Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

بھیو کیا ہوا؟ آج تو اتنی خوشی کا دن ہے یوں منہ لٹکا کر کیوں بیٹھے ہو۔ منت اپنے پنک لہنگے کو سھمبالتے ہوۓ سِراج کے کمرے میں داخل ہوئی۔ جہاں وہ تیار ہو کر بیڈ پر بیٹھا ہوا تھا۔ چہرے پر خوشی کا کوئی نامو نِشان نہیں تھا۔
میں اپنی شادی اس طرح نہیں چاہتا تھا۔ میں نہیں چاہتا تھا۔ یوں بدنامی کے ساتھ ہماری شادی ہو۔ پتہ نہیں کیوں دل خوش نہیں ہے۔ ایسے لگ رہا ہے مین کوئی بہت برا مجرم ہوں۔ وہ تھکے ہوۓ لہجے میں بولا۔
بھیو جو بھی آپ نے کِیا مانا کے وہ غلط تھا۔ پر اب سب کے سامنے آچکا ہے۔ اریشہ بھابھی وہاں آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔۔ اور ویسے بھی یہ تو آپ کی دلی خواہش تھی جو کہ اب پوری ہو رہی ہے۔ تو سب نیگیٹو باتیں چھوڑو اور چلو۔ بھابھی جان کو لے کر آتے ہیں۔ منت مسکرا کر بولی۔ سِراج نے بھی گردن ہلا دی۔ اور اسکے ساتھ نیچے چل دیا۔
ماما رستہ بہت لمبا ہے اچھا ہو گا اگر ہم ابھی نکل جائیں ورنہ واپسی پر بہت دیر ہو جاۓ گئی۔ حازم اپنے بازو کے بٹن بند کرتا ہوا حمیدہ بیگم کے پاس آیا۔ جو کہ سیرت کا ڈوپٹہ سیٹ کر رہی تھیں۔
ٹھیک ہے۔ حمیدہ بیگم نے اتنا ہی کہا۔ ڈوپٹہ سیٹ کر کے وہ اپنے کمرے میں سے کچھ چیزیں لینے چلی گئیں۔
دعا آپی! واؤ آپ کتنی پیاری اور مختلف لگ رہی ہیں۔ سیرت داخلی دروازے سے داخل ہوتی دعا کو دیکھ کر اونچی آواز میں چِلائی۔ جو کہ ریڈ کلر کی لونگ فراک میں ملبوس تھی۔ ہلکا سا میک اپ کیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔
واقعی۔۔دعا نے سوالیہ انداز میں کہا۔
اور نہیں تو کیا۔ آج تک آپ نے ایسے کپڑے نہیں پہنے اور اب جب پہنے ہیں۔تو خدا کی قسم قیامت لگ رہی ہیں۔ اگر میں لڑکا ہوتی تو ابھی کے ابھی پرپوز کر دیتی ۔ سیرت ہنستے ہوۓ بولی۔ دعا کا چہرہ لال ہو گیا۔
سیرت بی ہیو یور سیلف! کس طرح کی لینگونج استمال کر رہی ہو۔ حازم جو کہ وہی دور کھڑا سیرت کی باتیں سن رہا تھا۔ غصے میں بولا۔۔۔
ہاے ماری گئی مجھے یاد ہی نہیں رہا بھائی یہاں ہیں سیرت اپنے ماتھے پر ہاتھ مار کر بولی۔
دعا آپی میں منت کو بلا کر لاتی ہوں۔ سیرت وہاں سے رفوچکر ہو جانا چاہتی تھی۔ وہ اگلے ہی پل غائب ہو گئی۔
حازم آپ سیرت سے اسطرح سے کیوں بات کرتے ہیں۔ ہمشہ آپ ڈانٹتے رہتے ہو۔ بالکل بھی اچھا نہیں لگتا دعا آگے بڑھ کر اسکے برابر کھڑی ہوئی۔
اور تم کون ہوتی ہو مجھے رُکنے والی۔ وہ میری بہن ہے جیسے چاہیے بات کروں۔ وہ موبائل پر میسج کرتے ہوۓ دعا کے سوال کا جواب دیتے ہوۓ بولا۔۔۔
ہاۓ اگر آپ چاہیں تو بہت کچھ ہو سکتی ہوں۔۔۔ وہ مسکرا کر منہ مین بر برائی۔
کیا بول رہی ہو؟ حازم سوالیہ انداز میں بولا۔۔
کچھ نہین آپ بتائیں کیسی لگ رہی ہوں۔ وہ گول گول گھوم کر بولی۔۔۔
