Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
حازم کا بہت برے طریقے سے ایکسیڈینٹ ہوا تھا۔ وہ اس وقت ہسپتال کے آئی سی یو میں زندگی اور موت سے لڑ رہا تھا۔ باہر کوریڈور میں اسکی ساری فیملی اسکی زندگی کے لیے دعائیں کر رہی تھی۔ سب سلطان ملک کی اتنی گھنونی سچائی جان کر شاک میں تھے۔
کوڑیڈور میں جہاں ایک طرف حمیدہ بیگم ،سیرت ،اور منت بیٹھے دعائیں کر رہے تھے۔ وہی دوسری طرف سِراج پریشان سا ڈاکٹرز سے بات کر رہا تھا۔۔
دیکھیں میں نہیں چاہتا کچھ بھی چھپاؤں۔پیشنٹ کی حالت کافی تشویشناک ہے۔میں تو حیران ہوں وہ ابھی تک کیسے زندہ ہیں۔ ایکسیڈنٹ کافی برا ہوا ہے۔ آپ ان پیپرز پر سائن کر دیں۔ تا کہ ہم ان کا اپریشن کر سکیں۔ باقی تو سب اللہ کے حوالے وہ کیسے سروائیو کرواتا ہے۔ زندگی تو اسی کے ہاتھوں میں ہے۔ ڈاکٹر پروفیشنل انداز میں بولا۔۔
سِراج حازم کی حالت جان کر بہت ٹوٹ گیا۔ پر اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا تھا۔ تو اس نے جلدی سے پیپرز سائن کر دیے۔ اور آ کر حمیدہ بیگم کے پاس بیٹھ گیا۔ جو کہ بہت بری طرح سے رو رہی تھیں۔
یہ سب میرے گناہوں کی سزا ہے۔ جو میرے بچے کے آگے آ رہی ہے۔ کاش اسے پہلے ہی روک لیتی۔ طلاق کی دھمکی سے نا ڈرتی تو آج سب ٹھیک ہوتا۔ وہ روتے ہوۓ بول رہیں تھیں۔ سِراج نے اپنی آنکھ کا کنارہ صاف کرتے ہوۓ اپنی ماں کو ساتھ لگاتے ہوۓ چپ کروانے کی کوشش کی۔
اریشہ سیرت اور منت کو حوصلہ دے رہی تھی۔
کل تک جو کسی کی بری حالت پر اسکےمرنے کی دعائیں کر رہا تھا۔ آج وہ خود زندگی اور موت سے لڑ رہا ہے۔۔ آپریشن ٹھیٹر کی لال لائٹ زندگی اور موت کے بیچ ہلکی سے لکیر محسوس ہو رہی تھی۔ جو دروازہ کھلتے ہی زندگی یا موت کا تحفہ دینے والی تھی۔ سب کا دھیان اسی دروازے پر تھا۔
زویا کافی دیر تک سب سے باتیں کرتی رہی۔ ماہ رخ بھی سعد کے ساتھ واپس آ چکی تھی۔ زویا ابھی اسی کے ساتھ باہر گارڈن میں بیٹھی ہوئی تھی۔ عثمان زویا کی گود میں بیٹھا اس سے باتیں کر رہا تھا۔
چاچی اب تو آپ کہی نہیں جائیں گئی؟ عثمان کچھ سوچ کر بولا۔
اگر تم مجھے اس حویلی میں رکھنا چاہو گے تو رہوں گئی۔ وہ مسکرا کر بولی۔
ارے چاچی میں تو چاہتا ہوں آپ ساری زندگی ہمارے ساتھ رہو۔ وہ مسکرا کر بولا۔
اچھا جی۔ شکریہ۔ زویا ہنس دی۔۔
ہیلو جی یہاں کیا ہوا رہا ہے؟ سعد ان سب کی طرف آتے ہوۓ پاس بیٹھ کر بولا۔
میں چاچی سے بات کر رہا ہوں۔ عثمان نے سعد کو جواب دیا۔
اچھا جی تو آپ کی دوسری چاچی کیا چپ کی گولی کھا کر بیٹھی ہیں۔ سعد نے پاس چپ سی بیٹھی ماہ رخ کو چھیر کر کہا۔ جو کہ کچھ ناراض سی نظر آ رہی تھی۔
کون سی چاچی؟ عثمان حیرانگی سے بولا۔۔
چھوٹو تمہارے اس چھوٹے چاچو کی چھوٹی وائف یعنی چھوٹی چاچی وہ مسکراہٹ دیا کر بولا۔
ہاہ آپ نے میری ہائیٹ پر کومینٹ کیا۔ ماہ رخ چیڑ گئی۔عثمان وہاں سے اپنا بیٹ لے کر بھاگ گیا۔
ارے بیگم ہماری ایسی مجال جو ہم آپ جیسی حسین و جمیل اور خوبصورت بیوی کے لیے کچھ غلط الفاظ نکالیں۔ سعد اسے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوۓ بولا۔ ماہ رخ شرما گئی۔۔۔ زویا کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔۔ دونوں کی نوک جھوک کافی کیوٹ تھی۔
شرم تو نہیں آتی زویا پاس بیٹھی ہے وہ شرما کر بولی۔
آپ بتائیں زویا بھابھی اگر میری بیگم ناراض پھرے گئی تو میرا تو فرض بنتا ہے اسے خوش کرنے کا۔ اسے منانے کا۔ اب جب بیگم نے عادت ڈال دی ہو اپنے ہاتھوں کی کافی پیلانے کی تو بھلا مجھ جیسے بندے کو کیسے کافی پیے بغیر چین آۓ گا۔ سعد ماہ رخ کو دیکھتے ہوۓ زویا سے مخاطب ہوا
ہاں سعد اس میں تو میں تمہاری طرف ہوں۔ اب تم اپنی بیگم کو مناؤ میں کباب میں ہڈی بن رہی ہوں۔ زویا مسکرا کر اُٹھی۔
ویسے بھابھی آپ کافی سمجھدار ہو سعد ہنستے ہوۓ بولا۔۔ ماہ رخ نے اسکے کندھے پر ہاتھ مارا اور کھڑی ہو گئی
لاتی ہوبنا کر آپ کا نشہ تو کبھی ٹوٹے گا ہی نہیں۔ جب دیکھو کافی وہ ناک چڑھا کر بولی۔ سعد اسکی پھولا ہوا چہرہ دیکھ کر مسکرا دیا۔ اتنے دنوں سے جو پریشانیاں چل رہی تھیں اسکے درمیان سعد نے ماہ رخ کو کافی پریشان دیکھا تھا۔ وہ خود بھی کافی ڈیپریس تھا۔ اسی چکر میں ماہ رخ پر ایک دفع غصہ نکل گیا۔ اور اب وہ اسی غصے کا انجام بگھت رہا تھا۔ ماہ رخ صبح سے اسے اگنور کر رہی تھی۔۔۔
ماہ رخ زویا کے ساتھ اندر کی طرف چلی گئی۔ رات کا کھانا سب نے کھا لیا تھا۔۔
ماہ رخ کیچن میں چلی گئی۔
زویا بیٹے التمش تو ابھی تک نہیں آیا تم ایسا کرو کمرے میں آرام کر لو۔ شائد وہ لیٹ ہو جاۓ گا۔ صائمہ بیگم اسے سیڑیوں کے پاس کھڑی دیکھ کر بولیں۔
زوہ شائد میری وجہ سے واپس نہیں آۓ۔ مجھے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ زویا کو اپنا آپ مجرم سا لگنے لگا۔وہ نم آنکھوں سے بولی۔۔ ایک تو سب کا اتنے اچھے سے بات کرنا اور دوسرا التمش کا اتنی رات تک حویلی واپس نا آنا وہ اس سب کا زمہ دار خود کو سمجھ رہی تھی۔
زویا! تمہاری بری ہونے کے ناتے میں بس اتنا کہوں گئی۔ التمش میرا بیٹا ہے میں اسے جانتی ہوں وہ غصہ ہے۔ اسی لیے نہیں آیا جب ٹھنڈا ہو جاۓ گا تب آ جاۓ گا۔ آگے جو بھی ہو گا تم بس صبر سے کام لینا۔ وہ اسکے سر پر ہاتھ پھیرتی وہاں سے نکل گئیں۔ وہ کچھ پل وہی کھڑی گہری سوچ میں گم وہی سیڑیوں پر بیٹھ گئی۔ اور فضا میں لمبا سانس چھوڑا۔ حویلی کے سب لوگ اپنے اپنے کمروں میں آرام کر رہے تھے۔ وہ سیڑھی پر بیٹھی سامنے فرش پر لگی ٹائلوں کے ڈئزائن میں نا جانے کیا تلاش کرنی کی کوشش کر رہی تھی۔ ایک مخصوص نکتے کو دیکھتے دیکھتے اسکی آنکھیں دھندلی پڑیں۔ آنسوں گالوں پر بہے۔ وہ اپنے روئیے ان مہینوں میں کیے جانے والی غلطیوں کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ وہ اپنی سوچوں میں اتنی گم تھی۔ کہ رات کا ایک بج چکا تھا۔ وہ پچھلے دو گھنٹوں سے وہی بیٹھی ہوئی تھی۔ سوچ کا تسلسل تک ٹوٹا جب باہر گاڑی رُکنے کی آواز سنائی دی۔ وہ جھٹ سے کھڑی ہوئی۔ وہ جانتی تھی اس وقت کون ہو سکتا ہے۔ اگلے ہی پل وہ سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں پہنچی۔ اور بیڈ پر لیٹ کر سونے کا ناٹک کرنے لگی۔۔
پانچ منٹ بعد دروازہ کھلنے کا احساس ہوا۔ اس نے اپنی آنکھیں زور سے میچیں۔
التمش جو کہ حویلی آنا تو نہیں چاہتا تھا۔ پر صائمہ بیگم کی دھمکی بھری کال سن کر وہ رات کے اس پہر حویلی پہنچا۔ وہ کمرے میں داخل ہوا تو سامنے بیڈ پر وہی وجود نظر آیا۔ جس سے وہ اس وقت بالکل بھی دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ اندر آیا۔ الماری سے کپڑے نکال کر وہ واشروم میں گھسا۔ زویا نے چہرے سے کمبل ہٹایا۔ اور دوسری سائڈ منہ کر کے لیٹ گئی۔ اس دفع کمبل چہرے پر نا تھا۔
دومنٹ بعد وہ کمرے میں داخل ہوا۔ نظر دوبارہ سے اسی وجود پر پڑی۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جب زویا کی آنکھوں میں ہلکی سے جمبش ہوئی۔ التمش سمجھ گیا وہ ناٹک کر رہی ہے۔ اپنا موبائل پکڑ کر وہ دروازے کی طرف بڑھا۔ کمرے سے نکلتا وہ دروازے کو زور سے بند کرتا نکل گیا۔
اسکے نکلتے ہی زویا نے آنکھیں کھولیں۔ دو آنسوں دوبارہ سے گالوں کو بھگو گے۔
حازم کا آپریشن کامیاب ہوا تھا۔ پر اسے بہت چوٹیں لگیں تھیں۔ دائیاں پاؤں اور بائیاں ہاتھ دونوں پر فیکچر ہوا تھا۔ باقی بھی کافی چوٹیں لگیں تھیں۔
وہ سب حازم کے کمرے میں موجود تھے۔ اسے ہوش آ چکا تھا۔ پر وہ بہت کم بول رہا تھا۔ یا یوں کہو بولنا چاہتا ہی نا تھا۔
السلام علیکم! دعا اندر داخل ہوتے ہوۓ بولی۔ اسے صبح ہی حازم کے ایکسیڈینٹ کا پتہ چلا تھا۔
وعلیکم السلام ! آؤ بیٹا حمیدہ بیگم تسبی پڑھتے ہوۓ بولیں۔
وہ حازم کو دیکھتے وہی کھڑی ہو گئی۔ سِراج اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ کافی ٹوٹی ہوئی لگ رہی تھی۔ حازم جو کہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا۔ اپنے اوپر کسی کی تپش محسوس کر کے اس نے فوراً آنکھیں کھولیں۔ سامنے دعا اسے دیکھ رہی تھی۔ دونوں کی نظریں ملیں۔ دعا نے فوراً نظریں چُرا لیں۔ اور اپنے آنسوں صاف کرنے لگی جو نا جانے کب بہے تھے۔
حازم کو آج اسکی آنکھوں میں وہ محسوس ہوا جو کہ کبھی اسکی آنکھوں میں کسی کے لیے ہوتا تھا۔ وہ کچھ ہی پل میں دعا کی سچویشن سمجھ گیا۔
دعا چاۓ پی لو اریشہ نے چاۓ کا کپ اسکے سامنے کیا۔ اور اسے لیے ایک طرف رکھی کرسی پر بیٹھ گئی۔
کسی نے گزرے وقت کے بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ سب ایک دوسرے سے نظریں چُرا رہے تھے۔
سیرت سب کا رویہ محسوس کرتی وہاں سے اُٹھی اور باہر نکل گئی۔ وہ اپنی ہنستی مسکراتی فیملی کو یوں ٹوٹی بکھری فیملی نہیں دیکھ سکتی تھی۔
وہ وہاں سے نکل کر ہسپتال کے باہر بنے گارڈن میں آ کر ایک ڈسک پر بیٹھی۔ وہاں اور بھی کافی لوگ بیٹھے تھے۔ وہ اپنا چہرہ ہاتھوں میں لیے رونے لگی۔۔۔
سیرت تم رو کیوں رہی ہو میں ہوں نا اسے اپنے ساتھ بیٹھے کسی شخص کی آواز سنائی دی۔ آواز کافی جانی پہنچانی تھی۔ اس نے چہرہ موڑ کر دیکھا تو سامنے ناظم شاہ تھا۔
رو مت حازم ٹھیک ہو جاۓ گا۔ اور ویسے بھی وہ کافی ڈھیٹ قسم کا آدمی ہے۔ اتنی جلدی نہیں مرے گا۔ تم فکر مت کرو۔ میں ہوں نا ناظم نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔ سیرت کو ایک دم جھٹکا لگا وہ فوراً کھڑی ہوئی۔
خبردار آئندہ مجھے ہاتھ لگا ورنہ۔۔۔ وہ انگلی اُٹھا کر اسے وارنگ دیتے ہوۓ بولی۔۔
ورنہ کیا ڈارلنگ وہ اسکی انگلی پکڑتا کمینگی سے ہنستے ہوۓ بولا۔
ورنہ یہ سیرت نے اپنی انگکی کھینچی اور ہاتھ کا مکہ بنا کر اسکے چہرے پر مارا۔ اور اگلے ہی پل وہ وہاں سے اندر کی طرف بھاگی۔ ناظم شاہ حیرانگی سے اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ یہاں اپنے والد کے ساتھ حازم کا پتہ لینے آیا تھا۔ سیرت کو روتے دیکھ وہ وہاں آگیا۔ سیرت اسے پہلے دن سے ہی پسند آ گئک تھی۔ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ پر آج جو سیرت نے کیا۔ اسکے بعد وہ کچھ اور ہی سوچنے لگا۔ اور ادھر اُدھر دیکھتے وہاں سے نکل گیا۔ دور کھڑا ایک انسان یہ سب بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ لڑکی کی بہادری دیکھ کر کافی حیران رہ گیا۔
اگلی صبح زویا تیار ہو کر نیچے آئی۔ اور سیدھی کیچن میں چلی آئی۔ اور مدد کروانے لگی۔ ناشتہ ٹیبل پر لگوانے کے لیے مدد کر رہی تھی۔
تم سب بھی بیٹھ کر ناشتہ کرو۔ جہانگیر خان نے لقمہ منہ میں ڈالتے ہوۓ کہا۔۔
ابا جی ہم کیسے؟ صائمہ بیگم ہکلاتے ہوۓ بولیں۔ باقی سب نے بھی جہانگیر خان کی بات سن کر کافی حیرانگی سے دیکھا۔
وہی پر خالی کرسیوں پر گھر کی خواتین بیٹھیں۔ آج یوں آچانک تبدیلی پر سب ہی حیران تھے۔ بس ایک انسان تھا جسکے چہرے پر خوشی سے بھرپور مسکراہٹ بکھری تھی۔ وہ مسکرا کر چلتی ہوئی التمش کے ساتھ پری خالی کرسی پر بیٹھی۔ جب کرسی گھسیٹے کی آواز آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ تو التمش اپنی کرسی سے اُٹھ کر کھڑا ہوا۔ سب نے اسکی طرف دیکھا۔
دادا جی مجھے کالج کے کام سے جانا ہے۔ وہاں پر مزدور کام طریقے سے نہیں کر رہے ان کے سر پر کھڑے ہو کر سارا کام کروانا پڑے گا تو میں چلتا ہوں۔ وہ اپنا موبائل ٹیبل سے اُٹھاتے ہوۓ بولا۔۔ زویا کا چہرہ اتر گیا۔ وہ سمجھ گئی اسکے بیٹھنے کی وجہ سے وہ اُٹھا تھا۔جو کہ جہانگیر خان نے بھی نوٹ کیا تھا
پر التمش ناشتہ تو کرتے جاؤ۔ صائمہ بیگم نے کہا۔
اماں بھوک مر چکی ہے چلتا ہوں۔ سرد انداز میں کہتا وہ وہاں سے نکل گیا۔ سب کو حیران چھوڑ کر۔
چھوڑو اسے ناشتہ کرو۔ جہانگیر خان نے باقی سب کو کہا۔
زویا نے بے دلی سے ناشتہ کِیا۔
تم سب کی اتنی ہمت مجھے سلطان ملک کو یوں جیل میں بند کر کے رکھا ہے کھولو اسے۔۔۔ سلطان ملک جن کو یہ تھا کہ وہ دو گھنٹوں میں چھوٹ جائیں گے۔ پر وہ یہ نہیں جانتے تھے۔ وہ اپنے گناہ خود قبول کر چکے ہیں تو اب تو کوئی انسان انہیں وہاں سے نکال نہیں سکتا ۔
فاروق تجھے پتہ ہے جب کسی کو اپنی دولت شہرت پر حد سے زیادہ غرور ہو اور جو اپنے آپ کو دنیا کا بادشاہ سمجھ کر اپنے ارد گرد کے لوگوں کو چلانے کی کوشش کرے نا اس انسان کے ہاتھوں سے جب دولت شہرت، سب بہتے پانی کی طرح پھسلتا ہوا ہو نا تب انسان اس طرح کی حرکتیں کرتا ہے۔ ارحم ہنستے ہوۓ بولا۔۔
ابے دو ٹکے کے ایس پی تو مجھے جانتا نہیں کتنی اونچی پہنچ ہے۔ دو منٹ میں اس کرسی سے اتراوا کر باہر گلی میں پھینک دوں گا۔ سلطان جیل کی سلاخوں کو جھنجوڑتے ہوۓ بولا۔۔۔
او بزوگوں زیادہ اچھلو مت ویسے بھی کچھ ہی دن میں اس دنیا کو الوداع کرنے والے ہو۔ اب جب چار قتل کیے ہیں تو پھانسی تو طے ہے۔ ارحم ہنستے ہوۓ بولا۔۔
ہنہ پھانسی۔۔۔۔ نکالو مجھے۔۔۔ وہ زور زور سے چلا نے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔
نانی جی یو آر گریٹ آپ نے جو آج کیا نا قسم سے دل لے لیا زویا جہانگیر خان کے کمرے میں انہیں داد دیتے ہوۓ بولی۔
جانتا ہوں اپنی گزری ساری زندگی میں نا جانے کتنے ظلم ستم کر چکا ہوں۔ اسکا احساس مجھے پہلے نہیں تھا۔ پہلے میں اپنے پیسے ،غرور میں اتنا غرق تھا کہ اچھے برے کی پہنچان بھول گیا تھا۔ لیکن اس دن جب ماجد نے ایک لڑکی کا قتل کیا۔اور جیسے نائلہ کو مارا۔ اس دن میں ٹوٹ گیا۔ ایک پل کو تمہاری بات مجھے اندر تک ہلا گئی۔ جب تم نے کہا اب اپنی پوتی کو خون بہا میں دو۔ اس دن زویا بیٹے میں یہ سوچ کر ہی مر گیا کہ اگر واقعی مجھے اپنی زندگی میں کبھی اپنی بیٹی پوتی کو خون بہا جیسی رسم میں دینا پڑ گیا تب کیا ہو گا؟ وہ نم لہجے میں بولے۔۔ زویا ان کے پاس بیڈ پر بیٹھی۔
ایم سوری نانو مین نے پتہ نہیں کیا کیا بول دیا۔ وہ شرمندگی سے بولی۔۔
تم نے بالکل ٹھیک کہا۔ تم معافی مت مانگو غلط تو میں تھا میں روائیتوں کے چکر میں نا جانے کیا کیا کر گزرا۔ جب میں نے اپنے گھر کا ماحول دیکھا جو ان پیچھلے کچھ دنوں میں ہوا۔ تب مجھے احساس ہوا۔ ضروری نہیں ہر کسی پر روب ڈال کر ان سے اپنا کہنا منواؤ۔ کبھی کبھی پیار سے بھی یہ سب کیا جا سکتا ہے۔ اسی روب کے چکر میں نا جانے میں اپنی بیوی کو کبھی وہ مقام نہیں دے پایا۔ اور نا ہی اپنے بچوں کی صحیح تربیت کر پایا۔ جو انہوں نے مجھ سے سیکھا وہی کیا۔ ماجد نے ٹھیک کہا تھا جو اسکے سامنے ہو گا وہ تو وہی کرے گا۔ عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنا ہی سب سے بری جہالت تھی۔ اسے ایک بیوی بہن بیٹی کا مقام دینا چاہیے۔ اگر یہ سب میں اپنی بیٹی مہوش کے وقت ہی کر دیتا تو آج شائد وہ زندہ ہوتی۔ جہانگیر خان نم آنکھوں سے بولے۔
اسکا مطلب اب آپ سب بدل دیں گے؟ زویا نے پر امید لہجے میں بولا۔۔
میں پوری کوشش کروں گا سب بدل سکوں۔ اسکی ایک کوشش تو صبح ہی کر چکا ہوں۔ وہ مسکرا کر بولے۔۔
یس یو آر مائی گریٹ نانو۔۔۔۔ وہ اونچی آواز میں بولی۔۔ جہانگیر خان ہنس دیے۔۔
ٹھک ٹھک۔ دورازہ پر دستک ہوئی زویا نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے التمش کھڑا تھا۔
جی دادا جی کیا کہنا تھا؟ وہ اسے اگنور کرتا چلتا ہوا جہانگیر خان کے قریب آیا۔ زویا کو یوں اگنور ہونا بہت برا لگا۔
التمش ماجد کا پتہ لگواؤ کہاں ہے وہ دو دم سے حویلی نہیں آیا اور ایک چھوٹا سا فنگشن ارینج کرواؤ۔ جہانگیر خان نے کہا۔
فنگشن کس لیے ؟ وہ چونک کر بولا۔۔
اسی لیے جس کے تم۔ حق دار ہو۔ میں سرپنچ کی کرسی تمہیں دینا چاہتا ہوں۔ جہانگیر خان اسے دیکھتے ہوۓ بولے۔
دادا جی اسکی ضرورت نہیں میں اپنا بزنس شروع کرنے کا سوچ رہا ہوں۔ وہ صاف لہنے میں بولا۔۔
التمش میں تم سے زبردستی نہیں کروں گا۔ پر یہ میرا آخری فیصلہ ہے۔ آگر اپنے دادا سے تھوڑا سا بھی پیار ہے تو بات مان جاؤ ورنہ رہنے دو۔ وہ افسردہ لہجے میں بولے۔۔
ایک تو اس حویلی میں ہر کسی میں ایموشنل بلیک میلر کی روح گھس گئی ہے ۔ ٹھیک ہے کروا دیتا ہوں۔ وہ چرتے ہوۓ بولا اور کمرے سے نکل گیا۔۔
ابھی تو انہی کے اندر جنگیز خان کی روح گھسی ہوئی ہے۔ زویا اسکے جاتے ہی بولی۔ پر دروازے سے نکلتے ہوۓ اس نے سن لیا۔ خود پر ضبط کرتا وہ وہاں سے نکل گیا۔۔
تم نے جو اسکے ساتھ کیا وہ بہت غلط تھا۔ جہاں تک میں اسے جانتا ہوں وہ جسے دل میں جگہ دیتا ہے۔ اگر نکالنے پر آۓ تو ایک پل میں نکال دیتا ہے۔ اسے منا لو ورنہ پچھتاؤ گئی۔ جہانگیر خان اسے ڈراتے ہوۓ بولے۔۔
