Hasrat E Dil By Fatima Tariq Readelle50124 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
التمش جس سپیڈ سے گاڑی چلا رہا تھا۔ اگلے آدھے گھنٹے
میں وہ گھر پہنچ گیا۔ یہ وہی گھر تھا جہاں وہ اکثر آتا رہتا تھا۔ اور یہی روحان کو قید کیا تھا۔ سامنے سے دیکھا جاۓ تو دس مرلے میں بنا یہ گھر خوبصورتی کی منہ بولتی مثال تھا۔ التمش نے اسے کچھ سال پہلے خود بنوایا تھا۔ گھر کے باہر چوکیدار بیٹھا ہوا تھا۔ التمش کی جیپ کو دیکھ کر اس نے فوراً مین گیٹ کو کھولا۔ اگلے ہی پل جیپ اندر داخل ہوئی۔ جیپ کو روک کر وہ فوراً باہر نکلا۔ زویا بھی جلدی سے باہر نکلی۔
چلو! جیپ سے سامان نکال کر وہ سنجیدہ انداز مین زویا سے مخاطب ہوا۔ اور اگے بڑھ گیا۔ زویا بھی اسکے پیچھے چل دی۔
سیڑیوں سے اوپر لیف والے کمرے میں چلی جاؤ۔ چینج کر لو۔
وہ حال میں پڑے صوفے پر بیٹھتے ہوۓ بولا۔
زویا نے اسے فل حال اکیلا چھوڑنا ہی مناسب سمجھا۔ گھر میں دو ملازمہ تھیں۔انہی مین سے ایک نے سامان اُٹھایا اور زویا کے پیچھے چل دی۔ اسکے جاتے ہی التمش اُٹھا اور بیس منٹ میں آیا۔ وہی ایک کمرہ تھا۔ جس میں اس نے اپنی جیم کا سامان رکھا تھا۔ وہی ایک طرف پنچنگ بیگ لگا ہوا تھا۔ وہ چلتا ہوا اس تک پہنچا۔ اور بنا گلوز پہنے باکسنگ کرنے لگا۔
زویا کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی لائیٹ آن کی تو سامنے کمرے کی ڈیکوریشن کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئی۔ وائیٹ اور بلیک کمبینیشن سے کمرے کو سجایا گیا تھا۔ اسے زیادہ حیران کمرے کی چاروں دیواروں پر لگی جانے والی تصویریں تھیں۔ کسی میں بھی اسکا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔ ہر ایک میں اسکی نیلی آنکھیں ہی نظر آ رہیں تھیں۔ وہ بہت دیر ایسے ہی کمرے کو دیکھتی رہی جب احساس ہوا تو بیگ کو کھولا۔ جو کہ ملازمہ رکھ کر جا چکی تھی۔ بیگ میں سے کپڑے نکال کر وہ سامنے لیف سائیڈ میں بنے باتھ روم میں گھس گئی۔ کچھ دیر بعد وہ چینج کر کے باہر نکلی۔ بیگ سے جو تین چار جوڑے فون اور پیپرز وہ لائی تھی۔ اسے محفوظ جگہ پر رکھا۔ الماری کا ایک کیبنٹ کھولا۔ تو سامنے لا تعداد اسکے ناپ کے ڈریسز پڑے ہوۓ تھے۔ اور وہی دوسری کیبنٹ میں التمش کے ڈریسز پڑے تھے۔ وہ الماری کو بند کر کے وہ کمرے سے باہر نکلی۔
سنو! یہ التمش کہاں ہیں؟ کیچن میں کھڑی ملازمہ کو پکارہ۔
بی بی جی صاحب شائد بہت غصے میں تھے۔ تو وہ بیس منٹ میں بنے اپنے جیم میں چلے گے۔ وہ پلٹ کر بولی۔۔
جیم ٹھیک ہے آپ کام کرو۔ وہ بول کر پلٹی اور بیس منٹ کی طرف بڑھی۔
وہ بیس منٹ میں آئی تو ایک کمرے سے باکسنگ کرنے کی آوازیں آرہیں تھیں۔ زویا اسی طرف بڑھی۔ جیسے ہی وہ کمرے مین داخل ہوئی۔ سامنے التمش تب کا باکسنگ کر رہا تھا۔
التمش یہ آپ کیا کر رہے ہیں وہ بھاگ کر اس تک پہنچی اور چلا کر بولی۔ پر وہ بنا اسکی سنے لگا رہا۔۔
آپ کی طبعیت پہلے ہی خراب ہے۔ چھوڑیں۔ وہ اسکے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے رُکتے ہوۓ بولی۔۔
زویا یہاں سے جاؤ۔ التمش باکسنگ کرتے زور سے چِلا کر بولا۔۔۔