جیسی پہلی لگتی ہو ویسی ہی۔۔۔۔ حازم اسے ایک نظر دیکھ کر بولا۔۔
اچھا۔۔۔۔۔ دعا اپنی ساری تیاری پر پانی پھرتے دیکھ کر بولی ۔
میں آتا ہوں۔ حازم بول کرباہر کی طرف بڑھا۔
اہم اہمم۔۔۔۔ کیا بات ہے۔ سِراج اداس کھڑی دعا کے پاس آکر گلا کھنگال کر بولا۔۔
تمہارا بھائی کتنا بے حس ہے۔ اتنی خوبصورت لڑکی کیا اسے نظر نہیں آتی۔۔ مین نے اتنی محنت کی سب بے کار گئی۔ وہ منہ بسور کر بولی۔۔
کیا مطلب۔۔۔۔ کیا تم حازم بھائی سے پیار۔۔۔۔۔ سِراج نا سمجھی سے بولا۔۔۔
دعا کو ایک دم اپنی بے وقوفی کا اندزاہ ہوا۔ وہ بے دھیانی میں کیا بول گئی۔ اس نے آہستہ سے سِراج کی طرف دیکھا جو کہ اسکے جواب کے انتظار میں اسے دیکھ رہا تھا۔
اگر مین ہاں کہوں تو؟ دعا نے ڈرتے ہوۓ کہا۔
او خدایا۔۔۔ دعا تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا۔ مین پہلے ہی تمہیں سب بتا دیتا۔۔۔۔۔ حازم نے اس بے وقوف لڑکی کی طرف افسوس سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ جو نا جانے کب سے یک طرفہ محبت مین گرفتار تھی۔۔۔۔۔
کیا مطلب کیا بتاتے۔۔۔ وہنا سمجھی سے بولی۔۔۔
بھیو چلیں حازم بھائی سب کو بلا رہے ہیں۔ سیرت ان کے پاس آ کر بولی۔۔۔
دعا میں وہاں سے آ کر تمہیں سب بتاؤگا۔ ابھی تم ٹینشن مت لو۔۔ اور فنگشن انجواۓ کرو۔ سِراج بول کر دروازے کی طرف بڑھا۔
حد ہو گئی۔ ٹینشن میں ڈال کر اب بول رہا ہے۔ ٹینشن مت لو۔ ہنہ دعا خود سے بات کرتی ان سب کے پیچھے باہر کی طرف بڑھی۔۔۔۔


حویلی میں دلہنوں کو پالر والی آ کر تیار کر کے جا چکی تھی۔۔ گارڈن میں سارا انتظام ہو چکا تھا۔ تین کا وقت ہو چکا تھا۔ سب لوگ بارات کا انتظار کر رہے تھے۔ مہمان سارے پہنچ چکے تھے۔ روحان کی بے گناہی کی بات سارے گاؤں مین پھیل چکی تھی۔۔ جہاں سب روحان کے بے قصور ہونے پر خوش تھے وہی ارسلان کے اصل قاتل کے بارے میں فکر مند بھی تھی۔ سامنے کھڑا دشمن اتنا خطرناک نہیں ہوتا جتنا نا معلوم اور چھپا ہوا دشمن خطرناک ہوتا ہے۔
زویا صائمہ بیگم کا دیا ہوا گلابی رنگ کا پٹھانی سوٹ پہن کر شیشے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔ وہی التمش کھڑکی کے سامنے کھڑے ہو کر باہر گارڈن میں تیار شدہ سیٹ اپ کو دیکھتے نا جانے کیا سوچ رہا تھا۔۔ زویا اپنے سر پر ڈوپٹہ سیٹ کیے شیشے سے نظر آتے التمشکے عکس کو دیکھ رہی تھی۔ جو کہ پچھلے پندرہ منٹ سے وہی کھڑا تھا۔ زویا ہاتھوں میں سلور چوڑیاں ڈال کر چلتی ہوئی التمش کے پاس آئی۔
کیا سوچ رہے ہیں؟ ہاتھ میں پکڑی رنگ کو انگلی میں ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہمم کیا؟ وہ جیسے اسکی آواز سن کر سوچوں کے بھور سے جاگا۔
تیار کیوں نہیں ہو رہے؟ زویا نے ایک اور سوال پوچھا۔۔
دل نہیں کر رہا۔ وہ لمبا سانس ہوا میں خارج کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
