Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
ہسپتال کا کوریڈو سناٹے میں گھیرا ہوا تھا۔ وہاں حویلی کے سب مرد موجود تھے۔ آپریشن ٹھیٹر کی لال بتی جل رہی تھی۔ پچھلے پانچ گھنٹے سے کوئی باہر نہیں آیا تھا۔ باہر سب بری بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔
ابا آپ کب سے ٹہل رہے ہیں یہاں بیٹھ جائیں۔ شمس نے آگے بڑھ کر رفاقت صاحب کو کہا جو کہ پچھلے کئی گھنٹوں سے چینی سے چکر پر چکر لگا رہا تھا۔
ڈاکٹر باہر آ جائیں تو بیٹھ جاؤ گا۔ وہ لال بتی کو دیکھتے ہوۓ بولے۔
ڈاکٹرز بھی آجائیں گے آپ یہاں بیٹھیں پانی پئنیں۔ وہ انہیں زبردستی کرسی پر بیٹھاتے ہوۓ بولا۔
تایا ابا، شمس، التمش لالا کیسے ہیں ؟ کوریڈول سے بھاگ کر آتا سعد بولا۔
ابھی تک کوئی ڈاکٹر باہر نہیں آیا۔ پتہ نہین کیوں اپریشن اتنا لمبا کر دیا ہے۔ شمس اپنے سر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ پریشان سا بولا۔
تبھی دو ڈاکٹر باہر نکلے۔ سبھی ان کی طرف متوجہ ہوۓ۔
دیکھیے مریض کو دو گولیاں لگی ہیں ایک بازو میں اور ایک سینے پر۔ یہ تو خدا کا شکر ہے سینے والی گولی سیدھی دل پر نہیں لگی۔ یوں سمجھ لیجیے دو انچ کی دوری پر لگی ہے۔ ہم نے آپریشن سے گولیاں تو نکال دیں ہین۔ پر سینے پر گولی لگنے کی وجہ سے خون حد سے زیادہ بہ گیا ہے۔ہم خون کی بوتلیں تو چڑھا رہے ہیں۔ پر حالت مین کوئی بہتری نہیں ہو رہی۔ اور یہی بات سب سے زیادہ تشویش ناک ہے۔ اگر کچھ گھنٹوں میں ہوش نا آیا تو مریض کے کومہ میں جانے کے بھی چانس ہیں۔ اگر حالت مزید خراب ہوئی تو ہو سکتا ہے وہ جان سے جائیں۔ آپ سب بس دعا کریں۔ ڈاکٹر ساری صورتحال سے آگاہ کر کے چلا گیا۔ وہاں پر کھڑے ہر شخص پر سکتہ طاری ہو گیا۔
ڈاکٹر صاحب آپ مجھے ریپورٹ دیکھائیں سعد فوراٍ بولا اور ڈاکٹر کے ساتھ ان کے کیبن میں چلا گیا۔
یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے۔ نا وہ ہماری زندگی میں آتی نا ایسا ہوتا۔۔ کتنی بے رحم ہے التمش نے کیا کچھ نہین کیا ہم سب کے سامنے کھڑا ہو گیا پر۔۔۔۔۔ رفاقت صاحب غصے سے بولے۔
ان ماجد صاحب کی وجہ سے بھی ہوا ہے۔ اگر یہی اس حازم ملک کو نا لاتے تو آج یہ سب نا ہو رہا ہوتا۔ شمس غصے سے بولا۔
اپنی حد میں رہو شمس ماجد اپنی جگہ سے کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔
ہنہ۔۔۔ شمس نے طنزیہ انداز میں ہنس کر کہا۔
مجھ سے اب مزید یہاں بیٹھا نہین جاتا جا رہا ہوں۔ ماجد اُٹھ کر بنا کسی کو دیکھے کوریڈول سے باہر نکل گیا۔