کیوں جاؤں۔ آپ کو تو ویسے بھی ہر وقت غصہ کرنے کا مزہ آتا ہے۔ وہ اسکے سامنے آ کر کھڑی ہو کر بولی۔
زویا میرا دماغ پہلے ہی خراب ہے مزید مت کرو جاؤ۔ وہ پنچ مارتے ہوۓ بولا۔
ماریں اور ماریں اور تب تک مارتے رہیے گا جب تک یہ پنچنگ بیگ ٹوٹ نا جاۓ۔ وہ بھی اسی کی ٹون مین بولی۔۔۔
التمش نے بنا اسکی سنے پنچنگ بیگ پر ایک اور پنچ مارا۔ زویا جو کہ قریب ہی کھڑی تھی۔ پنچنگ بیگ سیدھا جا کر اسے لگا۔۔
آہ ۔۔۔۔ وہ ایک دم لڑکھڑائی۔
زویا۔۔۔۔ التمش جلدی سے آگے بڑھا۔ اور اسے سہارا دیا۔ پنچگ بیگ سیدھا اسکے منہ پر لگا تھا۔
ہٹیں مسٹر خان ہاتھ مت لگائیں جائیں دوبارہ سے مار پیٹ کریں۔ وہ غصے سے اپنا سر پر ہاتھ رکھ کر بولی۔۔۔
ادھر دیکھاؤ کہاں لگی ہے۔ التمش نے اسکا ہاتھ ہٹایا۔
میری چھوڑین خود کو دیکھین پتہ نہین کہاں کہاں لگی ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے آپ کو چوٹیں لگوانے کا بہت زیادہ شوق ہے۔ اپنا ہاتھ ہی دیکھ لیتے کل تک تو ہل بھی نہیں رہا تھا۔ اور اب کیسے پنچ مار رہے ہیں۔ وہ اسکا ہاتھ ہٹاتے ہوۓ بولی۔
اچھا میڈم سوری اب باہر چلیں۔ وہ اسے لیے بیس مینٹ سے باہر آیا۔اور سیدھا اپنے کمرے میں لے آیا۔
کل والے زخم ابھی مندمل نہیں ہوۓ اور اب مزید لگاوا رہے ہیں۔ وہ اسکے ہاتھ پر جمے خون کو دیکھتے ہوۓ بولی۔
اچھا تو کیا بے غروتوں کی طرح وہاں محفل مین کھڑا اس (گالی) کے منہ سے نکلنے والے خوبصورت الفاظوں کو سنتا وہ غصے سے بولا۔۔
میں نے ایسا کب کہا؟
دل تو کر رہا تھا اسی وقت قتل کر دوں۔ وہ انسان پہلے دن سے مجھے کھٹکتا ہے۔ ایک انکھ نہیں بھایا۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوۓ بولا۔۔
کیا مطلب کیوں کیوں کھٹکتا تھا؟ زویا ہچکچاتے ہوۓ بولی۔۔جیسے اسکی حازم کے بارے مین راۓ لینا چاہتی ہو۔
زویا اگر تمہیں یاد ہو تو جب وہ اپنے بھائی کا رشتہ لے کر آیا تھا۔ تب اسی نے بتایا تھا۔ اریشہ اور سِراج ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ اسکے بعد ہی سارے گاؤں میں وہ فوٹوز اور نکاح کے پیپرز لیک ہونا، اور آج جب شادی وہ رہی تھی تبھی پورے خاندان کے سامنے اسطرح سے بات کو اچھالنا۔ تم وہاں نہیں تھی۔ وہ جس انداز مین بات کر رہا تھا۔صاف ظاہر ہو رہا تھا۔ وہ جان بوجھ کر یہ سب کر رہا ہے۔ ان سب کڑیوں کو ملاؤ تو ایک بات تو صاف ہے یہ سب پلین شدہ ہے۔ جیسے وہ سب کے سامنے ہماری عزت کو جان بوجھ کر اچھالنا چاہتا ہو۔ پر وہ یہ سب کیوں کر رہا ہے؟ اسکے اور ہماری دشمنی کیا ہے؟ سمجھ نہیں آ رہی۔ کچھ تو مسنگ ہے۔ کچھ تو۔۔۔۔۔ التمش جو کب سے انہی باتوں پر سوچ رہا تھا۔ زویا کے سامنے بول پڑا۔ زویا کے چہرے پر ایک پل کو گھبڑاہٹ چھائی۔
نہیں نہیں مجھے تو ایسا کچھ نہین لگتا۔ آپ زیادہ سوچ رہے ہیں۔ وہ فوراً بولی۔۔۔
پتہ نہیں کیا ہے۔ میرے سر مین شدید درد ہو رہی ہے۔ پلیز تم چاۓ لا دو۔ وہ اپنے ماتھے کو مسلتے ہوۓ بولا۔۔
ہمم آپ چینج کر لیں۔ مین آتی ہوں۔ وہ جلدی سے اُٹھی اور کمرے سے باہر نکل گئی۔
اف! اس سے پہلے میرا راز کھکے مجھے یہ سب ختم کرنا ہو گا۔ وہ چلتے چلتے سوچ رہی تھی۔۔
