No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
بھائی پلیز صرف آج آخری دفع شاپنگ پر لے جائیے۔ پلیز اپ میرے پیارے والے بھائی نہیں ہو۔ سیرت سِراج کو مسکے لگا کر شاپنگ پر لے جانے کے لیے منانے کی کوشش کر رہی تھی۔
سیرت جی بھائی بالکل بھی نہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں۔ تم شاپنگ کے نام پر دوسرے بندے کو موت کے قریب لے جاتی ہو۔۔اگلا بندہ بھی توبہ کرتا ہے کہ کب کس وقت اس نے تمہاری بات مان لے اور چل دیا۔ منت قریب ہی صوفے پر لیٹی ہوئی تھی۔۔وہ بھی چھیرنے سے باز نا آئی۔
( اصل میں جب سیرت شاپنگ پر جاتی تو وہ ایک گھنٹے کی شاپنگ تین گھنتے میں کرتی۔اور دوسرا وہ دکاندار سے بحث بہت کرتی تھی۔جس کی وجہ سے سب ہی چڑتے تھے۔)
تم سے کسی نے مشورہ مانگا۔ چپ کر کے بیٹھی رہو۔۔۔۔۔وہ غصے سے بولی۔۔۔
سیرت گڑیا مجھے آج کام بہت زیادہ ہے میں تو نہین جا پاؤں گا۔ سِراج مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔
بھائی آپ میری بات نہیں مان رہے۔ وہ بھائی جو میرا فیورٹ ہے۔ جسے میں نے اپنے دل میں سب سے اوپر رکھا ہے۔ جس بھائی کا ہر کام میں کرتی ہوں۔ وہ بھائی جو سب سے پہلے میری بات مانتا تھا آج میرا بھائی میری ہی بات سے انکار کر رہا ہے۔ اور بات بھی کیا بس شاپنگ ہی تو کروانی ہے۔ وہ فل۔ ڈرامائی انداز میں بولی۔۔پاس بیٹھی حمیدہ بیگم کی ہنسی نکل گئی۔۔۔۔
یہ میری وہی بہن ہے جیسے کل میں نے کافی بنانے کے لیے بولا تھا اور میڈم جی نے بہانا بنا کر منع کر دیا تھا۔۔۔سِراج اس کے کان کو مڑورتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہاۓ مائی لوڈ معاف کر دیجیے۔ آئیندہ آپ کی یہ غلام ہر کام کرے گئی۔۔آہ۔۔۔۔ وہ زور سے چیخی۔۔۔۔سراج ہنس دیا۔۔۔سراج نے اس کا کان چھوڑ دیا۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے۔ کیوں جاہلوں کی طرح چلا رہی ہو۔ گھر میں رہنے کی تمیز نہیں۔ پہلے ہی سر میں درد ہے۔ اوپر سے کب سے تمہاری بکواس میرے کانوں میں پڑ رہی ہے۔ تبھی سامنے والے کمرے کا دروازہ کھولا اور حازم چلاتا ہوا باہر آیا۔۔۔۔وہ رات دیر سے سویا تھا۔اور ابھی بھی سیرت کی آواز سے آنکھ کھل گئی۔
سوری بھائی! وہ نم آواز میں بولی۔۔۔۔۔
جاہل اب کسی کی اواز نا آۓ۔ وہ بولتا ہوا واپس کمرے میں گھس گیا اور دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔
سیرت روتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔۔پیچھے منت اور سِراج روکتے رہ گئے۔پر وہ کسی کی سنے بغیر کمرے میں بند ہو گئی۔۔۔
حد ہے بچی کو رُلا دیا۔۔سراج وہ ساپنگ پر ہی۔ جانے کی ضد کر رہی تھی پر تم دونوں تو ہر وقت میری پھول سی بچی کو تنگ کرتے رہتے ہو۔ حمیدہ بیگم دونوں کو ڈانتے ہوۓ بولیں۔
