No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
وہ التمش سے بات کر کے جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی۔ سامنے بی جی الماری میں کھڑی کچھ تلاش کر رہیں تھیں۔۔
بی جی کیا ڈھونڈ رہی ہیں۔ وہ جلدی سے ان تک پہنچی۔
بٹیا میرا چشمہ نہیں مل رہا۔ وہ کپڑے ادھر اُدھر کرتے ہوۓ بولیں۔
کیا بی جان وہ دیکھیں کمبل پر پڑا ہوا ہے۔ اس نے جلدی سے چشمہ پکڑ کر بی جی کو پکڑایا۔۔۔اور الماری کا دروازہ بند کیا۔۔۔۔
شکر ہے مل گیا۔۔سر میں بہت درد ہو رہا تھا۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ چشمہ پہنے لگیں۔۔۔۔
آپ سو جائیں صبح کی کاموں میں لگئی ہوئیں تھیں تھک گئی ہوں گئی۔۔زویا نے انہیں پلنگ پر لٹایا۔۔۔۔
ارے نہیں آج تو میرا دل بہت خوش ہے۔۔ میں برسوں سے یہاں کام کر رہی ہوں۔ آج پہلی دفع دیکھا اس حویلی کی عورتوں کے لیے کوئی بولا۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓبولیں۔
ہمم اچھا ہے اب دیکھانا تو یہ ہو گا آگے کیا ہوتا ہے۔۔وہ سوچتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
التمش بیٹا شروع سے ہی مختلف تھا۔ وہ ہمیشہ سے ان سب چیزوں سے چڑتا تھا۔۔۔اسی چڑچڑاہٹ کی وجہ سے وہ سخت مزاج کا بن گیا۔۔۔ورنہ اس کی سوچ اس حویلی کے مردوں سے بہت مختلف ہے۔ اور اس میں سب سے برا ہاتھ صائمہ بیگم کا ہے۔ بی جی بولیں۔۔۔۔
بی جی آپ التمش نامہ مت شروع کریں۔مجھے بہت اچھے سے پتہ ہے وہ کیسے ہیں۔ میں کپڑے تبدیل کر لوں۔ وہ تنک کر بولی اور الماری سے کپڑے نکال کر واشروم میں چلی گئی۔۔۔۔۔۔
یہ لڑکی اتنی عجیب کیوں ہے۔ یہاں پر ونی بن کر آئی ہے پھر بھی ڈرتی نہیں ہر کام الٹا کرتی ہے۔ حویلی کے مرد جیسے بھی ہیں اسے ایسے نہیں بولنا چاہیے۔۔۔۔اور التمش پتر کے تو نکاح میں ہے۔ چلو نکاح جیسے بھی ہوا ہو۔۔۔ایک طرح سے شوہر ہی ہوا نا۔۔۔حد کرتی ہے۔۔۔۔۔ان کو زویا پر تھوڑا غصہ آیا۔۔۔۔۔
واشروم میں آ کر اس نے کپڑے ایک طرف رکھے اور ہاتھ میں پکڑا شاپر کھولا جو وہ کپڑوں کے نیچے چھپا کر لائی تھی۔شاپر کے اندر سے ایک ڈبہ نکلا۔۔۔
اس چھوٹے سے ڈبے کو زویا نے کھولا تو اسکے اندر چھوٹا بٹنوں والا موبائل تھا۔۔۔زویا نے جلدی سے موبائل نکالا اور اسے آن کیا۔ آن کرنے سے واشروم میں آواز گھونجی۔۔۔اس نے جلدی سے موبائل کے سپیکر کے اوپر ہتھیلی رکھ دی۔۔۔۔۔
یہ حازم بھی نا کوئی اور موبائل نہیں لا سکتا تھا۔۔۔اسکی کتنی زیادہ آواز ہے۔۔۔۔اسنے دل ہی دل میں حازم کو کوسا۔۔۔۔
موبائل آن ہو چکا تھا۔ فل چارج تھا۔زویا نے اسے سائیلنٹ کیا۔۔اور کونیکٹ نمبر نکالے۔۔ اوپر ہی پاٹنر لکھا یوا تھا۔۔اس نے جلدی سے اس کو اوکے کیا اور موبائل کان سے لگا لیا۔۔۔اگلے ہی پل فون آنسر ہو چکا تھا جیسے اگلا اسی کے انتظار میں بیٹھا ہو۔۔۔
ہیلو حازم ! زویا بولی۔۔۔۔۔۔
