Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
شام سات بجے تک حازم کی فیملی حویلی سے چلی گئی۔ خالد صاحب کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی وہ بھی حویلی واپس آ چکے تھے۔ گاؤں کے لوگ ان کی عیادت کرنے آ رہے تھے۔۔ جہانگیر خان کا روب کہیں یا پیسے کی بھوک، اریشہ والی بات اس گاؤں سے باہر نہیں نکلی۔
زویا اسکے بعد اپنے کمرے سے نیچے نہیں گئی۔۔ وہ حازم کا سوچ سوچ کر پریشان ہو رہی تھی۔۔ رات کے ایک کا وقت تھا۔ التمش صوفے پر سو رہا تھا۔ زویا چپکے سے اُٹھی اور الماری سے اپنا موبائل نکال کر واشروم میں گھس گئی۔
موبائل کو آن کیا تو سکرین پر حازم کے سو میسج اور دس مس کال تھیں۔ زویا نے میسج کھولنے کی ہمت نا کی۔ اور حازم کا نمبر ملایا۔ تھوڑی ہی دیر میں حازم نے کال پک کر لی۔
اپنے شوہرِ نامدار سے فُرست مل گئی۔ حازم کا بھرہور طنز آیا۔
وہ صرف کاغذی شوہر ہے۔زویا نے ہمت کر کے بولا۔
ہنہ وہ تو میں نے آج دیکھ ہی لیا۔ زویا تمہیں پہلے ہی وارنگ دی تھی۔نا اس سے دور رہوں۔ مگر تم نہیں مانی۔ آج اس (گالی) کے ہاتھ میں تمہارا ہاتھ دیکھ کر جو انگارے میرے دل پر گِڑے ہیں اسکا تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی۔ کیسے تم اسکے ساتھ صوفے پر بیٹھے۔ اسکے کانوں کے قریب ہو کر باتیں کر رہی تھی۔ جیسے بہت قریبی رشتہ ہو۔۔۔۔ حازم کی آواز فون کے سپیکڑ کو پھاڑ رہی تھی۔۔ صاف ظاہر تھا۔ وہ کتنے غصے میں تھا
حازم ریلکس کیا ہو گیا ہے؟کچھ ہی دنوں مین یہ سب ختم ہونے والا۔ ۔۔۔۔ زویا بول ہی رہی تھی کہ حازم کی آواز آئی۔
یہ سب ختم تو ہو گا۔ پر میری بات کو اگنور کرنے کی سزا اب تمہیں ملے گئی۔ انتظار کرو۔۔ وہ غصے سے بولا اور فون کاٹ دیا۔
حازم حازم۔۔۔۔ زویا حیرت سے بس فون کو دیکھ ہی سکی۔۔۔۔۔۔
یا اللہ اب یہ لڑکا کیا کرے گا۔ وہ پریشان سی واشروم سے باہر نکلی فون کو الماری میں رکھ کر وہ پلٹی تو نظر التمش کے سوۓ ہوۓ چہرے پر پڑی۔وہ وہی اسکے قریب صوفے کے پاس بیٹھ گئی۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی۔ کیا ہو گا؟ کیسے ہو گا؟ جب آپ کو میری سچائی پتہ چلے گئی؟ تب آپ کی کیا حالت ہو گئی؟ ایم سوری التمش آپ بہت اچھے ہیں پر میں اپنی زندگی کی سب سے بری جنگ کو ہار نہیں سکتی۔ آپ جیسا انسان مجھے کبھی نہیں ملے گا۔ پر اپنی ماما کے خون کا بدلہ میری زندگی کا مقصد ہے۔ اگر یہ نا پورا کیا تو میرے ہونے کا کوئی فائدہ نہیں۔ وہ اسکے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ دل ہی دل میں اس سے مخاطب ہوئی۔ ایک آنسو اسکی پلکوں کی بار کو توڑتا چہرے پر بہا۔۔۔
