Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

ماہ رخ اب تم اسی طرح منہ بنا کر رہو گئی؟ اریشہ کیفے میں بیٹھی کباب کا پیس منہ میں ڈالتے ہوۓ ماہ رخ سے مخاطب ہوئی۔ کل کی ہونے والی بحث کے بعد سے ماہ رخ اریشہ سے بات نہیں کر رہی تھی۔
جو تم کر رہی ہو اسکو بند کر دو تو بات کر لوں گئی۔ اریشہ اسکی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
لو جی حد ہے ویسے تمہاری سوئی وہی کی وہی اٹکی ہوئی ہے۔ یہ میری زندگی ہے میں جیسے چاہوں اسے جیوں۔ تم کوئی نہیں ہوتی اس پر ابجیکشن کرنے والی۔ جو تم بول رہی ہومیں بھی پہلے ویسا ہی سوچتی تھی۔۔۔پر اب مجھے سمجھ آ چکا ہے۔ ہمیں وہی کرنا چاہیے جو تمہارا دل کہتا ہے۔۔ ۔۔۔ اریشہ چڑتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
صحیح کہا۔ میں کون ہوتی ہوں کچھ بولنے والی۔ تمہاری زندگی ہے تمہیں جو صحیح لگے وہ کرو۔ بس کبھی دو گھڑی بیٹھ کر اپنے ضمیر سے پوچھنا کہ کر رہی ہو کیا وہ صحیح ہے؟ جواب تمہیں خود مل جاۓ گا۔۔۔۔ اریشہ غصے میں اُٹھی اور اپنی کتابیں لے کر نکلنے لگی۔
اریشہ کیا ہو گیا ہے یار تم کیوں اتنی دقیانوسی سوچ کی مالک ہو۔ تھورا سا ماڈرن وے میں سوچو۔ یہ سب غلط نہیں ہے۔۔۔۔۔ وہ بھی اسی کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔
دقیانوسی سوچ ریلی اگر میں تمہیں کسی غلط کام سے روک رہی ہوں۔ تو میری سوچ دقیانوسی ہو گئی۔ واہ۔۔۔اگر تمہیں ایسا لگتا ہے۔ تو مجھے اپنی یہ سوچ قبول ہے۔ اللہ بس تمہیں بھی عقل دے۔۔۔ ماہ رخ بول کر بنا اسکا جواب سنے وہاں سے نکل گئی۔۔ اریشہ سر جھٹک کر کلاس کی طرف بڑھی۔۔۔۔
(ایسا بہت بار ہوتا ہے کہ جب آپ کسی ایسے انسان کو جو کہ آپ کے دل کے بہت قریب ہو اسے غلط کام کرنے سے رُکنا چاہیں۔ پر وہ آپ کی انٹینشن کو سمجھے نا الٹا آپ کو ہی غلط بولے۔۔ حالنکہ آپ اسکی بھلائی کے لیے ہی بول رہے ہوں۔ پر وہ نا سمجھے تو سچ میں بہت دکھ ہوتا ہے۔۔۔ دل کرتا ہے کسی طریقے سے اسے سمجھا پائیں۔ کہ یہ کام مت کر اس کے آگے صرف کانٹے ہیں۔ اگر وہ کانٹے ایک دفع چھب گے تو اس کے زخم تو شائد ایک مندمل ہو جائیں پر اسکے نشان زندگی پھر رہیں گے۔۔ جو زندگی کے ہر موڑ پر نظر آئیں گے۔۔اور تم چاہ کر بھی اسے مٹا نہین پاؤ گے۔۔)


التمش خان رات کے دس بجے فام ہاوس سے نکلا تھا۔۔ وہ اسی پریشانی میں تھا کہ کیسے کام شروع کرے۔ جن گاؤں والوں کے سامنے اس نے اتنی بری بری باتیں کیں تھیں کیسے ان کو پورا کرے۔۔ اج بھی فام ہاوس میں وہ یہی کام کر رہا تھا۔۔ جب سب چھانٹ کر دیکھا تو اسکے نام نا تو کوئی زمین تھی اور ہی علحیدہ بینک میں پیسے تھے۔۔۔بس دو لاکھ تھے۔۔۔۔جو کہ اس کام میں ایک پرسنٹ بھی حصہ نہیں دے پاتے۔ پڑھائی کے بعد سے اس نے گاؤں میں سارا کام سھنمبالا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اسکے ہاتھ بالکل خالی تھے۔ وہ کافی پریشان تھ۔ا۔۔۔
