No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
وہ مجھے آپ سے بات کرنی تھی۔صائمہ بیگم چاۓ کی ٹرے پکڑے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ خالد صاحب سے بولیں۔
بولو! لٹھے مار انداز تھا۔ وہ کھیتوں کا کھاتہ کھولے بیڈ پر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
وہ دراصل بات یہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔چاۓ کی ٹرے بیڈ پر رکھتے ہوۓ بولیں۔۔۔
مجھے تمہاری یہ باتوں کو طویل دینے والی عادت زہر لگتی ہے۔ جو بولنا ہے جلدی بولو۔ حساب میں ساری گڑبر ہو رہی ہے۔۔۔۔۔وہ جھنجھلا کر بولے۔۔
وہ دراصل پچھلے دو ہفتے سے اریشہ نے میری جان کھا رہی ہے۔۔کہ آپ سے بات کروں۔ وہ شہر جا کر پڑھنا چاہتی ہے۔۔۔آپ بھی جانتے ہیں وہ پڑھائی میں کتنی لائق ہے۔ میٹرک میں بھی پہلی پوزیشن لی۔ آج صبح التمش بھی بول رہا تھا۔کہ میں آپ سے بات کروں کہ اسے آجازت دے دیں۔۔۔صائمہ بیگم اپنی نظریں نیچیں کر کے جلدی جلدی بولے جا رہی تھیں۔یہ جانے بغیر کہ خالد صاحب کا چہرہ غصے کے مارے لال ہو چکا تھا۔۔۔
بس بہت کہ لیا چپ ایک دم چپ، صائمہ بیگم ابھی اور بھی بولتیں تبھی خالد صاحب نے بیڈ پر رکھی چاۓ کی ٹرے کو زمین پر پھینک دیا۔۔۔
آہ۔۔۔۔چاۓ صائمہ بیگم کے ہاتھ پر گڑھی۔۔اپنے درد کی آواز انہوں نے اندر ہی دبا لی۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو۔۔تم کیا چاہتی ہو۔میں اپنی بیٹی کو شہر جا کر پڑھنے کی آجازت دے دوں۔۔تاکہ کل کو وہ بھی وہی گل کھیلاۓ جو آج سے بیس سال پہلے اُس بے غیرت نے کھیلاۓ تھے۔۔۔۔۔ وہ غصے سے بھری لال انکھوں سے گھورتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔
آپ آپ وہ سب بھول کیوں نہیں جاتے؟ صائمہ بیگم ہمت کر کے بولیں۔
کیا بھولوں ہاں کیا بھولوں اپنے باپ کی عزت کا جنازہ بھولوں یا اپنے یقین پر لگے اس طماچے کو بھولوں۔ یا پھر اپنی ماں کا جنازہ بھولوں۔جو اس دن اُٹھا۔۔۔۔بولو کیا بھولوں۔۔۔اب تم کیا چاہتی ہو دوبارہ سے اس حویلی میں جنازہ اُٹھے۔۔۔۔وہ تلخ ماضی کو یاد کرتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
یہ مت بھولیں آپ نے بھی برے جنازے۔۔۔۔۔۔۔ صائمہ بیگم ابھی بول رہی تھیں۔کہ اپنے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے انہیں چپ کروا دیا۔۔۔۔۔
خبر دار جو تم نے دوبارہ یہ لفظ نکالے۔۔۔۔۔ تمہاری زبان گدی سے نکال لوں گا ۔۔خالد صاحب نے ان کا جبڑا زور سے پکڑتے ہوۓ وارنگ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
فلحال میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔۔یہی تمہارے لیے اچھا ہو گا۔۔۔۔ان کا چہرہ جھٹکتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