اگلی صبح اریشہ کی آنکھ کھلی تو پاس کرسی پر سِراج بیٹھا سو رہا تھا۔ دماغ کے حس جب جاگی تو احساس ہوا وہ اب سِراج کے گھر میں ہے۔ وہ اُٹھ کر بیٹھی۔
سِراج اُٹھیں بیڈ پر سو جائیں۔ اس نے سِراج کے کندھے کو ہلایا۔۔
اُٹھ گئی۔ اب کیسی طبعیت ہے؟ وہ اپنی آنکھیں مسلتے ہوۓ بولا۔۔
ٹھیک ہوں۔ مین فریش ہونے جا رہی ہو۔ آپ سونا چاہتے ہیں تو سو جائیں۔۔وہ اُٹھ کرالماری سے کپڑے نکالتی واشروم کی طرف بڑھی۔۔۔
ٹھک ٹھک سِراج اب مزید نا سونے کا سچ کر کرسی سے اُٹھا جب دروازے پر دستک ہوئی۔اس نے دروازہ کھولا تو سامنے سیرت کھڑی تھی۔
بھابھی کہاں ہے۔ سیرت بھورے اچکا کر بولی۔
کیوں؟ صبح صبح تمہین اس سے کیا کام ہے۔۔ سراج نے بھی اُسی کے انداز میں بولا۔۔
آپ تو ایسے سوال جواب کر رہے ہیں جیسے کوئی تھانے دار ہوں۔ اور ویسے بھی میں آپ کی بیگم کو کہی چُڑا کر نہیں لے جا رہی۔ مجنوں جی دل سھنمبال کر رکھیں۔ آپ کی شریک حیات کو بس نیچے ماما کے پاس لے کر جاؤں گئی۔ انہوں نے ناشتے پر بلایا ہے۔ سیرت شرارتی انداز میں بولی۔۔
تمہارا کیا بھروسہ تم تو شکل سے ہی چورنی لگتی ہو کیا پتہ کہی میری شریکِ حیات کو چُڑا کر ہی نا لے جاؤ۔ پہلے ہی اتنی مشکل سے ملی ہے۔ سِراج اپنا موڈ بھی فریش کرنا چاہتا تھا اسی لیے وہ سیرت کو چِڑا رہا تھا۔
بھیو اگر آپ کی یوں شادی نا ہوئی ہوتی تو خدا کی قسم ابھی کے ابھی ڈیڈ سے شیکایت لگاتی۔ ہٹیں پیچھے میری بھابھی واشروم سے نکل آئیں۔ وہ اسے دھکہ دیتی کمرے میں داخل ہوئی۔
بھابھی جان جلدی سے تیار ہو کر نیچے آ جائیں ماما ناشتے پر ویٹ کر رہی ہیں۔ ویسے کچھ بھی بولو بھیو ایک بات تو ماننی پڑی گئی۔آپ اور کچھ نا سہی پر میری بھابھی سندر لاۓ ہیں۔ دیکھیں کتنی کیوٹ ہیں۔ کیوٹی! وہ مسکرا کر بولی اور آخر میں اریشہ کے گال کھینچ دیے۔۔اریشہ اسکی حرکت پر مسکرائی۔
جلدی آنا۔۔۔ وہ دونوں کو کہتی یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔۔
آپ فریش ہو جائیں۔ وہ بول کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آئی۔ سِراج واشروم میں چلا گیا۔۔۔
وہ چینج کر کے واپس آیا تو اریشہ کھوۓ ہوۓ انداز مین اپنے بال بنا رہی تھی۔وہ اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتا اس تک پہنچا۔۔۔
کہاں کھوئی ہو؟ وہ اسکے سامنے چٹکی بجاتے ہوۓ بولا۔۔
کہی نہیں بس ایسے ہی وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ بولی۔۔۔
میری بات سنو۔ جو ہو گیا ہے اب ہم اسے بدل نہیں سکتے ہیں۔ یوں پریشان ہونے سے کچھ نہیں ہو گا۔ وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں مین لیتے ہوۓ بولا۔۔
جس دن سب کے سامنے میں ہمارا مقدمہ لڑ رہی تھی۔ اس دن بھی یہی فیصلہ ہوا تھا۔ کہ میں دوبارہ کبھی حویلی نہیں آؤں گی۔ التمش لالا اتنے دن مجھے کبھی کچھ نہین بولا بس مجھ سے بات کرنا بند کر دی۔ مجھے ان دنوں کسی بات کا فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔ میں خوش تھی کہ جو میں چاہتی ہوں وہ مل گیا۔ پر پتہ کل جب وہ سب لالا نے بولا۔ نا اور جیسے میری رخصتی ہوئی نا اپنے اتنے برے گناہ کا احساس ہوا۔ مجھے کل احساس ہوا میں نے کیا کھویا ہے۔ کتنوں کا مان توڑا ہے۔ خاندازن کی عزت کا تماشا بنایا ہے۔ پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے۔ سکون نہیں مل رہا۔۔۔ وہ روتے ہوۓ بولی۔
