Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 18
No Download Link
Rate this Novel
Episode 18
چاچا جان بہت خوشی ہوئی۔ آپ نے سب گِلے شکوے بھلا دیے۔ مجھے لگا آپ نے ابھی تک ساری باتیں نہیں بھلائیں۔ میرے گھر آ کر آپ نے میرے سارے خدشے دور کر دے۔۔۔سلطان صاحب مسکرا کر بختاور شاہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
سلطان تم میرے بھتیجے ہو۔ اور وہ ساری باتیں اب دل میں رکھنے سے کیا فائدہ ہو گا۔ جس دن کے تم حویلی ہو کر آۓ ہو۔ سب بہت خوش ہیں۔ وہ تو بول رہے تھے۔تم سب کو کچھ دن وہاں رہنے آنا چاہیے۔ پرانی یادیں تازہ ہو جائیں گئی۔ بختاور شاہ مسکرا کر بولے۔۔۔۔
جی ضرور آئیں گے۔۔۔ سلطان صاحب نے نظریں جھکا کر بولا۔۔۔۔
تمہیں یاد ہے اس حویلی مین کتنی چیہل پہل ہوا کرتی تھی۔ تم سب جب یہاں چلے آۓ حویلی ایک دم ویران ہو گئی۔ تمہاری چاچی تو بہت پہلے ہی گزر گئی تھی۔ خدا نے ایک ہی بیٹا دیا۔اب تو بس پوتا اور پوتی ہیں تو میرا دل لگا رہتا ہے ۔ بختاور شاہ نے پاس بیٹھے ناظم شاہ کے کندھے پر تھپکی دی۔۔۔۔
دادا جی چاۓ۔ چونکہ سب کھانا کھا چکے تھے تو سیرت چاۓ لے کر آ گئی۔۔۔۔۔
ارے شکریہ بیٹے۔ بختاور شاہ نے مسکرا کر چاۓ کا کپ پکڑا۔
سیرت ناظم شاہ کی طرف بڑھی۔ جو کب سے سیرت کو گھورنے مین مصروف تھا۔۔ اب وہ اس کے سامنے آئی تو وہ مسکرایا۔۔۔۔
جتنی آپ حسین ہیں۔ اتنی ہی حسین یہ چاۓ ہو گئی۔ وہ آہستہ آواز مین بولا۔ سیرت نے ناسمجھی سے دیکھا۔۔اگلے ہی پل وہ پلٹ گئی۔۔اسے ناظم شاہ بالکل پسند نا آیا۔۔۔۔
اور بتاؤ سلطان دو دو جوان لڑکے ہیں کسی کی شادی نہیں کی۔ بختاور شاہ کا اشارہ دونوں کی طرف تھا۔ جو سامنے ہی صوفے پر بیٹھے تھے۔۔۔۔
نہیں بہت جلد کرنے کا ارادہ ہے۔ حازم کی منگی تو بچپن میں کی تھی۔۔۔احمد کی بیٹی کے ساتھ ۔ ایک پل کو سب خاموش ہو گے۔
ویسے احمد کو کیا ہواتھا؟ بختاور شاہ سوالیہ انداز میں بولے۔۔۔
ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ احمد گاڑی چلا رہا تھا۔ ٹرک سے ٹکر ہوئی۔ گاڑی میں احمد اسکی بیوی اور بیٹا تھا۔ زویا اس دن اپنی کسی دوست کے گھر گئی تھی۔ سلطان صاحب نے لمبا سانس کھینچ کر سب بتایا۔۔۔۔۔
زویا۔ نام تو سنا سنا ہے۔ ناظم شاہ نے سوچا۔۔۔
انکل اب زویا کہاں ہے۔۔نظر نہیں آ رہی۔ ناظم شاہ نے ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔۔
وہ لندن میں اپنی پڑھائی پوری کر رہی ہے۔ حازم سنحیدہ لہجے میں بولا۔۔۔
کوئی بات نہیں حازم سے جب شادی ہو گئی تب مل لیں گے۔۔ بختاور شاہ ہولے سے ہنس کر بولے ماحول کچھ بہتر ہوا۔۔چونکہ رات ہوچکی تھی تو سب سونے کے لیے چلے گے۔۔۔ گاؤں کافی دور تھا۔ تو بختاور شاہ واپس نا گے۔۔۔۔۔
زویا رات کے واقع سے کافی زیادہ پریشان تھی۔ ابھی بھی وہ کیچن میں سبزی کاٹ رہی تھی۔۔پر سارا دھیان رات والے واقع ہر تھ۔ا
کس کو بتاؤ۔ یہاں پر میری بات کا کوئی یقین بھی نہیں کرے گا۔ مسٹر خان بھی چلے گے۔۔ ورنہ ان سے بات کرتی۔۔۔میں پوری پاگل ہوں مجھے کل ہی بات کرنی چاہیے تھی۔ حازم کو بھی نہیں بتا سکتی سارا معملا خراب ہو جاۓ گا۔ ۔وہ اپنی سوچوں میں مگن تھی۔ جب پیچھے سے کسی نے اسکا بازو پکڑ کر کھینچا۔۔۔۔