التمش کی آنکھوں مین جمبش پیدا ہوئی۔ زویا نے اگلے ہی پل ہاتھ چھوڑا اور بیڈپر آ کر لیٹ گئی۔
★★
حویلی میں رخصتی کی تیاریاں شروع ہو گئی۔ ماہ رخ اور اریشہ دونون کی رخصتی طے پائی تھی۔ آئمہ بیگم تو خوشی خوشی اپنی بیٹی کی رخصتی کی تیاریاں کر رہین تھیں۔ صایمہ بیگم تو بس مروت کے مارے حصہ لے رہیں تھیں۔ رخصتی کا فنگشن حویلی کے گارڈن میں ہونا تھا۔ وہاں کا انتظام ماجد اور سعد سھنمبال رہے تھے۔ التمش اپنے گھر کو صاف کروا رہا تھا۔ زویا حویلی میں مدد کر رہی تھی۔
کل رخصتی تھی۔اریشہ بہت خوش تھی۔اسے اپنی خوشی ملنے جا رہی تھی۔ باقی حویلی والے کیا سوچتے ہین یا التمش کیسا محسوس کر رہا ہے۔ اس سب سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ماہ رخ اتنی جلدی رخصتی پر بہت پریشان تھی۔ سعد بھی یہ سب سن کر بہت حیران اور پریشان تھا۔ کچھ ہی دنوں میں اسکے فائینل پیپرز تھے۔ اور سے رخصتی۔۔۔ پر جہانگیر خان کا حکم۔ ماننا ضروری تھا۔۔۔
شام کے وقت التمش اپنے گھر کا کچھ کام کروا کے واپس لوٹ رہا تھا۔ کہ اچانک ایک گاڑی آ کر اسکی گاڑی کے سامنے رُکی۔ جس میں سے پانچ چھے بندے چہرے پر کالا رومال باندھے ہاتھوں میں ڈنڈے لیے باہر نکلے۔ التمش یوں اچانک افتار پر کچھ پریشان ہوا۔ وہ گاڑی سے باہر نکلا۔ ۔۔
کون ہو تم لوگ اور میرا رستہ کیوں رُکا۔ التمش آگے بڑھ کر بولا۔ اس سے پہلے کہ التمش کو کچھ سمجھ آتا۔ دو آدمی آگے بڑھے۔ اور ایک کالے کپڑے سے اسکے چہرے کو ڈھانپہ۔ اب اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔
چھوڑو مجھے کیا بدتمیزی ہے۔ وہ چِلایا۔ اپنے ہاتھ پاؤں مارے۔ وہی دوسرے آدمی نے ڈنڈے سے مارا۔
آہ۔۔ ایک آدمی نے ڈنڈا التمش کےبازو پر مارا۔ التمش کی چیخ بلند ہوئی۔
وہ اسے بے دردی سے مارے جا رہے تھے۔
چھوڑو مجھے کون ہو تم لوگ۔ وہ چِلایا۔ تبھی ایک آدمی نے اسکے پیٹ میں مُکہ مارا۔ باقی بھی کافی بے دردی سے مار رہے تھے۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ سب کچھ بہت اچانک سے ہوا تھا۔
چل بس کر مر جاۓ گا۔ بوس نے اتنا ہی مارنے کو کہا تھا۔ ان میں سے ایک آدمی بولا۔ سب رُک گے۔ التمش کو زمین پر دھکہ دے کر سب نکل گے۔ اسے گاڑی چلنے کی آواز آئی۔ جس بے دردی سے وہ لوگ مار رہے تھے۔ اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔ جلدی سے کالا کپڑا اپنے سر سے اُتارا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے دھند چھائی۔ ماتھے سے خون کی لکیر بہ رہی تھی۔ ناک سےخون نکل رہا تھا۔ اس سے اپنا بازو اُٹھایا نہین جا رہا تھا۔
یا اللہ مدد فرما۔وہ ہولے سے بولا۔ چونکہ شام کا وقت تھا تو سڑک بالکل سنسان تھی۔