آج اتنے دن بعد تمہارے منہ سے اپنا نام سن کر سکون سا محسوس ہوا۔۔۔وہ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔۔
کیسے ہو؟ اور گھر میں باقی سب کیسے ہیں۔ منت،سیرت، آنٹی، اب کیسے ہیں وہ بے چین سے ہوئی۔۔۔
پاٹنر سب ٹھیک ہیں۔ تم بتاؤ کیسی ہو۔۔ وہ لوگ تمہیں ہرٹ تو نہیں کر رہے۔۔۔۔تم بتاؤ مجھے میں ابھی وہاں آ کر تمہیں کے کر چلا جاتا ہوں۔ ۔۔آج صبح جب تم مجھے ملی تمیرے چہرے پر اود ہاتھ پر کیسے نشان تھے۔۔۔وہ بیڈ پر سیدھا بیٹھ کر بولا۔۔۔۔
نہیں حازم تم ایسی کوئی حرکت کرو گے۔۔ورنہ میں ناراض ہو جاؤ گئی۔۔۔۔وہ روٹھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
اوکے بابا نہیں آتا تم مجھےسب بتاؤ۔۔۔
زویا نے شروع سے آخر تک سب بتا دیا۔۔۔اس کے ساتھ کیسا کیسا سلوک ہوتا تھا سب بتا دیا۔ جیسے سننے کے بعد حازم کا پارہ ہائی ہو گیا۔۔۔۔۔
اتنے سے دنوں میں اتنا کچھ کیا۔۔ ان سالوں کو میں نہیں چھوڑوں گا۔۔ انہیں برباد کر دوں گا۔۔۔ وہ غصے سے بولا۔اس کابس نہیں چل رہا تھ۔ا کہ ابھی کے ابھی اسکے پاس پہنچ جاۓ۔۔۔۔
ریلکس حازم واسٹ رونگ وید یو۔ مت بھولو میں یہاں کس وجہ سے ہوں۔۔۔اور جنہیں برباد کرنا ہے۔ میں کر لوں گئی۔۔۔لیکن اس سے پہلے اس حویلی کے ماحول کو بدلوں گئی۔۔اور مجھے پتہ ہے وہ ایک ہی انسان کر سکتا ہے ۔۔مجھےبس اسے پن اپ کرنا ہوتا ہے۔۔۔۔ وہ سوچتے ہوۓ بولی ۔۔۔
کس کی بات کر رہی ہو؟؟
التمش خان کی جس سے نکاح ہوا ہے۔۔۔وہ آرام سے بولی۔۔۔۔
حازم نے اس تلخ حقیقت کو سن کر اپنی ہتھیلی کو میچ لیا۔۔۔۔
تم جو کرنا چاہتی ہو۔ کرو۔ مگر زویا یہ مت بھولنا تم میری منگیتر ہو۔۔ اس التمش سے دور رہنا۔ اگر کل کو تم نے یہ بولا کہ تمہیں اس سے محبت ہو گئی ہے۔۔تو خدا کی قسم زویا سب سے پہلے اس کا قتل کروں گا۔۔ وہ اس پر زور دیتے ہوۓ بولا۔۔۔
حازم آر یو آوٹ آف یور مائنڈ۔ میں پاگل نہیں ہوں جو اس سے محبت کرنے لگ جاؤ۔ مجھے تو وہ بالکل پسند نہیں یہاں کے کسی بھی مرد کو دیکھتی ہوں تو نفرت سی ہوتی ہے۔۔۔۔میری زندگی کا مقصد کیا ہے تم اچھے سے جانتے ہو۔۔۔اگر پھر بھی تمہیں مجھ پر یقین نہیں تو بھاڑ میں جاؤ۔۔وہ غصے سے بول کو کال کاٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف حازم موبائل کو گھور رہا تھا ۔۔۔
زویا تم صرف میری ہو۔۔ تمہارے مقصد کے درمیان نہیں آؤں گا۔۔۔پر تمہارے نام کے آگے اپنا نام لگانے کے لیے میں کچھ بھی کروں گا۔۔۔۔۔چاہے وہ کتنا ہی بُرا کیوں نا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔بس کچھ ہی مہینوں کی بات ہے۔ اسکے بعد تم صرف حازم ملک کی ہو گئی۔۔۔۔۔وہ جنونی انداز میں بولا۔۔۔۔
زویا موبائل کو آف کیے اور کپڑے چینج کر کے باہر آئی۔۔۔ بی جی سو چکی تھیں۔۔۔۔ویسے بھی آواز باہر نہیں آ سکتی تھی کیونکہ وہ بہت آہستہ بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔
وہ آ کر لیٹ گئی۔۔۔اتنی تھکی ہوئی تھی کہ پانچ منٹ میں ہی سو گئی۔۔۔۔۔
اگلے دن التمش ماہ رخ اور اریشہ کو ہاسٹل چھوڑ آیا تھا۔۔وہ جیسے ہی واپس آیا۔۔مردان خانہ سے آوازیں آ رہیں تھیں۔وہ خودبخد اسطرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔
سامنے جہانگیر خان حازم سے باتیں کرتے ہنس رہے تھے۔۔۔اور زویا وہاں سب کو چاۓ دے رہی تھی۔ المتمش کی آنکھوں میں طیش ابڑھا جب اس نے حازم کی نظروں کو زویا کے وجود پر محسوس کیا۔۔۔وہ باتیں تو جہانگیرخا ن سے کر رہا تھا لیکن نظریں زویا پر تھیں۔۔۔۔
دادا جان کیا ایک دفع میں آپ کو میری بات سمجھ نہیں آئی۔۔ وہ چلاتا ہوا اندر داخل ہوا۔۔۔سب نے حیرانگی سے مُڑ کر التمش کا غصے سے تمتماتا چہرہ دیکھا۔۔۔۔
التمش یہ بات کرنے کا کون سا طریقہ ہے۔۔ جہانگیر صاحب کی گرجدار آواز گھونجی۔۔۔۔۔وہ غصے سے اپنی نشت سے کھڑے ہو گے۔۔۔
اسی طریقے سے جس طریقے کی آپ کو کبھی سمجھ نہیں آ سکتی۔۔۔۔میں جب ایک دفع بھونک کر گیا تھا کہ زویا آج کے بعد مردان خانے میں نہیں آۓ گئی۔تو آج وہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ وہ آگے بڑھا۔ اور زویا کے آگے آکر کھڑا ہو گیا۔۔جس سے وہ مکمل طور پر اسکے پیچھے چھپ گئی۔ حازم بھی اسکا نام سن کر سمجھ گیا ۔۔یہ التمش وہی ہے۔۔۔۔اسکی روب دار شخصیت دیکھ کر ایک پل کے لیے وہ اسکا اور اپنا مقابلہ کرنے لگا۔ پھر اپنا سر جھٹکا۔۔۔۔
اپنا ڈوپٹہ درست کرنے لگی۔۔
بس بہت ہوا کافی دنوں سے ہم نے تمہاری بہت بدتمیزی برداشت کر لی۔۔۔اوریہ مت بھولو ہم جہانگیر خان ہیں۔ یہ حویلی اور گاؤں ہمارے حکم پر چلتا ہے۔۔۔کسی میں اتنی ہمت نہیں جو ہماری بات کو انکار کرے۔ اور تم ہمارے پوتے ہو اسی لیے یہ سب برداشت کر رہا تھا۔۔۔اب مزید تمہاری کوئی بکواس نہیں سننی اور تم اس دو کوڑی کی لڑکی کی خاطر ہم سے بحث کر رہے ہو۔۔۔۔جہانگیر خان بھی آج آپے سے باہر ہو گے تھے۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔التمش جب کب سے اپنا غصے ضبط کر رہا تھا یہ سب سن کر مزید برداشت نا کر سکا اور اپنا ہاتھ دیوار پر لگے شیشے پر دے مارا۔۔۔۔۔چھن کی آواز سے شیشہ ٹوٹا اور زمین ہر بکھر گیا۔۔ اس کے ہاتھ سے خون کے قطرے زمین پر بہنے لگے۔
زویا نے اپنے دونوں ہاتھ منہ پر رکھ کر اپنی چیخ کو روکا۔۔وہ ڈر کر ایک دم پیچھے ہو گئی۔سب شاک سے التمش کی اس حرکت کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
اگر آپ میرے دادا ہیں تو مت بھولیں یہ ضد جنون آپ نے وراثت میں دیا ہے۔۔۔۔اگر آپ نے دوبارہ یہ حرکت کی تو خدا قسم آپ انجام سوچ بھی نہیں سکتے۔۔۔۔وہ انگلی آُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ انداز میں بولا۔۔۔اور پلٹ دوسرے ہاتھ سے زویا کا بازو پکڑ کر وہاں سے لے گیا۔۔۔اس کی پکڑ میں اتنی سخت تھی۔۔۔کہ اسکی انگلیاں زویا کے بازو کی جلد میں دھنس رہیں تھیں۔۔۔
