Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

اماں جان آپ نے بلایا۔ وہ ڈیرے پر جانے کے لیے تیار تھا۔ جب صائمہ بیگم کا پیغام آیا تو وہ ان کے کمرے کی طرف بڑھا۔
ہاں یہاں بیٹھو مجھے کچھ اہم بات کرنی ہے۔۔۔
التمش سیدھا ان کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔
دیکھو التمش تم جو بھی کر رہے ہو وہ سب تو ٹھیک ہے۔ پر جس طریقے سے تم اپنے دادا جان اور ابا سے بات کرتے ہو وہ بہت غلط ہے۔ تم بہت بدتمیزی سے بات کرتے ہو۔ تمہارے پچھلے دنوں کے برتاؤ کی وجہ سے بیٹے میری تربعیت پر انگلی اُٹھ رہی ہے۔ جو مجھے بہت دکھ دے رہی ہے۔صائمہ بیگم کل کی باتوں کی وجہ سے پریشان تھیں۔اوپر سے رات کو خالد صاحب نے بھی بہت باتیں سنائیں۔۔
ٹھیک ہے اماں میں آئندہ اس بات کا خیال رکھوں گا۔ کہ کسی سے بدتمیزی سے بات نا ہو۔ پر اگر آپ میری اونچی آواز کی وجہ سے بول رہی ہیں۔ تو اماں کل آپ نے دیکھا تو تھا کس طرح سب بول رہے تھے مجھے چِلانا پڑا۔۔ وہ صائمہ بیگم کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔۔۔
صرف چِلانا ہی نہیں تم نے جو کل طنز پر طنز مارے ہیں مین نے سب سنا تھا۔ وہ جتاتے ہوۓ بولیں۔
ہممم چلین پہلے مجھے جواب دیں۔ ابھی تک میں نے جو بھی کیا۔ آپ کو کیا لگتا ہے وہ غلط تھا۔ وہ سوالیہ انداز میں بولا۔
نہیں میرے بچے تم نے تو وہ کیا ہے۔ جو بہت پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ پر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی۔ اور جن میں تھی وہ بھی منہ کے بل ہی گڑے۔ وہ سنجیدہ انداز مین بولیں۔
تو بس اماں جان اپ بالکل بھی پریشان نا ہوں۔ آپ بہت اچھے سے ابا اور باقی سب کی فطرت کو جانتیں ہیں۔ ان کے سامنے اگر اکڑ کر نہین بولون گا۔ تو سب میری باتوں کو ہواؤں میں اُڑا دین گے۔۔ میری جنگ دشمن سے نہیں بالکہ اپنے ہی رشتوں سے ہیں۔ دشمونوں سے لڑنا آسان ہوتا ہے۔ اپنوں سے لڑتے تو بندہ خود ٹوٹ جاتا ہے۔ میں بکھروں نا اس لیے مجھے بس میری پیاری اماں کی دعائیں چائیں۔ کہ میں اپنے ارادوں میں کامیاب ہو جاؤں۔۔ وہ ان کے ہاتھوں کو عقدیت سے چومتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔
میرے بچے میری دعائیں تو ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں۔ اللہ تمہیں تمہارے مقصد مین کامیاب کرے۔ صائمہ بیگم اپنی بگھیں آنکھیں صاف کرتے ہوۓ بولیں۔
چلیں پھر ہنس کر مجھے اجازت دیں تا کہ میں اپنے کام پر جا سکوں۔ وہ مسکرا کر بولا۔۔۔۔صائمہ بیگم بھیگیں آنکھوں سے مسکرا دیں۔التمش مسکراتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔


ہاں سارا سامان پہنچ گیا؟ چلو ٹھیک ہے میں بس نکلنے والا ہوں۔۔ کام شروع کرو۔ وہ آفس میں داخل ہوتے کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔
مس دعا کیا آپ ریڈی ہیں؟ حازم اپنے موبائل پر ٹائپ کرتے ہوۓ بولا۔
افکورس سر میں بالکل ریڈی ہوں۔ میں نے کھانے کا سامان اس ٹوکری میں رکھ لیا ہے۔ فروٹس،جوس آپ کی کافی کی مشین سب رکھ لیا ہے۔اور ہاں گاؤں ہے تو وہاں سردی ہو گئی اس لیے آپ کے لیے گرم کوٹ اور اپنے لیے شال رکھ لی ہے۔ وہ چہکتے ہوۓ سب بتا رہی تھی۔۔۔
ہمم مس دعا ہم وہاں پیکنک کے لیے نہیں کام کرنے جا رہے ہیں۔۔ حازم سخت لہجے میں بولا۔۔۔
سر کیا بات کر رہے ہیں۔ یہ سب بہت ضروری ہے۔ سوچوں اگر ٹھند لگے تو کوٹ پہن سکتے ہو۔ بھوک لگے تویہ فرٹوس اور جو بھی کھانے کا سامان ہے وہ کھا سکتے ہیں۔ وہ دوبارہ سے شروع ہو گئی۔۔حازم بہت صبر سے سن رہا تھا۔
دعا ہم گاؤں جا رہے ہیں نا کہ کسی پہاڑ علاقے میں۔ وہاں پر لوگ رہتے ہیں۔ وہ ہمیں کھانے کے لیے پوچھیں گے۔۔کیا آپ نے ساری فائیلز رکھیں؟ حازم اپنے اوپر صبر رکھ کر بولا۔
سر کیا آپ مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں افکورس میں نء فائلز رکھی ہیں۔ دعا منہ بسورتے ہوے بولی۔
اچھی بات ہے۔اب چلیے دیر ہو رہی ہے۔ وہ بول کر واپس مڑ گیا۔ دعا اپنا بیگ، ٹوکری، شال اور کوٹ اُٹھاۓ لیفٹ کی طرف بڑھی۔۔۔
ویسے سر آپ بہت ہی بے مروت ہیں۔ ایک لڑکی اتنا سارا سامان اُٹھاۓ آ رہی ہے۔آپ نے ایک بار بھی نہین بولو دعا تم تھک جاؤ گئی مجھے دے دو۔ یہ ڈولے شولے کیوں بناۓ ہیں جب مدد ہی نہین کرنی۔۔وہ غصے سے بولی۔
دعا بی ہیو یور سیلف آئیندہ اسطریقے سے مجھ سگ بات مت کرنا۔ بدتمیز۔ تم اس آفس میں صرف ڈیڈ کے کہنے پر ہو۔ ورنہ تم اس لائق نہیں ہو کہ میری سیکٹری بن سکو۔ حازم جب کب سے برداشت کر رہا تھا۔ آخر پھٹ پڑا۔
سوری سر۔ دعا روندھی آواز مین بولی۔۔۔تبھی لیفٹ رک گئی۔۔۔
نانسینس وہ بول کر لفٹ سے باہر نکل گیا۔۔۔۔


ارے واہ بہت اچھے۔ کام شروع بھی ہو گیا۔ حازم یار تم تو برے تیز نکلے۔ کب تک پہنچ رہا ہے؟ ماجد فیکٹری والی جگہ پر پہنچ چکا تھا۔ وہاں پر کام ہوتا دیکھ کر اسنے حازم کو کال کر دی۔۔۔۔
بس دس منٹ تک پہنچ جاؤ گا۔ آگے سے حازم نے جواب دیا
چل تو آ جا پھر بات ہوتی ہے۔ وہ بول کر کال کٹ کر گیا۔
اوے گل خان نا حویلی میں پیغام دے کر آ کہ اچھا سا ڈینر تیار کروائیں۔ میرا دوست آ رہا ہے۔ ماجد نے وہاں پر کام کرتے گل خان کو بولا۔۔ جو کہ ان کا پرانا ملازم تھا۔وہ سن کر حویلی کی طرف روانہ ہو گیا۔
