Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

مجھے پہلے ہی دن سے یہ لڑکا سمجھ نہیں آیا۔ نا جانے کیوں ہمیشہ سے مجھے کھٹکٹا تھا۔۔ آج میرے ہی سامنے کھڑے ہو کر میری ہی بہن کے کردار پر یوں کیچڑ اچھال کر چلا گیا۔۔ دل تو کر رہا ہے ابھی کے ابھی اسے زندہ ہی قبر میں دفن کر آؤ۔ ہوتا کون ہے میری بہن پر کیچڑ اچھالنے والا۔۔ وہ جب سے کمرے میں واپس آیا تھا یونہی غصے سے کمرے میں چکر لگا رہا تھا۔
آپ پریشان نا ہوں۔ اگر اریشہ بے قصور ہے تو کوئی اسکے کردار کی دھجیاں نہیں بکھیڑ سکتا۔ زویا اسے یوں چکر لگاتے دیکھ کر بولی۔۔۔
صبح میں خود اریشہ کو لینے جاؤں گا۔ ورنہ وہ پریشان ہو جاۓ گئی۔ وہ خود سے بولا۔۔
مسٹر خان کیا آپ کو پورا یقین ہے۔میرا مطلب ہے کیا آپ کو واقع میں لگتا ہے اریشہ بےقصور ہے۔زویا اسے مقابل کھڑی ہو کر بولی۔۔۔
وہ التمش خان کی بہن ہے۔ میرا مان، غرور ہے۔ وہ کبھی مجھ سے جھوٹ نہیں بول سکتی۔ وہ یقین بھرے لہجے میں بولا۔۔۔
اور اگر ایسا ہوا تو؟ زویا نے کسی خیال کے تحت پوچھا۔۔۔
ایسا نا ممکن ہے۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔ میں باتھ لینے جا رہا ہوں۔ تم ریسٹ کرو۔ وہ بول کر ساتھ بنے واشروم کی طرف بڑھا۔۔زویا کچھ پل وہاں سے ہل نا سکی۔۔۔۔
کچھ سوچ کر وہ کمرے سے باہر نکلی سب سے چھپتے چھپاتے وہ اسی گلدان کے پاس گئی۔ اور وہاں پر رکھے پیپرز کو نکالا۔۔۔ ادھر اُدھر دیکھتے وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں آئی۔ دروازے کو لاک کیا۔ اور جلدی سے الماری کھولی۔۔۔ وہاں سے اپنے کپڑے نکالے اور ساتھ میں فون نکالا۔ چار جوڑے کپڑے تھے جن کو تہ لگا کر رکھا اور اسی کے درمیان فون اور وہ پیپر رکھے۔۔۔ کچھ یاد آنے پر اس نے جلدی سے ایک چادر کو پیچھے کیا تو سامنے وہی پیپرز پڑے ہوۓ تھے جو وہ اریشہ کے کمرے سے لائی تھی۔۔۔ جھٹ سے انہین بھی کپڑوں کے درمیان چھپا کر وہ کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
اپنے آپ کو نارمل کر کے وہ اوپر التمش کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔
کہاں جا رہی ہو؟ تبھی پیچھے سے صائمہ بیگم کی آواز آئی۔۔۔
اپنے شوہر کے کمرے میں۔ وہ ان کی آواز سب کر پلٹی اور مسکرا کر بولی۔ صائمہ بیگم کو اسکی مسکراہٹ تپا گئی۔۔
واپس اپنے کمرے میں جا۔۔۔چل۔۔۔۔۔ انہوں نے زویا کا بازو پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچا۔ زویا نے کپڑوں کو زور سے پکڑلیا۔۔ کہی کچھ باہر نا گڑ جاۓ۔۔۔۔