ماما ہمیں ڈانٹنے کی بجاۓ اپنے اس اکڑو سڑیل بیٹے کو ڈانٹے۔ جو جب بھی بولتے ہیں ایسا لگتا ہے کڑوا کڑیلا کھایا ہو۔۔۔سِراج غصے سے اور اونچی آواز میں بولا۔وہ جانتا تھا اندر آواز جا رہی ہو گئی۔۔۔
چپ رہو سراج وہ تمہارا برا بھائی ہے۔ حمیدہ بیگم نے اسے ڈانٹا۔
ان کی منگیتر کو لے آئیے ورنہ یہ نا ہو تب تک ہم سب کا کچا کھا جائیں۔ جب سے وہ گئیں ہیں تب سے بھوکے شیر کی طرح ہر کسی پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ وہ غصے سے بولتا سیرت کے کمرے کی طرف بڑھا۔
سیرت گڑیا سوری چلو جلدی سے تیار ہو جاؤ ہم شاپنگ پر جا رہے ہیں۔آج تمہیں کھلی چھوٹ ہے اپنے اس بھائی کا سارا بٹوہ خالی کر دو۔ سراج اسے منانے کے لیے بولا۔۔۔۔
مجھے نہیں چاہیے آپ کے پیسے مجھے کسی سے بات نہیں کرنی میں تو زیادہ ٹائم لگاتی ہوں نا۔ جائیں اپنا ٹائم بچائیں۔ وہ منہ بسورتے ہوۓ بولی۔۔
منت جلدی سے باہر آ جاؤ آج ہم دونوں شاپنگ کر کے آتے ہیں۔ جس کو منہ بنانا ہے بناۓ راستے میں ہم پیزہ بحی کھائیں گے۔ سراج جانتا تھا اب سیرت بھاگ کر آ جاۓ گئی۔وہ دونوں باہر کی طرف بڑھے۔۔جب پیچھے سے سیرت کی اواز آئی۔
میں نے اب ایسا بھی نہیں کہا کہ بالکل نہیں جاؤ گئی میرا دل ویسے بھی برا ہے۔میں نے آپ جو معاف کیا۔ چلیے چلتے ہیں۔وہ اپنا موبائل پکڑتے ہوۓ بولی۔۔اور ان دونوں کے آگے چلنے لگئی۔ منت اور سیراج کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔۔۔۔
بی بی جی برے سائیں نے بیعام بجھوایا ہے کہ جو لڑکی ونی میں آئی ہے اسے بولیں کہ چاۓ لے کر مردان خانہ میں آۓ۔ وہ لڑکا آنکھیں جھکاۓ جہانگیر خان کا پیغام وہاں پر کھڑی سب عورتوں کو سنا رہا تھا۔
تمہیں اندر آنے کا کس نے کہا۔ صائمہ بیگم غصے سے بولیں۔
جی وہ برے صاحب نے بولا تھا۔ وہ منمنایا۔۔۔
ابا جی کو بھی پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے جاؤ۔اور خبردار آئیندہ اندر آۓ۔ وہ غصے سے بولیں۔ وہ لڑکا مڑ کر بھاگ گیا۔
زویا جو کہ کیچن میں برتن دھو رہی تھی۔اس کے ہاتھ ایک پل کے لیے تھم گے۔ بی جی بھی سن چکی تھیں انہوں نے جلدی سے چاے چولہے پر چڑھائی۔۔۔۔
اے لڑکی یہ چاۓ لے کر مردان خانے میں جاؤ۔ آئیمہ بیگم نے حکم دیا۔۔۔۔
جی زویا جو کہ برتن دھو چکی تھی اپنے ہاتھ صاف کر کے دوپٹہ اچھے سے سر اور کندھوں پر پھیلایا۔اور چاۓ کی ٹرے لے کر جانے لگئی۔۔جب پیچھے سے صائمہ بیگم کی اواز گھونجی۔
اۓ لڑکی خبردار جو اب تم۔نے وہاں جا کر کوئی بدتمیزی کی۔ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔
جی بالکل بدتمیزی اور زویا بالکل بھی نہیں وہ دانت نکالتے ہوۓ بولی۔اور آگے بڑھ گئی۔۔۔
ان کی تو ایسی واٹ لگاؤ گئی۔سات پچھتیں یاد رکھیں گئی۔۔وہ اپنا پلین بنا کر مردان خانے کے اندر داخل ہو گئی۔۔۔