بے شرم لڑکی تجھے ذرا شرم نہیں ہے۔۔ آئمہ بیگم نے اسکا بازو دبوچتے ہوۓ کہا۔ ان کی اواز میں واضع غصہ تھا۔
اف چھوڑ کیا مسلہ ہے۔ وہ اپنا بازو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
کون تھا جو کل رات تیرے کمرے میں آیا تھا۔۔آئمہ بیگم نے غصے سے کہا۔اس وقت صرف وہ دنوں کیچن میں موجود تھیں۔۔۔
کیا مطلب ہے آپ کا ۔۔۔۔۔۔ زویا مظبوط لہجے میں بولی۔اسے اس بات کی بالکل امید نا تھی۔
مطلب کی بچی۔ تجھے زرا شرم نا آئی کسی مرد کو اپنے کمرے میں لے جاتے ہوے۔۔۔چھی مجھ سے تو بولا بھی نہیں جا رہا۔یہ تو پتہ ہے تم نیچ ذات کی ہو۔ پر اتنی نیچ اور گِڑی ہوئی ہو آج پتہ چلا۔۔۔ میں تو کل رات کو ہی شور مچانے والی تھی۔ کل ہی تجھے چوٹی سے پکڑکر حویلی سے باہر نکال دیتے۔ پر مسلہ یہ ہے کہ تم تو ونی مین آئی ہو۔ کم بخت نکال بھی نہیں سکتے۔۔ وہ اسکا بازو زور سے دباتے ہوۓ بولیں۔
آپ غلط سمجھ رہی زویا نے بولنے کی کوشش کی۔۔
غلط! بی بی اپنی ان گنہاگار انکھوں سے اسے نکلتے ہوۓ دیکھا تھا۔۔ تم چلو میرے ساتھ۔ وہ اسے گھسیتے ہوۓ صایمہ بیگم کے کمرے کی طرف بڑھیں۔ زویا کو سمجھ نا آیا اب کیا کرے۔ وہ پریشان سی انے والی صورتِ حال کے بارے میں سوچ رہی تھی۔
صائمہ بیگم کے کمرے مین داخل ہوۓ تو وہ سامنے بیٹھی تسبی پڑھ رہین تھیں۔ آئمہ بیگم نے اسے زور کا جھٹکا دیا وہ سیدھی زمین پر گڑی۔
کیا ہوا؟ صائمہ بیگم حیرانگی سے بولیں
اس بدکردار لڑکی سے پوچھیں۔ کل رات ایک لڑکا اس کے کمرے سے نکلا تھا۔ وہ نفرت بڑھے انداز میں بولیں۔
ایسا کچھ نہین ہے۔ کوئی بھی نہیں زویا نے بولنے کی کوشش کی۔۔۔
استخفراللہ! چھی تم اتنی گڑ سکتی ہو۔ ہماری ناک کے نیچے یہ سب کھیل کھیل رہی تھی۔ تمہیں زرا شرم نہیں آئی۔ کسی لڑکے کے ساتھ چھی چھی۔۔۔۔۔ صائمہ بیگم تو اسے پہلے ہی ناپسند کرتی تھیں۔ اسکی ہوری بات سنے بغیر بولیں۔۔۔
بھابھی یہ تو بدکردار ہی ہے۔ پتہ نہیں التمش پر بھی کیا جادو کیا ہے جو ہر وقت اسکی طرفداری کرتا رہتا ہے۔ ضرور اپنے حسن کا جادو چلایا ہو گا۔۔ سوچتی ہو گئی اتنی بری حویلی ہے۔ اس کی بہو بن جاتی ہوں۔ ساتھ میں دوسرے چکر بھی چلاتی رہوں گئی۔آئمہ بیگم نفرت بھرے انداز میں بولیں۔ زویا زمین پر گڑی اتنی گٹھیا باتیں سن کر ساکت ہو گئی۔ اپنا چہرہ گھما کر اس نے دھندلی آنکھوں سے آئمہ بیگم کو دیکھا جو اپنی باتوں کے تیر چلا رہی تھیں۔۔ بنا یہ جانے اگلے پر کیا گزر رہی ہے۔۔۔
ہنہہہ آئمہ ایسی لڑکیاں اپنے عاشِقوں کے ساتھ بس چکر ہی چلا سکتی ہیں۔۔ کسی عزت دار گھرانے کی بہویں نہین بن سکتیں۔ اور ونی مین آئی لڑکی تو کبھی نہیں۔ صائمہ بیگم نے ایک نظر اسکے وجود پر ڈالی۔زویا نے زور سے اپنی انکھیں میچیں۔
آپ دونوں اتنے گھٹیا الفاظ کیسے اپنے منہ سے کسی کی بیٹی کے لیے نکال سکتی ہیں۔ جب آپ کی خود بیٹیاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زمین سے اُٹھ کر ان کے سامنے کھڑی ہو کر بولی۔۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔۔ آئمہ بیگم نے اسکے چہرے پر تھپر مارا۔
خبردار جو ہماری پاک صاف بیٹیوں کے بارے مین ایک بھی لفظ بولا۔۔۔ ارے تم سے تو لاکھ گنا بہتر ہیں۔ آئمہ بیگم نے طنزیہ انداز میں کہا۔وہ کہنا تو بہت کچھ چاہتی تھی پر چپ رہی۔۔۔۔۔
