Falsfa-e-Ishq by Mehrma Shah NovelR50420 Falsfa-e-Ishq Episode 38
Rate this Novel
Falsfa-e-Ishq Episode 38
Falsfa-e-Ishq by Mehram Shah
وہ ایک قہرزدہ سی صبح تھی شدید دھند نے پورے ملتان کو کی آسیب کی طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ۔
وہ جلدی جلدی ناشتہ کر نے میں مصروف تھی جب مما نے اسے ٹوکا
آرام سے کھاؤ نینا کیا ہو گیا ہے
مما دیر ہو رہی ہے دیکھ تو رہی ہیں آپ باہر موسم کتنا خراب ہے آرام سے جانا پڑے گا پھر دیر ہو جا ئے گی “کہہ کر اس نے جوس کا گلاس اٹھا یا
تو آج رہنے دو مت جاؤ نا آج ہم زوہا کی طرف چلیں گے اسے مبارک باد دینے “مما کے کہنے پر اس نے سر اٹھایا ،،کس چیز کی مبارک باد ؟
کہہ کر وہ اٹھ کھڑی ہوئی
زوہا ماں بننے والی ہے اور تم خالہ ‘ مما نے مسکرا کر بتایا “اس نے بڑھتے قدم رکے کیا سچ میں ؟ اس نے مڑ کر مما سے پوچھا “بالکل سچ میں بیٹا ،، مما مسکرا ئی
وہ مما سے لپٹ گئی مما مما یہ تو بہت ہی خوشی کی بات ہے لیکن میں چھٹی نہیں کر سکتی ہاں میرے واپس آنے پر ہم لوگ وہاں چلیں گے ” اس نے مما سے الگ ہوتے ہو ئے کہا ” اس سے پہلے کہ مما کوئی جواب دیتیں اسکا موبائل بجنے لگا “سجیلہ کالنگ دیکھ کر
اس نے عجلت میں موبائل کان سے لگایا اور ہاتھ ہلا کر باہر کی طرف بڑھ گئی
“ہیلو جان کیسی ہو ؟
آج اس کا موڈ بہت خوشگوار تھا
بالکل ٹھیک تو بتا کیسی ہے ؟
سجیلہ بھی آج اچھے موڈ لگتی تھی
میں ایک دم فٹ “اس نے کہہ کر گھڑی دیکھی
آج میں مدرسہ آ رہی ہوں “سجیلہ کی بات نے اسے اور بھی خوش کر دیا تھا ” کیا سچ میں وہ حیران تھی ” ہاں بس دل چاہ رہا ہے آج’ اور ہاں تیرے لئے میرے پاس ایک گفٹ بھی ہے وہ بھی وہیں آ کر دوں گی میں تجھے “
سجیلہ نے کہا “وا ؤ آج تو سر پرائز ہی سر پرائز مل رہے ہیں مجھے صبح صبح “
نینا مسکرائی چلو پھر ملتے ہیں بریک کے بعد میں بھی نکل ہی رہی ہوں “ہاں ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں اللّه حافظ ” سجیلہ نے کہہ کر فون بند کر دیا وہ موبائل سینے سے لگا ئے مسکرا تی آگے بڑھ گئی “
وہ تفسیر کی کلاس لے کر نکلی ہی تھی جب اسے سجیلہ نظر آگئی وہ ہولے ہولے چلتی اس کے پاس آگئی گلے مل کر وہ اسے ساتھ لئے تجوید کی کلاس کی طرف بڑھ گئی میم مریم ابھی تک نہیں آئیں سجیلہ کو دیکھ کر سب لڑکیاں اس کے قریب آگئی اور اس سے مل کر شادی کی مبارک باد دینے لگیں اس کی شادی کو 3 ماہ ہونے کو آئے تھے وہ شادی کے بعد پہلی بار مدرسہ واپس آئی تھی وہ خود ب خوش دکھائی دے رہی تھی سب سے مل کر وہ دونوں ایک طرف بیٹھ گئیں ۔
سجیلہ نے ایک کور کیا ہوا گفت پیک اس کی طرف بڑھایا یہ تمہارے لئے ” وہ مسکرا دی اس نے گفٹ تھام لیا
