Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3 Part 1

وہ جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا۔ ہال سے بہت زیادہ شور آ رہا تھا۔ جو اس حویلی میں بہت کم سننے کو ملتا تھا۔ اپنے کپڑے وہ پہلے ہی صاف کر چکا تھا۔ چادر کو اپنے گرد لپیٹ کر وہ اندر کی طرف بڑھا۔۔۔

لالا میں نے آپ کو بہت مس کیا۔۔۔ارسلان اسے دور سے دیکھتے ہوۓ دوڑکر اس کے گلے سے لگ کر بولا۔۔۔حویلی میں وہ سب سے چھوٹا تھا۔اسی لیے حویلی کا لاڈلہ تھا۔جو جب بھی حویلی آتا پوری حویلی میں خوشی کا سما بن جاتا۔۔۔ سب سے زیادہ لاڈلہ وہ التمش کا تھا۔

تو جلدی آ جاتا اتنی دیر کیوں لگائی۔۔التمش نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سٹائل خراب کرتے ہوۓ کہا۔۔۔

کیا لالا اتنی مشکل سے بال سیٹ کیے ہیں۔ وہ چڑتے ہوۓ بولا۔۔۔۔

ہاہا ویسے بکھرے بالوں میں بھی ہیرو ہی لگتے ہو۔ التمش اسے چھیڑتے ہوۓ بولا۔۔سب ان دنوں کی باتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے وہ دونوں چلتے ہوۓ سب کے قریب آۓ۔۔۔۔

میری چھوڑیں لالا میں تو ہیرو ہی ہوں۔لیکن یہ آپ کس سے ہیرو بن کر لڑ کے آۓ ہو۔۔ارسلان کی نظر التمش کے ماتھے اور ہونٹوں پر بنے زخموں کو دیکھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔

ہاں التمش بیٹے یہ کیسے ہوا۔۔۔۔ صائمہ بیگم پریشانی سے آگے بڑھیں۔۔۔۔

اماں میں ٹھیک ہوں۔۔ بس معمولی سی چوٹ ہے۔ آپ سب باتیں کریں۔مجھے دادا جان اور ابا سے بات کرنی ہے۔۔۔التمش انہیں تسلی دے کر مسکراتا ہوا خان بابا کے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔

وہ سلام کرتا اندر داخل ہوا۔سامنے خالد صاحب اور رفاقت صاحب بیٹھے کچھ زمینوں کے مسلے پر بات کر رہے تھے۔۔۔۔

مجھے آپ سب سے بات کرنی ہے۔ آج کچھ دیر پہلے مجھ پر ناظم شاہ اور اس کے بندوں نے حملہ کیا تھا وہ تینوں کی طرف دیکھ کر بولا۔۔۔

اس کی اتنی ہمت۔اس نے جہانگیر خان کے پوتے پر حملہ کیا۔خان بابا غصے سے کھڑے ہو گے ۔۔۔۔۔

یہ لڑائی ایک لڑکی کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پیچھے سے ماجد کی آواز آئی۔۔۔۔سب نے چونک کر اسے دیکھا۔

کیا مطلب ہے؟

لالا آپ کے خبریوں نے غلط اطلاع دی ہے۔۔لڑائی لڑکی کی وجہ سے نہیں ہوئی۔ اس نے پیچھے سے میری جیپ پر حملہ کیا تھا۔لڑکی کی بات بعد میں ہوئی۔اس نے میری نظروں کے سامنے اس پر گندہ نظر ڈالی۔ التمش سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔اسے زویا کا یہاں پر ذکر کرنا پسند نا آیا۔۔۔

تو برخردار وہ لڑکی تمہارے ساتھ کیا کر رہی تھی؟ خالد صاحب نے سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔۔

وہ اپنے بھائی کے ساتھ کسی شادی پر جا رہی تھی تو میں نے بس ان دونوں کو لفٹ دے دی۔۔۔۔۔التمش مظبوط لہجے میں بولا۔۔۔

واہ بری بات ہے۔۔۔مجھے یہ بتانا پسند کرو گے۔ ایک خان کی جیپ میں دو کوڑی کی لڑکی نے بیٹھنے کی ہمت کیسے کی یا ہمارے خان کی غیرت کہی دم توڑ گئی ہے۔ ۔۔۔ماجد طنزیہ اندز میں بولا۔۔۔۔۔