آج رات تم کیچن میں سو گئی۔ ابھی یہ بات ہمارے درمیان ہے۔ کل التمش آ جاۓ گا۔ تو میں سب کے سامنے بات کروں گئی۔ اور کل کے کل ہی سب کے سامنے تمہارا فیصلہ ہو گا۔۔ صائمہ بیگم بولیں۔
اپنی گندی شکل لے کر دفع ہو جاؤ۔ آئمہ بیگم نے اسے کمرے سے باہر دھکہ دیا۔ زویا اپنا دوپٹہ درست کرتی وہان سے نکل گئی۔۔۔۔۔۔
بھابھی آپ نے ابھی کے ابھی کیوں نہیں ابا کو بتایا۔ مجھے لگتا ہے ابا کو بتانا چاہیے۔۔ آئمہ بیگم بیڈ پر بیٹھ کر بولیں۔۔۔
ابھی بتانے کا کوئی فائدہ نہین۔ اسکی اصلیت التمش کو دیکھانی ہے۔ کل آ جاۓ تو ٹھیک ہے۔صائمہ بیگم کچھ سوچتے ہوے بولیں۔
پر بھابھی خون بہا میں آئی لڑکی کو حویلی سے نکالا نہین جاتا تو یہ کیسے نکلے گئی۔ ویسے یہ لڑکی جس دن کی آئی یے۔ مجھے تب سے کھٹک رہی ہے۔۔ آئمہ بیگم بولیں۔
کھٹک تو مجھے بھی رہی ہے۔ کل دیکھنا حویلی سے نکالی جاۓ گئی۔ جہاں اتنی روایات ٹوٹی ہیں وہاں ایک اور سہی۔ صایمہ بیگم دروازے کو دیکھتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔۔
التمش سعد کے ساتھ سہری کا شہر جانے کے لیے نکلا ہوا تھا۔۔سعد کے پیپرز قریب تھے تو اسے ہوسٹل چھوڑنا تھا۔۔اسے وہاں چھوڑ کر وہ سیدھا اریشہ کے ہاسٹل پہنچا۔ ان دونوں کو یہاں آۓ ایک مہینے سے اوپر ہو چکا تھا
دوپہر کے دو بج چکے تھے۔ ہلکی ہلکی دھوپ نکلی ہوئی تھی جو اس سرد موسم مین کافی راحت بخش تھی۔ واڈرن سے کہ کر اس نے اریشہ لوگوں کو پیخام بھجوایا۔۔۔ابھی کمرے مین کرسی پر بیٹھا دونون کا انتظار کر رہ تھا۔۔۔
لالا جان اریشہ کی آواز آئی تو وہ فوراً کھڑا ہو گیا۔وہ بھاگ کر اسکے سینے سے لگ گئی۔۔اور رونے لگی۔۔۔۔
ارے گڑیا رو کیوں رہی ہو۔ التمش نے اسے چپ کروایا۔
آپ ہم دونوں کو یہاں چھوڑ کر بھول گے تھے۔ ایک مہینے سے اوپر ہو گیا اب آ رہے ہیں۔ وہ علحیدہ ہو کر روٹھے ہوۓ انداز سے بولی۔۔۔
بچے میں بہت مصروف تھا۔ آج بھی بہت کم وقت کے لیے ملنے آیا ہوں۔۔ ماہ رخ بچے میں آپ دونوں کے لیے کچھ لایا ہوں۔ وہ دونون کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔
گیفٹ واؤ لالا کیا لاۓ ہو۔ ماہ رخ ایکسائیٹڈ ہو گئی۔۔۔۔
تم دونوں کے لیے یہ موبائل اور لیپ ٹاپ ہیں۔ یہان پر بہت ضرورت پرتی ہو گئی۔ تم دونوں مجھے فون کر دینا اگر کچھ اور چاہیے ہو۔ التمش نے ہاتھ میں پکڑے تین بیگ انہیں پکڑاۓ۔۔اریشہ کی نظریں جھک گئیں۔ماہ رخ نے چپکے سے بیگز پکڑ لیے۔۔۔
چلو اب میں چلتا ہوں مجھے اپنے دوست سے ملنے جانا ہے۔۔ ایک ہفتہ رُکو پھر میں آ کر کچھ دنون کے لیے لے جاؤں گا۔۔۔ التمش نے دنوں کے سِروں پر پیار دیا۔۔
اوکے لالا! اماں کو سلام دینا۔ اریشہ مسکرا کر بولی۔۔۔
خیال رکھنا کوئی بھی مسلہ ہو تو فون کر لینا۔۔ اللہ حافظ۔ وہ دونوں سے مل کر دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
ہنہ یہ لو موبائل! اسکے جانے کے بعد ماہ رخ نے طنزیہ انداز میں موبائل نکال کر اریشہ کے ہاتھوں پر رکھا۔
بے چارے التمش لالا انہیں کیا پتہ ان کی بہن کے پاس تو پہلے سے ہی موبائل ہے۔ بے فضول میں خرچہ کر دیا۔ ماہ رخ ایک اور طنز کا تیر چلا کر وہاں سے نکل گئی۔اریشہ نے شرمندگی سے چہرہ جھکا لیا۔۔۔
وہ اریشہ سے مل کر سیدھا اپنے دوست کے اپاٹمنٹ میں گیا۔۔
