Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
وہ ہمیشہ کی طرح کیچن میں کام کر رہی تھی۔ سب کے ناشتے کے برتن دھو رہی تھی۔ اور نا جانے کن خیالوں میں گم تھی۔ حویلی میں اریشہ اور ماہ رخ تو اسی دن کی ہوسٹل شیفٹ ہو گئیں تھیں۔ صائمہ بیگم تو بس کمرے کی ہو کر رہ گئی تھیں۔۔۔ بس آئمہ بیگم ہی اسے طعنے دیتی رہتیں تھیں۔۔ جسے وہ ایک کان سے سنتی اور دوسرے کان سے نکال دیتی۔
نہیں چلے گا یہ انیاۓ نہیں چلے گا۔ اچانک باہر سے اونچی اونچی آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔۔
واہ چلو کوئی تو ڈرامہ شروع ہوا چل کر دیکھتی ہوں۔ وہ ہنستے ہوۓ بولی۔ اور نل کو بند کر کے اپنے ہاتھ ڈوپٹے سے پونچھے باہر آ گئی۔۔ سامنے حویلی کے داخلی دروازے کے آگے گاؤں والے ہاتھوں میں ڈنڈے پکڑے اونچی اونچی نارے لگا رہے تھے۔۔ اور گارڈز انہیں روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔
یہ کیا ڈرامہ لگا رکھا ہے۔ اور تم سب کی ہمت کیسے ہوئی یوں میری حویلی میں آنے کی۔ جہانگیرخان کی گرجدار آواز گھونجی۔۔ وہ مردان خانہ میں بیٹھے معاملات دیکھ رہے تھے۔ جب باہر سے آوازیں آنا شروع ہوئیں۔۔۔۔
ڈرامہ ہم نے نہیں بلکہ خان صاحب آپ نے لگا رکھا ہے۔۔۔۔بھرے مجمے میں سے ایک آواز آئی۔
کیا بکواس ہے؟ کون ہے یہ بدتمیز؟ خالد صاحب سے برداشت نا ہو سکا۔۔۔۔
وہی بدتمیز جس کی بیٹی کی آپ نے یہ کہ کر شادی کروا دی تھی۔ کہ وہ شہر پڑھنے کیوں گئی اور آج آپ کی حویلی کی دونوں لڑکیاں شہر پڑھنے چلی گئی ہیں۔ تو اس دوگلے پن کو کیا کہنا چائیں گے۔ وہ کافی غصے میں لگ رہا تھا۔
او اچھا تو یہ سب لوگ تم اکھٹے کر کے لاۓ ہو۔ تا کہ مجھ سے بدلہ لے سکو۔۔۔جہانگیر خان ہنستے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔
خان بابا یہ کیا ہو رہا ہے؟ یہ گاؤں والے یہاں کیوں جمع ہیں۔ التمش اپنی جیپ میں بیٹھا ہوا گارڈ سے پوچھ رہا تھا وہ ابھی ابھی آیا تھا۔۔۔۔۔رات کا وہ شہر گی ہوا تھا۔
سائیں مارے کو تو سمجھ نہیں آ رہی۔ آپ خود جا کر دیکھ لو۔
ہمممم میں خود ہی دیکھتا ہوں۔ وہ جیپ سے نکل کر اپنے گرد لپیٹی چادر کو ٹھیک کرتے ہوۓ آگے بڑھا۔۔۔۔
ہاں اگر ایسا ہی دوگلا پن چلتا رہا تو ضرور بدلہ لیں گے۔۔۔کیوں بھایو۔۔۔۔ وہ آدمی اونچی آواز میں بولا تو سب کے سب نے ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔۔۔
ہممم تو سب سے پہلے تم اور تمہارا پورا خاندان اس گاؤں سے دفع ہو جاؤ۔ تمہارے پاس صرف دو گھنٹے ہیں۔ ان دو گھنٹوں بعد میں تمہارا چہرہ بھی گاؤں میں نا دیکھوں۔۔۔ اگر کسی اور کو بھی بدلہ لینا ہے تو بولو۔ ان کے منہ سے نکلنے والے الفاظوں نے سب کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھینچ لی۔سب جانتے تھے اس گاؤں کے علاوہ ان کے پاس کوئی ٹھیکانہ نہیں۔سب آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔
دادا جان آپ یہ سب کی بول رہے ہیں؟ ایسا بلکل نہیں ہو گا۔ میں ایسا بالکل نہیں ہونے دوں گا۔۔ التمش ساری بات سمجھ کر بولا۔۔۔۔۔۔
سب نے مڑ کر آنے والے کو دیکھا جو ان کے لیے تو کم از کم فرشتہ ہی بن کر آیا تھا
التمش تم اس معاملے سے دور رہو۔۔ میں خود حل کر لوں گا۔۔۔ خالد صاحب بولے۔۔۔
ابا میں اس معاملے سے دور کیسے رہوں۔ جب یہ شروع ہی مجھ سے ہوا ہے۔ اگر میں اریشہ اور ماہ رخ کو شہر پڑھنانے کی ضد نا کرتا تو یہ سب شروع ہی نا ہوتا۔۔ وہ خالد صاحب کو بولا۔۔۔
بالکل تھیک ہوا یہ سارا فساد تم سے شروع ہوا ہے۔ کیونکہ تم ایک نافرمان بیٹے اور پوتے ہو۔ جہانگیر خان غصے سے بولے ۔۔۔
ٹھیک کہا دادا جان ایک نافرمان نے پہلے ہی نافرمانی کر لی ہے تو تھوڑی سے اور کیوں نہیں۔ وہ طنزیہ امداز میں بول کر گاؤں والوں کی طرف مُوڑا۔ جو کہ ان سب کو ہی سن رہے تھے۔
آپ سب اپنی بات پر بالکل ٹھیک ہیں۔ بالکل ٹھیک کہا جب اس حویلی کی بیٹیاں پڑھنے جا سکتی ہیں۔ تو آپ سب کی کیوں نہیں۔ آج سے میں التمش خان یہ اعلان کرتا ہوں۔ آپ میں سے جن کی بھی بیٹیاں پڑھنا چاہتی ہیں وہ ضرور پڑھیں گئی۔ میں خود ان سب کا ایڈمیشن کروا کر آؤں گا۔ اور دوسری بات گاؤں کے سکول کے پاس ہی جو جگہ ہے انشااللہ بہت جلد ہی میں وہاں کالج بنواؤں گا۔ اور جو علم شہر جا کر حاصل کرنا پڑتا ہے۔ میری پوری کوشش ہو گئی۔ ویسی ہی تعلیم یہاں میسر ہو گئی پھر شہر جانے کی ضرورت نہیں پڑھے گئی۔۔ وہ مظبوط لہجے میں بولا۔۔۔
سب بہت خوش ہوۓ۔ اس گاؤں میں سارے تو نہیں پر بہت سے گھر والے ایسے تھے جو سچ میں چاہتے تھے کہ ان کی بیٹیاں بھی پڑھیں۔ اور اب تو موقع بھی اچھا تھا۔تو انہوں نے ہمت کر کے یہ قدم اُٹھایا۔ اوپر سے التمش کا ساتھ مل گیا۔۔۔۔سب واپس چلے گے۔۔۔۔۔۔
جہانگیر خان غصے سے پلٹ کر اندر چلے گے۔۔ وہ غصے کے عالم میں ادھر اُدھر چکر لگانے لگے۔۔ التمش جانتا تھا اب آگے کیا ہونے والا تھا۔ خود کو پُر سکون کر کے وہ اندر آیا۔۔
تم اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہو۔ یہ مت بھولو ابھی میں زندہ ہو۔ میرے مرنے کے بعد اپنی من مانی چلانا۔۔۔ جہانگیر خان گرجدار آواز میں بولے۔۔۔۔
دادا جان میں کچھ غلط نہیں کر رہا میں وہی کر رہا ہو جو آپ کو کرنا چاہیے تھا۔ پر آپ نے تو ساری زندگی دوسروں کو اپنی جوتی کے نیچے رکھا۔۔ اور وہی آپ نے اپنے بیٹوں کو سکھایا ۔اب آپ چاہتے ہیں آپ کے پوتے بھی وہی کریں۔۔پر معاف کیجیے گا۔ باقی کے کر سکتے ہیں پر میں ام کی طرح کم صرف نہیں ہوں۔ وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔جہانگیر خان کا غصے سے بُرا حال ہو گیا۔۔۔۔۔