اگلے دس منٹ تک حازم بھی آ گیا۔۔
دونوں اپس میں گلے لگے۔۔۔
ہیلو لیڈی ماجد نے اپنا ہاتھ دعا کی طرف بڑھایا۔ دعا نے مسکرا کر ہاتھ ملا لیا۔۔
ماجد کام تو شروع ہو گیا ہے۔ بس اب کام مین کوئی رکاوٹ نہیں آنی چاہیے۔ مجھے ہر حال میں یہ فیکٹری بنوانی ہے۔ حازم مزدوروں کی طرف دیکھ کر بولا۔ جو کہ صبح سے کام کر رہے تھے۔۔۔۔۔
بالکل جگر کوئی رکاوٹ نہیں آۓ گئی۔ اب یہ فیکٹری تو بن کر رہے گئی۔۔۔ ماجد مسکرا کر بولا۔ تبھی دو آدمی تین کرسیاں لے کر آ گے۔۔۔۔گیارہ کا وقت ہو رہا تھا۔ بہت اچھی دھوپ نکلی ہوئی تھی۔۔۔۔
بتا کیا پیے گا چاۓ بنوا دوں۔ ماجد بول کر موبائل نکلنے لگا۔۔۔
میں جانتی ہوں ابھی سر کو کافی چاہیے۔۔ وہ بنا لیتے ہیں۔ دعا بول کر فوراً کرسی سے کھڑی ہو گئی۔اور گاڑی کی طرف چلی گئی۔
حازم یہ لڑکی کون ہے؟ ماجد دور جاتی دعا کو دیکھ کر بولا۔۔
میری سیکٹری ہے۔۔وہ نارمل انداز میں بولا۔۔۔
واہ یار تیرے تو مزے ہیں۔ سیکٹری بھی کتنی خوبصورت رکھی ہے۔جسے دیکھ کر آنکھ ہٹانے کو بھی دل نا کرے۔ ماجد اپنی موچھوں کو تاؤ دیتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
ماجد تمیز سے وہ میرے انکل کی بیٹی ہے۔ اور میری بہت اچھی دوست بھی ہے۔ حازم کو ماجد کا انداز بالکل پسند نہیں تھا۔۔۔وہ جانتا تھا۔ ماجد ایک نمبر کا عیاش مرد ہے۔
یہ لیجے سر آپ کی کافی۔ اور ماجد بھائی یہ آپ کی کافی وہ دو کپ لے کر ان دونوں لی طرف آئی۔۔۔
دعا کا ماجد کو بھائی کہنا جہاں ماجد کو برا لگا وہی حازم نے اپنی ہنسی چھپانے کے لیے کافی کا مگ ہونٹوں سے لگا لیا۔ ماجد نے کافی پینے سے انکار کر دیا۔ دعا کافی کا مگ لے کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
سر کیا ہم اسی طرح بیٹھے رہیں گے۔ بہت بور ہو رہی ہوں۔ گاؤں خوبصورت لگ رہا ہے۔ مین زرا دو چکر نا لگا آؤ۔ دعا مسکین سی شکل بنا کر بولی۔۔۔۔
بالکل بھی نہیں۔ چپ کر کے بیٹھی رہو۔۔حازم کا جواب سن کر وہ منہ بسور کر بیٹھ گئی۔ ماجد اور حازم اپس مین باتیں کر رہے تھے۔ دونوں کنسٹریکش والی جگہ پر گے۔ حازم انجینیر سے بات کرنے لگا۔۔۔سب سے آنکھ بچا کر اس نے زویا کے نمبر پر میسج کر دیا۔ کہ وہ یہاں ہے۔۔۔۔۔۔
گل خان یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ التمش جو کہ ابھی ڈیرے سے واپس آ رہا تھا۔ یوں زمین کی کھودائی کرتے مزدوروں کو دیکھ کر حیران ہو گیا۔۔ایسا تو ہو نہیں سکتا تھا کہ اس کے بنا کہے کالج کا کام شروع ہو جاۓ۔ اور کالج تو سکول کے ساتھ بنا تھا۔ یہی سوچتے اس نے گل جان کو اواز دی۔۔۔۔
