Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

وہ صبح فریش ہو کر نیچے آیا تو پتہ چلا کہ جہانگیر خان نے صبح صبح ہی اریشہ اور ماہ رخ کو لینے کے لیے ڈرائیور بھیج دیا ہے۔ اسے یہ سب سن کر بہت غصہ آیا۔ اپنی بہن پر اسے پورا یقین تھا۔ پھر بھی اسکا دل گھبڑا رہا تھا۔ اندر ہی اندر حویلی کے سب لوگ پریشان تھے۔ جیسے سالوں پہلے کے واقعات کہی دوبارہ رونما نا ہو جائیں۔
زویا کل رات اپنا کام مکمل کر کے بہت خوش تھی۔ اب بس وہ انتظار کر رہی تھی۔ کب حازم اپنا کام پورا کرے۔ سبھی ناشتے کے بعد اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو گے۔
زویا نائلہ کے کمرے میں آئی۔ جہاں نائلہ عثمان کو زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ پر وہ نخرے دیکھا رہا تھا۔
کیا ہوا؟ یہ کھا کیوں نہیں رہا۔ وہ مسکرا کر کمرے میں داخل ہوئی۔ حویلی مین اسے نائلہ ہی اچھی لگتی تھی۔
ہاں بہت تنگ کرتا ہے۔ بیٹھو۔ نائلہ روٹی کا نوالہ بنا کر عثمان کے منہ میں ڈالتے ہوۓ بولی۔۔
نائلہ آپی اب تو ماجد مارتے نہیں نا۔۔۔۔ زویا جو کافی دنون سے پوچھنا چاہتی تھی۔ پوچھ ہی بیٹھی۔
ہاتھوں سے نا صحیح پر لفظوں کے جال سے وہ ہمشہ مارتے ہیں۔ اتنی تکلیف کسی کی مار سے نہیں ہوتی جتنی اسکے سخت لہجے اور تیخے جملوں سے ہوتی ہے۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولین۔ ان کی مسکراہٹ میں حد درجے دکھ جھلکا۔ برداشت کی وہ جھلک نظر آئی جو نا جانے وہ پچھلے کتنے سالوں سے چھپاۓ ہوۓ تھیں۔
ایک بات پوچھوں؟ زویا اپنے پاؤں بیڈکے اوپر رکھتے ہوے بولی۔
بولو۔۔۔
آپ کو نہیں لگتا۔ اگر حویلی کی سب عورتیں ایک ہو کر حویلی کے مردوں کے غلط رویے پر آواز اُٹھائیں تو سب ٹھیک ہو سکتا ہے۔ مار پیٹ گالی گلوچ بند ہو سکتا ہے۔۔
مجھے نہین لگتا لڑنے سے کوئی حل نکلنے والا ہے۔ انسان کی عادت بدل سکتی ہے پر فطرت نہیں۔ اور اس حویلی میں بچے وہی کریں گے جو ان کے سامنے پوری زندگی ہوا ہو۔ اگر ماجد کے سامنے اسکی ماں پر ہاتھ نا اُٹھایا گیا ہوتا۔ تو آج وہ مجھ پر ہاتھ نا اُٹھا رہا ہوتا۔ ۔ اگر اسکی ماں کو وہ مقام ملتا جو ایک بیوی چاہتی ہے۔ تو شائد آج میں بھی اس حویلی مین سر جھکا کر نہیں سر اُٹھا کر جی رہی ہوتی۔ میں نے بہت کوشش کی ماجد کی سوچ بدل سکوں۔ پر اسکی نظر میں عورت صرف غلام ہے۔ اسکی بات مانتے رہو سب ٹھیک رہے گا۔ جیسے ہی منہ سے نا کا لفظ نکلا سب ختم۔۔۔۔۔ نائلہ زویا کو دیکھتے ہوۓ بول رہی تھی۔ زویا کو اسکی آواز مین صدیوں کی مسافت لگی۔۔۔۔۔
تو اسکا مطلب ہے اگر صائمہ بیگم چاہتیں تو وہ اپنے بچوں کو بدل سکتی تھیں۔ ان کی تربعیت کر سکتی تھی۔ انہیں چاہیے تھا۔ وہ اپنے بچوں کو لڑکی کی عزت کرنا سیکھائیں۔ زویا سوچتے ہوۓ بولی۔ عثمان دونوں کو باتیں کرتا دیکھ چپکے سے کمرے سے بھاگ گیا۔۔۔۔