تم ہماری عزت کا خاک میں ملا رہے ہو۔ پہلے تم نے دونوں لڑکیوں کو شہر میں پڑھنے بھیج دیا اور اب گاؤں والوں کو بھی اجازت دے دی۔۔۔۔۔خالد صاحب چلاۓ۔۔۔۔صائمہ بیگم اتنا شور سن کر باہر آ گئی۔زویا دور کھڑی سب دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
عزت، ہاہاہاہا، ابا آپ کی عزت ہے بھی؟؟؟ عزت نہیں ہے خوف ہے جو آپ سب نے مل کر پورے گاؤں میں پھیلایا ہوا ہے۔۔۔اور خدارا باہر نکلے اپنی چھوٹی سوچ سے آپ سب کو یہ بات بری نہیں لگی کہ میں نے اجازت دے دی۔ بالکہ یہ برا لگا کہ آپ کا روب اور خوف نا ختم ہو جاۓ۔ کیونکہ اسکے بغیر تو شائد آپ کا جینا مشکل ہو جاۓ۔۔۔۔۔۔وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
التمش یہ تم کس انداز سے اپنے ابا اور دادا جان سے بات کر رہے ہو۔ صائمہ بیگم ڈوپٹہ صحیح کرتی آگے بڑھ کر اس تک آئیں۔
اسی انداز میں جس طرح تم نے اس کی تربعیت کی ہے۔ میں کہتا تھا نا یہ بدتمیز ایک دن گلے کی ہڈی بن جاۓ گا۔ پر تم نہین سمجھتی تھی۔ تم نے اسے بالکل بدتمیز بدلحاظ بنایا ہے۔ وہ صائمہ بیگم پر چلاۓ۔
میں سمجھی نہیں۔ میرا التمش بدتمیز نہیں ہے۔ وہ تو بالکل صایمہ بیگم بول رہیں تھیں۔۔۔
چپ ایک دم چپ خبردار جو میرے اگے زبان چلائی۔۔خالد صاحب نے چلاتے ہوۓ کہا اور
ہاتھ اُٹھایا۔۔۔پر ان کا ہاتھ درمیان میں رُک گیا۔۔۔
بس ابا بس اب اور نہیں بچپن سے دیکھا ہے آپ بلا وجہ اماں پر ہاتھ اُٹھاتے ہیں۔ پر اب اور نہیں میری ماں پر اگر دوبارہ کبھی بھی ہاتھ اُٹھایا۔ تو انجام کے لیے تیار رہیے گا۔۔ وہ ان کا ہاتھ چھوڑتے ہوۓ بولا۔ خالد صاحب چپ ہو گے۔
اور آپ سب بھی کان کھول کر سن لیں۔۔ پہلے تو صرف میری خواہش تھی۔ اس گاؤں کو بدلوں۔ پر اب تو یہ میری ضد بن چکی ہے۔۔۔یہاں وہ اب کروں گا جو ابھی تک نہیں ہوا۔۔۔ وہ چاہے کالج ہو یا کسی غریب کی حق ہلال کی کمائی کا پیسہ اسے دینا۔ پورے گاؤں کی نیو بدل کے رکھ لوں گا۔ اب اس راستے میں چاہے کوئی بھی آۓ مجھے فرق نہیں پڑتا۔ وہ میرا باپ ،بھائی، چاچا ،یا دادا ہو میں کسی کو نہیں بخشوں گا۔ وہ مظبوط لہجے میں بول کر صائمہ بیگم کو لے کر ان کے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔ باقی کے سب کے سب بھی چلے گے۔۔۔۔
زویا دور کھڑے مسکرا رہی تھی۔۔اس نے اپنی آنکھ کے کنارے سے آنسو صاف کیا۔اور کھل کر مسکرا دی۔۔۔۔وہ پلٹنے لگی۔۔جب جہانگیر خان کی نظر اس پر پڑی۔ وہ جان بوجھ کر طنزیہ انداز میں مسکرا کر پلٹی۔۔۔ جہانگیر خان بھی کچھ سوچ کر اپنے کمرے کی طرف چلے گے۔۔۔
