Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

تم آج پھر اس لڑکے سے ملنے جا رہی ہو۔ اریشہ شیشے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی۔ بیڈ پر بیٹھی ماہ رخ نے کتاب بند کرتے ہوۓ پوچھا۔
ہاں اپنے ہونے والے شوہر سے ملنے جا رہی ہوں۔ وہ آنکھوں میں کاجل ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
ہمممم اریشہ ایک بات سوچ کر بتانا اگر کل کو تمہاری شادی اس لڑکے سے نا ہو کر کسی اور سے ہو جاۓ تب کیا کرو گئی۔ ماہ رخ برے غور سے اسے دیکھتے ہوۓ بولی ۔۔جسے کے ہاتھ ایک پل کے لیے کاجل لگاتے لڑکھڑاۓ۔۔۔۔
میں کسی اور سے شادی نہیں کروں گئی۔۔ کاجل لگا کر اب اسکے ہاتھ میں لپ سٹک تھی۔
اگر تمہاری شادی کسی اور سے ہو گئی۔ تم اسے پورے دل سے نا اپنا پائی۔ یا کل کلاں کو تمہارا ماضعی تمہارے سامنے ا گیا۔ تب کیا کرو گئی۔ ماہ رخ نے اپنا سوال دوبارہ گھوما کر پوچھا۔
میری شادی سراج سے نہیں ہو ایسا سوچنا ہی موت کے برابر ہے۔ میں ان سے بے پناہ محبت کرتی ہوں۔ تم اس دن کی میرے پیچھے پڑی ہو۔ اب تم بتاؤ ماہ رخ کیا محبت کرنا غلط ہے؟ وہ اپنا ڈوپٹہ گلے میں ڈال کر اسکی طرف مڑ کر بولی۔۔۔
غلط میں نے کب بولا محبت کرنا غلط ہے۔ یہ ایک ایسا ایموشن ہے جو ہر انسان میں پایا جاتاہے۔ اور جس میں نا پایا جاۓ مین اسے انسان ہی نہیں سمجھتی۔ ماہ رخ مسکرا کر بولی۔۔۔۔
تو مسلہ کیا ہے؟ تم کیوں ہر وقت میری دادی اماں بنی رہتی ہو۔ مت بھولو ہماری دادی اماں کو مرے کافی عرصہ ہو گیا ہے۔ وہ چڑ کر بولی۔۔۔
مسلہ صرف اتنا ہے۔ اگر تم اس سے اور وہ تم سے محبت کرتا ہے۔ تو اسکو بولو رشتہ بھیجے۔ چاہیے نکاح ہی کر لو۔ رخصتی بعد میں کر لینا۔ پر یوں چھپ کر ملنے مت جاو دیر رات تک اسے باتیں مت کرو۔ ۔ہمارے اسلام میں بھی یہ منع ہے۔ ماہ رخ اسے سمجھاتے ہوۓ بولی۔۔۔
او پلیز ماہ! ابھی ہم لوگ شادی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔ آٹھارہ سال ہی گئی۔ ابھی شادی کر لوں۔۔ مجھے سراج سے ملنے مین کوئی مسلہ نہیں۔ اور پلیز تم بھی خوش رہو۔ ابھی مجھے لیٹ ہو رہی ہے۔ سِراج نیچے میرا انتظار کر رہے ہیں۔ میں چلتی ہوں۔ وہ اپنا پرس کندھے پر ڈالے کمرے سے باہر نکلی۔
یا اللہ اسے ہدایت دے۔ ماہ رخ کمرے کی کھڑکی میں کھڑی ہوئی تو سامنے سڑک پر اریشہ ہنستے ہوۓ سراج کی گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔


حازم تمہیں کیا لگتا ہے اس ماجد کو سزا ملے گئی یا بچ جاۓ گا۔ سلطان صاحب چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ سامنے بیٹھے حازم سے مخاطب ہوۓ۔۔۔
ڈیڈ اسکو سزا ملے یا نا ملے اب اس میں ہمارا کوئی نقصان نہیں۔ ہم نے جو کرنا تھا کر دیا۔ ان کی عزت کی دھجیاں اُڑ کر رہ گئی ہیں۔۔ حازم مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔
کاش میں اس وقت ان کی شکل دیکھ پاتا۔ تو مزہ ہی آ جاتا۔ جہانگیر خان کو اپنی بے جا دولت پر برا عرور تھا آج اسی کے بیٹے نے سارے زمانے کے سامنے اسکی عزت کی دھجیاں بکھیر دیں۔ ہاہاہا سلطان صاحب اونچا قہقہ لگاتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
ڈیڈ آپ بس دیکھتے جائیں ان کی عزت تو برباد ہوئی ہی ہے۔ اب بہت جلد وہ سڑک پر ہوں گے۔۔ اگلے کچھ دنوں کے اندر اندر اگر وہ سب بے گھر نا ہوۓ تو میرا نام بدل دیجیے گا۔۔ ڈیڈ آپ کا بدلہ ضرور پورا ہو گا۔ حازم ہاتھ میں پکڑے گلاس کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔جیسے اس گلاس سے اسے اپنے دشمن نظر آ رہا ہو۔۔۔۔
مجھے پورا یقین ہے ایسا ہی ہو گا۔۔آفٹر آل زویا بھی تو وہاں ہے۔ ہماری سب سے بری ہتھیار، ان کے چھکے چھڑانے کے لیے کافی ہے۔ سلطان صاحب شیطانی مسکراہٹ لیے بولے۔۔۔۔
ڈیڈ وہ سب تو ٹھیک ہے پر ناجانے کیوں مجھے ایسا لگتا ہے۔ زویا اس التمش خان کی بہت طرفداری کرتی ہے۔ کہی اگر اس نے میرے بجاۓ اسے چُنا تو؟ اخر مین اسکے اواز میں واضع ڈر تھا کسی کو کھو دینے کا ڈر۔۔۔۔۔
ایسا نہین ہو گا۔ تم بلاوجہ ہی ٹینشن لے رہے ہو۔ زویا صرف تمہاری ہے۔اسے تم سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ جب سب ختم ہو جاۓ گا تب مین خود اس التمش سے جان چھڑوا کر زویا کو تمہارے حوالے کروں گا۔ سلطان صاحب نے اسمے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔حازم ملک کھل کر مسکرا دیا۔۔۔۔


دادا جان مجھے معاف کر دیں مجھ سے بہت بری غلطی ہو گئی۔ ماجد روتے ہوۓ جہانگیر خان کے قدموں مین گڑ گیا۔۔۔ وہ آج ہی جیل سے چھوٹ کر آیا تھا۔
مجھے تمہاری سکل نہین دیکھنی۔ تم نے تو ہمیں زندہ قبر میں ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ جہانگیر خان نے اپنا پاؤں چھڑواکر غصے سے بھرپور لہجے میں کہا۔۔۔
دادا جان ایک دفع معاف کر دیں۔ آج کے بعد ایسی کوئی حرکت نہیں کروں گا۔ آپ جیسا بولیں گے میں بس وہی کروں گا۔۔۔سب کچھ چھوڑ دوں گا۔ ماجد اپنے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولا۔۔ ساتھ میں تھوڑا رو بھی دیا۔۔۔۔
ماجد تم تو شکر ادا کرو۔ جیل سے نکل آۓ۔ ورنہ وہ ایس پی ارحم تو تمہین موت کی سزا دلو کر ہی رہتا۔۔یہ تو اچھا ہوا میں اس لڑکی کی بہن بھائی سے ملا۔ ڈرا دھمکا کر اور تھوڑے پیسے دے کر انہیں رپورٹ واپس لینے پر مجبور کیا ورنہ وہی سڑ رہے ہوتے۔۔۔۔خالد صاحب نحوست سے بولے۔۔۔
ابا بہت مہربانی۔۔معاف کر دیں۔ ماجد اب خالد صاحب کے سامنے جا کر معافی مانگنے لگا۔۔۔
کسی خوش فہمی میں مت رہنا کہ ہمیں تمہاری فکر تھی۔اس لیے چھڑوایا۔ ساری برادی اور گاؤں کے سامنے ہم یہی کہیں گے۔ کہ تم پر جھوٹا الظام لگایا گیا تھا۔
ایک پوتا تو ہاتھ سے نکل چکا ہے۔اب ہم دوسرا نہیں کھو سکتے تھے۔ جہانگیر خان غصے سے بولے۔۔۔اور اپنے حقے کی طرف متواجہ ہوۓ۔۔۔۔۔