اتنے سالوں بعد مل کر دل خوش ہو گیا۔ یاد ہے یونی میں ہم کیسے مزے کیا کرتے تھے۔ وحید بخل غیر ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
ہاہا یاد ہے۔ تیرے سارے کارنامے یاد ہیں۔ اجازت دے تو ابھی بھابھی کو بتاؤں۔ التمش اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔۔
یہ کن کارناموں کی بات ہو رہی یے۔ زرا مجھے بھی بتائیں۔ اقرا ہاتھ میں جوس کی ٹرے پکڑے درائینگ روم میں داخل ہوئی۔۔۔
بس بھابھی کیا بتاو۔ جناب نے برے برے کارنامے انجام دیے۔ التمش بولنا شروع ہوا۔
ارے یار بس کر کیا پرانی باتیں لے کر بیٹھ گیا ہے۔ تو اہم کام کے لیے آیا تھا نا وہ بتا۔۔ اور ہاں ابھی تک کنوارہ ہے یا تیری بھی بینڈ بج گئی۔ وحید اسے آنکھیں دیکھاتے ہوۓ بولا۔۔ اور آخر مین شرارتی انداز مین بولا۔۔۔
الحمداللہ دو مہینے پہلے شادی ہوئی ہے۔ زویا کا سراپا اسکی آنکھوں کے پردے پر لہرایا۔وہ مسکرا کر بولا۔۔۔
اللہ تجھے ہمت دے۔ ابھی تو شروع ہے۔۔ آگے ساری زندگی بیوی کو جھلینے کی ہمت دے۔ وحید ہاتھوں کو اُٹھا کر دعا کرتے ہوے بولا۔ وہ اقرا کو چِڑا رہا تھا۔
آپ بھی نا۔۔۔ بیوئیاں اتنی بھی ظالم نہین ہوتیں۔ آپ دونوں باتیں کریں۔ میں ڈنر بنا لوں۔ وہ ادے انکھیں دیکھاتی اُٹھ کر کیچن مین چلی گئی۔۔
بھابھی کو ناراض کر دیا۔ تو نہین بولے گا۔ التمش نفی مین سر ہلاتے ہوے بولا۔
ارے نہین اسکا غصہ بس یونہی ہے۔ دو منٹ مین مان جاۓ گئی۔اور ویسے بھی غصے مین حسین لگتی ہے۔۔۔ خیر تو بتا ۔۔۔۔۔ وہ ہنستے ہوے بولا۔۔۔
اہمممم وہ وحید اصل میں مجھے کچھ مدد کی ضرورت تھی۔۔
ہمم کیسی مدد کھل کر بول۔۔۔ وحید بھی سنجیدہ ہو گیا۔۔۔۔
مجھے کچھ پیسے چائیے۔ وہ بہت ہمت کر کے بولا۔۔۔
پیسے۔ التمش یار کیا بات کر رہا ہے۔۔ تُو تو اتنا امیر ہے میرے جیسے لوگ تو تیرے اگے پیچھے ہوتے ہون گے۔ تو مجھ سے پیسے مین کچھ سمجھا نہیں۔۔۔۔ وحید حیرانگی سے بولا۔ اسے ابھی بھی یاد تھا۔ یونی میں ان جے گروپ مین سب سے امیر وہی تھا۔۔ سب جانتے تھے وہ زمینوں جائیدادوں کا مالک ہے۔ تو یوں اچانک پیسے کی کیا تنگی پر گئی۔۔ بہت سارے سوالات وحید کے دماغ مین گھومنے لگے۔۔۔۔
مین بھی یہی سوچتا تھا۔ مجھے لگتا تھا۔ مین اتنا امیر ہوں کہ زندگی مین کبھی مجھے کسی کے سامنے ہاتھ نہین پھیلانے پڑیں گے۔۔ پر آج یقین ہو گیا۔ جب آپ اپنون کی سوچ سے الگ سوچنے لگ جاؤ۔ تو آپ بالکل خالی ہاتھ رہ جاتے ہو۔ اور ویسے بھی ساری جائیداد ابھی بھی دادا کے نام ہے۔۔ایک ایک چیز ان کے نام ہے۔ ہم ایک پیسا بھی ان کی آجازت کے بغیر نہیں لے سکتے۔ التمش کھوۓ ہوۓ انداز بولا۔۔۔
ہمم بول کتنے پیسے چاہیں۔ وحید جان گیا کوئی برا مسلہ ہے تبھی وہ اسطرح پیسے مانگ رہا ہے۔۔۔
یہی کوئی تین چار کڑور۔۔۔۔۔ وہ سوچتے ہوے بولا۔۔۔
واٹ۔۔۔۔۔التمش تیرا دماغ ٹھیک یے تین چار کڑور بس ہیں۔۔۔۔ حد ہو گئی۔۔ وحید تو سن کر ہی چلایا اور صوفے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔
ڈرامہ مت کر جانتا ہوں تیرے پاس اتنا پیسا نہیں۔۔ مین تجھ سے اتنا بول رہا ہون۔ اپنے کسی جانے والے سے ملوا دے میں ان سے مانگ لوں گا۔۔۔ التمش نے اسے دوبارہ صوفے پر بیٹھایا۔۔