اریشہ میری جان جانتا ہوں ہم دونوں نے جو بھی کِیا وہ غلط ہے۔ پر اب کچھ نہین ہو سکتا ۔ شائد کل کو حالات بدل جائیں۔ سب ٹھیک ہو جاۓ۔ پر ابھی فل حال تمہیں خود کو سھنمبالنا ہو گا۔ اور اپنی نئی زندگی کی مسکرا کر شروعات کرنی ہو گئی۔ چلو اب جلدی سے آنسوں صاف کرو نیچے ماما ناشتے پر انتظار کر رہی ہیں۔ سِراج اسے سمجھاتے ہوے بولا۔۔
ہمم وہ چہرہ صاف کرتی۔ سراج کے ساتھ نیچے آئی۔ سامنے ڈائنگ ٹیبل پر حمیدہ بیگم ناشتہ لگوا رہی تھیں۔ حازم بنا ناشتہ کیے سلطان صاحب کے ساتھ آفس چلا گیا تھا۔
السلام علیکم اریشہ نے جھجک کر سب جو سلام کیا ۔
وعلیکم السلام! ماشااللہ بہت پیاری لگ رہی ہو۔ بیٹھو دونوں ناشتہ کرو۔ حمیدہ بیگم نے خوش اخلاقی سے کہا۔۔
بھیو آج پیزہ کھانے چلیں۔ سیرت بریڈ کے ساتھ انڈہ کھاتے ہوۓ بولی۔۔
واؤ مجھے تو آج پتہ چلا چڑیل پیزہ بھی کھاتیں ہیں۔ انٹرسٹنگ سِراج اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔
بھیو ایک بات تو بتانا ہی بھول گئی۔ اس سے پہلے کہ سیرت کوئی جواب دیتی منت فوراً بولی۔ سیرت نے اسے آنکھین دیکھائیں۔
کیا؟
سیرت میڈیم کو آج نیا شوق چڑا ہے۔ اور اسکی تیاری بھی ہو چکی ہے۔ منت مسکر امسکرا کر بولی۔۔
شوق کیسا شوق سِراج انٹرسڈ لیتے ہوۓ بولا۔۔اریشہ ان سب کی بات سن رہی تھی۔
آج میڈیم جی کیک بنانے لگی ہیں۔ ناشتے سے پہلے کیچن میں چیزیں نکال کر رکھ آئی ہے۔ اب اللہ جانے وہ کیک کہی ہمیں ہسپتال نا پہنچا دے۔۔ منت سیرت کو منہ چڑھا کر بولی۔
کیا منت سرپرائیز تھا۔ تمہین کوئی بات نہین بتانی چاہیے۔ بھیو آپ کی نئی نئی شادی ہوئی ہے۔ میں نے سوچا سرپرائیز دے دون۔ اور ویسے بھی اب میں کوکنگ سیکھی چاہیے۔ کل کو میری شادی ہو گئی تو بس اسکی پریکٹس کر رہی ہوں۔ سسرال مین جا کر بے عزتی ہی نا ہو جاۓ۔ وہ آخر میں شرماتے ہوۓ بولی۔۔
ہاہاہا منت اور سِراج کا قہقہ بلند ہوا۔
غصب خدا کا اس لڑکی کو بلکل عقل نہیں کیا بات کرنی ہے کیا نہیں حمیدہ بیگم جو کب سے اسکی باتیں سن رہیں تھیں۔ آخری بات پر انہیں تپ چڑ گئی۔
کیا ماما ایسا کیا بول دیا۔کل کو آپ لوگ میری شادی کرو گے نا۔ تو اس میں بری بات کیا ہے۔ کچھ سیکھ لوں گئی تو اچھا ہو گا۔ آپ لوگوں کی عزت بچ جاۓ گئی۔ میری ساس یہ نہیں بولے گئی۔ کیا نکمی بہو ملی۔ ویسے ایک بات جان گئی آپ لوگوں کو میری کوئی قدر نہیں دیکھے گا اللہ میاں میری اتنی دور شادی کریں گے۔بہت دور چلی جاؤں گئی۔ پھر یاد کرتے رہیے گا۔ وہ منہ بسور کر بولی۔۔
پگلی ایسی بات نہیں ہے۔ ہمیں بہت قدر ہے تمہاری اور دور تو بالکل نہیں بھیجیں گے۔ جس طرح کی تمہاری حرکتیں ہیں۔ مجھے تو لگتا ہے گھر جمائی رکھنا پڑے گا۔ سِراج اسے چھیرتے ہوۓ بولا۔ سیرت نے منہ بسورا۔۔۔
اب چپ کر کے ناشتہ کرو۔ مزید کوئی آواز نا آۓ۔ حمیدہ بیگم نے اسے ڈانتے ہوۓ کہا۔ اسکی انہی حرکتوں سے گھر کا ماحول کچھ بہتر ہوا۔۔۔