تو اپنے دل کو سمجھائیں سب مہمان نیچے پہنچ چکے ہیں۔ بہن کی رخصتی کرنی ہے۔ جائیں تیار ہو جائیں۔
میں اسکی شادی اسطرح نہیں چاہتا تھا۔۔ خیر چھوڑ میں تیار ہو جاتا ہون۔ وہ اپنی سوچ کو جھٹک کر کپڑے لیے واشروم کی طرف بڑھا۔
ایم سوری۔۔۔۔ زویا ہولے سے بولی۔۔۔ اور کمرے سے باہر نکلی۔۔ اسکا رخ اریشہ اور ماہ رخ کے کمرے کی طرف تھا۔
التمش تیار ہو کر گارڈن میں پہنچا۔ وہ سب مہمانوں سے مل رہا تھا۔۔تبھی بارات آنے کا شور ہوا۔۔
بہن کی شادی بہت بہت مبارک ہو۔ التمش مہمانوں سے مل رہا تھا جب اسے اپنے پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو ناظم شاہ کھڑا تھا۔
تم تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی التمش تو اسے دیکھتے ہی غصے سے پاگل ہو گیا۔
ارے جگر گلے تو مل بہن کی شادی مبارک ناطم مسکراتا ہوا اسکے گلے لگا۔ التمش کوئی تماشا نہیں چاہتا تھا۔
میں یہاں بن بلایا نہیں ہون۔ جانتا ہوں تم لوگ تو بلانے سے رہے۔ اصل میں حازم ملک میرا جگری یار ہے۔ تو اسی لیے میں یہاں موجود ہوں۔ وہ اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتے ہوے بولا۔
التمش کا بس نہیں چل رہا تھا۔ وہ اسے حویلی سے باہر پھینک دے پر موقع کی مناسبت کو دیکھتے ہوۓ اس نے چپ سادھی۔
کیا ہوا؟ یوں کیوں کھڑے ہو؟ حازم ان دونوں کی طرف آتا ہوا بولا۔۔
بس کسی کو میرا آنا ہضم نہیں ہو رہا۔ دل پر کافی چھڑیاں چل رہی ہوں گئی۔ ناظم شاہ التمش کی طرف دیکھتے مسکرا کربولا۔۔
کیوں بھائی ایسا ممکن نہیں۔ تم میرے دوست ہو۔ ویسے کیا تم دونوں ایک دوسرے کو جانتے ہو؟ حازم نے انجان بنتے ہوۓ پوچھا۔ ویسے تو وہ سب کچھ جانتا تھا۔
جانتے تو کیا ہم تو ایک دوسرے کو بہت اچھے سے پہنچانتے ہیں۔ کیوں التمش خان! وہ مسکرایا۔
معاف کیجیے گا۔ ہم کبھی ملے ہی نہیں۔ التمش انجان بنتے ہوے بولا۔۔
ارے کیا بات کرتے ہین ملے تو ہم بہت دفع ہیں۔ شائد آپ کو یاد نہیں ہے اور تحفے بھی بہت دیے ہیں۔ زیادہ تو میں نے ہی دیے ہیں۔ ناظم اپنے ہاتھ کو مُکہ کی شکل میں بناتے ہوۓ بولا۔ التمش کے ماتھے ہر لکیریں ابھریں۔
ہمم تو پھر شائد آپ یاد رکھنے لائق نہیں ہوں گے۔ آپ سب ہمارے مہمان ہیں تو مہربانی فرما ادھر جا کر بیٹھیں۔ التمش نے دو ٹوک جواب دیا انہیں بیٹھنے کا بول کر خود وہاں سے نکل گیا۔۔۔
اتنی مار کھا کر بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی۔ بہت ہی ڈھیٹ قسم کا انسان ہے۔ زہر لگتا ہے۔ حازم اسے جاتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔۔
چل اپنے دوسرے دشمنوں سے ملیں۔ ناظم شاہ جہانگیر خان کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولا۔دونوں شیطانی مسکراہٹ لیے وہاں سے نکل گے۔