صائمہ بیگم جلدی سے اُٹھیں اور کمرے سے بایر کی طرف بھاگیں۔۔۔۔
اپنے آپ کو سھنمبال کر وہ کیچن میں آ گیں۔۔۔۔۔
اماں آپ نے ابا سے بات کر لی۔انہوں نے کیا حواب دیا۔۔۔اریشہ بھاگتی ہوئی کیچن میں آئی اور جلدی جلدی بولی۔۔۔۔۔
اریشہ اگر اپنی زندگی چاہتی ہو تو یہ سب بھول جاؤ۔۔۔اج تمہارے ابا کو پتہ چلا انہوں نے مجھے بہت ذلیل کیا۔۔۔اگر تم چاہتی ہو کہ حویلی میں کراہم نا مچے تو یہ پڑھائی کا جنون چھوڑ دو۔۔۔۔صائمہ بیگم روندھے ہوۓ لہجے میں بولیں۔۔۔۔
اماں کیا ہوا آپ رو کیوں رہی ہیں۔۔اریشہ پریشان ہو گئی۔۔۔۔۔۔
تم یہ ڈوپٹہ سر پر لیا کرو۔۔اور ابھی اپنے کمرے میں جاؤ اپنے ابا کے سامنے مت آنا۔ جاؤ الماری سیٹ کرو جو کپڑے نہیں پہننے وہ نکالو۔۔۔دائی کی بیٹی کو دینے ہیں انہوں نے اپنے آپ کو مصروف دیکھاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔۔
اریشہ اپنی ماں کے چہرے پر پڑے تھپڑ کے نشان کو دیکھ چکی تھی۔۔وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گئی۔اپنے رُکے ہوۓ آنسوں بہانے لگی۔۔۔۔
***********************************************
یہ خان حویلی تھی۔ اس حویلی کے سربراہ جہانگیر خان تھے۔۔۔جن کو سب خان بابا کہتے تھے۔۔۔۔ان کی بیوی بیس سال پہلے ہی وفات پا چکیں تھیں۔۔
ان کے چار بچے تھے۔ تین بیٹے اور ایک بیٹی۔۔۔
سب سے برے خالد صاحب جن کی شادی صائمہ بیگم سے ہوئی تھی۔۔۔ان کے چار بچے تھے۔۔۔ماجد خان جن کی شادی عائلہ سے ہوئی جن کے دو بچے حیدر اور سائرہ تھے۔
۔دوسرے نمبر پر التمش خان تھا۔پھر اریشہ اور ارسلان تھے جو دونوں ٹوینز تھے۔۔التمش اور ماجد دونوں نے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد اپنے باپ دادا کی زمینوں کو سھنمبالا ہوا تھا۔۔۔
دوسرے نمبر پر رفاقت صاحب تھے جن کی شادی آئمہ بیگم سے ہوئی تھی۔۔۔ان کے تین بچے شمس نادیہ اور ماہ رخ تھے۔۔۔۔
تیسرے نمبر پر سہیل صاحب تھے ان کی بیوی الگ خیالات کی تھیں وہ اس حویلی میں رہ نا پائیں اور طلاق لے کر چلی گئی۔۔۔اورپیچھے ایک بیٹا سعد چھوڑ گئیں۔۔اس کے بعد سہیل صاحب نے شادی نا کی۔۔۔۔
سب سے آخر پر مہوش تھیں۔۔۔۔تینوں بھائیوں کی اکلوتی بہن۔۔۔۔۔
*************************************
لالا آپ آج کل کہاں مصروف ہوتے ہیں۔ شام کے چار بج رہے تھے۔التمش اور ماجد دونوں حویلی کے پیچھے گارڈن میں کھڑے تھے۔۔جہاں سامنے نشانے بازی کا سیٹ اپ لگایا جا رہا تھا۔۔ وہ دونوں اکثر اوقات فارغ وقت میں ایسے چھوٹے موٹے مقابلے کرتے تھے۔۔۔
کیا مطلب ہے؟ یہی ہوتا ہوں۔۔۔۔ماجد اپنی گن کو نشانے پر پوائینٹ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
وہی جو آپ سمجھنا نہیں چاہتے۔ باز آجائیں۔ان سب چکروں کے بارے میں اگر ابا یا خان بابا کو پتہ چل گیا۔۔تو ان کے قہر سے آپ کو کوئی نہیں بچا سکتا۔
ٹھاہ فضا میں آواز گھونجی اور سامنے پوائینٹ پر رکھی ہوئی شیشے کی بوتل ٹوٹ کر زمین پر گڑ گئی۔۔۔۔۔
اس طرح کے شوق اس حویلی کے ہرمرد میں موجود ہیں۔ اور تمہاری اطلاع کے لیے بتا دوں۔میں کون سا اسے بیاہ کر حویلی میں لے آؤں گا۔۔بس دل لگی ہے پوری ہو جاۓ گئی تو چھوڑ دوں گا۔۔۔۔۔وہ ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔
لالا یہ مت بھولیں۔ کہ حویلی میں آپ کی ایک عدد بیوی اور دو بچے ہیں۔۔۔۔ اور کسی کا نا سہی اپنے بچوں کا ہی خیال کر لیں انہیں ہی وقت دے دیا کریں۔ التمش اپنے پوائینٹ پر رکھی بوتل کو اُڑاتے ہوۓ بولا۔۔۔
تم میرے معملوں سے دور رہا کرو۔ میں کیا کرتا ہوں۔۔۔کیا نہیں۔ تم ان سب میں مت پڑو۔۔ میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے۔اور ویسے بھی میں نے نہیں کہا تھا مجھے عائلہ جیسی بیوی دیں۔۔۔مجھے وہ آج تک پسند نہیں آئی۔۔۔خیر چھوڑو۔یہ بحث بہت لمبی چلی گئی۔۔۔۔مقابلے پر دھیان دو۔۔۔ماجد سخت پہجے میں کہ کر اپنے ٹارگٹ پر نشانہ سادھنے لگا۔۔۔۔
التمش بس سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔۔۔ کیونکہ ماجد کو سمجھانا بہت مشکل تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
*********
آج حویلی میں گہما گہمی تھی۔۔۔کیونکہ آج حویلی کے تین بیٹے یونیورسٹی سے ایک ہفتے کی چھٹیاں گزارنے آ رہے تھے۔وہ تینوں چھے مہینے بعد آ رہے تھے۔۔۔۔
سعد ڈاکٹر بن رہا تھا اس کا آخری سال تھا۔ شمس بزنس پڑھ رہا تھا۔ اور ارسلان کا انجیرنگ کا پہلا سال تھا۔۔
بھابھی میں تو شمس اور سعد کے لیے بریانی بنانے لگی ہوں۔۔۔ارسلان کو تو بریانی پسند نہیں آپ ہی بتاؤ اس کے لیے کیا بناؤ۔۔آئمہ بیگم کچن میں داخل ہوتے ہوۓ بولیں۔۔۔
میرے بچے کو تو میرے ہاتھوں کا حلوہ پسند ہے میں تو وہ بنانے لگی ہوں۔۔۔تم بریانی بنا لو۔۔۔ ساتھ میں۔۔۔۔۔۔صائمہ بیگم مینو بتانے لگیں۔۔
اس حویلی میں کھانا حویلی کی خواتین ہی بناتیں تھیں ۔۔حویلی کی صفائی کے لیے کافی ملازم تھے پر کیچن کا ہر کام گھر کی خواتین کرتی تھیں۔۔
*********************
کیا ہوا آج بری خوش دیکھائی دے رہی ہو۔ اریشہ ماہ رخ کے کمرے میں داخل ہوتے ہوۓ بولی۔۔۔
نہیں ایسی بات نہیں ہے۔ بس لالا آ رہے ہیں تو خوش ہوں۔ ویسے اس دفع کافی دیر ہو گئی۔ وہ اپنی بالوں کو سمیٹتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
اچھا جی یعنی کہ صرف بھیا آ رہے ہیں سیاں جی کی تو کوئی وُقعت ہی نہیں۔ اب سعد لالا کو بتاؤں گئی۔۔پھر پتہ چلے گا۔۔۔اریشہ شرارتی لہجے میں بولی۔۔۔۔
دفع ہو کیا بکواس کر رہی ہے۔۔۔ ماہ رخ اسے پیچھے دکھیلتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
ارے ارے شرما رہی ہو۔ ہاہاہا وہ ہنستے ہوۓ بولی۔۔۔
تجھے پتہ تو ہے۔ یہ نکاح دادا جی کے کہنے پر ہوا تھا۔۔ مجھے نہیں لگتا سعد کو میں پسند ہوں۔۔وہ پڑھا لکھا ہے۔ اچھی طرح کسی سے بات کر سکتا ہے اور میں میرے منہ سے تو کسی کے سامنے ڈھنگ سے بات بھی نہیں نکلتی۔۔ان کو تو پڑھی لکھی بیوی چاہیے ہو گی۔۔۔۔۔وہ اداس چہرے لیے بولی۔۔۔۔
اب تم دوبارہ سے احساسِ کمتری کا شکار مت ہو جانا۔۔۔۔۔۔اریشہ ہاتھ جُوڑتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔
دفع ہو۔۔۔
ارے لگتا ہے۔ وہ سب آگے۔۔۔۔۔اریشہ ابھی بولنے لگی تھی کہ باہر سے ہارن کی آواز سنائی دی۔ وہ جلدی سے کمرے سے نکل گئی۔۔۔
تم کیا جانو۔ انہوں نے تو کبھی زندگی میں مجھ سے ڈھنگ سے بات نہیں کی۔۔وہ بھی شائد حویلی کے باقی مردوں کی طرح ہیں۔اس نے اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کیا۔۔اور ڈوپٹہ سر پر لے کر کیچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
**********************
اماں میری لال چنی کدھر رہ دی ہے۔ مجھے مہندی کے لیے دیر ہو رہی ہے۔۔۔۔ ابھی وہ آمنہ چلاتی ہوئی آ جاۓ گئی۔۔۔
۔اماں۔۔۔۔۔وہ اپنے کمرے کی چھوٹی سے الماری میں گُھسے کپڑوں کو ادھر اُدھرکر کے دیکھ رہی تھی۔ساتھ میں سارے گھر میں اس کی آوازیں گھونج رہی تھیں۔۔۔۔۔
ہٹ پرے میں دیکھتی ہوں۔۔تجھے زندگی میں کبھی کوئی چیز ملی ہے۔۔۔چاہے چیز آنکھوں کے سامنے پڑی ہو۔۔۔زلیخہ بی نے سامنےایک طرف رکھی چنی پکڑ کر زویا کے ہاتھ پر رکھی۔۔۔۔
مجھے ڈھونڈنے کی کیا ضرورت ہے۔۔میری اماں جو ہے۔۔۔شکریہ۔ زویا ہنستے ہوۓ غصہ کرتی زلیخہ بی کے گلے لگ گئی۔۔۔۔۔۔
اگر تمہار لاڈ ہو گیا ہو تو چلیں۔ وہاں میرا یار پریشان ہو رہا ہو گا۔ روحان ہاتھ پر بندھی گھڑی کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
معاف کرنا لالا بس میں تیار ہوں۔وہ جلدی سے شیشے کے سامنے جا کر اپنی لال چنی سے نقاب کرنے لگی۔۔اور پھر کالی چادر اپنے ارد گرد لپیٹ لی۔
اللہ حافظ اماں زلیخہ بی سے مل کر وہ روحان کے ساتھ گھر سے باہر نکلی۔۔۔۔
ویسے لالا ایک بات تو بتائیں۔۔اب آمنہ کے بھائی کی بھی شادی ہو گئی۔آپ کب کرو گے۔۔وہ دونوں گلی سے گزرتے ہوۓ باتیں کر رہے تھے۔۔۔
میری چھوڑو پہلے تمہاری شادی کرواں گا۔پھر خود کروں گا۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولا ۔۔وہ جانتا تھا زویا شادی کے نام سے کتنا چڑتی تھی۔۔۔۔
کیا لالا آپ تو جانتے ہو میری زندگی میں بہت شادی بہت دور کی بات ہے۔۔مجھے اپنے خواب پورے کرنے ہیں۔ اور کچھ بننا ہے۔۔۔ ہاں آمنہ کو بہت شوق ہے شادی کا۔۔۔ وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
اچھی بات ہے پھر تو جلد ہی گھر بات کرنی پڑے گئی۔۔۔۔روحان اس کی شرارت کو سمجھتے ہوۓ بولا۔۔
اُو ہو۔ ۔۔ مطلب میرا شک ٹھیک تھا آپ دونوں تو برے چالو نکلے۔ میں بھی کہوں آمنہ کے آج کل گھر بہت چکر لگ رہے ہیں۔۔۔ابھی جا کر بتاتی ہوں۔۔۔آج تو مجھ سے نہیں بچے گی۔۔۔۔وہ مصنوعی غصہ دیکھاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
ہاہاہا پوچھ لینا۔۔۔۔۔مجھ سے تو وہ بات ہی نہیں کرتی ۔۔۔اللہ کرے تمہیں کچھ بتا دے۔۔۔۔روحان ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔۔
رُکو۔۔۔۔۔وہ دونوں ہنستے ہوۓ چل رہے تھے کہ پیچھے سے جیپ رُکنے کی اور کسی کے بولنے کی آواز آئی۔۔۔۔۔دونوں کے پاؤں وہی تھم گے۔۔۔۔۔۔۔
پلٹ کر دیکھا تو جیپ سے التمش نکلا۔۔ وہ چلتا ہوا ان دونوں کے پاس آیا ۔ ۔
سات بج رہے ہیں۔تم دونوں اس وقت کہاں جا رہے ہو۔۔وہ بھاری آواز میں بولا۔۔۔
زویا نے پلکیں اُٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔
وہ وہ سائیں میرے دوست کی آج مہندی ہے۔۔۔یہ میری بہن ہے۔۔ہم دونوں وہی جا رہے ہیں۔۔۔۔دس منٹ کا راستہ ہے۔ روحان جلدی جلدی بولا۔۔۔۔۔۔وہ التمش کو دیکھ کر گھبڑا گیا۔۔۔۔۔لیکن وہ اس کی باتیں کہان سن رہا تھا۔وہ تو ان حسین آنکھوں میں کھو گیا تھا ۔جو اسے پچھلے کئی دنوں سے پریشان کر رہیں تھیں۔ آج بھی وہ حویلی سے گاؤں کی طرف اسی لیے نکلا تھا کہ شائد وہ دوبارہ نظر آجاۓ۔۔۔۔اور اسے وہ نظر آ بھی گئی۔۔۔ وہ تو بس اس کی آنکھوں میں کھویا ہوا تھا۔۔۔زویا کو التمش کا اسطرح دیکھنا بالکل پسند نا آیا۔۔۔اس نے غصے سے چہرہ موڑ لیا۔۔۔
تمہیں نہیں پتہ آج کل گاؤں پر خطرہ ہے۔ دوسرے گاؤں والے بہت بڑکھے ہوۓ ہیں۔ کبھی بھی کوئی بھی حملہ کر سکتا ہے۔۔۔ اور تم جوان لڑکی کو لیے یوں نکلے ہوۓ ہو۔۔۔التمش اس کی سہرزرہ نگاہوں کے تسلس سے نکلا۔تو روحان پر بھڑکا۔۔۔۔۔
جی سائیں معاف کر دیں۔۔۔روحان گردن جھکاۓ ہوۓ بولا۔۔۔
چلو تم دونوں جیپ میں بیٹھو۔میں چھوڑ دیتا ہوں۔۔۔التمش دنوں کی طرف دیکھ کر بولا۔۔اور جیپ کی طرف مُڑا۔۔
نہیں بہت شکریہ ہم چلے جائیں گے۔۔چلو لالا زویا روحان کا ہاتھ پکڑکر بولی۔۔۔۔
تم مجھے التمش خان کو انکار کر رہی ہو ۔۔۔التمش کا اس کے انکار کرنے پر دماغ گھوم گیا۔۔۔۔
سائیں اسکی طرف سے میں چاہتا ہوں۔یہ نادان ہے۔۔۔روحان گھبڑاتے ہوتے ہاتھ جوڑ کر بولا۔۔۔
چلو بیٹھو جیپ میں۔التمش بول کر جیپ میں بیٹھا اور اسے سٹاٹ کر دیا۔۔۔۔
پر لالا زویا کو اسطرح التمش کا غضہ کرنا بالکل پسند نا آیا۔۔۔۔
چپ روحان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جیپ میں بیٹھایا۔اور خود بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
التمش نے شیشے سے اس کی غصے سے بھری آنکھوں کو دیکھا اور مسکرا دیا۔۔وہ گلی میں جیپ بھگا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ابھی وہ تھوڑی ہی دور گے تھے۔کہ ایک دم پیچھے سے فائرنگ شروع ہو گئی۔۔۔۔۔
جھک جاؤ۔۔۔۔۔۔وہ زور سے چلایا۔۔۔۔روحان اور زویا اچانک افتار میں بھوکھلا گے۔اور جلدی سے نیچے جھک گیا۔۔۔۔۔
التمش نے جلدی سے جھک کر پستول نکالی اور۔۔مڑ کر فائرنگ شروع کر دی۔۔۔پچھلی گاڑی پر تین لوگ تھے۔۔۔وہ بھی اندھا دھند فائرنگ کر رہے تھے۔۔۔۔التمش نے جیپ روکی۔۔۔۔اور نیچے اترا۔۔۔۔
لو یہ تو خود مرنے کے لیے نیچے اتر آیا۔۔۔۔وہاں سے ایک آدمی ہنستے ہوۓ بولا۔۔
اس پستول کا سہارا چھوڑ۔ ناظم شاہ اگر ہمت ہے تو مرد کی طرح مقابلہ کر التمش نے اپنی پستول پھینک دی۔اور چلیجنگ انداز میں بولا۔۔۔روحان بھی التمش کے ساتھ آ کر کھڑا ہوا۔۔۔
او ہو۔۔۔۔۔۔۔بچہ برا ہو گیا ہے۔۔۔۔ناظم ہنستے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔اور وہ بھی نیچے اتر کر التمش کے سامنے آگیا۔۔۔ساتھ میں اس کے دو آدمی بھی آگے۔۔۔۔۔
بچہ تو تُو ہے جو چھپ کر پیٹھ پر وار کرتا ہے۔۔۔التمش خان تو اپنے دشمن پر بھی سامنے سے وار کرتا ہے ۔۔۔۔التمش طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
اُ ہو۔۔۔۔بری جوانی آئی ہے۔۔۔واہ لڑکی بھی رکھی ہوئی ہے۔۔۔ناظم شاہ اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ زویا کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔زویا تو اتنی افتار پر بھوکھلا ہی گئی۔ اس نے زندگی میں کبھی بھی اسطرح کی سچویشن کا سامنا نہیں کیا تھا۔۔۔۔وہ آنکھوں میں خوف لیے اپنی چادر کو مضبوطی سے اپنے گرد لپیٹنے لگی۔۔۔۔۔
سالے۔۔۔۔۔وہ میرے گاؤں کی عزت ہے۔۔۔اور تو اسے چھو تو کیا آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔۔۔۔التمش جب کب سے اس کی بکواس سن رہا تھا۔ ۔۔اس کو زویا کی طرف بڑھتے دیکھ کر فوراً اس کو گردن سے پکڑکر ہیچھے کھینچا۔۔۔اور اس کے منہ پر مکہ مارتے ہوۓ بولا۔ ۔۔۔۔۔
اس کے ہاتھ اُٹھانے کی باری تھی کہ باقی کے دو آدمی بھی التمش کی طرف بڑھے۔۔۔۔روحان فوراً آگے بڑھا اور التمش کو مارنے والے آدمی کے منہ پر مکہ مار کر اسے پیچھے کی طرف دھکہ دیا۔۔۔۔دوسری طرف التمش اور ناظم دونوں ایک دوسرے کو بری طرح مار رہے تھے۔۔۔۔۔
زویا خوف سے کانپ رہی تھی۔۔۔آنسوں نکل کراس کے نقاب کو بھیگو رہے تھے۔۔۔۔
روحان جس ادمی سے لڑ رہا تھا۔اس نے روحان کے منہ پر مُکہ مارا اور ساتھ ہی اس کے پیٹ میں لات ماری روحان سھمنبل نا پایا اور دور جا گِڑا۔۔۔
لالا زویا زور سے چلائی۔۔اور جیپ سے نکل کر اس کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔
لالا آپ ٹھیک ہو۔۔روحان کو ہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
تمہارا دماغ خراب ہے۔جاؤ جیپ میں بیٹھو۔۔ التمش ناظم کو بری طرح مارتے ہوۓ زویا پر چلایا۔۔۔۔
زویا اس کے اسطرح چلانے پر پہلی بار ڈری۔۔۔۔جلدی سے بھاگ کر وہ جیپ میں بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔
ابھی اور لڑائی ہوتی۔کہ التمش کے ساتھ وہاں ہر پہنچ گے ۔۔۔ان کو دیکھ کر ناظم نے التمش کو زور سے دھکہ دیا۔۔وہ زمین ہر گڑ گیا ۔۔۔۔۔ناظم چلاتا ہوا اپنے آدمیوں کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ کر بھاگ گیا
سائیں آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔روحان جلدی سے التمش کی طرف بڑھا۔ جو کھڑا ہو کر اپنے ہونٹ سے نکلا خون صاف کر رہا تھا۔۔۔۔۔التمش کے آدمی بھاگ کر اسکی طرف آۓ۔ ۔۔۔
تم سب کہاں مڑ گے تھے۔۔جب وہ سالا گاؤں میں داخل ہوا۔۔۔گاؤں کی جگہ جگہ پر رکھوالی کرو۔۔۔۔کوئی پرندہ بھی پر نا مار سکے۔۔۔جاؤ پورے گاؤں میں پھیل جاؤ۔۔۔۔وہ اپنے آدمیوں ہر چلایا۔۔۔۔۔ سب کے سب اگلے ایک منٹ غائب ہو گے۔۔۔۔۔
جیپ میں بیٹھو۔۔۔وہ کہتا ہوا جیپ کی طرف بڑھا۔۔۔اس کی نظر روتی ہوئی زویا پر پڑی۔۔۔۔
سب ٹھیک ہے۔۔۔۔وہ بس اتنا بول کر جیپ میں بیٹھا۔۔۔۔اور پھر اگلے دو منٹ میں اس نے گاڑی کو آمنہ کے گھر کے سامنے رُکا۔۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ سائیں۔۔۔ روحان جیپ سے اترتے ہوۓ بولا۔اور اپنا چہرہ دھونے گھر کے باہر لگے نلکے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
شکریہ۔۔آج آپ کی وجہ سے ہم دونوں سلامت ہیں۔۔آگر آپ نا ہوتے تو پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔۔۔۔۔آپ اب دھیان سے جاۓ گا۔۔کہی وہ دوبارہ نا آ جائیں۔۔۔۔زویا اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو مُڑورتے ہوۓ بولی۔۔۔التمش کا سارا غصہ جھک سے بیٹھ گیا۔۔۔عنابی لب دھرے سے مسکراۓ۔۔
تم اپنی ان انگلیوں کو سزا دینا بند کرو۔ کہی ٹوٹ ہی نا جائیں۔ بیت پیاری ہیں۔۔۔۔۔۔وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔
زویا اس کے لفظوں کا مطلب سمجھنے کی کوشس کرنے لگی۔۔۔تبھی روحان نے آواز لگائی۔۔۔وہ بنا کچھ بولے پلٹ گئی۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ دروازے کے اندر غائب ہوئی۔۔۔۔التمش نے جیپ کوحویلی کی طرف مُوڑا۔۔۔۔پورا راستہ وہ زویا کے کہے ہوۓ لفظوں کو سوچ سوچ کر مسکرتا رہا۔۔۔۔۔محبوب کی زبان سے اپنے لیے فکرمندی سننے سے بہتر احساس دنیا کی کسی اور چیز میں نہیں۔۔۔۔۔
*************
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