جانتی ہو نینا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ تم سے محبت ہے اس لئے میں تمہارے لئے سب سے خوبصورت تحفہ لا ئی ہوں “اسے گھر جا کر کھولنا اور اسے ہمیشہ اپنے پاس رکھنا اور ہمیشہ اس پے عمل کرنا ” سجیلہ نے محبت سے اس کا ہاتھ تھاما
ٹھیک ہے میں ایسا ہی کروں گی اور بہت شکریہ میری جان ” نینا نے مسکرا کر اسے گلے لگایا اچھا ایک بات بتاؤں ،ہم دونوں خالہ بننے والی ہیں زوہا امید سے ہے ” نینا نے خوشی سے چہکتے ہو ئے اسے بتایا ” ارے واہ اتنی بڑی خوش خبری ” سجیلہ بھی خوش ہو گئی تھی ” میم مریم کے آنے پر وہ لوگ خاموش ہو گئیں
کلاس کے بعد وہ دونوں حال میں بیٹھی تھیں جب اس نے پوچھا” وہاج جیجو نے پرمیشن دے دی پھر مدرسہ آنے کی ؟
نہیں ‘ بس یونہی آگئی میں ایک دن کے لئے دل چاہ رہا تھا اس لئے “سجیلہ نے افسردگی سے کہا ” اچھا چلو مس طلعت کی کلاس کا وقت ہو گیا ہے نینا نے گھڑی دیکھتے ہو ئے کہا “تم جاؤ میں یہیں رہنا چاہتی ہوں کچھ دیر اکیلے “سجیلہ نے الماری میں پڑے قرآن پاک کی طرف دیکھتے ہو ئے کہا ” اچھا ٹھیک ہے میں آتی ہوں پھر “
نینا چلی گئی سجیلہ نے ایک قرآن پاک اٹھا کر اپنی گود میں رکھ لیا اور اسے پڑھنے لگی ۔۔۔
اور کبھی کبھی ہمیں دنیا کی تکلیفوں سے نجات صرف ایک ہی چیز دے سکتی ہے اور وہ ہے اللّه کی قر بت ![]()
********************
گھر آتے ہی اس نے سجیلہ کا دیا گفٹ کھولا تھا گفٹ پر نظر پڑتے ہی اس کی کانچ جیسی آنکھیں چمکنے لگی تھیں ۔
وہ ایک سبز جلد والا خوبصورت سا ترجمہ و تفسیر والا قرآن پاک تھا نینا نے بے اختیار ہی قرآن پاک کو سینے سے لگایا اس کی زندگی کا یہ سب سے خوبصورت تحفہ تھا اس نے کھول کر پڑھنا شروع کیا :
وَ اَنَّ ہٰذَا صِرَاطِیۡ مُسۡتَقِیۡمًا فَاتَّبِعُوۡہُ ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمۡ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ ذٰلِکُمۡ وَصّٰکُمۡ بِہٖ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۵۳﴾
اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے سو اس راہ پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی ۔ اس کا تم کو اللہ تعالٰی نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پر ہیز گاری اختیار کرو ۔
وہ آگے بڑھی :
اِنَّ الَّذِیۡنَ فَرَّقُوۡا دِیۡنَہُمۡ وَ کَانُوۡا شِیَعًا لَّسۡتَ مِنۡہُمۡ فِیۡ شَیۡءٍ ؕ اِنَّمَاۤ اَمۡرُہُمۡ اِلَی اللّٰہِ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾
بیشک جن لوگوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے آپ کا ان سے کوئی تعلق نہیں بس ان کا معاملہ اللہ تعالٰی کے حوالے ہے پھر ان کو ان کا کیا ہوا جتلا دیں گے ۔
اس نے دل ہی دل میں اَسْتَغْفِرُ اللّه
پڑھا یا اللّه مجھے فرقوں میں پڑنے سے بچا نا اور صرف اپنے قرآن اور اپنے رسول مُحَمَّدُﷺ کی سنت کے مطابق جینے کی اور مرنے کی توفیق عطا فرما !