اتنی صبح آپ کہاں جا رہے ہیں؟ زویا جس کی ابھی ابھی آنکھ کھلی تھی التمش کو یوں تیار ہوتے دیکھ بولی۔
مجھے ایک ضروری کام یے وہ کر کے آتا ہوں۔تم نیچے جا کر ناشتہ کر لینا۔ اللہ حافظ۔ وہ جلدی جلدی بولتا کمرے سے باہر نکلا۔۔
زویا بیڈ سے نکلی۔ اور الماری کی طرف بڑھی۔ الماری سے موبائل نکالا اور آن کیا۔ تو اسکی بیٹری صرف دس پرسنٹ تھی۔ وہ چارجر تو لانا ہی بھول گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ موبایل بند ہو جاۓ اس نے حازم کو کال ملائی۔۔
جی میڈیم بولیے۔ حازم جو کہ افس مین بیٹھا لیپ ٹاپ پر کام کر رہا تھا۔ زویا کا نمبر اپنے فون پر جگمگاتے دیکھ اس کے چہرے پر پراسرار مسکراہٹ آئی۔ اور جلدی سے کال پک کی۔
حازم تمہیں بولا تھا نا ایسا۔ مت کرنا پر پھر بھی کل تم نے تماشا لگا ہی دیا۔۔تمیں پتہ ہے سب کتنا ہرٹ ہیں۔ وہ اسکے کال اُٹھاتے ہی شروع ہو گئی۔
سب یا تمہارا نام نہاد شوہر ہرٹ ہے۔ زویا کے اس طرح بات کرنے پر وہ شدید غصے مین آگیا۔
التمش پر تم نے حملہ کروایا تھا؟ وہ اسکے انداز کو اگنور کرتے ہوۓ بولی۔
ہاں کروایا تھا تو؟ پر بہت ہی کوئی ڈھیٹ قسم کا انسان کے۔ اتنا کچھ ہو جانے پر تو اسے شرمندگی کے ڈر سے سوسائیڈ کر لینا چاہیے تھا پر غرت نام کا تو غ بھی اس میں نہیں۔ وہ طنزیہ انداز میں ہنستے ہوۓ بولا۔
شرم کرو حازم کسی بے گناہ کو یوں سزا دے رہے ہو۔ زویا اسکی باتیں سنتی غصے سے بولی۔۔
واٹ بے گناہ۔ میڈیم زویا کس دنیا میں ہو۔ اگر میرا التمش کو مار پڑوانا گناہ ہے تو تم تو پوری کی پوری گناہوں مین لپٹی ہے اگر التمش بے قصور ہے تو اریشہ کی بات کھولنا۔ اس کے نکاح کے پیپرز دینا اسے یوں بدنام کرنا وہ سب بھی گناہ ہے۔ وہ بھی بے قصور تھی۔ مجھے نظر آ رہا ہے تم اپنے راستے سے بھٹک رہی ہو۔ زویا میڈیم جی مت بھولو تمہارا وہاں جانے کا کیا مقصد تھا۔ مجھے لگتا ہے جو تمہارے اندر ان سب کو لے کر غصہ تھا۔ اب ختم ہو رہا ہے۔ وہ بھرپور طنزیہ انداز بھی اسے لا جواب کر گیا۔
نہیں ایسا نہیں ہے۔ حازم مین نے پچپن مین اپنے ماں باپ، بھائی کو کھویا ہے۔ اور تم مجھے بول رہے ہو مجھ مین بدلے کی آگ کم ہو گئی۔ میرا بس نہیں چلتا سب گناہگاروں کو خود اپنے ہاتھوں سے گولی مار دوں۔ پر گولی مارنے سے انہیں آسانی سے موت آ جاۓ گئی جو کہ مجھے منظور نہیں مین انہیں ترپتے، ہاتھ پاؤں جوڑتے ، راہ میں رُلتے ہوۓ دیکھنا چاہتی ہوں۔وہ بول رہی تھی۔ اسکی آواز مین واضع برسوں پرانا غصہ، غم ، رونا جھلک رہا تھا۔
اچھا سوری، میں شائد غصے میں کچھ زیادہ ہی بول گیا۔ مجھے لگتا ہے کچھ دنون تک ماجد کو جہانگیر جان اپنی کرسی پر بیٹھانے کا فنگشن رکھے گا۔ اس دن ہم اپنا آخری وار کریں گے۔۔ ہمارے پہلے واروں سے وہ سب کافی کمزور ہو چکے ہیں۔ جو ہم چاہتے تھے وہ ہو رہا ہے۔ میں تمہیں بتا دوں گا۔ تم بس تیار رہنا۔ حازم زویا کے اس انداز میں بولنے پر تھوڑا نارمل انداز مین بولا۔۔۔
نہیں میرے موبائل کی چارجنگ کم ہے۔ ویسے بھی مجھے پتہ چل جاۓ گا۔میں خود میسج کر دوں گا۔ اوکے باۓ زویا نے بول کر کال کاٹ تھی۔