ابا جان یہ التمش ہاتھ سے نکلے جا رہا ہے۔۔مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی کیا کرو؟ جالد صاحب غصے اور پریشانی کی حالت میں بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
پہلے تو مجھے بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔لیکن اب سب سمجھ آ رہا ہے۔ اس سب کے پیچھے وہی لڑکی ہے۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولے۔
کون لڑکی ابا ؟ رفاقت صاحب نا سمجھی سے بولے۔۔۔۔
وہی جو ونی میں آئی ہے ۔۔۔
اس سب میں اس کا کیا تعلق ہے ابا ؟ خالد صاحب حیرانگی سے بولے۔۔
بہت گہرا تعلق ہے۔ خالد بہت گہرا۔ میں تو اُرتی چڑیا کے بھی پر گن لیتا ہوں۔ تمہارا بیٹا جن چکروں میں ہے نا وہ میں کبھی ممکن نہیں ہونے دوں گا۔۔ مجھے بس اس کی کمزوری پر وار کرنا ہے۔ وہ خود با خود میرے قابو میں آ جاۓ گا۔۔۔ وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
آپ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ رفاقت صاحب بولے۔۔۔۔
میں بس اس کی کمزوری کو پکڑ کر اسے توڑوں گا۔۔ اسے وہاں وار کروں گا۔ جہاں سے وہ دوبارہ کبھی ہمارے خلاف جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
ہممم تو پلین کیا ہے۔ خالد صاحب بولے۔
تم بس شمس کو واپس بلاؤ۔ اور ہاں یہ ماجد کہاں ہے اس پر بھی نظر رکھا کرو۔ آجکل بہت کم حویلی میں نظر آتا ہے۔ جہانگیر خان بول کر سگار پینے لگے۔۔۔۔۔
سب اپنی سوچوں میں ڈوب گے۔۔ جہانگیر خان نے وہی بیٹھے بیٹھے پلین ترتیب کرلیا۔
آہ۔۔۔۔۔آپ ٹھیک ہو نا۔ وہ خالی کپوں کی ٹرے۔ جب کوئی اسے ٹکڑایا۔۔۔
آپ کون ہو اور ہماری حویلی میں کیا کر رہی ہو۔ وہ چار سالہ حیدر تھا۔ جو کہ پچھلے تین ہفتوں سے اپنی نانو کے گھر گیا ہوا تھا۔اور آج ہی شام کو لوٹا تھا۔
میں تو یہی رہتی ہوں۔ پر آپ کو پہلی دفع دیکھا ہے۔ آپ کا نام کیا ہے۔ زویا مسکراتے ہوۓ بولی۔
بالکل نہیں سٹرینجر آپ ہو تو پہلے آپ اپنا تعارف کرواؤ۔ زویا چار سالہ بچے کے منہ سے اتنی صاف اُردو سن کر حیران ہو گئی۔۔ چاۓ کی ٹرے نیچے زمین پر رکھی اور خود گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی۔
السلام علیکم! میرا نام زویا ہے۔ اور میں یہاں کام کرتی ہوں۔ زویا کچھ سوچتے ہوۓ بولی۔۔اور ہاتھ آگے بڑھایا۔
وعلیکم السلام ! ویسے تو میرے چاچو نے مجھے کسی سٹرینجر سے بات کرنے کے لیے منع کیا ہے۔پر آپ مجھے اچھی لگئی ہیں۔ تو میں سے بات کر سکتا ہوں۔ میرا نام حیدر ہے۔ اور میں اس حویلی کا سب سے چھوٹا مرد ہوں۔ وہ ہاتھ ملاتے ہوۓ بولا۔۔۔
ہاہا زویا کو اس کے جواب پر ہنسی آ گئی۔۔۔
سو چھوٹے مرد جی کیا آپ مجھ سے دوستی
