Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

پچھلی پوری رات مختلف سوچوں میں گزری۔ایک فیصلہ کر کے وہ ناشتے کی ٹیبل کی طرف بڑھا۔آج جو وہ کرنے جا رہا تھا۔ وہ شائد اس حویلی کی برسوں پہلے کی روایات کو توڑنے کے لیے کافی تھا۔۔وہ پروقار چال چلتا ٹیبل کی طرف بڑھا۔۔
صبح بخیر! وہ اونچی آواز میں بولا۔۔ جہانگیر خان کل کے واقعہ کی وجہ سے ابھی بھی التمش سے ناراض تھے۔ انہیں اسکا اسطرح بحث کرنا بالکل پسند نہیں آیا تھا۔وہ آرام سے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔۔۔حویلی کی خواتین سب مردوں کو ناشتہ پروس رہیں تھیں۔
اماں اریشہ کہاں ہے؟ اسے بلائیں۔ التمش پراٹھے کا ایک لقمہ منہ میں رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔
جاؤ چھوٹی بی بی کو بلا کر لاؤ۔ صائمہ بیگم نے نجمہ کو حکم دیا۔ اگلے ہی پل وہ بھاگ کر اریشہ کے کمرے میں آئی۔اور اگلے دو منٹ میں اریشہ اپنا ڈوپٹہ سھنمبال کر نیچے آتی دیکھائی دی۔۔۔
جی لالا! وہ اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔۔
اریشہ جاؤ پانچ منٹ کے اندر اندر برقع پہن کر اور اپنے سارے ڈاکومینٹس لے کر آ جاؤ۔ ہم تھوڑی ہی دیر میں نکلے والے ہیں۔ وہ برے آرام سے بولا۔۔۔۔اریشہ کے ساتھ ساتھ باقی سب بھی حیرانگی سے اس کے کہے کا سمجھنے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا؟ کہاں جانا ہے۔ خالد صاحب سخت لہجے میں بولے۔۔۔
ابا ڈاکومینٹس بولا ہے تو مطلب تو صاف ہے کہ کالج میں داخلہ کروانے لے کر جا رہا ہوں۔ وہ ایسے بولا جیسے یہ کوئی عام بات ہو۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ آج تک اس گاؤں کی تو کیا حویلی کی بھی لڑکی کالج نہیں گئی۔۔
بالکل ٹھیک کہا۔ لالا آج تک نہیں گئی تھی۔ پر آج سے جائیں گئی۔۔ بالکہ اریشہ کے ساتھ ساتھ میں ماہ رخ کا بھی ایڈمیشن کرواؤں گا۔۔ وہ سوچتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
میں اس بات کی بالکل اجازت نہیں دیتا میری جوان جہاں بہنیں دور شہر میں جا کر پڑھیں۔ اور ویسے بھی پڑھ کر کرنا کیا ہے۔کوئی نوکری تو کرنی نہیں تو کیا تق بنتی ہے پڑھنے گئی۔۔۔ماجد کرسی سے کھڑے ہوتے ہوے بولا۔۔۔۔
بالکل ٹھیک کہا نوکری نہیں کرنی۔ پر زندگی تو گزارنی ہے۔ اور ویسے بھی اریشہ ایک ٹاپر ہے۔ اس کا دل ہی پڑھنے کو تو پھر روکنے کی ضرورت ہی نہین وہ مظبوط لہجے میں بولا جو کہ اس کی شخصیت کا حصہ تھا۔
ایک بار میں بات سمجھ نہیں آتی۔۔۔۔ماجد غصےسے ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولا۔۔
شائد آپ کو بھی میری بات ایک دفعہ میں سمجھ نہیں آئی۔میں فیصلہ کر چکا ہوں۔ میری بہنیں پڑھیں گئی۔ اور میں پڑھاؤں گا۔ وہ بھی اسی انداز سے بولا۔۔۔سب پریشان سے ان دونوں کو دیکھنے لگے۔۔۔اریشہ کے ہاتھ پاؤں کانپے لگ گے۔ دور کیچن کے دروازے میں کھڑی زویا آج اپنی پہلی کامیابی پر مسکرا دی۔۔۔