آنٹی آپ لوگ یہاں کیوں کھڑی ہیں۔ یہاں سب مرد حضرات ہیں۔ آپ سب میرے ساتھ چلیں۔ التمش جو کہ ان دونوں سے جان چھڑوا کر ایک طرف آیا تھا۔ حمیدہ بیگم اور باقی سب لڑکیوں کو وہاں کھڑے دیکھ وہ فوراً ان کے قریب پہنچا۔۔۔
ہاۓ یہ کتنا خوبصورت ہے بالکل کسی ناول کے ہیرو کی طرح۔ میرا تو کرش ہء بنتا جا رہا ہے۔ سیرت التمش کو دیکھ کر دل پر ہاتھ رکھتے منت کے کان مین بولی۔ دعا نے بھی اسکے الفاظ سن کر اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا۔۔
چپ بدتمیز۔۔۔ منت نے اسکے کندھے پر تھپڑ مارا۔۔
وہ ان سب کو لے کر اندر حال میں چھوڑ کر واپس چلا گیا ۔۔حال میں خاندان کی باقی سب خواتین تھیں۔ صائمہ بیگم آگے بڑھ کر ان سب سے ملیں۔ باقی سب بھی ملے۔ زویا بلا جھجک آگے بڑھی۔
یہ میرے چھوٹے بیٹے التمش کی دلہن ہے۔ صائمہ بیگم نے زویا کا تعارف کروایا۔ حمیدہ بیگم کے علاوہ باقی تینوں منہ کھولے یہ سب سن رہیں تھیں۔۔ پر وہ حازم کے کہے گے الفاظ کے مطابق کچھ نا بولیں۔
ماشاءاللّٰه! حمیدہ بیگم نے آگے بڑھ کر زویا کو گلے سے لگایا۔ زویا جو کہ اپنی ماں جیسی تائی جان سے پچھلے ایک سال سے گلے نہیں ملی تھی۔ آج یوں ملنے پر اسکی آنکھیں جھلک پڑیں۔
آپ کی بہو بہت پیاری ہے۔ حمیدہ بیگم زویا سے الگ ہوتے ہوۓ بولیں۔
‎ شکریہ۔ چلیں آئیں باقی سب سے ملوا دوں۔۔۔۔صائمہ بیگم انہیں لیے آگے بڑھیں۔۔۔
ہیلو! زویا نے جھجکتے ہوۓ کہا۔ وہ جانتی تھی آگے سے کیا ری ایکشن آنے والا ہے۔۔
گھنی میسنی مجھ سے بات مت کرنا۔ سیرت دانت پیستے ہوۓ آہستہ آواز میں بولی۔ ان دونوں کی فرینڈ شیپ کافی اچھی تھی۔۔ زویا کے اتنے برے برے راز جیسے سیرت کو پتہ چل رہے تھے۔اسے ویسے ویسے ہی اس پر غصہ آرہا تھا۔ وہ منہ بسور کر آگے بڑھ گئی۔
لو جی ناراض ہو گئی۔ کوئی نا منا لوں گئی۔ وہ مسکر اکر بولی۔ دعا اور منت کو لے کر وہ اوپر اریشہ اور ماہ رخ کے کمرے کی طرف بڑھی۔ سیرت نے جب انہیں اوپر جاتے ہوۓ دیکھا تو اس سے رہا نا گیا۔ وہ بھی پیچھے بھاگی۔۔

انکل جب نکاح پہلے سے ہی ہو چکا ہے۔ تو یہ دوبارہ نکاح کا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ جلدی سے کھانا لگوائیں۔ اور رخصتی کریں۔ ویسے بھی واپس جاتے ہوۓ بہت لیٹ ہو جانی ہے۔ حازم گھڑی پر وقت دیکھتے ہوۓ بولا۔ جو کہ پونے پانچ بتا رہی تھی۔
بیٹے ہم ایسے نہین کر سکتے جاندان والوں کو اریشہ کے نکاح کا علم نہیں ہے۔ اس لیے یہ سب دوبارہ کرنا پڑے گا۔۔سہیل صاحب نے آہستہ آواز مین کہا۔
ارے کیا انکل جب لڑکا اور لڑکی نے پہلے ہی نکاح کر لیا ہے تو یوں دوبارہ یہ سب ڈرامہ کرنے کا کوئی تُک نہیں بنتا۔ وہ اپنی آواز کو تھوڑا سا اونچا کرتے ہوۓ بولا۔۔
کیا؟ لڑکا اور لڑکی نے پہلے ہی نکاح کر لیا ہے؟ وہی پاس کھڑے چاچا نے حیرانگی سے بولا۔۔
جی چاچا جی۔۔۔۔ حازم نے مسکرا کر کہا۔
غضب خدا کا یہ ہم کیا سن رہے ہیں۔ جہا نگیر اریشہ کا نکاح پہلے ہی ہو چکا ہے۔ وہ چاچا سنتے ہی دور کھڑے جہانگیر خان کے پاس گے۔ اور اونچی آواز مین کہا۔۔۔