زویا جب اندر داخل ہوئی تو کئی نظریں اسکی طرف اُٹھیں۔ سب ہی حیرانگی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔کسی نے بھی لڑکی کا یہاں پر آنا ایسپکٹ نہیں کیا تھا۔۔۔( کیونکہ اس حویلی کی روایات تھی۔ناکوئی عورت مردان خانے میں آ سکتی تھی اور نا کوئی غیر مرد حویلی کے اندر جا سکتا تھا۔مردان خانہ مین گیٹ کے ایک طرف بنا ہوا تھا۔ یہ کافی برا حال تھا۔ جہاں پر کالین بیچھی ہوئی تھی۔ اور کافی سارے تکیے رکھے ہوۓ تھے۔۔۔سامنے جہانگیر خان بیٹھتے تھے۔اور باقی سب دونوں سائیوں پر بیٹھتے تھے۔اور یہی سب گاؤں کے کام ہوتے تھے۔)۔۔۔
لیجیے برے سرکار اپ سب کی چاۓ ا گئی۔وہ مسکراتے ہوۓ اندر داخل ہوئی۔ اور سامنے پڑی ٹیبل پر چاے کی ٹرے رکھ دی۔۔۔
ایک لڑکی مردان جانہ میں توبہ توبہ سب اپس میں یہی باتیں کرنے لگے۔۔۔
ارے آپ سب سوچ رہے ہوں گے ایک لڑکی یوں منہ اُٹھا کر مردان خانے میں کیسے آ گئی۔زیادہ مت سوچیے میں بتاتی ہوں۔وہ اصل میں نا میں یہاں آپ سب کے سائیں اور برے سرکارجہانگیر خان کے حکم پر آئی ہوں۔انہوں نے صدیوں پرانی روایات اور اپنے اصول بدل دیے ہیں۔ اب سے روز میں ہی چاۓ لے کر آؤ گئی۔زویا مسکراتے ہوۓ بولی۔جہانگیر خان غصے سے بس اسے گھور رہے تھے۔۔
اے لڑی زیادہ بکواس مت کرو۔اور سب کو چاۓ دو۔خالد صاحب غصے سےبولے۔ وہ جو بولرہی تھی اس سے کافی بےعزتی ہو رہی تھی۔جہا گیر خان کا پلین تو اسے شرمندہ کروانا اور اسے اس کی اوقات یاد کروانا تھا۔ پر یہاں زویا نے سب پلٹ دیا۔۔۔۔۔وہ بس اپنے غصے کو پی رہے تھے یوں بری محفل میں اس سے اولجھنا نہین چاہتے تھے۔
کاش یہ اصول آپ نے سالوں پہلے بدلے ہوتے تو آج سب بدلا ہوتا۔ زویا جہانگیر خان کے پاس آ کر آہستہ آواز میں بولی اور ساتھ ہی چاۓ پکڑا دی۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں واضع لالی تھی۔۔ اسکی بات کو وہ سمجھ نا پاۓ۔
وہ اہستہ آہستہ سب کو مسکرا مسکرا کر چاے دے رہی تھی۔ جب آخر میں سب سے آخر میں بیٹھے شخص کو جب وہ چاے پکڑانے گئی۔تو اس نے اس کا ہاتھ بھی پکڑلیا۔۔۔۔
زویا ایک دم کانپ گئی۔اور جلدی سے اپنا ہاتھ چڑوایا۔۔یہ سب کسی نے نہیں دیکھا تھا۔جیسے ہی اس نے ہاتھ چھڑوایا۔۔چاے کا کپ اس شخص پر گڑ گیا۔
بے وقوف لڑکی تمہیں ذرا بھی عقل نہیں رفاقت صاحب چلاۓ۔زویا اس وقت نروس ہو چکی تھی۔اسے بولا ہی نہین گیا۔۔۔۔۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ وہ کچھ بولتی اسے سے پہلے پیچھے سے آواز آئی۔جو کہ التمش کی تھی۔۔جو کہ ابھی ابھی ڈیرے سے واپس آی تھاجب اس نے رفاقت صاحب کی آواز سنی۔۔۔۔۔تو اس کے قدم اسکی طرف بڑھ گے۔۔۔۔
زویا نے پلٹ کر دیکھا۔
تم یہان کیا کر رہی ہو۔ زویا کو یہاں دیکھ کر اس کا دماغ بھک سے اُڑ گیا۔۔۔۔وہ غصے سے بولا۔۔۔