لالا یہاں بات ناظم کی ہو رہی ہے آپ اس لڑکی کو کیوں درمیان میں لا رہے ہو۔۔۔۔اور دادا جان آپ ناظم شاہ کا اس گاؤں میں آنا ہمیشہ کے لیے بند کریں۔۔ ورنہ پھر میں اپنے طریقے سے اسے رُکوں گا۔۔۔۔التمش سخت لہجے میں بولا۔۔ اسے ماجد کا زویا کے بارے میں ایسے الفاظ بالکل پسند نا آۓ۔۔۔اپنی بات پوری کر کے وہ کمرے سے نکلنے لگا۔

مجھے تو بہت لیکچر دے رہے تھے خود گاؤں کی لڑکی پر ہی مر مٹے۔۔بنا خاندان کی عزت کی پرواہ کیے۔اس غریب کسان کی بیٹی کو اپنے پہلو میں بیٹھا لیا۔ ۔۔اس کے نوکر بن کر گھر تک چھوڑنے چلے گے۔۔۔ ۔ماجد اس کے کان کے قریب آ کر طنزیہ انداز میں بولا۔۔بنا التمش کی طرف دیکھے وہ ہنستے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔

التمش نے اس کے الفاظوں کو بہت مشکل سے ہضم کیا۔۔۔غصے سے اس نے اپنی دونوں مٹھیاں بیچ لیں۔۔۔چہرہ لال ہو چکا تھا۔وہ اپنے آپ پر قابو پا کراوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کمرے میں داخل ہو کر زور سے دروازہ مارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جس بات کو وہ ابھی خود سے بھی چھپا رہا تھا۔وہ بات ماجد کو معلوم ہو چکی تھی ۔۔۔۔اب ناجانے اس نے اس کے پیچھے اپنے خبری چھوڑے ہوۓ تھے۔۔۔یا یوہی ہوا میں تیر چلا رہا تھا۔۔۔۔

التمش کو ابھی تک ماجد کے الفاظ اپنے کانوں میں سنائی دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے ہاتھ کو سامنے دیوار پر لگی خود کی تصویر پر دے مارا۔۔۔شیشہ ٹوٹ کر بکھر زمین پر بکھر گیا۔۔۔اور ساتھ ہی اس کا ہاتھ خون سے بھر گیا۔۔۔۔پر وہ اس درد کو اگنور کر کے الماری میں سےکپڑے نکال کرواشروم کی طرف بڑھا۔۔۔۔

*******★*************★*************★*********

ہمارا یوں موبائل پر بر بات کرنا بالکل بھی صحیح نہیں۔۔مجھے یہ سب بالکل پسند نہیں۔ وہ بہت آہستہ آواز میں بول رہی تھی۔۔۔

میرا بس چلے تو میں کل ہی تمہیں اپنی دلہن بنا کر لے آؤ۔۔پر کم بخت یہ مجبوریوں کی دیوار راستے میں ہائل یو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔اسپیکر سے کسی کی بے بسی میں ڈوبی ہوئی آواز آئی۔۔۔۔

مجھے تو ہماری شادی ہوتی ہوئی بالکل نظر نہیں آتی۔۔وہ اپنے ناخن پر لگی مہندی کو گھورتے ہوۓ روندھے لہجے میں بولی۔۔۔۔۔

جانتا ہوں۔۔۔لیکن میرا وعدہ ہے۔اپنی آخری سانس تک تمہارا ساتھ دوں گا۔۔۔اس کے لیے چاہیے مجھے پورے سماج سے لڑنا پڑے۔اب پلیزاپنی خوبصورت آنکھوں کو مزید تکلیف مت دو۔۔۔۔۔

کیسے نا لاؤ۔آپ کو پتہ ہے۔میں نے لالا سے بات کی کہ مجھے کالج جانے کی آجازت لے دیں۔۔۔۔اماں نے بات کی ابا سے پر وہ نہیں مانے اب لالا پتہ نے بات کریں گے یا نہیں۔۔۔اگر کالج جانے کی آجازت مل جاۓ تو ہم دونوں کسی بھی وقت مل سکتے ہیں۔پر سائد ایسا ممکن نہیں وہ اداس لہجے میں بولی۔۔۔۔۔۔

