ یہی تو وہ چاہتی تھی۔ اور آج جب سب پورا ہو رہا اس کا خواب اسکا بدلہ پورا ہو رہا تھا تو اسے یہ بے سکونی محسوس ہو رہی تھی۔ رات کے تین بج گے۔ پر اسے کسی طور نیند نہین آ رہی تھی۔ وہ بار بار کروٹ بدل رہی تھی۔ دوسری طرف التمش بھی سو نہیں پا رہا تھا۔ وہ انکھیں کھولے اوپر چھت کی طرف نا جانے کیا تلاش کر رہا تھا۔
اریشہ سے اسکا فون چھین لیا گیا تھا۔ سِراج کافی پریشان تھا۔ وہ کل سے بہت بار کال ملا چکا تھا پر آگے سے موبائل پاور آف ہی ملتا۔۔
ڈیڈ مین ایسا بالکل نہین ہونے دوں گا۔ وہ کیسے یہ سب بول سکتی ہے۔ حازم رات کے اس پہر سلطان صاحب کے ساتھ سٹڈی روم میں موجود تھا۔ زویا سے بات کرنے کے بعد وہ اپنے کمرے کا برا حشر کر کے اب سلطان صاحب کو سب بتا رہا تھا۔۔
دیکھو حازم زیادہ مت سوچو۔ زویا دو مہینوں سے رہ رہی ہے ۔ تھوڑی اٹیچ منٹ ہو گئی ہو گی۔ ایسا ہو جاتا ہے۔ تم فکر مت کرو۔۔ سلطان صاحب نے اسے سمجھانا چاہا۔
ڈیڈ آپ نے بچپن میں اسکا ہاتھ میرے ہاتھوں مین دے کر بولا تھا نا اب یہ تمہاری ہے۔ تو بتائیں۔ میری ہونے والی بیوی کے منہ سے اسکے سابقہ منکوحہ کی تعریفین سن کر میرے دل پر کیا گزر رہا ہو گا۔ پچھلے بارہ سالوں سے میں اسے پیار کرتا ہوں۔ جب یہ تصور کرتا ہوں وہ کسی اور کے نام پر ہے۔ اسکے نام کے ساتھ کسی اور کا نام جُڑا ہوا ہے۔ جہاں میرا نام ہونا چاہیے تھا وہان اس کمینے التمش کا نام ہے۔ یہ سوچ آتے ہی دل پر خنجر چھبتے ہیں۔ من تو کرتا ہے ابھی کے ابھی اس التمش کا قتل کر آؤں۔ وہ غصے سے پاگل ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
سلطان صاحب سامنے صوفے پر بیٹھے اسکا پاگل پن دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے ۔وہ زویا کے نام پر کتنا جنونی ہو جاتا ہے۔۔
ڈیڈ اب اریشہ کا بھانڈا پھوڑ دیا نا۔ پیپرز بھی سائن ہو گے۔ اب جلدی سے کام ختم کریں۔ میں مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔
حازم تم جانتے ہو ۔ جب ہم تاش کے پتوں کو ایک دوسرے کے اوپر کھڑے کر کے ایک عمارت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تو ہم پہلے بہت آہستہ آہستہ صبر تحمل کے ساتھ پتے کے اوپر پتے رکھتے ہیں۔ پھر آخر میں جب صرف ایک پتہ رہ جاتا ہے۔ ہم بہت۔ ایکسائیٹڈ ہو جاتے ہین۔ کہ اب تو یہ عمارت بن ہی گئی۔ اب ہمین کوئی نہیں رُک سکتا۔ اور ہم اسی خوشی ہربراہٹ میں اس آخری پتے کو رکھتے جلد بازی کر دیتے ہیں۔ اور رکھتے وقت ہم دوسرے پتے کو ہلا دیتے ہیں ۔ اور پھر کیا ہوتا ہے؟ ہنم۔۔۔۔ ساری کی ساری عمارت نیچے گڑ جاتی ہے۔ ہمارا سارا صبر ساری محنت زمین پر بکھرے پتوں کی طرف بکھر جاتی یے۔ برباد ہو جاتی ہے۔ اور ہم یہی سوچ رہے ہوتے ہیں۔ کاش اس آخری پتے کو بھی سوچ سمجھ کر ہاتھوں کا بیلنس بنا کر رکھتے۔تو محنت ضائع نا جاتی۔ تم بھی وہی کر رہے ہو۔ اتنے سالوں کی محنت کو یوں غصے اور جلدبازی میں برباد کرنا چاہتے ہو۔ دلطان صاحب جو کب سے اسے سن رہے تھے۔ اسکے برابر کھڑے ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔حازم نے سر جھکا دیا۔۔۔
