Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420

Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Last Episode

339.6K
39

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Falsfa-e-Ishq Last Episode

Falsfa-e-Ishq by Mehram Shah

سجیلہ کو گئے 2 مہینے ہو چکے تھے سب لوگ آہستہ آہستہ اپنی زندگی کی مصروفيات کی طرف واپس لوٹ چکے تھے نینا جو اس واقع سے ایک بار پھر بری طرح سے ٹوٹ چکی تھی وہ بھی اب کافی سنبھل چکی تھی لیکن اس کی سنجیدگی میں مزید اضا فہ ہو چکا تھا وہ پہلے سے بھی زیادہ خاموش ہو گئی تھی ۔۔

پہلے پہل وہ بہت روتی اور اس کی حالت پھر سے بگڑ نے لگی پھر ایک دن اس نے قرآن پاک میں دیکھا :

وَ الَّذِیۡنَ صَبَرُوا ابۡتِغَآءَ وَجۡہِ رَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ۙ۲۲﴾

اور وہ اپنے رب کی رضامندی کی طلب کے لئے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو برابر قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے اسے چھپے کھلے خرچ کرتے ہیں اور برائی کو بھی بھلائی سے ٹالتے ہیں ان ہی کے لئے عاقبت کا گھر ہے ۔

سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ ﴿ؕ۲۴﴾

کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو ، صبر کے بدلے ، کیا ہی اچھا ( بدلہ ) ہے اس دار آخرت کا ۔

آخرت “” سجیلہ بھی اس سے آخرت کی بات کر کے گئی تھی آخرت میں ملنے کی لیکن اس کے لئے اسے صبر کرنا ہوگا اس نے خود کو سمجھایا اور پھر اس نے اس بات کو سوچ کر صبر کر لیا تھا ہاں وہ اکثر اس کے لئے قرآن پاک پڑھتی اسکا دیا تحفہ وہ سینے سے لگا ئے رکھتی اسے یاد کرتی پر اب روتی کم کم تھی ۔

*******************

رات کے کسی پہر اس کی آنکھ موبائل کے بجنے سے کھلی تھی اس نے کسلمند ی سے کلاک دیکھا جو 1 بجا رہا تھا اس نے موبائل اٹھا یا “ہیلو ” اس کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز ا بھری “ہیلو جان شاہ ” دوسری طرف سے آنے والی آواز سن کر اسے جھٹکا لگا تھا

“شاہ “اس کا دل تیزی سے دھڑکا

“کیسی ہو ؟ میں نے ابھی ابھی پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھا اور میں سب سے پہلے تم سے بات کرنا چاہتا تھا ہیلو تم سن رہی ہو ؟ شاہ جوش سے بولتے بولتے رکا ۔۔

وہ سن ہو چکی تھی اس میں کوئی جنبش نہیں ہو رہی تھی وہ بے حس و حر کت موبائل کان سے لگا ئے بیٹھی تھی ۔

ہیلو تم سن رہی ہو نا ؟ شاہ کے کہنے پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی اس نے موبائل بند کر کے یوں دور پھینکا جیسے وہ کوئی بچھو ہو جو اسے ڈنگ مار لے گا”کیوں کیوں آیا ہے وہ واپس اور اگر آیا بھی ہے تو مجھے کیوں فون کیا اس نے اب ‘ اب کیا چاہتا ہے وہ مجھ سے وہ خود سے باتیں کرتی بے چینی سے پہلو بدلنے لگی باقی کی رات اسے نیند نہیں آئی تھی صبح اس نے ڈرتے ڈرتے موبائل آن کیا تو شاہ کے ڈھیر وں میسج آ ئے ہو ئے تھے اس نے بنا پڑھے ڈیلیٹ کر دیے اور موبائل سا ئلنٹ پے لگا دیا اس کے لئے ایک نیا امتحان شروع ہو چکا تھا جس کا رزلٹ نا جانے کیا ہونے والا تھا ۔۔