ہاں وہ ایک سال پہلے ہم نے دونوں کا نکاح کیا تھا۔ جہانگیر خان نے بات کو سھنمبالنے کے لیے کہا۔
ارے کیا دادا جان جھوٹ کیوں بول رہے ہیں۔ چاچا مین بتاتا ہون۔۔اصل میں لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے پیارکرتے تھے۔ تو دونوں نے نکاح کر لیا ہمیں بھی کچھ دن پہلے ہی پتہ چلا۔ حازم اونچی اواز میں بولا۔ سب کے سب حازم کی طرف متوجہ ہوۓ۔ سٹیج پر بیٹھے سِراج کو اپنے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسکا بھائی اسکی عزت کو اچھال رہا تھا۔وہ بھی بھری محفل میں۔۔۔۔۔
اپنی بکواس بند کر۔۔۔۔ التمش نے حازم کا گِربیان پکڑکر غصے سے کہا۔ سب کے سب حیرانگی سے دیکھ رہے تھے۔۔
ابے چھوڑ۔۔۔پہلے اپنی آوارہ بہن کو سھنمبال جو چھپتے چھپاتے کسی غیر مرد سے ملتی تھی۔ اور نکاح کر لیا۔ سھنمبالی تو خود سے اپنی بہن نہین جاتی برے آۓ میرا گریبان پکڑنے والے۔ حازم نے اپنا گربیان چھڑواتے ہوۓ کہا۔۔
سالے تیری تو۔۔۔ التمش سے مزید برداشت نا ہوا۔۔ اس نے حازم کے منہ پر مُکہ مارا۔۔۔۔۔۔
ابے تیری اتنی ہمت حازم نے بھی پلٹ اسے مارا۔۔۔دونوں ایکدوسرے کو مارنے لگے۔۔ باقی سب کے سب آپس میں چہ مگوئیاں کرنے لگے۔۔۔۔
ان کی لڑائی کی بات حویلی کے اندر بھی پھیلی۔ زویا نے جب سنا تو جلدی سے اریشہ کے کمرے کی کھڑکی کو کھول کر وہاں آئی۔ جہاں سے گارڈن سارا نظر آتا تھا۔ سامنے ہی التمش اور حازم ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ وہ جانتی تھی حازم نے کیا کِیا ہے۔ صبح ہی اسکا میسج وہ پڑھ چکی تھی۔ وہ پہلے ہی اسے سب بتا چکا تھا۔ زویا نے اسے رُکنا چاہا پر حازم نے ایک نہیں سنی۔۔
اریشہ باہر کا منظر دیکھ کر پل بھر کے لیے سن ہو گئی۔۔۔
شمس اور ماجد نے دونوں کو چھڑوایا۔
غضب خدا کا کیسا زمانہ آ گیا ہے۔ استخفراللہ پہلے سے ہی نکاح کر لیا، خاندان کی عزت کا لحاظ بھی نہیں رکھا۔ اسی طرح کی سرگوشیاں سنائی دے رہین تھیں۔۔۔
التمش پلٹا اور حویلی کے اندر کی طرف بڑھا۔ وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا سیڑیوں کی طرف بڑھا۔
التمش پتر کیا ہوا؟ جھگڑا کیوں ہوا؟ آئمہ بیگم نے کہا۔۔۔ پر وہ کسی کی نا سنے سیڑھیوں سے اوپر چڑھتا اریشہ کے کمرے کے قریب آیا۔۔
انتہائی غصے سے اسے نے کمرے کے دروازے کو کھولا۔۔تو سامنے ڈری سہمی سے اریشہ اور باقی سب لڑکیاں کھڑئیں تھیں۔
وہ آگے بڑھا۔ اور دلہن بنی اریشہ کا بازو پکڑا۔
التمش کیا کر۔۔۔۔ زویا اگے بڑھنے لگی۔ جب التمش نے اسے ہاتھ دیکھا کر رُوک دیا۔۔وہ وہی رک گئی۔ وہ اریشہ کو بازو سے پکڑتے کمرے سے باہر نکلا۔۔ باقی سب بھی اسکے پیچھے نکلے۔۔
لالا کیا کر رہے ہیں؟ اریشہ چلائی۔۔
خبردار اگر دوبارہ مجھے لالا کہا۔ وہ غصے سے لال ہوتی آنکھوں سے اسے گھورتے ہوۓ بولا۔ اریشہ اسکے اتنے سخت لہجے پر سہم گئی۔۔ وہ اسے لیے سیڑیوں سے نیچے اترتا باہر کی طرف بڑھا۔ سب نے اسے رُکنے کی کوشش کی۔۔ پر وہ کسی کی نا سنے اسے لیے داخلی دروازے سے باہر نکلا۔۔ اور سِراج کی گاڑی کے پاس آ کر رُکا۔ سِراج جو کہ دور سے ہی التمش کو یوں اریشہ کو لاتے دیکھ چکا تو وہ فوراً اس طرف بھاگا۔۔۔
اریشہ ماجد خان آج سے تمہارا اور اس حویلی کا اس میں رہنے والے ہر انسان سے جوڑا ہر رشتہ ختم۔ تم دوبارہ اس حویلی میں قدم بھی نہیں رکھ پاؤ گئی۔ باپ بھائی کی عزت کا جنازہ نکال کر اریشہ سِراج خان بننا مبارک ہو۔۔۔ وہ اسے دروازہ کھول کر سیٹ ہر دکھیلتے ہوۓ بولا۔ اور اگلے ہی پل وہاں سے نکل گیا۔۔
حازم نے اندر سے حمیدہ بیگم اور باقی سب کو بلوایا۔ سارے مہمان ایک ایک کر کے وہاں سے چلے گے۔۔پانچ منٹ کے اندر اندر حازم لوگ حویلی سے نکل گے۔۔
پہلے جو بات صرف گاؤں میں تھی۔ اب پورے خاندازن اور ناجانے کتنے گاؤں مین پھیل چکی ہے۔ ہماری عزت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ سہیل صاحب صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولے۔۔۔
زویا زویا۔۔۔۔۔ التمش حال مین داخل ہوتے ہوۓ اونچی آواز میں زویا کو پکارا۔ جو کہ روتی ہوئی ماہ رخ کے پاس بیٹھی اسے چپ کروا رہی تھی۔ التمش کی اواز سن کر وہ نیچے کی طرف بھاگی۔۔۔
کیا ہوا؟ اسکے ہاس آ کر بولی۔۔
پانچ منٹ کے اندر اندر میرا اور اپنا سامان پیک کرو۔ ہم یہاں سے نکلنے والے ہیں۔ اسکے آتے ہی وہ بولا۔۔۔
پر ہم تو کل۔۔۔۔
جو بولا ہے وہ کرو۔ جاؤ۔ وہ بات کاٹ کر بولا۔زویا پلٹ گئی۔۔۔
دادا جان اگر یہ پھنے خان نا پنتا تو معاملا اتنا نا بگڑتا۔ اب حازم ناراض ہو گیا ہے۔ پتہ نہین کیسے مانے گا۔۔ ماجد الگ ہی بات پر پریشان تھا
اگر آپ کی آنکھیں اور کان کھلے ہوۓ تھے تو غور سے دیکھتے۔ وہ سب ڈرامہ حازم کا رچایا ہوا تھا۔ وہ جان بوجھ کر اونچی اونچی آواز میں سب بتا رہا تھا۔ التمش غصے سے بولا۔
ہمیشہ کی طرح اپنی غلطی مت ماننا دوسروں پر ہی بات ڈالنا۔ ماجد طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
زویا ایک بیگ لیے سیڑیوں سے نیچے اتری۔
التمش پتر تو مت جا تیری ماں مر جاۓ گئی۔ صائمہ بیگم روتے ہوۓ اسکے پاس آئیں۔اور گلے سے لگ گئیں۔۔۔
اماں اگر میں یہاں سے نا گیا تو مین مر جاؤں گا۔ یہاں میرا دم گھٹ رہا ہے۔ التمش نے انہیں خود سے علحیدہ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔۔۔۔
جانے دیں اماں۔۔ ویسے بھی اس جیسے غصے کے تیز انسان کو یہاں سے چلے ہی جانا چاہیے۔۔۔ماجد صائمہ بیگم کو دور کرتے ہوۓ بولیں ۔
زویا چلو۔۔۔ التمش نے اس سے بیگ لے کر کہا۔ وہ اسکے ساتھ چل دی۔۔۔
التمش میرے بیٹے مت جا میرا دل پھٹ جاۓ گا۔ ایک بیٹا گھو چکی ہوں اب دوسرا کھونے کی ہمت نہیں یے۔ اسکے مُرتے ہی صائمہ بیگم روتے ہوۓ بولی۔ ۔التمش ان کی بات سن کر پلٹا اور چل کر ان تک آیا۔۔
