Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
وہ نماز پڑھ کر سیدھا ہوٹل میں آیا۔ اس کا ارادہ تو کل حویلی واپس جانے کا تھا۔ پر اس سارے واقع کے بعد وہ مزید دیر نہیں کرنا چاہتا تھا۔ بنا ناشتہ کیے وہ واپس گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔۔۔۔
بارہ بجے کے قریب وہ سیدھا اس گھر میں گیا۔ جہاں روحان قید تھا۔ وہ چلتا ہوا صوفے پر بیٹھ گیا۔ اپنا سر پیچھے کی جانب گِڑا دیا۔ ندامت کا ایک آنسوں اسکی آنکھ سے نکلا۔ وہ نہیں جانتا تھا اب کیسے وہ معافی مانگے گا۔ کیسے سب ٹھیک کرے گا۔ حانکہ جتنا برا وہ کر چکا تھا۔ اس کا اذالہ کرنا مشکل تھا۔
چھوٹے سائیں پانی تبھی گھر کا ملازم آیا۔اور اسکے اگے پانی کا گلاس پیش کیا۔
وہ ہمم وہ لڑکا جو کمرے میں قید ہے۔ اسنے کھانے کھا لیا؟ وہ اپنے آپ کو نارمل کر کے سوالہ انداز میں بولا۔
چھوٹے سائیں جس دن کا آپ نے بولا تھا۔اسے اچھا کھانا دینا ہے۔ میں روز تین وقت کھانے لے کر اسکے کمرے میں جاتا تھا۔ پر وہ صرف دو لُکمے ہی کھاتا تھا۔ آج صبح سے تو اسنے کچھ نہیں کھایا۔ عجیب بہکی بہکی باتیں کر رہا ہے۔ ملازم اپنا سر جھکا کر بولا۔
ہمم چلو میرے ساتھ دیکھتا ہوں۔ التمش کھڑا ہوا۔ اور ہمت کر کے بیس مینٹ کی طرف قدم بڑھا دیے۔بیس مینٹ میں نیچے جاتے ایک کمرہ تھا۔ جسکا دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا۔ سامنے زمین پر روحان لیٹا ہوا تھا۔
یہ تو وہ ہٹکا کٹا نوجوان نہیں لگ رہا تھا۔ سامنے تو پتلا سا لڑکا لیٹا ہوا تھا۔ بھوکے رہنے کی وجہ سے وہ بہت زیادہ دبلا ہو گیا تھا۔ چہرے پر داڑھی کافی بڑھ چکی تھی۔ آنکھوں کے گرد گہرے کالے ہلکے پڑے ہوۓ تھے۔اسکی یہ حالت دیکھ کر وہ ایک بار پھر سے گہری پاتال میں گِڑا۔ ایک پل کو اسکو اپنے قدم لڑکھڑاتے ہوۓ محسوس ہوۓ۔ خود کو سھنمبال کر وہ اسکی طرف بڑھا۔
رو۔۔۔۔۔ اہمم روحان اسکے پاس بیٹھ کر وہ اپنا گلا کھنگال کر بولا۔۔ آواز جیسے گلے سے نکلنا نہین چاہتی تھی۔ سامنے پڑے وجود میں کوئی حرکت نہیں ہوئی۔۔
روحان اُٹھو کھانا کھا لو۔۔۔۔وہ نیچے اسکے سامنے بیٹھے ہوۓ بولا۔۔۔پر روحان ویسے ہی پڑا رہا۔۔۔۔۔
روحان۔۔۔۔۔ اسے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھ کر ہلکا سا ہلایا۔ اسکو اپنا ہاتھ جلتا ہوا محسوس ہوا۔
یا خدا۔۔۔۔۔۔۔ وہ پریشان سا اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر چیک کرنے لگے۔۔۔ روحان کو وجود بخار میں تپ رہا تھا۔۔۔۔ اور اسکی سانس دھمیی چل رہی تھی۔۔۔۔۔
گاڑی نکالو۔۔۔اسے جلدی سے ہسپتال لے کر جانا ہے۔ وہ زور سے چیخا۔اسے اُٹھا کر باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔۔
گاڑی کی پچھلی سیٹ پر روحان کو لٹا کر وہ جلدی سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ اور اگلے ہی پل گاڑی ہواؤں سے باتیں کرنے لگ گئی۔
اللہ پاک اسے کچھ مت کرنا۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں ساری زندگی خود کو معاف نہیں کر پاؤں گا۔ وہ گاڑی کو ایک سو تیس کی سپیڈ پر ڈال کر بولا۔۔ اندر سے وہ بہت زیادہ ڈر گیا تھا۔