**********************

زوہا کے ہاں لڑکا ہوا تھا سب لوگ بے حد خوش تھے وہ لوگ مبارک لے کر ان کے گھر گئے تھے زوہا کے گھر والے بھی حد خوش تھے محلے میں مٹھا ئیاں بانٹی جا رہی تھیں اور زوہا اور اس کے بچے کی نظریں اتا ری جا رہی تھیں چھوٹا سا گولو مولو سا بےبی بالکل اپنے پاپا پر گیا تھا نینا اسے گود میں لئے نہال ہو رہی تھی کتنا پیارا تھا وہ نینا اس کے ہاتھ چوم رہی تھی ابھی وہ لوگ وہیں بیٹھے تھے جب نینا کا موبائل بجنے لگا اس نے فون اٹھا کر دیکھا شاہ اسے پھر سے فون کر رہا تھا اس کا دل تیزی سے دھڑکا اس نے موبائل آف کر کے رکھ دیا وہ اپ سیٹ ہو جاتی جب جب اس کا فون آتا وہ پریشان ہو جاتی لیکن نا جانے کیوں وہ بار بار اسے فون کر رہا تھا وہ میسج بھی کرتا رہتا پر وہ بنا پڑھے ڈیلیٹ کرتی جاتی وہ عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتی جا رہی تھی شاید وہ کمزور پڑنے لگی تھی شاید ۔۔۔۔

**********************

میں تم سے ملنا چاہتا ہوں ایک بار میری بات سن لو پلیز نینا ۔۔۔

ٹھیک ہے مجھ سے بہت غلطیاں ہوئی میں معافی مانگ لوں گا تم سے میں سب ٹھیک کر دونگا ایک بار بھروسا کرو مجھ پر ۔۔۔۔

میری بات سن لو ایک بار میں پرانے وعدوں کی تجدید چاہتا ہوں مجھے ایک موقع دو بس ۔۔۔۔۔

ہم اپنی دنیا بنائیں گے ہمارے خوابوں کی دنیا میں تمہارا شاہ بننا چاہتا ہوں پہلے والا شاہ تم بھی تو یہی چاہتی تھی نا مجھے ایک مو قع دو جان شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

بہت سارے مسیج تھے وہ دیلیٹ کرتے کرتے تھک گئی تو آج نا جانے کیوں پڑھنے لگی

وہ اس سے ملنا چاہتا تھا معافی مانگنا چاہتا تھا ،وعدوں کی تجدید چاہتا تھا وہ سب ٹھیک کر نا چاہتا تھا کیا یہ ممکن تھا ؟ کیا وہ اس کے پاس لوٹ آیا تھا ؟

لیکن وہ کیا چاہتی ہے ؟ وہ کیوں ایسا سوچ رہی ہے ؟ وہ خود سے ہی الجھ رہی تھی

کیا تم یہی نہیں چاہتی تھی ؟

اس کے اندر سے آواز آئی وہ چو نک گئی ” تم بھی تو یہی چاہتی تھی کہ وہ لوٹ آئے تو دیکھو وہ لوٹ آیا ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ” اندر سے کوئی اسے بار بار کہہ رہا تھا پر وہ خوش نہیں تھی پتہ نہیں کیوں ۔۔۔

کیا ہو رہا تھا یہ سب جب بھی کچھ ٹھیک ہونے لگتا کچھ نا کچھ پھر سے غلط ہو جاتا وہ بے حد پریشان تھی سجیلہ کے بعد وہ کسی سے اب کہہ بھی نہیں سکتی تھی اس نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا ۔۔۔

لیکن نہیں وہ اکیلی کہاں تھی کوئی تھا اب بھی اس کے ساتھ اس کا سب سے بہترین دوست ،ساتھی ،غم خوار ،رازدار ،وہ اس سے مشورہ لے سکتی تھی اور اسے یقین تھا وہ اسے بہترین مشورہ دینے والا تھا اس نے سر اٹھا یا اس کی نم آنکھیں چمکنے لگی وہ اٹھی وضو کر کے سجیلہ کا دیا تحفہ اٹھا لائی اس نے قرآن پاک کو کھولا ۔

اے اللّه میں تجھ سے رہنما ئی چاہتی ہوں میں بے خبر اور نادان ہوں لیکن تو با خبر اور ا لبصیر ہے میری مدد فرما میں کیا کروں ؟ مجھے راستہ دکھا ۔۔۔۔۔