کسی کے آنے کا کویی امکان نہیں تھا۔ التمش نے ہمت کر کے گاڑی کا فرنٹ دروازہ کھولا۔ اور ڈش بوڈ پر رکھا اپنا موبائل اُٹھایا۔ اسنے گل خان کو کال ملائی۔ اور اسے پہنچنے کا کہا۔ اور خود درائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ اپنے ساتھ پیش آنے والی واردات پر سوچنے لگا۔ گاڑی میں پڑی پانی کی بوتل سے اسنے دو گھونٹ پانی پیا۔
دس منٹ بعد ہی گل خان موٹر سائیکل پر اپنے ایک ساتھی کے ساتھ التمش کے پاس پہنچا۔۔
سائیں چھوتے سائیں، کیا ہوا؟ یہ سب کیسے ہوا؟ کون تھے وہ لوگ؟ گل خان بھاگ کر التمش کے پاس پہنچا۔
پتہ نہیں کون تھے۔ چار پانچ لوگ تھے۔ وہ اپنے پھٹے ہوۓ بازو کو دیکھتے ہوۓ بولا۔جہاں کوہنی سے خون نکل رہا تھا۔۔
چھوٹے سائیں ہسپتال چلیں۔۔گل خان التمش کا خون صاف کرتا ہوا بولا۔۔
نہیں گل خان حویلی لے چلو۔ اور تم موٹر سائیکل پر ہمارے ساتھ ہی چلو۔ وہ لوگ ابھی بھی گاؤں میں ہوں گے۔ وہ اتنا ہی بولا اور اُٹھ کر دوسری سیٹ پر بیٹھا۔ گاڑی کا بھی برا حشر ہوا تھا۔ اس کے چاروں دروازں کے شیشے ٹوٹ گے تھے۔۔جو ان میں سے ایک نے توڑے تھے۔۔
گل خان نے گاڑی فل سپیڈپر چلائی۔ اور آدھے گھنٹے میں وہ حویلی پہنچے۔
گل خان نے التمش کا سہارا دیا۔ اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جا رہا تھا۔ وہ اسے سہارا دیے حال میں داخل ہوا۔
لالا یہ کیا ہوا؟ سعد سیڑیوں سے نیچے اتر رہا تھا۔ جب اسکی نظر التمش پر پڑی جس کے سفید کپڑے خون سے بھیگے ہوۓ تھے۔وہ اسکا حال دیکھ کر وہی سے پلٹا اور اپنے کمرے سے فسٹ ایڈ باکس لے کر حال میں بھاگتا ہوا آیا۔ جہاں التمش اب صوفے پر بیٹھا ہوا تھا۔ اور باقی سب اسکے اس پاس کھڑے تھے صائمہ بیگم مسلسل رو رہیں تھیں۔
اماں میں ٹھیک ہوں کیوں رو رہی ہیں۔ صائمہ بیگم کو اپنےساتھ لگاتے ہوۓ بولا۔۔
سعد جلدی جلدی اسکی زخموں پر مرہم لگانے لگا۔ زویا ایک طرف کھڑی منہ پر ہاتھ رکھے التمش کا یہ حال دیکھ کر کانپ رہی تھی۔
التمش یہ سب ناظم شاہ نے کیا ہے نا؟ یہ تیسرا حملہ ہے۔ اب نہیں چھوڑوں گا۔ چلو گاڑیاں نِکالو۔ آج کے آج یہ معاملہ تو میں خود ختم کروں گا۔ جہانگیر خان گرجدار آواز مین بولے۔ پورے حال میں ان کی آواز گھونج رہی تھی۔۔
دادا جان یہ ناظم شاہ یا اسکے گھنڈوں کا کام نہیں ہے۔ وہ لوگ منہ پر رومال باندھ کر آۓ تھے۔ ان کا ٹارگٹ میں تھا۔ میرے چہرے پر کالا کپڑا باندھا۔ پھر مارا۔ تا کہ میں جواباً ان کو مار نا سکوں۔ پوری سوچی سمجھی پلینگ تھی۔ وہ گاؤں کے نہیں لگ رہے تھے۔۔ التمش صوفے پر سیدھا بیٹھ کر بولا۔۔