تمہیں ان کی کی گئی تربعیت التمش مین نظر نہیں آئی؟ مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ جب مین اسے یوں سب کے سامنے ڈٹ جاتے ہوۓ دیکھتی ہوں۔۔ جیسے اس نے اریشہ کو کالج بھیجا پھر تمہارے لیے ہر موڑ پر کھڑا ہوا۔ کیا تمہیں اسکے درمیان اور باقی سب کے درمیان فرق نظر نہیں آتا۔ نائلہ اسے کھوجتے ہوۓ بولی۔۔جو بیڈ شیٹ پر بنے ڈیزائن دیکھ رہی تھی۔۔۔
پتہ نہیں۔ مجھے لگتا ہے وہ بھی سبھی کی طرح ہیں۔ آج اگر وہ میرے ساتھ ہین تو کل کو وہ میرا ساتھ چھوڑ بھی سکتے ہیں۔ وہ ڈیزائن پر انگلی چلاتے ہوۓ بولی۔نائلہ اسے دیکھ کر مسکرادی۔
پھر تم پاگل ہو۔ جو اسکی آنکھوں میں اپنے لیے محبت ،عزت نہیں دیکھ پائی۔ عورت کو محبت ملے نا ملے اسے عزت کرنے والا ملنا چاہیے۔ تمہیں پتہ زویا اللہ نے مرد کو عورت کا محافط بنایا ہے۔ اگر وہ محافظ خود تمہارا ہاتھ پکڑ کر روائیتوں اور اصولوں کے سامنے ڈٹ جاتا ہے۔ وہ شخص بہت پیارا ہے۔ اور تم سے بے انتہا محبت کرتا ہے۔ تمہارے مقابل لڑنے والے تو ہزارون مل جاتے ہیں پر تمہارے لیے لڑے والا کوئی ایک بھی بری مشکل سے ملتا ہے۔ تو اگر وہ مل گیا ہے۔تو بے وجہ کے وسوسوں کو چھوڑ کر آگے بڑھو اور اسکا ہاتھ تھامو۔ جیسے اس نے بری محفل میں تمہاری عزت رکھی ویسے ہی تم اسکی عزت رکھو۔ اسکی محبت کی قدر کرو۔اور بدلے میں اسکو اس سے بھی بھر کر محبت دو۔۔ اللہ پاک کی ناشکری مت کرو۔ یہ نا ہو اتنا پیارا شخص دور ہو جاۓ۔ ۔ آئی بات سمجھ۔۔۔۔۔۔ نائلہ اسے بہت ہی پیار سے سمجھا رہی تھی۔ آخر مین وہ مسکرا دی۔۔۔۔
زویا کو اپنی سانیسں رُکتی ہوئی محسوس ہوئین۔ آج وہ خود ہی تو اسکی عزت کو سولی پر لٹکانے والی ہے۔ اگر اریشہ غلط ثابت ہوئی تو وہ غط ثابت ہو گا۔۔ ایک انگلی اگر اریشہ پر اُٹھی۔ تو ہزار انگلیاں اسکی طرف اُٹھیں گی۔۔ وہ فوراً بیڈ سے کھڑی ہو گئی۔ نائلہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔ ابھی وہ کچھ پوچھتی جب باہر سے کافی زیادہ آوازیں آنے لگیں۔
زویا اور نائلہ نیچے کی طرف بھاگیں۔
توبہ توبہ۔۔۔ ہمین اتنی باتین سنانے والوں کو دیکھو خود کی بیٹیاں کیا گل چھڑے اُڑا رہی ہیں۔ وہ دونوں نیچے آئی۔ تو سامنے بہت سارے گاؤں والے تھے۔ جن مین مرد اور عورتیں شامل تھیں۔ آج تک کسی نوکر کی اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ حویلی مین قدم رکھے۔
یہ کیا ہو رہا ہے۔اور تم سب کو اندر آنے کی آجازت کس نے دی۔ جہانگیر خان کی آواز ہال میں گھونجی تو سب خاموش ہو گے۔۔
سرپنچ صاحب اب آپ کی آواز نا ہی نکلے تو بہتر ہے۔ اب آپ سے کوئی نہیں ڈرتا۔ آپ تو اصولوں، روائیتوں کے برے پکے ہیں نا۔ تو آپ نے یہ سب کیسے ہونے دیا۔ وہی پر کھڑے ایک جوان مرد نے اونچی آواز سے کہا۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو۔ اور تم کس انداز سے بات کر رہے۔۔ وہ ایک بار پھر دھاڑے۔