خالد صاحب کے اشارے پر ماجد اس کمرے سے نکل کر اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔
جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوا سامنے سائرہ کو گود میں لیے نائلہ بیٹھی ہوئی تھی۔۔۔ اپنے سامنے ماجد کو دیکھ کر اس نے نفرت سے منہ پھیر لیا۔۔۔۔۔
ماجد نے اسے اگنور کیا اور اپنے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گیا۔۔۔۔
سائرہ کو سلا کر اس نے بیڈ پر لٹایا۔۔۔ تب تک ماجد بھی واشروم سے باہر نکل آیا
لگتا ہے شوہر کو صحیح سلامت دیکھ کر زرا برابر خوشی نہیں ہوئی۔ سارہ پر کمبل دیتی نائلہ کو طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔
جب شوہر کسی معصوم کا قتل کر کے گھر واپس آۓ تو میرا نہیں خیال کسی بیوی کو خوش ہونا چاہیے۔ پاؤں میں چپل ڈالتے ہوۓ بولی۔۔۔
ایک دن میں ہی زبان لمبی کر لی۔۔۔ وہ غصے سے اگے بڑھ کر اسکا چہرہ دبوچتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
جب سامنے ایک مجرم کھڑا ہو تو زبان لمبی ہو ہی جاتی ہے۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔
تیری اتنی ہمت تو ماجد خان سے زبان درازی کرے۔۔ ماجد نے اسکے بال اپنی مُٹھی میں بھرتے ہوۓ کہا۔۔ ۔
آہ۔۔۔چھوڑیں۔ وہ چلائی۔۔۔۔۔
اب بکواس کر کیا بول رہی تھی۔ ماجد اسکا جبڑا دباتے ہوۓ بولا۔۔
تو سن ماجد خان تھو ہے تجھ پر۔۔اپنی بیوی کے ہوتے ہوۓ ایک لڑکی سے ناجائز تعلق رکھ کر اسے حاملہ کیا اور پھر خود ہی اسکی جان لے لی۔۔ تھو ہے تجھ پر۔۔ نائلہ نے ہمت کر کے بولا۔۔ اور آخر میں اسکے منہ پر تھوک دیا۔۔۔۔ اتنی توہین پر ماجد کی رگیں تن گئیں۔۔ اس نے جھٹکے سے اسے زمین پر گِڑایا۔۔۔اور اگے بڑھ کر زور سے دروازہ بند کیا۔۔ اور چٹکی چڑھائی۔۔۔
جاہل عورت تیری اتنی ہمت تو نے مجھ ہر تھوکا۔ آج تیری خیر نہیں تجھ یہ سب بکواس کرنے پر پچحتاوا ہو گا۔۔ وہ زور سے چلایا اور الماری کی طرف بڑھا۔ نائلہ ڈر گئی۔۔اب نا جا ے وہ کیا کرنے والا تھا۔۔۔
الماری سے بیلٹ نکال کر وہ اسکی طرف مڑا۔ بیلٹ کو دیکھ کر نائلہ کا رنگ اُڑ گیا۔۔۔
اب کر بکواس اسنے زور سے نائلہ کی کمر پر پلیٹ مارا۔۔
اہ۔ ۔۔۔۔۔ اسکی چیخ بلند ہوئی۔۔۔۔۔
ماجد خان تھو ہے تجھ پر۔۔۔۔۔وہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماجد نے ایک بار پھر بیلٹ مارا وہ دوبارہ چلائی۔۔پحر وہ نا رکا ایک کے بعد ایک بلیٹ مارتا گیا۔۔۔۔۔وہ لگاتا چیختی رہی۔۔۔انہی چیخوں سے سائرہ اُٹھ گئی۔ وہ بھی رونے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ نایلہ کو مارتا گیا۔۔۔۔۔ اور وہ چیختی رہی ۔۔۔۔۔آخر تھک ہار کر وہ بلیٹ وہی ہر پھینک کر دروازہ کھول کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
نائلہ وہی زمین پر اپنی اس ذلت بھری زندگی کا ماتم منانے لگی۔۔۔۔۔
اہ آہ۔۔۔۔۔۔۔ وہ ہلک پھاڑ کر چلائی۔۔۔۔ چلاتے چلاتے رونے لگی۔۔۔۔پھر چلانے لگی۔۔۔۔۔۔ اسے اگر کوئی دور سے دیکھتا تو کسی پاگل کا گُمان ہوتا۔۔۔۔۔۔۔۔