سرد رات تھی۔ اور وہ جیپ میں بنا جیکٹ پہنے بس شال کو شانوں پر پھیلاۓ ہوۓ اپنی سوچوں میں گم ہلکی رفتار سے جیپ چلا رہا رھا۔۔۔۔۔جب اچانک سے سامنے ایک گاڑی آ کر رکی۔۔۔۔۔اسنے برق رفتاری سے بریک ماری۔۔ اگرایک سیکنڈ کی بھی دیری ہو جاتی تو جیپ گاڑی سے ٹکرا جاتی۔۔۔۔
وہ جیپ سے نیچے اترا۔ اور سامنے کی طرف دیکھا جہاں پر ناظم شاہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔
ناظم شاہ یہ کیا بدتمیزی ہے؟ التمش آگے بڑھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
خان کیا ہو گیا ہے۔ میں تو بس اپنے پرانے دوست سے اسکے بھائی کے مرنے کا افسوس کرنے آیا تھا۔ سنا کسی نے اسے گولی مار دی۔۔۔چچچ تم کہاں تھے تمہیں اپنے بھائی کی حفاظت کرنی چاہیے تھی۔۔۔۔وہ آگے بڑھتے ہوۓ افسردہ لہجے میں بولا۔۔۔۔
دیکھ ناظم اپنی حد میں رہ بلا وجہ میرے رستے میں آنے کی کوشش مت کر۔ ورنہ۔۔۔۔۔۔التمش خان وارنگ ریتے ہوۓ بولا۔۔۔
ورنہ کیا ہاں کیا کرے گا۔۔۔ کچھ نہیں کر پاۓ گا۔۔ تو ایک نمبر کا ڈرپورک ہے۔ اپنے بھائی کو تو بچا نہیں پایا ۔۔۔مجھے کیا دھمکی دے رہا ہے۔۔۔۔۔ویسے سنا ہے جہانگیر خان نے تجھے اپنی جائیداد سے ایک پھوٹی کوڑی نہیں دی۔۔۔۔ وہاں بھی کچھ کر نہیں پایا یہاں کھوکھلی دھمکی کیوں دے رہا ہے۔۔۔ ناظم شاہ اسکے قریب ہو کر طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
او تو میری ساری انفارمیشن رکھی ہوئی ہے۔ لگتا ہے یہی کام کرتا رہتا ہے۔ کیوں اپنے باپ کے پیسے پر عیاشی کر رہا ہے۔۔جا جا کر کوئی ڈھنگ کا کام کر۔ التمش بھی طنز کا تیر برساتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
ہاہاہا بالکل سہی کہا میرے پا س تیری ساری انفارمیشن ہے۔ ویسے ایک پتے کی بات بھی معلوم ہوئی ہے۔۔۔ تیرا نکاح خون بہا میں آئی لڑکی سے ہوا ہے۔ اور لڑکی بھی وہی ہے جس کی وجہ سے اس دن ہمارا جھگڑا ہوا تھا۔ میں نے سنا ہے خون بہا میں آئی لڑکی کو بیوی کا درجہ نہین ملتاتو ایسا کر اس لڑکی کو میرےپاس بھیج دے میں اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی ناظم بول ہی رہا تھا کہ التمش کی برداشت کی حد ختم ہو گئی۔۔۔ اور وہی ہوا جس کے لیے ناظم یہاں آیا تھا۔ التمش نے اسکے منہ پر گھوسہ مارا۔۔ ناظم لڑکھڑایا۔۔
خبرا دار خبردار اگر اپنی اس گندھی غلیظ زبان سے اسکے متعلق کوئی بکواس کی۔۔ التمش نے اسے پکڑا اور ایک گھوسہ اور مارا۔۔۔اسے پہلے کہ وہ اور مارتا ناظم کے ساتھ آۓ ساتھیوں نے التمش کو مارنا شروع کیا۔۔۔۔وہ اکیلا تھا اور سامنے پانچ لوگ تھے وہ چاہ کر بھی اپنے آپ کو بچا نہیں پا رہا تھا۔۔ ناظم بھی اسے مار رہا تھا۔۔۔۔وہ اپنا دفع کرنی کی بہت کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔
سالے آج تو اکیلا ملا ہے آج تو سارے حساب کتاب پورے کروں گا۔۔۔۔ناظم شاہ مڑا اور اپنی گاڑی سے پستول نکال کر لے آیا۔۔۔۔۔۔۔
التمش لالا ناظم شاہ پستول کو لوڈ کرنے لگا جب کسی کی اواز آئی۔۔۔سامنے دیکھا تو ایک جیپ تھی۔۔۔ جس میں سامنے دو لوگ بیٹھے ہوۓ تھے اور پیچھے چار گارڈز ہتھیاروں کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔۔یہ اور کوئی نہیں سعد اور شمس تھے۔۔۔
اوۓ جلدی کرو بھاگنا ہے۔ ناطم نے جیسے ہی ان کو دیکھا فوراً بولا۔۔ سب ساتھی جھٹ سے گاڑی میں بیٹھے۔۔ناطم زن سے گاڑی بھگا لے گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
لالا سعد بھاگتا ہوا التمش کے پاس آیا۔۔۔جو کہ زمین پر بیٹھا اپنا سانس درست کر رہا تھا۔۔۔ اسکے ماتھے ، ہونٹ ، کہنی سے خون بہ رہا تھا۔ اسکا سفید کرتا مٹی اور خون سے گندہ کو چکا تھا۔۔۔۔
لالا آپ ٹھیک ہیں۔ شمش اور سعد دونوں اسکے پاس آ کر اسے اُٹھاتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔
ہاں ٹھیک ہوں۔ پانی دے۔۔۔۔۔ وہ جیپ سے ٹیک لگا کر کھڑا ہوا۔سعد نے پانی پکڑایا۔۔۔۔جسے پی کر اسے راحت ملی۔۔۔۔
لالا اپ نے انہیں مارا کیوں نہیں۔۔۔۔آپ تو کافی بندوں کو ایک ساتھ مار لیتے ہو۔۔ تو آج کیوں نہیں مارا۔۔۔۔ سعد غصے سے بولا۔۔۔۔
میں کیا کوئی پہلواؤن ہوں جو چھے چھے بندوں سے اکیلا لڑ لیتا۔ ۔ ان سب نے ایک ساتھ اٹیک کیا میں نے کوشش کی اور مارا بھی۔۔۔۔۔وہ مزید پانی پیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
پر یہ ناظم شاہ کا مسلہ کیا ہے۔۔۔آپ کے پیچھے کیوں پڑا ہے۔۔۔جب دیکھو لڑنے آجاتا ہے۔ کرتا بھی تب ہے جب آپ اکیلے ہوں۔ لالا اسکو سبق سیکھانا پڑے گا۔۔۔شمس غصے سے بولا۔۔۔۔
اسے تو میں دیکھ لوں گا۔۔۔تم دنوں بتاؤ۔ یوں اچانک کیوں آ گے؟ التمش دونوں کی طرف مخاطب ہوا۔
آپ تو جانتے ہو میرا لاسٹ سمسٹر تھا۔ بس پیپر دیے اور یہاں آ گیا۔۔۔شمس مسکراتے ہوۓ بولا۔ التمش نے سعد کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔۔
جب شمس آ رہا تھا تو میں مے سوچا میں بھی چکر لگا لوں۔۔۔۔ وہ منمناتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہاں تم نےسوچا چلو آوارہ گردی کر آتا ہون۔۔سعد تمہیں پتہ ہے تمہاری ڈاکٹری کا آخری سال ہے۔ یہی تو وقت ہے محنت کرنے کا۔۔۔پر تم تو آوارہ گردی کرنے میں زیادہ انٹرسٹڈ ہو۔۔۔۔التمش اسے ڈانٹے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔۔
لالا وہاں دل نہیں لگ رہا تھا۔ ارسلان بہت یاد آ رہا تھا۔۔۔اسی لیے ا گیا۔۔ سعد چہرہ جھکا کر بولا۔۔۔ التمش کو اسکی آواز بھاری محسوس ہوئی۔ وہ اگے بڑھا اور اسے گلے سے لگا لیا۔۔۔۔۔
چلو چلتے ہیں۔۔۔اسے علحیدہ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔ التمش اپنی جیپ میں بیٹھا۔ سعد اور شمش اپنی جیپ میں بیٹھے۔۔۔۔۔اور حویلی کے راستے پر ڈالی۔۔۔۔۔۔۔