دعا کے بعد اس نے قرآن پڑھنا شروع کیا :

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوۡفُوۡا بِالۡعُقُوۡدِ‌ ؕ ۞

اے ایمان والو! اپنے قول پورے کرو ”

وَاذْکُرُوْ انِعْمَةَ اللهِ عَلَیْکُمْ وَمِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَکُمْ بِهٖ ۙ اِذْقُلْتُمْ سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا وَاتَّقُوا اللهَ ؕ اِنَّ اللهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۞

اور یاد کرو اللہ کا احسان اپنے اوپر اور وہ عہد جو اس نے تم سے لیا جبکہ تم نے کہا ہم نے سنا اور مانا اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،

عہد ” اس نے بھی تو عہد کیا تھا اللّه سے اب وہ کیسے مکر سکتی تھی اس کی رضا میں راضی ہونے کا وعدہ بھلا کیسے توڑ سکتی تھی وہ اللّه کا احسان بھول کر اپنے دل کی مان کر اپنی خواھش کے پیچھے کیسے بھاگ سکتی تھی ۔۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا كُوۡنُوۡا قَوَّا امِيۡنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ‌ ۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّكُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰٓى اَ لَّا تَعۡدِلُوۡا‌ ؕ اِعۡدِلُوۡا هُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰى‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِيۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ۞

اے ایمان والوں اللہ کے حکم پر خوب قائم ہوجاؤ انصاف کے ساتھ گواہی دیتے اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے، اور اللہ سے ڈرو، بیشک اللہ کو تمہارے کامو ں کی خبر ہے،)

اس کے ہاتھ کانپے کیا وہ نور عالم شاہ کے ساتھ نا انصافی کرنے جا رہی ہے ۔۔۔

اور اللّه کو تو سب خبر ہے ۔۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‌ ۙ لَهُمۡ مَّغۡفِرَةٌ وَّاَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞

ایمان والے نیکو کاروں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کے لئے بخشش اور بڑا ثواب ہے،

“اسے ساتھ وعدہ بھی دیا گیا تھا :

اَلۡيَوۡمَ اُحِلَّ لَـكُمُ الطَّيِّبٰتُ‌ ؕ وَطَعَامُ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا الۡكِتٰبَ حِلٌّ لَّـکُمۡ ۖ وَطَعَامُكُمۡ حِلٌّ لَّهُمۡ‌ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡـكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ اِذَاۤ اٰتَيۡتُمُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ مُحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ وَلَا مُتَّخِذِىۡۤ اَخۡدَانٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّكۡفُرۡ بِالۡاِيۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُهٗ وَهُوَ فِى الۡاٰخِرَةِ مِنَ الۡخٰسِرِيۡنَ ۞

آج تمہارے لئے پاک چیزیں حلال ہوئیں، اور کتابیوں کا کھانا تمہارے لیے حلال ہوا، اور تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے، اور پارسا عورتیں مسلمان اور پارسا عورتیں ان میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب ملی جب تم انہیں ان کے مہر دو قید میں لاتے ہوئے نہ مستی نکالتے اور نہ ناآشنا بناتے اور جو مسلمان سے کافر ہو اس کا کیا دھرا سب اکارت گیا اور وہ آخرت میں زیاں کار ہے)

اور نا “آشنا” بنا تے ہو ئے ۔۔۔

اس کا دل تھرا گیا اسے سب وا ضع سمجھا اور بتا دیا گیا تھا اگر اب بھی وہ دل کی مانے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ ایک بار پھر سے اللّه سے دوری کا سامان کر بیٹھتی اس کے دل پر عجیب سی کیفیت طاری تھی ایک طرف اس کی محبت تھی ۔۔۔اور دوسری طرف بھی اس کی محبت تھی وہ دو محبتوں کے بیچ کھڑی تھی اب فیصلہ اسے کرنا تھا کہ اسے کونسی محبت چننی تھی ؟

عشق کا فلسفہ سمجھنے کا وقت آگیا تھا اسے سمجھ آگئی تھی کہ وہ لوٹ کر کیوں آیا ہے وہ ایک بار پھر آزمائش کی زد میں تھی ۔۔۔