ان جیسا بے حس بھائی تو خدا کسی کو نا دے۔ شمس اسے جاتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔
جہانگیر خان کو شہر کی جیل میں لے جایا گیا۔ پر اپنے سورسس کی وجہ سے وہ اگلے دو گھنٹوں کے اندر اندر نکل آۓ۔ اسکی وجہ سے سلطان صاحب کافی غصے میں تھے۔
تم اتنی بری جھوٹی کیسے ہو سکتی ہو۔ میرے جذبات کو اپنے بدلے کے لیے استعمال کیسے کر سکتی ہو۔ وہ اپنے آکسیجن ماسک کو ہٹاتے ہوۓ بولا۔
نہیں مجھے مجھے معا۔۔۔۔ وہ لڑکھڑاتے ہوۓ لہجے میں بولی۔ آگے بڑھ کر التمش کا ہاتھ پکڑا۔
میں جا رہا ہوں کبھی تمہارے پاس واپس نہیں آؤں گا۔ بدلے لینے کا بہت شوق ہے نا۔ تواب ساری زندگی اسی بدلے کو پورا کر لینے کی خوشی میں غرق رہنا۔۔۔ آئی ہیٹ یو زویا۔۔۔۔ وہ اسکا ہاتھ جھٹکا اور لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
نہیں التمش پلیز میرے کیے کی اتنی بری سزا مت دیں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔
التمش رک جائیں پلیز مت جائیں زویا آپ کےبغیر مر جاۓ گئی۔ التمش رک جائیں التمش رک جائیں۔ وہ اسکا ماسک چہرے پر لگاتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہاہ التمش نے اونچا سانس لیا اور وہی زندگی کی لائین سیدھی ہو گئی۔
التمش وہ زور سے چِلائی۔
التمش۔۔ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ بر بڑاتے ہوۓ ایک دم اُٹھ کر بیٹھ گئی۔ اسکا چہرہ پیسنے میں بھیگا ہوا۔ بیڈ کے قریب پڑی وہی التمش کی اُڑائی گئی چادر اُٹھائی اور اپنے ارد گرد لی۔ بنا چپل پہنے وہ بیڈ سے اتری اور کمرے کا دروازہ کھول کر وہ سیڑیوں کی طرف بھاگی۔
التمش نہیں۔۔۔۔ وہ بھاگتے ہوۓ داخلی دروازے کی طرف گئی۔
زویا کہاں جا رہی ہی۔ وہی صوفے پر بیٹھے حازم نے جب زویا کو یوں بھاگتے ہوۓ دیکھا تو فوراً اس تک پہنچا اور اسے بازوں سے پکڑا۔
چھوڑمجھے التمش کی سانس رُک رہی ہے۔ مجھے ان کے پاس جانا ہے۔ وہ اسکے ہاتھ چھڑواتے ہوۓ بولی۔۔
زویا خبردار جو تم نے ایک بار بھی اس کمینے کا نام لیا۔ اچھا ہو مر جاۓ حازم نے غصے سے کہا۔اسکی آواز بہت اونچی تھی۔ باقی سب بھی وہی آگے۔
ان کو کیوں کچھ ہو تم مرو۔ حازم اللہ کرے تم مر جاؤ تم نے کیوں گولی چلائی۔ جب یہ پلین مین نہیں تھا تو کیوں گولی چلائی۔ کیوں۔۔۔۔مجھ سے دور رہو۔ تمہارا کوئی حق نہیں۔ منگنی سے زیادہ پاک رشتہ نکاح کا ہوتا ہے جو کہ میرا التمش خان سے ہے۔ وہ مجھے سب سے چھپا کر رکھتے ہیں۔ مجھے دوبارہ ہاتھ لگاۓ کی ہمت مت لگانا۔۔۔ وہ اسے دھکہ دیتے ہوۓ چیختے ہوۓ بولی۔ اور آخر میں وہی چادر اپنے سر پر لے لی۔