وہی بات کر رہا ہوں جو سچ ہے۔ آپ ایک نمبر کے دوگلے انسان ہیں۔ دوسروں کو آپ اپنی انگلیوں پر چلانا چاہتے ہیں۔ پر اپنی حویلی مین تو کیا اپنی حویلی کی لڑکیون پر آپ کی ایک نہین چلتی۔ تبھی وہ پورے گاؤں کا نام خراب کر رہین ہین۔ وہ طنزیہ انداز مین بولا۔
یہ سب کیا ہو رہا کیسا شور ہے۔ التمش اپنے کمرے سے نکل کر نیچے آیا۔۔۔ سامنے اتنی بھیر دیکھ کر اسکے ماتھے پر بل پڑے۔
آۓ آۓ التمش خان صاحب آپ ہی کا انتظار تھا۔ بہت چاؤ سے اپنی بہنون کو شہر پڑھنے بھیجا تھا نا تو اب ان کے کارنامے بھی سن لیں۔ وہی دوسرا آدمی بولا۔۔۔۔
اے منہ سھنمبال کر بات کر ورنہ منہ توڑ دوں گا۔ ماجد اسے کالر سے پکڑتے ہوۓ بولا۔۔
او بھائی حد میں رہو۔ تم لوگوں کی شرافت کا نمونہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں۔ اچھا ہو گا تم سب بجی دیکھ لو۔۔ یہ بول کر اسنے اپنی جیب مین ہاتھ ڈالا۔۔دور کھڑی زویا کی دل کی دھڑکنیں بڑھیں۔اسکے ماتھے پر پسینہ آنے لگا۔ اپنی نظروں کا رخ اسنے التمش کی طرف کیا۔ جو کہ نا سمجھی سے یہ سب سن رہا تھا۔ وہ اہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگی۔
یہ لیں آپ بھی دیکھ لیں۔ لڑکے نے جیب سے کچھ نکال کر ماجد کے ہاتھ پر رکھا۔۔
ماجد نے انولوپ کھولا تو بہت سی تصویریں زمین پر گِڑیں۔ جس میں اریشہ سراج کے ساتھ بیٹھی ریسٹورینٹ میں کھانا کھا رہی تھی۔ التمش نے اگے بڑھ کر زمین سے تصوریں اُٹھائیں۔
ماجد نے انولوپ میں ایک پیپر نکالا۔۔۔
جسے پڑھ کر اسکا چہرہ پیلا پر گیا۔التمش نے وہ پیپر اسکے ہاتھ سے لیا اور خود پڑھنے لگا۔۔ زویا کو اپنی اپنے قدم لڑکھڑاتے ہوۓ محسوس ہوۓ۔۔
وہاں پر کھڑا ہر انسان وہ تصورین دیکھ چکا تھا۔ جہانگیر خان وہی صوفے پر ڈھیے گے۔
تم لوگوں کو کیا لگتا ہے۔ یہ دو بکواس بے مطلب چیزیں دیکھاؤ۔ گے اور میں اپنی بہن کو قصور وار مان لوں گا۔ وہ میری بہن ہے التمش خان کی۔ وہ ایسی گھٹیاں حرکت نہین کر سکتی۔۔ اب دو منٹ ہین تم سب کے پاس ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے وہاں سب کے سب کے ہاتھ پاؤں توڑدوں گا۔۔ وہ غصے سے بھرے لہجے مین چیخا۔
اسکے لہجے میں اریشہ کے لیے اتنا زیادہ اعماد یقین دیکھ کر سب کے سب حیران تھے۔ زویا کو سمجھ نا آئی وہ کیا کرے۔ باقی سب کو یقین آ چکا تھا۔ اتنا کچھ بلا وجہ نہیں ہوسکتا اس مین سچائی ضرور ہے پر التمش کا یقین ویسے ہی برقرار تھا۔۔۔
سبھی گاؤں والے حویلی سے نکل گے۔ وہ اپنا کام تو کر ہی چکے تھے۔۔ حال میں سناٹا تھا۔ کوئی کچھ نہیں بول رہا تھا۔ ماجد اپنے ہاتھ مین ساری تصویرین اور پیپر پکڑے غصے سے التمش کی طرف دیکھ رہا تھا۔