حویلی میں ہر طرف خاموشی تھی۔۔ جیپ کی چرچڑاہٹ سے ماحول میں ارتعاش پھیلا۔
شمس تو سیدھا اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔ سعد اور التمش ایک ساتھ باتیں کرتے ہوۓ آ رہے تھے۔۔۔۔التمس نے ا کر منہ دھو لیا تھا جس سے اسکے چہرے سے خون صاف ہو گیا تھا۔۔۔چادر کو اچھی طرح کندھوں پر لپیٹنے سے جون کے دھبے بھی چھپ گے تھے۔۔۔۔
لالا بھوک بہت لگی ہے۔۔۔کچھ کھا نا لیں۔۔۔سعد پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہاں لگی تو مجھے بھی ہے چل کیچن میں دیکھتے ہیں۔ کچھ کھانے جو مل ہی جاۓ گا۔۔رک میں کپڑے تبدیل کر کے آتا ہوں۔۔ایسے کسی نے دیکھ لیا تو بلاوجہ سین کریٹ ہو جاۓ گا۔۔۔۔ التمش بول کر اوہر کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔سعد کچن کی۔طرف مڑ گیا۔۔۔۔
تھوری ہی دیر بعد وہ کالا کرتا شلوار پہنے کیچن میں داخل ہوا۔۔۔جہاں سعد کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔
۔۔
گدھے سامنے بریانی پڑی ہوئی ہے۔ منہ اُٹھا کر ادھر اُدھر دیکھ رہا ہے۔التمش نے پلیٹ بھری اور اُوون میں رکھ دی۔۔ سعد فریج کو کھولے رائتہ تلاش کر رہا تھا۔۔۔
زویا جو کہ پانی لینے کے لیے کمرے سے نکلی تھی۔ ۔کیچن سے آتی اوازیں سن کر وہ ایک پل کے لیے رُکی۔۔ پھر قدم اندر کی طرف بڑھاۓ۔۔۔۔
سعد رائتہ نکال کر فریج بند کرتا پلٹا۔ تو سامنے زویا کو کھڑے دیکھا۔۔۔
السلام علیکم! زویا بھابھی وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
بھابھی لفظ پر التمش نے پلٹ کر دیکھا۔ تو سامنے شاک میں کھڑی زویا پر نظر پڑی۔۔۔جو شائد بھابھی لفظ پر حیرانگی سے سعد کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
وعلیکم السلام! زویا جواب دے کر پانی بھرنے کے لیے سینک کی طرف گئی۔۔۔
سعد نے التمش کی طرف دیکھا جو اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا۔پر سعد نے اگنور کر دیا۔۔۔
ویسے بھابھی میں نے فریج میں ساگ دیکھا ہے۔۔۔۔کیا آپ پلیز دو روٹیاں بنا کر دے سکتی ہو۔ بہت بھوک لگی ہوئی ہے۔ بریانی کھانے کا بالکل من نہیں۔ جو مزہ ساگ اور روٹی کا ہے وہ بھلا بریانی کا کہاں ہے۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
التمش کو بھی سعد کا یوں زویا کو بھابھی کہنا عجیب سے احساس سے دوچار کر رہا تھا۔۔ وہ زویا کو دیکھ رہا تھا۔۔
آپ کو ریکویسٹ نہیں کرنی چاہیے۔ بالکہ حکم کرنا چاہیے۔ اور میں آپ کی بھابھی نہیں ہوں۔ باکہ خون بہا میں آئی ہوں جس کو یہاں نوکروں سے بھی بدتر سمجھا جاتا ہے۔ زویا سعد کی طرف پلٹ کر بولی۔۔ سعد کا چہرہ اتر گیا۔۔۔۔۔التمش کے چہرے پر پتھریلے تاثرات آ گے۔۔۔۔۔
وہ چولہے کے پاس گئی اور روٹیاں بنانے لگی۔ایک چولہے پر روٹیاں بن رہیں تھیں تو دوسرے پر ساگ گرم ہو رہا تھا۔۔۔۔سعد تو ایک طرف کھڑا دونوں کو دیکھ رہا تھا۔۔زویا اپنے کام میں مصروف تھی التمش اُون سے بریانی کی پلٹ نکال رہا تھا۔ سعد پلٹ کر باہر ڈائیگ ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔
زویا نے جلدی سے روٹیاں بنائیں اور پلیٹ میں ساگ نکال کر باہر سعد کو ٹیبل پر دیا۔ پلٹ کر کیچن میں اپنا پانی کا جگ لینے آئی۔۔۔۔
یہ بریانی کی پلیٹ اور رائتہ بھی ٹیبل پر رکھ کر آؤ۔ تبھی پیچھے سے التمش کی آواز آئی۔۔۔۔ وہ پلٹ کر اسکے پاس گئی۔۔۔۔۔
یہ کیا ہوا؟ چوٹ کیسے لگی؟ زویا نے اسکے چہرے کی طرف دیکھ کرکہا۔۔۔جہاں ماتھے پر چوٹ کا واضع نشان تھا۔۔۔
مس زویا میری زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں تم میری بیوی نہیں ہو۔۔۔۔۔وہ آہستہ مگر سخت لہجے میں بول کر کیچن سے باہر نکل گیا۔۔۔ پیچھے زویا اسکے طعنے کو سمجھ گئی تھی۔۔ابھی کچھ دیر پہلے اسنے بھی تو یہی کیا تھا۔۔۔سر جھٹک کر وہ بریانی کی پلیٹ اور رائتہ اُٹھا کر لے آئی۔۔۔اور ٹیبل پر رکھ جر کیچن میں چلی گئی۔۔۔اپنا پانی کا جگ لے کر وہ انکے قریب سے نکلنے لگی۔۔۔۔
تھینکس بھابھی۔۔۔۔آپ کو اچھا لگے یا نا لگے پر اب سے میں تو آپ کو بھابھی ہی بلاؤ گا۔۔کیونکہ میں یہ ونی جیسی فضول رسموں پر یقین نہیں رکھتا۔۔۔سعد زویا کو دیکھ کر بولا۔۔ وہ بنا ان دونوں کی طرف دیکھے اپنی کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔۔۔


ابا التمش اپنے ہاتھوں سے نکل رہا ہے۔ سمجھ نہیں آ رہی اسکا کیا کریں۔۔ کل رات پھر سے ناظم اور اسکے ساتھیوں نے اس پر حملہ کیا۔ شکر ہے وہاں سعد اور شمس وقت پر پہنچ گے۔۔ ورنہ پتہ نہیں کیا ہو جاتا۔۔۔ خالد صاحب اس وقت جہانگیر خان کے کمرے میں بیٹھے کچھ دیر پہلے شمس سے پتہ لگنے والے واقع کو بتا رہے تھے۔۔۔۔۔
ناظم شاہ کا دادا بختاور شاہ بلا وجہ کی دشمنی پالے ہوۓ ہے۔ اس سے مل کر بات کرنی ہو گئی۔۔۔ سہیل صاحب بولے۔۔۔۔۔
اسے زمین چاہیے جو میں کسی قیمت پر نہیں دوں گا۔۔۔ جہانگیر خان بولے۔۔۔۔
کیوں نہیں دے گے۔ ابا پہلے ایک بیٹا کھویا ہے اب دوسرے کو کھونے کی ہمت نہیں۔ خالد صاحب ٹوٹے ہوۓ لہجے میں بولے۔۔۔۔
خالد جس رستے پر تمہارا بیٹا جا رہا ہے۔۔ ہماری عزت کو ڈوبا کر رہے گا۔ پہلے مجھے لگتا تھا وہ میرے کنٹرول میں نا سہی پر میرے خلاف بھی نہیں ہے۔ پر اب وہ صاف صاف میرے خلاف ہو گیا ہے۔ اس میں برا ہاتھ اس چھوکری کا ہے جہانگیر جان سوچتے ہوۓ بولے۔۔۔
مجھے نہیں کگتا وہ لڑکی کہی سے بھی اس سب میں ملوص ہے۔ وہ دونوں تو آپس میں بات بھی نہیں کرتے تو؟۔۔۔۔۔۔ خالد صاحب سوالیہ انداز مین بولے۔۔۔۔۔۔۔
خالد میاں تم وہ نہیں دیکھ پا رہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔تمہیں یاد ہو گا۔۔۔مہینے بھر پہلے ماجد نے ایک لڑکی کا ذکر کیا تھا۔جس کے پیچھے التمش نے ناظم سے لڑائی بھی کی تھی۔۔۔ جہانگیر جان کھڑے ہوتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