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھ سے اسطرح سے بات کرنے کی ۔ تمہیں بولا تھا نا میرے علاوہ کسی کا خیال بھی دل مین نا لانا تو کیوں تم بار بار اسکا نام لیتی ہو۔۔ حازم غصے سے چلایا۔ اور پاس پڑا شیشے کا گلدان زمین پر دے مارا۔
تم میرے کچھ نہیں لگتے وہ میرے شوہر ہیں۔ اور میری زبان میرے زہین میرے دل میں صرف ان کا نام خیال رہتا ہے اور ہمیشہ رہےگا۔ آئی بات سمجھ مسٹر حازم ۔ مجھے زویا التمش خان کو التمش خان کی بے پناہ اور پاک صاف محبت سے محبت ہوئی ہے۔ میں زویا التمش خان صرف اور صرف اپنے شوہر التمش خان کی ہوں۔ وہ بھی اسی کے انداز میں چِلائی۔ باقی سب شاک سے زویا اور حازم کی باتیں سن رہے تھے۔ زویا نے آج تک جو بات اپنے دل مین بھی قبول نہیں کی تھی۔ آج وہ سب کے سامنے قبول کر رہی تھی۔ پر اس وقت وہی شخص وہاں موجود نا تھا جو ان لفظوں کو سننے کے لیے نا جانے کب سے بے تاب تھا۔
جھوٹ بالکل جھوٹ تم صرف اور صرف حازم ملک کی ہو۔ تم صرف مجھ سے پیار کرتی ہو۔ تم میری منگیتر ہو تم میری ہو۔ زویا احمد صرف حازم ملک کی ہے۔ حازم اسکا یوں التمش کے لیے اظہارے محبت سن کر چیخا۔ یہ سب الفاظ اسے اپنے دل پر کسی خنجر کی طرح لگتےہوۓ محسوس ہوۓ۔
زویا نے رونے کی وجہ سے ہوئی لال آنکھوں سے حازم کو دیکھا اور پھر نیچے بیٹھی۔ زمین سے شیشہ اُٹھا کر اپنی کلائی پر زویا التمش لکھنے لگی۔ سب شاک سے زویا کا یہ جنونی انداز دیکھ رہے تھے۔
زویا صرف التمش کی ہے زویا صرف التمش کی ہے۔۔ وہ لکھتے ہوۓ بول رہی تھی۔
زویا بیٹے یہ کیا کر رہی ہو۔چھوڑ حمیدہ بیگم آگے بڑھ کر بولی۔۔ تب تک زویا نے کلائی پر لکھ لیا تھا۔
دیکھو حازم ملک ان کی بے پناہ محبت نے مجھ جیسی لڑکی کو بھی اسیر کر لیا۔ تم نے بہت غلط کیا ان پر گولی چلا کر۔ تم بول رہے ہو نا وہ ٹھیک نہین ہوں گے۔ پر مین کہتی ہوں۔ زویا کا التمش اتنی اسانی سے جان کی بازی نہیں ہارے گا۔ اسے میرے لیے اپنی بیوی اپنی محبت کے لیے جینا پڑے گا۔ زویا اپنی کلائی پر لکھا نام دیکھتے ہوۓ بولی۔ اسکی کلاس سے خون نکل کر ہاتھ پھر زمین پر بہ رہا تھا۔ اور وہی وہ بے ہوش ہو گئی۔ حازم پاس کھڑا زویا کا یہ روپ دیکھ کر دھنگ رہ گیا۔ آج جس سوچ کے تحت اس نے التمش پر گولی چلائی تھی۔ اس سوچ کا اپنے سامنے انجام دیکھ کر وہ لڑکھڑایا۔ اور بنا کسی کو کچھ بولے وہ باہر کی طرف بڑھا۔اور گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا۔ اپنے ہی سامنے اپنی محبت کی ایسی ہار دیکھ کر وہ ٹوٹ گیا۔