تمہیں بولا تھا نا مت بھیجو۔ پر تم نے تب ایک بات نہیں سنی ۔ اب نتیجہ دیکھ لو۔ وہ دو ٹکے کے لوگ جن کی زبان ہمارے سامنے کھلنے سے عاری تھی۔ آج چوڑے ہو کر ہمارے منہ پر ہی ہماری بے عزتی کر کے چلے گے۔ اور یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے۔۔ ماجد غصے سے بولا۔۔۔
لالا ہمارے بہت دشمن ہیں۔ کوئی بھی یہ سب کر سکتا ہے۔ یہ پکچرز ایڈیٹ بھی ہو سکتی ہیں۔ اور یہ پیپیز یہ نکلی بھی ہو سکتے ہیں۔ التمش اپنا لوجک دینے لگا۔
بس کر میرے بھایی بس کر۔۔۔۔ اتنا یقین ٹھیک نہیں ہوتا۔ اور عورت ذات تو ہوتی ہی جھوٹی ہے۔ ایک دفع اریشہ کو آ لینے دے۔ اسکے منہ سے تصدیق ہو جاۓ۔ پھر جو کروں گا وہ میں کروں گا۔ اس مین چاہیے اسکی جان لینا ہی کیوں نا ہو۔ ماجد سخت لہجے مین بولا۔۔۔
دور خالد صاحب صوفے پر بیٹھے اپنے بائیں ہاتھ کو مسل رہے تھے۔ صایمہ بیگم اپنا سر پکڑے بیٹھیں تھیں۔
زویا التمش کے پاس آئی۔ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی سے مسلا۔ التمش نے مُڑ کر اسے دیکھا۔
زویا کو اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا۔۔۔ تبھی باہر گاڑی رُکنے کی آواز آئی۔ اریشہ اور ماہ رخ برقع پہنے کندھے پر پرس لٹکاۓ اندر داخل ہوئیں۔۔۔
اریشہ کو پہلے ہی بہت ڈر لگ رہا تھا۔ اب سامنے سب کو اسطرح بیٹھے دیکھ اسکا دل ایک پل کے لیے ڈوبا۔۔ اپنا ٹاگین کانپتی محسوس ہوئیں
اچھا ہوا تم آ گئی۔ یہاں آ کر کھڑی ہو جاؤ۔ ماجد کی آواز آئی۔ اریشہ نے چہرے سے نقاب اُتارا۔ اور کانپتی ٹانگیں لیے۔ وہاں کھڑی ہو گئی۔
کیسی ہو ؟ التمش آگے بڑھ کر اسے گلے لگاتے ہوۓ بولا۔۔
لالا میں ٹھیک ہوں۔ پر اپ سب ایسے کیوں کھڑے ہیں۔ کیا ہوا؟ وہ سب کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
ہٹو میں پوچھتا ہون۔ ماجد نے آگے بڑھنا چاہا۔ پر التمش نے اسے وہی رُک دیا۔ماہ رخ زویا کے پاس آئی۔ اور اشاروں سے معملا پوچھنے لگی۔
دیکھو اریشہ یہ مت سمجھنا مجھے تم پر یقین نہیں۔ مجھے خود سے بڑھ کر تم پر یقین ہے۔ تم میری بہن ہو۔ مجھے پتہ ہے میری بہن مجھے دھوکہ نہین دے سکتی۔ وہ میرا بھروسہ نہیں توڑ سکتی۔۔ پر یقین تو مجھے ہے نا۔ باقی سب کو نہیں تو تم ان سب کے دل کو متمعین کرنے کے لیے مجھے کچھ سوالوں کے جواب دو۔ التمش نے بہت جوڑ توڑ کر کے بولا ۔۔۔ تا کہ وہ ہمت نا ہارے۔۔۔
ہممم جی لا۔۔۔لا پوچھیں۔۔۔ وہ اپنے آپ کو سھنمبال کر بولی۔ کہی اسکا شک سہی تو ثابت نہیں ہونے والا تھا۔ جو وہم اسے پورے راستے ہوا تھا۔ وہ سچ تو نہیں ہونے والا تھا۔
تم سراج ملک کو جانتی ہو؟ التمش نے سوال پوچھا۔۔۔
اریشہ کو اپنی ٹانگوں سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔۔
کیا مطلب۔۔۔لالا کون۔۔۔وہ ہکلاتے ہوۓ بولی۔۔۔
میرے پاس اتنا وقت نہین جو تم دونوں کی بکواس پر بربادکرو۔ اریشہ مجھے ان سب کا جواب دو۔ اس تصویر مین تم لڑکے کے ساتھ کیا کر رہی ہو۔ اور ان کاغذات پر تمہارے سائین ہیں کہ نہیں۔ ماجد نے تصویرین اور پیپر اسکے سامنے کیا۔۔۔
اریشہ کو ایسا لگا جیسے کسی نے اسکے پاؤں کے تلے سے زمین کھینچ لی ہو۔ وہ پوری کی پوری کانپ گئی۔ اسنے مُڑ کر صوفے کی طرف دیکھا۔ جہاں سب کے سب اسکے جواب کے منتضر تھے۔ پلٹ کر اسنے التمش کی طرف دیکھا۔ اپنے بھائی کی آنکھوں مین اپنے لیے اتنا یقین دیکھ کر وہ ڈر گئی۔
بولو بکواس کرو۔۔۔۔ ماجد چلایا۔۔۔۔ماہ رخ نے نفی میں سر ہلایا۔ جو باتیں وہ اسے پچھلے دو مہینے سے سمجھا رہی تھی۔ آج وہ سب سچ ثابت ہو رہیں تھیں۔
لالا ایک منٹ آپ یوں اس پر چلاؤ مت۔ اریشہ بیٹے آپ ریلکس ہو جاؤ ۔ کسی قسم کا دباؤ نہین ہے۔ مجھے بتاؤ۔ یہ سب جھوٹ ہے نا۔۔۔ التمش نے اسکے دونوں ہاتھ پکڑتے ہوۓ امید بھرے لہنے میں پوچھا۔۔
لالا۔۔۔۔ اریشہ کی آنکھوں سے آنسوں نکل گے۔
لالا کی جان بولو۔۔۔تمہارا لالا تمہارے ساتھ ہے بولو۔۔اور سب کے منہ بند کر دو۔ بولو اور بتاؤ سب غلط ہیں۔ میری بہن کبھی غلط قدم نہیں اُٹھا سکتی۔ التمش اسے ہمت دیتے ہوۓ بولا۔سب کے سب اسکے جواب کے منتظر تھے۔
لالا۔۔ یہ۔۔۔ سب۔۔۔۔ جو آپ لوگوں نے دیکھا۔۔۔۔ وہ سب۔۔۔وہ سب۔۔۔سچ ہے۔ اریشہ کے منہ سے الفاظ نکلے ہی تھے۔ کہ کسی کے یقین کا پہاڑ زمین پر گِڑا۔ اسکے یقین کا سر عام قتل ہوا۔
التمش کے ہاتھ ڈھیلے ہوۓ۔ اریشہ کے ہاتھ اکسے ہاتھوں سے نکل گے۔ بالکل اسکے یقین کی طرح۔۔ وہ وہی پر زمین پر بیٹھتا گیا۔اور بے یقینی سے سامنے کھڑی اپنی بہن کو دیکھا۔
یہ تصویریں سچی ہیں اس میں مین ہی ہوں۔ ساتھ میں سراج ہے۔ یہ پیپر سچ ہے۔ ہم۔دونوں نے نکاح کیا ہوا ہے۔۔ شہر میں بہت بار میں مل چکی ہوں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے ہیں۔ وہ بہت اچھے انسان ہیں۔ میرا یقین کریں وہ روتے ہوۓ بولی۔وہی صوفے پر بیٹھے خالد صاحب جو کہ اپنا ہاتھ مسل رہے تھے۔ اسکا جواب سن کر سیدھا دل پر ہاتھ رکھ لیا۔۔اور اسے مسلنے لگے باقی سب بھی بے یقینی سے اریشہ کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
ٹھاہ۔۔۔۔۔ وہی ماجد نے آگے بڑھ کر اسکے چہرے پر تھپڑ مارا۔
التمش بے یقینی سے زمین کو گھور رہا تھا۔ اسے اپنے آس پاس بس اریشہ کے کہے ہوۓ الفاظ سنائی دے رہے تھے۔ زویا بھاگ کر اسکے پاس آئی اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
حرام خور تجھے زرا اپنے گھروالوں کی عزت کا خیال نا آیا۔ سِرعام ہماری عزت کو نیلام کر دیا۔ سب کے سامنے اپنے عشق عاشقی کے قصے سنا رہی ہے۔ ماجد اسے تھپڑوں سے مار رہا تھا۔۔۔
آہ۔۔۔ خالد صاحب کی آواز حال میں گھونجی۔ جو دل پر ہاتھ رکھ کر چلاۓ۔ سب کی نظر ان کی طرف مُڑی۔
یا اللہ خیر کیا ہوا۔۔ صائمہ بیگم روتے ہوۓ بولی۔۔ خالد صاحب کا چہرہ پیلا پڑ رہا تھا۔