زویا جو کہ اریشہ کے کمرے مین سے کچھ لینے آئی تھی۔۔ کسی کے چیخنیں کی آواز سن کر وہ اس سمت بھاگی۔۔۔جب نائلہ کے کمرے سے سائرہ اور نائلہ کے رونے کی اوازیں سنائی دیں تو وہ بھاگ کر کمرے میں داخل ہویی۔۔۔پر سامنے کا منظر دیکھ کر وہ لڑکھرائی۔۔۔۔
سامنے فرش پر نائلہ لیتی ہوئی تھی۔ اسکے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹے ہوۓ تھے۔ اور جگہ جگہ سے خون رس رہا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔۔۔اور کبھی چیخ رہی تھی۔۔۔۔
نائلہ آپی۔۔۔۔زویا بھاگ کر اس تک آئی۔۔۔۔
یہ سب کیسے ہوا؟؟۔ وہ لڑکھڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔اسکے ہاتھ کانپے۔۔۔۔۔
نائلہ نے بامشکل آنکھیں کھول کر سامنے بیٹھی زویا کو دیکھا۔۔ تبھی اسکی انکھوں کے آگے اندھیرا آیا وہ وہی بے ہوش ہو گئی۔۔۔۔زویا کے ہاتھ پاؤں پھول گے۔۔۔
اس نے ہمت کر کے نائلہ کو بیڈ پر لٹایا۔۔ سائرہ رو رو کر خود ہی چپ کر گئی تھی۔ زویا نے اسکے جسم پر کمبل دیا۔۔۔۔۔
اب کیا کرو۔۔۔۔۔ کچح سوچ کر وہ دروازے کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔
وہ ہر طرف دیکھ رہی تھی پر اسے سعد نظر نا آیا۔۔۔وہ جانتی تھی کہ سعد ڈاکٹری پڑھ رہا ہے اور اسکا یہ آخری سال ہے شاید وہ مدد کر سکتا تھا۔۔۔ رات بھی ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہ بھاگتی بھاگتی باہر گارڈن کی طرف آئی۔۔۔۔پر سب خالی تھا۔۔۔ چونکہ یہ حویلی کافی بری تھی ۔ کسی کا اوپری منزل پر کمرہ تھا تو کسی کا نیچے۔۔۔۔۔ کافی دور دور کمرے تھے اسی لیے نائلہ کے رونے چلانے کی کسی کو آواز نا آئی۔۔۔۔
زویا کو اپنی بے بسی پر رونا آ رہا تھا۔۔تبھی اسے داخلی دروازے سے سعد اور التمش داخل ہوتے نظر آۓ۔۔۔۔وہ دونوں آپس میں شائد کچھ ڈسکس کر رہے تھے۔۔۔۔
مسٹر خان! سعد بھائی جلدی چلیں۔ وہ بھاگتے ہوۓ دونوں کے پاس آکر بولی۔۔۔۔
زویا کیا ہوا تم رو کیوں رہی ہو۔۔ التمش پریشان ہو گیا۔۔۔
نائلہ آپی زخمی ہیں پلیز جلدی چلیں۔۔ زویا نے التمش کا ہاتھ پکڑ کر کھینچا۔۔۔
واٹ بھابھی کو کیا ہوا۔۔۔۔ سعد حیرانگی سے بولا۔۔اور اندر کی طرف بھاگا۔۔۔ زویا اور التمش بھی بھاگے۔۔۔۔۔
وہ تینوں نائلہ کے کمرے مین داخل ہوۓ۔۔۔۔
او مائی گاڈ سعد اگے بڑھ کر نائلہ کا چہرہ دیکھتے ہوۓ بولا۔۔ماتھے سے خون نکل رہا تھا۔
سعد نے جلدی سے نبض چیک کی۔ جو کہ کافی سلو چل رہی تھی۔۔۔۔
سعدکیا کریں۔۔ ہاسپیٹل لے کر چلیں۔۔۔۔۔ التمش پریشانی سے بولا۔۔۔
لالا ان کا جلدی علاج کرنا پڑے گا۔۔۔۔ ہاسپٹل بہت دور ہے۔ میں گاؤں کی فارمسی سے کچھ انجکشن اور دوائیں لے کر آتا ہوں۔ وہ کہ کر باہر کی طرف بھاگا۔۔۔ گاؤں کی فارمسی پانچ منٹ کی دوری پر تھی۔۔۔۔سعد بائیک پر گیا۔۔۔۔
اس بلیٹ سے مارا گیا ہے۔ زویا زمین سے بلیٹ اُٹھا کر بولی۔۔۔۔۔