اگلے دس منٹ میں گاڑی ہسپتال کے قریب رُکی۔ روحان کو سٹریچر پر لٹا کر ایمرجنسی واڈ میں لے جایا گیا۔ ڈاکٹر نے جلدی سے ٹریٹ مینٹ شروع کر دی۔۔۔۔۔۔
وہ پریشان سا سامنے کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔
زویا ساری رات کیچن میں بیٹھی رہی وہان نیند کس کو آنی تھی۔۔اتنی ٹھنڈ میں نیچے ٹھنڈے فرش پر بیٹھانا ہی مشکل تھا سونا تو دور کی بات تھی۔ اگلی صبح سب کے لیے ناشتہ بنا کر وہ سب کی نظروں سے بچتی اوپر اریشہ کے کمرے میں آئی۔۔
اریشہ میڈم اتنا برا گل کھلا رہی تھی تو کچھ تو ایسا ہو گا۔ جو تم نے چھپایا ہو گا۔ زویا کمرے مین داخل ہو کر پیچھے سے دروازہ بند کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہو سکتا ہے یہان کچھ ہو۔۔وہ آگے سائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھی۔ بیڈ کی دونون سائیڈ ٹیبل، ڈریسنگ ٹیبل الماری سب کچھ چھان مارا۔ پر کچھ نہیں ملا۔۔۔
بری تیز ہے کچھ بھی نہیں رکھا۔ اب کیا کرو۔ اگر کچھ نا ملا تو پلین فیل ہو جاۓ گا۔ ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
تبھی اسکی نظر الماری کے اوپر ایک چھوٹے سے بلیک ڈبے پر پڑی۔۔اسنے جلدی سے کرسی گھسیٹی اسکے اوپر چڑ کر وہ ڈبے تک پہنچی۔۔۔
ڈبے کو کھولا تو اس میں زیور تھا۔ زویا نے کچھ حیرانگی سے زیور کو دیکھا۔ وہ کافی سال پرانا لگ رہا تھا۔ اسے اگنور کر کے اسنے ڈبے کو دوبارہ الماری پر رکھ دیا۔۔۔
اف کچھ نہیں ملا۔۔۔ وہ اکتا کر بولی۔۔۔۔تبھی اسکی نظر الماری کے اوپر پڑے کپڑے پر پڑی۔
اسمے جلدی سے ایک طرف سے کپڑا پکڑکر اوپر اُٹھایا۔۔ تو دھول اسکی ناک میں چڑھی۔اسے چھینکیں آنی لگیں۔۔ اور ساتھ ہی کھانسی بھی۔۔۔۔ ایک کے بعد ایک چھینکے مارتے وہ بے حال ہوئی۔۔ تبھی اسنے سامنے دھول مین لپٹے کچھ پیپرز دیکھے۔
یہ کیا ہے؟ وہ حیرانگی سے اس فائل کو دیکھنے لگی۔۔ جیسے جیسے وہ فائل کو پڑھ رہی تھی اسکی انکھین حیرت سے پوری کھل رہی تھیں۔ فائل میں آخری مین اسے کچھ پیپرز ملے۔۔ زویا جلدی سے الماری پر سب برابر کر کے نیچے اتری ۔۔
یا اللہ یہ لڑکی کتنی تیز ہے۔ کیسء سب کی آنکھوں مین دھول جھونک رہی ہے۔۔۔ زویا نے نفی میں سر ہلایا۔ اور فائل سے پیپرز نکال کر اسنے ڈریسنگ کا ایک ڈرار کھول کر اس میں رکھ دی۔۔ کچھ پیپرز کو اپنے ڈوپٹے کے نیچے چھپا کر وہ کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر نکل آئی۔۔۔وہ سب سے بچتی اپنے کمرے میں پہنچی پیپرز کو سھنمبال کر رکھا۔ اور چہرے پر گہری مسکراہٹ لے کر وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔۔
بھائی یہ کیا بات ہوئی۔ کیا میرا کوئی دل نہیں کیا میرے دل کے اندر کوئی جزبات نہیں۔ کیا مجھے شوق نہین میں بھی اپنے بھائی کی دلہن کو دیکھنے جاؤ۔ خود انکی بات پکی کر کے آؤ۔ سیرت صبح سے اپنے دکھڑے سُنا رہی تھی۔۔۔۔