ساری رات گزر گئی۔ پر التمش کو ہوش نا آیا۔صائمہ بیگم بار بار بے ہوش ہو رہین تھیں ۔ پہلے ارسلان کو کھونا اور اب دوسرے بیٹے کی یہ حالت ان سے برداشت نہیں ہو رہی تھی۔
زویا کو رات میں ہوش آیا۔وہ ساری رات نماز میں اسکی زندگی کی دعائیں مانگتی رہی۔ ابھی بھی دوپہر کا ایک بج گیا تھا۔ وہ کمرے میں ہی بیٹھی رہی تھی جب نیچے سے شور سنائی دیا۔ وہ پاؤں میں چپل ڈال کر چہرے کے گرد ڈوپٹے کو لپیٹے ہاتھ میں فون پکڑے نیچے کی طرف بڑھی۔
سامنے حازم اور سلطان صاحب لڑ رہے تھے۔
زویا جیسی کم عقل لڑکی مین نے آج تک نہیں دیکھی۔ اتنی بری غلطی کیسے کر سکتی ہے۔ اور وہ کمینہ جہانگیر دو گھنٹے کے اندر اندر چھوٹ گیا۔ تم دونوں پر یقین کرنا میری سب سے بڑی غلطی تھی۔ تم لوگ اس قابل ہی نہیں تھے اتنے برے پلین مین شامل کرتا۔ اور میاں تم نے کس خوشی می۔ اسے گولی ماری۔ تیاری پکڑو۔ اسکی حالت بہت نازک ہے۔ اگر وہ مر مرا گیا نا تو جیل مین جاؤ گے۔ وہ حازم پر چیخ چلا رہے تھے۔ِ
زویا جو کہ سیڑیوں سے نیچے آرہی تھی۔ التمش کی حالت کا سن کر اسکا پاؤں لڑکھڑایا۔
لو آ گئی میڈیم جی زویا کیا تمہارے پاس اتنی عقل نہیں تھی۔ کہ پیپرز چیک کر لیتی۔ پچھلے ایک سال سے جس پر ہم کام کر رہے تحے۔ وہ صرف اور صرف تمہاری بے وقوفی کی وجہ سے خراب ہو گیا۔ اگر تھوڑی سی عقل لگا لیتی تو آج میں اس حویلی مین بیٹھا ہوتا اور وہ جہانگیر خان میرے قدموں میں ہوتا۔ ہنہ وہ اب دور کھڑی زویا کو سنانے لگے۔۔
سلطان ملک ایک سال کی محنت یا پچھلے بیس سالوں کی محنت راۓ گاں گئی۔ حمیدہ بیگم جو کہ کب کی خاموش بیٹھیں سلطان صاحب کو سن رہیں تھیں۔ ایک دم طنزیہ انداز میں بولیں۔ سب نے حیرانگی سے ان کی طرف دیکھا۔
زویا چلتی ہوئی ان کے پاس آئی۔
او تو اب چڑیا کے بھی پڑ نکل آۓ۔ حمیدہ بیگم مت بھولو سلطان ملک کون ہے۔ کچھ بھی بکنے سے پہلے یاد رکھنا۔۔ ابھی مجھے ایک اہم کام نپٹانا ہے تم سب سے تو آ کر بات کرتا ہوں۔ وہ انہیں دھمکی دیتے باہر کو نکل گے۔۔
ماما یہ آپ کیا کہ رہی تھیں۔ سِراج آگے بڑھ کر بولا۔۔
حازم اور زویا پہلے تو میں کسی وجہ سے چپ تھی۔ پر اب لگتا ہے سچ بولنا ہی پڑے گا۔۔ حمیدہ بیگم نے دونوں کی طرف دیکھ کر کہا۔
زویا ان کے پاس صوفے پر آ کر بیٹھی۔ حازم سامنے بیٹھ گیا۔ باقی سب بھی وہی تھی۔