پر وہ بھی خاموش سی کٹی پتنگ کی طرح اسکے پیچھے کھینچی جارہی تھی۔۔۔
دوسری طرف جہانگیر خان اپنا غصہ ماجد خان پر نکال رہے تھے۔۔۔۔انہیں تربعیت پر لیکچر دے رہے تھے۔۔۔۔حازم کو التمش کو یوں زویا پر حق جتانا بالکل پسند نا آیا۔۔وہ اگلے ہی پل وہ اپنی گاڑی لے کر چلا گیا۔۔۔۔
وہ زویا کولے کر اسکے کمرے میں آیا۔۔ کمرے میں داخل ہو کر اسنے اسے پلنگ پر دکھیلا اور خود کمرے میں چکر لگانے لگا۔۔۔
ایک دفع میں بولی بات سمجھ نہیں آتی ۔۔۔کیوں گئی وہاں۔ ۔۔۔غصے سے بڑھی لالا آنکھیں اس پر گھاڑے وہ بولا۔۔۔۔
مجھے کوئی شوق نہیں وہاں جانے کا۔۔۔اپنے دادا کو تو روکا نہیں جاتا برے آۓ مجھ پر غصہ کرنے والے۔۔۔۔آپ کے دادا جان کا ہی روز پیغام آتا ہے۔۔۔چاۓ لے کر آؤ۔۔جیسے میں اگر چاۓ نا لے کر جاؤ گئی۔ تو ان کا کھانا ہضم نہیں ہو گا۔۔۔۔وہ بھی اسی کے
انداز میں بولی۔۔۔۔
تم کل بھی گئی تھی؟ وہ سوالیہ انداز میں
بولا۔۔۔۔
جی گئی تھی آپ کے دادا جان کے فرمان پر عمل بھی تو کرنا تھا۔۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔۔
ہاں باقی سب کے فرمانوں پر تو بہت اچھے سے عمل کرتی ہو۔۔۔ میں مرا نہیں تھا کل ہی بتا دیتی تو آج یہ سب نا ہوتا۔۔۔ وہ بھی ترکی با ترکی بولا۔
ہنہہ یہ سب نا ہوتا۔۔ بتا بھی دیتی تب بھی یہی ہوتا۔۔۔اور آپ کو کیا لگتا ہے۔ کل آپ کے دادا جان دوبارہ سے آڈر نہیں دیں گے؟ وہ دادا جان پر زور دیتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
نہیں ہو گا۔۔۔اگر ہوا تو انجام تم خود دیکھو گئی۔ خیر ویسے تو تمہارا کبھی نقاب نہیں اترتا تھا۔ آج تو سر پر ڈوپٹہ بھی نہیں تھا۔ وہ دوبارہ سے طنزیہ انداز میں بولا۔۔ کیونکہ جب وہ وہان پہنچا تھا تب زویا کا ڈوپٹہ ہلکا سا اترا ہوا تھا۔۔۔۔جو اسکی بے دھیانی میں ہوا تھا۔۔۔
ہاہ آپ کا مطلب ہے۔ پہلے میں ناٹک کرتی تھی۔اور آج میں نے جان بھوج کر ڈوپٹہ اتارا۔۔۔۔۔وہ آنکھوں میں آنسوں لیے بولی۔۔۔ اسے بہت دکھ ہوا تھا۔۔کیونکہ وہ اپنے حجاب کا بہت خیال رکھتی تھی۔ بس جب سے حویلی آئی تب سے گڑبر کو رہی تھی۔۔۔۔
میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ التمش کو احساس ہوا وہ کچھ زیادہ ہی بول گیا۔ ۔۔
میں نا یہاں پر ونی میں آئی ہوں تو مسٹر خان پلیز آپ بھی مجھ سے ویسا ہی سلوک رکھیں جیسا اس دن رکھا تھا۔ مجھے ماریں پیٹیں ہر وقت مجھے طعنے دیں۔ کام کروائیں۔یوں مجھ ڈیفینڈ مت کریں۔۔کوئی کچھ بھی کرے آپ کو فرق نہیں پڑنا چاہیے۔ آخر کوبقول آپ کے آپ کے بھائی کے قاتل کی بہن ہوں۔ وہ بولی تو التمش خاموش ہو گیا۔۔۔
بقول میرے کا کیا مطلب ہے؟ تم واقع میں میرے بھائی کے قاتل کی بہن ہو۔۔۔۔وہ بھی د اپنی ٹون میں واپس آتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