تم نہیں جانتے یہ ضرور ناظم شاہ کا کام ہے۔ وہ کہی اور سے بھی تو گنڈے منگوا سکتا ہے۔ جہانگیر خان کسی طور نہیں مان رہے تھے۔ ان کا غصہ ساتویں آسمان پر تھا۔ ۔۔
کہی یہ سب حازم۔۔۔۔۔۔ زویا یہ سب سن کر اندر تک کانپ گئی۔ اسکا پہلا شک حازم پر گیا۔ کیونکہ اس دن اس نے دھمکی دی تھی۔۔۔
دادا جان میری بات مانیں یہ وہ نہیں ہے۔ یہ ضرور وہ انسان ہے جس نے ارسلان کا قتل کیا تھا۔ التمش ہمت کر کے کھڑا ہوا اور جہانگیر خان کی طرف بڑھا۔ انہوں نے اسکے ہاتھوں کو پکڑا۔۔۔
کیا مطلب؟ سب نے حیرانگی سے زویا کی طرف دیکھا۔ زویا نے التمش کی طرف دیکھا۔
میں یہ سب آپ کو پہلے ہی بتا دیتا پر آپ مین سے ایک بھی میری بات کا یقین نا کرتا۔۔ کچھ ہفتوں پہلے مین نے ارحم کو ارسلان کے قتل کی انوسٹیگیشن کرنے کو بولا تھا۔ جب پچھلے ہفتے میں شہر گیا وہاں ارحم نے بتایا کہ ارسلان کا قتل روحان نے نہیں بلکہ کسی اور نے کیا تھا۔ پھر التمش نے ساری بات بتائی۔ جسے سن کر سب کےسب شاک میں چلے گے۔۔
جہانگیر خان کو ایک دم چکر آۓ۔
دادا جان! التمش نے انہیں صوفے پر بیٹھایا۔
تم نے یہ سب پہلے کیوں نہیں بتایا؟ صائمہ بیگم بولیں۔
اماں جو حالات چل رہے تھے۔ مجھے پتہ تھا یہاں کوئی یقین نہیں کرے گا۔ اسی لیے چپ رہا۔۔ آج بھی نا بتاتا۔ پر یہ سب ہوا تو بتانا پڑ گیا۔ التمش وہی جہانگیر خان کے پاس بیٹھتے ہوا بولا۔ زویا ایک طرف سر جھکاۓ کھڑی تھی۔
پر ہمارا ایسا کون سا دشمن ہے جو پیٹھ پیچھے وار کر رہا ہے۔ ارسلان کا قتل اور اب تمہارے پیچھے جہانگیر خان تھکے ہوۓ لہجے میں بولے۔
دادا جان بلاوجہ کوئی دشمن نہیں بنتا۔ جب کسی کا حق مارا ہو وہی بدلہ لیتا ہے۔۔ التمش ہولے سے بولا۔۔زویا نے گردن اُٹھا کر اس کو دیکھا۔
مجھے تو کل سے یہ لگ رہا ہے۔ یہ سب جو ہمارے ساتھ ہو رہا ہے۔ وہ سب اللہ کا عذاب ہے۔ ہم نے نا حق ایک بچی کو سزا دی۔ اسکی زندگی جہنم بنا دی۔ بنا سچ جانے اس پر اتنا ظلم کیا۔صایمہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔
اماں ان بے مقصد روائیتوں کے چکر میں نا جانے زویا جیسی کتنی لڑکیاں ظلم برداشت کر چکی ہیں۔ اور کر رہی ہیں۔ ہم سب گناہگار ہیں۔ قتل کا بدلہ لینے کے چکر میں ہم نے ایک معصوم کی زندگی بربار کر دی۔ اسے بے مقصد طعنوں اور عزیتوں کے حوالے کر دیا۔ بس اپنی نا نہاد روائیت کے چکر میں ظلم پر ظلم کر رہے ہیں۔ وہ دکھ بھرے انداز میں بولا۔ سب اتنی بری سچائی کا پتہ لگنے پر ابھی تک شاک مین تھے۔ اس حویلی کے ہر بندے نے زویا کو باتیں سنائیں تھیں۔ مارا پیٹا تھا۔ زویا مزید وہاں رک نا پائی اور سیڑیوں کی طرف بھاگی۔