چچچ ساسو ماں جی۔ کیا ہو گیا ہے۔ دیکھیں اب نا آپ میری فکر کرنا چھوڑ دیں۔ آپ کے بیٹے نے تو اپنا لیا۔ اب تو میں بھی آپ ہی کی طرح اس حویلی کی بہو بن گئی۔ اب بس آپ اپنی بیٹی کی فکر کریں۔ یہ نا ہو۔ کل وہ اس حویلی کی بیٹی نا رہے۔۔ وہ بھر پور طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔
میری بیٹی کی طرف مت جانا۔ اگر اسکے بارے میں کچھ بھی بولا۔تو گدی سے زبان کھینچ لوں گئی۔۔۔ وہ آگے بڑھ کر وارنگ دیتے ہوۓ انداز سے بولیں۔۔۔۔
دیکھیں میری پاس نا آپ کی فضول باتیں سننے کا کوئی وقت نہیں۔ میرا شوہر نہا رہا ہے۔ مجھے اسکے کپڑے نکالنے ہیں۔۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولی۔ اور بنا ان کی طرف دیکھے سیڑیوں کی طرف بڑھی۔
وہ کمرے مین داخل ہوئی۔ تو ابھی تک التمش واشروم سے نہیں نکلا تھا۔ جلدی سے صوفے پر کپڑے رکھے اور ان میں سے کل والے پیپرز نکالا۔۔۔
اب ان کی تصویریں کیسے بھیجوں۔ وہ پیپرز کو ہاتھ میں پکڑے چھوٹے سے موبائل کو گھور کر بولی۔۔ جس سے تصویریں تو نہیں بھیجی جا سکتی تھیں۔ تبھی اسکی نظر سامنےسائیڈ ٹیبل پر پڑے التمش کے موبائل پر گئی۔ اگلے ہی پل موبائل اسکے ہاتھ میں تھا۔۔۔۔
جیسے ہی اسنے موبائل آن کیا۔ سامنے سکرین پر نقاب میں لپٹیں آنکھیں جگمگائیں۔ اسے ایک پل نا لگا پہچاننے میں کہ یہ اسی کی تصویر تھی۔ ایک دفع پھر سے دل نے جھنجھوڑا۔۔۔۔ پر دوبارہ سے دماغ نے حملہ کر دیا۔۔ اس نے سکرین پر انگکی چلائی تاکہ وہ کھلے۔۔ پر سامنے سکرین پر پاسورڈ لگا ہوا تھا۔۔۔
اف۔۔۔۔۔ اب اسکا پاس ورڈ کیا ہو سکتا ہے۔ وہ اپنی مٹھیوں کو زور سے میچ کر بولی۔۔۔کچھ سوچ کر اسنے التمش خان لکھا۔۔۔۔ پر موبائل نا کھلا۔۔۔
ہممم اور کیا ہو سکتا ہے۔۔ اس نے اپنا نام لکھا۔ پر یہ کیا یہ بھی غلط۔۔۔ اب تو سہی میں اسکا دماغ گھوما۔۔۔۔۔
حد ہو گئی۔ پاسورڈ تو ایسے لگایا ہے جیسے خزانہ ہو اس سڑے ہوۓ موبائل کے اندر غصے سے وہ موبائل کو واپس رکھنے لگی۔ ایک آخری دفع ٹرائی کرنے کی کوشش کی۔۔ زویا نے ارسلان ٹائپ کیا۔۔۔ موبائل کھل گیا۔۔۔ اسنے جلدی سے حازم کا نمبر فیڈ کیا۔۔۔ پیپرز کی تصویریں بنائیں۔ اور حازم کے نمبر پر بھیج دیں۔۔ بھیجنے کے بعد اسنے جلدی سے سب ڈلیٹ کر دیا اور موبائل کو وہی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔۔۔
سارے پیپرز الماری کھول کر وہی ایک دراز میں چھپا دیے۔۔ وہ الماری میں رکھ ہی رہی تھی کہ واشروم کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ زویا نے اپنا چہرہ نارمل کیا۔۔۔۔
زویا تمہارے لیے میں کچھ دن پہلے کپڑے لایا تھا پر دینے کی ہمت نہیں ہوئی۔ اوپر والے خانے میں شاپر رکھے ہیں دیکھ لو۔ وہ بول کر اپنے بیڈ پر آ کر بیٹھا۔ زویا کپڑے لیے واشروم میں گھس گئی۔۔۔
