Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 31

پھر کیا ہوا؟ زویا نے پوچھا۔
پھر اسکے دو ہفتوں بعد حاشر نے جہانگیر خان کی حویلی میں ایک پارسل بھیجا۔ اس میں اس دن کی احمد اور مہوش کی ایک ایک کر کے ہوٹل میں جانے اور کمرے مین داخل ہونے کی ویڈیو تھی۔ اور اسکے ساتھ کچھ نازیبہ تصاویر تھیں۔ دونوں کی جو کہ ایڈیٹ کروائی گئیں تھی۔ وہ سب حویلی کے لوگوں پر بم کی صورت میں گِڑا۔
واٹ! اور یہی کھیل انہوں نے بیس سال بعد دوبارہ سے کھیلا۔ سیم سِراج نے سنتے ہی غصے سے کہا۔ اریشہ پریشان سی سب سن رہی تھی۔
آگے کیا ہوا؟ زویا نے سرد لہجے میں کہا۔ یہ سب اسکے لیے بالکل شاک میں بھیج دینے والا تھا۔
اسکے بعد مہوش کو حویلی بلایا گیا۔ احمد کو کیڈنیپ کروا کر حویلی لایا گیا۔ ساری حویلی کے سامنے مہوش کے کردار پر سوال اُٹھاۓ گے۔ احمد کو بہت بری طرح سے پیٹا گیا۔ سب کے سامنے ان دنوں کو سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ دونوں کو اپنی بات کہنے کا موقع بھی نا دیا گیا۔ چونکہ یہ بات حویلی کی بیٹی کی تھی۔ تو تمہارے ماموں خالد نے اپنے ابا کو سمجھایا اور ان دونوں کا نکاح کر دیا گیا۔ اور دونوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حویلی سے بے دخل کر دیا گیا۔ حویلی مین سے کسی کو آج تک علم نہیں تھا۔ حاشر اور احمد دونوں بھائی ہیں۔ اسکے بعد احمد مہوش کو لے کر ہماری آبائی حویلی مین آیا۔وہاں بھی ان دنوں کی تصاویر اور ویڈیو پہنچی ہوئی تھی۔ دونوں کے کردار پر وہاں بھی بہت سوال اُٹھاۓ گے۔ احمد کے والد نے اسے عاق کر کے حویلی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکال دیا۔ احمد اسے لیے اپنے دوست کے فلیٹ میں پہنچا۔مہوش اتنا سب کچھ ہو جانے پر شاک مین چلی گیی تحی۔ مجھے آج بھی یاد ہے اس دن احمد نے فون کر کے مجھے بلایا تھا۔ اس دن جب میں نے مہوش کو دیکھا تو مجھے حاشر پر اور سب سے زیادہ خود پر غصہ آیا۔ مجھے خود سے شرم محسوس ہوئی۔ اسکا گلیٹ آج تک میرے اندر سے نہیں نکالا۔ میرا ضمیر ہر روز مجھے جھنجھوڑتا ہے۔ حمیدہ بیگم روتے ہوۓ بولی۔سب شاک سے یہ سب سن رہے تھے۔ اپنے سامنے اپنے باپ کی اتنی گھنونی سچائی سن کر ہر کوئی ہل گیا۔
یہ سب ہونے کے باجود بھی حاشر خوش نہیں تھا۔ اسے مہوش چاہیے تھی۔ اسے یہ تھا۔ کہ اسکا کردار اسکے گھر والوں کے سامنے برا بنا کر وہ اسے حاصل کر لے لگا۔ اسے لگا احمد کو وہ مار دیں گے۔ اور پھر وہ جا کر اسے اپنا لے گا۔ پر ایسا ہو ا نہیں اسکا وار اسی پر اُلٹ گیا۔ وہ اس دن سے جہانگیر خان کو برباد کرنا چاہتا تھا۔ اسکے خاندان کو سب کے سامنے رسوا کرنا چاہتا تھا۔ وہ مہوش کو کسی بھی حالت مین اپنا بنانا چاہتا تھا۔ میرے گھر رشتہ بھیجھ کر اسنے مجھے رخصت کروا لیا۔ میں نے اسے تو پایا لیکن اسکے پیار کو نہیں۔ اسنے مجھے ہمیشہ یوز کیا۔ حویلی میں سب سے لڑ کر جان بھوج کر وہ شہر آ گیا۔ یہاں آکر اسنے اپنا نام بدلا۔ حاشر شاہ سے وہ سلطان ملک بن گیا۔ سوسائیٹی مین اپنی صاف ایمج بنائی۔ ملک انڈسٹری شروع کی۔ جب مہوش اور احمد کی موت ہوئی۔ اس دن اس نے زویا تمہیں ایسی ایسی باتیں سنائین جسے سن کر تم بچپن مین ہی اپنے نانا لوگوں کو ہیٹ کرنے لگی۔ اسنے اس ایکسیڈینٹ کو یوز کیا اور تمہیں بتایا کہ جہانگیر خان اور اس حویلی والوں نے اپنی انا کا مسلہ بنا کر تمہاری ماما بابا کو قتل کیا۔ وہ سب جھوٹ تھا۔ میرے سامنے وہ تمہارے دماغ مین خناس بھرتا گیا اور مین طلاق کی دھمکی کی وجہ سے چپ ہو گئی۔ میرے سامنے میرے برے بیٹے حازم کو بھی اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ وہ دیکھو آج میرا بیٹا سہی غلط کی پہنچان بالکل بھول گیا۔ صرف بے بنیاد اور جھوٹے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ہر حد پار کر دی۔ چاہیے وہ ماجد کی قتل کی ویڈیو لیک کرنا یا چاہیے اریشہ اور سِراج کی غلطی کو یوں۔ سرِ عام اچھالنا۔ اریشہ کے کردار پر سوالیہ نشان بنا دیا۔ یا چاہیے اس بے قصور بچے پر گولی چلانی ہو۔ سب مین حازم نے بڑھ چڑھ کر پلینگ پلاٹنگ کی۔ اور دوسری بات مہوش اور احمد نے کوئی تم دونوں کی انگیجمنٹ نہیں کی۔ یہ سب بھی سلطان کی پلینگ تھی تاکہ زویا کی پراپڑٹی اسی کے پاس رہے۔ چاہیے سلطان کے پاس بہت پیسہ ہے پر پھر بھی جب ایک انسان کو لالچ پڑجاۓ تب وہ ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ حمیدہ بیگم روتے ہوۓ بولیں۔
زویا میں تم سے معافی مانگتی ہوں میری وجہ سے یہ سب ہوا۔ اگر میں مہوش کو ہوٹل نا لے کر جاتی۔ یا بعد مین سلطان کی سچائی سب کو بتا دیتی ۔ تو یہ سب نا ہوتا پر میں طلاق کی دھمکی سے آج تک ڈری بیٹھی تھی۔۔ میری نظروں کے سامنے ایک چھوٹی سی بچی کی ذہنیت کے ساتھ کھیلا گیا۔ پر مین کچھ نہین کر پائی۔ حمیدہ بیگم ہاتھ جوڑکر روتے ہوۓ بولیں۔۔۔۔
تائی جی آپ معافی کیوں مانگ رہی ہیں۔ مجھ گناہگار سے تو بالکل بھی معافی مت مانگیں۔ اگر انہوں نے وہ سب میری ماما کے ساتھ کیا تو میں نے بھی تو بدلے کی آگ میں یہ سب کچھ اریشہ کے ساتھ کِیا۔ اس بدلے کی آگ میں جو کبھی تھا ہی نہیں۔ جس کی بنیاد ہی جھوٹ تھی۔ اف خدایا ہاہا میری تو ساری زندگی ہی جھوٹ کی بنیاد پر تھی۔ کس طریقے سے یوز کیا۔ مجھے کیا بنا دیا۔ مجھے بے ہس بنا دیا۔ ہاہا وہ اونچا اونچا ہنستے ہوۓ بولی۔۔
حازم یہ سب سن کر اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ جس باپ کی اسنے آج تک بات مانی تھی۔ جا کے کہنے پر یہ سب کیا تھا۔ آج وہ سب اسکے سامنے کس طرح سے نکل کر آ رہا ہے۔ سب سن کر وہ چکرا گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا۔
زویا زور زور سے ہنس رہی تھی۔ آخر میں رو دی۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر روئی۔ تبھی اسکے ہاتھ مین پکڑے موبائل پر میسج کی ٹون بجی۔ زویا نے فون پکر کر سامنے کِیا۔ تو ایک میسج اسکی سکرین پر جھگمگا رہا تھا۔ اسے پڑھ کر وہ کھڑی ہوئی۔ اور پلٹ کر داخلی دروازے سے باہر نکلی۔
کسی نے اسے رُکنے کی کوشش نہیں کی۔حمیدہ بیگم وہی صوفے پر بیٹھیں روتی رہیں۔ آج سالوں بعد ان سارے لمحات کو یاد کر کے وہ بہت روئیں۔
حازم کو گھبڑاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی۔ وہ اپنی شرٹ کے اوپر والا بٹن کھولتا وہاں سے اُٹھا۔ اور باہر نکلا۔ گاڑی میں بیٹھ کر وہ وہاں وہ بے مقصد سڑک پر گاڑی دوڑانے لگا۔ اسے وہ سارے لمحات اپنی آنکھوں کے سامنے نظر آۓ جب سلطان صاحب اسے کیسے بڑھکاتے تھے۔
کیوں ڈیڈ کیوں؟ وہ زور سے چیخا۔ اور سٹرینگ پر ہاتھ مارتا گاڑی کی سپیڈ بڑھا دی۔ اس نے حد سے زیادہ گاڑی کی سپیڈ بڑھائی۔ گاڑی کی سپیڈ بہت زیادہ تھی۔ سڑک پر دور سے ٹرک نظر آ رہا تھا۔اس نے اس ٹرک کو دیکھتے ہوۓ سپیڈ کو آخری حد تک بڑھا دیا۔ اور اگلے کچھ پل میں گاڑی سیدھی اس ٹرک سے ٹکڑائی۔ گاڑی کی سپیڈ زیادہ ہونے کے باعث ٹرک سے ٹکڑاتے ہی گاڑی لوٹ پوٹ ہوئی۔ اور کافی دور جا کر الٹی ہو کر رُکی۔۔
اتنے برے ایکسیڈینٹ کو دیکھ کر وہاں بھیر جمع ہو گئی۔ حازم کی سائیڈ والا شیشہ چکنا چوڑ ہو گیا تھا۔ وہی ہر کھڑی بھیر نے آگے بڑھ کر جلدی جلدی حازم کو باہر نکالا۔ وہ ہوش و حواس سے بے گانہ لہو لہان پڑا ہوا تھا۔ اگلے کچھ پل میں وہاں پر ایمبولنس پہنچی۔ ٹرک والے ڈرائیور کو تھوڑ چوٹیں لگیں تھیں۔ پر حازم کی حالت بہت بری تھی۔ اسے جلدی سے ہسپتال پہنچایا گیا۔


واہ جہانگیر خان بری بات ہے میرے ایک فون پر تم مجھے یہاں اتنی دور ملنے آ گے۔ سلطان تالیاں بجاتا ہوا آگے بڑھا۔
شام کے پانچ بج رہے تھے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے ہی سلطان صاحب نے جہانگیر خان کو فون کیا اور اسے یہاں بلا لیا۔ انہوں نے فون پر بولا کہ معاملہ رفع دفع کر دیں گے۔ یہ ایک سنسان سڑک تھی آس پاس کافی درخت تھی۔ جیسے بہت برا جنگل ہو۔ آمنے سامنے دو گاریاں کھڑیں تھی۔ جو ایک جہانگیر خان کی اور دوسری سلطان کی تھی۔ جہانگیر خان کی گاڑی مین ایک ڈرائیور تھا۔
اب اگر تم مجھ پر جھوٹے الزام لگا کر جیل بھیجو گے۔ تو مجھے تو آنا ہی پڑے گا۔ سچائی کلیر کرنے کے لیے جہانگیر خان نے با روب انداز مین کہا۔
ہاہا ہاں جہانگیر خان سچ بولا تم نے مانتا ہوں یہ الزام سرا سر جھوٹا ہے ۔ یہ بھی مانا وہ ایک سیمپل سا ایکسیڈینٹ تھا جس میں بیچاری تیری بیٹی اور معصوم سا میرا بھائی اور ہاں تمہارا نواسا مر گیا۔ پر تم یہاں کس کو سچائی بتانے آۓ ہو یہاں صرف میں اور تم ہیں۔ تو کس کو سچائی بتاؤ گے۔ وہ ہنستے ہوۓ بولے۔