سلطان ملک کا نام حاشر شاہ تھا۔ یہ بات آج سے قریب چوبیس سال پہلے کی ہے۔ تب حاشر اپنے ماں باپ بھائی کے ساتھ اپنے ابائی گاؤں میں رہیتے تھے۔ وہاں کے جانے مانے ویڈیروں میں سے ایک تھے۔ ان کی لوگ بہت عزت کرتے تھے۔ حاشر کی ماں تو بہت پہلے ہی گز چکی تھی۔ باپ ہی زندہ تھا جو اپنے بچوں پر بالکل توجہ نہیں دیتا تھا حاشر شہر کی یونی ورسٹی مین پڑتا تھا۔ احمد اور حاشر دونوں ایک ہی یونی مین پڑتے تھے۔ جہاں احمد نہایت شریف تھا۔ تو وہی حاشر گُنڈہ مانا جاتا تھا۔ ہر دوسرے دن اسکی کسی نا کسی سے لڑائی ہوتی تھی۔ میں اور تمہاری ماما مہوش ایک ہی کلاس میں پڑتے تھے۔ مہوش ہر وقت پردہ کرتی تھی۔ اس نے بری منتوں کے بعد اپنے بھائی باپ سے پڑھنے کی آجازت لی تھی۔ حاشر بہت خوبصورت تھا۔ میں دل ہی دل میں ان پر مرتی تھی۔ پر اسکا افیر آۓ دن نئی سے نئی لڑکی کے ساتھ ہوتا تھا۔ مہوش میری بہت عزیر دوست تھی وہ اپنے کام سے کام رکھتی تھی۔ حاشر کو بر والی لڑکیوں کو چھیرنے میں زیادہ دلچسپی ہوتی تھی۔ انہی برقے والیوں میں مہوش بھی شامل تھی۔ حاشر اسے آۓ دن چھڑتا رہتا پر وہ اگنور کر دیتی۔ حاشر نے اسکا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔ پہلے وہ بس اسے چھیرتا ۔ ایک دن حاشر نے مہوش کا چہرہ دیکھنے کے لیے اس سے بدتمیزی کی اور پھر زبردستی کر کے سب کے سامنے اسکا چہرہ دیکھا۔ اس دن مہویش میرے سامنے بہت رُوئی۔ احمد ہماری ہی کلاس مین پڑھتا تھا۔ وہ دل ہی دل میں مہوش کو پسند کرتا تھا۔ اور یہ بات اس نے کسی کے علم میں نہیں آنے دی۔ وہ اپنے بھائی کی ساری بدتمیزیاں برداشت کر رہا تھا۔ کیونکہ حاشر احمد پر اپنا حکم چلاتا تھا۔ حمیدہ بیگم بول رہین تھیں باقی سب دم سادھے سن رہے تھے۔
حاشر نے سب کے سامنے مہوش کو پرپوز کیا۔ اور زبردستی اسکی انگلی میں انگھوٹھی ڈال دی۔ اس دن مہوش نے پہلی بار حاشر کو سب کے سامنے تھپڑ مارا۔ اور یہی بات حاشر کے دل مین بیٹھ گئی۔ وہ بدلے کے لیے مہوش سے شادی کرنا چاہتا تھا۔۔ احمد نے کئی بار اسے سمجھانے کی کوشش کی پر وہ ہمیشہ اسے چپ کروا دیتا۔ انہی دنوں مین حاشر کے پاس گئی اور اسے شادی کرنے کے لیے پرپوز کر دیا۔وہ مان بھی گیا۔ میں تب نہیں جانتی تھی وہ مان کیوں گیا۔ اس نے مجھے سمجھا بھجا کر کوٹ میرج کر لی۔ اور میں اسے خوشی میں پاگل ہو گئی۔ کہ مجھے میری محبت مل گئی۔ پر اس نے اپنا بدلہ لینے کے لیے بہت گھونی چال چلی حمیدہ بیگم بتاتے بتاتے رو پڑیں۔