اماں چپ۔۔۔ التمش۔ نے انہین سینے سے لگایا ۔وہ زور زور سے رو دیں۔
اماں جانے دو۔۔ وعدہ کرتا ہوں ملنے آتا رہوں گا۔ پلیز۔۔۔۔ التمش ان کے ماتھے کو چومتا بنا مزید بات سنے وہاں سے نکل گیا۔۔زویا اسکے پیچھے چل دی صائمہ بیگم وہی بیٹھی روتی رہیں۔نائلہ نے آگے بڑھ کر انہیں اُٹھایا ۔
وہ اپنی جیپ کی طرف بڑھا۔ اگلے دو منٹ میں جیپ ہو سے باتیں کرنے لگ گئی۔۔۔ وہ فل سپیڈ مین جیپ چلانے لگا۔ اسکے کانوں مین سب باتیں گھونج رہیں تھیں۔۔ ویسے ویسے ہی اسکی جیپ کی سپیڈ زیادہ ہو رہی تھی۔
التمش آہستہ چلائیں۔ زویا اونچی آواز مین بولی۔۔ پر سامنے والے نے مزید تیز کر دی۔


تین گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ سب گھر پہنچے۔
آپ نے یہ سب جان بوجھ کر کِیا۔ کیوں؟ حال مین داخل ہوتے ہی سِراج جو کہ پہلے سے ہی بھرا پڑا تھا۔ حازم کی طرف مڑ کر بولا۔۔۔
کیا سب؟ وہ انجان بن کر بولا۔۔۔
سیرت منت دعا آپ اریشہ کو کمرے مین لے کر جاؤ۔ چلو۔ حمیدہ بیگم نے تینوں کو کہا۔ وہ اسے لیے سِراج کے کمرے کی طرف بڑھیں۔۔
واہ واہ۔۔۔۔۔ اس دن جب ماما کے ساتھ جا کر آپ سب کے سامنے میری اور اریشہ کی بات کھول کر آے تھے تب میں نے اپ کو معاف کر دیا۔ پر آج جو تماشا آپ نے میرا اور میری بیوی کا بھری محفل مین لگایا ہے اسکے لیے مین کبھی آپ کو معاف نہیں کروں گا۔۔ سِراج چلایا۔۔۔
تو بیٹے یہ سب چھپ کر نکاح کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے تھا۔ مینٹلی طور پر تیار ہونا چاہیے تھا۔ یہ اب تو ہونا ہی تھا۔ وہ پر سکون لہجے میں بولا۔۔ آج جو اس نے کِیا تھا وہ اس پر بالکل بھی شرمندہ نہیں تھا۔
شرم کریں بھائی شرم کریں۔ آپ جو کھیل زویا کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں۔ نا اسکے انجام سے ڈریں۔ سِراج غصے سے بولا۔۔۔
شادی ہو گئی نا چلو اب انجواۓ کرو۔ میرے معاملات مین پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ماما ایک کپ کافی بھجوا دیں بہت تھک گیا ہوں۔۔ہممم۔۔ حازم اسکا گال تھپتھپا کر بولا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
ماما آپ بتائیں کیا یہ سب ٹھیک ہوا؟ سِراج حمیدہ بیگم سے مخاطب ہوا۔
اپنی اپنی جگہ تم دونوں ہی غلط ہو۔ چلو کمرے مین جاؤ۔ اریشہ پریشان ہو گئی اسے دلاسا دو۔ حمیدہ بیگم اسے بول کر کیچن کی طرف بڑھیں۔۔۔۔
سِراج کچھ پل وہی کھڑا رہا پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہ کمرے مین داخل ہوا تو اریشہ بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی۔ باقی سب اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہیں تھیں۔ سِراج کو آتا دیکھ سب کمرے سے چلی گئیں۔