چھوٹے سائیں آپ کو نہیں پتہ گاؤں میں فیکٹری بن رہی ہے۔۔گل خان بولا۔۔
کیا؟ فیکٹری کیا بکواس ہے ہٹو وہ غصے سے گل خان کو سائید پر کر کے وہ ماجد اور حازم کی طرف بڑھا۔۔۔۔
لالا یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ وہ ماجد سے دو قدم دور کھڑا تھا۔ماجد ،حازم اور دعا نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔
التمش نظر نہیں آ رہا فیکٹری کی کنسٹریکشن چل رہی ہے۔ماجد چونکہ کافی دنوں سے اس سے ناراض تھا تو طنزیہ انداز میں بولا۔۔۔
بالکل دیکھ رہا ہے۔ پر یہ زمین گاؤں والوں کی ہے۔ وہ اپنی روزی روٹی یہی سے کماتے ہیں اور آپ سب کو برباد کرنے کے چکر میں ہیں۔ وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرتے ہوۓ۔۔
ہیلو ایکسیوزمی میں حازم ملک ہوں۔ اور یہ فیکٹری میں ہی لگا رہا ہوں۔ حازم آگے بڑھ کر بولا۔۔۔
مسٹر حازم اپ یہ بتانے کی زہمت کریں گے فیکٹری لگانے کی وجہ کیا ہے۔۔وہ بھی ایک چھوٹے سے گاؤں میں۔ التمش اپنے بازو کمر پر باندھ کر سخت لہنے میں بولا۔۔۔۔
مسٹر التمش میں یہ فیکٹری گاؤں والوں کے لیےہی لگا رہا ہوں۔ اور یہاں پر کوئی بھوکا نہیں مرے گا۔ مین فیکٹری میں سب کو کام دوں گا۔۔ حازم ترکی باترکی بولا۔۔
تو پھر مسٹر ملک غور سے سنیں یہ فیکٹری بالکل بھی نہیں لگے گئی۔ کیونکہ فیکٹری سے نکلنے والی گندگی سے میں اپنے خوبصورت گاؤں کو گندہ نہیں ہونے دوں گا۔ التمش بولا
التمش تم ہر معملے میں کیوں ٹانگ اڑاتے ہو۔ حازم میرا دوست ہے۔ اور اگر وہ اس گاؤں کا کچھ۔ بھلا کرنا چاہتا لے تو تمہیں کیا مسلہ ہے۔ ماجد ان دونوں کے درمیان آیا۔ اور التمش کو ہلکا سا دھکا دیا۔ جس سے وہ دو انچ پیچھے ہوا۔۔۔
لالا حد میں رہو۔ میں نے ایک دفع جب بول دیا کہ فیکٹری نہیں بنے گئی تو نہیں بنے گئی۔ التمش چِلایا۔۔
بس بہت ہوا کتنے دنوں سے تمہاری من مانی سہ رہا ہوں۔ ماجد جو اتنے دنوں کا بھرا ہوا تھا۔ مزید برداشت نا کر سکا اور التمش کے چہرے پر مُکہ مار دیا۔۔۔جس سے وہ لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔۔ وہ بے یقینی سے اپنے برے لالا کو دیکھ رہا تھا۔ جس نے آج تک اس پر ہاتھ نہیں اُٹھایا تھا۔ چاہے بات کتنی بھی بری کیوں نا ہو۔۔۔۔۔۔وہی دور کھڑا گل خانیہ سب دیکھ کر حویلی کی طرف بھاگا۔۔۔۔۔تاکہ وہاں سے کسی کو لا سکے۔۔۔۔
بول ا ب کیا بول رہا تھا۔ یہ گاؤں زمین کیا تیری جگیر ہے جو ہر فیصلے پر اڑ جاتا ہے۔۔۔ ماجد نے التمش کو کالرسے پکڑ کر اُٹھایا۔ اور ایک اور مکہ منہ پر چڑ دیا۔۔۔۔
او گاڈ حازم انہیں رُکیے۔ دعا ڈر کر حازم کا بازو ہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔
چپ تماشا دیکھ ۔ دونوں بھائی کیسے کتوں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ حازم مسکرا کر بولا۔ دعا نے حیرانگی سے حازم کی مسکراہٹ کو دیکھا اور اس کا بازو چھوڑ دیا۔۔۔وہ اتنی بھی نادان نہیں تھی جو کچھ سمجھ نا پاتی۔۔۔پر ابھی بھی وہ کلیر نہیں تھی۔۔۔۔
لالا میں وہی بولت اور کرتا ہوں جو اس گاؤں کے لیے بہتر ہے۔ التمش اپنے ناک سے بہتے خون کو ہتحیلی سے صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
بس بہت ہوا تیرا یہ ڈرامہ۔۔ ماجد غصے سے بولا اور ایک مُکہ اس کے چہرے ہر جڑ دیا۔۔۔۔۔اس دفع کا شائد زیادہ زور سے پڑا تھا۔ التمش کا ہونٹ کا کنارہ پھٹ گیا۔۔۔۔۔۔
ماجد کیا کر رہے ہو۔۔۔تبھی گاڑی سے نکل کر بھاگتے ہوۓ خالد صاحب چلاۓ۔ان کے پیچھے جہانگیر خان اور سہیل صاحب بھی تھے۔۔۔۔۔۔
یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے۔ جہانگیر خان ماجد کو التمش سے علحیدہ کرتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
تماشا میں نے نہیں اپ کے اس لاڈلے نے لگایا ہے۔۔ ایک تو اسے ہر بات میں مسلہ ہوتا ہے۔ پہلے جوان بہنوں کو شہر پڑھنے چھوڑ آیا۔ اس کے بعد لاڈ صاحب کالج بنوانے کا وعدہ کر رہے ہیں۔ اور آج تو حد ہو گئی۔ فیکٹری کو روکنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔ماجد غصے سے بولا۔۔۔۔
لالا میں کچھ بھی غلط نہیں بول رہا۔ فیکٹری گاؤں کے لیے صحیح نہیں ہے۔ اور جو غلط ہے وہ ہے۔ اور میں ادکے لیے بولوں گا۔ اس میں چاہے میرے سامنے میرے اپنے ہی کیوں نا کھڑے ہو جائیں۔۔التمش اپنی جیب سے رومال نکال کر ہونٹ کا کنارہ صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔۔
اسے کہتے ہیں ڈھیٹ انسان تمہاری دو باتیں مان لی ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہر بات مانی جاے گئی۔ اور اس فیکٹری کو بنانے کے لیے ابا پہلے ہی آجازت دے چکے ہیں۔۔خالد صاحب اپنے آپ پر قابو پاتے ہوۓ بولے۔۔۔۔
دادا جان آپ نے کیسے آجازت دے دی۔ جب کہ آپ جانتے ہیں اس فیکٹری سے نکلنے والا گندہ اس گاؤں کی فضا کو خراب کر دے گا۔ اور دوسرا آپ نے بنا ان غریب لوگوں کو پیسا دے زمینیں بیچ دیں۔۔۔۔کچھ تو خدا کا خوف کھائیں۔۔۔۔التمش کی آواز میں واضع دکھ تھا۔۔۔۔۔
التمش تم ہمیں نہیں سیکھاؤ گے ہمیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں۔ آخری بات یہ فیکٹری بن کے رہے گئی۔۔ تم اپنے کالج ہر دھیان دو۔۔ میں اسکے لیے تمہیں ایک پھوٹی کوڑی نہیں دوں گا۔۔ جہانگیر خان بولے۔۔۔التمش حیرانگی سے سن رہا تھا۔
واہ دادا جان آج تو آپ نے ایک پل مین پرایا کر دیا۔۔ بہت افسوس ہوا۔۔پر یہ مت سمجھیے گا۔ اگر آپ پیسے نہیں دیں گے تو کالج نہیں بنے گا ۔میں نے اچھا کام کرنے کا عہد کیا یے۔ اوپر والا بیت مہربان ہے۔ وہ پیسے بھی دے گا۔ اور آپ کی نظر کےسامنے میں کالج بنواؤں گا۔وہ بھی تین مہینے کے اندر اندر یہ التمش خان کا وعدہ ہے۔۔۔۔۔۔وہ مظبوط لہجے میں بولا۔۔۔۔جہانگیر خان نے اس کی بات پر کان نا دھرے اور مُڑ گے۔۔۔۔
ماجد مہمانوں کو لے کر حویلی آ جاؤ۔ خالد صاحب بول کر جہانگیر خان کی طرف پلٹے۔
کیا سمجھ میں آیا۔ تو چھوٹا ہے چھوٹا ہی بن کے رہ۔ مت بھول حویلی کا پہلا پوتا میں ہوں۔ اسی لحاظ سے تم سے پہلے میرا حکم چلے گا۔ تو بیٹا زیادہ اُڑو مت ورنہ پر کٹ جائیں گے۔ پھر تم اُڑ تو کیا چل بھی نہیں پاؤ گے۔۔ ماجد التمش کے پاس آ کر طنزیہ انداز میں بولا۔۔
آپ میرے برے بھائی ہو۔ لالا کا درجہ دیا ہے۔ اور ہمیشہ دوں گا۔ آج جو آپ نے میرے اوپر ہاتھ اُٹھایا نا خدا کی قسم لالا اگر کوئی اور ہوتا نا تو ابھی تک ہسپتال مین پڑا ہوتا۔۔ میرے ہاتھوں کو اُٹھنے سے صرف میری ماں کی تربعیت نے رکا ہے۔ آپ شائد بھول گے ہوں۔ پر مجھے میری ماں کی ایک ایک بات یاد ہے۔ التمش اتنا بول کر وہاں سے مڑ گیا۔۔۔۔
ہنہ برا آیا۔۔۔۔ ماجد سر جھٹک کر حازم اور دعا کی طرف بڑھا اور ان دونوں کو لے کر حویلی کی طرف بڑھا۔ حازم نے موبائل نکال کر دعا کے نمبر پر میسج کیا۔۔۔جسے پڑھ کروہ چلتے چلتے رک گئی۔۔ اور سوالیہ نظروں سے حازم جو دیکھا۔ جس نے پلکیں جھپکائیں۔۔دونوں چل دیے۔۔۔۔۔۔۔


زویا اپنے کمرے میں آئی اور لاک لگا کر الماری میں چھپا موبائل نکالا۔ اسے آن کیا تو سامنے ہی حازم کا میسج تھا۔۔۔
یا اللہ یہ لڑکا بھی نا اب پتہ نہیں کیا ہو گا۔۔۔اسے کیوں سمجھ نہیں آتی گاؤں میں کام کرنے کا فائدہ نہیں نقصان ہو گا۔۔۔ہم کسی بھی چھوٹی سی گلتی پر پکڑے جا سکتے ہیں۔ وہ موبائل کو آف کر کے الماری میں رکھ کر کمرے سے نکل سیدھی کیچن کی طرف گئی۔
ٹیوی لاونچ سے بہت ساری آوازیں آ رہیں تھیں۔ زویا اپنے کان لگامے کی کوشش کر رہی تھی۔اور ساتھ ہی برتن دھو رہی تھی۔ وہ سب التمش کی آج کی حرکت کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔۔ ماجد بھی آ گیا حازم تو سب مردوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔ دعا نائلہ کے ساتھ اسکے کمرے میں آ گئی۔۔۔زویا مردوں کو چاۓ دے کر واپس پلٹ گئی۔۔اس نے حازم کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا۔۔