اپنے جزباتوں کو اپنے اندر رکھو۔ بھائی کا رشتہ لے کر جا رہے ہیں۔ اور مت بھولو تم پہلے ہی بھابھی کو دیکھ چکی ہو۔ منت آخر میں آہستہ آواز مین بولی۔۔۔۔۔
تم چپ کرو۔۔۔ سراج بھائی پلیز ماما کو بولین مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔ قسم سے گاؤں دیکھنے کا اتنا شوق ہے۔ سنا ہے یہ جو برے برے جاگیردار ہوتے ہیں۔ بہت خوبصورت ہوتے ہیں۔ وہ سراج کے پاس آکر بولی۔۔۔
یا اللہ اس لڑکی کو تحوڑی سی عقل دے۔کیسے برے بھائی کے سامنے لڑکوں کی باتیں کر رہی ہے۔ پیچھے سے سیرت کی کمر پر حمیدہ بیگم کا تھپڑ پڑا۔۔۔
آہ ماما کیا ہے؟ میں تو بس ایسے ہی بول رہی تھی۔ مجھے تو گاؤں کی خوبصورت فضا دیکھنی تھی۔۔وہ اپنی کمر کو سہلاتے ہوۓ بولی ۔پیچھے سے منت کا قہقہا بلند ہوا۔۔۔۔
منت کی بچی اپنی دانت اندر رکھ ورنہ توڑ دوں گئی۔۔ وہ غصے سے منت کی طرف بڑھی۔۔۔۔
ارے ارے گڑیا۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔ تم آج ان سب پر رحم کرو۔ پکا وعدہ ہے۔رشتہ فائنل ہو جاۓ گا تو مین خود تمہیں لے کر جاؤں گا۔ سراج جو کب سے سب سن رہا تھا۔ آخر میں ہنستا ہوا سیرت کو پکڑ کر بولا جو کہ منت کو مارنے کے لیے جا رہی تھی۔۔ حمیدہ بیگم نفی میں سر ہلاتیں اپنے کمرے کی طرف بڑھیں۔۔۔
فائن میرے فیورٹ بھائی بول رہے ہیں تو ٹھیک یے۔ ویسے میں اتنی جلدی مانتی نہیں پر صرف اپنے ہینڈ سم بھائی کے لیے۔لیکن بس میری ایک شرط ہے۔ سیرت احسان جتاتے ہوۓ بولی۔۔۔
جی حکم کریں ملکہ عالیہ! سراج اپنی بہن کے انداز پر ہنسا۔۔
جی تو کان کریں۔۔ وہ آگے ہو کر سراج کے کان مین کچھ بولی۔۔۔ جسے سن جر وہ مسکرایا۔۔۔
اوکے ان کو جانے دو پھر چلتے ہیں۔۔۔ سراج مسکرا کر بولا۔
ویسے سیرت تم نے یہ کیوں بولا۔ سراج بھایی تمہارے فیورٹ ہیں؟ منت جو کہ سامنے کمرے سے نکلتے حازم کو دیکھ چکی تھی۔ تو فوراً بولی۔۔۔
ارے تم نہیں جانتی۔ سراج بھائی فیورٹ ہیں کیونکہ وہ میری طرح خوش مِجاز نہیں ہیں۔ ایک نمبر کے اکڑو ہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے وہ ہمارے بھائی نہیں ہیں تبدیل ہو گے ہیں۔ سیرت اپنی دھن مین بولے جا رہی تھی۔۔۔۔
میرا پتہ نہین لیکن تم جیسی بدتمیز لڑکی میری بہن نہین ہو سکتی۔ تبھی پیچھے سے حازم کی آواز آئی۔ جو کہ اپنا غصہ ضبط کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔
حا۔۔۔۔۔۔۔ز۔۔۔۔۔اپنے پیچھے سے حازم کی آواص سن کر۔ وہ ہکلا کر بولی۔۔۔۔۔
بدتمیز۔ تمہیں کتنی دفع سمجھایا ہے۔ ایسی باتیں نہین کرتے۔ اور ویسے بھی میں نے تم بسب پر کون سے ظلم۔کے پہاڑ گڑاے ہین جو ایسے ناموں سے نواز رہی ہو۔ وہ غصے سے بولا۔۔۔۔۔ سیرت اسکا غصہ دیکھ کر کانپ گئی۔ آنسوں آنکھوں سے جاری ہو گے۔۔۔۔۔۔
بھائی نادان ہے۔۔ ایسے ہی بول دیا۔۔ آپ تو سمجھ دار ہیں۔ معاف کر دیں۔ سراج اگے بڑھ کر بولا۔۔۔۔
سیرت آخری دفع میں تمہارا بچپنا سمجھ کر معاف کر رہا ہوں۔ آئیندہ میرے سامنے دوبارہ ایسا بی بیہویر مت رکھنا۔ ماما کہاں ہین جلدی چلین۔ وہ اسے وان کر کے اونچی اونچی بولتا باہر چلا گیا۔۔۔
سب مجھے ہی ڈانٹ دیتے ہیں دیکھیے گا ایک دن سب مجھے یاد کر کے روئیں گے۔ جب میں اپنے شوہر کے گھر چلی جاؤں گئی ایک وہی تو لڑکی کا اصل گھر ہوتا ہے۔ وہ روتے ہوۓ بولے جا رہی تھی۔۔۔۔۔م
ہاہاہاہاہاہاہا سیرت تمہارا کچھ نہیں وہ سکتا۔۔۔ منت صوفے پر ہنستے ہوۓ دھری ہو گیی۔۔
سراج بھائی میں نے ایسا کیا بولا جو یہ چڑیل ایسے ہنس رہی ہے۔ وہ انکھیں بری کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔ سراج نے اپنی مسکراہٹ چھپائی۔
میرا بچہ کچھ نہیں۔ تم حازم بھائی کی باتون کو غصہ مت کرو۔ جاؤ جلدی سے تیار ہو جاؤ۔ مین اریشہ کو بولتا ہوں۔ہم آ رہے ہیں۔ سراج نے اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لیے کہا۔۔ اور وہی وہ بھاگ کر اپنے کمرے مین چلی گئی۔۔۔۔
تم جانتی تھی حازم بھائی پیچھے ہین پھر بھی بکواس کی۔۔۔۔۔ اب سراج کے ہاتھ مین منت کا کان تھا۔۔۔
سوری سوری بھائی چھوڑ دو۔۔۔۔۔ وہ چلائی۔
تم جانتی ہو وہ سمجھ دار نہین پھر بھی اسے تنگ کرتی رہتی ہو۔ سراج نے اسکا کان چھوڑ کر کہا۔۔۔۔۔
اور وہ جو کرتی ہے اسکا کیا؟ منت منہ بسور کر اپنا کان مسلتے ہوۓ بولی۔۔ سراج نے نفی مین سر ہلا دیا۔۔۔۔
منت بیٹے حازم کب سے باہر انتظار کر رہا ہے۔ سارا سامان گاڑی مین رکھوا دیا؟ وہ اپنی ساڑھی کا پلو ٹھیک کرتے ہوۓ بولین۔۔۔
یس میری بیوٹی فل ماما۔ سب رکھوا دیا۔ آپ جائیں اور ہماری پیاری سی بھابھی کو اوکے کر کے ہی آئیے گا۔۔ وہ پیچھے سے حمیدہ بیگم کے کندھوں کا ہار بنتے ہوۓ بولین۔۔۔۔
انشااللہ! ضرور بات پکی کر ہی لوٹیں گے۔رات کو دیر ہو جاۓ گئی۔ اگر تم لوگ کہی جاؤ تو جلدی آ جانا۔ ۔ اپنے ڈیڈ کو کھانا دے دینا۔ وہ منت کو سمجھاتے ہوۓ بولیں۔اور باہر کی طرف بڑھیں۔۔جہاں حازم فون ہر لگا ان کا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
ڈاکٹر اسکی طبعیت اب کیسی ہے۔ وہ بیڈ کے پاس کھڑا ڈاکٹر سے مخاطب ہوا۔
چھوٹے سائیں! اس لڑکے کا مین نے پورا چیک اپ کر لیا ہے۔ بہت کمزور ہو گیا ہے۔ اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ شکر خدا کا برین ہیمرج نہیں ہوا۔ اگر آپ تھوڑی دیر اور کرتے تو بات ہاتھ سے نکل سکتی تھی۔ ہم کچھ دن انہیں یہیں رکھیں گے۔ تاکہ ان کی حالت مین بہتری آ سکے۔ ڈاکٹر روحان کو ڈرپ لگا کر التمش کی طرف مُڑ کر اسکی کنڈیشن بنانے لگا۔
برین ہیمرج۔۔۔۔۔التمش کے منہ سے بامشکل یہ الفاظ نکلے۔۔۔
جی چھوٹے سائیں۔۔۔۔ ایسا لگتا ہے ان پر کافی ٹاچر کیا گیا ہے۔ ذہین پر کافی برا اثر پڑا ہے۔۔ میرا خیال ہے اگر آپ ان کے کسی اپنے کو یہاں پر بُلا لین تو بہتر ہے۔ جو ان کی اچھی دیکھ بال کر سکے۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر نے مشورہ دیا۔۔۔۔
ہممم جی آپ علاج کریں۔ میرا خاص ملازم یہی ہے اگر خدا نا خاستہ کچھ ہوا تو یہ مجھے کال کر دے گا۔۔ مین تب تک اسکے گھر والوں کو بتاتا ہوں۔ التمش خود کو سھنمبال کر بولا۔۔۔