چپ کرو تم دونوں کب سے تم دونوں کی بکواس سن رہا ہوں۔ اور التمش تم میری ایک بات کان کھول کر سن لو۔ آج تک اس حویلی کی روایات کو کسی نے نہیں توڑا۔ تو تم بھی نا توڑو تو اچھا ہے۔ جہانگیر خان غصے سے اپنی سربراہی کرسی سے اُٹھ کھرے ہوۓ۔
ہنہہ کبھی نہیں توڑی۔ دادا جان شائد آپ یہ بھول رہے ہیں کہ آپ نے یہ روایات توڑی ہے کہ نہیں۔۔وہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بولا ۔۔انہوں نے انکھیں پھیر لیں۔۔۔
آنکھیں پھیر لینے سے سچ نہیں بدل جاۓ گا۔۔ اگر تب یہ سو کولڈ روایات ٹوٹی تھیں تو آج بھی ٹوٹ سکتی ہیں۔۔
تو تم یہ بھی مت بھولو اس کے بعد کیا ہوا تھا۔ تب میں اُسکے لیے کھڑا ہوا تھا بلکل تمہاری طرح۔ آج تک اپنے غلط فیصلے پر پچھتا رہا ہوں۔ خالد صاحب کی آواز گھونجی۔
خیر جو بھی ہو۔ یہ میرا فیصلہ ہے۔ میری بہن نے مجھ سے کچھ مانگا تھا۔میں اسکابھائی ہوں یہ میرا فرض بنتا ہے۔ میری بہن جو مانگے اسے دوں۔ التمش نے کہتے ہوۓ دور کھڑی زویا پر ایک نظر ڈالی۔ جو کہ ہلکا سا مسکرا رہی تھی۔ فوراً اسنے نظریں پھیر لیں۔
ٹھیک ہے میں مان جاؤں گا۔ اگر آج شام کو اریشہ کا نکاح شمش سے ہو جاۓ۔ پھر تم اسے کسی بھی کالج میں داخلہ دلوا سکتے ہو۔۔۔جہانگیر خان نے ایک اور پاسہ پھینکا۔۔۔وہ جانتے تھے اب التمش اپنی بات سے ہٹنے والا نہیں۔
اریشہ کے پاؤں ایک دم لڑکھڑاۓ۔ وہ بے یقینی سے سامنے کھڑے جہانگیر خان کو دیکھ رہی تھی۔ جو بہت ہی آرام سے اس کے خوابوں کا خون کر رہے تھے۔۔۔۔وہ سِراج سے بے انتہا محبت کرتی تھی۔ کسی اور کے نکاح میں آنا زندگی اور موت کا سوال تھا۔۔۔اپنی پڑھائی کو پورا کرنے کے لیے وہ اتنی بری قربانی نہیں دے سکتی تھی۔۔۔۔۔
لو جی یہاں بھی نہیں بخشا۔ زویا نے طنزیہ انداز میں کہا۔۔۔۔اریشہ نے التمش کی طرف دیکھا۔جو کہ سپاٹ چہرے سے جہانگیر خان کو دیکھ رہا تھا۔۔جو ایسے مسکرا رہے تھے۔جیسے آج پھر وہ اپنی بازی چیتنے والے ہوں۔
مجھے اپنی بہن پر یقین ہے۔ خود سے بھی بڑھ کر بھروسہ کرتا ہوں۔۔اسے آپ کی شرطوں کی بھیٹ نہیں چڑنے دوں گا۔وہ جب بولا تو سب کے سب سن ہو گے۔۔۔انہیں یہ تھا کہ التمش مان جاۓ گا۔۔اریشہ کی جان میں جان آئی۔۔۔۔
مطلب تم اپنی ضد سے نہیں ہٹو گے۔۔ خالد صاحب بولے۔۔
جی بالکل بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
کل کلاں کو اگر اس نے بھی وہی کیا جو سالوں پہلے
اس نے کیا تھا۔ تو اپنا چہرہ چھاپنے کے لیے چھت ڈھونڈ لینا۔۔۔۔۔جہانگیر خان کی آواز گھونجی۔۔۔۔