کیسی چال چلی؟؟ زویا فوراً بولی۔ باقی سب بھی انہیں سن رہے تھے
یہ سن کر شائد تم سب مجھ سے نفرت کرنے لگ جاؤ۔ پر ایسا مجھے میری نکاح کرنے کی بے وقوفی میں کرنا پڑا۔
آپ پلیز بتائین کیا ہوا تھا۔ زویا ان کا ہاتھ پکڑ کر بولی۔۔
بتاتی ہوں۔ حمیدہ بیگم صوفے سے اُٹھیں۔ اور تھوڑی دور جا کر کھڑی ہو گئیں۔
حاشر نے انہی دنوں اپنا رشتہ خان حویلی بھیجا۔۔ وہ خود بھی ساتھ گیا تھا۔ جہانگیر خان اسکی ریپوٹیشن پہلے سے ہی جانتے تھے۔ انہوں نے پہلے سہولت سے انکار کر دیا۔۔ سب واپس اپنے گھر آ گے۔ پھر اسکے دو دن بعد ہی دوبارہ سے حاشر جہانگیر خان کے ڈیرے پر پہنچا۔اور دوبارہ سے شادی کا کہا۔ اور جب جہانگیر خان نے اسکے گنڈے ہونے اور اسکے کریکٹر پر سوال اُٹھاے اور سب کے سامنے اسے بے عزت کر کے نکالا۔ تب یہ بات اس نے اپنے ذہن میں رکھ لی۔اور پھر اس نے ان کی عزت کو سب کے سامنے نیلام کرنے کا فیصلہ کیا۔
کیا مطلب نیلام ایسا کیا کِیا؟ حازم بولا۔
اہممم وہ ریجکشن کے بعد حاشر نے اسے انا کا مسلہ بنا لیا۔ رشتہ بھیجنے والے سین کا مجھے بالکل عِلم نہیں تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اگر میں نے اسکا ساتھ نا دیا تو وہ مجھے طلاق دے دے گا۔ میں نے گھر والوں سے چھپ کر نکاح کیا تھا۔ اور میں تب ایک مہینے کی پریگنٹ تھی۔ اس وقت میں طلاق افوڈ نہیں کر سکتی تھی۔ اسکے بعد اسنے مجھے ہفتے کے دن مہوش کو ہوٹل لانے کا بولا۔ مین ڈر گئی۔ کہ کہی وہ مہوش کے ساتھ کچھ برا نا کر دے۔ میں مہوش کی دوست تھی۔ تو بہانے سے اسے لے کر اسکے بتاۓ ہوٹل پر آگئی۔ حمیدہ بیگم ایسے بتا رہیں تھیں جیسے ان کے سامنے سارا منظر نمایاں ہو۔
زویا صوفے سے کھڑی ہو کر ان کے پا س آئی۔
پھر کیا ہوا کہی۔۔۔۔ زویا نے لڑکھڑاتے ہوۓ کہا۔
نہیں۔ اس دن ہم شام چھے بجے پہنچے تھے۔ میں اسے کمرے مین بیٹھا کر بہانہ بنا کر نیچے چلی گئی۔ کہ ابھی تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔ اسکے بعد حاشر ہوٹل پہنچا وہاں اسکے ساتھ احمد بھی تھا۔ حاشر احمد کے دل کی فیلنگ کو جانتا تھا۔ اس نے احمد کو کسی دوست سے ملنے کے بہانے سے یہاں لایا تھا۔ اور اسے بھی اسی کمرے مین بھیجا۔ اور کمرہ باہر سے لاک رک دیا۔۔ مہوش اور احمد اس کمرے میں تین گھنٹے رہے پھر کہی جا کر کمرہ کھلا۔۔ مہوش میرے ساتھ لڑتی ہوسٹل واپس آ گئی ۔ وہ حاشر کی بدتمیزی کسی کو نہیں بتاتی تھی۔حمیدہ بیگم بولتے بولتے چپ ہوں گئیں۔
پھر کیا ہوا؟ زویا بولی۔
جاری ہے۔۔
