Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Hasrat E Dil

By Fatima Tariq

اسے سوۓ ہوۓ ابھی کچھ ہی گھنٹے ہوۓ تھے جب اچانک گھبڑاہٹ کی وجہ سے آنکھ کھل گئی۔۔۔۔ بیڈ پر اُٹھ کر بیٹھا اور پانی پینے لگا۔۔۔۔
ااتنی گھبراہٹ کیوں ہو رہی ہے۔۔۔۔وہ اُٹھ کر بالکنی کا دروازہ کھول کر باہر آ گیا۔۔۔۔کھلی فضا میں سانس لی۔۔۔۔۔تو تھوری راحت ہوئی تو نظر سامنے زور شور سے سے ہوتی ہوئی بارش پر گئی۔۔۔۔ٹھنڈ کا احساس ہوا تو وہ پلٹ کر دروازہ بند کرتا اندر کمرے میں واپس آیا۔۔۔۔۔لائیٹ آن کی تو سامنے نظر کلاک پر گئی۔۔۔جہاں ہر سوئی پونے ایک پر تھی۔۔۔
او شیٹ اتنے گھنٹے ہو گے۔۔۔وہ وہ تو اوپر بند ہے اور بارش۔۔۔۔۔او شیٹ وہ جلدی سے باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔۔جلدی سے اوپر چھت پر آیا۔۔۔۔
دوازہ کھول کر ادھر اُدھر دیکھا تو سامنے شیڈ کے نیچے بے یوش وجود ہر نظر پڑی۔۔۔۔وہ بھاگتا ہوا اس تک آیا۔۔۔اور جلدی سے اس کا سر اپنی گود میں لیا۔۔۔۔
زویا زویا۔۔۔۔۔اُٹھو۔۔۔۔وہ اس کے چہرے پر ہلکا سا ہاتھ مارتے ہوے بولا۔۔۔ وہ ہلکا سا کسمسائی۔۔۔۔۔۔۔
التمش نے اسے بازوں میں بڑھا اور نیچے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔دونوں فل بھیگ چکے تھے۔۔۔۔۔وہ سے لیتے ہوۓ سیدھا اس کے کمرے میں آیا۔۔۔۔شد شکر حویلی میں کوئی نہیں جگا تھا۔۔۔۔۔۔
دروازہ کھولا تھا۔۔۔ اس نے جلدی سے اسے بیڈ ہر لٹایا۔۔۔بی جان جن کی ابھی ابھی آنکھ لگی تھی کمرے میں شور کی وجہ سے اُٹھ گئیں۔۔۔۔۔
چھوٹے سائیں۔ اپ اور یہ زویا بٹیا کو کیا ہوا۔۔۔اچانک ان دونوں کو اسطرح دیکھ کر بے جا سوالات ان کے ذہین میں ابھرے۔۔۔۔
بی جی آپ جلدی سے زویا کے کپڑے بدلیں۔ میں آتا ہوں۔ وہ کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔۔۔۔۔اپنے کمرے میں آیا جلدی سے کپرے تبدیل کیےاور ہاتھ میں چھوٹا سا ہیٹر اور ایک کمبل لیے وہ ان کے کمرے میں آیا۔۔۔۔۔
سامنے بی جان نے اس کے کپڑے تبدیل کر کے اس پر پتلا سا کمبل دے دیا تھا۔۔۔۔۔۔
التمش نے جلدی سے ہاتھ میں پکڑا کمبل اس پر اُڑایا۔۔۔اور ہیٹر ایک طرف لگایا۔۔
بی جان اس وقت میں ڈاکٹر نہیں بلا سکتا۔۔۔۔آپ بتائیں اسے اس حالت میں کیا دین جس سے طبعیت سھنمبلے۔۔۔۔۔التمش اس کے پیلے پڑے چہرے کو دیکھتے ہوے بولا۔۔۔۔
سائیں زویا بٹیا بارش میں بھیگیں ہیں۔۔۔انہیں سردی لگ گئی ہے۔۔۔۔ابھی تومجں صرف ایک قہوہ بنا سکتی ہوں۔۔۔ باقی اگر ڈاکٹر آجاتا تو زیادہ بہتر تھا۔۔۔۔بی جی زویا کے ماتھے پر ہاتھ بھیرتے ہوۓ بولیں جو آگ کی طرف جل رہا تھا۔۔۔۔۔
