Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode Last
No Download Link
Rate this Novel
Episode Last
حسرتِ دل
ازقلم فاطمہ طارق
لاسٹ قسط
بولو! وہ اسکی طرف متوجہ ہوتے ہوۓ بولا۔ انداز بہت لیا دیا تھا۔
میں جانتا ہوں جو میں نے اور اریشہ نے کیا۔ وہ بہت غلط تھا۔ پر اب تو پانچ سال گزر چکے ہیں۔ کیا آپ ان سب باتوں کو بھول نہیں سکتے۔ سِراج بہت امید بھرے لہجے میں بولا۔
سِراج اگر میں اس وقت یہاں پر اس گھر میں کھڑا ہوں نا تو وہ صرف شمس کی وجہ سے ہے۔ وہ سیرت سے شادی کرنا چاہتا تھا۔ میں کسی طور اسکے رستے کا کانٹا نہیں بننا چاہتا تھا۔ اسی لیے مان گیا۔ اسکا مطلب یہ نہیں میں وہ سب کچھ بھول گیا ہوں۔ یا بھول جاؤں گا۔ تم بتاؤ۔ اگر تم میری جگہ ہوتے تو کیا تم کیا کرتے؟ وہ جوس کے گلاس کو ٹیبل پر رکھتا اسکی طرف متوجہ ہوا۔
سِراج خاموش ہو گیا۔
تم دنوں کی شادی ہو گئی۔ اپنے لائف میں خوش ہو۔ اب تو حویلی میں آنا جانا بھی چالو ہو گیا ہے۔ تو مزید پریشان مت ہو۔ اور زندگی گزارو۔ فنگشن ختم ہو گیا ہے میں چلتا ہوں۔ وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔ سِراج وہی کھڑا رہا۔
وہ سچ بول رہا تھا۔ کچھ مہینے پہلے ہی تو اریشہ کو آجازت مل گئی تھی حویلی جانے کی۔۔ وہ دونوں اپنی زندگی میں خوش تھے۔ ایک بیٹا اللہ نے دیا تھا۔ اب یہ معملہ اریشہ اور التمش کے درمیان تھا۔ چاہیے وہ بات کریں یا نا کرے یہ اسکی مرضعی تھی۔۔
نکاح تو ہو چکا تھا۔ اب رخصتی کا شور اُٹھا۔ رخصتی ہوتے ہی سب گاؤں کی طرف گامزن ہو گے
حازم آپ اتنا گندہ کیوں پھیلا کر رکھتے ہیں؟ وہ چڑ کر بولی۔ کل سے وہ دیکھ رہی تھی سارا کمرہ گندہ ہی رہتا تھا۔ وہ کئی بار صفائی کر چکی تھی
اللہ نے بھی میرے نصیب میں چن کر ایسی بیوی لکھی ہے۔ جو میڈم صاحبہ ایک دن کی دلہن ہونے کے باوجود کمرے کو سر بار صاف کر چکی ہے۔ وہ اپنا کوٹ اتارتے ہوۓ مسکر اکر بولا۔
تو آپ کو بھی اپنی ایک دن کی دلہن کا خیال رکھنا چاہیے یوں گندے بچوں کی طرح گندہ نہیں پھیلانا چاہیے مجھے سخت چڑ ہے۔ اتنی گندی سے۔ وہ ساتھ ساتھ بول رہی تھی اور ساتھ ساتھ صفائی کر رہی تھی۔
چھوڑو اسے جاؤ کپڑے بدل لو وہ اسکے ہاتھ سے کپڑے لیتے ہوۓ بولا۔
کیوں پیاری نہیں لگ رہی؟ وہ منہ بسور کر اپنے کپڑوں کو دیکھتے ہوۓ بولی
پیاری سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی ہو پر تھک گئی ہو گی۔ اسی لیے بولا۔ وہ اسکے چہرے سے بال ہٹاتے ہوۓ بولا۔۔
کر لوں گئی پر پہلے میری سنیں۔ کل سیرت کے ولیمہ پر گاؤں جانا ہے۔ اور میں بتا رہی ہوں۔ مجھے سارا گاؤں دیکھنا ہے۔ وہ بچوں کی طرح ایکسائیٹد ہو کر بولی۔ حازم محبت بھری نظروں سے اسکا چلبلا انداز دیکھ رہا تھا۔
شکریہ دعا! وہ مسکرا کر بولا۔۔
کس کیے؟ وہ سوالیہ انداز سے بولی۔۔
میری زندگی میں آنے کے لیے۔ یہ جانتےہوۓ میرے دل میں کوئی اور تھی۔ پھر بھی میرے مشکل وقت میں میرا ساتھ دینے کے لیے۔ مجھے سے مخلص بے لوص محبت کرنے کے لیے۔۔ اپنی محبت کے دیوں سے میرے دل میں محبت پیدا کرنے کے لیے ہر چیز کے لیے شکریہ۔ وہ جدب کے عالم میں بولا۔ دعا مسکرا دی۔۔
حازم تب میں نے آپ سے محبت کی تھی۔اور یہ جانے بغیر آپ کے دل میں کیا ہے۔ جب مجھے سچائی پتہ چلی تب میں یہاں سے جانا چاہتی تھی۔ پر آپ کا ایکسیڈینٹ ہو جانا، مجھ میں ہمت ہی نا ہوئی کہ جا سکوں۔ آپ کو اتنے درد میں چھوڑ کر بھلا میں جا سکتی تھی۔ وہ نم لہجے میں بولی دعا ان دنوں کو یاد کر کے رو دی تھی۔
پاگل ! رونے کے لیے کس نے بولا۔ روتے ہوۓ بلکل چڑیل لگتی ہو۔ وہ ہنس کر اسے ساتھ لگاتے ہوۓ بولا۔
ہاہ حازم میں چڑیل لگتی ہوں ۔ ہٹیں دور۔ اب مجھے بلاۓ گا مت وہ اسے دھکہ دیتی ساتھ بنے واشروم میں گھس گئی۔ حازم کا قہقہ بلند ہوا۔
وہ ان سب سے پہلے ہی نکل آیا تھا۔ گاؤں کے پاس جا کر اس نے گاڑی ایک طرف کھڑی کر دی اور خود باہر نکل آیا۔ ویس کوٹ نکال کر اس نے ساتھ والی سیٹ پر پھینکی اور خود گاڑی کی بونٹ پر چڑھ کر لیٹ گیا۔ دونوں ہاتھ سر کے نیچے رکھے کھولی آنکھوں سے وہ اوپر کالے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ چہرہ ایک دم سنجیدہ تھا۔
اوپر کالے آسمان پر چمکتے ستارے اسے اپنے دل کے بہت قریب لگ رہے تھے۔ وہ یوں محسوس کر رہا تھا۔ جیسے وہ ان چمکتے ستاروں سے دل ہی دل میں بات کر رہا ہے۔ وہ بہت مگن انداز میں اوپر دیکھ رہا تھا۔ یہاں رکے اسے نا جانے کتنی دیر ہو گئی جب پیچھے سے گاڑی کا ہارن سنائی دیا۔اتنے خوبصورت منظر میں خلل ڈالا گیا۔ وہ لمبی سانس لیتا نیچے اترا۔ اور پیچھے دیکھا تو تقریباً ساری بارات پیچھے کھڑی تھی۔ وہ کسی کو کچھ بولے بنا گاڑی میں بیٹھا اور آگے بڑھا۔
اگلے دس منٹ میں گاڑیاں حویلی پہنچ گئیں۔ دلہن کو اندر لے جایا گیا۔ چھوٹی موٹی رسمیں پوریں ہوئیں۔
چھوٹے سائیں! برے سائیں بلا رہے ہیں۔ گل خان اسے کمرے میں پہنچ کر بولا۔ وہ سر ہلا کر اسکے ساتھ نیچے جہانگیر خان کے کمرے میں پہنچا۔
جی دادا جی آپ نے بولایا۔ وہ ان کے بیڈ پر بیٹھ کر مخاطب ہوا۔ جہانگیر خان بیڈ پر نیم دراز تھے۔ آجکل ان کی طبعیت کافی خراب رہتی تھی۔
ماجد کا کچھ پتہ چلا۔وہ آنکھیں کھول کر مخاطب ہوۓ۔۔
نہیں دادا جی پتہ نہیں کہاں ہے۔ کچھ معلوم نہیں ہوا۔ وہ نظریں چراتا ہوا بولا
ہممم بدبخت پتہ نہیں کہاں چلاگیا۔ پانچ سال ہو گے ہیں۔ جہانگیر خان کھانستے ہوۓ بولے۔۔ التمش نے نظریں چرا لیں۔ کیونکہ وہ کچھ مہنوں پہلے ہی جان چکا تھا۔ ماجد کافی سالوں پہلے سے ہی چھپ چھپا کر ایک کمپنی کے ساتھ انوال تھا جو کہ حرام کا پیسہ کماتے تھے۔ وہ کمپنی کے آر میں چھپ چھپا کر سمگلنگ کا کام کرتے تھے۔ وہ اس دن پرپکڑے جانے کے ڈر کی وجہ سے یہان سے بھاگ گیا تھا۔ لیکن پچھلے سال ہی وہ پکڑا گیا اتنے سال وہ انہی کے ساتب سمگلنگ کا کام کرتا رہا ۔ اور پکڑا گیا۔ التمش کو بات کچھ مہینے پہلے ہی ارحم نے بتائی اس نے سب سے چھپانا ہی مناسب سمجھا ورنہ سب بہت پریشان ہو جاتے۔ ویسے بھی بہت مشکل سے حویلی کا ماحول ٹھیک ہوا تھا۔ صائمہ بیگم بہت مشکل سے سحنمبلی تھیں۔
صائمہ بہو تمہاری شادی کروانا چاہتی ہے۔ جہانگیر خان نے کمان سے تیر نکلا۔ وہ جانتے تھے یہ بہت برے طریقے سے چھبے گا۔
میں بھی سوچ رہا ہوں کر ہی لوں۔ بہت رہ لیا اکیلا۔ اب اچھی اور سمجھنے والی بیوی لانی ہی چاہیے۔ وہ سوچتے ہوۓ بولا۔۔ جہانگیر خان کی آنکھیں حیرت پوری کی پوری کھل گئیں۔
ہممم لگتا ہے اسکو مکمل بھول گے؟ انہوں نے سرد انداز سے کہا۔
کس کو؟ اگے سے بھی ویسا ہی سوال آیا۔
کسی کو نہیں چھوڑ۔ تم جاؤ یہاں سے مجھے سونا ہے۔ انہوں نے کافی غصے سے کہا۔ التمش اُٹھا اور وہاں سے نکل گیا۔
ان کا علاج تو اب مجھے ہی کرنا پڑے گا۔ گل خان! انہوںنے کچھ سوچ کر گل خان کو آواز دی۔۔
لندن:
آپ کو یہ کھانا تو پڑے گا۔ ورنہ علاج کیسے ہو گا۔۔وہ باؤل پکڑے اسے سوپ پلانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔
نو نیور! مجھے پتہ ہے آپ بعد میں کڑوی دوائی کھلا دو گئی اگلے سے وی منہ بسور کر بولا۔۔
اب اگر میرے ببلو کو میرے ساتھ پارک میں کھیلنے جانا ہے تو یہ سوپ اور دوائی تو کھانی پڑے گئی۔ وہ مسکرا کر بولی۔
سچ میں وہ منہ کھولے بولا۔ اگلے نے ہاں میں سر ہلایا۔ اس نے جلدی سے سوپ پینا شروع کیا۔۔وہ مسکرا دی۔
ڈاکٹر زویا! وہ منگن انداز میں اسے دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے آواز آئی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو نرس کھڑی تھی۔
جی۔ وہ چل کر اسکے قریب آئی۔ بلو کلر کی فراق پہنے بازو پر وائٹ کوٹ رکھے سر پر سٹالر حجاب کی شکل میں لیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی۔ وہ مسکرا کر نرس کے قریب آئی۔
ڈاکٹر آپ کے آفس میں بہت دیر سے آپکا فون بج رہا ہے۔ جا کر دیکھ لیں۔ آپ کے نانا جی نے کافی دفع ہسپتال کے نمبر پر بھی کال کی ہے۔ کافی پریشان لگ رہی تھے۔ نرس نے فوراً سب بتایا۔ زویا اسکی سنتے ہی وہاں سے بھاگی۔ اور اپنے کمرے میں آئی۔ موبائل اُٹھایا تو پچاس مس کالز تھیں۔ وہ پریشان ہو گئی جلدی سے کال ملائی۔
ہیلو نانو کیا ہوا؟ اتنی زیادہ کلالز۔۔۔ وہ پریشانی سے بھری آواز میں بولی۔۔
ہیلو بی بی برے سائیں کی طبعیت بہت خراب ہے۔ ڈاکٹر نے بولا ہے وہ آخری وقت پر ہیں۔ وہ بار بار آپکا نام لے رہے ہیں۔ جلدی سے آ جائیں۔ آگے سے گل خان کی روتے ہوۓ آواز آئی۔ زویا کے ہاتھ پاؤں کانپے۔۔
گل خان آپ انہیں بولیں میں میں جلدی ہی آ جاتی ہوں۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔ اور کال کاٹ دی۔ اپنی چیزیں لے کر وہ اگلے دس منٹ میں ہسپتال سے نکلی۔ اپنے فلیٹ پر پہنچ کر اس نے اپنی دوست میرب کو بلایا۔۔۔
زویا پانچ سال پہلے جب لندن آئی تو فوراً اس فلیٹ میں پہنچی۔ اسکے بعد وہ کافی دنوں تک بہت ڈسٹرب رہی۔ اپنے آپ پر قابو پا کر اس نے یہاں کے بیسٹ میدیکل کالج میں ایدمیشن لے لیا۔ یہاں پر اکیلے رہنا مشکل تھا۔ وہی اسکی دوستی میرب سے ہوئی۔ دونوں ڈاکٹر کے پروفیشن میں تھیں۔ ان سالوں میں پاکستان اسکا رابطہ بس جہانگیر خان کے ساتھ تھا وہی اسکے اکاونٹ میں پیسے بھیجتے جس سے وہ اپنی میڈیکل کی پڑھائی اور باقی خرچے پورے کرتی۔۔ پاکستان میں جہانگیر خان اسکا وعدہ نا نبھا سکے۔ اور کچھ ہفتوں بعد سب کے فورس کرنے پر انہوں نے بتا دیا کہ وہ لندن میں ہے۔ سب نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی پر اس نے نمبر بدل لیا۔ اور صرف جہانگیر خان سے بات کرتی۔ وہ بھی کسی کو معلوم نا تھا۔ وہ نہیں چاہتی تھی۔ باقیوں سے بات کرتے وقت التمش کا ذکر نکلے۔۔ اور وہ دوبارہ سے بھٹکے اسنے اپنا سارا وقت میڈیکل کی پڑھائی کو دینا چاہتی تھی۔ اب یوں آچانک جب اپنے سب سے قریبی رشتے کو کھوتے دیکھ کو بھوکھلا گئی۔ روتے ہوۓ وہ میرب کے ساتھ سامان پیک کر رہی تھی۔ ٹکٹ تو وہ ہسپتال سے نکلنے سے پہلے ہی بک کر چکی تھی۔ صبح کے چھے بجے کی فلائیٹ تھی۔ اور ابھی رات کے نو بج رہے تھے۔۔
وہ بہت مشکل سے سامان پیک کر رہی تھی۔ میرب اسے بہت مشکل سے چپ کروا رہی تھی۔۔
میرب کیا میرا آخری سہارا بھی چھن جانے والا ہے۔ میرے گناہوں کی اتنی سزا کافی نہیں۔ وہ روتے ہوۓ میرب سے بولی۔
کچھ نہیں ہو گا تم چپ کرو ۔ میرب اسے چپ کروانے کی نا کام کوشش کر رہی تھی۔۔
اس نے ہسپتال فون کر کے ایمرجنسی میں چھٹی لے لی۔ رات کے تین بج چکے تھے میرب اسے چھوڑنے ایرپورٹ پہنچی۔ وہ اس سے مل کر اندر چلی گئی۔ سب پراسس کمپلیٹ کر کے وہ جہاز میں بیٹھی۔ کچح ہی دیر میں جہاز آسمان پر اُڑنے لگا۔۔ وہ اپنی نقاب سے جھلکتی آنکھوں کو صاف کرتی دھندلی نظروں سے جہاز کی چھوٹی سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔۔ اسکے سامنے پانچ سال کا منظر گھوما جب وہ پانچ سال پہلے بالکل اسی طرح افرا تفری میں لندن پینچی تھی۔ اور آج وہ بالکل اسی طریقے سے واپس پاکستان جا رہی تھی۔۔ ان سالوں میں ایک انسان تھا جس نے ہر قدم پر اسکی سوچوں کا پیچھا کیا۔ وہ اس سے بھاگنے کے لیے یہاں آئی تھی اور آج وہ دوبارہ سے اسکی کے ملک جا رہی تھی۔ آٹھ گھنٹے کی لمبی مفاست کے بعد جہاز پاکستان کی زمین پر اترا۔ گیارہ بجے کا وقت تھا۔ بلیک برقعے میں چہرے پر نقاب کیے وہ اپنا سامان لیے تیزی سے چلتی ایر پورٹ سے باہر نکلی۔ سامنے گل خان کھڑا تھا۔
گل خان یہ سامان رکھیں اور جلدی سے ہسپتال چلیں۔ وہ جلدی سے گل خان کے قریب پہنچ کر بولی۔۔
بی بی جی ہسپتال نہیں حویلی جانا ہے۔ برے سائیں اپنی آخری سانسیں حویلی میں لینا چاہیتے تھے وہ اپنی انکھیں پوچھتے ہوۓ بولا۔۔
چلو جلدی سے وہ سھنمبل کر بولی۔۔ گل خان اسکا سامان لیے گاڑی کی ڈکی میں رکھا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا۔ زویا پچھلا دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ وہ جانتی تھی۔ یہاں سے دو گھنٹے مزید لگے گے۔ وہ چپ کر کے بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے نظر کا چشمہ اتارا اور بیگ مین رکھا۔ ۔
گاڑی گاوں کی حدود میں داخل ہو گئی۔ زویا نے شیشہ نیچے کر دیا۔ اور باہر دیکھنے لگی۔ گاوں کی سرکیں بنی ہوئیں تھیں۔ گاڑی تیز رفتار سے سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ زویا کی نظر ایک عمارت پر پڑی۔ جب اوپر لکھی عبارت پڑھی تو برے برے لفظوں میں مہوش ہسپتال لکھا تھا وہ اتنا برا تو نہیں پر اتنا چھوٹا بھی نا تھا۔ تھوڑی دور گاڑی گزری تو سکول اور کالج سے بہت ساری لڑکیاں ہنستی مسکراتیں باہر نکل رہیں تھیں جیسے ابھی ابھی چھٹی ہوئی ہو۔۔ تھوڑی اور دور گاڑی گئی تو جہاں اس وقت میں فیکٹری بن رہی تھی اج وہاں ایک چھوٹا سا پارک اور ایک چھوٹی سے بیکری بنی ہوئی تھی۔ زویا حیرانگی سے ان سب تبدیلوں کو دیکھ رہی تھی۔ اسکی حیرانگی کا ٹھیکانہ تب نا رہا جب لوگوں کے کافی گھروں کو اچھی شکل میں دیکھا۔ اسے اپنے کہے گے الفاظ کانوں میں گھونجے۔ وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب حویلی جا دروازہ کھولا اور گاڑی اندر داخل ہوئی۔ اسکی دل کی ڈھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ اہنے سامنے وہ مہینے گزرے جب وہ یہاں آئی تھی۔ اور کس طریقے سے وہ یہاں سے گئی تھی۔
لیکن ابھی فل حال وہ صرف جہانگیر خان کے پاس جانا چاہتی تھی۔ وہ اپنا پرس کندھے پر ڈالے جلدی سے گاڑی سے نکلی اور بھاگ کر اندر کی طرف بڑھی۔ یہ وقت دوپہر ایک بجے کا ہو رہا تھا۔۔
نانو نانو وہ بھاگتی ہوئی جہانگیر خان کے کمرے کی طرف گئی۔ اسکی آواز پانچ سالوں بعد حویلی مین گھونجی تھی۔ جس جس نے سنی وہ حیرانگی سے اس سمت دیکھ رہا تھا جہاں سے وہ بھاگ رہی تھی۔
زویا! صائمہ بیگم نے حیرانگی سے کہا۔ وہ چلتی ہوئی جہانگیر خان کے کمرے کی طرف گئیں۔
نانو آپ ٹھیک تو ہیں نا گل خان نے فون کیا کہ آپ۔۔۔ وہ روتے ہوۓ اور ہکلاتے کمرے میں داخل ہوئی اور بھاگ کر جہانگیر خان کے بیڈ پر بیٹھی اور جلدی سے ان کی نبض چیک کرنے لگی۔۔وہ بیڈپر ٹیک بیٹھے ہوۓ تھے۔ وہی کمرے میں ایک طرف وئیل چیر پر خالد صاحب ،اور صوفے پر سہیل صاحب اور رفاقت صاحب بیٹھے ہوۓ تھے۔ حویلی میں شادی کی وجہ سے کافی گہما گہمی تھی۔۔
بس بیٹے اپنی آخری سانسوں کے چلتے آخری دفع تمہیں دیکھنا چاہتا تھا۔ جہانگیر خان بیماروں والا چہرہ بنا کر بولے۔۔
پر آپ کی نبض تو ٹھیک ہے۔ وہ حیرانگی سے بولی اور دوبارہ سے نبض چیک کرنے لگے۔
ابا جی کیا ہوا آپ کو آخری سانسیں ہمیں کیوں نہیں بتایا رفاقت صاحب جلدی سے ان کے قریب آ کر بولے۔۔
نانو آپ نے جھوٹ بولا۔ وہ شاک کے انداز میں بولی ۔ صائمہ اور آئمہ دونوں کمرے میں داخل ہوئیں۔
جھوٹ نہیں بولا بس تمہیں پاکستان بلانے کے لیے چھوٹا سا وہ کیا بولتے ہیں پرینک کیا۔ تا کہ تم بھاگی بھاگی اپنے نانو کے پاس آ جاؤ۔ ورنہ کیا پتہ کس دن آنکھیں بند ہو جائیں۔ بچے ہوۓ دن یا مہینے ہم اپنی نواسی کے ساتھ گزارنا چاہتے تھے۔۔ وہ نم آنکھوں سے بولے۔
آئی ہیٹ یو ۔ پتہ ہے کتنا ڈر گیی تھی۔۔ مجھے لگا آپ بھی چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ باقی سب کی طرح۔۔ وہ روتے روتے جہانگیر خان کے سینے سے لگ گئی۔ جہانگیر خان نے نم آنکھوں سے اپنا کمزور ہاتھ شفقت سے اسکے سر پر رکھا۔
کس طرح سے لندن سے آئی ہوں آپ کو پتہ بھی نہیں۔ دل کر رہا تھا اُڑ کر آ جاؤ۔ پر آپ کو تو پرینک کی پڑی ہوئی تھی۔۔ اتنے گھنٹے انگاروں پر گزارے ہیں۔ وہ روتے روتے بول رہی تھی۔ تبھی اسکی ہچکی بند گئی۔
زویا اتنا مت رو ابا جی کا دل تو ویسے ہی چھوٹا ہے کہی بی پی لو نا ہو جاۓ صائمہ بیگم نے اسے چپ کرواتے ہوۓ کہا۔
تو مامی آپ بتائیں کیا نانو نے صحیح کیا۔ وہ سیدھی ہو کر بیٹھی ۔۔
جیسا تم نے پانچ سال پہلے یہاں سے جا کر کیا تھا۔ اس سے سب ہرٹ ہوۓ تھے۔ کیا وہ صحیح تھا۔ صائمہ بیگم روٹھے ہوۓ لہجے میں بولیں۔
ایم سوری مامی وہ وہی بیٹھی کان پکڑ کر بولی ابھی تک وہ نقاب میں تھی۔ صائمہ بیگم نے شفقت سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا۔
داد جی یہ لیں آپ کی بی پی کی دوائی۔ وہ کمرے کے دروازے سے اندر داخل ہوتے مصروف انداز میں بولا۔ سالوں بعد یہ آواز سن کر زویا کو اپنی دل کی دھڑکنیں تیز ہوتے ہوۓ محسوس ہوئی۔ ۔ وہ چلتا ہوا بیڈ کے قریب آیا۔ زویا نے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر پلٹ کر دیکھا۔ التمش جہاں تھا وہی رک گیا۔ دونوں کی نگاہیں ملیں۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ اسے پہچان گیا۔ وہی پہلے دن کی ملاقات والا منظر تھا۔ وہی پردے میں لپٹیں نیلی آنکھیں جن میں ایک چمک تھی۔ پر آج اس نے اسکی آنکھوں میں نمی دیکھی۔ پانچ سالوں کا عرصہ ایک پل میں اُڑ گیا۔ وہ شاک سا اپنے سامنے اسے دیکھ رہا تھا۔
یہ خوبصورت لمہے بس چند ہی پل کے تھے۔ التمش اس کی گہری نگاہوں سے جھٹ سے نکلا اور چلتا ہوا اسکے قریب پہنچا۔
دادا جان یہ دوائیاں وہ سائیڈ ٹیبل پر دوائی کا شاپر رکھ کر بنا کسی کی طرف دیکھے کمرے سے باہر نکل گیا۔ اسکے نکلے ہی جہانگیر خان کے ہونٹوں ہر مسکراہٹ پھیلی۔۔
زویا نے ان کی طرف دیکھا۔ وہ سمجھ گئی انہوں نے اسے یہاں کیوں بلوایا ہے۔ وہ انہیں ناراضعی بھری نظروں سے دیکھتی رہی۔
زویا چلو باقی سب سے بھی مل لو۔ آئمہ بیگم نے اسے ساتھ لیے کمرے سے باہر نکل گئیں۔ زویا باقی سب سے ملنے لگی۔۔ اور کچھ دیر کے لیے اریشہ کے کمرے میں آرام کرنے آ گئی۔
چینج کر کے وہ بیڈپر لیٹی اور آنکھیں بند کیں۔ آنکھوں کے پردے پر اسی ظالم کا چہرہ چھا گیا۔ جس سے کچھ دیر پہلے نگاہیں ٹکڑائیں تھیں۔ اسکی بے رخی نے اسے اندر سے دوبارہ چھلنی کر دیا تھا۔ پانچ سالوں سے جو بندھ اس نے لگاۓ تھے آج وہ دوبارہ سے ٹوٹ گے۔ وہ چہرہ تکیے میں چھپاۓ خوب روئی۔۔۔۔
وہ حویلی سے نکل کر سیدھا ڈیرے پر آ گیا۔ درخت کے سائے کے نیچے چارپائی پڑی ہوئی تھی وہ وہی لیٹ گیا۔
حویلی میں شمس اور سیرت کے ولیمے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ سیرت کو پارلر والی حویلی میں ہی تیار کر رہی تھی۔ باقی سب بھی تیار ہو رہے تھے۔ باہر گارڈن میں دو ٹینٹ لگاۓ گے تھے ایک طرف مرد اور دوسری طرف عورتیں تھیں۔
تین بجے کے قریب حازم اپنی ساری فیملی اور باقی کچھ رشتے داروں کے ساتھ پہنچ گیا تھا۔ کچھ سالوں پہلے جس خاندان جس حویلی کو وہ برباد کرنا چاہتا تھا۔ آج اسی خاندان می۔ اپنی بہن بیاہی تھی۔ وہ ان سالوں میں وہ سر سے پاؤں تک بدل گیا تھا۔ اور یہ سب کو نظر بھی آ رہا تھا۔
چھوٹے سائیں سب مہمان آ چکے ہیں۔ آپ کو بھی چلنا چاہیے۔ وہ آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا تھا جب پاس سے گل خان کی آواز آئی۔
ہمم چلو وہ اُٹھا اور حویلی کی طرف بڑھ گیا۔ سارے مہمان پہنچ گے تھے۔
حد کرتے ہو التمش مہمان آ گے ہیں تم ابھی تک تیار نہیں ہوۓ۔ زویا کو بھی ابھی ابھی تیار ہونے کا بول کر آئی ہوں۔ جاؤ جلدی سے تیار ہو کر آؤ۔ صائمہ بیگم اسے اب حویلی اتے دیکھ کافی غصے میں آئیں۔ وہ سر ہلا کر کمرے میں آیا اور بے دلی سے تیار ہونے لگا۔ تیار ہو کر وہ نیچے آگیا۔ سیڑھیوں سے نیچے اترتے اسکی نظر سامنے منت اور ناقی سب کو ملتی زویا نظر آئی۔ کچھ دیر پہلے تو وہ اسے نقاب میں دیکھ چکا تھا۔ آج پانچ سالوں بعد وہ اسکا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ بلیک کلر کی سمپل سی فراق چوڑی دار پجامے کے ساتھ پہنے چہرے پر ہمشہ کی طرح اسکاف اوڑھے کندھے پر لال بھاری ڈوپٹہ جس پر خوبصورت کڑھائی ہوئی تھی ڈالے ہلکے سے نیچرل میک اپ کے ساتھ وہ دل کو چھو جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی۔ ایک ٹھڑاؤ پن اسکی ذات میں دیکھائی دے رہا تھا۔ وہ سب سے بہت اچھے سے مل رہی تھی۔ دل سے وہ ہر بات نکال چکی تھی۔
سبھی اسے دیکھ کافی سرپرائیز تھے۔ وہ مسکرا کر بات کر رہی تھی جبھی اسکے موبائل پر کسی کا فون آیا۔ وہ ایکسیوز کر کے ایک طرف چلی گئی۔ التمش کافی دیر سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے بہت بدلی سی لگی۔
اہہممم اگر بولیں تو انہیں یہی بلوا لوں۔ پاس سے سعد کی آواز آئی۔التمش نے پلٹ جر ادے آنکھیں دیکھائیں۔
سنا ہے ڈاکٹر بن گئی ہیں۔ آپ بھی اپنا دل، دماغ لے کر ان کے پاس جائیں شائد ٹھیک کر دیں۔ ویسے مجھے لگتا ہے ایک وہی انسان ہے جو آپ جیسے کا دماغ دل ٹھیک کر سکتا ہے۔ رکیں میں بلاتا ہوں۔ سعد شراتاً انداز میں بولا۔ اس سے پہلے التمش اسے رُکتا وہ زویا کی طرف بڑھا۔
ہیلو زویا بھابھی! سعد مسکراتا ہوا بولا۔۔ زویا نے پلٹ کر دیکھا۔ تبھی اسکی نظر سامنے التمش پر گئی۔ جو کہ اب رفاقت صاحب سے بات کر رہا تھا۔ بلیک کلر کی شلوار قمیض پہنے وہ اسکو آج بھی اپنے دل میں اترتا ہوا محسوس ہوا۔ اپنے دل کی دھڑکنوں کو سھنمبال کر وہ سعد کی طرف متوجہ ہوئی۔ جو اسے اپنی بیٹی سے ملوا رہا تھا۔ زویا مسکرا کر اسکی پیاری سی پری کو دیکھ رہی تھی۔۔
اسی طرح ولیمے کا فنگشن اپنے اختتام کو پہنچا۔ حازم کی ساری فیملی آچانک ہونے والی زوروں کی بارش کی وجہ سے یہی رک گئے۔ باقی سب مہمان چلے گے۔ ان کو زبردستی جہانگیر خان نے رُک لیا تھا۔
سب نے کھانا اچھے سے نہیں کھایا تھا اسی لیے صائمہ بیگم نے سب کے لیے کھانا لاونج میں لگوایا۔ زمین پر میٹرس بچھواۓ ان کے اوپر کھانا لگایا گیا۔ سب مرد ایک طرف اور عورتیں دوسری طرف بیٹھ کر کھانا کھانے لگیں۔
زویا اتنے عرصے بعد سب سے مل کر کافی خوش لگ رہی تھی۔ وہ ان سب کو بہت مس کرتی تھی۔
زویا تم ڈاکٹر بن گئی ہو تو اب اسی ہسپتال میں نوکری کر لینا۔ کیسا ؟ منت کچھ سوچ کر بولی۔۔ سب اسکی طرف متوجہ ہوۓ۔
نہیں مجھے ایک ہفتے تک واپس جانا ہے۔ لندن میں ہی نوکری کروں گئی۔ وہاں سے ایسے نہیں چھوڑ سکتی۔۔ وہ مسکرا کر بولی۔
اماں! آپ نے بہت بار شادی کے لیے پوچھا تھا نا۔ آج صبح ہی دادا جان کو میں ہاں کر آیا ہوں جہاں دل چاہے شادی کر دیجیے گا۔ زویا کی بات سن کر التمش نے سنجیدہ انداز مین کہا۔ سب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔۔ زویا اسکا ایک ایک لفظ سن رہی تھی۔ چاولوں کا چمچ بھر کرمنہ میں ڈالا۔ اسے نگل کر پانی پیا اور دوسری صف میں بیٹھے التمش کی طرف دیکھا جو اتنی بری بات بول کر اب مزے سے بریانی کھا رہا تھا۔
اپ سب یہی پر موجود ہیں۔ تو میں بھی ایک فیصلہ سنانا چاہتی ہوں۔ پانچ سال سے مین اس مسلے پر سوچ رہی ہوں۔ اور میں نے فیصلہ کیا کے۔ مجھے طلاق چاہیے۔ میں اپنی نئی زندگی شروع کرنا چاہتی ہوں۔ باقی جب خوش ہیں تو میں بھی خوش ہونا چاہتی ہوں۔ وہ سمجیدہ انداز میں بولی۔ اب سب نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ کہ آج ان دنوں نے نا جانے کیا کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جو ایک ایک کر کے شاک دے رہے تھے۔ التمش نے لال انگاروں بھرے آنکھوں سے اسے دیکھا۔ جو اب اُٹھ کر اپنی چپل پہنتی جہانگیر خان کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ التمش اگلے ہی پل اُٹھا اور بنا کسی کو دیکھے اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔
یا اللہ یہ دونوں ہی پاگل ہو گے۔ بچوں کی طرح لڑ رہے ہیں۔ مین تو کہتی ہوں کہی بند کر دو۔ لڑ لڑ کے ٹھیک یو جائیں گے۔ صائمہ بیگم اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوۓ بولیں۔
کچھ نہیں ہو گا ٹھیک ہو جائیں گے۔ دونوں کے اندر غصہ بڑھا ہوا ہے۔ ایک دفع غصہ نکلا تبھی دونوں ٹھیک۔ آئمہ بیگم۔بولیں۔۔
ان کا یہی علاج ہے۔ برے آۓ میں شادی کے لیے تیار ہوں جس سے چاہے کر دو۔ وہ جہانگیر خان کے کمرے مین چکر لگاتے ہوۓ التمش کی نکل اتار رہی تھی۔
تم نے ڈائریکٹ طلاق کی بات کر دی وہ ٹھی تھی۔ جہانگیر خان بولے۔
نانو طلاق کی بات پر ان کا چہرہ دیکھنا تھا۔ لال ٹماٹر کی طرح بن گیا تھا۔ اگر وہ شادی کی بات کر کے میرا دل جلا سکتے ہیں تو طلاق کی بات کر کے میں کیوں نہیں۔ وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر غصے سے بولی۔۔
ہاہاہا ٹھیک ہے۔ اگر اس نے سچ میں شادی کر لی تو؟
اس روٹھی محبوبہ کی اتنی ہمت میرے سامنے شادی کرے گلا دبا دوں گی۔ اور اگر ایسا کر بھی لیا نا تو تو مین بھی شادی کر لوں گئی۔ وہ چڑتے ہوۓ بولی۔۔
یہاں آؤمیری بات سنو۔ جہانگیر خان سیریس ہوتے ہوۓ بولے۔ زویا چلتی ہوئی ان کے قریب آ کر بیٹھی۔۔
تمہیں کیا لگتا ہے میں نے تمہیں اس طریقے سے کیوں بلوایا؟ وہ سنجیدہ انداز میں بولے۔
کیونکہ اپ کو میری یاد آ رہی تحی۔
نہیں کیونکہ وہ تمہیں یاد کرتا ہے۔ جس دن تم گئی تھی۔ وہ سردی میں بخار مین ہونے کے باوجود وہی لیٹا رہا اور وہی بے ہوش ہو گیا۔ کیوں کہ اسے تمہارے جانے کا پتہ لگا تھا۔ میں نے اُسے اسکے بعد بالکل خاموش، دیکھا ہے۔ وہ کام مین ایسا ڈوبا کہ کم ہی حویلی میں نظر آتا۔ سارے گاؤں کو بدل کر رکھ دیا۔ کبھی جو مجھے کرنا چاہیے تھا ان سالوں مین وہ سب اس نے کیا۔ بہت بار اسے راتوں کو ساری ساری رات چھت پر چلتے اوت گم سم دیکھا۔۔ وہ تم سے پاگلوں کی طرح پیار کرتا ہے۔ اب جب یہاں ا گیی ہو تو اس سے بات کرو اور جاننے کی کوشش کرو وہ کس بات کو دل پر لگاۓ بیٹھا ہے جہاں تک میں جانتا ہوں التمش جیسا بندہ اگر اتنا ناراض ہے تو اکسے پیچھے وہ وجہ نہیں جو ہم سوچ رہے ہیں۔ اسے ضرور کوئی اور بات ہرٹ کی ہو گی۔ جہانگیر خان نے بہت پیار سے اسے سمجھایا۔
زویا نے سر ہلایا۔
نانو وش می لک میں زندہ واپس آ جاؤ۔ وہ ان کی ساری باتیں دھیان سے سنتی سمجھتی اُٹھ کر کھڑی ہوئی اور کمرے سے باہر نکلی۔۔۔
یا اللہ بہتر کرنا میرے بچوں کی خوشیاں واپس لوٹا دینا۔ جہانگیر خان ہاتھ جوڑ کر دعا کرتے ہوۓ بولے۔۔
حویلی میں خاموشی کا راج تھا۔ سب اپنے اپنے کمروں میں سکون کی نیند سو رہے تھے۔ وہ جہانگیر خان سے بات کر کے اوپر التمش کمرے کی طرف آ گئی۔ کمرے کا دروازہ کھولا ہوا تھا۔ اندر جھانک کر دیکھا تو کمرہ پورا خالی تھا۔ وہ کمرے میں چلی آئی۔ کمرہ ویسے کا ویسا ہی تھا۔ جیسا وہ پانچ سال پہلے چھوڑ کر گئی تھی۔
کہاں ہوں گے؟ کمرے میں اسے نا پاتے ہوۓ وہ باہر۔ نکلی۔ اور دوسرے کمروں میں جھانکے لگی۔ کچھ سوچ کر وہ حویلی کے چھت پر چلی آئی۔ پورے چھت پر صرف ایک ہی لائیٹ جل رہی تھی۔ جس سے ہلکی سی روشنی چھائی ہوئی تھی۔ اسکی نظر سامنے گئی۔ وہ سامنے چھت کے بالکل آخری کونے پر کھڑا تھا۔ وہ آہستہ سے چلتی اسکے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی۔
اب کیا لینے آئی ہو؟ بنا پلٹے وہ بولا۔
مجھے آپ سے بات کرنی ہے؟ اسکی سرد آواز سن کر وہ خود میں ہمت پیدا کرتے ہوۓ بولی۔
ہنہ بات۔۔ کیا بات کرنی ؟ طلاق لینی ہے؟ وہ پلٹ کر طنزیہ انداز میں بولا۔۔
آپ کو سچ میں ایسا لگتا ہے۔ میں طلاق لینا چاہتی ہوں۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوالیہ انداز سے بولی۔
تمہارا کیا۔ طلاق لینے ہی تو آئی ہو۔ تمہیں کونسا کسی چیز سے فرق پڑتا ہے وہ نظریں ہٹاتے ہوۓ بولا۔
واؤ مجھے فرق نہیں پڑتا مجھے! التمش خان اگر مجھے فرق نا نا پڑتا ہوتا نا تو یوں آدھی رات کو یہ ملک چھوڑ کر نا جاتی۔ صرف اپکا نام اپنے نام کے ساتھ جوڑے رکھنے کے لیے ساری زندگی وہاں رہ سکتی تھی۔ کبھی پلٹ کر نا آتی اگر نانو جھوٹ نا بولتے۔۔ وہ نم آنکھوں سے بولی۔۔
کیا فائدہ پانچ سال ضائع کرنے کا اب بھی تو طلاق مانگ رہی ہو۔ وہ طنزیہ انداز میں بولا۔۔
جب آپ شادی کی بات کر کے میرا دل جلا سکتے ہیں تو میں طلاق کی بات کیوں نا کرتی ایسے ہی بکواس کی تھی۔ وہ اسکی طرف دیکھ کر بولی۔ وہ چپ ہو کر اسے دیکھنے لگا۔جیسے یہی سننا چاہتا ہو۔
آپ کو طلاق کے نام پر اتنی تقلیف نہیں ہونی چاہے جب اس رات مجھے خود۔۔۔۔۔ اگر میں نا رُکتی۔ آپ تو اس دن ہی اپنی زندگی سے نکال دیتے۔ وہ بولتے بولتے رو دی۔ وہ ابھی بھی کچھ نا بولا۔اسکے سامنے بھی اس رات کا تقلیف دہ منظر آ گیا۔
محبت کرتے تھے نا تو کیا محبت میں معافی نہیں دی جاتی۔ کتنی دفع معافی مانگی تھی مگر آپ اپنی انا میں رہے۔ اور جہاں تک بدلہ لینے کی بات ہے۔ اگر میں اپنے ماں باپ کا بدلہ لے رہی تھی۔ تو آپ بھی تو روحان سے اپنے بھائی کا بدلہ لے رہے تھے۔ تو حساب برابر ہوا نا وہ غصے سے بولی۔
تمہیں ابھی بھی لگ رہا ہے میں تمہارے اس بدلے والے عظیم پلینز کی وجہ سے ناراض تھا واہ زویا بس اتنی ہی سمجھی مجھے۔ وہ اسکی بات سن کربولا۔
تو پھر کیوں ناراض ہیں؟ وہ پوری اسکی طرف متوجہ تھی۔
میں ناراض اس لیے ہوں کیونکہ تم نے اس دن بھی آدھی سچائی بتائی۔ تم مجھے اپنے پیار کے جال میں پھسا کر حویلی آنا چاہتی تھی۔ میں اس بات سے ناراض ہوں۔ میرے جذباتوں کو جاننے کے باوجود تم مجھے ایموشنلی یوز کرتی رہی۔۔ تم نے مجھے ہمشہ ایک ذریعہ سمجھا۔ ایک سیڑھی بنا کر اپنے مقصد کو پورا کیا۔ مجھے اپنا آپ بے وقوف دیکھتا ہے جب یہ سوچتا ہوں۔ کیسے تمہارے سامنے اپنے دل کی ہر بات کھول کر رکھ دی۔ اپنی محبت کا اظہار کیا۔ تم تو ہنستی ہو گئی۔ کیسا بے وقوف انسان ملا ہے۔ پیار کے جال میں ڈال کر لٹو کی طرح گھوماؤ۔ وہ اسے کندھوں سے پکڑتے غصے سے سب بول رہا تھا۔ زویا حیرانگی سے سب سن رہی تھی۔ وہ اپنے دل مین سوچے بیٹھی تھی کہ التمش اس سے بدلہ لینے کی وجہ سے ناراض ہے۔ پر وہ تو یہ سب سوچے بیٹھا تھا۔۔
آپ بالکل غلط سوچ رہے ہیں۔ التمش میں نے کبھی آپ کے جذباتوں کا مزاق نہیں اُڑایا۔ مین مانتی ہوں۔ پہلے جس نینت سے میں آپ کے سامنے آئی تھی۔ وہ صاف نہیں تھی۔ مجھے لگتا تھا۔ آپ بھی باقی سب کی طرح ہیں۔ بے حس سفاک مرد۔ پر آپ نے مجھے ہر قدم پر غلط ثابت کیا۔۔ مجھے آپ کے ہر عمل میں اپنے لیے محبت محسوس ہوئی۔ اپ کے اظہار سے بھی پہلے مجھے آپ کے احساسات کا علم تھا۔ خدا گواہ ہے۔ ہر وہ کام جس سے آپ کو تقلیف پہنچی تھی۔ وہ کرنے کے بعد میں ایک پل سکون سے نہیں رہی۔۔ مجھے آپ اچھے لگنے لگے تھے۔ دل کرتا تھا سب چھوڑ دوں۔ پر ہمشہ بدلہ درمیان میں آ جاتا۔ اپنے دل کا جود گلا گھونٹ کر میں نے اس دن آپ کے اظہارے محبت کے بعد انکار کیا تھا۔ کیونکہ میں تو اسکے بعد وہاں سے چلی جاتی۔۔ ایم سوری ایم سو سوری میری وجہ سے سب نے اور خاص کر آپ نے بہت زیادہ دکھ جھلے ہیں۔ پر اب مجھ سے آپ کی یہ نفرت برداشت نہیں ہوتی۔ وہ آخر میں روتے روتے زمین ہر بیٹھ گئی۔۔التمش خاموشی سے اسکی بات سن رہا تھا۔ وہ اسی کے انداز میں نیچے بیٹھا۔
میں ہوں ہی پاگل۔ اپنی بے وقوفیوں میں اپنے سے محبت کرتے والے شخص کا دل دُکھا دیا۔ آپ نے صحیح فیصلہ کیا مجھے چھوڑ دیں میں مزید آپ کی زندگی جو تقلیف دے نہیں بناؤں گئی۔ آپ شادی کر لینا میں چلی جاؤں گئی۔۔ وہ زور زور سے روتے ہوۓ اپنا چہرہ ہاتوں میں چھپا کر بولی۔۔
چھلی! التمش کھڑا ہوا۔ اور اسے کندھوں سے پکڑکر کھڑا کیا۔ اور ہنستے ہوۓ سینے سے لگا لیا۔ زویا اسکا سہارا ملتے ہی اور زور زور سے رونے لگی۔ التمش اسے چپ کروانے لگا۔ وہ مزید اسے تقلیف نہین دینا چاہتا تھا۔
ایم سوری زویا میں نے شائد اُور ری ایکٹ کیا۔ اور اس بیچ ہمارے خوبصورت پانچ سال برباد ہو گے۔ وہ اسے چپ کرواتے ہوۓ بولا۔۔
آپ مجھے چھوڑیں گے تو نہیں؟ وہ اپنی تھوری اسکے سینے سے ٹکاۓ چہرہ اوپر کرتے ہوۓ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ بولی۔
اب تو التمش خان کو زویا التمش خان سے اسکی موت ہی علحیدہ کر سکتی ہے۔ ہاں اگر زویا دوبارہ سے اپنے مسٹر خان کو چھوڑ کر جانے کا ارادہ رکھتی یے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔ کیا پتہ راتوں رات ٹکٹ کٹوا کر لندن چلی جاۓ۔ وہ آخر میں اسے چھڑتے ہوۓ بولا۔۔
زویا نے جیسے یہ پانچ سال مسٹر خان کے بنا کاٹے ہیں یہ صرف وہی جانتی ہے۔ اب تو آپ نکالو گے بھی تب بحی نہیں جاؤں گئی۔ وہ اداس لہجے میں بولی۔۔التمش کے دل کی دھڑکن بڑھی۔ چاند کی روشنی میں اسکاف کے ہالے میں چمکتا چہرہ اسے اپنے دل کے بہت قریب لگا۔ ایک آنسوں اسکی آنکھ سے نکلا اور زویا کے گال پر گِڑا۔ وہ جھٹ سے علحیدہ ہوئی۔۔
آپ رو کیوں رہےہو؟ وہ بے چین ہو کر بولی۔
زویا التمش خان آج تمہارا مسٹر خان اس چاند کو گواہ بنا کر کچھ کہنا چاہتا ہے۔ التمش اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوۓ بولا۔ زویا ہم تن اسے سن رہی تھی۔
یہ پانچ سال تمہارے بنا برے سونے سُونے تھے۔ ایک دم خالی۔ جہاں دیکھتا تھا بس تم ہی نظر آتی تھی۔ حویلی میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔ ہمشہ باہر رہتا تھا۔ تمہارے خیال سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتا تھا۔ مجھے معلوم تھا تم لندن میں ہو۔ کئی بار دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر ٹکٹ خریدا پر ہمشہ غصے آ ڑے آ جاتا تو پھاڑ دیتا۔ غصہ اسی بات پر آتا کہ تم یوں چھوڑ کر کیوں گئی۔ پر اپنی غلطی بھول جاتا تھا۔ یہ جانے بغیر کہ اس دن تم کو کتنا دکھ ہوا ہو گا۔ جب میں نے طل۔۔۔۔ ہممم خیر پرانی بری یادوں کو بھلاتے ہیں اور ایک نئی اور خوبصورت زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔ تو زویا احمد کیا تم اپنے اس مسٹر خان کی غلطیوں کو معاف کر کے میرے ساتھ اپنی آنے والی زندگی خوبصورت بنانا چاہتی ہو۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔ زویا مسکرا رہی تھی
وہ اگے بڑھی اور آہستہ اواز میں بولی۔۔۔۔
زہ ستاسو سرہ مینہ لرم(ائی لو یو) زویا التمش خان کی زندگی اپنے خان کے بغیر بالکل ادھوری ہے۔ وہ نم لہجے میں بولی۔۔ اسکا یوں پشتو میں اظہارے محبت کرنا التنس کے دل کو باغ باغ کر گیا۔ اس نے اسے اپنے بازوں کے ہالے میں لیا۔
آئی لو یو ٹو میری جان وہ اسکے سر پر بوسہ دیتے ہوۓ بولا۔۔ زویا کی انکھیں نم ہو گئیں۔ آج کے دن کا آغاز جتنی ٹینشن میں ہوا تھا۔ اسکا اختتام اتنی ہی خوبصورتی سے ہوا تھا۔
اگلی صبح کا آغاز بہت خوشگوار ہوا۔ التمش اور زویا کے درمیان ناراضگی ختم ہوئی۔ وہ دونوں مسکراتے ہوۓ سیڑیوں سے نیچے اتر رہے تھے۔
ساری حویلی والے اور مہمان سب ناشتہ کر رہے تھے۔ وہ دونوں بھی سب کے پاس آ کر بیٹھے۔
ہاں برخردار! شادی کے لیے لڑکی ڈھوندیں یا طلاق کے کاغذ تیار کروائیاں۔ جہانگیر خان دونوں کو دیکھتے ہوۓ سوالیہ انداز میں بولے۔ دونوں نے چہرہ اُٹھا کر ایک دوسرے کو دیکھا۔
دادا جان آپ ہمارے ولیمے کے فنگشن کی تیاری کروایں۔ باقی سب بھول جائیں۔ التمش مسکراہٹ دباتے ہوۓ بولا۔۔
او ہو ہو۔ پتر بہت ہی اچھا فیصلہ کیا۔ جہانگیر خان نے اسے گلے سے لگاتے ہوۓ کہا۔ سب بہت خوش تھے۔
سب نے ہنستے مسکراتے ناشتہ کیا۔ ناشتہ کرنے کے بعد دعا نے گاؤں گھومنے کی خواہش کی۔ سب برے حویلی میں رکے۔ باقی سب مل کر گاؤں کی سیر کرنے کے لیے نکل گے۔ سب چلتے ہوۓ جا رہے تھے۔
ویسے ماننا پرے گا۔ آپ نے سچ میں پورے گاؤں کو بدل دیا۔ اور میری بتائی ہویی ایک ایک چیز بنوا دی۔ زویا آس پاس دیکھتے ہوۓ اپنے ساتھ چلتے التمش کو داد دیتے ہوۓ بولی۔۔
تم تو چھوڑ کر چلی گیی تھی۔ اپنا دل میں نے ان سب کاموں میں لگا دیا۔ وہ مسکرا کر بولا۔۔ سب اگے چل رہے تھے۔ وہ دونوں پیچھے تھے۔ دعا کافی ایکسائیٹید تھی۔ حازم اسے سب دیکھا رہا تھا۔ وہی دوسری طرف اریشہ اور کافی اداس لگ رہی تھی۔ سب ڈیرے پر پہنچے التمش نے وہاں چارپائیاں لگوائیں۔ سب وہاں بیٹھے کچھ ادھر اُدھر گھومنے لگے۔۔
التمش کی نظر دور کھڑی اریشہ پر گئی جو کافی اداس لگ رہی تھی۔ وہ کافی دیر اسے دیکھتا رہا زویا نے اسے یوں دیکھتے محسوس کر لیا۔۔
اگر میں اپنے خان سے کچھ مانگوں گئی تو کیا مجھے ملے گا؟ زویا اسے دیکھتے ہوۓ بولی ۔
ہر جائز چیز ملے گئی۔ وہ جانتا تھا وہ کیا کہنے والی ہے۔
بس کریں اب اتنے سال ہو گے۔ ختم کریں نا ۔ وہ بہت شرمندہ نظر آتی ہے۔ وہ اسے منانے لگی۔۔
زویا موڈ اف مت کرو۔ وہ چڑتے ہوے بولا۔۔
مت کریں نا ایسا۔ اللہ کو معاف کرنے والا بہت پسند ہے۔ اسکی رضا کے لیے معاف کر دیں۔ اور اسکو اپنی غلطی کا احساس بھی ہے۔ وہ دور کھڑی اریشہ کو دیکھ کر بولی۔ جو ابھی بھی اداس سی تھی۔ سِراج اسے ہنسانے کی کوشش کر رہا تھا۔ التمش نے اسکی سمت دیکھا۔
بلاو اسے! وہ اتنا ہی بولا۔۔
سچ میں! زویا خوشی سے بولی۔۔ التمش نے ہاں میں سر ہلایا۔
ہاۓ کیوٹ جان! اپ بہت پیارے ہو۔ وہ اسکے گال کھینچتے ہوۓ بولی۔۔
شرم کرو زویا! وہ چڑتے ہوۓ بولا۔ وہ ہنس دی۔
اریشہ یہاں آؤ۔ زویا نے اسے آواز دی۔ اریشہ اور سِراج نے اسے دیکھا۔ وہ اہستہ سے چلتی دونوں کے پاس آئی۔۔
جی وہ پاس آ کر کھڑی ہو کر بولی۔۔
تمہارے لالا تم سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ التمش کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ بولی۔۔اریشہ نے حیرانگی سے التمش کی طرف دیکھا۔
کافی دیر گزر گئی مگر خاموشی نا ٹوٹی۔ زویا دونوں کو اکیلا چھوڑ کر باقی سب کے ساتھ جا کر باتیں کرنے لگی۔
التمش خاموش سا چہرہ نیچے جھکاۓ زمین کو تک رہا تھا۔ جب کسی کے رونے کی آواز کانوں میں پری اس نے چہرہ اُٹھا کر دیکھا۔ اریشہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ رو رہی تھی۔
مجھے معاف کر دیں لالا میں جانتی ہوں مجھ سے کتنی بری غلطی ہوئی ۔ میں نے آپ کا مان توڑا۔ اپ کا سر جھکایا۔ خدا جانتا ہے ان گزرے سالوں میں ایک دن بھی سکون سے نہیں رہی۔ وہ روتے ہوۓ بول رہی تھی۔
چپ گڑیا۔ سب بھول جاو۔ التمش اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوے بولا۔۔
اپ نے سچ میں مجھے معاف کر دیا۔ اریشہ حیرانگی سے بولی۔۔۔
ہاں کر دیا۔ اب مزید اپنی گڑیا سے ناراض نہین رہ سکتا۔ چلو آنسوں صاف کرو۔ مجھے مسکراتی ہوئی اریشہ چاہیے۔ التمش اسکے آنسون صاف کرتے ہوۓ بولا۔۔ اریشہ کھل کر مسکرایی۔ اج اتنے سالوں بعد التمش کے منہ سے گڑیا سن کر وہ مسکرائی۔ اسے اپنے کندھوں سے بوجھ اترتا سا محسوس ہوا۔ وہ کچھ بولنے والی تھی۔ جب اسکے بیٹے کے رونے کی اواز آئی۔
جاؤ چپ کرواؤ۔ التمش نے مسکرا کر کہا۔ وہ خود بھی کافی ہلکا محسوس کر رہا تھا اریشہ مسکراتے ہوۓ پلٹ گئی۔ دور سِراج اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
اچھا لگا نا زویا اسکے جاتے ہی التمش کے پاس آ کر بولی۔۔۔
ہاں وہ اپنی انکھ کا کنارہ صاف کرتے ہوۓ بولا ۔
دو گھنٹے بعد وہ سب واپس حویلی کی طرف پلٹے۔
التمش حویلی اور اس گاوں کا ماحول دیکھ کر میں بہت خوش ہوں۔ مجھے ابھی بھی یقین نہیں ہوتا۔ واقعی میں میرے سارے خواب سچ ہو گے۔ حویلی کے ہر مرد کا رویہ بدل گیا ہے۔ حویلی کی ساری خواتین کو ان کا حق عزت سب مل رہا یے۔ ۔ گاؤں میں سب کو ان کا حق مل رہا ہے۔ اور دیکھے۔ سب کتنا خوبصورت ہے۔یہ سب آپ کی وجہ سے ہوا یے۔ سب سے پہلا قدم آپ نے ہی لیا تھا۔ وہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔
ہاں بیگم اب تم بھی تیار ہو جاؤ۔ آخر کار ڈاکٹر ہو ہسپتال میں جاب کرو۔ وہ مسکرا کر اپنے ساتھ چلتی زویا کو دیکھ کر بولا۔۔
افکورس کروں گئی۔ وہ ہاں میں در ہلا کر بولی۔۔۔۔
ویسے اس چشمے میں اچھی لگتی ہو۔ وہ اسکا چشمہ اتارتے ہوۓ بولا۔
مسٹر خان واپس دیں مجھے نظر نہیں آتا۔ وہ غصے سے بولی۔۔
او خدایا اتنی نظر کمزور کر لی پاگل لڑکی۔ التمش نے چشمہ پہن کر کہا۔ نظر کافی ویک تھی۔
دن رات پڑھتی تھی۔ اوارہ گردی نہیں کی۔ وہ چلتے ہوے بولی۔۔۔
لو چشمہ پہنو۔ کل ہی اچھے ڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہوں۔ کمزور بھی لگ رہی ہو۔ ڈائیٹ بھی ٹھیک کرواتا ہوں۔ طاقت والی چیزیں کھاؤ گیی اب تم وہ اسے چشمہ پہناتے ہوۓ بولا۔۔ زویا کو اسکا فکر کرنے والا انداز بہت پیارا لگا۔ دونوں باتیں کرتے ایک دوسرے کے قدم سے قدم ملاتے چل رہے تھے۔
زندگی میں چاہے کتنی پریشانیاں آ جائیں۔ اگر آپ ان پریشانیوں کا سامنا ڈٹ کر کرو تو سب خوشیاں مل ہی جاتی ہیں۔ غموں کے بادل دور ہو جاتے ہیں۔
ختم شدہ۔