موبائل آف ہو چکا تھا۔ اسکی بیٹری ختم ہو چکی تھی۔ وہ الماری میں رکھ کر نیچے کی طرف بڑھی۔ ناشتہ کر کے وہ لاونج میں بیٹھ گئی۔ اوراپنی پرانی زندگی کے بارے میں سوچنے لگی۔
جب چھوٹی سی عمر میں اسنے سب کھویا تھا۔ لوگوں کی نظروں میں اپنے لیے ترس دیکھنا اسے بالکل اچھا نہین لگتا تھا۔۔ اس حادثے کے بعد وہ بہت کم گو ہو گئی تھی۔ تب حازم اسکا بہت خیال رکھتا تھا۔ حازم کو بچپن سے ہی زویا سے محبت ہو گئی تھی۔ پر زویا کے دل میں اسکے لیے کوئی جذبات نہیں تھے۔ وہ اسے اپنا سب سے اچھا دوست مانتی تھی۔ بعد مین اسے پتہ چلا حازم اسکا منگیتر ہے۔
بی بی جی چاۓ وہ کہی کھوئی ہوئی تھی۔جب ملازمہ نے آ کر چاے کا کپ دیا۔
شکریہ۔ بیٹھو! وہ چاح کا کپ پکڑتے ہوۓ بولی۔
جی میں کیسے۔۔۔ ملازمہ ہچکچائی۔
جیسے باقی سب بیٹھتے ہیں چلو بیٹھو اور اپنے بارے مین بتاؤ۔ وہ اسے صوفے پر بیٹھاتی اس سے باتیں کرنے لگی۔
التمش صبح کا گیا رات کو واپس آیا۔ وہ ناجانے کون کون سے کاموں میں مصروف تھا۔ زویا باہر لان میں بیٹھی ہوئی تھی۔ جب التمش اسے دیکھتے وہاں آ گیا۔
بلو قمیض شلوار ساتھ ہم رنگ ڈوپٹہ گلے مین ڈالے وہ سامنے کرسی پر بیٹھی ہوئی تھی۔
یہاں اکیلی کیوں بیٹھی ہو؟ التمش چلتا ہوا اسکے قریب پہنچ کر بولا۔
جب آپ یوں اکیلے چھوڑ کر جائیں گے تو ایسے ہی بیٹھوں گئی۔ صبح کے گے اب واپس آرہے ہو۔ وہ منہ بناتے ہوۓ بولی۔
او تو میرا انتظار ہو رہا تھا۔ مجھے نہین پتہ تھا میری شریکِ حیات میرے انتظار میں نظریں ٹکاۓ باہرلان میں بیٹھی ہے۔ وہ مسکراتے ہوۓ کرسی پر اسکے سامنے آکر بیٹھا۔
اندر بور ہو رہی تھی اسی لیے یہاں آ کر بیٹھ گئی۔ وہ اوپر آسمان کی طرف دیکھ کر بولی۔
کھانا کھایا؟ وہ فکرمند انداز میں بولا۔
نہین اسنے نفی مین سر ہلا کر کہا۔
چلو اکھٹے کھاتے ہیں۔ التمش آگے بڑھا اور اسکو ہاتھ پکڑکر اُٹھایا اور ساتھ لیے اندر کی طرف بڑھا۔
زویا چپ چاپ اسکے ساتھ چل رہی تھی۔ اسکی نظر التمش کے ہاتھ میں پکڑے اپنے ہاتھ پر گئی۔۔
کچھ دن بعد یہ سب اتنا خوبصورت نہیں رہے گا۔ ایک دم اسے اپنے اندر سے آواز آئی۔
کیا بنا ہے؟ وہ دونوں کیچن مین پہنچ چکے تھے۔ سامنے کیچن کو خالی دیکھ وہ بولا۔
ہمم وہ مٹن اور ساتھ میں روٹیاں ہیں۔ زویا اسکی اواز سن کر اپنے خیالوں سے باہر نکلی اور فوراً بولی۔
چلو پھر یہاں بیٹھو آج میں اپنی بیگم کو کھانا سرو کرتا ہوں۔ التمش نے اسے وہی ہر پڑے چھوٹے سے ٹیبل پر بیٹھایا اور خود کھانا گرم کرنے لگا۔
مین کرتی ہوں ہٹیں زویا اسکے پاس آ کر بولی۔
نہیں وہاں بیٹھو۔ چلو التمش نےا سے دوبارہ وہی بیٹھا دیا اور خود کھانا گرم کرنے لگا۔ گرم کر کے ٹیبل پر رکھا اور دوسری کرسی پر بیٹھ گیا۔
چلو کھاؤ یا مین کھیلا دوں۔ اسے آنکھ مارتے مسکراہٹ دبا کر بولا۔
جی میں کھا لیتی ہوں۔ زویا فوراً بولی۔۔ التمش نے بھی مسکرا کر کھانا شروع کیا۔
آپ آج کہاں گے تھے؟ وہ کچھ سوچتے ہوۓ بولی۔۔
کہی نہیں بس کچھ کالج کا کام تھا وہی کرنے گیا تھا۔ وہ مسکرا کر بولا۔
ہممم آپ کو نہیں لگتا اب کالج نہیں بنانا چاہیے؟ زویا ہچکچا کر بولی۔۔