جہانگیر خان کا بی پی کافی ہائی ہو چکا تھا۔ سعد انہیں دوائی دے کر کمرے میں لیٹا آیا تھا۔
صائمہ بیگم زویا سے بات کرنا چاہتی تھی پر التمش نے رُک دیا۔ وہ اُٹھیں اور التمش کے لیے یخنی بنانے کیچن میں چلی گئیں۔۔ سعد التمش کو سہارا دے کر اسکے کمرے میں لایا۔ زویا واشروم میں تھی۔
روحان کی بے گناہی سب کے سامنے ثابت ہونے پر جہاں وہ خوش تھی وہی التمش کو دھوکہ دینے پر وہ دکھی بھی تھی۔ دکھی ہونے کی وجہ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی۔۔ واشروم میں وہ کافی دیر تک روتی رہی۔ جہاں پہلے زویا اتنی بہادری سے کام کرتی تھی۔ اب کچھ دنوں میں وہ خود کو بہت کمزور محسوس کر رہی تھی۔ کچھ خالی پن سا اپنے اندر محسوس کر رہی تحی۔اور اس خالی پن کی وجہ وی جود بھی نہیں جانتی تھی۔ چہرے پر پانی کے چھینتے مارنے کے بعد وہ تولیے سے چہرہ صاف کر کے واشروم سے باہر نکلی۔ نکلتے ہی اسکی نظر التمش پر پڑی۔ جو کہ انہی کپڑوں میں بیڈ پر ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔ اپنے سر کو بیڈ کی بیک گراونڈ سے ٹکاۓ آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا۔۔
وہ چلتی ہوئی بیڈ پر آ کر بیٹھی۔ التمش نے اپنی آنکھیں کھولیں اور سیدھا ہو کر بیٹھا۔
کیا ہوا روئی کیوں؟ وہ اسکی سوجی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر بولا۔
وہ ایک بار پھر سے رونے لگی۔ اور آگے بڑھ کر التمش کے سینے سے لگ گئی۔ اسے زویا سے اس کی توقوں نہیں تھی۔ زویا زور زور سے رونے لگی۔
زویا ریلکس! کیا ہو گیا ہے رو کیوں رہی ہو۔ تمہارے بھائی کی بے گناہی ثابت ہو گئی یہ تو خوشی کی بات ہے۔ اس مین رونے والی کیا بات ہے؟ وہ اسکے بال سہلاتے ہوۓ چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ زویا نے نفی میں ہلایا۔۔
تو پھر کیوں رو رہی ہو؟ وہ نا سمجھی سے بولا۔۔
کچھ نہیں ایسے ہی وہ علحیدہ ہوتے ہوۓ بولی۔
ایک تو لڑکیوں کی یہ بات عجیب ہے۔ انہیں خود نہین پتہ ہوتا کیوں رو رہی ہیں۔ وہ ہکلا سا ہنسا۔۔
زویا نے اپنا چہرہ صاف کیا۔ اسکی نظر التمش کی سفید قمیض پر پڑے سرخ دھبوں پر پڑی۔
یہ سب میری وجہ سے ہوا وہ دل ہی دل میں خود کو قصور وار ٹھہرا رہی تھی۔
آپ کپڑے تبدیل کر لیں اور آرام کریں۔ بہت زیادہ چوٹیں لگی ہیں۔ زویا الماری سے کپڑے نکال کر اسے پکڑاتے ہوۓ بولی۔
اگر میری وجہ سے پریشان ہو رہی ہو تو مت ہو۔ جس نے بھی یہ حملہ کروایا ہے۔ بہت ہی کوئی آخری لیول کا لوزر ہے۔ اسے پتہ ہی میں میرے پیچھے میری بیوی کی دعائیں ہیں۔ مجھے بھلا کیا ہو سکتا ہے۔۔ التمش خان ہوں اتنی جلدی مرنے والا نہیں۔ وہ کپڑے پکڑ کر کھڑا ہوتے ہوۓ اسکے قریب ہو کر بولا۔۔ زویا نے اسکی آخری بات پر آنکھیں دیکھائیں۔
اس سے پہلے بیویوں والی ڈانٹ شروع ہو جاۓ میں کپڑے تبدیل کر لیتا ہوں۔ وہ مسکرا کر بولا اور پلٹ کر واشروم میں گھس گیا۔اسکے جاتے ہی زویا پلٹی اور الماری سے موبائل نکالا۔ اسے آن کیا تو سامنے ہی حازم کا میسج تھا۔
بولا تھا نا سزا ملے گئی۔ پر تمہیں نہیں تمہارے اس کاغذی شوہر کو۔ ہہاہاہ آگے ہنسنے والے ایموجی تھی۔ زویا کو میسج پڑھ کر بہت غصہ آیا۔ موبائل کو آف کر کے دوبارہ الماری مین رکھا۔ اور خود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔
***★
اگلے دن کی صبح کسی کے لیے خوشیاں اور کسی کے لیے نمی لے کر آئی۔ حویلی میں آج شام کو رخصتی کا فنگشن تھا۔۔۔ ساری تیاریاں ہو چکیں تھیں۔
صائمہ بیگم نے زویا کو اپنے کمرے مین بلوایا تھا۔ وہ ڈوپٹہ سر پر سجا کر ان کے کمرے میں داخل ہوئی۔سامنے بیڈ پر جالد صاحب لیٹے ہوۓ تھے۔
زویا بیٹا یہاں آؤ۔ صائمہ بیگم نے بہت پیار سے پکارا۔ زویا سوچتی تھی کل سچائی کھلنے کے بعد ہی ان کا رویہ ایسا ہوا کو گا۔
جی بولیں آپ نے بلوایا تھا۔ وہ سنجیدہ انداز میں بولی۔
ہاں آج کے فنگشن میں تم یہ والے کپڑے پہنوں گئی۔ انہوں نے صوفے پر رکھے ہوۓ کپڑے اور جیولری زویا کے حوالے کِیے۔ زویا کے چہرے پر حیرت پھیلی۔
معاف کیجیے گا پر میں یہ نہیں لے سکتی۔ میری اتنی اوقات نہیں یہ سب پہن سکوں۔ اور ویسے بھی یہ تو خاندانی ہے نا اور خاندانی اور اونچے گھرانے کی بہو ہی یہ پہن سکتی ہے۔ اور مین اس قابل کہاں۔وہ ہلکے سے طنزیہ انداز میں بولی۔
جانتی ہوں۔ میں نے بہت غلط کیا۔ اُس رویے کے لیے معاف کا لفظ بھی بہت چھوٹا ہے۔ میں نے جو رویہ تمہارے ساتھ رکھا اس کا بدلہ مجھے میری بیٹی کی شکل مین مل رہا ہے۔ مین بس ہاتھ جوڑ کر تم سے معافی مانگتی ہوں۔ ہمیں معاف کر دو۔ صائمہ بیگم زویا کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولیں۔
آپ پلیز ایسا مت کریں۔زویا نے ان کے ہاتھ نیچے کر کے کہا۔
زویا میں یہ نہین کہوں گئی ہمیں فوراً معاف کر دو۔ جب تمہارے دل مین سے ساری خفگی مٹ جاۓ تب معاف کر دینا۔
تم میرے بیٹے کی بیوی ہو۔ جسے وہ ہم سب کے سامنے قبول کر چکا ہے۔ اس حق سے مین یہ سب تمہیں دے رہی ہوں۔ اگر تم انہین پہنوں گی۔ تو مجھے لگے گا تم بہت جلد ہمیں معاف بھی کر دو گئی۔ صائمہ بیگم نے دوبارہ سے اسکی طرف کپڑے اور جیولری کا ڈبہ اور ساتھ میں جوتے کیے۔۔زویا نے کچھ سوچ کر وہ سب پکڑ لیا۔ اور بنا کچھ بولے پلٹ گئی۔ اپنے کمرے میں واپس آ کر سب کچھ بیڈ پر رکھا۔اور خود بھی وہی بیٹھ گئی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔
