Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 17
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 17
Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah
رات مسلسل گہری ہو رہی تھی
اور وہ دونوں پاگلوں کی طرح سحر کو ڈھونڈ رہے تھے
وقفے وقفے سے وہ لوگ سجیلہ کو بھی کال کر رہے تھے اور سحر کے گھر بھی
پر اس نے ایک بار بھی شاہ کو کال نہیں کی تھی پتا نہیں کیوں …
اچانک گاڑ ی جھٹکے کھانے لگی
اور پھر بند ہو گئی
کیا ہوا ؟![]()
نینا نے سیفی کی طرف دیکھا
پتا نہیں دیکھتا ہوں
وہ نیچے اتر کر دیکھنے لگا تبھی نینا کا موبائل بجنے لگا
اس نے موبائل کان سے لگایا
سحر کا کچھ پتا چلا ؟
اس نے جلدی سے پوچھا
نہیں پر تم لوگ کہاں ہو ؟
دوسری طرف سے پوچھا گیا
ہم لوگ شہر سے باہر باغات کی طرف
اس نے لوکیشن بتائی
رات ہو چکی ہے اور وہ علاقہ خطرناک ہے
تم لوگ ذرا ٹھہر جاتے میں کسی کو ساتھ بھیج دیتا
کیا تمہیں لگتا ہے ہمیں کسی کی ضرورت ہے ؟
نینا نے ٹھہرے ہوئے انداز میں پوچھا
یار ……
کتنی لا پرواہ ہو تم نینا
اس نے نینا کی لوکیشن ٹریس کرنے کا اشارہ کیا
بس بس اب کوئی لیکچر سننے کے موڈ میں نہیں ہوں میں انسپکٹر توصیف اس نے سر جھٹک کر بات ختم کی
پہلے ہی گاڑی خراب ہو گئی ہے
اب دماغ مت خراب کر میرا
نینا نے دو ٹوک انداز میں کہا
گاڑ ی خراب ہو گئی ہے ؟
اس نے فکر مندی سے پوچھا
ہاں نینا نے ذرا سا گردن موڑ کر سیفی کو دیکھا جو بونٹ پر جھکا ہوا تھا
اچانک نینا کی بات ادھوری رہ گئی
اس نے مڑ کر اس سائیڈ پر دیکھا
سیفی بھی ایک دم سے سیدھا ہوا تھا
نینا کا موبائل والا ہاتھ نیچے گرا
ان دونوں نے ایک دو سرے کو دیکھا
اور اگلے ہی پل ان دونوں نے ایک ساتھ اس طرف دوڑ لگا دی
دور کہیں جھاڑیوں سے گھٹی گھٹی چیخوں کی آواز سنائی دے رہی تھی
قریب پہنچ کر سیفی نے اپنی جیب سے ٹارچ نکال لی تھی جب کہ نینا بنا کچھ سوچے اندھیرے میں ہی ان جھا ڑیوں میں جا گھسی تھی
سیفی اسے آواز دیتا رہا پر اس نے سنی نہیں
جھاڑ یوں میں گھستے ہی اس نے ادھر ادھر ہاتھ مارے
تب تک سیفی بھی پہنچ چکا تھا اس نے ٹار چ ماری
نینا کا ہاتھ کسی انسانی جسم سے ٹکرایا
اس نے تیزی سے اس کلائی کو کھینچا
روشنی پڑنے پر اس نے دیکھا
وہ سحر تھی جس کی ہاتھ اور پاؤں بندھے ہوئے تھے
اور منہ پر بھی کپڑا بندھا تھا
جس سے اس کی گھٹی گھٹی چیخیں نکل رہی تھیں
جھاڑیاں خار دار تھی جن سے شاید وہ زخمی تھی
نینا کے اپنے ہاتھ بھی زخمی ہو چکے تھے
لیکن اسے پرواہ نہیں تھی