التمش نے شرمندگی سے منہ نیچے کر دیا۔۔۔۔۔
لیکن بھابھی کو مارا کس نے لالا تو جیل میں ہے۔۔۔ وہ حیرانگی سے بولا۔۔۔
ہنہہہ مسٹر خان اس دنیا میں امیر کو کوئی سزا نہین ملتی۔۔ سزا تو غریب سہتا ہے۔۔۔ آپ کے قاتل لالا کو اپ کے ابا نے چھڑوا لیا ہے۔۔۔تا کہ ان کی عزت سلامت رہے۔۔۔۔ناجانے کون سی عزت سلامت رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ طنزیہ انداز میں بولی۔۔۔۔تبھی بھاگتا ہوا سعد ہاتھ مین دو شاپر پکڑے اور ایک ہاتھ مین فسٹ ایڈ کٹ پکڑے اندر داخل ہوا۔۔۔۔۔
اس نے جلدی سے نائلہ کو انجکشن لگاۓ۔ اور ایک درپ لگا دی۔۔۔۔۔ اب وہ بازو پر بنے زخموں پر دوائی لگا رہ تھا۔۔۔۔
لالا باہر ا گیا۔۔اور آتے ہی اپنی بیوی کا یہ حشر کیا۔۔ التمش غصے سے بولا۔۔ سائرہ کی رونے کی آواز آئی۔۔۔۔زویا نے آگے بڑھ کر اسے اپنی گود میں لیا۔۔۔۔
آپ کے خاندان کے سارے مرد ہی جانور ہیں۔ زویا سائرہ کو چپ کرواتی التمش کی طرف مُڑی۔۔۔
التمش نے مُڑ کر اسکی طرف دیکھا۔ اسکی آنکھوں میں پانی تھا۔۔۔ اسے مزید دیکھا نا گیا۔۔۔وہ پلٹ گیا۔۔۔
زویا بھابھی آپ بھابھی کے باقی زخموں ہر یہ نرہم لگا دیں۔ اب ان کی حالت کچھ نارمل ہے ڈرپ ختم ہوتی ہے تو مجھے بلاواۓ گا۔ ایک اور درپ لگانی ہے۔۔۔سعد مرہم اسے دیتے ہوۓ بولا۔۔ ا
التمش نے سائرہ کو اس سے لیا۔۔ دونوں کمرے سے باہر چلے گے۔۔۔ زویا نے نائلہ کے کپڑے تبدل کیے اور اس کے زخموں پر مرہم لگائی۔۔۔۔۔۔۔
آدھے گھنٹے بعد ڈرپ ختم ہو گئی۔ زویا نے سعد کو بلایا۔ اس نے اگلی ڈرپ لگا دی۔۔۔۔۔
زویا بھابھی رات کے بارہ بج چکے ہیں آپ بھی جا رک سو جائیں۔ میں تائی جان کو بلا لاتا ہوں۔ سعد اس سے مخاطب ہوا ۔۔
نہیں رہنے دیں۔ انہیں سونے دیں۔ میں نائلہ آپی کے پاس رہوں گئی۔ اگر انہیں رات کو کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو میں دے پاؤں گئی۔زویا بولی۔۔۔۔
آپ پھر سائرہ کو التمش لالا کے کمرے سے لے آئیں۔ حیدر بھی وہی ہے۔۔ سائرہ لالا کو تنگ نا کر رہی ہو۔ سعد بول کر کمرے سے باہر نکل گیا۔۔


زویا نا چاہتے ہوۓ بھی التمش کے کمرے کی جانب بڑھی۔۔۔۔ اندر سے سائرہ کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔
اف چاچو آپ کو تو چپ کروانا ہی نہیں آتا ادھر دیں۔ حیدر جو کافی دیر سے التمش کو دیکھ رہا تھا جو کہ سائرہ کو چپ کروانے لی کوشش میں لگا ہوا تھا۔۔۔آخر مین وہ چڑ گیا۔۔۔
لو کرواؤ چپ میں بھی دیکھتا ہوں کیسے چپ ہوتی ہے۔ التمش نے سائرہ اسکی گود میں ڈال دی۔۔۔۔۔
زویا کمرے میں داخل ہوئی۔ التمش نے بے ساختہ اسے دیکھا۔
بھابھی کیسی ہیں؟ وہ اسے قریب آ کر اہستہ آواز میں بولا۔۔تا کہ عثمان نا سن لے۔
بے ہوش ہیں۔ دوسری ڈریپ لگی ہے۔ وہ عثمان کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔
تم کیسی ہو؟ التمش کو اسکا روتا ہوا چہرہ یاد آیا تو پوچھ بیٹھا۔۔وہ اسکی طرف برے غور سے دیکھ رہا تھا۔
ٹھیک ہوں۔ وہ بول کر بنا اسے دیکھے حیدر کی طرف بڑھی۔۔۔۔
اس نے روتی ہوئی سائرہ کو اپنی گود مین لیا۔
اف چاچو لگتا ہے لڑکیاں صرف لڑکیوں سے ہی چپ ہوتی ہیں۔ میں کب سے چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پر۔۔۔۔۔اف۔۔۔۔۔۔ حیدر سائرہ کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔جو کہ زویا کے پاس جا کر فوراً چپ ہو گئی تھی۔۔۔۔
ہاں حیدراور کچھ لڑکیاں بلاوجہ کے نخرے بھی دیکھاتی ہیں۔۔۔ وہ حیدر کے پاس بیڈ پر آ کر بیٹھتے ہوۓ زویا کو فوکس میں لے کر بولا۔۔۔
حیدر کیا آپ چلو گے۔۔ زویا اسے دوبارہ سے اگنور کر تے ہوۓ حیدر سے مخاطب ہوئی۔۔۔
نو چاچی میں تو چاچو کے پاس ہی رہوں گا۔۔۔ حیدر التمش کے گلے میں باہیں ڈال کر بولا۔
زویا نے چاچی لفظ سنتے ہی التمش کی طرف دیکھا اور اگلے ہی پل وہ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔
اہممم یہ چاچی کس نے سیکھایا۔ التمش حیدر کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بولا۔۔۔
سعد چاچو نے بولا تھا پری آپ کی وائف ہیں تو میری چاچی ہوئیں۔ اسی لیے میں انہیں چاچی کہ کر بُلایا کروں۔حیدر مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
اچھا جی التمش نے اسے بازوں مین لیا۔۔۔ اور اسکے بیٹ پر گُدگُدی کرنی لگا ۔۔۔حیدر کھلکھلایا۔۔۔۔۔ التمش نے مسکراتے ہوۓ اسے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔
چاچو ایک بات پوچھوں۔ حیدر نے ترچھا ہو کر کہا۔۔
ہم پوچھو۔۔۔۔
بابا نے میری ماما کو کیوں مارا؟ وہ التمش کی طرف دیکھ کر سوالیہ انداز میں بولا۔۔کچھ پل کے لیے التمش چپ ہو گیا۔۔۔ وہ اسکو کیا جواب دیتا۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے۔ لالا نے بھابھی کو مارا نہیں۔ وہ تو بس۔۔۔۔ التمش بول ہی رہا تھا۔۔۔۔جب حیدر بول پڑا۔
چاچوماما کہتی ہیں جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اللہ پاک ناراض ہوتے ہیں۔ میں نے خود بہت بار دیکھا ہے۔۔بابا ماما کو مارتے ہیں۔ ماما بیت روتی ہیں۔ مجھے انہیں دیکھ کر رونا آتا ہے۔۔ حیدر اپنے نھنی نھنی آنکھوں سے آنسوں صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔
تم میرے چیمپ ہو ۔۔اور چیمپ کبھی نہیں روتا۔۔ تمہارے ماما بابا میں تھوڑی سی لڑائی ہو گئی ہے ۔ دیکھنا کل سب ٹھیک ہو جاۓ گا۔ کافی دن سے ہم دونوں چیمپینز نے ویڈیو گیم نہیں کھیلی چلو جلدی سے کھیلتے ہیں۔۔ التمش اسکا دھیان بٹھکانا چاہتا تھا۔۔۔۔ ویڈیو گیم کے نام ہر وہ سب بھول گیا۔ اور جلدی سے ٹیوی آن کر کے گیم ریمورٹ کے آیا۔۔۔۔
التمش مسکراتا ہوا اسکے ساتھ گیم کھلینے لگا۔۔۔۔۔ تا کہ وہ بہل جاۓ۔۔۔۔۔۔۔


ماجد ساری رات حویلی نہیں آیا تھا۔ نا جانے وہ کہاں تھا۔ نائلہ کو صبح کے وقت ہوش آیا۔ زویا پاس ہی صوفے پر آڑھی ترچھی لیٹی سو رہی تھی۔۔۔۔