اس نے قرآن پاک بند کیا اور اس کی نظر ایک آخری آیت پر ٹھہر گئی ۔۔۔۔

“فیصلہ ہو گیا تھا ” اس نے قرآن پاک کو لپیٹ کر رکھا اور موبائل اٹھا کر ایک میسج ٹائپ کیا “

” کہاں ملنا ہے ؟ جگہ اور ٹائم بتا دو میں آجاؤں گی ،،،،،،،

اور اس نے آخر ایک محبت کو چن ہی لیا تھا ۔۔۔۔۔

*********************

3 سال بعد وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی یہ وہی کیفے تھا جس سے ان کی بہت ساری یادیں جڑی تھیں اس وقت وہ دونوں آمنے سا منے بیٹھے تھے وہ آج بھی ویسا کا ویسا تھا ہینڈ سم ،سمارٹ ،خوبصورت ،گال میں پڑتا ڈمپل آج بھی اسی آب و تاب سے دمک رہا تھا چھوٹے چھوٹے بال ما تھے پہ بکھرے تھے سفید سوٹ میں ملبوس آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگا ئے وہ وہی جادو گر تھا جس کے لفظوں کے طلسم میں دنیا کھو جایا کرتی تھی وہ مکمل اس کی پسند کے روپ میں ڈھلا اس کے سامنے بیٹھا تھا

اس نے چشمہ اتار کر ٹیبل پر رکھا اور دلچسپی سے اسے دیکھا اس کے سامنے عبا یا میں ملبوس سادہ سی سادگی کے انداز میں بیٹھی لڑکی وہ نینا نہیں تھی جسے وہ جانتا تھا اور جو اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔۔

“اسے وہ جانتا نہیں تھا “

ویسے مجھے یقین نہیں تھا کہ تم آؤ گی شاہ نے اپنی بات شروع کی ” وہ خاموش بیٹھی رہی ۔۔۔

جانتا ہوں تم مجھ سے بہت ناراض ہو اسی لئے تو بات نہیں کر رہی تھی ورنہ جو میرے ایک میسج کے جواب کے لئے ساری رات جاگے وہ مجھے جواب نا دے یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ نینا کو دیکھ کر مسکرایا اس کا ڈمپل نما یاں ہوا “نینا کے دل کو کسی انجا نی تکلیف نے گھیر لیا لیکن وہ خاموشی سے سنتی رہی ۔

وہ کہہ رہا تھا “ٹھیک ہے میں مانتا ہوں میری غلطی ہے میں نے بہت غلطیاں کی مانتا ہوں تم نے مجھ سے بہت محبت کی بے تحاشہ چاہا شاید زندگی میں کسی نے مجھ سے اتنی محبت نہیں کی ہوگی نا ہی کوئی کرے گا لیکن میں تمہاری محبت کی قدر نا کر سکا میں بد لے میں تمہیں کبھی ویسی محبت نا دے پایا میں جانتا ہوں میں نے تمہیں بہت تکلیف دی بہت دل دکھا یا تمہارا ،تمہیں کئی بار ہر ٹ کیا تمہارا دل توڑا تمہیں بہت دکھ دیے تمہیں اگنور کیا پتہ نہیں مجھے کیا ہو گیا تھا مجھے کبھی سمجھ نہیں آئی میں نے ایسا کیسے کر دیا مجھے اب احساس ہوتا ہے ۔

میں نے کتنا غلط کیا تمہارے ساتھ مجھے بہت افسوس ہے ان ساری باتوں کے لئے میں تم سے معزرت کرتا ہوں

“آئ ایم سوری “پلیز مجھے معاف کر دو مجھے بس ایک مو قع دو میں سب ٹھیک کر دوں گا تمہارے سارے غموں کا مداوہ کر دونگا تمہارا ہر دکھ سکھ میں بدل دونگا تمہاری ہر تکلیف کو سکون میں بدل دونگا تمہیں اتنی خوشیاں دوں گا کہ تم سب بھول جاؤ گی ۔۔