اگر کل کو اریشہ نے کچھ ایسا ویسا کیا تو التمش خان کا وعدہ ہے وہ اس حویلی میں دوبارہ قدم نہیں رکھے گا۔ وہ مظبوط لہجے میں بولا۔جیسے سن کر سب کے سب چپ کر گے۔۔۔
ٹھیک ہے التمش خان اب اپنی زبان پر قائم رہنا۔۔۔۔۔وہ بول کر وہاں سے نکل گے۔۔۔۔۔
اگر اسنے ایسا ویسا کچھ کیا تو اس کا گلا میں خود کاٹوں گا۔۔پھر تم بھی مجھے نہیں روک پاؤ گے۔۔۔۔۔ماجد جاتے جاتے رک کر التمش کے قریب آ کر بولا۔۔۔اور پلٹ گیا۔۔۔۔۔یہ الفاظ اریشہ نے بھی سنے۔۔۔۔۔
شکریہ لالا اریشہ روتے ہوۓ التمش کے سینے سے لگ گئی۔۔
تمہیں کیا لگا تمہارے لالا یہ خواہش پوری نہیں کریں گے۔۔۔ویسے بھی کسی نے کہا تھا۔ بہنوں کی خواہشں بھایی نہیں پوری کریں گے تو اور کون کرے گا۔۔ وہ دوبارہ سے اسے دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔زویا سن چکی تھی۔وہ ایک دم پلٹ گئی۔۔۔۔
کیا لالا اس کا بھیج دو مجھے نہیں جانا۔اچھی خاصی جان چھوٹی تھی۔ پھر سے پڑھنا پڑے گا۔ ماہ رخ منہ بنا کر بولی۔۔۔۔۔
بالکل بھی نہیں جب اس حویلی کی ایک لڑکی کالج جا سکتی ہے تو دوسری کیوں نہیں۔ اور تم اب دھیان سے پڑھنا۔اپنے لالا کو مایوس مت کرنا التمش ماہ رخ کے بال کھینچتے ہوے بولا۔۔۔۔وہ چیخی۔۔۔
چلو جلدی سے دونوں ڈاکومینٹس لے کر آؤ۔تم دونوں کے پاس دس منٹ ہیں جلدی سے آؤ۔ وہ اپنی گھڑی کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔دونوں سر ہلا کر اوپر کو بھاگئیں۔۔۔۔


ملک حازم تم یہاں کیا کر رہے ہو۔ ماجد ڈیرے پر زمینیں دیکھے آیا تھا۔ اب تو دوپہر کے تین بج چکے تھے۔۔۔وہ بس جانے ہی والا تھا کہ جب سامنے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگاۓ حازم پر نظر پڑی۔ جو سامنے زمین کو دیکھ رہا تھا۔
ارے ماجد خان تم وہ حیرانگی سے بولا۔۔۔اور پھر دونوں گلے لگے۔۔۔اس دن کے بعد ان کی ملاقات آج ہو رہی تھی۔پر دونوں موبائل پر رابطے میں تھے۔۔۔
ہاں وہ بس میں یہاں زمین دیکھنے آیا تھا۔ اصل میں ایک پراوجیکٹ شروع کرنا ہے۔ تو اسی سلسلے میں کافی گاؤں کی زمینں دیکھ رہا ہوں۔پر اس گاؤں کی زمینوں میں اور ہی بات ہے۔ وہ ارد گرد نظر دوڑا کر بولا۔۔۔۔
ہاں ہمارے گاؤں کی زمینیں بہت اچھی ہیں۔خیر باتیں تو ہوتی رہیں گے۔۔چلو تمہیں اپنے دادا حضور سے ملواتا ہوں۔انہیں تمہارے جیسے محنتی انسان بہت پسند ہیں۔ وہ مسکراتے ہوے بولا۔۔۔اور پھر دونوں حویلی کی طرف روانہ ہو گے۔۔۔۔
گاڑی حویلی کے اندر داخل ہوئی۔۔۔۔حازم اتنی بری حویلی دیکھ کر بالکل حیران نہیں ہوا تھا۔حویلی کو دیکھتے ہی اس کی آنکھوں کی سرخی بڑھ گئی۔۔اس نے جلدی سے گلاسس چڑھا لیے۔۔۔۔ ماجداسے لیے مردان خانہ میں داخل ہوا۔۔
دادا جان یہ میرا دوست ہے حازم ملک کچھ دن پہلے ہی شہر میں ملاقات ہوئی۔ اج بھی یونہی آچانک مل گیا۔۔۔گاؤں کی زمین پسند آ گئی۔ کوئی بہت برا پروجیکٹ بنانے والا ہے۔۔ماجد خوش ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔
ارے واہ اچھ بات ہے کیسے ہو بیٹا۔ جہانگیر خان خود اُٹھ کر اسے ملے۔۔۔۔۔۔
جی بالکل ٹھیک ہوں۔ وہ جبرانً مسکرا کر بولا۔۔۔
بیٹھو بیٹھو رفاقت صاحب نے بولا تو وہ مسکرا کر جوتا اُتارتا بیٹھ گیا۔۔۔
ہاں تو بچے کون سا پراجیکٹ کرنے والے ہو۔۔۔جہانگیر خان بولے۔۔۔۔۔
جی وہ اصل میں ہماری کمپنی ایک بہت بری فیکٹری کھولنے کا پلین بنا رہی ہے۔ اور وہ فیکٹری گاؤں میں لگے گئی۔ تا کہ گاؤں کے مزدور بھی اس مین کام کر سکیں۔ کمپنی نے کافی گاؤں کا سروے کیا۔ تو دو چار گاؤں نکلے جہاں کے کافی لوگ شہر میں جا کر کماتے ہیں۔ ہم بس ان کی سہولت کے لیے گاؤں مین ہی فیکٹری بنا رہے ہیں۔تاکہ وہ باہر جا کر کام نا کریں۔ باکہ۔ یہی رہ کر کام کریں اور پیسے بھی کمائیں۔۔ وہ بول رہا تھا۔اور سب اسے غورسے سن رہے تھے۔۔۔
یہ فیکٹری کس چیز کی ہے؟ سہیل صاحب بولے۔
جی بیسکلی یہ فیکٹری کپڑا بنانے کی ہے۔ اس کے لیے مجھے کچھ زمین خریدنی ہیں۔ مجھے اپ کے گاؤں کی زمین اچھی لگی۔ آپ اجازت دیں تو ہم جلد ہی کام شروع کر سکتے ہیں۔
بالکل یہ تو اچھی بات ہے۔ بیٹے تم جتنی چاہے زمین لے سکتے ہو۔۔۔ جہانگیر جان مسکرا کر بولے۔۔۔۔پھر وہ آپس میں باتیں کرنے لگ گے۔۔۔۔۔
کل والا لڑکا دوبارہ سے حویلی کے اندر گیا۔۔ اور کل والا ہی پیغام دیا۔۔۔۔جیسے سن کر زویا کو بہت غصہ آیا۔۔۔۔التمش تو ماہ نور اور اریشہ کو لے کر شہر گیا ہوا تھا۔۔کسی نےاسے جانے سے نہیں روکا۔۔وہ چاۓ بنا کر مردان خانہ کی جانب بڑھی۔۔۔
لگتا ہے کل کی باتیں بھول گے ہیں اسے لیے آج بھی بلا لیا۔۔ وہ چاۓ کی ٹرے لے کر اندر آئی۔۔۔۔
جہانگیر خان پہلو بدل کے رہ گے۔ حازم نے آواز سن کر نظریں اوپر اُٹھائیں اور پھر جھپکانا ہی بھول گیا۔ زویا نے بنا کسی کی طرف دیکھے چاۓ کی ٹرے ٹیبل پر رکھی اور ایک ایک کر کے سب کو پکڑانے لگی۔ چاۓ کا کپ لے کر وہ حازم کی طرف بڑھی۔۔کپ پکڑاتے اس نے نظریں اُٹھا کر دیکھا۔وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔ جو کہ مسکرا کر کپ پکڑ رہا تھا۔۔ زویا ٹکٹکی باندھ کر اسے دیکھ رہی تھی جب اسنے آئی برو اچکاۓ۔ وہ ایک دم ہوش مین آئی۔ اور پلٹ کر کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔
چلیں جہانگیر صاحب آپ سے ملاقات بہت اچھی رہی کافی دیر ہو گئی ہے مین اب چلتا ہوں کل زمین فائینل کرنے آؤں گا۔۔وہ چاۓ کا کپ سائیڈ پر رکھتا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔
مل کر وہ اور ماجد باہر نکل آۓ۔۔۔وہ چلتا ہوا اپنی گاڑی کے قریب آیا۔۔۔
یار یہ گاڑی میں اتنا کچڑا پڑا ہوا ہے۔۔میں ڈسٹ بین میں ہھینک دیتا ہوں۔وہ گاڑی میں سے دو بیلک کلر کے شاپر نکال کر بولا۔۔۔