قُلۡ اِنَّنِیۡ ہَدٰىنِیۡ رَبِّیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ۬ ۚ دِیۡنًا قِیَمًا مِّلَّۃَ اِبۡرٰہِیۡمَ حَنِیۡفًا ۚ وَ مَا کَانَ مِنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾
آپ کہہ دیجئے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتایا ہے کہ وہ ایک دین مستحکم ہے جو طریقہ ہے ابراہیم ( علیہ السلام ) کا جو اللہ کی طرف یکسو تھے اور وہ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے ۔
اَلْحَمْدُلِلّه اسے دنیا کا خوبصورت ترین تحفہ عطا کیا گیا تھا ![]()
وہ عصر کی نماز پڑھنے کی تیاری کر رہی تھی جب اس کا موبائل بجنے لگا اس نے سوچا نماز کے بعد اٹھا ئے گی لیکن موبائل مسلسل بجنے لگا تو اسے اٹھا نا ہی پڑا نور عالم شاہ کا نمبر دیکھ کر وہ سوچنے لگی لیکن بیل مسلسل ہو رہی تھی اس نے آخر فون اٹھا ہی لیا ہیلو کہنے ک ساتھ ہی دوسری طرف سے جو اسے بتایا گیا تھا اس نے نینا کے پاؤں کے نیچے سے زمیں کھینچ لی تھی فون بند ہو چکا تھا پر وہ اب بھی ویسی کی ویسی ہی کھڑی تھی اس کا دماغ اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا کچھ دیر بعد اسے جیسے ہوش آیا تھا وہ دیوانہ وار باہر کی طرف دوڑی تھی بالکل ایسے جیسے کوئی مرتا ہوا شخص زندگی کی طرف دوڑتا ہے ۔۔۔
*********************
اسے نہیں یاد وہ کیسے ہسپتال تک پہنچی کوریڈور میں کون کون تھا اس نے نہیں دیکھا اور نا ہی اسے کچھ نظر آرہا تھا اس وقت آپریشن تھیٹر کے باہر توصیف بے چینی سے ٹہل رہا تھا وہ دوڑتی ہوئی پاس گئی تھی وہ ایک مظبوط ا عصا ب کی لڑکی تھی لیکن پچھلے 2 سالوں میں وہ جس دور سے گزر کر آئی تھی اس نے شاید اسے کمزور کر دیا تھا یا کسی آنے والے خطرے کا احساس تھا اس کی ٹانگیں آہستہ آہستہ لرز رہی تھیں اور ہاتھ کانپ رہے تھے وہ پاس جا کر کھڑی ہو گئی
“سجیلہ ” اس میں اس سے زیادہ کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی توصیف نے اسے دیکھ کر گہری سانس لی ۔
وہ آپریشن تھیٹر میں ہے اسے بہت چو ٹیں آئی ہیں “توصیف نے شکستہ انداز میں کہا
نینا بینچ پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گئی تھی وہ اللّه سے دعا کر رہی تھی سجیلہ کے لئے اپنی جان سے پیاری دوست کے لئے اسے اس دنیا میں دو لوگ سب سے زیادہ عزیز تھے “شاہ ” اور “سجیلہ ” ایک کو وہ کھو چکی تھی پر دوسرے کو کھونا نہیں چاہتی تھی انتظار کی وہ گھڑیاں صدیوں پر محیط ہو گئی تھیں ۔
جانے کتنی دیر بعد او ٹی کا دروازہ کھلا اور ڈاکٹر باہر آیا وہ دوڑ کر پاس گئی تھی
“انسپکٹر صاحب آپریشن کامیاب رہا لیکن آپ کا مریض ابھی خطرے سے باہر نہیں ہے انہیں آئ سی یو میں شفٹ کیا جا رہا ہے ۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ۔۔۔۔
وہ چند ثانیے کے لئے خاموش ہو ئے “ان کی دونوں ٹانگیں بیکار ہو چکی ہیں اور ریڑھ کی ہڈی بھی بری طرح سے فیکچر ہو چکی ہے ان کی پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور ۔۔۔۔۔۔۔۔کافی اندرونی چو ٹیں بھی آئی ہیں ان کو ۔۔۔ہم اپنا کام کر چکے ہیں باقی بس دعا کریں ۔۔
ڈاکٹر واپس جا چکا تھا سجیلہ مما اور بابا بھی پاس آ چکے تھے اس کے سسرال والے بھی آ چکے تھے اس کا شوہر بھی پاس کھڑا تھا اس کے بھائی سب وہ سب کے چہرے دیکھ رہی تھی نینا کی مما بھی وہیں تھیں نور عالم شاہ نے سب کو تسلی دی اسے بھی لیکن اسے تسلی کہاں ہونے والی تھی ۔
وہ وضو کر کے رب کے حضور جھولی پھیلا ئے بیٹھی تھی اس وقت اسے دنیا کی ہر چیز بے معنی لگ رہی تھی ساری رات وہ مصلے پہ بیٹھی دعا مانگتی رہی اس نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا صبح نور عالم خود اس کے لئے ناشتہ لے کر آیا پر اس نے کھانے سے انکار کر دیا .