وہ نینا کے سا منے بیٹھا معافی مانگ رہا تھا ایک مو قع مانگ رہا تھا 3 سال اس نے اس وقت کا انتظار کیا تھا لیکن آج وہ وقت سامنے آیا تو وہ بالکل خاموش بیٹھی تھی اسے تو خوش ہونا چاہیے تھا پر اسے کوئی خوشی نہیں ہو رہی تھی وہ چپ چاپ اس کا ہر لفظ سن رہی تھی اس نے اپنی انگلی میں پڑی انگو ٹھی کو دیکھا جسے شاہ نے نوٹ کیا تو فوراً بول اٹھا “ہاں میں نے سنا سب پر تم فکر مت کرو اس کی پرواہ مت کرو میں سب سیٹ کر دونگا سب ٹھیک ہو جا ئے گا ٹرسٹ می ۔۔۔

تم سے دور رہ کر مجھے احساس ہوا کہ

” I Love you so much “

میں تمہار ے بغیر نہیں رہ سکتا دیکھو میں کیا لایا ہوں یہ کہہ کر اس نے اپنی جیب سے ایک سرخ مخملی ڈبیہ نکالی اور کھول کر ٹیبل پر رکھی جس میں ایک نفیس سی ڈائمنڈ رنگ چمک رہی تھی ۔

نینا نے ایک نظر رنگ کو دیکھا اور پھر شاہ کو “تمہاری بات ختم ہو گئی ؟

نینا نے نپے تلے انداز میں کہا

“ہاں ختم ہو گئی اب میں تمہاری بات کا منتظر ہوں “

شاہ نے کہہ کر اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھا ۔۔۔وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر گہری سانس لی ۔

جانتے ہو شاہ ۔۔۔۔۔

انسان کو کامیاب زندگی جینے کے لئے دل میں کسی نا کسی کسک کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے اور تم ۔۔۔۔میرے لئے وہی کسک ہو ،،میں ناراض نہیں ہوں ،غصہ بھی نہیں ہوں ، ہاں پہلے تھی میں ناراض لیکن اب ناراضگی ،غصہ ،نفرت ،کچھ بھی نہیں ہے اب میرے دل میں تمہارے لئے کچھ بھی نہیں !!!

میں نے بہت پہلے ہی تمہیں معاف کر دیا تھا'”

بلکہ اب میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں تم نے مجھے زندگی کا ایک نیا فلسفہ سکھایا تمہاری وجہ سے میں نے جینے کے وہ راز سیکھے جو میں اس سے پہلے نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ ہولے سے مسکرائی بہت بہت شکریہ شاہ ۔۔۔۔

اور یقین کرو تم نہیں بدلے تھے وہ تو میرے اللّه نے ہی تمہارا دل بدل دیا ورنہ تمہاری جرات نہیں تھی اگر میرا اللّه نا چاہتا ۔۔۔۔وہ تو میرا اللّه ہی چاہتا تھا ایسا اس لئے ایسا ہوا کیونکہ وہ مجھے بتانا چاہتا تھا کہ انسانوں کی محبتیں کچھ نہیں ہوتیں محبت تو صرف رب اور اس کے بندے کی ہے ۔۔۔۔۔

غلطی تو میری ہی تھی میں نے تمہیں اپنے دل میں وہ مقام دے دیا تھا محبت کی اس انتہا پہ تمہیں رکھ لیا تھا جس پے صرف میرے اللّه کا حق ہے۔۔۔۔۔تو سزا تو ملنی ہی تھی ۔۔۔۔تم ۔۔۔۔اس نے انگلی شاہ کی طرف اٹھا ئی ۔۔۔۔۔حنا ن علی شاہ تم ۔۔۔۔۔(وہ زندگی میں پہلی بار اس کا مکمل نام لے رہی تھی اور ۔۔۔۔آخری بار بھی ) تم میرے لئے بت بن گئے تھے جسے میں اپنے دل کے صنم خانے میں رکھ کر پوجنے لگی تھی ۔۔۔۔۔

تم ۔۔۔میرے اور میرے رب کے بیچ آگئے ۔۔۔۔تو یہ تو ہونا ہی تھا اس نے مجھے تمہا رے ہی ہاتھوں توڑا یہ میرے لئے سبق تھا کیونکہ یہی محبت کا فلسفہ ہے اور اس فلسفے کو سمجھنے میں مجھے بہت دیر لگ گئی ۔۔۔۔جانتے ہو عشق کا فلسفہ کیا ہے ؟