کیوں؟ کیونکہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔ وہ اسکی طرف دیکھ کر بولا۔
نہیں وہ بات نہیں آپ کو اپنا بزنس بھی تو شروع کرنا تھا۔ اگر پیسے وہاں لگاتے تو؟
تمہیں بتایا تو تھا کالج ٹرسٹ کے پیسوں سے بن رہا ہے۔ اپنے بزنس میں وہ پیسے لگاؤں گا جو دوست سے لیے ہیں۔ کچھ دن بعد شہر جاؤگا۔ سوچ رہا ہوں۔ اسکے ساتھ مل رک نزنس شروع کر لوں۔ وہ اسکی کنفویزن دور کرتے ہوے بولا۔۔
سوری میں بھول گئی تھی۔ وہ پانی پیتے ہوۓ بولی۔
زویا تم کتنا پڑھی ہو۔ التمشنے اچانک سوال کیا۔۔
زویا کو پھندا لگا وہ زور زور سے کھاسنے لگی۔۔ التمش نے جلدی سے پانی پلایا۔۔
آرام سے کھانا تھا نا۔۔۔۔۔۔ مزید پانی پیو۔۔۔ وہ پانی کا گلاس پکڑاتے ہوۓ بولا۔۔
آپ تو جانتے ہیں گاؤں میں دسویں تک سکول تھا۔ تو بس اتنا ہی پڑھا ہے۔ زویا نظریں چڑاتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔وہ اسے کیا بتاتی میٹرک اور ایف ایس سی میں وہ پوزیشن ہولڈر تھی۔ اور پچھلے ایک سال سے وہ کالج چھوڑ کر یہاں بیٹھی ہے اس سب کے بعد وہ لندن جا کر میڈیکل میں ایڈمیشن لینا چاہتی تھی۔
تمہاری عمر کتنی ہے؟ ایک اور سوال آیا۔
میری عمر انیس سال ہے۔ وہ مسکر اکر بولی۔۔
پھر تو تم مجھ سے کافی چھوٹی ہو۔ میری عمر پچس سال ہے۔ چھے سال چھوٹی ہو۔ وہ سوچ کر بولا۔
تمہاری اماں کا نام تو زلیخہ ہے تو والد کا کیا نام ہے؟ ایک اور سوال آیا۔
زویا کا ہاتھ رُکا۔ آپ کیا میرا انٹرویو لے رہے ہیں۔ وہ چڑتے ہوۓ بولی۔۔
بیوی ہو میرے تمہارے بارے میں سب کچھ جاننے کا حق رکھتا ہوں۔ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔
تو شوہر جی اپنے سورسس سے پتہ کروا لیں میرا سارا بائیو ڈیٹا۔ وہ کرسی گھسیٹ کر کھڑی ہوئی۔ اور برتن اُٹھاتے ہوۓ اسے تنگ کرنے کے لیے بولی۔۔
باۓ یہ جب تم مجھے شوہر بولتی ہو تو ایسے دل پر ٹھاہ کر کے لگتا ہے۔ وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر کمال اداکاری سے بولا۔۔ زویا کا قہقہ بلند ہوا۔ وہ اسکی بات پر اتنی زور سے ہنسی کے آنکھ سے پانی آگیا۔ وہ اُٹھ کر اسکے قریب جا کر کھڑا ہوا۔
آج پہلی بار تمہیں اسطرح ہنستے ہوۓ دیکھا ہے۔ جتنی خوبصورت تمہاری آنکھیں ہیں۔ اس سے زیادہ خوبصورت تمہاری ہنسی ہے۔ وہ آنکھوں میں بے پناہ محبت لیے بولا۔۔
چاۓ بنا کر کمرے مین لے آؤ کچھ بات بتانی ہے۔ وہ مسکراہت دبا کر اسکی چہرے کی رنگت کو دیکھتے ہوۓ بولا۔ جو اسکی بات پر گلابی ہوئی تھی۔۔ اور وہاں سے نکل گیا۔۔
اسکے جاتے ہی زویا نے ہوا مین سانس خارج کی۔ اور چاۓ بنانے لگی۔ دس منٹ کے بعد وہ چاے کے دو کپ لیے کمرے میں آئی۔ وہ جانتی تھی وہ کیا کہنے والا ہے اور اس سب کے لیے وہ بالکل تیار تحی کہ اسے اسکے جواب میں کیا کہنا ہے۔کمرے کے ساتھ بنی بالکنی میں التمش کھڑا تھا زویا بالکنی مین داخل ہوئی۔ چاۓ کا کپ اسکی طرف بڑھایا۔
زویا میں آج تم سے وہ سب باتیں کرنا چاہتا ہو۔ جو کچھ عرصے سے دل میں دباۓ بیٹھا تھا۔ وہ چاے کا سپ لیتے ہوۓ بولا۔
بولیں۔وہ سب اتنا ہی بولی۔
تم جانتی ہو محبت کیا ہے؟ وہ کالے آسمان پر چمکتے ہوۓ چاند کو دیکھ کر بولا۔
زویا نے سوالیہ نگاہ اس پر ڈالی۔ اسے احساس ہوا کہ وہ اسے دیکھ رہی ہے۔
جو میں تم سے کرتا ہوں۔ اسنے زویا کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنے ہی سوال کا جواب دیا۔ اسکے دیکھنے سے پہلے زویا نے نگاہیں پلٹ لیں۔ جیسے وہ اسکے احساسات سے انجان بنے کی ناکام کوشش کر رہی ہو۔۔
اتنی محبت جتنی محبت سے آسمان نے چاند کو اپنی آغوش میں لیا ہوا ہے۔بلکل اسی طرح میں تمہیں دنیا کی ہر پریشانی سے بچا کر اپنی محبت کی آغوش میں لینا چاہتا ہوں۔ میری زندگی میں محبت جیسی فیلنگ کبھی آئی ہی نہیں۔ پر جس دن پہلی بار تمہیں دیکھا۔ تمہاری ان نیلی آنکھوں نے مجھے ایسا اپنے حصار میں لیا۔ آج تک میں کبھی اس سحر سے نکل ہی نہیں پایا۔ وہ محبت بھرے لہجے میں ہمت کر کے آج اپنی محبت کا اقرار کر رہا تھا۔
زویا چہرہ جھکاۓ چاۓ کے کپ میں پڑی چاۓ کو دیکھ رہی تھی۔ جو کہ کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی۔
ہنہ محبت! مجھے نہیں لگتا محبت جیسی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اگر سچ میں ایسا کچھ ہوتا تو آپ کبھی وہ سب نہ کرتے جو آپ نے نکاح کے بعد کیا۔۔ وہ طنزیہ مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولی۔
وہ سب غصے اور بدلے کی آگ میں جل کر ہوا۔ پر خدا گواہ ہے جتنی بار تمہیں ہرٹ کیا اسکی جلن تم سے زیادہ مجھے ہوئی۔ وہ اسکی آنکھوں مییں آنکھیں ڈالے بولا۔
مسٹر خان ایک دل میں کسی کے لیے یا تو محبت ہوتی ہے یا نفرت پر دونوں جذبات اکھٹے نہیں ہو سکتے۔ وہ پھر سے بھرپور طنزیہ انداز میں بولی۔
کیا تمہیں کبھی اتنے دنوں میں ایک بار بھی میری محبت کا احساس نہیں ہوا؟ وہ اسکے جواب سن کر ہرٹ ہو رہا تھا۔
نہیں! دیکھیں مسٹر خان آپ نے جو بھی میرے لیے کیا اسکے لیے بہت بہت شکریہ۔ پر میرے دل میں آپ کے لیے کوئی فیلنگ نہیں ہے۔ میرے دل میں بس آپ کے لیے عزت ہے۔ جو کہ میں ہمیشہ کروں گئی۔ آپ نے ہمیشہ میرے لیے اپنے گھر والوں سے لڑائی کی۔ ان کے خلاف گے۔ پر اگر اسکےبدلے آپ محبت مانگیں گے۔ تو معاف کیجیۓ گا پر میں ایسا نہیں کر سکتی۔۔ وہ اس سے نظریں چراتے ہوۓ بولی۔
میں نے کب بولا میری محبت کا جواب محبت سے دو۔ میرے ساتھ رہو گی۔ محبت خود با خود ہو جاۓ گئی۔ وہ اسکی باتیں سن کر ہرٹ تو ہوا پر پھر اپنے آپ کو سھنمبنال کر بولا۔
آی ایم سو سوری پر میں ایسا نہیں کر سکتی۔ میں اصل میں آپ سے بات کرنا چاہتی تھی۔ کہ کچھ دنوں میں مجھے اماں کے پاس چھوڑ آئیں۔ میں وہاں کچھ دن رہنا چاہتی ہوں۔ اور آپ کے اور میرے درمیان تعلق کے بارے میں سوچنا چاہتی ہوں۔ پھر فیصلہ کروں گئی۔ کہ آگے کیا کرنا ہے۔ وہ بول کر اسکی طرف دیکھے بنا وہاں سے چلی گئی۔
التمش کو اندازہ تھا وہ اتنی جلدی نہیں مانے گئی۔ وہ جانتا تھا سکسے اندر کتنا کچھ بھرا ہے۔ پر وہ اسے دور نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔بہت جلد تمہیں منا لوں گا۔ ۔۔ وہ گہری خاموشی میں وہاں کھڑا رہا۔۔اور اپنے دل میں اسے منانے کا سوچنے لگا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔
