Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 29 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29 Part 2
جمے کا دن آنا پہنچا تھا۔ جس کا کسی کو بے صبری سے انتظار تھا۔ تو کسی کا دل تھا یہ دن اسکی زندگی میں آۓ ہی نا۔۔۔
خان حویلی میں تقریب کی پوری تیاری ہو چکی تھی۔ چونکہ یہ سب گارڈن میں ہونا تھا۔ حویلی کی خواتین کو وہاں آنے کی آجازت نہیں تھی۔ سبھی اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے۔
وہ صبح اُٹھی تو التمش گھر میں موجود نہیں تھا۔ زویا نے لین لائن سے حازم کو فون کیا۔
تم یہاں کب تک پہنچ رہے ہو؟ اسکے فون اُٹھاتے ہی زویا نے پوچھا۔
میں نے تمہاری بتائی ہوئی چیزیں لے لی ہیں۔ دو گھنٹے تک بس پہنچنے والا ہوں۔ حازم گاڑی چلاتے ہوۓ بولا۔
اچھا تو تایا جی کب تک آئین گے۔ وہ دوبارہ کچھ سوچ کر بولی
ڈیڈ! وہ ایک گھنٹا لیٹ ہوں گے۔ جب تک تقریب شروع ہو گئی۔ وہ وہاں پہنچ جائیں گے۔ تم بس اتنا خیال رکھنا وقت پر پہنچ جانا۔ میں تمہاری چیزیں ایک بندے کے ہاتھ بجواؤں گا۔ بندہ اپنا ہے۔ تم بس رسیو کر لینا۔ اور ہاں اپنا موبائل پیپرز ضرور لے لینا۔ وہ اسے سمجھاتے ہوۓ بولا۔
وہ تو ٹھیک ہے پر اگر کسی وجہ سے ہمارا پلین فیل ہو گیا تب؟ وہ اپنے ڈر کو بیان کر گئی۔
زویا یہ پلین فیل نہیں ہونا چاہیے اسکے لیے ہر ممکن کوشش کرو۔ اگر پھر بھی ایسا ویسا کچھ ہوتا ہے۔تب ایک ہی طریقہ بچتا ہے۔ اور وہ تم اچھے سے جانتی ہو۔ حازم سرد لہجے مین بولا۔
ہمم اوکے کیا تم وہ بھی اپنے ساتھ لاۓ ہو؟
ہاں لایا ہوں۔ تمہاری چیزوں کے ساتھ وہ بھی بھیج دوں گا پر سھنمبال کے۔۔۔۔ اب میں فون رکھتا ہوں۔ وہ بول کر کال بند کر گیا۔
زویا کئی لمحے اس فون کو دیکھتے نا جانے کیا سوچے جا رہی تھی۔پھر پلٹ کر کیچن میں آئی۔ کھانے کا من نہین تھا تو چاۓ کا کپ بنایا اور صوفے پر بیٹھ کر پینے لگی۔
تقریب دوپہر دو بجے تھی۔ اور ابھی دس بجے تھے۔ آج وہ اپنے بدلے کے آخری وار پر تھی۔ اسے کسی بھی حالت میں یہ پورا کرنا تھا۔ ابھی بھی صوفے پر بیٹھے وہ خود سے اپنی اندرونی سوچوں سے لڑ رہی تھی۔۔ وہ پچھلے دو گھنٹے سے وہاں بیٹھی اپنے ان مہینوں میں ہونے والی چیزوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اور جس شخص کا خیال اسے ستا رہا تھا۔ اس سے وہ آخری دفع ٹھیک سے بات ہی نا کر پائی۔ کیونکہ وہ گھر پر نا تھا۔۔ اسکے ساتھ کیے جانے والے دھوکے کو وہ سوچ کر وہ بہت پریشان ہو رہی تھی۔ یہاں اب جب اسے اپنے پلین کے بارے مین سوچنا چاہیے تھا۔ وہ اسکے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھی۔ جب باہر ملازمہ نے اسکا پارسل لا کر دیا۔ اسے تھام کر وہ کمرے میں آئی۔ وہ ایک باکس میں بند تھا۔ اسے کھولا۔ تو سامنے اسکی مطلوبہ چیزیں تھیں۔ گھڑی کی طرف نظر گئی تو وہاں ایک بج کر پندرہ منٹ ہو چکے تھے۔ زویا نے چیزوں کو بیڈپر پھلایا۔