واہ واہ۔۔۔۔۔بہت اچھے مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا۔ یہاں تو تاش کے بتوں سے عمارتیں بن رہی ہیں۔ جہاں ہر پتہ کسی ایک کی زندگی ہے۔ آپ کے ان پتوں میں اریشہ اور میں بھی ہیں۔۔۔ سراج جو کب سے باہر کھڑا ہو کر سب سن رہا تھا۔ آخر برداشت نا کر پایا۔اورتالی بجاتا کمرے مین داخل ہوا۔ سلطان صاحب اور التمش اسے یوں سامنے دیکھ کر ایک پل کے لیے گھبڑا گے۔
تم اتنی رات کو جاگ کیوں رہے ہو؟ حازم نے اسے ڈانٹے ہوۓ کہا۔
او مائی گاڈ! مجھے اتنا تو پتہ تھا۔ اپ سب کچھ نا کچھ تو کر رہے ہو۔ اور زویا کو کسی گاؤں میں بھیجا ہوا ہے۔ بہت بار میں نے آپ دونوں کے منہ سے بدلے کی باتین سنی۔ اب سمجھ آ رہا ہے۔ آپ جو اتنی جلدی میری شادی کے لیے مان گے اسکے پیچھے یہ سب چال تھی۔ آپ کو اریشہ کے گھر والوں سے بدلہ لینا تھا۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ یہ سب کیا سن اور دیکھ رہا ہے۔
سلطان صاحب اور حازم چپ رہے۔
کم از کم اپنے اس گندے کھیل میں اریشہ کو تو نا لاتے۔ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔
گندھے کھیل ہاہاہا تو جو پچھلے ایک سال سے اس لڑکی سے نکاح کر کے بیٹھا ہے وہ ٹھیک ہے؟ تو نے ہم سب کو دھوکہ دیا وہ ٹھیک ہے؟ حازم مزید چپ نا رہ سکا اور طنزیہ انداز میں بولا۔
نکاح۔۔ آپ کو کیسے پتہ چلا۔ کہی آپ نے اسکے گھر میں یہ بات تو نہیں کھول دی۔ اسی لیے کل سے اسکا فون بند جا رہا ہے۔ سراج نے شاکیہ انداز میں کہا۔
ہاں کھولا تو؟ حازم اکڑتے ہوے بولا۔
بھائی آپ کو زرا شرم نہیں آ رہی۔ آپ نے ایسا کیوں کِیا؟ وہ زور سے چیخا۔ رات کے سناٹے میں اسکی آواز پورے گھر میں گھونجی۔
تم اگر چھپ کر نکاح کر سکتے ہو تو میں اسے سب کے سامنے کھول بھی نہیں سکتا؟ حازم بھی اسی طرح چِلایا۔ سلطان صاحب ایک طرف کھڑے بس سن رہے تھے۔۔
حمیدہ بیگم اتنا شور سن کر کمرے سے باہر نکل تو سٹدی روم میں حازم اور سراج کو لڑتے پایا وہ فوراً وہاں پہنچیں۔
کیا ہوا؟ اتنی رات کو کیوں لڑ رہے ہو؟ وہ حیرانگی سے بولیں۔
آپ کے شوہر اور بیٹے نے اپنے بدلے کی آگ میں آپ کے دوسرے بیٹے کو قربان کیا ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔حمیدہ بیگم نے نا سمجھی میں ان تینوں کی طرف دیکھا۔
تم ماما کو یہ بھی بتاؤ۔ اس لڑکی سے پہلے ہی نکاح کر چکے ہو۔ حازم بھی بھرپور طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
کیا؟ سِراج یہ میں کیا سن رہی ہوں؟ حمیدہ بیگم نے غصے سے پوچھا سیرت اور منت بھی اتنا شور سن کر اپنی آنکھیں مسلتیں نیچیے آ گئیں۔
ماما وہ۔۔۔۔ سِراج ہکلایا۔
ٹھاہ۔۔۔۔ حمیدہ بیگم کا ہاتھ اُٹھا اور سِراج کے چہرے پر نِشان چھوڑ گیا۔ وہ دوبارہ مارنے کو بڑھیں۔۔