وہ ٹھیک ہو جا ئے گی پریشان مت ہو نینا ۔۔
نور عالم نے اسے تسلی دی ” جانتے ہو جب میں اندھیروں میں بھٹک گئی تو وہ میرے لئے روشنی کی کرن بن کر آئی اس نے مجھے زندگی کی طرف کھینچ لیا اسے اللّه نے ہمیشہ میرے لئے رحمت بنا کر بھیجا میں کتنی بے بس ہوں اس کے لئے کچھ بھی نا کر پائی ۔۔
اس کی کانچ جیسی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے نور عا لم شاہ کے دل کو کچھ ہوا وہ لڑکی اس کی زندگی تھی وہ اسے کسی بھی حال میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا تھا ۔
اچھا اٹھو تم میرے ساتھ چلو تمہاری مما پوچھ رہی ہیں تمہارا پلیز چلو
نور عالم شاہ نے اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا “وہ اٹھنے ہی والی تھی جب نینا کا چھوٹا بھائی مہد بھاگتا ہوا آیا “آپی سجیلہ آپی کو۔ ہوش آگیا ہے اور وہ آپ کو بلا رہی ہیں “
وہ اٹھ کر دوڑی اس کے پیچھے نور عالم بھی باہر کو لپکا ۔
جب وہ پاس آئی تو اس کی آہٹ پا تے ہی سجیلہ نے آنکھیں کھول دی وہ جلدی سے قریب آگئی “سجیلہ ” اس نے بے تابی سے سجیلہ کا اٹھا ہوا ہاتھ تھام لیا وہ بہت آہستہ سا نس لے رہی تھی اس نے نینا کو دیکھ کر مسکرا نے کی کوشش کی “تم رو کیوں رہی ہو ؟تمہیں تو خوش ہونا چاہیے دیکھو اللّه نے میری دعا سن لی ۔۔۔جانتی ہو میں نے اللّه سے کیا کہا تھا ؟
سجیلہ ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی ۔۔”نہیں “نینا نے سر نفی میں ہلا یا ۔
میں نے اللّه پاک سے کہا کہ مجھے دنیا نہیں چاہیے مجھے صرف آپ چا ہیے ہو اللّه جی” مجھے آپ کی قر بت چا ہیے میں بہت تھک گئی ہوں مجھے آرام چاہیے سکون چاہیے مجھے اور کچھ بھی نہیں چا ہیے ۔۔۔۔۔۔۔وہ سانس لینے جو رکی ۔۔۔۔میں نے اللّه سے کہا ” جو میرے لئے بہتر ہے بس وہی کر دے میں اب کوئی شکایت نہیں کروں گی ۔۔۔۔سجیلہ پلیز تم زیادہ مت بولو ہم گھر جا ئیں گے تو پھر باتیں کریں گے تم جلدی سے ٹھیک ہو جاؤ بس ۔۔نینا نے اسے ٹوکا ” سجیلہ نے نفی میں سر ہلا یا وہ مجھے آزاد کر دے گا اس دنیا سے ہر دکھ سے ہر تکلیف سے اس سے وہ مجھے اپنے قریب کر لے گا ۔۔۔۔۔۔۔سجیلہ کا سانس تیز ہونے لگا ” سجیلہ نر س نینا چلا ئی ” جا نتی ہو اس میں اگر کسی چیز کے چھوٹنے کا دکھ hہے تو وہ صرف تم ہو نینا ” سجیلہ نے ا کھڑ تی سا نسوں کے بیچ کہا ” سجیلہ میری طرف دیکھو سجیلہ نینا اس کے گال تھپتھپا نے لگی نور عالم بھی آ چکا تھا سجیلہ کی مما بھی ۔۔
لیکن ۔۔۔مجھے یقین ہے ۔۔۔۔ہم ضرور ملیں گے ۔۔۔۔۔وہ تحفہ ۔۔۔۔۔سجیلہ کی سانس اکھڑ گئی آنکھیں بند ہونے لگی اس کے لفظ ٹوٹ پھوٹ گئے ” اچانک اس نے آخری ہچکی لی اور اس کا ہاتھ نینا کے ہاتھ میں جھول گیا ۔نینا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھے گئی وہ ایک دم خاموش ہو گئی تھی ۔۔۔
سب لوگ رونے لگے نر س نے آگے بڑھ کر اسے ہٹایا وہ جیسے سکتے میں آگئی تھی بہت سارا شور بلند ہوا اس کا دماغ ایک دم سے خالی ہو گیا اچا نک وہ لڑ کھڑا ئی اس کا دماغ اس کا ساتھ چھوڑ چکا تھا اور اس سے پہلے کہ وہ زمیں پر گر تی نور عالم شاہ کے مظبوط ہاتھوں نے اسے تھام لیا تھا ۔۔۔۔۔
زندگی اور موت کی اس جنگ میں آخر موت جیت گئی تھی ۔۔۔