آپ اسے کسی روم مین شفٹ کر دیں۔ التمش کچھ سوچ کر بولا۔۔۔
جی بالکل کیوں نہیں۔۔۔۔۔ڈاکٹر بول کر اگلے مریض کی طرف بڑھا۔۔۔۔
گل خان تم تم یہی رہو۔۔۔ مین کچھ دیر تک آتا ہوں۔۔ التمش دور کھڑے گل خان کی طرف بڑھا۔ اور بول کر آگے بڑھ گیا۔۔ گل خان سب کچھ جانتا تھا۔ پر ابھی تک اسے یہ سمجھ نا آئی۔ کہ کچھ دن پہلے اس لڑکے پر ظلم کرنے والا آج اسکو بچانے کے لیے کیوں یہاں لے آیا۔۔بہت سے سوال اسکے دماغ مین تھے۔ پر وہ اپنے مالک سے پوچھ نہیں سکتا تھا۔۔تو سر ہلا کر ایل طرف کھڑا ہوا گیا۔۔۔۔۔
التمش ہسپتال سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر اسنے اپنا سر ڈرائیونگ سیٹ پر پیچھے کی طرف گِڑا دیا۔۔
اب کیا کروں۔کیسے اسکے گھر والوں کو بتاؤ۔۔ نہیں مجھے ایسے نہیں بتانا چاہیے۔ اگر زویا خود انہیں بتاۓ تو شائد وہ سن سکیں۔۔ کچھ سوچ کر اسنے گاڑی حویلی کے راستے کی طرف بڑھائی۔۔۔۔۔۔۔
وہ آنے والے حالت کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا۔۔۔
ناجانے وہ کیسے ری ایکٹ کرے گئی؟ مجھے سمجھے گئی؟ میں نے کیا ہی غلط ہے تو وہ کیسے سمجھے گئی۔ بہت سی سوچیں اسکے دماغ میں چل رہیں تھیں۔ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیر کر اسنے اپنے آپ کو پرسکون کرنے کی کوشش کی۔ اسکی انکھوں لال ہو رہیں تھیں۔۔۔۔۔۔
“”*
ابا مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ ماجد اس وقت حال مین بیٹھے خالد صاحب سے مخاطب ہوا۔۔ جو کہ سامنے رکھے ٹیوی پر نیوز دیکھ رہے تھے۔
ماجد حویلی آ تو جاتا پر کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ وہ ابھی بھی سب کو ہی قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔ وہ سوچتا تھا سب نے اسکے معاملے مین دخل دے کر بہت غلط کیا۔ خاص کر التمش۔۔۔۔اب تو اسے التمش سے شدید نفرت ہونے لگ گئی تھی۔۔
بولو۔۔۔۔ سرد لہجے میں خالد صاحب کا جواب آیا۔۔۔۔
میرا وہ دوست ہے نا حازم وہ اور اسکی ماں ہماری اریشہ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آ رہے ہیں۔۔ ماجد نے صاف صاف بولا۔
کیا؟ وہ سنتے ہی صوفے سے کھڑے ہو گے۔
کیا ہوا ابا جی ایسی کیا بات کر دی۔
تمہارا دماغ خراب ہے ابھی کے ابھی انہین انکار کرو۔ اگر حویلی میں کسی کو اس بات کا پتہ بھی چل گی نا تو تماشا لگ جاۓ گا۔ وہ اسے قریب آ کر اپنے آواز کو آہستہ کرتے غصے سے بولے۔۔
ابا اگر اسکے بھائی سے اریشہ کی شادی ہو جاۓ گئی۔ تو سب سے بہتر ہمارے لیے ہے۔ وہ یہاں فیکٹری شروع کر رہا ہے۔ اور بہت جلد مین اسکے ساتھ کاروبار شروع کر رہا ہوں۔ ہمارے کاروبار میں بہت ساتھ دے گا۔۔ ماجد نے انہیں منانے کی کوشش کی۔۔۔
ماجد پہلے کیا کم پیسہ ہے جو یہ سب گندے کھیل کھیلو گے۔ اور مت بھولو اریشہ شمش کی منگیتر ہے۔ اور یہ منگنی ابا جی نے بچپن میں کی تھی۔ ان کے خلاف جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خالد صاحب آس پاس دیکھ کربولے۔ کہی کوئی سن نا لے۔