کیچن سے تین کپ چاۓ لے کر وہ نائلہ کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔۔۔ حازم تو اسکی ناراضگی کا سوچ کر ہی پریشان ہو گیا تھا۔ اور سب سے برا اسے زویا کے کپڑوں کو دیکھ کر لگا تھا۔ جو کے بہت پرانے اور خراب لگ رہے تھے۔۔
**“”
سائیں یہ کیا کر رہے ہیں۔ پانی بہت ٹھنڈا ہے۔ گل خان التمش کو قمیض اتارتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔۔
التمش بنا گل خان کی سنے برے سے ٹیوب ویل میں چھلانگ لگا گیا۔۔۔۔ مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ سردی بڑھ رہی تھی۔ پر یہاں کسے پرواہ تھی۔ وہ تو اپنے اندر کی آگ کو بھجانا چاہتا تھا۔ اور ٹھنڈے پانی میں تیرنا اس کے غصے کو کم کر سکتا تھا۔
ایک گھنٹہ پانی مین رہنے کے بعد وہ ٹیوب ویل سے باہر نکلا۔۔۔۔۔
سائیں آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آپ بیمار پڑ سکتے ہیں۔ وہ التمش کو قمیض پہنتے ہوۓ دیکھ کر بولا۔۔۔اور بھاگ کر لکڑیا اکھٹا کر کے آگ جلانے لگا۔۔۔۔
گل خان رہنے دو۔میں ٹھیک ہوں۔ وہ اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
سائیں کیا بات کر رہے ہیں۔ آپ یہاں بیٹھیں میں چاۓ لے کر آتا ہوں۔ وہ التمش کو بیٹھنے کا بول کر خود ساتھ بنے چھوٹے سے کمرے میں گیا جہاں ایک طرف چھوٹی سی چارپائی رکھی تھی تو دوسری طرف ایک چھوٹا سا کیچن تھا۔۔ یہاں گل خان خود رہتا تھا۔ کیونکہ رات کو ڈیرےپر کسی نا کسی کا رہنا ضروری تھا۔ تو گل خان نے اپنا کمرہ بنا لیا۔۔۔۔وہ جلدی سے دو کپ چاۓ بنا کر التمش کے پاس لے آیا۔۔۔
التمش وہاں رکھی چارپائی پر بیٹھا۔۔ گل خان نے چاۓ دی تو اس نے بنا کچھ بولے پکڑ لی۔۔۔۔گل خان پاس پڑے موڑے پر بیٹھ گیا۔۔۔
تمہیں پتہ ہے گل خان انسان اگر اس آگ میں بھی جل رہا ہو تو اسے اتنی تقلیف نہیں ہوتی جتنی تقلیف اسے اپنوں کے سخت رویوں سے ہوتی ہے۔ التمش آگ کو دیکھتے ہوۓ بوۓ بولا۔۔۔
جانتا ہوں سائیں میں خود بھی اپنے اپنوں کے بدلتے رویوں کو سہ چکا ہوں۔ برا ٹوٹ گیا تھا۔ گل خان چاۓ کی چسکی لیتے ہوۓ بولا۔۔۔
ہمممم ٹوٹوں گا پر بکھروں گا نہیں۔ اپنے کہے کو پورا کر کے رہوں گا۔ وہ چاۓ چاۓ کو گھورتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
سائیں آپ ک یہ خادم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے آپ جو حکم کریں گے۔ وہی ہو گا۔۔۔۔ گل خان مسکراتے ہوۓ بولا۔۔
جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہو گا۔ وہ دور دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