اب اس طرح اداس مت ہو وہ مان جائیں گے۔۔۔اچھا چلو بتاؤ ۔۔آج سارا دن کیا کِیا۔۔۔۔وہ جانتا تھا اس کا موڈکیسے بہتر کرنا ہے۔۔۔۔

ارے ہاں اہم بات تو بتانا بھول گئی۔۔۔۔۔آج ارسلان سعد اور شمس سب آۓ ہیں۔۔۔۔وہ کچھ دن یہی رُکیں گے۔۔۔۔۔۔ ۔میں نے ان سب کو بہت مس کیا۔۔۔۔اریشہ مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔

ویری گڈ۔۔۔ آج منت اور سیرت کو مین گھومانے لے گیا تھا۔۔۔۔سراج ملک بولا۔۔۔۔۔

ہاۓ آپ سب کے تو مزے ہیں آپ سب تو گھومنے جاتے ہو۔۔اور ایک میں ہوں۔۔۔یہاں حویلی میں عورتوں کو ایسے قید کیا جاتا ہے۔۔۔جیسے وہ کسی خوفیہ خزانے کو لے کر بھاگ جائیں گئی۔۔۔۔اریشہ چڑتے ہوۓ بولی۔۔۔۔۔۔۔

ایسے مت بولو۔۔۔ ہو سکتا ہے۔۔۔۔یہ ان سب کا پروٹیکٹ کرنے کا طریقہ ہو۔ ۔اور تم ہی تو بولتی کو التمش لالا تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔سراج پھر سے اسے سمجھانے کی کوشش کرنے لگا ۔ وہ روز اپنی حویلی کی روایات کو لے کر گِلا کرتی تھی۔۔۔۔

ہاں لالا تو میری ہر بات کو مان جاتے ہیں۔پر ایک بچے کو باپ کا پیار بھی ملنا چاہیے۔۔۔۔۔لیکن یہاں لالا کو چھوڑ کر سب کے سب شکی ہیں۔۔۔۔۔اریشہ منہ بسور کر بولی۔۔۔تبھی باہر سے کسی کے چلنے کی آواز آئی۔۔۔۔

اوکے باۓ کوئی آ رہا ہے۔۔۔۔سراج بولتا اس سے پہلے ہی اریشہ نے کال کاٹ دی۔۔۔۔۔

ماہ رخ چاۓ کے دو کپ پکڑ کر کمرے میں داخل ہوئی۔۔تب تک اریشہ نے موبائل بند کر کے چھپا دیا تھ۔ا۔

حویلی میں کسی لڑکی کے پاس موبائل نہیں تھا۔۔۔۔یہ موبائل بھی سراج نے دیا تھا

دونوں پچھلے ایک سال سے ایک دوسرے کو جانتے تھے۔۔ اس دن اریشہ اکیلی سکول گئی تھی۔وہ میٹرک مین پڑھتی تھی۔۔۔اس دن گاڑی خراب ہو گئی۔۔۔۔ڈرائیور پاس سے ہیلپ لینے گیا۔۔۔تب سراج گاڑی میں وہاں سے گزر رہا تھا۔۔جب اس کی نظر شیشے سے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی اریشہ ہر گئی۔ جو ڈوپٹے سے اپنا پسینہ صاف کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔اریشہ نے جب اپنے چہرے ہر کسی کی نظروں کی تپش محسوس کی تو اس نے گردن گھما کر دیکھا۔۔اس نے جلدی سے چہرے ہر نقاب اُڑ لیا۔۔۔۔۔۔۔اور یہی ادا سراج ملک کو بھا گئی۔۔۔۔

اس دن کے بعد وہ اکثر چکر لگاتا رہتا۔۔۔۔۔کسی نا کسی طریقے اس نے بات کرنا شروع کر دی۔۔۔۔۔اریشہ کو بھی وہ پسند آنے لگا اور یہی سے پیار کی شرواعت ہو گئی۔۔

**************★*********************★***************

بابا آپ ٹینشن مت لیں۔سب ٹھیک ہو گا۔۔۔میں نے اسے سب سمجھا دیا ہے۔۔۔۔۔حازم ملک اس وقت سلطان صاحب کے ساتھ سٹدی روم میں بیٹھا کسی اہم مدے پر بات کر رہے تھے۔

لیکن اس کا فون کیوں نہیں لگ رہا میں نے بولا تھا۔۔۔پل پل کی خبر دے۔۔۔سلطان صاحب فکرمندی بھرے لہجے مین بولے۔۔۔

آپ ریلکس رہیں میں کل شام کو جاؤں گا۔۔۔سب پتہ کر آؤں گا۔۔۔۔۔۔اور ویسے بھی وہ حازم ملک کی امانت ہے۔ اسے تقلیف پہنچانا کسی کے بس کی بات نہیں۔۔۔۔۔وہ سخت لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔

وہ سب تو ٹھیک ہے۔۔مگر آج پورا سال ہو گیا۔۔اسے گئے ہوۓ ۔۔۔۔۔آج پہلی بار فون بند ملا ہے۔۔۔۔۔سلطان صاحب اسی طرف سوچ رہے تھے۔۔۔۔۔

بابا ریلکس آپ نا جا کر سو جائیں۔۔آپ کی طبعیت خراب ہو جاۓ گئی۔۔۔۔۔۔حازم نے انہیں زبردستی سٹدی روم سے نکلا۔۔اور انہیں ان کے کمرے میں لے آیا۔۔۔

انہیں چھوڑکر وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھا۔۔۔۔۔۔

بیڈ پر بیٹھ کر اس نے سائیڈ ٹیبل سے اس کی تصویر اُٹھائی۔۔اور لیٹ گیا۔۔۔۔

جانِ من جلدی سے کام پورا کر کے آؤ مجھے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔اپنے عشق جنونیت کا اظہار کرنا ہے۔۔۔دل نہیں لگتا ۔۔۔بہت یاد کرتا ہوں۔۔۔۔اوپر سے تم مجھ سے فون پر بات بھی نہیں کرتی۔۔۔وہ ایسے بات کر رہا تھا جیسے وہ ہو بہو اس کے سامنے ہو۔۔

چلو سوری اب تم بھی سو جاؤ مین بھی سو جاتا ہوں۔۔۔گُڈ نائیٹ جان۔۔۔ اب تم سے خوابوں میں ملاقات ہو گئی۔۔۔تصویر کو اپنے سینے پر لٹاۓ وہ آنکھیں بند کر گیا۔۔۔

یار کچھ کرو نا وہ میرا بہت اچھا دوست ہے۔اگر میں اسکی شادی پر نا گیا تو ناراض ہو جاۓ گا۔ سردیوں کا آغاز تھا ناشتے کے بعد قہواہ وہ تینوں لان میں بیٹھ کر پی رہے تھے۔۔تبھی ارسلان نے دوبارہ سے وہی ٹاپک چھیڑا۔۔۔۔

تجھے پتہ ہے خان بابا ہمیں کسی گاؤں کی شادی میں جانے کی آجازت نہیں دیں گے۔ اور ویسے بھی ان چھوٹے لوگوں کی شادی میں جانا بھی نہیں چاہیے۔ورنہ وہ سر ہر چڑھ جاتے ہیں۔ان کی اوقات میں رکھنا ضروری ہے۔۔ہم خان فیملی سے تعلق رکھتے ہیں۔ہمیں خود بھی ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔۔۔۔شمش مغرورً لہجے میں بولا۔۔۔۔ارسلان کا منہ بن گیا۔۔۔

شمس بالکل ٹھیک بول رہا ہے۔۔۔دفع کر۔۔۔۔ سعد بھی اسکی ہاں میں ہاں ملاتے ہوۓ بولا۔۔۔۔

بہت افسوس کی بات ہے۔ تم لوگ اتنے اچھے سکول کالجوں سے پڑھ کر بھی کتنی چھوٹی سوچ رکھتے ہو ارسلان نا مین سر ہلاتے ہوۓ بولا۔۔۔اسے یہ سب بالکل پسند نہیں تھا۔۔

میں التمش لالا سے بات کر لیتا ہوں۔۔آپ دونوں یہ قہواہ پیو۔اور اپنی مغرور ناک کو اور اونچا کرنے کی کوشش کرو۔۔۔ارسلان روٹھے ہوے انداز میں بولا۔۔اور اُٹھ کر التمش کے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔

التمش لالا تو بالکل بھی آجازت نہیں دیں گے۔۔۔۔شمش چسکی بھرتے ہوۓ بولا۔۔۔۔۔

**************

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