او ابا بس کریں یہ سب بچپن کی منگیاں فضول ہوتی ہیں۔ جب سالوں پرانی روایات کو دادا جی توڑ سکتے ہیں۔ یہ تو صرف منگنی ہے۔ اور یہ شادی تو ہو کر رہے گئی۔ اس مین دخل اندازی میں برداشت نہیں کروں گا۔۔ ماجد کہ کر اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ خالد صاحب اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گے۔۔۔۔
یا اللہ بھابھی اتنا مہنگا سونے کا ہار تھا۔ سارا کمرہ چھان مارا پر نہیں ملا۔ میری اماں کی آخری نشانی تھی۔ آئمہ بیگم روتے ہوۓ حال کے صوفے پر بیٹھیں جہاں ہر پہلے ہی صائمہ بیگم بیٹھی کپڑے پر کڑھائی کر رہیں تھیں۔۔۔۔
وہی کہی ہو گا۔ جاؤ دھیان سے دیکھو۔ صائمہ بیگم نے عام سے لہجے مین بولا۔۔۔۔
نہین بھابھی تین دفع کمرے کی الماری بلکہ پورا کمرہ چھان مارا نہین مل رہا۔۔۔۔۔ میری اماں کی آخری نشانی تھی۔ ضرور کسی ملازم نے چوری کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔ وہ روتے ہوۓ بولے جا رہیں تحیں۔۔
آئمہ کیا بات کر رہی ہو کس میں اتنی ہمت جو ہماری حویلی میں چوری کرے۔ اچھا بتاؤ آخری دفع کون کمرے میں گیا تھا۔ صایمہ بیگم نے کڑھائی کرتے کپڑے کو سائیڈ پر رکھ کر اپنا رخ آئمہ بیگم کی طرف کیا۔۔۔۔جو بہت پریشان نظر آ رہیں تھیں۔
آخری دفع تو نجو اور وہ زویا ہی کمرے مین آئیں تھیں۔۔ بھابھی پکہ پکہ اس زویا نے چوری کیا ہو گا۔ کل اسکی اتنی بےعزتی کی نا اسکا بدلہ لیا ہو گا۔ آئمہ بیگم نے چوری کا الظام زویا جے سرڈال دیا۔۔۔
ہم ایسے کسی پر الظام نہین لگا سکتے ابھی اسے بلا کر پوچھ لیتے ہین۔ صائمہ بیگم نے کہا اور زویا کو بلانے کے لیے ملازمہ بھیجا۔۔۔۔۔
زویا باہر لانڈری والی جگہ پر تھی۔ ملازمہ کی بات سن کر وہ بھی اسکے پیچھے آ گئی۔۔۔
جی بولیں کیا بات ہے؟ اب کیا تماشا لگانا ہے؟ وہ اُکھڑے ہوۓ انداز مین بولی۔۔۔
بدتمیز۔۔۔چورنی بتا میری اماں کا ہار کہاں ہے۔ آئمہ بیگم غصے سے کھڑی ہو گئی۔۔ اور زویا کے بال کھینچ کر پوچھا۔
آہ۔۔۔۔کون سا ہار کیا بات کر رہی ہیں۔ وہ اپنے بال چھڑواتے ہوے بولی۔۔۔
وہی ہار جس کو تو نے میرے کمرے کی الماری سے نکالا ہے۔ آئمہ بیگم غصے سے اسکی طرف بڑھین۔۔
یا اللہ مدد کر میری مدد کر۔ یہ کن پاگلوں کے پلے ڈال دیا ہے۔ آئمہ بیگم صاحبہ جی اپنے کانوں کو کھولیں اور غور سے سنیں میں نے کسی کا کوئی ہار نہیں چُرایا۔ مجھے کوئی شوق نہیں آپ جیسے بے حس لوگوں کے گھر میں۔۔۔۔۔۔ وہ ابھی بول ہی رہی تھی۔ کہ صائمہ بیگم کا ہاتھ اُٹھا اور اسکے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔۔۔۔وہ اپنے آپ کو سھنمبال نا سکی اور زمین پر گِڑی۔ ماتھا ٹیبل کے کنارے پر جا لگا۔۔۔۔
آہ۔۔۔۔ اسکے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔۔۔
بدذات تیرا کیا بھروسہ ناجانے اب تک کیا کیا چوری کر لیا ہو گا۔ اب تو تیرے کمرے کی ہر چیز کی تلاشی ہو گئی۔ صائمہ بیگم نحوست سے بولین۔ انکی اواز میں واضع نفرت تھی۔ کمرے کی تلاشی کا سن کر زویا کے چہرے پر خوف سا چھایا۔ اگر تلاشی ہو گئی تو اسکا موبائل ملے گا۔۔یہی سوچ کر اسکی جان نکل گئی۔۔