وہ میں یہاں نہیں آپ کے دادا جان نے بولایا ہے۔کہتے ہین چاۓ دے جاؤ۔وہ اپنے آپ کو سھنمبال چکی تھی۔ فوراً معصوم سا چہرہ بنا کر بولا۔ اسکے الفاظ سن کر التمش کے ماتھے کی رگیں تن گئی۔۔۔
جاؤ یہاں سے وہ سخت لہجے میں بولا۔۔زویا اگلے ہی پل وہاں سے نکل گئی۔۔۔
تم سب اپنا رستہ ناپو دو منٹ ہیں جلدی کرو۔۔وہ وہاں پر بیٹھے ہر شخص کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔سب کے سب اگلے ہی پل وہان سے نکل گے۔۔۔۔۔
یہ سب کیا تھا؟ وہ ان تینوں کی طرف مُڑا۔
کچھ نہیں بس اس لڑکی کو اسکی اوقات یاد دلوانی تھی اسی لیے یہ سب کیا۔ جہانگیر خان گردن اکڑاتے ہوۓ بولے۔۔۔
آپ کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ کیا آپ روایات بھول چکے ہیں۔ وہ چلایا۔۔۔
التمش خان یہ مت بھولو تم کس سے بات کر رہے ہو۔ وہ تمہارے دادا ہیں۔ تمیز سے بات کرو۔جالد صاحب اسے ڈانٹتے ہوے بولے۔۔۔
یہی تو مسلہ ہے۔ وہ اپنی اکڑ غرور میں سب بھول رہے ہیں صحیح غلط کا فرق بھول چکے ہیں۔۔وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوے بولا۔۔۔
تم شائد بھول رہے ہو جس لڑی وکالت تم کر رہے ہو وہ ونی میں آئی ہے۔میں نے بس اسے یہ یاد دلوایا کہ اس کا اس کی اوقات اس حویلی میں نوکرانی سے بھی نیچے ہے۔ وہ بہت اونچا اُڑ رہی تھی۔میں نے بس پڑ کاٹنے کی کوشش کی۔ جہانگیر خان اپنے حُقے کا دھوا ہوا مین چھوڑتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
دادا جان آپ بھی یہ مت بھولیں وہ اس حویلی مین چاہے ونی میں آئی ہو پر وہ میرے نام سے جُڑی ہے۔ آپ سب اسکے ساتھ جو بھی کریں میں کچھ نہیں بولوں گا۔پر یوں سرِعام اس کا اور اپنی عزت کا تماشا نہیں بنے دوں گا۔ اسے مردوں کی محفل میں یوں نمائیش میں نہیں آنے دوں گا۔۔وہ دانت پیستے ہوے بولا۔۔۔
تم اس لڑکی کے لیے ہم اب سے بدتمیزی کررہے ہو۔ جالد صاحب غصے سے بولے۔۔
ابا مجھے تو آپ پر افسوس ہو رہا ہے۔آپ سب اپنے غرور میں اتنے بہ چکے ہیں کہ ایک لڑکی کو نیچے گرانے کے لیے اسے اونچھے ہٹکنڈھوں پر اتر آۓ ہیں۔
خیر مین بھی کہاں اپنا سر پھوڑ رہا ہوں۔ اپ سب نے تو آج تک اپنی بیوی بیٹی کو عزت اور پیار نہین دیا تو یوں کسی غیر کی بیٹی کی عزت کی بھلا کسے پرواہ ہو گئی وہ طنزیہ انداز میں بولا اور اگلے ہی پل وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
اس پر نظر رکھو۔ مجھے بعاوت کی بدبو آ رہی ہے اور یہ ہم سب کے لیے بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔۔اس لڑکی کا کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔۔جہانگیر خان اسے جاتا ہوا دیکھ کر بولے۔۔۔۔
وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کے لیے باغ کی طرف آگیا۔ابھی بھی اس کی نظروں کے سامنے زویا کا یوں ان سب مردوں کے سامنے بنا پردے کے کھڑا ہونا نظر آ ہا تھا۔۔یہی سوچتے سوچتے اسکی رگیں تن رہیں تھیں۔۔۔
لالا التمش لالا مجھے آپ سے بات کرنی ہے کیا آپ فری ہیں؟ اریشہ جو کہ کب سے التمش کو ڈھونڈ رہی تھی۔ اسے باغ مین کھڑے دیکھ کر فوراً اسطرف آ گئی۔۔۔
ہاں بولو کیا بات ہے۔ التمش نے اپنا موڈ ٹھیک کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
لالا پلیز آپ ابا سے بات کریں کالج کے ایڈمیشن کی کل لاسٹ دیٹ ہے۔ اریشہ نے آج ہی پتہ کروایا تھا۔
دیکھو اریشہ تم جانتی ہو دادا جان کبھی بھی نہیں مانے گے۔ارسلان جس طرح سے ہم سب سے دور ہوا ہے میرا دل نہین کرتا کہ اب تم ایک پل بھی میری نظروں سے دور ہو۔ وہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔
لالا حویلی میں بیٹھے رہنے سے میری موت بھاگ نہین جاے گئی۔ لالا میں نے کبھی آپ سے کچھ نہیں مانگا پلیز میری بات مان جائیں۔۔پلیز میری خواہش ہے۔۔لالا پلیز وہ التجا کرنے لگی۔۔۔
اریشہ ابھی میرا موڈ بہت ڈسٹرب ہے فلحال تم اندر جاؤ۔ التمش نے اس کی نا سنتے ہوۓ کہا۔۔اریشہ بھی سمجھ گئی کہ اب کوئی فائدہ نہین وہ روتے ہوح چلی گئی۔۔۔ایک التمش ہی تھا جو اسکے حق مین لڑ سکتا تھا۔پر آج وہان سے بھی مایوسی ہو گئی۔۔۔۔زویا جو کہ کپڑے دھونے کے لیے حویلی کے ایل طرف بنے لانڈری ایریہ کی طرف جا رہی تھی۔جو کہ باغ کے ایک طرف تھا۔رستے میں اسنے التمش اور اریشہ کی ساری بات سن لی۔۔۔۔۔وہ خاموشی سے کپڑے دھونے لگی۔۔۔
وہ پچھلے دو گھنٹے سے کپڑے دھو رہی تھی۔۔دھو کیا خراب کر رہی تھی۔ اس نے سب کپڑے رنگ بھرنگے۔اور سفید ایک ساتھ مشین میں ڈال دیے تھے۔جس کی وجہ سے سارے سفید کپڑوں پر رنگ چڑھ گیا تھا۔وہ یہ سب جان بوجھ کر کر رہی تھی۔۔۔۔۔
اپنی کارستانی پر وہ خود ہی مسکرا رہی تھی۔۔کپروں کو دھو کر اس نے ایک طرف لگی تار پر ڈال دۓ۔۔۔۔۔
غصب خدا کا یہ کیا کِیا؟ یا میرا اللہ سارے کے سارے کپڑوں کا ستیاناس کر دیا۔۔ آئمہ بیگم جو کہ اسی ڈر سے کہ زویا کپروں کا بیرا غرق نا کر رہی ہو دیکھنے آئیں تھی اور سامنے وہی ہوا تھا۔سامنے سارے سفید کپڑے رنگیلے ہوۓ ٹنگے تھے۔۔۔۔۔
کیا ہوا مالکن بالکل ٹھیک تو ہے۔ میں نے بس کپڑوں کو دھویا ہے۔ وہ معصوم سا چہرہ بنا کر بولی۔۔
کلموہی کہی کی سارے کپڑے خراب کر دیے۔ کون پاگل رنگیلے اور سفید کپڑے ملا کر مشین میں ڈالتا ہے۔وہ زویا کے کندھے پر تھپر مارتے ہوۓ بولیں۔
میں نے بولا نا میں نے کچھ نہیں کیا جو کِیا اس مشین نے کیا میں نے تو صیح سے کپڑے ڈالے تھے۔پتہ نہیں رنگیلے کیوں ہو گے۔۔۔ویسے رنگلیلے بھی اچھے لگ رہے ہیں۔اس حویلی جے مردوں پر بہت اچھے لگیں گے۔ان کے کریکٹرز بھی تو ان کپروں جیسے رنگیلے ہیں۔ زویا طنزیہ انداز مین بولی۔