اریشہ ایم سو سوری یہ سب میرے ہی بھائی نے کیا۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا کیسے معافی مانگوں۔ بہت شرمندہ ہوں وہ اسکے پاس بیٹھتے ہوۓ ہوۓ بولا۔ پر وہ روتی رہی ۔۔۔
ہم نے تو صرف محبت کی تھی نا تو اسکا انجام اتنا گندھا کیوں ہوا؟ وہ سر اُٹھا کر روتے ہوۓ بولی۔۔
نہیں میری جان رو مت۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں نا۔۔۔۔ وہ اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
مجھے اتنے دنوں سے وہ سب محسوس نہیں ہوا۔ جو ابھی ہو رہا ہے۔ میں نے خود کو ان دنوں میں ایک دفع بھی اتنا گندھا محسوس نہیں کیا تھا جتنا اب کر رہی ہوں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔
میں سمجھ سکتا ہوں۔۔ سِراج اسکے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔
آپ تو سمجھ گے۔ پر میں نہین سمجھی تھی۔ آپ کو پتہ ہے آج جب التمش لالا نے کہا نا مجھے لالا مت بلانا۔ مجھے ایسے لگا جیسے میرا دم نکل گیا ہے۔ اور جب انہوں نے بولا نے خاندازن کی عزت کا جنازہ نکال کر اریشہ سِراج خان بنا مبارک ہو۔ خدا کی قسم سِراج اس وقت میں مر ہی گئی تھی۔ میں بہت بری ہوں۔ میں نے جو کیا اسکی سنگینی کا احساس آج پہلی دفع مجھے ہو رہا ہے۔ بہت بہت بری غلطی ہو گئی۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔۔۔ سِراج کی آنکھوں مین بھی پانی آگیا۔اسنے اریشہ کو اپنے سینے میں بھیچ لیا۔۔۔
سب ختم ہو گیا سِراج سب ختم ہو گیا۔ آج احساس ہوا لالا کا مان توڑا ہے۔ دادا جان کی عزت داغ دار ہو گئی۔ وہ روتے روتے بول رہی تھی۔۔
اریشہ میری جان پلیز چپ کر جاؤ ۔۔خود کو سھنمبالو۔۔۔۔ سِراج اسکی بگڑتی حالت کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
بہت غلط ہوا۔۔ ایسا نہیں ہونا ہونا چاہی چاہی چاہیے۔ وہ روتے روتے بے ہوش ہو گئی۔۔
اریشہ اریشہ اسکو یوں بے ہوش دیکھ کر سِراج کے ہاتھ پاؤں پھول گے۔ اسے بیڈ پر لیٹا کر وہ باہر کی طرف بھاگا۔ لینڈ لائین سے ڈاکٹر کو فون کیا۔ اور واپس کمرے میں آیا۔۔۔
حازم بھائی آپ نے جو بھی کیا ساری زندگی اسکے لیے معاف نہین کروں گا۔۔ اریشہ کے پاس بیٹھتے ہوے وہ بولا۔ حمیدہ بیگم اسکے کمرے میں آئیں تو اریشہ کو یوں بے ہوش دیکھ کر پریشان ہو گئیں۔
سِراج اسے کیا ہوا؟ وہ فوراً سِراج کے پاس آئیں۔۔
ہم دونوں نے جو گناہ کیا اسکی سزا مل رہی ہے۔ سِراج رو دیا۔۔
میرے بچے حمیدہ بیگم نے آگے بڑھ کر سے گلے سے لگا لیا۔۔ سِراج اپنی ماں کا آنچل پا کر مزید بکھرا۔۔۔ دونوں کو آج اپنے اس قدم کی سنگینی کا احساس ہو رہا تھا۔ کچھ پل میں کیے جانے والے کچھ فیصلے کئی بار بہت برا نتجہ دیتے ہیں۔۔آج وہی ان دنوں کے ساتھ ہو رہا تھا۔ شمس سے شادی نا کرنے کے لیے کیے جانے والے نکاح نے آج ہر رشتے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