اماں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ ابھی زویا کچھ بولتی کہ حال میں التمش کی آواز گھونجی۔۔۔ جو کہ ابھی ابھی حویلی پہنچا تھا۔ باہر مردان خانے میں سب سے مل کر وہ اندر آیا تھا۔۔تبھی سامنے یہ سب ہوتے دیکھ کر وہ پریشان یو گیا اور اسکی طرف بڑھا۔۔۔۔
شکر ہے التمش تم آ گے۔ دیکھو یہ لڑکی کتنی بدتمیزی کر رہی ہے۔ ایک تو میرا ہار چُرا لیا اوپر سے اتنی لمبی زبان ہے۔ ہم سب کو پاگل کہ رہی ہے۔ آئمہ بیگم نے التمش کو دیکھ کر اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
التمش زویا کی طرف بڑھا۔ زویا نے اپنی آنکھیں زور سے میچ لیں۔۔۔
اُٹھو! اسنے زویا کو بازوں سے پکڑ کر کھڑا کیا۔ اسکی نظر اسکے ماتھے پر پڑی۔ جہاں سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا۔ اسنے اپنی جیب سے رومال نکال کر اسکے ماتھے سے خون صاف کیا۔۔۔۔۔ صائمہ بیگم ہونوں کی طرح التمش کا برتاؤ دیکھ رہیں تھیں۔
التمش اسکی بدذات ،بدکردار لڑکی سے دور رہو۔۔۔ صائمہ بیگم نے اسے دور کیا۔۔۔
بدکردار!! اماں کیا بول رہی ہیں؟ التمش کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔۔۔۔
وہی بول رہی ہیں جو سچ ہے۔ تم اس لڑکی کو نہیں جانتے۔ نا جانے کتنے لڑکوں کے ساتھ چکر ہین۔ایک کو تو میں نے اسکے کمرے سے آدھی رات کو نکلتے دیکھا تھا۔آئمہ بیگم آگے بڑھ کر بولیں۔۔۔
چاچی آپ کو اندازہ بھی ہے۔ کس قدر گھٹیا الفاظ نکال رہی ہیں۔ وہ سنتے ہی غصے سے چلایا۔۔۔
کیا گھٹیا الفاظ جب اسکو ایسے کام کرتے شرم محسوس نہیں ہورہی تو ہمیں اسکے کرتوت بتاتے کیوں شرم محسوس ہو۔۔۔۔ جاؤ ابا جی کو برے صاحب کو بلا کر لاؤ۔ آج تو اسکا فیصلہ ہو کر ہی رہے گا۔ صائمہ بیگم نے دور کھڑے ملازم سے کہا۔۔۔۔ زویا پاس کھڑی تھی۔ اسے تھوڑا سا حوصلہ ہوا ۔۔۔۔التمش اسکا ہی ساتھ دے گا۔۔۔
اماں خدارا چپ کر جائیں پہلے ہی سر درد سے پھٹ رہا ہے۔ نا جانے کیا بولے جا رہین ہیں۔ التمش اپنے سر کو مسلتے ہوۓ بولا۔۔۔
کیا ہوا؟ جہانگیر خان اور خالد صاحب حال مین داخل ہوتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
ابا جی اس بات کو میں اسی دن بتانا چاہتی تو بتا سکتی تھی۔ پر میں نے التمش کے آنے کا انتظار کیا۔ صائمہ بیگم نے بات شروع کی۔۔ اور پھر آئمہ نے جو باتیں بتائیں تھیں سب بتا دیں۔۔۔۔ جہانگیر خان کو اپنا پلین صحیح جاتا ہوا محسوس ہوا۔۔
اے لڑکی بتا وہ کون تھا؟ ہماری حویلی مین ایسے کام کرتے تجھے زرا شرم نا آئی۔ بری عشق معشوقی چلا رہی ہے۔ جہانگیر خان گرجدار آواز مین بولے۔۔ زویا نے نفی مین سر ہلا دیا۔ اسے ایک بوڑھے آدمی کے منہ سے ایسے الفاظ سن کر مرنے کو دل کیا۔
نیچ ذات کی لڑکی ہے۔۔ایسا چکر تو ضرور چلاۓ گئی۔ خالد صاحب طنزیہ انداز مین بولے۔۔۔۔
بس بہت ہوا چپ اب کسی نے اپنی زبان سے ایک بھی گندی بات زویا کے متعلق نکالی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔ التمش انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔غصے کو برداشت کرتے اسکے گلے کی نسیں تن گئیں۔ آنکھون میں سرخیاں دوڑیں۔۔سب اسکو اس روپ مین دیکھ کر چپ ہو گے۔۔۔
چاچی اور اماں آپ دونوں کو بتا دوں۔۔ اس رات جس کو چاچی نے زویا کے کمرے سے نکلتے ہوۓ دیکھا تھا۔ وہ اور کوئی نہیں بالکہ میں تھا۔۔۔۔ وہ سخت لہجے میں بولا۔۔۔ صایمہ بیگم سن کھڑی رہیں۔۔۔زویا نے حیرانگی سے اسکی طرف دیکھا۔۔۔
تم اتنی رات کو اسکے کمرے مین کیا لینے گے تھے۔ تمہیں یاد نہیں تو یاد دلوا دوں۔ ونی میں آئی لڑکی نوکروں سے بھی نیچے درجے کی ہوتی ہے۔ خالد صاحب چلاۓ۔۔۔۔۔
اپنی بیوی کو ملنے گیا تھا۔ بیوی کے کمرے میں جانے کے لیے مجھے اپ سب کی آجازت کی ضرورت نہیں ۔اور میں آپ کی یہ فضول سی رسمیں نہین مانتا زویا کو چار گواہوں کے درمیان مین نے اپنے نکاح مین لیا تھا۔ اور نکاح سے بڑھ کر کوئی روایت نہیں ہوتی۔۔وہ بھی اسی انداز میں چِلا کر بولا۔زویا ہونق سی بنی اسکو سن رہی تھی۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ اسکے لیے لڑ رہا تھا۔۔۔
او تو تم نے اس لڑکی کو اپنی بیوی مان لیا۔۔۔ واہ بری بات ہے۔ ویسے تو برے برے دعواۓ کر رہے تھے اپنے بھائی کے قاتل کی بہن کو اپنی بیوی کبھی نہیں مانوں گا۔ماجد کی آواز گھونجی جو کہ سیڑیوں سے نیچے اتر رہا تھا۔۔۔
ہاں مان لیا۔ اور آپ سب بھی اب ایک بات اپنے دماغوں میں بیٹھا لیں۔ زویا اب میری عزت ہے۔ اور میری عزت پر اگر کوئی انگلی اُٹھاۓ گا تو اسکی انگلی کو توڑنا بہت اچھے سے جانتا ہوں۔ زویا اب سے اس حویلی کی بہو اور میری بیوی ہے۔ جسکو ماننا ہے مانے اور جس کو نہیں ماننا مت مانے۔ اب سے زویا اس حویلی میں زویا التمش خان بن کر رہے گئی۔۔ میری بیوی بن کر رہے گئی۔۔ میری بیوی کیسی ہے اسکا کردار کیسا ہے میں بہت اچھے سے جانتا ہوں۔ اسکے لیے کسی کے سرٹفیکٹ کی ضرورت نہیں۔وہ سب کی طرف دیکھ کر بولا۔ اسکے کہے گے الفاظوں سے ہر طرف سناٹا سا چھا گیا۔ صایمہ بیگم اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گئیں۔۔ جہانگیر خان اور خالد صاحب کی ساری چال الٹی پڑ گئی۔۔۔
زویا میرے ساتھ چلو۔۔۔ وہ اسکی طرف بڑھا جو کہ ہونوں کی طرح اسکا چہرہ دیکھ رہی تھی۔ التمش نے اسکا ہاتھ پکڑا اور سب کے درمیان سے اسے اپنے ساتھ لیے باہر کی طرف بڑھا۔ پیچھے وہ خاموشی سی چل رہی تھی۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے بھری محفل میں اسکا بیوی پکارنا اسکے کردار کی گواہی دینا اسے دنیا کے گندے سوالوں سے بچا گیا۔۔ وہ خاموشی سے اسے ساتھ چل رہی تھی۔۔ التمش نے اسے گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھایا۔ اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔ گاڑی حویلی سے نکال کر ہسپتال کے راستے پر ڈال دیا۔۔۔۔۔غصے سے اسکا دماغ پھٹ رہا تھا۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