ان میں سے ڈریس کو پکڑ کر وہ واشروم میں گئی۔ چینج کر کے وہ واپس آئی۔ میک اپ پکڑا اور بے دلی سے میک کرنے لگی۔ بالوں کو کھلے چھوڑ دیا۔ آدھے گھنٹے مین وہ فل ریڈی ہو گئی۔ حازم نے ایک فائل بھیجی تھی۔ اس میں پیپرز کو لگایا۔ پاؤں میں جوگرز ڈال کر وہ آئینے کے سامنے آئی۔ آئینے میں اسکا عکس لہرایا ۔ بلیک پینٹ کے اوپر سرخ شرٹ، لیدر کی کالی جیکٹ، پاؤں میں بلیک جوگرز، پہنے ہوۓ تھے۔ بال کمر پر کھلے چھوڑے ہاتھ میں وہی ریڈکلر کی فائل پکڑئی ہوئی تھی۔ وہ اپنے آپ کو نظر دیکھتی پلٹی اور پورے کمرے کو دیکھا۔ الماری سے وہ پہلے ہی موبائل نکال چکی تھی۔ ایک اداس سی نگاہ کمرے مین ڈال کر وہ دروازے کی طرف بڑھنے لگی۔ پھر ایک دم وہ رُکی اور دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ سائیڈ ٹیبل کے پاس آئی۔اور وہاں پر پڑا فوٹو فریم ہاتھ میں پکڑا۔ اور التمش کی فوٹو نکال کر اپنی جیکٹ کی اندرونی جیب میں ڈال لی۔ اور کمرے سے باہر نکل آئی۔ آنکھوں پر چشمہ لگا کر وہ داخلی دروازے سے باہر آئی۔ چوکیدار اس وقت وہاں پر موجود نا تھا۔ زویا نے شکر ادا کیا۔ اور سامنے کھڑی گاڑی مین بیٹھ گئی۔ جو کہ حازم نے بھیجی تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر وہ اپنے دماغ سے باقی سب خیالات بھلا کر ابھی صرف اپنے قدم پر بارے میں سوچ رہی تھی۔اسے بار بار اپنی ماں باپ اور بھائی کا مرا ہوا وجود نظر آ رہا تھا۔
تقریب شروع ہو چکی تھی۔ گارڈن میں چٹائیاں بیچھائی گئیں تھیں۔ ان پر ٹکیے رکھے ہوۓ تھے۔ اور سامنے بری سی کرسی پڑی تھی۔ جہاں پر جہانگیر خان بیٹھے سِگار سلگا رہے تھے۔ باقی سب ان کے سامنے بیٹھے تھے۔ اس تقریب میں تقربیاً گاؤں کا ہر مرد موجود تھا۔ حویلی کے سارے مرد ایک طرف بیٹھے ہوۓ تھے۔ حازم کافی دیر پہلے یہاں پہنچ چکا تھا۔ وہ ماجد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ۔ ماجد خوشی سے پھول ہی نا سما رہا تھا۔
التمش جو کہ ابھی ابھی حویلی پہنچا تھا۔ صائمہ بیگم اور خالد صاحب سے مل کر وہ باہر گارڈن میں پہنچا ۔ جہاں سب بیٹھے تقریب کے شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ چلتا ہوا سہیل صاحب کے ساتھ بیٹھ گیا۔اسکی نظر پہلے ہی حازم پر پڑچکی تھی۔ پر وہ اگنور کر گیا ۔
آپ سب لوگوں کا بہت بہت شکریہ جو آپ وقت نکال کر یہاں آۓ۔ جیسا کہ آپ سب اس تقریب کا مقصد بہت اچھے سے جانتے ہیں۔ یہ بہت سالوں سے چلتا آرہا ہے۔ پنچائیت کی گدی پر دادا یا پوتا بیٹھتا ہے۔ میرا دادا نے مجھے بیٹھایا تھا۔ اور اپنا سب کچھ میرے نام کیا تھا۔ آج بالکل اسی طرح میں پنچائیت کی گدی اور اپنی جائیداد کو اپنے پوتے کے نام کرنے جا رہا ہوں۔۔ اس فیصلے کے ساتھ ایک کھٹن فیصلہ بھی مجھے لینا پڑرہا ہے۔ جس کے لیے میرا دل تو نہیں مان رہا پر مجھے لینا پڑے گا۔ ان کاغذات پر سائین کرنے سے جہاں یہ سب کچھ اگلے سرپنچ ماجد خان کا ہو جاۓ گا۔ وہی میرے ایک پوتے التمش خان کو حویلی کی ہر چیز سے عاق کر دیا جاۓ گا۔ جہانگیر خان سامنے کرسی پر بیٹھے ہوۓ بول رہے تھے۔ان کی آخری بات پر ہر طرف ہل چل مچ گئی۔ ماجد کے ہونٹوں پر بھرپور مسکراہٹ آئی۔ حازم کھل کر مسکرایا۔
یہ کیا ہو گیا۔ ماجد اور سرپنچ۔۔۔ وہی بیٹھے ایک آدمی نے سرگوشی کی ۔۔
التمش خان کو عاق کر دیا۔ حد ہو گئی۔ وہی ایک اور سرگوشی آئی۔۔
خاموشی ! جہانگیر خان نے ہاتھ اُٹھا کر کہا وہاں خاموشی سی چھا گئی۔
ہم نے جو فیصلہ کرنا تھا وہ کر لیا۔ اب مزید کوئی سرگوشیاں نہین ہوں گئی۔ وہ سرد آواز میں بولے۔
میں نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ماجد خان یہاں آؤ۔ اور التمش تم بھی آؤ۔ وہ کرسی سے کھڑے ہوتے ہوۓ بولے۔ دونوں اُٹھ کر وہاں پہنچے۔
یہ ساری جائیداد کے پیپرز ہیں۔ یہاں پر تم دونوں سائن کرو۔ جہانگیر خان نے پیپرز کھول کر سامنے ٹیبل پر رکھے۔۔۔
ماجد نے خوشی سے پین پکڑا۔۔التمش نے جہانگیر خان کی طرف دیکھا۔ باقی سب بھی ان کی طرف متوجہ تھے۔
رکیے ماجد صاحب لگتا ہے خوشی سھنمبلی نہیں جا رہی۔ پر کبھی تو آرام سے کام لیا کریں۔ ماجد سائن کرنے والا ہی تھا۔ جب زویا وہاں پہنچی اور اونچی آواز مین بولی۔۔حازم اسے دیکھ کر مسکرایا۔
التمش کو اپنے کانوں میں جب زویا کی آواز سنائی دی تو وہ پلٹا۔ اور اپنے سامنے زویا کو جس اوتار میں دیکھا وہ اسکی زمین اسمان ہلانے کے لیے کافی تھا۔۔ وہ آنکھوں مین حیرانگی لیے اسے دیکھ رہا تھا۔سب کی نظر آنے والی شخصیت پر پڑی۔
التمش اگلے ہی پل اس تک پہنچا۔
یہ سب کیا ہے؟ یہ کس طرح کے کپڑے پہن کر آئی ہو۔ وہ اسکا بازو دبوچتے ہوۓ پتھیلے ثاثرات سے بولا۔۔
مسٹر التمش بی ہیو یور سیلف اینڈ ڈونٹ ٹچ می۔ اور میں نے وہی کپڑے پہنے ہیں جو اس وقت آپ نے پہنے ہیں۔ جب آپ پہن سکتے ہیں تو میں کیوں نہیں۔ ۔ وہ اپنا بازوچھڑواتے ہوۓ بولی۔۔
ویل ڈن مائی لیڈی۔ حازم کھڑا ہوتے ہوۓ مسکرا کر بولا۔ اور موبایل نکال کر میسج کیا۔۔۔
جہانگیر خان صاحب معاف کیجیے گا پر آپ کا پوتا اب اس جائیدا کا وارث نہیں بن سکتا۔ بلکہ اب تو کوئی بھی اس جائیداد کا حق دار نہیں بن سکتا۔وہ التمش کو اگنور کر کے چلتی ہوئی جہانگیر خان کے پاس پہنچ کر بولی۔ سب حیرانگی سے دیکھ رہے تھے۔ اور آپس میں چہ مگوئیاں بھی کر رہے تھے۔
کیوں؟ جہانگیر خان نے بس اتنا ہی بولا۔
کیونکہ۔۔۔ زویا بولتے ہوۓ رُکی۔ کیونکہ اسے بازو سے پکڑ کر کسی نے اپنی طرف مُوڑا اور موڑنے والا التمش خان تھا۔ جو کہ بہت غصے سے اسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ زویا کو اپنا اعتماد ڈگمگاتا ہوا محسوس ہوا۔اسے لگا اب وہ مزید کچھ نہیں بول پاۓ گئی۔
تم میرے نام سے جُڑی ہو زویا۔ اور اپنی عزت کا تم بھری محفل مین تماشا لگا سکتی ہو۔ پر مین نہیں۔ یہ بولتے ہوۓ التمش نے ہاتھ مین پکڑی کالی چادر اسکے کندھوں پر ڈالی۔
زویا کو اپنا زبان پر تالا لگتا ہوا محسوس ہوا۔ التمش کی غصے سے لو دیتی نگاہوں سے وہ پتھر کی ہونے لگی۔ اگلے پل التمش نے جھٹک کر اسے چھوڑا۔ وہ لڑکھڑائی۔۔ جب پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔
جہانگیر خان اس کیوں کا جواب مین دیتا ہوں۔ سب نے آنے والی کی طرف دیکھا۔ تو خان حویلی کے سارے مردوں کے چہرے پر بے یقنی سی چھائی۔ آج اس چہرے کو بیس سال بعد اپنے سامنے دیکھ کر سب کے سب سکتے میں چلے گے۔
سلطان شاہ! سہیل صاحب کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔۔
کیونکہ جہانگیر خان تمہاری ساری جائیداد کا اب میں سلطان شاہ مالک ہے۔ سلطان شاہ کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اب کے سر پر بم بن کے گِڑے۔ وہ چلتا ہوا ان سب کے قریب آۓ۔۔
اور ایسا پتہ کیوں ممکن ہوا۔ میری بھتجی زویا احمد شاہ نے تم سے ساری پراپرٹی کے پیپرز پر انگھوٹھا لگوایا۔۔ اور سب کچھ میرے یقنی سلطان شاہ کے نام ہو گئی۔ وہ مسکرا مسکرا کر سب بتا رہے تھے۔۔
التمش نے زویا کی طرف دیکھا۔ زویا نے بھی اسی پل اسکی طرف دیکھا۔اسے اسکی انکھوں میں جو نظر آیا اس نے فوراٍ نظریں چُڑا لیں۔
بالکل اب یہ سب کچھ میرے ڈیڈ کا ہے۔ حازم بھی چلتا ہوا ان کی طرف آیا۔ اور یہ اب تک کا تیسرا جھٹکا تھا۔ جو کہ وہاں پر بیٹھے سب لوگوں کو لگا۔
زویا تم سب کی نظروں کے سامنے رہ کر بھی اپنا کام کتنی آسانی سے کر گئی۔ سلطان صاحب نے زویا کو اپنی طرف بلا کر کہا۔
تایا جان یہ سب بہت بے وقوف ہیں۔ بھلا یہ سب کیسے پکڑپاتے۔ وہ مسکرا کر بولی۔
آپ سب کی کنفوزن کو دور کرنے کے لیے میں سب بتاتا ہوں۔ تا کہ کسی کے دماغ میں یہ نا رہ جاے سب کیسے ہوا۔ تو شروع سے شروع کرتے ہین۔ حازم مسکرا کر بولا
تو ہوا کچھ یوں آج سے ایک سال پہلے زویا اس گاؤں کی زلیخہ بی کے گھر رہنے آئی۔ پہلے تو ہمارا پلین تھا۔ کہ التمش کو پھسا کر بس حویلی میں اینٹری کی جاۓ اور اپنے کام کیے جائیں۔ زویا نے بہت کوشش کی التمش کو پھسانے کی۔اور آپ سب کا پیارا التمش زویا کے پیارا مین ڈھیرو ڈھیر پھنس گیا۔ پر قسمت یہاں مار کھا گیی۔ جب روحان کے ہاتھوں ارسلان کا قتل ہو گیا۔ پھر میری منگیتر کو اس التمش سے نکاح کرنا پڑا۔ حازم اونچی آواز میں سب بتا رہا تھا۔
اور پاس کھڑا التمش بے یقینی سے بس زویا کو دیکھ رہا تھا۔ جو کہ خود اپنی مٹھیاں بھیج رہی تھی۔ اس نے اتنی زور سے مٹھی بھیچی کہ ناخن کے چُب جانے کی وجہ سے خون نکل آیا۔ وہ سوچ رہی تھی۔ یہاں یہ سب بتانے کا کیا تُک بنتا ہے۔۔
جہانگیر خان سامنے کھڑے بس سن رہے تھے۔ ان کے چہرے پر پتھریلے تاثرات تھے۔
اور پھر اگر معملا ہو ماجد کو پکڑوانے کا یا اریشہ کے نکاح اور تصویروں کو پورے گاؤں مین پھیلانے کا وہ سب مین نے کِیا۔ ہاں نکاح کے پیپرز زویا نے لا کر دیے۔۔ اس سب میں مزے کا لمحے وہ تھے۔ جب تم سب کی عزت کا سِرعام جنازہ نکلتا تھا۔ دل کو ٹھنڈک پڑتی تھی۔۔ حازم مسکراتے ہوۓ سب کو دیکھ کر بولا۔۔
اور یہ سب تم نے کیون کیا؟ وجہ کیا تھی؟ رفاقت صاحب بولے
یہ سب کرنے کا ہمیں کوئی شوق نہیں پر جہان بات مان باپ اور بھائی کی موت کی آ جاۓ وہاں پر یہ سب کرنا ضرور ہوتا ہے۔ جہاں پولیس کو پیسے دے کر قتل کے کیس بند کیے جائیں وہں یہ سب۔ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جہاں اپنی انکھوں کے سامنے دس سال کی عمر میں اپنی ماں باپ بھائی کی لاشوں کو دیکھا ہو جو بے موت مارے گے ہوں۔وہاں یہ سب کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جہاں قاتل کھلے عام باہر دندناتا پھر رہا ہو۔ اور باقی گھٹن، بے بسی، جدائی، سہ کر ہر روز لمہ با لمہ مر رہے ہوں وہاں یہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ کیوں جہانگیر خان صاحب کچھ یاد آیا۔ زویا غصے بے بسی ، نم آواز سے بولتی ہوئی جہانگیر خان کے سامنے آ کر کھڑی ہو کر بولی۔۔
اسکا جواب مین بعد میں دوں گا پہلے دوسرے سوالوں کا جواب دے دوں۔ ہان تو سلطان شاہ خود کو بہت برے کھیلاڑی سمجھتے ہو۔ ابھی تم سوچ رہے ہو گے۔ واہ کیا مارکہ مارا ہے۔ جہانگیر خان کی ناک کے نیچے سے ساری پراپرٹی نکال کر لے گیا۔ جہانگیر خان زویا کو جواب دیتے سلطان صاحب کے سامنے آ کر کھڑے ہوۓ۔
لگتا ہے جائیداد جانے کا غم دماغ پر چڑ گیا ۔ سلطان صاحب طنزیہ انداز میں ہنسے۔
التمش نے گل خان کو اشارہ کیا۔ اس نے اگلے ہی پل وہاں سے سب کو نکال دیا۔ اب گارڈن میں حویلی والے اور حازم لوگ موجود تھے۔
میرے دماغ کو کچھ نہیں ہوا ہاں البتہ تم ضرور بے وقوف ثابت ہوۓ ہو۔ جو خود کو بہت عقل مند سمجھتے ہو۔ پر ابھی تمہاری غلط فہمی دور کر دیتا ہوں۔ جہانگیر خان اس طریقے سے بولے کہ سلطان صاحب کی آنکھوں مین نا سمجھی ابھری۔ باقی سب بھی ان طرف متوجہ تھے۔
تم تینوں کو کیا لگا۔ جہانگیر خان نے کیا کچی گوٹیاں کھیلی ہیں۔ جو اتنی آسانی سے تم اب کے جال میں پھنس جاؤں گا۔ اگر اتنے عقل مند ہوتے تو انگھوٹا لگوانے کے بعد اپنے پیپرز تو چیک کرتے کہ وہ کس چیز کے کاغذ ہیں۔ جہانگیر خان چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولے۔ جو سامنے کھڑے سلطان صاحب پر بجلی بن کر گِڑی۔