ہاں وہاں ڈسٹ بین ہے وہاں پھینک دو۔۔۔۔ماجد نے بتایا۔۔اور اپنے فون پر لگ گیا۔۔۔حازم نے وہ شاپر اس ڈسٹ بین میں پھینکے۔۔ اور واپس گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔ماجد سے مل کر وہ گاڑی مین بیٹھا اور گاڑی کو حویلی سے باہر نکالا۔۔۔۔۔اور سڑک پر ڈال دی۔۔۔۔۔آج وہ بہت خوش تھا۔۔۔اور یہ خوشی اسکے چہرے سے دیکھ رہی تھی۔۔ماجد دوبارہ مردان خانے میں چلا گیا۔۔۔۔۔۔
زویا جو کب سے چھپ کر یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔کسی کو بھی آس پاس نا دیکھ کر وہ بھاگی اور اس ڈسٹ بین کے پاس جا کر رکی۔۔۔اس کو کھول کر اس میں سے ایک شاپر نکالا۔ اور اسے اپنی بری سی چادر کے پیچھے چھپا کر وہ اندر کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔وہ سیدھی اپنے کمرے میں آئی اور وہ شاپر وہاں پر پڑی الماری میں چھپا دیا۔۔اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر نارمل ہو کر وہ کمرے سے نکل آئی۔۔۔۔۔۔۔


وہ دونوں کا ایڈمیشن کروا کر اب رات کو بارہ بجے واپس آ رہا تھا۔۔ پیچھے اریشہ اور ماہ رخ مزے سے سو رہیں تھی۔۔۔
اسکی سوچوں کا رخ زویا پر تھا۔۔ چاہ کر بھی وہ ان سوچوں سے پیچھا نہین چھڑا سکتا تھا۔۔۔۔انہی سوچون کے چلتے وہ حویلی پہنچ گیا۔۔۔۔اریشہ اور ماہ نور تو جلدی سے اپنے کمروں میں جا کر سو گئیں۔
وہ ڈاکومینٹس فائل پکڑے حویلی کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوا۔۔۔زویا جو کہ ابھی ابھی برتن دھو کر فارغ ہوئی تھی۔۔ پانی کی بوتل لیے وہ اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی۔ التمش کو اندر داخل ہوتا دیکھ وہ رک گئی۔وہ بھی اسے دیکھ چکا تھا۔۔۔۔۔
شکر ہے اس حویلی میں کوئی تو واقعی میں مرد ہے۔۔مرد کے نام پر دھبہ نہیں۔۔ وہ اسکے پاس آ کر بولی۔۔۔۔
یہ مت سمجھنا یہ سب میں نے تمہاری کل والی باتوں کی وجہ سے کیا۔۔یہ میں بہت پہلے ہی کرنے والا تھا بس صیح وقت نہیں ملا۔۔۔۔وہ اس کو یا شائد اپنے اپ کو بول رہا تھا۔۔۔
میں ایسا بولا کہ آپ نے یہ سب میری وجہ سے کیا۔ یا میری باتوں سے انفلوئینس ہو کر کیا۔۔۔۔ وہ آنکھیں مٹکاتے ہوئی بولی۔۔۔۔
اسکی یہ ادا اس کے دل کو بھا گئی۔۔وہ بے دھیانی میں اسے دیکھے گیا۔۔
مسٹر خان اپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ چاہیں تو اس حویلی ک نقشہ بدل سکتے ہیں۔ لیکن بات وہی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو۔۔ وہ بول کر پلٹ گئی۔۔۔۔۔۔وہ ہمیشہ ہی اپنے لفظوں کی چھاپ اسکے گرد چھور جاتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔التمش نے اپنا سر جھٹکا اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