ماجد اس بد بخت کو چھوڑ اپنے باپ کو دیکھ کیا یو رہا ہے۔ صائمہ بیگم۔ چلائیں۔
ماجد نے اریشہ کو دھکہ دیا وہ اندھے منہ زمین پر گِڑی ماہ رخ اسکی طرف بھاگی۔۔
التمش بھی اپنی ماں کی آواز سن کر ہوش کی دنیا میں آیا۔ سامنے نظر اُٹھا کر دیکھا تو اریشہ گِڑی ہوئی تھی۔ اسکے چہرے پر تھپڑوں کے نشان تھے۔ ماتھے اور ہونٹ سے خون نکل رہا تھا۔ التمش نے نظریں پھیر کرسامنے دیکھا۔ اپنے باپ کا اتنا برا حال دیکھ کر وہ فوراً اُٹھا اور ان کی طرف بھاگا۔۔
ماجد انہین سہارا دے چکا تھا۔ التمش نے دوسری طرف سے سہارا دیے۔ دونوں نے انہیں باہر گاڑی مین بیٹھا۔
ماجد نے گاڑی چلا دی۔۔اس کے ساتھ صائمہ بیگم بیٹھیں۔
التمش دوسری گاڑی میں بیٹھا جس میں جہانگیر خان اسکے ساتھ بیٹھے۔ ماجد انہین جلدی سے ہسپتال لے آیا۔۔۔
انہیں جلدی سے آئی سی یو میں لے جایا گیا۔التمش کو ابھی تک سمجھ نہیں آ ریا تھا یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ وہ ابھی تک بلینک دماغ کے ساتھ آئی سی یو کے سامنے پڑی کرسی پر بیٹھا سامنے دیوار کو بے مقصد گھور رہا تھا۔
کسی انسان پر خود سے بھر کر یقین کرنا اور اسکے بعد آسکا آپ کے یقین کو ریزہ ریزہ کر دینا۔ آپ سے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔ پھر آپ کو سمجھ نہیں آتا آپ کس طرح سے ری ایکٹ کریں۔ ،،


اریشہ اپنے کمرے میں لیٹی رو رہی تھی اسکے ساتھ زویا نائلہ اور ماہ رخ تھیں۔ نائلہ نے کل اور آج کے سارے واقعیات بتا دیے۔
اب رونے سے کیا فائدہ جب تمہیں یہ سب کرتے ہوۓ شرم نہیں آئی تو اب بھی مت رُو۔ رونا تو ان کو چاہیے جن کا یقین تم نے کرچی کرچی کیا ہے۔ زویا طنزیہ انداز میں بولی۔
میں ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی پر میرے پاس کوئی راستہ نہین تھا۔ مجھے ڈر تھا کہی سب میرے خلاف ہو گے اور سراج سے میری شادی نا کی تو؟ اسی لیے ہم نے نکاح کر لیا۔ اور یہ سب ایسا ہی کرتے کبھی سراج کے ساتھ میری شادی نا کرتے۔ اریشہ روتے ہوۓ بولی۔۔
تمہیں زرا احساس نہیں ہو رہا تم نے کیا گناہ کیا ہے۔ اپنے لالا کی شکل دیکھو جا کے۔ وہ بندہ تمہارے یہاں نا ہوتے ہوۓ بھی سب سے تمہارے لیے لڑ رہا تھا۔اور تمہیں ابھی بھی اپنی ہی پڑی ہے۔ تم نا اتنے پیار اعتماد کے لائق ہی نہیں ہو۔ زویا غصے سے بولی۔۔
مجھے پتہ ہے مین نے غلط کیا پر اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ ان کو میری شادی اسکے ساتھ کرنی ہی پڑے گئی۔ وہ کسی پاگل کی طرح بولی۔۔۔زویا کو اسکی حالت پر شبہ ہوا۔ اسے ابھی بھی اپنی شادی کی پڑی تھی۔
زویا شرم کرو وہاں ابا جی ہسپتال مین زندگی اور موت سے لڑ رہے ہیں۔ اور یہاں تمہیں اپنی شادی کی پڑی ہے۔دعا کرو تم اور وہ لڑکا زندہ بج جاۓ۔ ماجد کو دیکھا ہے۔ وہ تو تمہیں آج ہی جان سے مار دیتے۔ نائلہ غصے سے بولی۔۔۔۔اریشہ روتی رہی۔


پانچ گھنٹے کے انتظار کے بعد جا کر کہی ڈاکٹر ائی سی یو سے باہر نکلا۔۔
ماجد اسکی طرف بڑھا۔
دیکھیں انہیں بہت سوئیر ہاٹ اٹیک ہوا تھا۔ خدا کا شکر ہے اب وہ صحیح ہیں۔ بس آپ دعا کرین ہوش مین آ جائیں۔ اور جسم کے کسی حصے پر اثر نا پڑے۔ڈاکٹر بول کر چلا گیا۔۔
صایمہ بیگم مسلسل دعائیں مانگ رہیں تھیں۔
جہانگیر خان کو اپنی آنکھوں کے سامنے آج تک کے سارے گناہ نظر آۓ۔
التمش ابھی بھی ویسے ہی بیٹھا ہوا تھا۔ بے حس حرکت وہ سامنے دیکھ رہا تھا۔ اسے کوئی ایموشن محسوس نہیں ہو رہے تھے۔ نا غصہ نا نفرت اور نا ہی رونا ۔۔
تین گھنٹے کے مزید انتظار کے بعد خالد صاحب کو ہوش آیا۔ ڈاکٹر صاحب ان کا چیک اپ کر رہے تھے۔ چیک اپ کر کے وہ کمرے سے باہر نکلے وہ کافی پریشان نظر آ رہے تھے۔
ماجد کو لے کر وہ اپنے کمرے میں آ گے۔۔
مجھے جس بات کو ڈر تھا وہی یوا ہے۔ آپ کے ابا اب زندگی بھر دوبارہ چل نہین ہائیں گے۔ ان کی طبعیت اچانک خراب نہیں ہوئی۔ ایسا نظر آرہا ہے۔ وہ پچھلے کافی دنوں سے پریشان تھے۔ اور آج ان کو ہاٹ اٹیک ہو گیا۔ ہاٹ اٹیک کافی سوئیر تھا۔ یہ تو بہت شاک کی بات ہے کہ ان کی جان بچ گئی۔ میں نے پورا چیک اپ کیا تو پتہ چلا وہ چل نہین پائیں گے۔ آپ کو ان کی ہمت بنا پڑے گا۔ ان کا حد سے زیادہ خیال رکھنا پڑے گا۔ ان کو ٹینشن سے دور رکھنا ہو گیا۔ ہم کل تک ان کو اپنے پاس انڈر ابزویشن رکھین گے پھر آپ انہین لے کر جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر نے تفصیل سے بتایا۔۔
ماجد سن کر باہر آ گیا۔ ایک ایک کر کے سب ان سے مل رہے تھے۔ ماجد نے جہانگیر خان اور التمش کو سب بتایا۔ جسے سن کر وہ بہت پریشان ہو گے۔۔
رات کو وہان پر صرف اہک آدمی رک سکتا تھا تو ماجد رک گیا باقی سب ہسپتال سے واپس آگے۔


حویلی مین مکمل خاموشی تھی۔ سب آج کے واقع کو ہضم نہین کر پا رہے تھے۔ التمش بھاری قدموں سے چلتا ہوا اپنے کمرے میں آیا۔ شانوں پر پھیلائی شال کو اسنے اتار کر بیڈ پر پھینکا۔ اپنی قمیض کے سامنے کے دو بٹن کھولے بازوں سے کف کو فولڈکیا ۔۔۔وہ مزید کھڑا نا رہ سکا اور وہی زمین پر بیٹھتا گیا۔۔۔
زویا گاڑی کا ہارن سن چکی تھی۔ وہ فوراً اریشہ کے کمرےسے باہر نکلی اور اپنے کمرے میں آئی۔۔سامنے زمین پر بیڈ سے ٹیک لگاۓ التمش پر نظر پڑی۔ وہ کافی بکھرا نظر آ رہا تھا۔
مسٹر خان آپ ٹھیک ہیں۔ وہ آہستہ سے دروازہ بند کر کے اسکے پاس آکر بیٹھ کر بولی۔۔
التمش نے نگائیں اُٹھا کر اسے دیکھا۔ زویا کو اسکی انکھوں میں ویرانی ہی ویرانی نظر آئی۔ اسکو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا وہ زیادہ دیر اسکی انکھوں میں نا دیکھ سکی۔۔۔
آپ ٹھیک نہیں ہیں۔ مین پانی لے کر آتی ہوں۔ وہ اُٹھی اورشائیڈ ٹیبل کی طرف بڑھنے لگی۔۔جب اسے اپنی کلائی کسی کے ہاتھ مین محسوس ہوئی۔
زویا مت جاؤ۔ آئی نیڈ یو۔ اسکی کلائی التمش نے پکڑی ہوئی تھی۔وہ نم آواز میں بولا۔۔ وہ پلٹی اور دوبارہ اسکے پاس آکر بیٹھ گئی۔
التمش اگے بڑھا اور اسے سینے سے لگا لیا۔ زویا کو اس کی بالکل بھی توقع نہیں تھی۔ وہ اسے سینے سے لگاۓ ٹوٹ کر رویا۔ بالکل کسی بچے کی طرح۔ بالکل ویسے جیسے اسکا یقین ٹوٹا تھا۔ وہ آج تک کسی کے سامنے ایسے بکھر کر نہین رویا جیسا وہ اسکے سامنے رویا۔
زویا کو اسے سھنمبالنا مشکل ہو گیا۔ اسکی ہچکیوں سے اسے خود کی جان نکلتی محسوس ہوئی۔ اس سب مین وہ خود کو قصور وار سمجھ رہی تھی۔ یہ سب اس کی وجہ سے شروع ہوا تھا۔
یوں ہٹھکے کٹے آدمی کا اسکے سامنے رونا اسے بھی رُلا گیا۔ جِسے ہمیشہ مظبوط، اور خود کا محافظ بنتا دیکھا۔ آج اسے یوں روتے دیکھنا اسکے لیے مشکل بن رہا تھا۔
التمش۔۔۔۔ریلکس ایسے مت کریں آپ کی طبعیت خراب ہو جاۓ گئی۔۔ وہ اسے علحیدہ کرتے ہوۓ بولی۔ اسکی نظر التمش کے چہرہ پر پڑی۔ رونے کی وجہ سے اسکا چہرہ لالا ہو گیا تھا۔ آنکھیں مین لال ڈوریاں تیر رہیں تھیں۔ وہ ایک دم کھانسا زویا نے جلدی سے سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس اسکے لبوں سے لگا۔
جسے وہ ایک ہی گھونٹ مین پی گیا۔ ہاتھ میں پکڑے گلاس کو اس نے ہاتھ میں اتنے زور سے دبایا کہ کانچ کا گلاس چھن کی آواز سے ٹوٹ کر اسکے ہاتھ کو خون آلودہ کر گیا۔۔
التمش کیا کر رہے ہیں۔پاگل ہوگے ہیں زویا چلائی۔ التمش ہاتھ کو سامنے کر دیکھنے لگا۔
زویا اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے روتے ہوۓ کانچ کے ٹکڑے نکالنے لگی۔
بالکل ان کانچ کے ٹکڑوں کی طرف میں ٹوٹا ہوا ہوں۔ اور ایسی ہی چھبن میرے اندر ہو رہی ہے۔ وہ اپنے سینے پر دوسرا ہاتھ مارتے ہوۓ درد بھرے لہجے میں بولا۔ زویا نے کانچ کے ٹکڑے نکال کر اسکے ہاتھ پر اپنا دوپٹہ باندھا۔سامنے دیکھا تو التمش پیچھے ٹیک لگاۓ بیٹھا تھا۔ آنکھ کے کناروں سے آنسوں ابھی بھی بہ رہا تھا۔
التمش آپ پلیز ایسے مت روئیں۔ مجھے کچھ ہو رہا ہے۔ آپ باتیں اپنے اندر نا رکھیں آپ جو بھی فیل کر رہے ہین مجھے بتائیں۔ پلیز وہ روتے ہوۓ اسکے آنسوں پونچھتے ہوۓ بولی۔۔
زویا آج التمش خان نہیں ایک بھائی رو رہا ہے۔ وہ بھائی جس نے کبھی اپنی بہن کو کسی کام سے نہین رُکا۔ اسکی ہر ضرورت کو پورا کیا۔ اسکے لیے سب سے لڑا۔ کیوں؟ کیونکہ اس بھائی کو اس پر ہقین تھا۔ کہ کچھ بھی ہو جاۓ میری بہن میری بہن کبھی کچھ غلط نہین کر سکتی۔ آج اسی بہن نے کھینچ کر ایک تھپڑ میرے منہ پر مارا ہے۔ کہ بھائی تم پاگل ہو جو مجھ جیسی بہن پر یقین کر رہے تھے۔ تم تو بے وقوف ہو۔ وہ ٹوتے بکھرے لہجے میں اسکی طرف دیکھ کر بولا۔ زویا اسکے الفاظ سن کر رو دی۔۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