یہ تو وقت ہی بتاۓ گا۔۔کہ کون قاتل ہے۔۔۔پر ایک بات یاد رکھیے گا۔۔۔ظلم اتنا ہی کریں جتنا واپس سہہ سکیں۔ اور میری وجہ سے خود کو اذیت دینے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔وہ پاس پڑے کپڑے کو کاٹ کر اس کے ہاتھ پر باندھتے ہوۓ بولی ۔۔
ہمارے ہاں لڑکی مردوں کے سامنے نہیں آتی۔ اور تم بھی ایک لڑکی ہو میں نے بس اسی وجہ سے یہ سب کیا۔۔۔۔وہ صفائی دینے لگا۔۔۔۔۔
ہنہہ مجھے چھوڑیں آپ نا کبھی اس حویلی کی عورتوں کی آنکھوں میں جھانکیں تو ایک ظلم کی داستان نظر آۓ گئی۔۔۔اگر کچھ کرنا ہی ہے توان کے لیے کریں۔۔۔ میری فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔مجھے اپنا دفع کرنا آتا ہے۔۔۔۔پر ان سب کو نہیں آتا۔۔۔ان کے دفع میں بولیں۔۔۔وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔۔اور سامنے والا بس خاموش تھا۔۔۔۔وہ جو بول رہی تھی۔اسکا مطلب وہ خوب جانتا تھا۔۔ بنا کچھ بولے وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔پیچھے وہ بس اس کو دیکھنے لگی۔۔۔
التمش کا یوں اسکے لیے لڑنا اسے اچھا لگا۔ اسکا دل ایک دم سے دھڑکا۔ وہ اگنور کر کے ہاتھ دھونے واشروم میں چلی گئی۔۔۔۔
اریشہ ہم ابھی ابھی تو آۓ ہیں تم کہاں جا رہی ہو۔۔ماہ رخ اسے یوں نقاب کرتے دیکھ کر بولی۔۔۔
یار کچھ چیزیں لینی ہیں بس لے کر آتی ہوں۔۔۔اریشہ بول کر بنا اسکی سنے باہر کی طرف بھاگی۔۔۔۔
وہ جیسے ہی دروازے سے باہر نکلی۔۔۔سامنے گاڑی سے ٹیک لگاۓ سراج ملک کھڑا تھا۔۔۔وہ بھاگ کر استک آئی۔۔۔۔
سراج نے دروازہ کھولا۔۔وہ جلدی سے ادھر اُدھر دیکھ کر اندر بیٹھ گئی۔۔۔سراج بھی گاڑی کا بھگا لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے یقین نہیں ہو رہا ہم دونوں ساتھ ہیں۔ آج میں تمہیں دیکھ پا رہ ہوں۔۔۔۔سراج مسکر اکر اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
ہاں مجھے بھی یقین نہیں ہو رہا۔ اگر التمش لالا نا بولتے تو آج ہم یوں ایک ساتھ نا ہوتے۔۔۔۔اریشہ نے اسے سب بتانا شروع کیا۔۔۔جہانگیر نے کیا شرطیں رکھیں ۔ اور التمش نے کیسے اسکا ساتھ دیا۔۔۔۔
مجھے یقین ہے جیسے لالا نے میرا ساتھ دیا۔۔۔کل کو ہمارے رشتے میں بھی وہی مدد کریں گے۔۔۔اریشہ بہت کنفیدینٹ ہو کر
بولی۔۔۔
اللہ کرے جیسا تم بول رہی وہ ویسا ہی ہو۔۔۔سراج مسکراتے ہوۓ بولا۔۔دونوں ریسٹورینٹ میں گے۔۔اور لنچ کیا۔۔۔۔۔۔۔
وہ زویا سے بات کر کے حویلی سے باہر نکل گیا تھا۔۔۔۔چیپ کو بے مقصد سڑک پر بھگا رہا تھا۔۔۔اتنے سے دنوں میں ایک بے بعد ایک مصیبت آۓ جا رہی تھی۔۔وہ اپنے دماغ کو ریلکس کرنا چاہتا تھا۔۔پر شائد یہ ممکن نہیں تھا۔۔۔اس نے گاڑی گاؤں کے سب دے پرانے گھر کی طرف موڑ دی۔۔۔
گاڑی کو گھر کے باہر روکا۔اور خود بایر نکلا۔۔۔۔
یہ گھر کم اور کھنڈر زیادہ لگ رہا تھ۔۔ وہ
موبائل کی ٹارچ آن کر کے اندر داخل ہوا۔۔۔
اوپر والے فلور پر ایا۔۔جو گھت باہر سے کھنڈر نما نظر آ رہا تھا ۔وہ اندر سے اپنی اصلی حالت میں موجود تھا ۔۔۔۔اسے بھی التمش نے خود ٹھیک کروایا تھا۔دو نوکر ہر وقت اس گھر میں موجود رہتے تھے۔۔
وہ چلتا ہوا بیسمنٹ میں آیا۔ جہاں وہ آج دوسری دفع جا رہا تھا۔ دروازہ کھول کر وہ اندر آیا۔۔۔۔۔
سو قاتل جی کیسے ہو تم؟ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔۔۔
سامنے روحان زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔۔بھوک کی وجہ سے وہ بہت بدتر حالت میں تھا۔۔
سائیں ۔۔۔۔میرررررا۔۔۔یقینننننن۔ کریںنننن میںننن نے اسے نہیں۔۔۔۔۔مارا۔۔۔۔وہ اٹک اٹک کر بول رہا تھا۔۔۔
وہاں تمہاری بہن بھی بس یہی بولتی ہے۔۔میرے بھائی نے کچھ نہیں کیا۔۔اور یہاں تم۔۔۔۔ہنہ۔۔۔۔تم دونوں کو کیا فرق پڑتا ہے۔۔مرا تو میرا جوان بھائی ہے نا وہ بھائی جس کا سارا بچپن مین نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یے۔۔۔ان ان ہاتھوں میں وہ کھیلا ہے۔۔ اس کی ہر خواہش ہوری کی ہے۔۔اپنی پلکو ں پر بیٹھایا تھا۔ ایک ایک کھروچ بھی نہیں آنے دی۔ اور تم نے کیا کِیا میرے بھائی پر ہی گولی چلا دی۔۔اس بے چارے کا تو اس سب میں کوئی قصور نہیں تھا۔۔۔کیوں کیا۔۔۔۔۔۔۔وہ چلا رہا تھا۔یا اپنی بے بسی پر رو رہا تھا۔۔۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔
سائیں یقین کریں خدارا یقین کریں۔روحان روتے ہوۓ بولا۔۔۔
تمہیں پنچائیت والوں نے تو بخش دیا۔۔پرمجھ سے رحم کی امید مت کرنا۔۔میرے بھائی کو مارنے کی سزا اب تم ساری زندگی یہی رہ کر کاٹو گے۔۔ موت بھی مانگو تو موت نہیں ملے گے۔ وہ بول کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔
کیا یہ وہی التمش تھا جو کچھ دیر قبل اسی قاتل کی بہن کے لیے اپنے دادا سے لڑ رہا تھا۔۔۔۔
وہ وہاں سے نکل کر ایک کمرے میں آیا۔۔کمرے کا دروازہ کھولا۔۔۔اور اندر داخل ہوا۔ اور سیدھا بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔۔۔اس کمرے میں چاروں طرف نقاب سے جھلکتی آنکھوں کی تصویریں لگی ہوئیں تھی۔۔۔۔ایک طرف برے سے ہاٹ شیپ کے فریم میں اس کی تصویر لگی ہوئی تھی۔۔اور تصویر کے نیچے مارکل سے میری زندگی لکھا ہو تھا۔۔یہ تب کی تصویریں تھیں۔ جب اس نے اسے ہمیشہ نقاب میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔
میں چاہ کر بھی اپنی فیلنز کو کنٹرول نہیں کر پاتا۔ میں اسکی حیثیت جانتا ہوں پھر بھی ہمیشہ مجھے کیوں وہ اتنی ایفیکٹ کرتی ہے۔ دل تو کرتا ہے اپنے سینہ چیر کر اس کا نام خیال نکال دوں۔۔ پر نہیں کر سکتا۔۔۔۔
صرف زویا کی وجہ سے یہ روحان اب تک زندہ ہے۔۔ورنہ کب کا مار چکا ہوتا۔۔۔وہ اپنے بال مٹھیوں میں بھیچتے ہوۓ بولا۔اور لمبا سانس لے کر آنکھیں بند کر گیا۔۔۔۔