ہوش آنے پر سارے منظر اسکی انکھوں کے سامنے آۓ۔آنسوں پلکوں کی باڑ کو توڑ کر گال پر گڑے۔
کسی کے رونے کی آواز سے زویا کی آنکھ کھل گئی۔۔۔ سامنے بیڈ سے ٹیک لگا کر بیٹھی عائلہ پر نظر پڑی۔ جو چہرہ گھٹنوں پر جھکاے رو رہی تھی۔۔۔وہ جلدی سے اُٹھ کر اس تک آئی۔۔۔
عائلہ آپی اپ ٹھیک ہیں۔ شکر خدا کا آپ کو ہوش آ گیا۔۔ زویا اسکے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولی۔۔۔عائلہ نے اپنا چہرہ اوپر کیا ۔۔۔ رو رو کر اسکی انکھیں سرخ ہو گئیں تھیں۔زویا نے اگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔ وہ جی بھر کر رو دی۔ کچھ پل بعد جب وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگی تو علحیدہ ہوئی۔۔۔ زویا نے پانی کا گلاس پکڑایا۔۔۔۔
تم ساری رات یہی رہی؟ عائلہ نے اسکی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔
ہاں وہ آپ کی طبعیت بہت خراب تھی۔ اسی لیے۔۔۔۔۔۔۔
طبعیت ہنہہہہ پتہ نہیں میں بچ کیوں گئی۔۔ مجھے تو لگا جتنا اسے نے مارا ہے۔ موت تو ضرور آۓ گئی۔۔پر میں تو بدقسمت ہوں مجھے بھلا اتنی آسانی سے موت کیسے آۓ گئی۔ عائلہ اپنے ہاتھ دیکھتے ہوۓ بولی جہاں پر خراشیں تھیں۔۔۔
اللہ نا کرے آپ کو کچھ ہو۔۔اور کسی کے لیے بھلے نا سہی پر اپنے بچوں کے لیے تو آپ کو زندہ رہنا ہو گا۔زویا اسے ہمت دیتے ہوۓ بولی۔۔۔
زویا! کیا ان ہاتھ کی لکیروں میں اپنے شوہر کے ساتھ ایک پل کی خوشی نہیں لکھی۔۔کیا عزت نہیں لکھی۔۔ وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
اپی ایسی مت کہیں۔ اللہ اپ کو بہت خوشیاں دے گا۔۔اس سے اچھے کی امید کریں۔۔
نہیں زویا! یہ تو ساری زندگی کے رونے ہیں۔ جب بھی کسی بات پر غصہ ہوتا ہے۔ آتا ہے اور مجھے مارتا ہے۔۔ لعنت ملامت کرتا ہے۔۔کہتا ہے تم میری نہیں میری ماں کی پسند ہو۔ ارے جب پسند نہیں تھی تو شادی کیوں کی۔ میری زندگی کیوں جہم بنائی۔۔۔۔ عائلہ اپنا سر پکڑتے ہوۓ بولی۔۔۔
کیا وہ شروع سے آپ کو مارتے تھے؟ زویا نے حیرت سے پوچھا۔۔۔۔
ہممم کبھی چہرے پر تھپر تو کبھی بلیٹ سے مارنا ۔ پہلے مارتا تھا پر اتنا نہیں کل زیادہ مارا۔۔ کیوںکہ میں نے اسکے منہ پر تھوکا۔ کل میں نے اسے اسکی معشوقہ کے طعنے دے۔ قاتل کہا۔۔ اسے لیے اتنا مارا۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔
زویا کو اسکی مسکراہٹ میں درد چھپا نظر آیا۔۔۔۔
اب اپ کیا کریں گئی؟
میں کیا کر سکتی ہوں۔ اپنے غریب ماں باپ پر بوجھ تو نہیں بن سکتی۔ نا اپنے بچوں سے ان کی چھت چھین سکتی ہوں۔ یہی رہوں گئی۔ اب میری یہی زندگی ہے۔ وہ لمبا سانس لے کر بولیں۔۔
میں اپ کے لیے کچھ کھانے کو لے کر آتی ہوں۔ پھر دوائی کھا لیجیے گا۔۔وہ بول کر اُٹھی اور تھکے قدموں کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔


مجھے تم سب کو کچھ بتانا ہے۔ سلطان صاحب ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے سبھی گھروالوں سے مخاطب ہوۓ۔
جی ڈیڈ بولیں۔ سِراج ملک بولا۔۔۔
آج شام میرے چاچا بختاور شاہ اپنے پوتے کے ساتھ ملنے آ رہے ہیں۔ سلطان صاحب چاۓ کا سپ لیتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
چاچا لیکن ہم نے تو کبھی نہیں۔ سنا کہ آپ کے کوئی چاچا بھی ہیں ہم پہلے تو ان سے نہیں ملے۔۔۔ سراج نے حیرانگی سے کہا۔۔۔۔
تھوڑی ناراضغی تھی۔۔کچھ مہینوں پہلے ہی
سب ٹھیک ہوا ہے۔۔حازم اور میں تو ان کے گھر بھی گے تھے۔ حمیدہ بیگم رات کے کھانے کی بیت اچھی تیاری کر لینا۔ مجھے سب پرفیکٹ چاہیے۔ سلطان صاحب بول کر اُٹھ گے۔۔۔۔۔۔۔
سِراج تحوڑی دیر تک تم میرے ساتھ سائیٹ پر چلو گے۔۔۔ مجھے تم سے کچھ ضروری بات بھی کرنی ہے۔۔۔۔ حازم بھی بول کر اُٹھ گیا۔۔اور اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔
میں میڈیز کو بول دوں۔ اچھی سی صفائی کر لیں۔ پھر کھانے کی تیاری بھی کروانی ہے۔۔حمیدہ بیگم اُٹھ کر کچن کی طرف بڑھی۔۔۔
سیرت،منت تم دونون نے سنا ڈیڈ نے بولا۔۔ بختاور شاہ اور اس کا پوتا آ رہے ہیں؟ سراج سوچتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
بھائی ہم بھی یہی بیٹھے ہوۓ تھے۔۔ہم نے سنا ہے۔۔ سیرت ہنستے ہوے بولی۔۔۔
ارے نہیں مین تو یہ سوچ رہا ہوں۔ اگر ڈیڈ کے چاچو شاہ خاندان سے ہیں۔ تو ہمارے نام کے اگے ملک کیوں لگتا ہے۔ وہ الجھن بھرے انداز مین بولا۔۔۔۔۔
بھائی زیادہ سوچ رہے ہو۔۔ جاؤ تیار ہو جاؤ۔ ورنہ حازم بھائی کی ڈانٹ سننی پڑے گئی۔۔۔ منت نے اسے یاد دلوایا۔۔۔۔۔
ارے ہاں چلو باۓ۔ وہ جلدی سے اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔۔۔


جی بھائی کیا بات کرنی تھی ۔وہ دونوں ساییٹ پر پہنچ گے تھے۔۔۔ جب سراج حازم سے مخاطب ہوا۔۔۔
تم آج کل کس لڑکی کے ساتھ مل رہے ہو؟ حازم نے ٹو دا پوائینٹ بات کی۔۔۔۔۔
کیا لڑکی نہیں۔۔۔۔۔ سراج پوں آچانک ہوچھے جانے پر ہچکچایا۔۔۔۔۔
سراج جھوٹ نہیں۔ سچ بتاؤ حازم سخت لہجے مین بولا۔۔۔۔
وہ بھائی اہممم وہ اریشہ ہے۔ یہی کالج میں پڑھتی ہے۔ گاؤں کی ہے۔ سراج گلا صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
گاؤں کی کون سے گاؤن کی اور کس خاندان کی۔۔۔ حازم فوراً بولا ۔۔۔
اسکے دادا کا نام شائد جہانگیر خان ہے۔ اعر ایک بھائی کا نام التمش خان یے۔اسکے علاوہ مجھے یاد نہیں سراج گردن جھکاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
حازم ایک پل کے لیے شاک ہو گیا۔۔۔۔کچھ سوچ کر وہ مسکرایا۔۔۔۔۔
ہمممم کیا ہوا اتنی ٹینشن مین کیوں آگے ہو۔ فکر مت کرو۔ بہت جلد ہم رشتہ لے کر جائیں گے۔۔۔۔ حازم اسے ریلیکس کرواتے ہوۓ بولا۔۔۔سراج مسکرا دیا۔۔۔۔۔
جہانگیر خان التمش خان ہاہاہاہا اب آۓ گا مزہ۔ سب کے سامنے بری عزت کی باتیں کرتے ہو۔ اب ساری عزت نکل جاۓ گئی۔۔۔ برا آیا پردے میں رکھنے والا۔۔۔ وہ سامنے دیکھتے سوچ کر ہنسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