تم کتنی بری غلط فہمی میں ہو تمہیں کیا لگتا ہے۔ اگر سالون پہلے مجھے یہ معلوم ہو کہ میری بیٹی اور داماد فوت ہو گے ہیں۔ اوریہ ایک سمپل ایکسیڈینٹ ہیں۔ اور میں پاگل ہوں جو اس بات کو مان لوں گا۔ تو حاشر عرف سلطان یہ تمہاری زندگی کی سب سے بری غلط فہمی ہے۔ میں بہت خوب جانتا ہوں وہ ایک سادہ ایکسیڈینٹ نہیں تھا۔ بلکہ تم نے مروایا تھا۔ جس بس کے ساتھ ایکسڈینٹ ہوا تھا۔ وہ بالکل خالی تھی۔ اسکا ڈرائیور بالکل ٹھیک تھا۔ اور تمہاری اطلاع کے لیے یہ بھی بتا دوں وہ پچھلے نو سال سے میری قید میں ہے۔ اور اس نے سب سچ بک دیا ہے۔ جہانگیر خان غصے سے بھری آواز میں بولے
سلطان صاحب کے چہرے کا رنگ اُڑا۔ پر اگلے ہی پل وہ ٹھیک ہو گے۔
ارے واہ یہ تو اچھی بات ہے۔ پر اب کیا فائدہ تم کچھ پرو نہیں کر سکتے۔ جہانگیر خان جس دن تم نے سب کے سامنے میری بے عزتی کی تھی۔اور تیری اس پاک باز بیٹی نے میتے منہ پر تھپڑ مارا تھا نا اسی دن میں نے فیصلہ کر کیا تھا۔ تم دونوں کو ایسی سزا دوں گا۔ زندگی بھر یاد رکھو گے۔۔ تو نے خود اپنی بیٹی پر یقین نہیں کیا۔ اوراسے نکال دیا۔ ویسے ایک بات بولوں گا۔ تیری بیٹی بلا کی خوبصورت تھی۔ میں تو با اسے پانا چاہتا تھا۔ شادی کے بعد بھی کئی دفع اسے ڈرایا ڈھکایہ۔ پر سالی نے اپنے اس خبیص شوہر کو بتا دیا۔ اور اس نے مجھے بہت مارا۔ اس دن سے پانچ دم بعد میں نے ان سب کو مارنے کا ارادہ کیا۔پر نا چاہیتے ہوۓ بھی۔ تمہاری وہ بے وقوف نواسی زویا بچ گئی۔ پھر میں نے سوچا چلو بیٹی کو چاہیے نا پا سکا۔ چل جہانگیر خان سے بدلہ لیتا ہوں۔ اسکے بعد دیکھ تمہاری ہتھیلی پر ہتھکڑی بڑی۔ اور جب وہ ہتھکڑی تمہاری ہاتھوں مین بندھی ہوئی تھی۔ قسم سے دل خوش ہو گیا۔وہ ہنستے ہوۓ سب بتا رہے تھے۔ جیسے یہ سب مزاق ہو۔۔
تمہیں زرا شرم نہیں آئی۔ جہانگیر خان سن کر بس اتنا ہی بولے۔۔۔
شرم ہممم نہیں آئی۔ میں خوب جانتا ہوں تمہیں عدالت سزا نہیں دے گئی۔ آخر سورسس بہت ہیں۔ پر چلو آج مین سزا دیتا ہوں۔ مجھے ریجکٹ کرنے کی۔ میری بےعزتی کرنے کی۔ آج کے بعد تمہارا اور میرا معاملہ ختم ۔سلطان مسکرا کر بولا۔ اور اپنے کوٹ کے اندر سے پسٹل نکال کر اسکا رخ جہانگیر خان کی طرف کر دیا۔ چل جہانگیر کلمہ پڑھ لے۔ وہ ہنستے ہوۓ بولے۔
جہانگیر خان اسکی حرکت کو دیکھ کر مسکراۓ۔ اور مسکراتے ہوۓ کلمہ پڑھنے لگے سلطان صاحب نے ٹریگر پر انگلی رکھی۔ اور دبانے لگے۔جب ان کے ہاتھ پر ایک کک لگی اور پسٹل دور جا کر گِڑی۔۔
آہ۔۔۔ وہ اپنا ہاتھ پکڑ کر چِلاۓ۔
جہانگیر خان نے مُڑ کر دیکھا۔ تو سامنے والے کو دیکھ کر وہ پر اسرار مسکراۓ۔
تم! سلطان نے مُڑ کر آنے والے کو دیکھا۔ تو سکتے کے عالم میں بولے۔
آنے والا اور کوئی نہیں التمش خان تھا۔
ہاں میں سلطان ملک سوری حاشر شاہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری یے سوری گائیز اتنا ہی لکھ پائی۔ انشااللہ اگلی قسط کل ضرور دوں گا۔۔۔۔ بتائیں کیسی لگی قسط اور فار شور اگلی قسط دھماکہ دار ہونے والے ہے۔