وہ اپنا موبائل پکڑ کر بیٹھ گیا۔ اور گل خان کو کال ملا دی۔ وہ گل خان سے بات کر رہا تھا جب کلک کی آواز پر واشروم کا دروازہ کھولا۔ اور زویا باہر نکلی۔ گلابی کلر کی قمیض شلوار پہنے جس پر وائٹ کڑھائی ہوئی تھی۔ دائیں کندھے پر گلابی ڈوپٹہ ڈالا ہوا تھا۔ بال گیلے ہونے کی وجہ سے تولیے میں قید تھے۔۔ وہ واشرون کا دروازہ بند کر کے آگے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی۔۔۔۔
التمش گل خان سے بات کرتا کچھ اس انداز سے بیڈ پر لیٹا جس سے اسکا رخ شیشے کے سامنے کھڑی زویا کی طرف تھا۔ وہ مگن سی اپنے بالو کو تولیے سے آزاد کرتی ڈرائیر نکال کر سُکھا رہی تھی۔۔۔
نہیں حویلی مت آؤ۔ میں خود پیسے لے کر ڈیرے پر آتا ہوں۔ وہی ملو۔۔۔ وہ گل خان سے بات کرتے سامنے شیشے سے نظر آتے اسکے عکس کو دیکھ رہا تھا۔وہ اسے اور بھی باتیں کر رہا تھا۔۔ زویا بال سُکھا کر پلٹی۔ وہ کمرے سے باہر نکلنے لگی۔۔۔۔۔۔
رُکو۔۔۔۔۔۔ کال کو بند کرتا التمش بولا۔۔وہ وہی رک گئی۔۔
زویا تم ابھی کچھ دن نیچے جانا کم کرو۔ مین نہیں چاہتا اماں تمہیں کچھ غلط بولیں۔ پہلے ہی تمہارے ساتھ غلط سلوک ہوتا رہا ہے۔ اب تو سب اور زیادہ خفا ہیں ۔ سب میرا غصہ تم پر نکالیں گے۔ وہ اسکے قریب آ کر بولا۔
کیا مطلب اب میں اس کمرے مین قید ہو جاؤ؟ وہ انکھیں پھیلاتے ہوۓ بولی۔
نہیں۔ بس کچھ دنوں کی بات ہے۔ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو۔ پہلے ہی اتنی ٹینشن چل رہی ہے۔ میں نہیں چاہتا مزید بدمزگی پیدا ہو۔ وہ اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں کے کر بولا۔۔۔
مسٹر خان! صبح سب کے سامنے آپ نے اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ میرا تو سنا ہی نہیں ۔۔۔۔ آپ اپنے کان کھول کر سن لیں۔ مجھے نا تو آپ میں اور نا ہی اس حویلی کے لوگوں میں انٹرسٹ ہے۔ آپ نے جو کچھ میرے بھائی کے ساتھ کیا نا اسکے پیے میں زندگی بھر آپ کو معاف نہیں کروں گئی۔۔۔ یہ سب تماشا جس دن بند ہو گا۔ اسی دن میں اس جگہ سے چلی جاؤ گئی۔ تو اس لیے دور رہیں۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ اسکے ہاتھوں سے کھینچ کر نکالتے ہوۓ بولی۔ اور صوفے کی طرف بڑھی۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے اپنے ہاتھ دیکھنے لگا۔۔۔
اہممم میں ڈیرے پر جا رہا ہوں۔ تم نیچے مت جانا۔ وہ بنا مُڑے بولا۔۔اور اگلے ہی پل کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
میں کبھی بھی اپنے دل کو اپنے مقصد کے درمیان نہیں لاؤں گئی۔ وہ اُٹھی اور الماری سے کاغذات نکالے جو حازم دے کر گیا تھا۔ انہیں واپس رکھ کر وہ کمرے سے نکلی۔۔۔ سب نیچے رات کا کھانا کھا رہے تھے۔۔۔
اپنے سر پر ڈوپٹہ لے کر وہ ان کی طرف آئی۔
ماشاءاللّٰہ سب کھانا کھا رہے ہیں۔ ویسے قسم سے بہت بھوک لگی ہے۔ وہ مسکرا کر آگے بڑھ اور کرسی کھینچ کر بیٹھی۔ سب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ وہاں ہر بس مرد ہی بیٹھے تھے۔۔
کیا ہو گیا؟ بھوک لگی ہے تو کھاؤ بھی نا۔۔۔ وہ سب کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
نیچ ذات کی تیری اتنی ہمت تو ہمارے مقابلے بیٹھے۔ ماجد گلاس کو زمین پر مار کر کھڑا ہوا۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔ہال مین ایک اور گلاس ٹوٹنے کی آواز آئی۔
گلاس ٹورنا مجھے بھی آتا ہے۔ ہم نے ٹھیکہ نہیں لیا ہوا۔ تم جیسے مردوں کے بعد کھانے کا۔ بھوک لگی ہے تو کھاؤں گئی۔ وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی اور چلا کر بولی۔۔۔۔۔
بیٹھو۔۔۔ سب کھانا کھاؤ۔ جہانگیر خان کی آواز گھونجی۔۔ ماجد کرسی کو لات مارتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
زویا بیٹھو! انہوں نے ایک دفع پھر سے کہا۔۔۔
زویا حیرانگی سے ان کے چہرے کی طرف دیکھا۔ جہاں کوئی غصہ نہین تھا۔ بلکہ وہ بہت آرام سے بات کر رہے تھے۔ زویا کو ہضم نا ہوا۔۔پھر بھی وہ بیٹھی اور کھانے لگی۔۔۔۔۔


اریشہ کو جب سے پتہ چلا تھا وہ پریشان سی ہاسٹل کے کمرے میں چکر لگا رہی تھی۔۔۔
جب کرنے مین گھبڑاہٹ نہیں ہوئی تو اب بال کھل جانے میں کیسی شرم۔ ماہ رخ کی آواز گھونجی۔۔۔۔
ماہ رخ چپ کر پہلے ہی میں بہت پریشان ہوں۔ وہ غصے سے بولی۔۔۔
کیوں کس وجہ سے پریشان ہے۔ ایک نا ایک دن تو سچائی کھلنی ہی تھی۔ ماہ رخ دوبارہ بولی۔۔۔۔
کھلنی تھی پر ایسے نہیں۔ ہمارا یہ پلین نہین تھا۔ ہمارا پلین تھا۔ بہت ہی عام سے طریقے سے رشتہ جاۓ گا۔ اور گھر والے مان جائیں گے۔ ہر جو حازم کے بھائی نے بتایا ہے۔ سب نے انکار کر دیا ہے۔۔ پتہ نہیں کیا وجہ ہو گئی۔ وہ بہت پریشان تھی۔۔۔
وہ بول رہی تھی جب اسکا موبائل چیخا ۔سکرین ہر نظرپڑی تو سراج لکھا تھا۔ اسنے اگلے ہی پل کال اُٹھا لی۔
تم پریشان مت ہو بھائی نے بولا ہے ہم کل ایک پھر جائیں گے۔ اور اس دفع میں ساتھ ہی جاؤں گا۔ سراج بولا۔۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔ اگر لالا کو پتہ چل گیا کہ ہم دونوں مح ت کرتے ہیں تو کیا ہو گا۔ اگر دوسری بات کھل گئی۔ تب کیا ہو گا۔۔ سراج مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔ وہ ڈرے ہوۓ لہجے میں بولی۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا۔ تم پریشان مت ہو ۔۔میں ہر پل کی خبر دوں گا۔۔۔ سراج نے اسے دلاسا دیا۔۔اریشہ کافی دیر اس سے باتیں کرتی رہی۔
دعا کرو لالا کو پتہ نا چلے ورنہ نا جانے ان پر کیا بیتے گئی۔ ماہ رخ بولی۔۔
وہ کافی پریشان تھی۔۔ یہی سوچ سوچ کر اسکی جان نکل رہی تھی اگے کیا وہ گا۔۔۔


رات کا کھانا کھانے کے بعد سب اپنے اپنے کمرے میں تھے۔ کیچن میں نجمہ سب کے لیے چاۓ بنا رہی تھی۔رات کے نو کا وقت تھا۔ التمش ابھی تک واپس نہیں آیا تھا۔ زویا چلتی ہوئی کیچن میں آئی۔
نجمہ وہ میرے کمرے میں میری شال پڑی ہے لا دو۔ سردی بہت لگ رہی ہے۔ وہ نجمہ کے برابر آ کر کھڑی ہو کر بولی۔۔۔
جی باجی ابھی لائی۔ وہ پلٹ کر کیچن سے باہر نکل گئی۔
جیسے ہی نجمہ نظروں سے اُجھل ہوئی۔ زویا نے جلدی سے اپنے پلو میں چھائی ایک ڈبیا نکالی۔ اور چاۓ میں اُڈھیلنا شروع کر دی۔ اپنا کام پورا کر کے وہ ایک طرف کھڑی ہو گئی۔
باجی مجھے تو کوئی شال نہیں ملی۔۔۔ نجمہ کچن میں آتے ہوۓ بولی۔
چھوڑو میں خود لے لوں گئی۔۔۔ تم سب کو چاۓ دو۔ وہ مسکرا کر کہتی کچن سے باہر نکل آئی۔۔
واہ بری بات ہے۔ آجکل بہت خوش دیکھائی دے رہی ہو۔ وہ اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ جا رہی تھی۔ تبھی پیچھے سے شمش کی آواز آئی۔۔۔
کیوں تمہیں میرے خوش ہونے سے کیا تکلیف ہے۔ وہ پلٹ کر بولی۔۔
اجی تکلیف ہمیں نہیں ہو گئی۔تو اور کسے ہو گئی۔ بہت جلد اس حویلی کی ساری باگ دور میرے ہاتھوں میں آنے والی تھی۔ پر صرف اور صرف تمہاری وجہ سے یہ سب نہیں ہو پایا۔ تم میری راہ میں رُکاوٹ بن گئی۔ وہ غصے سے بولا۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔ میں نے تو تم سے کبھی بات تک نہیں کی۔ مین تو تمہیں ٹھیک سے جانتی بھی نہیں ہوں۔ زویا حیرانگی سے بولی۔۔
مجھے نا سہی پر پنار کو تو جانتی ہو۔۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔۔ جو کہ زویا کو زہر لگی۔۔۔
تم اسے کیسے جانتے ہو۔۔ اس نے کھوجتی نگاہوں سے دیکھا۔
اپنے آدمی کو کون نہیں جانتا۔ وہ میرا ہی آدمی ہے۔ میں نے ہی اسے دادا جی کے کہنے پر تمہارے پیچھے لگایا تھا۔ پر اس نے اپنا کام ٹھیک سے نہین کیا۔ اور میرے ہاتھوں سب نکل گیا۔۔ وہ اپنے ہاتھ سے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مُکہ مارتے ہوۓ بولا۔۔۔
تم سب کے سب کتنے برے کمینے انسان ہو۔ کتنے گندے اور گِڑے ہوۓ ہو۔ زویا شاک سی ہو گئی تھی۔۔
ہاں ہم بہت برے ہیں۔ اب جو کام پنار نہیں کر پایا۔ وہ میں کروں گا۔ بس تم اب دیکھتی جاؤ۔ وہ دو قدم آگے بڑھ کر بولا۔۔