وہ آگے کو جھکی شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آہستہ سے پوچھا ۔۔۔۔

شاہ کچھ بھی نہیں بول پایا وہ یک ٹک اس اسے دیکھ رہا تھا حیرت سے ۔۔۔۔۔

فلسفہ عشق یہ ہے کہ اس میں صرف 2 کا اصو ل چلتا ہے کسی تیسرے کی اس میں کوئی گنجا ئیش نہیں ہوتی اور اگر کوئی تیسرا بیچ میں آجا ئے تو ۔۔۔۔۔کسی ایک تو بیچ میں سے نکلنا ہی ہوتا ہے ” پھر چاہے وہ محبت کسی انسان کی ہو یا اللّه کی ۔۔۔۔۔

تو جب تمہارے اور اس کے بیچ میں آگئی تو اس نے مجھے بیچ سے نکال دیا تمہارا دل بدل کر ۔۔۔اور میرے اور اس کے بیچ جب تم آگئے تو اس نے خود کو بیچ سے نکال لیا ۔۔۔اس نے مجھے یہ بات باور کرا دی کہ سب سے بڑا خسارہ تو اللّه سے دوری ہے ۔۔۔۔

وہ واپس سیدھی ہو کر بیٹھی ۔۔

اتنی دیر میں پہلی بار اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔۔۔اور یقین کرو اب جو یہ تم واپس آ ئے ہو نا میرے پاس یہ تم نہیں آئے یہ میرا اللّه لا یا ہے تمہیں شاید پھر سے آ ز ما ئش بن کر ۔۔اور اب اگر ۔۔وہ چند لمحوں کے لئے رکی

اب اگر مجھے اللّه چاہیے تو پھر کسی ایک کو تو بیچ سے نکلنا ہی ہوگا اور اس لئے اس بار میں تمہیں بیچ سے نکال رہی ہوں ۔۔۔۔۔

نینا یہ تم کیا کہہ رہی ہو ؟ شاہ نے پریشان ہو کر اسے دیکھا ۔۔۔

وہی جو تم سن رہے ہو ۔۔۔۔مجھے اللّه چاہیے اس نے زور دے کر کہا ۔

اس لئے آج میں ۔۔۔اس نے اپنےسینے پہ انگلی رکھی ۔۔۔میں نینا توقیر ملک اپنے پورے ہوش و حواس کے ساتھ ۔۔۔سید حنان علی شاہ تمہیں تیاگ رہی ہوں ۔۔۔

شاہ کا دل دھک سے رہ گیا ۔۔۔

میں نینا ملک تمہاری محبت کو اپنے اللّه کی محبت پہ وارتی ہوں ۔۔۔۔میں اپنے اللّه کے لئے تم سے اور تمہاری محبت سے دستبردار ہوتی ہوں ۔۔۔میں اپنی مرضی کو اپنے اللّه کی رضا پہ قربان کرتی ہوں ۔۔۔۔

شاہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا

اس نے سامنے ٹیبل پر رکھی انگوٹھی کی ڈبیہ کو ہاتھ سے پرے کھسکا یا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ آج سے تمہارے اور میرے بیچ کوئی واسطہ کوئی رابطہ نہیں ہوگا

کچھ خسارے ایسے ہوتے ہیں جن کا کوئی مداوہ نہیں ہوتا ۔۔۔۔تم اور میں ۔۔۔۔اب تا عمر ۔۔۔ایک دو سرے کے لئے ۔۔۔۔۔وہی خسارہ رہیں گے ۔۔۔۔۔ وہ جانے کو مڑی ۔۔۔شاہ کا جی چاہا اسے آواز دے اسے روک لے لیکن اس کے وجود سے جیسے کسی نے تمام توا نا ئیاں کھینچ لی تھیں ۔۔وہ چند قدم چلنے کے بعد رکی ۔۔۔۔شاہ کا دل ڈوب کر ابھرا وہ واپس مڑی اور اسکے مقابل آن کھڑی ہوئی ۔۔۔