آپ جلدی سے قہوہ بنائیں۔۔۔ساتھ میں کچھ کھانے کے لیے اور بخار کی گولیاں لائیں۔۔۔۔التمش جلدی سے بولا۔۔بی جی جلدی سے کمرے سے نکلیں جاتے وقت کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔۔اگر اس وقت التمش کو کوئی یہاں دیکھ لیتا تو حویلی میں طوفان مچ جاتا۔۔۔۔
میں کتنا برا سٹوپیڈ ہوں۔۔۔یوں بارش میں چھوڑ آیا۔۔۔۔یہ بھی نہیں سوچا اسے کچھ ہو سکتا تھا اگر میں تھوری دیر اور نا جاتا تو؟؟؟؟۔۔۔۔وہ زویا کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ بولا۔ جو آگ کی طرح دھک رہا تھااس کی نظر زویا کے جلے ہوے بازون پر پڑی۔۔۔جہاں اب چھالے بن چکے تھے۔۔۔ وہ جلدی سے اُٹھا اور بید پر آ کر اس کے پاس بیٹھا اور اس کا دوسرا بازو دیکھنے لگا۔۔۔۔جہاں سمیم سچویشن تھی۔۔۔۔ اس کے ماتھے پر بھی دو جگہ پر زخم بنے تھے۔۔۔جہاں سے سنی پلس اتر چکا تھا اس نے نظریں چرا لیں۔۔۔۔جیسے خود پر ہی شرم آ رہی تھی۔ ۔ابھی کچھ گھنٹے پہلے ہی تو سب کو برباد کرنے کا وعدہ کر کے آیا تھا۔۔اب یوں اس ی تقلیف پر خود بھی بے چین ہو گیا تھا۔۔۔سائیڈ ٹیبل سے زخموں پر لگانے ولی مرہم نکال رکر اس کے دونوں بازوں ہر لگائی۔۔۔۔
تبھی زویا کی رونے کی آواز آئی۔۔۔وہ شائد نیند بخاد اور جسم میں ہونے والے درد کی وجہ سے رو رہی تھی۔۔۔التمش کچھ کرتا اس سے پہلے بی جی ٹرے لے کر اندر آ گئیں۔۔
۔انہوں نے ٹرے ٹیبل پر رکھی اور زویا کو اُٹھانے لگیں۔۔۔جس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔۔۔۔پر بخار کی شدت کی وجہ سے دوبارہ بند کر لیں۔۔۔۔
زویا چلو اُٹھو قہوہ پیو۔۔۔التمش نے اسے کندھوں سے پکڑکر اُٹھایا۔۔۔۔زویا اپنے حواہس میں نہیں تھی۔۔وہ التمش کے سینے سے لگی بیٹھی تھی۔التمش نے اسے کندھے پر بازو پھیلا کر سیدھا بیٹھایا تھا۔۔۔۔اور اسے زبردستی قہوہ پلانے لگا۔۔۔اس کے بعد دوائی کھلائ۔۔۔۔۔
امی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھا۔۔۔۔۔۔۔ِئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ِ۔۔۔۔۔۔۔وہ بے ربت الفاظ بول رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ التمش کو کچھ نا سمجھ آیا کہ وہ کیا بول رہی تھی۔۔۔اس نے اسے بیڈپر لٹایا اور کمبل برابر کیا۔۔۔۔۔
بی جی آپ بحی سو جائیں میں یہی ہوں۔۔وہ بول کر کرسی پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔بی جی اپنی جگہ پر جا کر سو گئیں۔۔۔۔التمش وہی بیٹھا اسے دیکھاتا رہا اور بار بار بخار چیک کرنے لگا۔۔۔چار کا وقت تھا۔ اب یہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔۔۔۔التمش اُٹھ کر اس تک آیا دوبارہ سے بخار چیک کیا جو کہ اب بہت کم۔رہ گیا تھا۔۔۔۔اس نے سانس خارج کی اور کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