اس نے چلا کر سیفی سے کہا
سحر کو اٹھاؤ
سحر کا ہاتھ نینا کے ہاتھ میں تھا اب اور وہ اسے آوازیں دے رہی تھی
نینا کی آواز سن کر سحر نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی پھر آنکھیں بند کر لی
وہ بے ہوش ہو چکی تھی
ان دونوں نے مل کر اسے اٹھا کر گاڑی میں ڈالا
فیز 3 میں آتے ہی
نینا کا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا
اس نے موبائل نکال کر کان سے لگایا
تبھی دور سے سائرن کی آواز سنائی دی
********************
وہ ابھی مسجد سے آ کر کھانا کھا کر کمرے میں آیا تھا
اس نے لیپ ٹاپ اٹھا یا
آن ہو کر نینا کی آئ ڈی دیکھی اس نے
وہ رات سے آن نہیں آئ تھی
دن کے سارے واقعات اس کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگے
وہ جیسے اٹھ کر گئی تھی بنا کچھ بولے
شاہ کو دھڑ کا سا لگا ہوا تھا
وہ پتا نہیں کیا سوچ رہی تھی
اور کیا کرتی اب
شاہ نے موبائل اٹھا کر اسے مسیج کرنے کے لئے ٹائپ کیا
پر پھر کچھ سوچ کر مٹا دیا
یونہی موبائل ہاتھ میں تھامے وہ اس کے بارے میں سوچتا گیا
وہ تب چونکا جب موبائل کی بیل بجنے لگی
اوکے کر کے کان سے موبائل لگائے وہ دوسری طرف کی بات سن رہا تھا
دوسری طرف سے جو کہا گیا اسے سن کر وہ ایک دم سے اٹھ کھڑا ہوا
چابی اٹھا کر وہ تیزی سے باہر کی طرف لپکا تھا
*****************
وہ اس وقت کوریڈور میں سب سے ذرا دور ہٹ کر اور اکیلی بیٹھی تھی
بینچ پر ایک ٹانگ نیچے لٹکائے
دوسری ٹانگ موڑ کر گھٹنےکے اوپر تھوڑی ٹکا ئے
بالکل خاموش بیٹھی تھی
سب لوگ ذرا دور بیٹھے تھے
توصیف سب کے لئے چائے منگوا چکا تھا
جو سجیلہ سب کو کپ اٹھا اٹھا کر دے چکی تھی
آخری کپ انسپکٹر توصیف خود اٹھا کر نینا کے طرف چلا آیا
نینا
اس کے پکارنے پر نینا نے سر اٹھایا
توصیف نے کپ اس کی طرف بڑھایا
مجھے نہیں چاہئیے
نینا نے ہاتھ آگے نہیں بڑھایا
لے لو تمہیں اس کی ضرورت ہے
سردی بہت بڑھ چکی تھی
اور وہ ابھی تک اسی سفید فراک میں بیٹھی تھی
نینا نے چپ چاپ کپ تھام لیا
سیفی نے دکھایا مجھے وہ خط جو سحر کے پاس سے ملا
یہ یقیناٙ تمہارے کسی دشمن کا کام ہے لیکن تم فکر مت کرو
میں ان کو چھوڑوں گا نہیں
انسپکٹر تمہارا تو پتا نہیں پر میں اسے نہیں چھوڑوں گی
نینا نے ڈانت پیسے ![]()
توصیف نے گردن موڑ کر اسے دیکھا
سفید فراک پہنے بالو کو سمیٹ کر جوڑا بنائے ڈوپٹہ سر پر رکھے بازو سمیٹے وہ کپ منہ سے لگائے بیٹھی تھی ملیح چہرے پہ غصے کی سر خی پھیلی تھی اور کچھ شریر لٹیں چہرے کے اطراف بکھری تھیں