اور یقین کرو تم تو صرف ایک شاہ ہو اگر تم جیسے ہزاروں شاہ بھی ہوتے تب بھی میں اپنے اللّه کے لئے ان سب کو تیاگ دیتی وہ ہلکا سا مسکرا ئی ۔۔۔اور مڑ کر جانے لگی ۔۔

شاہ اسے بے بسی سے جاتے دیکھتا رہا وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا تی اس سے لمحہ با لمحہ دور ہوتی جا رہی تھی اس کے قدموں میں مضبوطی تھی اور چال میں استحکام ۔۔

نینا نے آنکھ میں آئے آنسو کو پلکوں سے گرنے سے پہلے ہی اپنی انگلی سے نرمی سے صاف کیا اسے اب کبھی بھی شاہ کے نام کا کوئی آنسو اپنی آنکھ سے نہیں گر نے دینا تھا اس کی نظر میں وہ آخری قرآن کی آیت گھوم رہی تھی جو رات اس نے بند کرنے سے پہلے پڑھی تھی ۔۔۔

وَلَـلۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لَّكَ مِنَ الۡاُوۡلٰىؕ ۞

اور بیشک پچھلی تمہارے لیے پہلی سے بہتر ہے

وَلَسَوۡفَ يُعۡطِيۡكَ رَبُّكَ فَتَرۡضٰىؕ ۞

اور بیشک قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں اتنا دے گا کہ تم راضی ہوجاؤ گے،

اسے یقین تھا یہ وعدہ ضرور پورا ہوگا ۔

اور شاہ اس کانچ جیسی لڑ کی کو آج چٹان جیسی مضبوطی کے ساتھ خود سے دور بہت دور جاتا ہوا دیکھ رہا تھا وہ جو ایک ہفتہ بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتی تھی تا عمر اس کے بغیر رہنے کا فیصلہ کر کے جا چکی تھی ۔۔۔۔

اور محبت کی نا قدری کرنے والوں سے محبت ہمیشہ کے لئے روٹھ جایا کرتی ہے ۔۔۔۔

*******************

5 سال بعد ……………..

شاہ ……شاہ …….کہاں ہو تم شاہ ….وہ اسے آوازیں دیتی پورے گھر میں ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ کہیں نہیں تھا وہ اسٹڈی کی طرف بڑھی وہ آخری جگہ تھی جہاں شاہ کے ہونے کا امکان تھا اندر قدم رکھتے ہی اس کے قدم جیسے زمیں نے پکڑ لئے تھے ۔

وہ حیرت زدہ سی سامنے کا منظر دیکھ رہی تھی جہاں اس کا 2 سال کا بیٹا شاہ عا لم جا ئے نماز پر آلتی پالتی مار ے آنکھیں بند کیے بیٹھا اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں پہ کچھ پڑھ رہا تھا اس کے ننھے منے ہونٹ ہل رہے تھے ۔

شاہ …… اس نے ہولے سے پکارا جس پر چھوٹے شاہ نے اپنی کانچ جیسی آنکھیں جھٹ سے کھول دیں اس کی زہانت سے چمکتی آنکھیں اب نینا پر ٹکی تھیں ” بیٹا آپ یہاں کیا کر رہے ہو ؟ نینا نے حیران ہو کر پوچھا چھوٹے شاہ کے ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھلے اس کے گال میں ایک ڈمپل نما یاں ہوا نینا نے آگے بڑھ کر اسے گود میں اٹھا لیا

“کیا پڑھ رہا تھا میرا بیٹا ؟ اس نے پیار سے پوچھا “اللّه ” چھوٹے شاہ نے بلا تعامل جواب دیا نینا نے بے اختیار مسکرا کر اس کے گال چو مے ۔۔

اسے ایک وعدہ یاد آیا

وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾

اور آپ کا رب عنقریب آپ کو ( اتنا کچھ ) عطا فرمائے گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے

بیشک میرے رب کا ہر وعدہ سچا ہے اس نے بے اختیار شاہ عاللم کو سینے سے لگایا اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں اپنے اللّه کی عطا پر وہ چاہتی تھی اس کی زندگی میں ایک صالح اور دیندار مرد ہو اور ضروری تو نہیں تھا کہ وہ مرد اس کا شوہر ہی ہوتا وہ مرد اس کا بیٹا بھی ہو سکتا تھا جو شاید اللّه پاک نے عطا کر دیا تھا ۔۔۔

ماں بیٹے میں کیا راز کی باتیں ہو رہی ہیں ؟

آواز پر وہ پلٹی دروازے میں نور عالم شاہ کو دیکھ کر وہ مسکرا دی “کچھ نہیں بس میرا بیٹا تسبیح پڑھ رہا تھا ۔

نینا نے اسے بتایا دیکھا میرا بیٹا اللّه سے کتنا پیار کرتا ہے ” ہاں جی دیکھا بالکل اپنی ماں کی طرح ” نور شاہ کہتا ہوا اندر آیا ۔

نور شاہ ہمارا بیٹا حافظ قرآن بنے گا ” نینا نے نور شاہ کی طرف مڑ تے ہو ئے کہا “ہاں کیوں نہیں بالکل بنے گا ” نور شاہ نے آگے بڑھ کر چھوٹے شاہ کو گود میں اٹھا لیا ۔۔

میں سوچ رہا تھا آج شام کا کھانا ہم لوگ آنٹی لوگوں کی طرف نا کھا ئیں “اس نے باہر کی طرف قدم بڑھا تے ہو ئے کہا ،، ٹھیک ہے جیسے تم کہو ویسے بھی عینا کل سے بار بار فون کر کے بلا رہی تھی ،،وہ کہتی اس کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی اور واپسی پر سجیلہ کی قبر پر بھی یٰس پڑھ کر آ ئیں گے دور جاتے قدموں کی آواز کے ساتھ ان کی آوازیں بھی مدھم ہوتی جا رہی تھیں ۔

اور کون کہتا ہے کہ زندگی جو کچھ لیتی ہے واپس نہیں لوٹا تی زندگی ہمیں ہر روز ایک نیا مو قع دیتی ہے جینے کا ہمیں بس اس مو قع کو دل سے اپنانا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔

**********************

وہاں سے سو کلو میٹر دور وہ ایک ہسپتا ل کا کمرہ تھا کرسی پر بیٹھا وہ ڈاکٹر اس شہر کا سب سے بڑا اور مشہور سا ئیکٹسٹ تھا لوگ اسے لفظوں کا جادو گر کہتے تھے اس کی وا ئٹ شرٹ کے بازو ہاف فولڈ تھے چھوٹے چھوٹے بال ، کلا ئی میں چمکتی سیاہ گھڑی، اور گلے میں لٹکتی ایک رنگ اسے خاصہ پر وقار بنا رہی تھی وہ مسکرایا تو اس کے گال میں پڑتا ڈمپل اسے اور بھی جاذب نظر بنا گیا ۔

وہ اپنے سامنے بیٹھے انسان سے کہہ رہا تھا

“اگر آپ کے پاس مرنے کی 4 وجو ہا ت ہیں تو تو وہیں آپ کے پاس جینے کی بھی کوئی ایک وجہ لازمی ہوگی بس اس ایک وجہ سے جینا شروع کر دیں اپنے لئے نہیں تو دوسروں کے لئے جینا شروع کر دیں آپ کی زندگی آسان ہو جا ئے گی “

مریض کے جانے کے بعد اس نے جھک کر ایک دراز کھولی اور اس کے اندر رکھا ایک بکس کھولا ایک خوشبو اس کے چارو طرف پھیل گئی تھی اس بکس میں کچھ ٹوٹے ہوئے چوڑی کے ٹکڑے ،ایک ڈوپٹہ کچھ ہیر پنز رکھے تھے اور وہیں سائیڈ پر ایک سرخ مخملی ڈبیہ میں ایک نفیس سی رنگ بھی رکھی تھی اس نے محبت سے سب چیزوں پر ہاتھ پھیرا اور پھر بکس واپس بند کر کے رکھ دیا ۔۔۔۔

کچھ خسارے ایسے ہوتے ہیں جن کا کبھی کوئی مداوہ نہیں ہوتا۔۔۔۔ تم اور میں۔۔۔ تا عمر اب ایک دو سرے کے لئے وہی خسارہ رہیں گے۔۔