کرو گے۔ زویا اپنی ہنسی چھپاتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہممممم سوچنا پڑے گا۔۔ کر تو لوں پر میری ایک شرط ہے۔ وہ اپنی گال پر انگلی رکھتے ہوۓ بولا۔۔
اور وہ شرط کیا ہے؟
آپ کو ہماری یہ دوستی خوفیہ رکھنی پڑے گئی۔ کسی کو اس کے بارے میں پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ خاص کر چاچو کو۔ ورنہ وہ ڈانٹیں گے۔ وہ آہستہ آواز میں بولا۔۔۔۔
اوکے کسی کو نہیں بتاؤں گئی۔ زویا مسکراتے ہوے بولی۔۔۔۔
حیدر حیدر کہاں ہو۔ تبھی عائلہ کی آواز آنے لگی۔۔۔
امی بلا رہی ہیں اللّه حافظ وہ جلدی جلدی بول کر بھاگ گیا۔۔ زویا مسکراتے ہوۓ چاۓ کی ٹرے پکڑ کر نیچے کیچن کی طرف چل دی۔۔۔۔۔
تو کام کہاں تک جا رہا ہے؟ سلطان صاحب حازم کے ساتھ آفس میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔
کام تو کل سے شروع ہونے والا ہے۔ بس سارے ورکرز کو وہاں پر بھیجنا ہے۔ حازم بولا۔
حازم میری بات دھیان سے سنو۔ وہاں پر سچ میں فیکٹری لگانے نا بیٹھ جانا۔ یہ صرف وہاں آنے جانے کا ذریعہ ہے۔ ایسے پریٹینڈ کرو جیسے بہت کام کر رہے ہو۔ اور ساتھ ہی اصل کام بھی کر دینا۔۔ سلطان صاحب اسے سمجھا رہے تھے۔۔
افکورس ڈیڈ آپ کیا مجھے بچہ سمجھتے ہیں۔ مجھے پتہ ہے میں کیا کر رہا ہوں۔ وہ اُکھڑے ہوۓ انداز مین بولا۔۔۔
نوک کوک۔۔۔۔ تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
کم ان۔۔۔
سر یہ رہی آپ کی چاۓ اور حازم سر آپ کی کافی وہ مسکراتے ہوۓ دونوں کے اگے کپ رکھنے لگی۔۔
شکریہ مس دعا، پر یہ اپ کا کام نہیں۔ تو آپ
کیوں لائیں۔ حازم کپ کو پکڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
ایٹس اوکے سر وہ اصل میں کاکا کی مجھے کچھ طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی۔ جب سر نے آڈر دیا تو میں وہی تھی۔ بس پھر مین نے کافی اور چاے بنائی اور لے آئی۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
مس دعا آپ میری سیکڑی ہیں۔ اور سیکٹری کا کام چاۓ کافی سرو کرنا نہیں ہوتا۔ آپ اپنے کام پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہے۔وہ تیکھے لہجے میں بولا۔۔۔
بالکل سر میں اپنے کام پر توجہ دیتی ہوں۔اور لگے ہاتھوں دوسروں کے کام میں بھی ہاتھ بیٹا دیتی ہوں۔ یو نو نا میں بہت رحم والی ہوں۔وہ ہنستے ہوۓ بولی۔
کل آپ کی میٹنگ دبئی والے ڈیلگیسن کے ساتھ فیکس کر دی ہے اور آپ نے جس گاڑی کا بولا تھا وہ بھی ارینج ہو گئی ہے۔ اور۔۔۔۔وہ حازم کا غصے سے بھرا چہرہ دیکھ کر فوراً سے کام کی باتیں کرنے لگی۔۔۔۔۔
ارے ریلکس مس دعا کیا ہو گیا ایسے چابی والی گڑیا کی طرح کیوں سٹاٹ ہو گئیں ہیں۔ سراج اندر آتے ہوۓ بولا۔
کل کی ساری میٹنگز کینسل کر دو۔۔ صبح آٹھ بجے تیار رہنا ہمیں گاؤں جانا ہے۔ حازم بول کر سلطان صاحب کے ساتھ باہر نکل گیا۔۔۔۔
آہ سراج یہ تمہارا بھائی نہیں لگتا۔ دعا لمبی سانس بھرتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہاں جانتا ہوں۔ تھوڑا سا بدتمیز کھروس اکڑو ہے۔ سراج مسکراہٹ دبا کر بولا۔۔۔
ہنہہ بالکل نہیں بالکل مجھے تو بہت کیوٹ لگتا ہے۔ جب غصہ کرتا ہے۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
لڑکی سُدھر جاؤ۔۔ اور بتاؤ انکل کیسے ہیں۔ سراج اس کا ٹاپک بدل گیا۔۔۔۔
اے ون تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔ پر تم تو تم ہو آتے ہی نہیں۔ دونوں چلتے ہوۓ باہر آ گے ۔۔
ہاں بس تھوڑا مصروف تھا۔ پرائیوٹ کام تھا۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔
ہممممم کون سا پرائیوٹ کام؟ کہی۔۔۔۔۔۔دعا کمر پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
لڑکی میری ساتھ رہ کر انٹیلیجنٹ ہوتی جا رہی ہو۔ پرسوں رات کو تیار رہنا سرپرائیز ہے۔۔۔سراج مسکراتے ہوۓ بول کر اپنے کیپن کی طرف بھاگ گیا۔۔۔
دیکھتے ہیں کیا سرپرائیز ہے۔۔۔وہ مسکرا کر اپنی ٹیبل کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔
اے لڑکی ادھر آؤ۔ آئمہ بیگم۔کیچن میں کھانے کی ٹرے لگاۓ کھڑی جاتی ہوئی زویا کو رُکتے ہوۓ بولیں۔۔۔
جی بولیں کیا ہے۔ وہ کافی تھک چکی تھی۔اوپر سے دس کا وقت ہو رہا تھا۔
یہ کھانا التمش کے کمرے میں اسے دے کر آؤ۔ بچے نے صبح کا کچھ نہیں کھایا۔ عائلہ بیگم ٹرے آگے کرتے ہوۓ بولیں۔
میں؟ وہ حیران ہوتی ہوئی بولی۔۔۔
نہیں کیا تمہارے فرشتے چلو جلدی دے کر آؤ۔ پھر یہ کاونٹر صاف کرو۔
آپ خود چلی جائیں۔ مجھے کیون بول رہی ہیں۔ زویا واپس پلٹنے لگی۔۔۔
روک۔ جاتی ہے کہ ایک لگاؤں۔ مہارانی میں خود چلی جاتی جوڑوں مین درد ہے سیڑھیاں نہیں چڑیں جاتیں۔ اب ایک لفظ بھی نا سُنو جا لے کر جا۔عائلہ بیگم نے ٹرے اس کے ہاتھون میں دے اور خود کیچن سے نکل گئیں۔
اف۔۔ زویا پاؤں زمین پر پٹخ کر اوپر سیڑیوں کی طرف بڑھی۔۔۔
دروازے کے قریب پہنچ کر لمبی سانس لے کر دروازے کو ہلکے سے کھٹکھٹایا۔۔
آ جاؤ۔ اندر سے آواز آئی۔وہ دروازے کو دکھیل کر اندر داخل ہوئی۔۔ ( زویا کی نظر سیدھی کمرے کے چاروں اطراف گئی۔ بالکل سمپل بلیک اینڈ وائیٹ کمبینیشن کا کمرہ تھا۔ ہر چیزیں کو اسکی جگہ پر رکھا ہوا تھا جو کہ رہنے والے کی نفاست پسندی کو ظاہر کر رہا تھا۔۔ ) وہ آہستہ سے قدم بڑھاتی اگے بڑھی۔ التمش کھڑی کی طرف منہ کیے کھڑا باہر کالے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔
یہ آپ کا کھانا وہ ٹرے کو ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی۔۔
وہ کبھی اپنے وہم و گمان میں بھی زویا کا یوں رات کے اندھیرے میں اپنے کمرے میں آنا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔ وہ پلٹا۔
تم۔ یہاں کیا کر رہی ہو؟ برے ہی تیکھے انداز میں پوچھا۔
وہ آئمہ آنٹی نے بولا کہ آپ نے رات کا کھانا نہیں کھایا تو آپ کو دے آؤں۔ میں نے تو منع بھی کیا پر وہ ہی انسسٹ کرنے لگیں۔زویا جلدی جلدی بولی۔۔۔۔
ہمممم ایک بات بتاؤ۔ تم اس گاؤں کی ہو تو تمہیں اتنی انگلش کیسے آتی ہے۔ میں نے کافی دفع نوٹ کیا ہے تم بات کرتے وقت بہت انگلش کے لفظ بولتی ہو۔ اور جہاں تک میرا علم ہے۔ اس گاؤں کے سکول میں اتنی انگریزی نہیں پڑھائی جاتی۔۔۔ وہ سوالیہ انداز میں بولا۔۔ زویا کا رنگ ایک پل کو بدلا۔۔
وہ اصل میں روحان جب بھی شہر جاتا میرے لے کوئی نا کوئی کتاب لے آتا۔ تو بس وہی پڑھ کر تھوڑی بہت انگلش آ گئی وہ فٹ سے اپنے آپ کو سھنمبالتے ہوۓ بولی۔ روحان کے نام پر التمش کے ماتھے پر بل پڑے۔۔۔
ایک بات میں بھی پوچھوں۔ زویا ہچکچاتے ہوۓ بولی۔
التمش کو وہ بہت معصوم اور کیوٹ لگئی۔ اپنے چہرے پر آنے والی بے ساختہ مسکراہٹ کوچھپاتے ہوۓ ہاں میں گردن ہلائی۔۔۔۔
کیا آپ سچ میں میرا مطلب ہے حقیقت میں گاؤں میں کالج بنوائیں گے۔ وہ آنکھیں بری کرتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
تمہیں کیا پتہ نہیں خان کبھی بھی اپنی زبان سے نہیں پلٹتا۔ اور یہ کالج بنوانا تو بہت پہلے طے تھا اب بس اس پر تقمیل ہو گئی۔ اور میں سچ میں حقیقت میں بنواؤں گا۔ وہ آخر مین زور دیتے ہوۓ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ بولے۔۔۔
پلیز کچھ بھی ہو جاۓ مُکرنا مت۔ مجھے سچ میں یقین نہیں ہو رہا میں نے جب میٹرک پاس کیا تب سے چاہا کہ کاش یہاں کالج ہوتا یا میں شہر جا سکتی پر ممکن نہیں ہو پایا۔۔۔پر اب سوچو کتنی ساری لڑکیان جائیں گئی پڑھیں گئی۔ اس کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ جیسے اپنی منزل کی پہلی سیڑھی پار کر لی ہو۔
چلیں آپ کھانا کھا لیں میں جاتی ہوں۔ ورنہ آپ کے جلاد دادا جان نے دیکھ لیا تو رات کے اس وقت الگ تماشہ لگ جاۓ گا۔ وہ ہنستے ہوۓ بولی اور پلٹ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
زویا کاش تم ویسے میری زندگی میں نا آتی۔ خدا کی قسم تمہیں سر آنکھوں پر بیٹھا کر رکھتا۔۔۔۔کیا میں اب اسے اپنا سکتا ہوں؟ وہ اپنے آپ سے سوال کر رہا تھا۔
بالکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔آگے سے ایک ہی جواب موصول ہوا۔۔۔۔ جو کہ شائد اسکے دل سے نہیں دماغ سے آیا تھا۔۔۔ پتھریلے تاثرات لیے وہ پلٹا اور کھانے کی طرف بڑھا۔۔ ۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