وہ عام دنوں سے بہت مختلف لگ رہی تھی
توصیف نے دلچسپی سے اسے دیکھا
اسے ماننا پڑا کہ وہ ہر انداز میں خوبصورت لگتی تھی ![]()
کچھ بولنے سے پہلے ہی اس کی نظر نینا کے ہاتھوں پر پڑی
نینا تمہارے ہاتھ زخمی ہیں ![]()
اس نے چونک کر کہا
نینا نے بے اختیار اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا
اسے یاد ہی نہیں رہا تھا کہ اس کے ہاتھ زخمی تھے
چلو میرے ساتھ وہ اٹھ کھڑا ہوا
نہیں سحر کے آنے تک میں کہیں نہیں جاؤں گی
نینا نے نا کر دی
ابھی 5 منٹ میں آجائیں گے ہم چلو
توصیف نے اسے نرمی سے سمجھایا
اس بار وہ بحث کیے بنا اٹھ گئی
توصیف نے ایک نرس کو بلا کر اسے بینڈیج کرنے کا بولا
وہ انکو لئے ایک روم کی طرف بڑھ گئی
ابھی وہ سامان لے کر آئی تھی
اس نے ہاتھ پر ٹیوب لگانی شروع کی
نینا جبڑے بھینچے بیٹھی رہی
درد ہو رہا ہے ؟
توصیف اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولا
نینا نے نفی میں سر ہلایا
اس سے کہیں زیادہ درد اسے سحر کو زخمی حالت میں دیکھ کر ہوا تھا
اسی وقت کوئی اندر آیا تھا
نینا نے سر اٹھا یا
دروازے میں شاہ اور اس کے پیچھے سجیلہ کھڑی تھی
وہ تیزی سے نینا کی طرف بڑھا
تم ٹھیک ہو ؟
یہ ہاتھوں پہ کیا ہوا ؟
شاہ نے اس کا ہاتھ تھام کر دیکھا
نینا نے تیزی سے اپنا ہاتھ واپس کھینچا
اور نا گوار ی سے شاہ کو دیکھا
سوری …
وہ ذرا شرمندہ ہوا
سحر کیسی ہے ؟
اور تم لوگوں نے مجھے بتانا ضروری بھی نہیں سمجھا
اس نے شکوہ کیا
سحر ابھی بے ہوش ہے توصیف نے اسے بتایا
سب اتنا اچانک ہوا کہ کسی کو کچھ بھی کرنے کا یا بتانے کا موقع ہی نہیں ملا
سجیلہ بھی آگے بڑھ کر نینا کے پاس بیٹھ گئی تھی
شاہ نے اسے دیکھا وہ خاموش بیٹھی تھی
بینڈ یج ہو چکی تھی نرس جا چکی تھی
توصیف سحر کا پتا کرنے باہر نکل گیا تھا
یہ سب کیسے ہوا نینا ؟
شاہ نے اب نینا سے براہ راست پوچھا
نینا نے ایک چٹ اسے پکڑائی
لیکن بولی اب بھی کچھ نہیں
شاہ نے اسے کھول کر دیکھا
اس پر لکھا تھا
“یہ تو صرف ٹریلر ہے مس نینا اگلی بار کسی بڑے نقصان کے لئے تیار رہنا “
شاہ نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا
کون ہو سکتا ہے یہ ،؟
جو بھی ہے ہم اسے چھوڑیں گے نہیں ![]()
سجیلہ نے ہوا میں مکا لہرایا
شاہ بس اسے دیکھ رہا تھا
جو تھکی تھکی سی لگ رہی تھی
وہ بول کیوں نہیں رہی
اسے نینا کی خاموشی بے چین کر رہی تھی
تھوڑی دیر بعد سجیلہ بھی اٹھ کر چلی گئی
تو وہ دونوں اکیلے رہ گئے
تم ناراض ہو مجھ سے ؟
شاہ نے آخر پوچھ ہی لیا
نہیں …..
نینا نے اس کی طرف دیکھنے سے گریز کیا
پھر اتنی خاموش کیوں ہو ؟
شاہ نے بے چینی سے اسے دیکھا
کبھی کبھی ہم خاموش رہ کر زیادہ بہتر محسوس کرتے ہیں
نینا نے پہلی بار اس کی آنکھوں میں دیکھا
شاہ اس کی کانچ جیسی آنکھوں میں دیکھتا رہا
بولا کچھ نہیں
سجیلہ ان کو بلانے آئ تھی
سحر کو ہوش آگیا تھا
وہ ڈاکٹر کے پاس چلی آئ
ڈاکٹر کہہ رہا تھا
وہ بالکل ٹھیک ہے
اسے کوئی گہری چوٹ نہیں لگی تھی
اور نا ہی اس کے ساتھ کوئی زور زبردستی کی گئی تھی ہاں سر چوٹ لگی ہے جو زیادہ گہری نہیں ہے
ہاں مینٹلی ڈسٹرب ہے ذرا اسے آرام کرنے دیں
نینا نے بے اختیار سکون کا سانس لیا تھا
یہ سن کر اس کی جان میں جان آگئی تھی کہ سحر کی عزت بالکل محفوظ تھی
اتنی دیر سے اسے یہی بات پریشان کر رہی تھی
اس نے اللہ کا شکر ادا کیا اور سحر کے ماما بابا کو تسلی دی
رات کے 2 بجنے والے تھے
سب اب اپنے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے تھے
اس نے بھائی کو فون کر کے بلا لیا تھا
توصیف نے ان کو چھوڑنے کی پیشکش کی جسے اس نے شکریہ کے ساتھ مسترد کر دیا
سجیلہ اس کے ساتھ جا چکی تھی
شاہ نینا کے جانے کے بعد تک رکا رہا البتہ سیفی وہیں رک گیا تھا ہسپتال سحر کے ماما بابا کے پاس
کچھ حادثے زندگیوں کے رخ بادل دیتے ہیں اور لوگوں کے صحیح رخ دیکھا بھی دیتے ہیں ![]()
********************
2 دن گزر گئے
سحر گھر آ چکی تھی
اسے کسی نے گلی میں سے کار میں ڈالا تھا اور سر پر کچھ مار کر بے ہوش کیا تھا
اس کے بعد جب اس کی آنکھ کھلی اس نے خود کو جھاڑیوں میں پایا
انسپکٹر توصیف نے رپورٹ لکھ لی تھی
اور گھر آ کر نینا کا بیان بھی لے چکا تھا
سیفی بھی اپنا بیان دے چکا تھا البتہ
وہ پرچی نینا کے پاس تھی
جسے وہ بار بار پڑھتی اور پھر رکھ لیتی اس نے اسے توصیف کو دینے سے انکار کر دیا تھا
اور اس نے لینے کی ضد بھی نہیں کی وہ 2 روز سے سحر کے ساتھ تھی
شاہ کے میسج اسے مل رہے تھے
وہ جواب بھی دیتی پر اس دن والی بات کا ذکر دوبارہ کسی نے نہیں کیا تھا
اسے اس سب کو سوچنے کا کوئی موقع ہی نہیں ملا تھا
2 دن اچانک سے جو کچھ ہوا سب پریشان تھے
اور وہ اتنی الجھی ہوئی تھی کہ اس سب کے بارے میں اسے سوچنے کا ٹائم ہی نہیں ملا
آج وہ سحر کے گھر سے نکلیں تو گھر جانے کی بجائے وہ سجیلہ کے ساتھ چلی گئی
اس نے سجیلہ کو سب بتا دیا
تو تونے کیا جواب دیا ![]()
سجیلہ ہمہ تن گوش تھی
کوئی نہیں چپ چاپ آگئی
نینا نے اپنی کلائی پر بندھی گھڑ ی گھمائی
پر کیوں ![]()
کیا وہ تجھے اچھا نہیں لگتا ؟
سجیلہ نے اس کا دل ٹٹولہ
بات وہ نہیں ہے سجیلہ
یہ سب ٹھیک نہیں ہے
اور پھر یہ سب میرے بس کی بات بھی نہیں ہے
نینا نے بے بسی سے اسے دیکھا
اس میں کونسی جنگ لڑنی ہوتی ہے ![]()
محبت ایک خوبصورت سا جذبہ ہے جو انسان کو انسان بنا تا ہے
سجیلہ نے اس کا زخمی ہاتھ تھاما جس پر اب زخم مندمل ہو چکے تھے
یار تجھے تو پتا ہے ہمیں اس پہ کتنا شک تھا
اب میں اس پہ کیسے بھروسہ کروں ![]()
نینا نے ایک اور نکتہ اٹھایا
بات تو تیری ٹھیک ہے نینو
پر دو سرے پہلو پر بھی سوچ
ہو سکتا ہے وہ تجھےواقع پسند کرنے لگا ہو
کیا پتا وہ تمہیں اپنی لائف میں شامل کر کے جان شاہ کی کمی کو پورا کرنا چاہتا ہو
سجیلہ نے نیا نکتہ اٹھایا
نینا کی کانچ جیسی آنکھیں چمکنے لگی
کیا ایسا ہو سکتا ہے ؟
اس کے دل نے جیسے چپکے سے معصومانہ سوال کیا اور آنکھوں نے نیا خواب بننا شروع کر دیا تھا
لیکن کبھی کبھی کچھ خواب ہمیں بہت مہنگے پڑ تے ہیں
دیکھنے میں جو خواب خوش نما نظر آتے ہیں ان کا بار اٹھانا ہماری آنکھوں کے بس کی بات نہیں ہوتی ![]()
![]()
*******************
آج وہ کافی دن بعد خود کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی
اس نے سادہ سے کرتے اور شلوار میں ملبوس خود پر نظر ڈالی گلے میں پڑا ڈوپٹہ اٹھا کر سر پہ رکھا
” اسے سر پہ رکھا کرو مجھے بہت اچھا لگتا ہے ![]()
کسی نے اس کے کان میں سر گوشی کی
اس نے ڈوپٹہ ٹھیک سے اوڑھ لیا اور جانے کو مڑی
پھر کچھ یاد آنے پر رکی ایک نظر آئینے کو دیکھا پھر پاس پڑی چوڑیا ں اٹھا کر کچھ ہاتھ میں ڈال لی
اور باہر نکل گئی
سحر ابھی تک یونیور سٹی نہیں آئ تھی
جبکہ باقی سب آ چکے تھے
اس کی نظریں نینا کو ڈھونڈ رہیں تھی
اور پھر وہ اسے نظر آ ہی گئی
وہ دھیرے دھیرے چلتا اس کے پاس پہنچ گیا
نینا .,….
شاہ نے اسے پکارا
نینا نے مڑ کر اسے دیکھا
خلاف معمول وہ آج سادہ کرتے اور شلوار میں تھی
اور سب سے عجب بات اس نے سر پر ڈوپٹہ رکھا ہوا تھا شاہ کو خوش گوار سی حیرت نے گھیر لیا
ویری نائس آج ایسے گیٹ اپ میں ![]()
![]()
شاہ نے پوچھ ہی لیا
ہاں کیونکہ میں کسی کو ایسے ہی اچھی لگتی ہوں ![]()
نینا مسکرا دی
ا وہ اچھا اچھا تو یہ بات ہے![]()
ویسے ماننا پڑے گا
ہماری ہٹلر ہر گیٹ اپ میں حسین لگتی ہے
شاہ نے مسکرا کر اس کی تعریف کی
نینا کا چہرہ ایک دم سے دمکنے لگا
آج کتنے دن بعد وہ کھل کر مسکرائی تھی
کافی ؟
شاہ نے آفر کی
ہاں کیوں نہیں ![]()
وہ ساتھ چلنے لگی
مجھے لگا تم ناراض ہو گئی
شاہ نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا
نہیں تو نینا نے سر نفی میں ہلایا
پھر تم کس بات سے ڈرتی ہو ؟
شاہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا
وہ ایک لمحے کو گڑبڑائی
ایسی تو کوئی بات نہیں ہے
پھر تم نے اس دن کوئی جواب کیوں نہیں دیا
میں نے کہا تھا کچھ باتیں ان کہی زیادہ اچھی لگتی ہیں شاہ
نینا نے نظر جھکا لی
شاہ گہری سانس لے کر رہ گیا
اور پھر ضروری تو نہیں کہ ہر بات کہی جائے وہ ہلکا سا مسکرائی
شاہ نے اس کی مسکراہٹ میں اقرار کی جھلک دیکھی
اس کے دل میں سکون اتر گیا ![]()
*********************
زوہا آئی ہوئی تھی اور گھر میں خوب ہنگامہ تھا
وہ سب مل کر گیم کھیل رہے تھے جس میں سب گھر والے شامل تھے
وہ لوگ ایک میو زک بجاتے اور بال ایک دوسرے کو پاس کرتے جس پر میو زک ختم ہوتا وہ کوئی نا کوئی فرمائش پوری کرتا یا کسی سوال کا جواب دیتا
سب نے باری باری بتایا کچھ نا کچھ کوئی ڈانس کر کے دکھا رہا تھا تو کوئی گیت گا کر
جب اس کی باری آئی تو اس نے کہا میں گیت نہیں گا سکتی اور نا ڈانس کرونگی باقی جو بھی کہو
تو زوہا نے کہا اچھا بتاؤ
دنیا میں سب سے زیادہ کس سے محبت کرتی ہو ؟
وہ تھوڑی دیر کے لئے تز بز ہوئی
آج پہلی بار تھا جب وہ کنفیو ز ہوئی تھی ورنہ وہ ایسے سوال پر ہمیشہ کہتی تھی
سجیلہ سے
پر آج ایک اور چہرہ بھی اس کی نظروں کے سامنے لہرایا
شاہ ![]()
بے اختیار اس کا دل پکارا تھا
اس نے گھبرا کر سجیلہ کا نام لیا
پر اندر سے ایک ہی صدا بلند ہو رہی تھی
شاہ
شاہ
شاہ
******************
آج پھر سجیلہ کا منہ لٹکا ہوا دیکھ کر اس نے پوچھا
کا ہوا
؟
وہی . جو ہمیشہ ہوتا ہے ![]()
سجیلہ نے بے زاری سے پن پھینکا
پھر جھگڑا ہوا کیا ؟
ہاں یار
سجیلہ کی آنکھوں میں نمی تیر نے لگی
نینا کے دل کو کچھ ہوا
وہ کبھی بھی سجیلہ کی آنکھوں۔ میں آنسو نہیں دیکھ سکتی تھی
اس نے بے اختیار سجیلہ کو ساتھ لگایا
کیا بات ہوئی ؟
یار اسد پتا نہیں چاہتا کیا ہے
ذرا دیر سے جواب دوں تو لڑ نے لگتا ہے
کوئی سمجھانے کی بات کروں تو ناراض ہو جاتا ہے
ہر مہینے بعد نوکری چھوڑ دیتا ہے
ایسے کیسے چلے گا
فائینل کے بعد پاپا میری۔ شادی کرنا چاھتے ہیں
میں چاہتی ہوں وہ سیٹل ہو جائے
اور پاپا بھی پر اسے پرواہ ہی نہیں
اچھا تو دل چھوٹا مت کر اور تو انکل کو نمٹا نے دے نا سب پروبلم تو کیوں ٹینشن لیتی ہے نینا نے اسے سمجھایا
پاپا کا تو تجھے پتا ہی ہے نینا وہ منٹ میں ہتھے سے اکھڑ جاتے ہیں
یار میرا مسلہ یہ ہے کہ میں اسد سے محبت کرنے لگی ہوں
میں اسے کھونا نہیں چاہتی ![]()
سجیلہ نے اپنی پریشانی بتائی
اچھا تو اسے وقت تو۔ دے موقع تو۔ دے یار
وہ سدھر جائے گا
بچہ تو نہیں ہے نا وہ بھی