میں تمہیں جان سے مار دوں گئی۔ مجھے کمزور سمجھنے کی غلطی بھی مت کرنا۔ وہ اپنی انگلی اُٹھا کر وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔
ویسے ماننا پڑے گا۔ ایویں التمش خان جیسے بندہ تیرے پیچھے پاگل ہوا۔ تو ہے تو کمال کی چیز کیا حسن ہے۔۔ وہ زویا کے ہاتھ کر پکڑتے ہوۓ بولا۔ جو کی فضا میں تھا۔
میرا ہاتھ چھوڑو گھٹیا انسان۔ وہ غصے سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ بولی۔ اور بھاگ کر سِڑھیاں چڑھنے لگی۔۔۔۔ کمرے میں آ کر اس نے اپنا دروازہ بند کر لیا۔۔۔
آہہہہ کمرے میں آتے ہی وہ زور سے چیخی۔۔۔۔ بیڈ کے ساتھ ہی زمین پر نیچے بیٹھتی گئی۔اپنا چہرہ گھنٹوں کے درمیان چھپا لیا۔ اور رونے لگ گئی۔۔
کوئی اتنا گندہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اپنے غرور میں اتنا ڈوبے ہوۓ ہوتے ہیں۔ کہ صحیح غلط کی پہنچان ہی نہیں رہتی۔ جہانگیر خان کتنا ظالم انسان ہے۔ مجھے نفرت ہے۔ جہانگیر خان اب تم دیکھو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گئی۔ اپنے موت کے لیے بھی ترسوں گے۔ جتنے گناہ آج تک کیے ہیں سب کا حساب ہو گا۔ وہ روتے ہوۓ بولے جا رہی تھی۔۔۔ نا جانے کب تک وہ یوہنی روتی رہی۔۔ جب اچانک دروازے پر ہلکی سے دستک ہوئی۔ وہ ایک پل کو ڈر گئی۔۔
کووون؟ وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔۔
زویا میں ہوں دروازہ کھولو۔ باہر سے التمش کی آواز آئی۔
وہ اُٹھی اور دروازہ کھولا۔ وہ اندر آیا۔
کیا ہوا یوں چٹکی لگا کر کیوں بیٹھی تھی۔ وہ دروازہ بند کرتے ہوۓ بولا۔۔
ویسے ہی۔۔۔۔ وہ بنا اسکی طرف دیکھے آگے بڑھی۔۔
ادھر دیکھو تم رو رہی تھی؟ کیوں؟ وہ اسے بازو سے پکڑ کر اپنی طرف مُوڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
نہیں بس وہ ایسے ہی۔۔ وہ اپنی آنکھیں صاف کرتی نظریں چُڑا کر بولی۔۔۔۔
تمہارا بھائی اب ٹھیک ہے۔ تھوڑا تھوڑا ہوش میں بھی ہے۔ گل خان وہی ہے۔وہ سب کا دھیان رکھ رہا ہے۔ میں تمہیں صبح وہاں لے جاؤں گا۔۔۔ وہ اسے چپ کروانے کے لیے بولا۔۔۔
پر وہ اپنا سر نیچے جھکاۓ رو دی۔ اپنے سامنے کھڑے انسان کے سامنے اسے اپنا آپ بہت چھوٹا محسوس ہوا۔ کیسے کچھ گھنٹوں پہلے اس نے اپنے ہاتھ چھڑواتے ہوۓ کتنے تیخے الفاط بولے تھے۔ اور ابھی وہ ہی اسکے سامنے کھڑے ہو کر اسکے آنسوں سے پریشان یو رہا تھا۔
زویا۔ چل یہاں بیٹھو۔ وہ اسکا صوفے پربیٹھا کر پانی کا گلاس لے آیا۔ اور اسے پلایا۔۔
اب بتاؤ کیا بات ہے کیوں رو رہی ہو۔ کسی نے کچھ بولا۔ التمش اسکے سامنے زمین پر بیٹھ کر بولا۔۔۔
کچھ نہیں بس ایسے ہی رونا آ گیا۔ پتہ نہیں کیوں ڈر لگ رہا تھا۔ بہت سارا ڈر۔ وہ اپنا دائیاں گال صاف کرتے ہوۓ بولی۔۔
پاگل ہو تم ڈر کس بات کا۔۔۔۔۔ میں یہی ہوں۔ ہمیشہ تمہارے پاس تو ڈرنے کی کیا بات ہے۔۔ وہ ٹیشو سے اسکی دوسری گال صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
مجھے یہاں نہیں رہنا۔ پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے۔ اس حویلی مین مجھے ایک دم سے گھٹن سی ہو رہی ہے۔۔ سب بہت برا لگ رہا ہے۔ وہ دوبارہ سے اپنا چہرہ ہاتھوں میں لیے زور سے رونے لگی۔۔۔۔التمش اسکی حالت دیکھ کر پریشان ہو گیا۔
وہ اُٹھا اور الماری سے شال نکالی۔
اُٹھو! چلو باہر چلتے ہیں۔ تمہیں اچھا لگے گا۔ وہ اسے کھڑا کرتے ہوۓ بولا۔۔
کہاں؟ وہ کئی سوال انکھوں میں لیے بولی ۔۔
ایسی جگہ جہاں صرف سکون ملے گا۔ جہاں تمہیں گھبڑاہٹ نہیں ہو گئی۔ وہ اسکے ارد گرد چادر پھیلاتے ہوۓ بولا۔۔
زویا نے اپنے سر پر لیے ڈوپتے کو اچھے سے چہرے کے گرد لپیٹا۔ التمش اسے لیے نیچے گاڑی کی طرف آیا۔
اگلے کچھ پلون مین گاڑی ہواؤں سے باتیں کرنے لگی۔۔۔
التمش نے گاڑی کے شیشے کھول دیے۔ ٹھنڈ کے موسم میں چہرے پر پڑتی ٹھنڈی ہوا۔ ایک الگ ہی سکون دے رہی تھی ۔۔
اچھا لگ رہا ہے؟ وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔
بہت زیادہ۔۔۔۔۔ وہ مسکرا کر بولی۔ التمش گاڑی چلاتا رہا۔۔۔۔وہ ایک گھنٹے تک بے مقصد سڑک پر گاڑی چلاتا رہا۔۔
واپس چلیں یا ساری رات یونہی گاڑی چلاتا رہوں۔ پھر نا کہنا پٹرول ختم ہو گیا۔ وہ مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔
ہاں چلیں واپس چلتے ہیں۔ وہ ہاں میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔۔
زویا زندگی میں مشکلات آتی ہیں۔ کبھی کبھی ایسی سچویشن بھی آتی ہیں جس مین سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔ ان حالات کا پوری ہمت کے ساتھ مقابلہ کرنا ہی ایک اصل اور باہمت انسان کی پہچان ہوتی ہے۔ رونے سے زندگی میں کچھ ٹھیک نہیں ہوتا۔ وہ سامنے دیکھتا ہوا سنجیدہ انداز میں بولا۔۔۔زویا کو اسکا ایک ایک لفظ اپنے اندر اترتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔کچھ ہی دیر مین وہ دونوں حویلی واپس آ گے۔۔۔
چلو وضو کرو دونوں مل کر نماز پڑھتے ہیں۔ التمش واشروم سے وضو کر کے باہر نکلا تو سامنے صوفے پر بیٹھی زویا کو بولا۔ وہ اُٹھی اور وضو کرنے چلی گئی۔۔
جب وہ واپس آئی تب تک التمش دو جاے نماز زمین پر بیچھا چکا تھا۔ زویا نے اس کی امامت میں نماز پڑھی۔
زویا تمہیں پتہ جب میں چھوٹا تھا۔ تب میری اور پھوپھو مجھے پانچ وقت کی نماز پڑھایا کرتیں تھیں۔ اس حویلی میں مجھے سب سے زیادہ محبت اپنی پھوپھو سے تھی۔ تمہیں پتہ ان کے چہرے پر پتہ نہیں کیسے چمک ہوتی تھی۔ ایک الگ قسم کی چمک۔ نا جانے کیوں اسے اپنی پھوپھو کی یاد آ گئی۔۔۔
زویا جو کہ جاۓ نماز اُٹھا رہی تھی۔اسکی بات پر ایک پل کو ٹھری۔۔
اب وہ کہاں ہیں؟ زویا نے جاۓ نماز الماری میں رکھتے ہوۓ پوچھا۔
وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ کافی سال پہلے وہ انتقال کر گئیں۔ التمش لمبا سانس ہوا مین چھوڑتا ہوا بولا۔
ان کی ڈیتھ کیسے ہوئی۔ زویا اب پوری طرح اسکی طرف متوجہ تھی۔۔۔
پتہ نہیں۔ خیر ان باتوں کو چھوڑو۔ تم سو جاؤ کافی رات ہو گئی ہے۔ وہ اپنا تکیہ لے کر صوفے کی طرف بڑھا۔۔
ہنہہ زویا نے اپنا سر جھٹکا اور بیڈ ہر جا کر لیٹ گئی۔۔۔
التمش صوفے پر لیٹا اوپر چھت کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بہت سی دھندلی یادیں اسکے آنکھوں کے سامنے لہرائیں۔۔
ایم سوری پھوپھو! وہ نم انکھوں سے ہولے سے بولا۔۔۔۔۔۔۔
زویا صرف اسکے سونے کا انتظار کر رہی تھی۔ آدھے گھنٹے بعد وہ آرام سے بیڈ سے اُٹھی پیروں میں چپل ڈالی۔۔ کبڈ سے پیرز نکالے۔ ایک نظر التمش کی طرف دیکھا۔ جو کہ سو رہا تھا۔ وہ بنا آواز پیدا کیے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔۔
ادھر اُدھر دیکھتے ہوۓ وہ جہانگیر خان کے کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ جانتی تھی۔سواۓ التمش کے باقی سب تو اب چاہ کر بھی نہیں اُٹھنے والے۔ کیونکہ سب نے جو چاۓ پی تھی۔ اس میں بے ہوشی والی دوا تھی۔۔
ہیلو مسٹر جہانگیر! کیسے ہیں آپ۔۔۔۔ افکورس زندہ ہی ہوں گے۔ آپ کی ہڈی تو ویسے بھی بہت مطبوط ہے۔ اتنی جلدی مرنے والے نہیں۔۔۔۔ چلیں۔ خیر مین اپنا کام کر لوں۔ وہ بیڈ کے پاس زمین ہر بیٹھی۔۔اور سائیڈٹیبل کو کھول کر اس میں سٹیمپ پیڈ نکالا۔۔
سوۓ ہوۓ جہانگیر خان کا ہاتھ اپنے ہاتھ مین لیا اور انگھوٹھے کو سٹیمپ پیڈ پر رکھا۔ اگلے ہی پل انگھوٹھے پر نیلی سیاہی لگ گئی۔ زویا نے جلدی سے پیہرز پر انگھوٹھا لگایا۔ جب سب پر لگا لیا تو سٹیمپ پیڈ سائیڈ ٹیبل کے اندر رکھا۔۔۔
شکریہ نانا جی عُرف میرے ماں باپ اور بھائی کے قاتل۔۔ اب دیکھے گا آپ کو کیسے سڑک کے کنارے لا کر کھڑا کرتی۔ کل تو ویسے ہی آپ کی اس حویلی کی عزت پورے گاؤں مین نیلام ہونے والی ہے۔ زویا آگے بڑھی اور جہانگیر خان کے کان کے قریب ہو کر نفرت بھرے انداز میں بولی۔ ایک آنسوں گال پر بہ گیا۔۔۔
وہ اُٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔ اپنے کمرے مین واپس آ کر پیپرز کو اچھے سے چھاپا۔اور بیڈ پر آ کر لیٹ گئی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