ہاں یاد ہے۔ اس سب کا اس لڑکی سے کیا تعلق ہے؟
یہ وہی لڑکی ہے۔ جس دن کی وہ لڑکی اس حویلی مین آئی ہے پتہ نہیں کیوں کھٹک رہی ہے۔۔ جس طریقے سے وہ بات کرتی ہے۔ وہ نارمل نہیں یے۔۔۔۔ کچھ تو گڑبر ہے۔۔۔ وہ چاۓ پیتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔۔
اسکا مطلب التمش اس لڑکی کو چاہتا ہے۔ اور اسکی سن رہا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ سب بھی وہی کروا رہی ہو۔سہیل صاحب بولے۔۔۔۔
ہو سکتا ہے نہیں ایسا ہی ہے۔۔۔التمش اچانک سے اسکے آنے بعد ہی بدلہ ہے۔۔۔وہ وہی کر رہا ہے۔ وج وہ لڑکی بول رہی ہے۔۔۔۔وہ یہاں خون بہا میں آئی یے پر لگتا ایسے ہے جیسے یہ حویلی اسکی ہو۔جس طرح التمش ہم سب سے مخالفت کر رہا یے۔ وہ اسے اپنی بیوی بنانے مین دیر نہین لگاۓ گا۔۔۔خون بہا میں آئی لڑکی اگر ہماری بہو بنی تو اس سے زیادہ شرمندگی کی بات کچھ نہیں ہو گئی۔۔۔گاؤں والوں پرآس پاس کے گاؤں میں کوئی عزت نہیں بچے گئی۔۔ ہم کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔۔۔۔ جہانگیر دنوں کو دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔۔۔
یہ سب تو ہم نے سوچا ہی نہیں۔ اب اس مسلے کا حل کیا ہے؟ خالد صاحب پریشانی سے بولے۔۔۔۔۔
ایک ہی طریقہ ہے۔۔ اس لڑکی کو التمش کی نظروں سے نیچے گڑانا پڑے گا۔ تا کہ وہ اسے اپنی بیوی بنانے کے بارے میں سوچے بھی نا۔۔۔ اور یہ کام شمس کرے گا۔ میں نے اسے پیغام بھجوایا ہے آتا ہی ہو گا۔۔۔پھر آگے کا پلین بتاتا ہوں۔۔۔۔وہ دروازے کی۔طرف دیکھتے ہوۓ بولے۔۔۔
جی دادا جان آپ نے بلایا۔۔۔۔ شمس آستینیں اوپر چڑھاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ہممم بیٹھو! جہانگیر خان نے اسے سامنے صوفے پر بیٹھنے کو کہا۔۔اور پھر اپنا پلین بتانا شروع کیا۔۔
واٹ دادا جان یہ آپ کیا بول رہے ہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گا۔ شمس سنتے ہی فوراً بولا۔۔۔۔
شمس تمہیں ایسا کرنا پڑے گا۔ ورنہ ہم تمہاری شادی اریشہ سے نہیں کریں گے۔ جہانگیر خان سنجیدہ انداز میں بولے۔۔۔۔
دادا جان آپ مجھے بلیک میل نہیں کر سکتے۔ وہ فوراً اپنے دفع میں بولا۔۔۔۔
تمہیں ایسا کرنا پڑے گا۔۔ورنہ تم۔جانتے ہو۔ میں اپنی زبان کا پکہ ہوں۔ جہانگیر خان نے ایک دفع پھر سے کہا۔۔۔۔
ہممم میں ایسا نہیں کروں گا۔۔۔ہاں پر کسی سے کروا سکتا ہوں۔ شمس بولا۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔مجھے کچھ دنوں میں اس کا نتجہ چاہیے۔۔ جہانگیر خان بول کر کمرے سے باہر نکل گے۔۔۔۔۔


لالا آپ واک پر جا رہے ہو۔ سعد کف فولڈ کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
واک پر نہیں ارسلان کی قبر پر جا رہا ہوں۔التمش اسکی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔
کیا میں بھی چلوں۔ وہ بولا۔۔۔ التمش نے اں میں سر ہلایا۔۔۔دونوں باہر کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔۔
دونوں خاموشی سے چل رہے تھے۔۔ بیس منٹ کی واک کے بعد قبرستان آ گیا۔۔۔دونوں نے مل کر فاتحہ پڑھی۔۔اور دعا مانگنے لگے۔التمش نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔ تو اسے اپنا چہرہ بھیگا محسوس ہوا۔۔۔دعا مانگتے کب اسکی آنکھیں جھلک پڑی اسے خبر بھی نا ہوئی۔۔۔۔۔ دونوں کافی دیر وہی بیٹھے رہے۔ ناچاہتے ہوۓ بھی انہیں وہاں سے نکلنا پڑا۔
سعد مجھے تم سے کچھ پوچھنا ہے۔ چلتے چلتے التمش ایک دم رک کر بولا۔۔۔۔
جی لالا کیا پوچھنا ہے۔ سعد اسکی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
سوچ کر بتانا۔ جب ارسلان کو گولی تھی۔ تمہیں کچھ ایسا محسوس ہوا ہو جو کہ بہت عجیب ہو۔ التمش نے پوچھا۔۔
عجیب مطلب؟ وہ ناسمجھی مین بولا۔۔۔۔
مطلب کیا واقعی مین گولی روحان سے لگی تھی۔۔۔ التمش کے ذہین میں کل رات سے یہ سوال گردش کر رہا تھا۔۔۔
ہاں لالا گولی روحان کی گن سے ہی چلی تھی۔ اور وہاں پر کسی کے پاس گن نہین تھی۔۔۔اور وہ گن شمس کی تھی۔ جیسے روحان نے کک مار کر اس سے چھینی تھی۔۔۔ پھر روحان نے گولی چلائی جو ارسلان کو لگی ۔۔ وہ سارا واقع دوبارہ بتانے لگا۔۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے۔۔ چلو چلتے ہیں۔ التمش اپنا ماتھا مسل کر بولا۔۔۔۔
لالا آپ کو کیا لگتا ہے روحان بے قصور ہے؟ سعد اسکے سوال سے مطلب نکالتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
پتہ نہیں سعد وہ قصور وار ہے یا نہیں مجھے کنفروم نہیں ہے۔۔ مجھے لگتا ہے۔ ہم نے بہت جلد بازی میں اسکو اور اسکے گھر والوں کو سزا دے دی۔۔ ہمیں انوسٹیگیشن کرنی چاہیے تھی۔۔
روحان میرے پاس فام ہاؤس مین قید ہے۔کل میں رات کو اس سے مل کر نکلا تھا۔ کل سے بے چینی سے ہو رہی ہے۔ کل پہلی دفع اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوا جیسے ارسلان سامنے بیٹھ کر شکوہ کر رہا ہو۔ کہ لالا آپ صحیح نہیں کر رہے۔ سمجھ نہیں آ رہی کیا کرو۔۔۔ وہ اپنا ماتھا مسلتے ہوۓ بولا۔۔ اسکی آنکھوں میں لال ڈوڑیاں ابھریں۔۔
لالا ریلکس۔ اتنا سٹریس نا لیں۔۔ آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔ روحان نے ہی ارسلان کا قتل کیا تھا۔ اور آپ نے بس اسے اسکے کیے کی سزا دی ہے۔سعد اسکی حالت دیکھ کر بولا۔۔۔۔
پتہ نہیں سعد کیا ہو رہا ہے؟ ہر طرف سوالیہ نشان نظر آتے ہیں۔ وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
تو اپنی تسلی کے لیے کسی کو بنا بتاۓ اس کیس کی انویسٹی گیش کروا لیتے ہیں۔ تا کہ آپ کا وہم بھی دور ہو جاۓ۔۔۔سعد نے حل پیش کیا۔۔۔۔
ہممم سوچتا ہوں۔۔ چلو بہت دیر ہو گئی۔ حویلی چلتے ہیں۔ مجھے آج ایک کام سے شہر بھی جانا ہے۔۔ وہ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولا۔۔۔ دونوں حویلی کی طرف بڑھے۔۔۔۔۔۔۔