واٹ نانو سچ میں پھر تو مجھے ابھی اپنے مجازی خدا کو منانے جانا چاہیے باۓ وہ بیڈ سے اُٹھ کر کھڑی ہوتی اور باہر کی بھاگی۔ جہانگیر خان کا قہقہ بلند ہوا۔۔
زویا کے پہنچنے سے پہلے ہی وہ حویلی سے نکل گیا تھا وہ ساری رات انتظار کرتی رہی پر وہ نا آیا۔ وہ شائد گھر چلا گیا تھا۔ اگلی صبح وہ اُٹھی تو گارڈن میں وہی اس دن والا انتظام ہو رہا تھا۔ زویا کو وہ خوف ناک منظر دوبارہ نظر آیا جب التمش کو گولی لگی تھی۔
وہ تیار ہونے کمرے میں آیا۔ اپنے کپڑے بیڈ پر پرے نظر آۓ۔ وہ ان سب چیزوں کو اگنور کرتا الماری کی طرف بڑھا۔ الماری سے سفید قمیض شلوار نکالی اور چینج کر کے آیا۔ اپنے سر پر پشاوری ٹوپی اور کندھے پر پشاوری شال ڈالی پاؤں میں خُوسہ پہنا۔ بازو کے بٹن بند کرتا وہ کمرے سے باہر نکلا۔
باہر سب مہمان بیٹھے ہوۓ تھے۔ ایک طرف کھانا بن رہا تھا۔ حویلی کی عورتیں مہمانوں میں آئی خواتین کو وقت دے رہیں تھیں۔ وہ سیڑیوں سے اُترتا ہوا نیچے آ رہا تھا۔ بہت سی نظریں اس کی طرف اُٹھیں۔
ماشاءاللّٰہ میرا بیٹا شہزادہ لگ رہا ہے۔ کاش میرے باقی بچے بھی میرے سامنے ہوتے۔ صائمہ بیگم نے آگے بڑھ کر اسکا ماتھا چومتے ہوۓ کہا آخر میں نم ہو گئیں۔
میں ہوں نا اپنی اماں کے پاس۔۔۔ ماجد کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ مل جاۓ گا۔ آپ فکر مت کریں۔ وہ ان کو ساتھ لگاتے ماتھا چومتے ہوۓ بولا۔۔
۔
اریشہ! وہ تو آ سکتی تھی نا ماں تھیں بول پڑیں۔
اماں میں نہیں چاہتا میرا موڈ خراب ہو دادا جی باہر انتظار کر رہے ہوں گے چلتا ہوں۔ وہ عام سے لہجے میں بولتا ہوا آگے بڑھا۔
التمش! داخلی دروازے کی طرف جا رہا تھا جب اسے قریب سے آواز آئی۔ اس آواز کو سن کر وہ رُکا اور سائیڈ میں دیکھا۔ وہ چلتی ہوئی آ رہی تھی۔ خوبصورت سا پشاوری بھاری جوڑا ، جیولری پہنے وہ بالکل وہ آگے بڑھتی ہوئی آ رہی تھی۔ وہ بس ایک پل اسے دیکھ پایا نظریں ہٹا لیں۔
اب کیا اتنی بری لگنے لگ گئی ہوں کہ مجھے دیکھیں گے بھی نہیں ؟ وہ اسکے قریب آکر بولی۔۔
وہ خاموش رہا۔۔۔
کیسی لگ رہی ہوں۔ لگ رہی ہوں نا اس حویلی کا حصہ۔ وہ چہک کر بولی۔ کہ شائد وہ اسکی بات کا جواب دے۔۔
ہاں لگ رہی ہو۔ اس حویلی کا حصہ۔ التمش خان کی زندگی کا حصہ نہیں۔۔۔ وہ سرد انداز میں بول کر باہر نکل گیا ۔۔ زویا کا چہرہ اتر گیا۔۔
میرے ناراض خان! تمہاری زندگی کا حصہ تو میں ہوں۔ اور وہ تو مجھے تمہاری ایک پل مجھے دیکھنے کی نظر سے ہی پتہ چل گیا۔ اب بس اپنے ناراض خان کو منانے کا پلین بنانا پڑۓ گا۔ وہ اسے جاتے ہوۓ دیکھ کر بولی۔۔ ہلکی سی مسکراہٹ اسکے چہرے ہر چھا گئی۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