التمش اتنے پیسے کیوں چاہین۔ اور دادا کیون نہین دے رہے۔۔ کیا تو مجھے کھل کر بتا سکتا ہے۔۔۔تا کہ مین تیری مدد ڈھنگ سے کر سکوں۔۔ وحید پریشان سا ہوا۔۔
اہممم اپنے گلے کو صاف کر کے التمش نے اسے سب بتایا ۔۔ اسے پیسے کیوں چاہیں۔ اور دادا کیوں نہیں دے رہے۔۔۔۔
کھڑا ہو۔۔ وحید خود صوفے سے کھڑا ہوا اور التمش کو بولا۔۔وہ حیران سا کھڑا ہو گیا۔ وحید نے اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔
مجھے بہت فخر ہے تو میرا دوست ہے۔ اتنا برا کام کر رہا ہے۔ تو باکل فکر مت کر۔ ابھی میرے پاس پچاس لاکھ ہیں۔ مین وہ تمہین دیتا ہوں۔ اس سے الگ ہو کر بولا۔۔
یار بہت بہت شکریہ۔۔۔ التمش مسکر کر بولا۔۔۔
پر التمش مجھے نہیں لگتا تمہیں کسی سے پیسے مانگنے چاہیے۔ بالکہ ہمیں ایسے لوگوں کو ڈھونڈنا چاہیے۔ جو ٹرسٹ کے نام پر پیسے دیتے ہین۔ ایک دو کو تو مین جانتا ہون۔ وحید کچھ سوچتے ہوۓ بولا۔۔۔
ارے ہاں یہ خیال مجھے کیوں نہین آیا۔
کیونکہ ایسے خیال دماغ والون کو آتے ہیں۔ وحید ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔ التمش نے اسے آنکھیں دیکھائیں۔۔۔۔
شکر ہے میرا کام بن گیا۔ میں تو ٹینشن تھا۔ گاؤں والوں کے سامنے اتنے برے دعواۓ کر تو دے اب پورا کیسے کروں گا۔ وہ بولا تو اسے چہرے پر مُطمین سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
جب ارادے نیک ہوں۔ تو رب راستے نکال دیتا ہے۔ ویسے ایک بات پوچھوں؟ وحید اسے گھورتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہاں پوچھ ۔۔۔وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
جہاں تک مجھے یاد ہے۔ تیرے غصے سے تو سب گاؤن والے ڈرتے تھے۔ اور تجھے ان سب کے بارے مین اتنا فرق نہیں پڑتا تھا۔ تو یون آچانک تو اتنا کیسے بدل گیا۔۔ اس سارے بدلاؤ کے پیچھے کیا راز ہے۔۔وحید اسے جانچتی نظرون سے گھورتے ہوۓ بولا۔۔۔
کچھ نہیں بس حالات ایسے بدلتے گے۔ ایک کے بعد ایک ایسی سچویشنز پیدا ہوئیں۔ مجھے بدلنا پڑا۔۔ اب جب مین نے عزم کر لیا ہے۔ تو کچھ بھی ہو جاۓ کبھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔۔ چاہیے پھر کتنی ہی مشکلین کیوں نا آ جائیں۔ وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔
اللہ تمہیں کامیاب کرے۔۔ وحید دل سے بولا۔۔پھر رات کو کھانا کھا کر وہ ہوٹل مین آ گیا۔ وحید نے کافی رُوکنا چاہا۔ پر اس نے معزرت کر لی۔۔۔
زویا کمرے میں آ کر بہت زیادہ روئی۔۔ اسے اس سب کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔
کتنے برے لوگ ہیں۔ کتنی گندی سوچ ہے۔ مجھے صفائی پیش کرنے کا بھی موقع نہیں دیا۔کل کیا ہو گا۔ مسٹر خان نے بولا تھا وہ پرسوں آئیں گے۔ تو وہ کیوں بول رہیں تھیں کل آئیں گے۔ یااللہ کیا ہو گا۔ وہ بے چین سی کمرے کے چکر کاٹ رہی تھی۔۔
نہیں اتنی اسانی سے سب ختم نہین ہو گا۔ میری سالوں کی محنت ضائع نہیں ہو گئی۔ نہیں بالکل بھی نہیں۔ کیا کروں کیا کروں۔ اپنے ماتھے پر آۓ بالوں کو پرے کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
مسٹر خان نے اگر سب سچ مان لیا تو۔ ویسے ہین تو اسی خاندان کے خون تو اسی خاندازن کا ہے۔ عورت پر شک کرنا تو فطرت ہے۔ پر کل تو بری بری باتیں کر رہے تھے۔ کیا پتہ یقین ننا کریں۔۔۔۔۔وہ خود سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔
زویا مت بھولو اسی خاندان کا ہے۔ ضرور یقین کرے گا۔۔ اف کیا کروں۔ اتنی آسانی سے تو میں اس حویلی سے نہیں جاؤں گئی۔ وہ کچھ سوچتے ہوے موبائل لے کر باتھ روم مین گھس گئی۔۔ کچھ ہی دیر میں حازم سے بات کر کے مطمئن ہو کر وہ واپس کمرے میں آئی۔۔۔
یہ تم کیا بکواس کر رہے ہو۔ اس خاندان کی لڑکی سے شادی بالکل نہین یہ نا ممکن ہے۔ سلطان صاحب حازم کی بات سن کر ہتھے سے اُکھڑ گے۔۔۔۔
ڈیڈ بدلہ لینا ہے تو پورے طریقے سے لیتے ہیں۔ اور آپ خود ہی سوچیں اگر اس خاندان کی لڑکی ہمارے خاندان مین آ گیی۔ وہ ہمارا کچھ بحی نہین بیگار پائین گے۔ ہم انہین گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ حازم انہین فیوچر دیکھاتے ہوۓ بولا۔۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں؟ سلطان صاحب نا سمجھی سے بولے۔۔۔۔
ڈیڈ وہ لڑکی بس اس بساط کا ایک پتہ ہو گئی ہم کبھی بھی اسے نکال کر باہر پھینک دیں گے۔ جب ہم اپنا مقصد حاصل کر لیں گے۔ تو سراج سے طلاق دلوا دیں گے۔ حازم انہین سمجھاتے ہوے بولا۔۔۔
حازم میں تمہاری اس بساط کا بہت پرانا کھیلاڑی ہوں۔یہ نا ہو یہ وار ہم پر ہی بھاری پر جاۓ۔۔ سلطان صاحب سوچ کر بولے۔
ڈیڈ کچھ نہیں ہو گا۔۔ مین گیرنٹی دیتا ہوں۔ حازم انہیں مطمین کرتے ہوۓ بولا۔۔
اچھا اگر تم اتنا ہی بوک رہے ہو تو ٹھیک ہے۔ تم اپنی ماما کو لے کر چلے جانا۔ تم جانتے ہو مین ان سب کے سامنے نہین جا سکتا تو کوئی بھی بہانا بنا دینا۔ سلطان صاحب کو بھی کچھ کچھ سمجھ آنے لگا۔۔۔
ٹھیک یے ڈیڈ کل چلین گے۔ میں ان کی حویلی فون کر جے بتا دیتا ہوں۔ حازم مسکرا کر بولا۔ اور پلٹ گیا۔۔۔
حازم یاد سے اگر وہ میرے بارے میں پوچھیں تو میرا نام بدل دینا اصل نام مت لینا۔ اور ہان اپنی ماں کو سمجھا کر لے کر جانا یہ نا ہو وہان جا رک سب معملات خراب کر دے۔ سلطان صاحب نے اسے روکتے ہوۓ کہا۔
اوکے ڈیڈ۔ ڈونٹ وری۔ چلین مین چلتا ہوں۔ وہ بول کر باہر نکل گیا۔
جہانگیر خان خالد خان تیار رہو۔ برسوں پہلے کیے جانے والی زیاتیوں کا بدلہ میں بہت الگ طریقے سے لوں گا۔۔ تم لوگ ہل کر رہ جاؤ گے۔ پر کبھی بھی مجھ تک نہین پہنچ پاؤں گا۔۔۔ سلطان صاحب الماری کی طرف بڑھے اور ایک باکس می سے ایک تصویر نکال کر اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔۔
وہ گہری نیند میں سویا ہوا تھا۔ جب اچانک سے موبائل بجنا شروع ہوا۔۔۔نیند مین خلل پڑا تو اسکے ماتھے پر تیوریاں آئیں۔۔۔ اپنا ہاتھ بیڈ پر ادھر اُدھر پھیرتے ہوۓ اپنا موبائل تلاش کیا۔۔۔۔
ہیلو کون؟ موبائل کو کان سے لگا کر بولا۔۔۔
میں ارحم مجھے تم سے ابھی کے ابھی ملنا ہے۔ کہاں ہو تم۔ اسپیکر سے ایس پی ارحم کی آواز گھونجی۔۔۔
ارحم کیا ہوا اس وقت کیوں فون کیا سب ٹھیک تو ہے نا۔۔ التمش کی نیند ایک پل میں اُڑی
مجھے تمہارے بھائی ارسلان کے کیس مین کچھ ایویڈینس ملے ہیں۔ تم کہاں ہو؟
واٹ کیسے ایویڈینس التمش بے تاب ساہوا۔۔۔
ملو گے تو بتاؤں گا۔ ارحم۔بولا۔۔۔
مین اس وقت شہر کے ہوٹل میں ہوں۔۔۔۔اس نے بتایا۔۔۔
ویری گڈ مین بھی شہر میں ہوں۔ تم ابھی کے ابھی ہوٹل کے پاس والے کیفے میں پینچو مین بھی آتا ہون۔ارحم بول کر فون بند کر گیا۔۔۔۔
بستر سے اُٹھ کر وہ واشروم کی طرف بڑھا۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ واپس ایا کار کی چابی موبائل اور وائلٹ پکڑ کر وہ باہر کی طرف بڑھا۔۔۔۔اس وقت رات کے چار بج رہے تھے۔ وہ پانچ منٹ بعد کیفے میں پہنچا۔۔
السلام علیکم! ارحم نے اسے دیکھتے ہی سلام کیا
وعلیکم السلام! کیسے ایویڈینس ملے؟ التمش بے قرار سا ہوا۔۔۔
دیکھو التمش تم نے جس دن کا مجھے اس کیس کے بارے میں انویسٹیگیٹ کرنے کا بولا تھا۔ مجھے اسی وقت کچھ گڑبر کا احساس ہوا تھا۔ میں اس جگہ پر گیا جہان پر ساری واردات ہوئی تھی۔ وہ جگہ کافی کھلی تھی اس پاس کافی درخت تھے۔ سعد نے جیسا بتایا۔ جس جس پوزیشن میں وہ چاروں کھڑے تھے۔ گولی روحان کے ہاتھ سے نہین چلی تھی۔ ارحم نے بتانا شروع کیا۔۔۔اسکے آخری کے الفاظ التمش خان پر بم کی طرح گِڑے۔۔ جس بات کا ڈر اسے پچھلے کچھ دنوں سے تھا۔ آج وہ سب سچ ثابت ہوا۔
تم اتنے یقین سے کیسے کہ سکتے ہو کہ گولی روحان نے نہین چلایی اسکے ہاتھ میں پسٹل تھی۔۔ اور باقی لوگوں نے بھی تو دیکھا تھا۔۔التمش خود کو سھنمبالتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
التمش مین اس ہسپتال میں بھی گیا۔ جہاں پر آخری دفع ارسلان کو لے کر جایا گیا تھا۔ مجھے وہاں سے جو باتیں معلوم ہوئیں انہی نے کیس کو سلجایا کیا۔۔ جو گولی ارسلان کو لگی تھی۔ وہ اس پسٹل کی نہیں تھی جو روحان کے ہاتھ مین تھی۔۔ گولی روحان کے ہاتھ سے چلی ضرور تھی۔ پر نشانہ ٹھیک نا ہونے کی وجہ سے وہ درخت کو جا لگی۔ روحان کی پسٹل سے نکلنے والی گولی یہ ہے۔ اور جو گولی ارسلان کو لگی وہ یہ ہے۔۔۔ اور دوسری بات گولی کافی فاصلے سے چلی تھی۔ جس کا مطلب ہے وہی کہی درخت کے پیچھے آدمی چھپا تھا۔ اور اس نے سائلنسر والی پسٹل سے گولی چلائی جس سے آواز صرف روحان کے پسٹل کی گھونجی۔۔۔ ارحم نے دونوں گولیاں سامنے رکھیں۔ التمش کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے گولیان پکڑیں۔۔۔۔
اس سب کے پیچھے تم لوگوں کا کوئی اور دشمن ہو سکتا ہے۔ جس نے بری چلاکی سے یہ سب کیا۔ اسطرح وہ قتل کر کے بچ نکلا۔۔اور تم سب نے بنا کسی انویسٹی گیشن سے روحان کو قصور وار ٹھرا کر اسکی بچاری بہن ہر ظلم کیا۔۔ یہ تو اچھا ہوا ہسپتال والوں نے یہ گولی پھینکی نہیں وہ لوگ ان سب کو ثبوت کے تور پر رکھتے ہیں۔ کہی کویی پولیس والا نا پوچھ لے۔ اگر یہ بھی نا ملتی تو سچ سامنے نا اتا۔۔۔ اب میں اس انسان کو بھی ڈھونڈ نکالوں گا۔ جو اس سب کے پیچھے چھپا ہوا ہے۔۔ ارحم بولا۔۔
شکریہ ارحم تم اپنا کام جاری رکھنا میں چلتا ہوں۔ التمش سے اب مزید بیٹھا نا گیا وہ گولیوں کو وہی چھورتا کیفے سے نکل گیا۔ گاڑی میں بیٹھا۔ اور گاڑی چلا دی۔۔۔۔وہ کسی ٹرانس کی کیفیت مین تھا۔۔۔۔
جب گاڑی مین گھٹن ہونے لگی تو اس نے سڑک کے ایک طرف کھڑی کر دی۔۔۔ وہ گاری سے باہر نکلا۔۔۔اور بے چین سا ہو کر اپنی شرٹ کے دو بٹن کھول دیے۔۔۔ جیسے سانس لینے مین پرابلم ہو۔۔۔۔
میرا بھائی بے گناہ ہے۔اسنے کچھ نہیں کیا۔۔
کسی معصوم پر اتنا ظلم مت کریں۔۔
مین نے ایس کچھ نہیں کیا۔۔۔۔
اسے اپنے آس پاس روحان اور زویا کی آوازیں سنائی دیں۔۔۔۔
یہ مین نے کیا کر دیا۔ کتنا برا گناہ ہو گیا۔۔ کسی معصوم بے قصور پر میں کیسے ظلم۔کر گیا۔۔۔۔ آہ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ زور سے چیخا۔۔۔ جیسے اپنے اندر سے اس گلٹ کو نکالنا چاہتا ہو۔۔۔۔
روحان نے آپ کے بھائی کا قتل نہیں کیا۔ بنا سچ جانے کسی معصوم پر اتنا ظلم مت کیجیے گا اسے ایک دفع پھر سے زویا کی کہی ہوئی بات یاد آئی۔۔آنسو اسکی آنکھوں سے نکلنے شروع ہو گے۔۔۔
میں کتنا ظالم ہوں۔۔۔۔وہ روتے روتے وہی زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔اس وقت صبح کے پانچ بج رہے تھے۔۔اذان کی آواز فضا مین گھونج رہی تھی۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ پر سر گڑاۓ بس روے جا رہا تھا۔۔ اسے اپنے سامنے وہ سب یاد آ رہا تھا۔۔ جو اس نے روحان کے ساتھ کیا۔۔کیسے اسے بھوکا رکھا۔ کیسے اسے مارتا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی اس نے یہ سب بند کروایا تھا۔ پر ابھی بھی روحان اسکی قید میں تھا۔۔اور اب جب سچائی سامنے آئی تو اسے اپنا آپ گڑا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔وہ ارد گر سے بے خبر بس روۓ جا رہا تھا۔۔۔۔
ارے بچے تم اس وقت اور یون سڑک پر بیٹھ کر کیوں رو رہے ہو۔کیا ہوا؟ اسے اپنے قریب سے کسی بزرگ کی اواز سائی دی۔۔ جو ہاتھ مین ٹارچ لیے پریشان سا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔اس نے اپنے چہرے سے ہاتھ ہٹایا۔۔ارد گر دیکھا تو احساس ہوا وہ کہاں ہے۔۔ بے بسی سے اس نے اپنا سر پیچھے کار کےدروازے سے لگا دیا۔۔۔
بیٹے کیا ہوا کوئی پریشانی ہے؟ اب بزرگ آگے بڑھا اور اسکے سر پر ہاتھ پھیر کر پوچھا۔۔۔
بس بابا جی اپنے کیے گے گناہوں پر رو رہا ہوں۔ کسی پر کیے گے ظلم کا احساس ہو رہا ہے۔۔ وہ آہستہ اواز میں بولا۔۔۔
اگر احساس ہو گیا ہے تو معافی مانگ لو۔ بزرگ بولے۔۔۔
معافی کس منہ سے مانگوں۔۔ اب تو ان دنوں کے سامنے جانے میں بھی شرم آ رہی ہے۔ دونوں کا گناہ نا ہوتے ہوۓ بھی سزا دی۔۔۔وہ اپنے انسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔ اور اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
بیٹے ہر انسان سے غلطی ہو جاتی یے۔ ہم صرف ان باتوں پر یقین کر لیتے ہین جو ہمارے سامنے ہوتی ہیں۔ ہم کبھی اس کے پیچھے کی سچائی جانے ہی کوشش نہیں کرتے۔ ہم جلدی سے فیصلہ سنا دیتے ہیں۔۔ پر جب احساس ہو جاۓ تو فوراً معافی مانگ لینی چاہیے۔ اس کے بعد اگلا معاف کرے نا کرے وہ اس پر چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔ بابا جی بولے
بابا جی! اگر مین معافی مانگون تو کیا وہ معاف کریں گے۔ التمش ان کی طرف مُڑکر بولا۔۔
بیٹے اگر تمہیں احساس ہو گیا ہے کہ تم غلط تھے۔ تو یوں شرمندہ ہونے کی بجاۓ معافی مانگو۔ اگر اگلے کا ظرف برا ہو تو معاف کر دے گا۔۔ اور اگر نا ہوا تو تب تک معافی مانگتے رہنا جب تک وہ معاف نا کر دے۔ بہت بار ہم انجانے مین گناہ کر بیٹھتے ہیں۔ اپنے گناہ کی معافی مانگو جدا سے اور اسکے بندے سے۔۔۔۔اور دوبارہ اس راہ کی طرف کبھی مت جانا۔۔۔۔
شکریہ بابا جی۔۔
ابھی تم میرے ساتھ چلو نماز ادا کر لو دل کو سکون ملے گا۔۔۔ اللہ راہ بھی نکال دے گا۔۔۔ بابا جی اسے ساتھ لیے مسجد کی طرف بڑھے۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