غضب خدا کا کتنی لمبی زبان ہے۔ بھابھی آئمہ بیگم اپنا سر پیتتے ہوۓ حویلی کے اندر چلی گئیں۔
خدا کا غصب مجھ پر ہی ہو آہ جیسے فرعونوں پر نا ہو۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔اس نے آنکھ کا کونا صاف کیا۔۔ ایک دم سے اسے چکر آیا۔۔۔اس نے جلدی سے تار کا سہارا لیا ورنہ وہ گڑ جاتی۔۔۔
زویا کیا ہوا تم ٹھیک ہو۔۔۔ التمس کہ اندر جا رہا تھا یوں اس کا پیلا چہرہ دیکھ کر اسکی طرف بڑھ۔۔
کیوں آپ کو اسے کیا۔ آج بھی شائد بارش ہونے والی ہے کہیں تو آج بھی بارش میں کھڑی ہو جاؤں۔ وہ طنزیہ انداز مین بولی۔۔۔
تمہیں تو بخار ہے تم یہاں کپڑے کیوں دھو رہی ہو وہ پریشان سا اسکی طرف بڑھا۔
کیوںکہ مجھے نا اس حویلی میں دلہن بنا کر نہیں لایا گیا۔۔یہاں پر جون بہا میں آئی ہوں۔اور خون بہا میں آئی لڑکیوں کے حزبات نہیں ہوتے وہ پتھر کی بنی ہوتیں ہیں۔انہیں تقلیف نہیں ہوتی۔۔۔وہ بھرپور طنز ما رہی تھی۔۔
چپ ایک دم چپ یہاں بیٹھو وہ اسے سہارا دے کر سامنے پری کرسی پر لایا۔۔۔۔اسے کافی بخار ہو چکا تھا۔اور یوں پانی مین کام کرنے کی وجہ سے وہ ہلکا ہلکا کانپ رہی تھی۔۔۔
تمہارے لیے پانی لاؤ۔ التمش فکرمندہ انداز مین بولا۔۔۔
ہنہ۔۔۔مسٹر خان یوں ہمدردی مت کریں آپ سے اس ہمدردی کی قیمت ادا نہین کی جاۓ گئی۔ وہ گھانستے ہوۓ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔التمش ایک پل کے لیے چپ کر گیا۔۔آج اس سے کئی سال چھوٹی لڑکی نے اسے چپ کروا دی تھا یا شائد آئینہ دیکھایا تھا۔۔
کسی میں اتنی ہمت نہیں جو مجھ سے میرے کسی بھی فیل کی قیمت مانگے۔ وہ مظبوط لہجے میں بولا۔۔۔
اگر اتنی ہی آپ کی اس حویلی مین چلتی ہوتی تو آج آپ کی بہن کو منت کر کے آپ سے کالج جانے کی پرمیشن نہیں مانگنی پڑتی۔بلکہ وہ مان سے کہتی میرے لالا میرا یہ کام کریں گے۔۔۔آپ نے تو اس کی منت تک کی لاج نہیں رکھی۔مان تو دور کی بات ہے۔ زویا طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔
تم چھپ کر باتیں سن رہی تھی۔۔وہ سخت لیجے میں بولا۔۔۔
چھپ کر سننا تو مجھے کسی نے نہیں سکھایا۔ ہاں اگر کوئی منت بھرا لہجا سنوں تو کان خودبخد اسطرف کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہ چھینکتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
چلو اُٹھو کمرے میں چلو دوا کھالو۔۔۔التمش نے اسکی باتیں اگنور کیں۔۔
مسٹر خان میرے بارے میں اتنی فکر نا کریں۔ کل کو بہت مشکل میں پھنس سکتے ہیں۔ آپ تو میرے حق میں بول بھی نہیں پائیں گے۔۔۔۔۔وہ بہت گہری بات بول کر کھڑی ہوئی اور آہستہ آہستہ چلتی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔۔۔پیچھے التمش کو ہزاروں سوچوں میں چھوڑ گئی۔۔۔۔