کیا مطلب؟ حازم حیرانگی سے بولا اور فوراً آگے بڑھا۔ زویا کے ہاتھ سے فائل لی اور کھول کر دیکھا۔ سامنے پراپرٹی کے پیرز نہیں تھے۔ کسی زمین کے کاغذ تھے۔ جو کہ گاؤں کے ایک بندے غلام محمد کے نام تھی۔ اور وہ زمین اس نے جہانگیر خان سے خریدی تھی۔ کاغذ کے ایک طرف جہانگیر خان کا انگھوٹھا لگا ہوا تھا
یہ کیسے ممکن ہے؟ ڈفر لڑکی تم نے کیا کھول کر نہین دیکھا تھا۔ وہ زویا پر چِلایا۔
زویا نے کاغذ پکڑے اسکا چہرہ پیلا پڑگیا۔۔
تم لوگوں کو کیا لگتا ہے۔ جس ہمت کے ساتھ یہ لڑکی میرے سامنے کھڑی ہوتی تھی۔ مجھے کیا اسکی پر اعتمادی اور آنکھوں میں لکھے عزم نظر نہیں آتے تھے۔ مجھے بہت پہلے سے ہی زویا پر شک تھا شک کی بنا پر مین نے اسکے بارے میں پتہ کروایا۔ پر زلیخہ کا گھر ہی ملتا تھا۔ جہان یہ رہتی تھی۔ ہر جس دن حازم نے گلدان میں کاغذ رکھے تھے۔ مین نے تب دیکھ لیا تھا اور پھر ان دونوں کی آنکھوں کے اشارے نے باقی سب بتا دیا۔ اس دن میں نے حازم کے بارے میں اپنے آدمی سے پتہ لگوایا۔ اور وہی سے زویا کے بارے میں انفارمیشن ملی۔ تب مین نے کاغذ بدلے۔اور جب زویا میرے کمرے میں سٹیمپ لگوانے آئی۔تب مین بے ہوش نہیں تھا۔ تب میرا شک پر مہر لگ گئی اور مجھے پتہ چلا زویا میری مہوش کی بیٹی ہے۔ اور میری نواسی ہے۔ جہانگیر خان نے سب کی طرف دیکھ رک سچ بتایا۔ چونکہ گارڈن مردوں سے خالی ہو گیا تھا۔تو حویلی کی خواتین بھی وہی آ گئیں۔ سب نے حیرانگی سے جہانگیر خان کی سب باتیں سنی۔۔۔
جہانگیر خان سالے۔۔۔۔ سلطان صاحب سن کر چِلاۓ۔ا ور جہانگیر خان کو دھکہ دیا۔ ماجد نے انہیں آگے بڑھ کر پکڑ لیا۔۔
سلطان صاحب پھر آگے بڑھے۔ تبھی التمش بھیچ میں آیا۔اور انہیں دور کیا۔
التمش خان آج تو میرے ہاتھوں سے ضائع ہو گا۔ حازم غصے سے بولتے ہوۓ آگے بڑھا اور التمش کے پیٹ میں پاؤں مارتے ہوۓ بولا۔۔ وہ لڑکہرایا۔
حازم آگے بڑھا۔ دونوں لڑنے لگ گے ایک دوسرے کو مارنے لگ گے۔ سلطان صاحب دوبارہ سے جہانگیر خان کو مارنے کے لیے بڑھا۔۔
سب آپس میں لڑ رہے تھے۔ باقی سب پریشان سے انہیں رُک رہے تھے۔
ٹھاہ! تبھی ہوا میں فائیر کی آواز آئی۔ سب ایک پل کے لیے رُکے اور فائیر کرنے والے کی طرف دیکھا۔ سامنے زویا ہاتھ مین پسٹل لیے کھڑی تھی۔
جہانگیر خان صاحب آپ بہت ذہین نکلے۔ میرے پہلے پلین کو فیل کر دیا۔پر کوئی بات نہیں میں تو آج تک بس اپنے ماں باپ کی موت کا بدلی لینے کے لیے ہی زندہ تھی۔ تھانے کی پولیس نا سہی پر زویا احمد تو مار سکتی ہے نا۔ اگر آپ کی روائیتوں میں خون کا بدلہ خون بہا میں آئی ہوئی لڑکی ہو سکتی ہے۔تو میرے اصولوں میں آج ایک نیا اصول جُڑتا ہے۔ خون کا بدلہ خون۔۔۔۔ وہ پسٹل کا رخ جہانگیر خان کی طرف کرتے ہوۓ بولی۔۔۔
زویا تم پاگل ہو گئی ہو پستول نیچے کرو۔ التمش کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔۔
زویا وہی کرو جو تمہارا دل چاہتا ہے باقی ہم سب دیکھ لیں گے۔ حازم اونچی آواز مین بولا۔۔
ایم سوری ماما بابا بھائی۔ زویا نے اپنی آنکھیں بند کیں۔ اور دل میں کہا۔ آنسوں اسکے چہرے پر گِڑے۔اور جب اس نے اپنی آنکھیں کھولیں تو آنکھوں میں بدلے کی آگ کے شعلے بھرکے۔۔۔۔
التمش نے رفاقت صاحب کو اشارہ کیا۔ وہ آہستہ اہستہ چلتے ہوۓ آگے بڑھے۔
ٹھاہ! اسے پہلے کہ رفاقت صاحب آگے پہنچتے زویا نے گولی چلا دی۔
دادا جان! التمش کی آواز بلند ہوئی۔ جیسے ہی زویا کی گن سے گولی نکلنے التمش نے جہانگیر خان کو دھکہ دیا۔ وہ زمین ہر گِڑے اور گولی سیدھی التمش کے بازو پر لگی۔ خون کا فوارا باہر کو نکلا۔۔ زویا کو کچھ سمجھ آتا اس سے پہلے حازم نے اپنی پاکٹ سے بسٹل نکالی۔ اور التمشکے سینے پر نشانہ باندھ کر فائیز کیا۔ ایک اور گولی التمش کو لگی۔ جو کہ سیدھی سینے پر لگی۔ وی لڑکھڑاتے ہوۓ زمین ہر گِڑا۔۔
التمش۔۔۔ فِضا میں اسکے نام کی صدا ہوئی۔۔ اور اس سب میں سب سے اونچی آواز زویا کی تھی۔رفاقت صاحب نے زویا سے اور سہیل صاحب نے حازم سے گن چھینی۔
التمش جہانگیر خان اس تک پہنچے اور اسکا سر پکڑ کر چِلاۓ۔
التمش۔۔۔زویا بھاگ کر اس تک پہنچی۔ اور اسکے سینے پر ہاتھ رکھ دیا۔ ایک پل کے اندر اسکا ہاتھ خون سے بھگو گیا۔ تبھی وہاں پولیس آگئی۔ جو کہ سلطان صاحب نے منگوائی تھی۔
آئی ہیٹ یو زو۔۔۔۔۔ التمش نے کانپتے ہاتھوں سے زویا کا ہاتھ ہٹایا اور ہولے سے بولا زویا نے باخوبی سن لیا۔ وہ روتے ہوۓ نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔
صائمہ بیگم نے اسے پیچھے دکھیلا۔ اور التمش کے پاس بیٹھیں۔
ماجد اور گل خان نے التمش کو سہارا دیا۔ اور گاڑی میں لٹایا۔ اگلے ہی پل گاڑی حویلی سے نکل گئی۔۔
زویا شاک سی ہاتھوں پر اور اسکی چادر پر لگے التمش کو خون کو دیکھ رہی تھی۔
جہانگیر خان ہم آپ کو اپنی بیٹی داماد اور نواسے کے قتل کے جرم میں گرفتار کرتے ہیں۔ پولیس والا ہتھکڑیاں باندھتے ہوۓ بولا۔۔ صائمہ بیگم کب کی بے ہوش ہو چکیں تھیں۔
اس کیس کو سلطان صاحب نے ری اوپن کروایا ہے سب کے سوالیہ نظروں کا جواب دیا گیا۔
جہانگیر خان کو پولیس والی گاڑی میں بیٹھایا گیا۔ وہ تو ابھی تک التمش کے شاک میں تھے۔
زویا دھندلی آنکھوں سے ابھی تک اپنے کانپتے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
نہیں ایسا۔۔۔ وہ ہاتھوں کو چہرے پر رکھتے ہوۓ بولی۔
زویا چلو چلیں۔ حازم کی آواز آئی۔ پر وہ ہوش میں کہاں تھی۔ نہیں نہیں کرتی وہ وہی بے ہوش ہو گئی۔ حازم نے اسے اُٹھایا۔ اور گاڑی میں لٹایا۔ سلطان صاحب چہرے پر مسکراہٹ لیے گاڑی مین بیٹھے۔
حویلی کے باقی سب لوگ ہسپتال کے لیے روانہ ہوۓ۔ سہیل صاحب تھانے کی طرف بڑھے۔۔۔
چونکہ شہر کا ہسپتال بہت دور تھا اسے لیے التمش کو پاس کے گاؤں کے ہسپتال میں لے جایا گیا۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