ماما کیا کر رہین ہیں؟ منت نے آگے بڑھ کر حمیدہ بیگم کو رُکا۔
سِراج میری نظروں کے سامنے سے دفع ہو جاؤ۔ حمیدہ بیگم چلائیں۔ آج پہلی بار سب نے حمیدہ بیگم کو اتنے غصے میں دیکھا تھا۔
سِراج گردن جھکاۓ وہاں سے نکل گیا۔۔۔
بھیو رُکو اتنی رات کو کہاں جا رہے ہو؟ سراج داخلی دروازے کی طرف بڑھا تو سیرت اسکے پیچھے بھاگی۔ پر وہ بنا اسکی سنے اپنی بائیک لے کر گھر سے نکل گیا۔
حازم بھی مزید وہاں کھڑا نا رہا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
منت مین گیٹ بند کرو۔ اور تم دونوں جا کر اپنے کمرے مین سو جاؤ۔ جس کو گھر سے باہر رہا ہے رہے۔ جاؤ حمیدہ بیگم نے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔ منت اپنی ماں کو اتنے غصے مین دیکھ کر بنا کچھ بولے دروازہ بند کرتی سیرت کو کمرے میں لے گئی۔
اب وہاں پر حمیدہ بیگم اور سلطان صاحب ہی کھڑے تھے۔۔۔۔
آپ کے اس بدلے کے گندے کھیل میں اگر میرے بچوں پر کوئی مصیبت آئی۔ تو خدا کی قسم سلطان ملک میں بخشوں گئی نہیں۔ حمیدہ بیگم انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولیں اور اگلے ہی پل وہاں سے نکل گئیں۔
حمیدہ بیگم میرے اس کھیل میں اگر تم نے اپنی ٹانگ اڑانے کی کوشش کی تو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دوں گا۔اور کسی کو پتہ بھی نہین چلے گا۔ہاہاہا سلطان صاحب ان کے جانے کے بعد وہاں پڑے سٹدی ٹیبل پر بیٹھیے اور پیپر ویٹ گھماتے ہوۓ بولے۔
سب نے براۓ نام ناشتہ کیا۔ اسکے بعد حویلی کے سب فرد جہانگیر خان کے کمرے میں موجود تھے۔
آپ سب کو کیا لگتا ہے۔ جو کچھ کل ہوا اسکا حل کیا ہو سکتا ہے؟ جہانگیر خان بیڈ پر بیٹھے سامنے سب کو دیکھ کر سوالیہ انداز میں بولے۔
فیصلہ کیا ہونا ہے۔ میں تو کہتا ہوں ایسے بہنوں کا قتل کر دینا چاہیے۔ ماجد جو کہ ابھی ابھی ہسپتال سے واپس آیا تھا۔ کمرے میں لگی بیٹھک پتہ چلا تو فوراً وہاں پہنچا۔
ماجد کیوں دل کو دھلانے والی باتیں کر رہے ہو۔ سہیل صاحب بولے۔
جو کل ہوا اس سے تو اچھی ہی بات کر رہا ہوں۔ ماجد قمیض کے کف فولڈ کرتے ہوۓ بولا۔
تمہارا باپ ہسپتال مین ہے اور تم یہاں مارنے وارنے کی باتیں کر رہے ہو۔ رفاقت صاحب غصے سے بولے۔
واہ چاچا آپ کو بری میرے باپ کی فکر ہو گئی۔ کل سے ہسپتال مین پاؤں تو رکھا نہین برے آۓ۔ اور دادا جی جتنی بے عزتی ان دو دنوں مین ہو چکی ہے اس حساب سے میں تو کہتا ہوں۔ اگر گاؤں میں واپس اپنا مقام بنانا چاہتے ہو تو ان دونوں کو سارے گاؤں والوں کے سامنے سزا دو۔ تا کہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت کرنے کی کوشش نا کرے۔ ماجد رفاقت صاحب کو دوٹوک سنا کر رخ جہانگیر صاحب کی طرف موڑ گیا۔ صایمہ بیگم نے حیرانگی سے ماجد کی باتیں سنی۔ چاہے اریشہ نے جو بھی کیا تھا پر وہ ان کی بیٹی تھی۔۔
جاری ہے