نینا نے اسے سمجھایا
اچھا ٹھیک ہے سجیلہ نے تھکے ہوئے انداز میں کہا
تو نا لڑ اس کے ساتھ کچھ نا کہہ یار اسے
سب ٹھیک ہو جائے گا صبر رکھ
نینا نے پیار سے اس کے بال سنوارے ![]()
کبھی کبھی ہم چاہ کر بھی کسی اپنے بہت اپنے کا درد بانٹ نہیں سکتے کیونکہ اللہ پاک نے سب کے درد الگ الگ ان کے مقدر میں لکھے ہیں اور ہر کسی کو اپنے مقدر سے خود ہی لڑنا پڑتا ہے اور ہر کسی کو اپنے حصے کا درد خود اکیلے ہی سہنا ہوتا ہے ![]()
![]()
![]()
*****************
شام کو شاہ کا میسج آیا تھا
کیا کر رہی ہو ؟
کچھ بھی نہیں
اس نے جواب لکھ بھیجا
تم کیا کر رہے ہو ؟
ساتھ سوال بھی کر دیا
ابھی نماز پڑھ کر آیا
شاہ کا جواب آیا
اچھا
نینا نے بس اچھا پہ اکتفا کیا
مجھے بہت اچھا لگا کہ تم نے میری بات کا مان رکھا![]()
شاہ نے کہا
کونسی بات کا ![]()
نینا نے۔ حیران ہو کر پوچھا
ڈوپٹہ سر پہ لینے والی بات کا
شاہ نے یاد دلایا
اوہ اچھا ![]()
نینا مسکرا دی
پتا ہے نینا مجھے تم میں سب سے زیادہ اچھا کیا لگتا ہے ؟
شاہ نے کہا
کیا ؟![]()
![]()
نینا نے دلچسپی سے پوچھا
تم دل کی بہت اچھی ہو ![]()
![]()
زبان کی کڑوی ہو بھلے پر دل کی صاف ہو
اور مجھے یہ بہت اچھا لگا تم میں ![]()
میں بری بھی بہت ہوں ![]()
نینا نے یاد دلایا
ارے نہیں تم بری نہیں ہو
بس تم میں کچھ عادتیں بری ہیں
وہ چھوڑ دو تو تم بیحد اچھی ہو
اب یہ مسکا ہے ؟
یا تعریف سڑیل ![]()
نینا نے شرارت سے کہا
جو مرضی سمجھو ![]()
شاہ نے بھی اسی انداز میں کہا
ویسے ایک بات بتاؤ ؟
نینا نے کہا
ہاں پوچھو
شاہ کا جواب آیا
تمہیں برا نہیں لگتا جب میں تمہیں سڑ یل کہتی ہوں ![]()
نینا نے ہنسی روکتے ہوئے میسج سینڈ کیا
نہیں تمہاری کوئی بھی بات مجھے بری نہیں لگتی ![]()
![]()
شاہ نے فوراً جواب دیا تھا
اب یہ کچھ زیادہ ہی اوور نہیں ہو رہا ![]()
![]()
نینا نے اسے چھیڑا
ہاں لگتا تو ہے کہ اب اوور ہی ہو رہا ہے پیار ![]()
![]()
شاہ نے بھی حساب برابر کیا
نینا کا دل دھڑکا
بس بس اب شروع مت ہو جانا
تہزیب کے دائرے میں رہو لڑکے ![]()
![]()
نینا نے اسے ٹوکا
لڑکی تہزیب میں ہی ہوں ![]()
شاہ نے اپنا دفاع کیا
ہاں نظر آ رہا ہے ![]()
نینا ہنس دی
شام سے رات ہوئی اور رات سے آدھی رات پر ان کی باتیں ختم نا ہوتی
وہ اب گھنٹوں یونہی موبائل ہاتھ میں لئے مسکراتی رہتی
بات بے بات ہنستی ![]()
یونہی گنگناتی رہتی
اس کی دنیا جیسے بدل رہی تھی
وہ خود بدل رہی تھی![]()
اس کے خواب بدل رہے تھے
اس کی چاہتیں بدل راہی تھیں
اور بد لاؤ بہت کم ہی لوگوں کو راس آتا ہے ![]()
![]()
![]()
